Baaghi TV

Tag: ٌاتازہ ترین

  • ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے،  افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ،ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، وہاں رہنے والے افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں یہ معلومات ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی ہیں

    گڈو بیراج پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس وقت راوی اور تریموں کے مقامات پر پانی کی سطح بلند ہے اگرچہ امید کی جا رہی ہے کہ پانی اتنی شدت کے ساتھ نہیں بڑھے گا، لیکن حکومت نے 9 لاکھ کیوسکس تک کے ممکنہ سپر فلڈ کے لیے پیشگی انتظامات شروع کر دیے ہیں، پانی 9 لاکھ آئے یا 10 لاکھ اس میں کچے کا علاقہ تو ڈوب جائے گا ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، وہاں رہنے والے افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں یہ معلومات ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی ہیں اور انہیں پی ڈی ایم اے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہےپاک بحریہ کی جانب سے بہت تعاون کیا جا رہا ہے، کمانڈر کوسٹ بھی میرے ساتھ موجود ہیں، جبکہ پاک فوج اور ڈی جی رینجرز سے بھی مسلسل رابطہ ہے، اگر دریائے سندھ میں سپر فلڈ آیا تو کچے کا سارا علاقہ زیرِ آب آ جائے گا، اس صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت نے کچے کے علاقے کو خالی کرانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

    پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    انہوں نے واضح کیا کہ ہماری سب سے بڑی ترجیح انسانی جانوں اور مویشیوں کو نقصان سے بچانا ہے ضلعی انتظامیہ لوگوں کے انخلا کی تیاری کر رہی ہے جبکہ پی ڈی ایم اے، پاک بحریہ اور پاک فوج کی 192 کشتیاں کچے کے مختلف علاقوں میں تعینات کر دی گئی ہیں، بند کو ٹوٹنے سے بچانا سب سے بڑا چیلنج ہےپنجاب میں شگاف ڈالنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے اور وہاں کی جغرافیائی صورتحال ایسی ہے کہ پانی جلد دوبارہ دریا میں شامل ہو جاتا ہے، لیکن سندھ کی زمین چونکہ دریا سے نیچے ہے اس لیے پانی واپس جانے میں وقت لیتا ہے۔

    پنجاب :مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی،24 گھنٹوں میں مزید خطرہ

    انہوں نے بتایا کہ دریائے سندھ کے رائٹ بینک پر 6 مقامات نہایت حساس ہیں، ان میں سب سے زیادہ خطرہ کے کے بند کو ہے جبکہ لیفٹ بینک پر شاہین بند کو نازک قرار دیا گیا ہے اگر 8 سے 9 لاکھ کیوسکس پانی آیا تو شاہین بند اپنی کمزور ساخت کے باعث برقرار نہیں رہ پائے گا، لیکن اس بند کو بچانا حکومت کی اولین ترجیح ہوگی ہمارے پاس ابھی وقت ہے، کیونکہ تریموں سے نکلنے والا پانی تقریباً 5 دن بعد سندھ تک پہنچتا ہے انہوں نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ جب وہ وقت آئے تو ضلعی انتظامیہ سے مکمل تعاون کیا جائے۔

    موریطانیہ کے ساحل پر تارکینِ وطن کی کشتی الٹ گئی، 70 ہلاک،30 سے زائد لاپتہ

  • بھارت نے سلال ڈیم کے سارے گیٹ کھول دیے

    بھارت نے سلال ڈیم کے سارے گیٹ کھول دیے

    پنجاب حکومت کے ذرائع کے مطابق بھارت نے ایک اور بڑا سیلابی ریلا چھوڑ دیا۔

    ذرائع کے مطابق بھارت نے سلال ڈیم کے سارے گیٹ کھول دیے ہیں، بھارت سے آنے والا سیلابی ریلا 8 لاکھ کیوسک کا ہے، 8 لاکھ کیوسک کا ریلا 2 روز بعد ہیڈ مرالہ پہنچ جائےگا۔

    دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آنے والے سیلابی ریلے کی اطلاع ابھی ملی ہے، دریائے چناب سے ملحقہ علاقوں میں اعلانات کروا رہے ہیں ،ممکنہ سیلابی ریلے سے نمٹنے کے لیے تیاریاں شروع کردی ہیں۔

    دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند، درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر

    ادھر دریائے ستلج کے سیلابی ریلوں سے بہاولپور کے مقام پر تحصیل صدر، بستی یوسف اور احمد والہ کھوہ سمیت 7 بند ٹوٹنے سے ہزاروں ایکڑ فصلیں زیرِ آب آگئی ہیں دریائے چناب سے جھنگ کے گاؤں جنگران میں سیلابی ریلے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے اور متاثرین اور مال مویشی کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے قصور کے اسکول میں قائم ریلیف کیمپ دورہ کیا، مریم نواز نے خواتین اور بچوں سے بات چیت کی اور ان سے مسائل دریافت کیے۔

    دوسری جانب کمشنر ملتان عامر کریم نے کہا ہے ابھی 40 ہزار کیوسک کا ریلا ملتان میں داخل ہوا ہے اور پیر کو دریائے چناب میں ملتان سے تقریباً 8 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا خدشہ ہے، ہیڈ تریموں سے 7 لاکھ کیوسک جبکہ راوی سے 90 ہزار کیوسک پانی ملتان میں داخل ہوگا، ہیڈ محمد والا کی گنجائش 10 لاکھ کیوسک ہے تاہم ضرورت پڑنے پر ہیڈ محمد والا پر شگاف ڈالا جائے گا،ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ کا کہناہے کہ دریائےچناب کا ریلا2 سے3 ستمبرکےدوران مظفرگڑھ کی حدود میں داخل ہوگا، اس حوالے سے تیاریاں مکمل ہیں۔

    سیلاب متاثرین کی مدد: کے پی حکومت نے وفاق سے تعاون مانگ لیا

    فیصل آباد کے قریب دریائے راوی میں بھی پانی کی سطح بلند ہونے سے انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جس سے دریا کے اطراف سیکڑوں ایکڑ اراضی اور فصلیں متاثر ہوئی ہیں،فیصل آباد ماڑی پتن کے علاقے سے 2 لاکھ 15 ہزار کیوسک کا ریلا گزررہا ہے، 1500 سے زائد افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

    سیلاب متاثرین کی مدد: کے پی حکومت نے وفاق سے تعاون مانگ لیا

    دریائے چناب کا سیلابی ریلا سیالکوٹ، وزیرآباد اور چنیوٹ میں تباہی مچانےکے بعد جھنگ میں داخل ہوگیا جس کے باعث جھنگ میں 220 دیہات ڈوب گئے، سیکڑوں ایکڑ پر فصلیں تباہ ہوگئیں، رابطہ سڑکیں پانی میں غائب ہو گئیں۔

  • دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند، درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر

    دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند، درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر

    حیدرآباد:پنجاب سے سیلابی پانی سندھ کی طرف بڑھنے لگا جس کے باعث گدو بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے پر کنٹرول روم سکھر بیراج نے درمیانے درجے کا سیلاب ڈکلیئر کر دیا۔

    فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق گدو بیراج، سکھر بیراج اور کوٹری بیراج پر بدستور درمیانے درجے کا سیلاب ہےگدو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 22 ہزار 819 کیوسک ہے اور پانی کا اخراج 3لاکھ 7 ہزار 956 کیوسک ریکارڈ کیا جا رہا ہےسکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 3ہزار 480 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 52ہزار 110 کیوسک ریکارڈ کیا گیا،کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 73ہزار844 کیوسک ریکارڈ کیا جا رہا ہے جبکہ پانی کا اخراج 2لاکھ 44ہزار 739 کیوسک ہے۔

    دوسری،جانب،محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں بارش کا امکان ظاہر کرتے ہوئے اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

    پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا اور کشمیر کے مختلف حصوں میں موسلادھار بارش کا امکان ہے جبکہ شام یا رات کے وقت بلوچستان، سندھ اور گلگت بلتستان میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے،مختلف شہروں میں یکم سے 3 ستمبر تک شدید بارشیں ہو سکتی ہیں ، یکم سے 3 ستمبر تک دریائے ستلج، راوی اور چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے علاوہ لاہور، گوجرانوالہ اور گجرات ڈویژن میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔

    سیلاب متاثرین کی مدد: کے پی حکومت نے وفاق سے تعاون مانگ لیا

  • پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے ممکنہ سپر فلڈ کے خدشے کے پیش نظر ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں،حکومت کی پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے-

    انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے خود گدو اور سکھر بیراج سمیت حساس بندوں کا معائنہ کیا ہے جہاں سپر فلڈ کی صورت میں 9لاکھ کیوسک پانی کا دباؤ آسکتا ہے، حکومت کی پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے، پاک بحریہ اور پاک فوج انخلاء اور ریلیف کے انتظامات میں مصروف ہیں جبکہ کچے کے علاقوں میں بروقت انخلاء کے لیے 192 کشتیاں تعینات کی جا چکی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کچے کے تمام علاقوں کا سروے مکمل کر لیا گیا ہے اور آبادی، گھروں اور مویشیوں کے نقشے ضلعی انتظامیہ کو فراہم کیے گئے ہیں، ہزاروں خاندانوں کو محفوظ مقامات، سرکاری اسکولوں، عمارتوں اور ٹینٹ سٹی ویلیجز میں منتقل کرنے کے انتظامات مکمل ہیں، جبکہ ریلیف کیمپس میں کھانے، پانی اور صحت کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

    پنجاب :مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی،24 گھنٹوں میں مزید خطرہ

    شرجیل میمن نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے تمام حساس بندوں پر فلڈ فائٹنگ کی رفتار تیز کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال پر فوری ردعمل دینے کی ہدایت کی ہے۔ کے کے بند، شاہین بند، قادرپور، راونتی اور دیگر حساس مقامات پر مشینری، پتھروں اور عملے کی تعیناتی کی جا چکی ہے اور افسران 24 گھنٹے نگرانی پر مامور ہیں،یہ صرف حکومت یا انتظامیہ کا نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ امتحان ہے صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ پارٹی کارکنوں کو متاثرین کی مدد کی ہدایت دی گئی ہے۔

    سینیئر وزیر نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ افواہوں اور خوف پھیلانے کے بجائے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔

    یوٹیلٹی اسٹورز آج سے بند ، ملازمین کیلئے 28 ارب روپے کا پیکیج تیار

  • سیلاب متاثرین کی مدد: کے پی حکومت نے  وفاق سے تعاون مانگ لیا

    سیلاب متاثرین کی مدد: کے پی حکومت نے وفاق سے تعاون مانگ لیا

    خیبر پختونخوا حکومت نے حالیہ سیلابی تباہ کاریوں کے تناظر میں وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ بین الاقوامی شراکت داروں سے تعاون حاصل کرنے میں صوبے کی مدد کرے۔

    اس مقصد کے لیے صوبائی حکومت نے وفاق کو باضابطہ خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عالمی ڈویلپمنٹ پارٹنرز سے معاونت کے لیے رابطے میں وفاق رہنمائی اور سہولت فراہم کرےخیبر پختونخوا خطہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے مسلسل متاثر ہوتا ہےصوبائی حکومت اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کی خواہش مند ہے اور چاہتی ہے کہ عالمی ترقیاتی ادارے بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے اور ماحول کو بہتر بنانے کی کوششوں میں شریک ہوں۔

    مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی اداروں سے واٹر مینجمنٹ اور ارلی وارننگ سسٹم کے قیام میں مدد طلب کی جائے، ساتھ ہی کمزور کمیونٹیز کو سہارا دے کر صوبے کی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنایا جائے حالیہ بارشوں اور سیلاب نے خیبر پختونخوا کو 20 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچایا،فوری امدادی سرگرمیوں پر 6.5 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ مرمت اور بحالی کے اقدامات کے لیے مزید 20 ارب روپے درکار ہوں گے۔

    پنجاب :مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی،24 گھنٹوں میں مزید خطرہ

    خط میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے متاثرین کی مالی معاونت کا عمل شروع کر دیا ہے جاں بحق افراد کے لواحقین کو 20، 20 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 5، 5 لاکھ روپے فراہم کیے گئے ہیں اس کے علاوہ دکانوں کو پہنچنے والے نقصانات کو بھی معاوضہ پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    پاکستان اور چین ’لوہے جیسی دوستی‘ کی بنیاد پر قائم ہیں، صدر زرداری

  • پنجاب :مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی،24 گھنٹوں میں مزید خطرہ

    پنجاب :مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی،24 گھنٹوں میں مزید خطرہ

    ڈی پی ڈی ای ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی کا مقام پیک پکڑ رہا ہے اور اگلے 24 گھنٹے میں مزید خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    لاہور میں پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ یکم کو سات لاکھ کیوسک پانی،ہیڈ تریموں پر پہنچے گا، راوی اور چناب کا پانی ہیڈ شیر شاہ اور ہیڈ سلیمانی میں داخل ہوگا، 4 ستمبر کو یہ سارا پانی ہیڈ پنجند میں داخل ہوگا پنجاب میں اس وقت تاریخی سیلاب گزر رہا ہے اور اب تک صوبے میں 2200 دیہات متاثر ہوئے ہیں جبکہ 33 لوگوں کی سیلاب کی وجہ سے اموات ہوئیں۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ پنجاب میں مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی، سیلاب کے ساتھ اربن فلڈنگ سے بھی نمٹنا پڑ رہا ہے، ہماری رپورٹ کے مطابق اب تک 20 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور ہم ان تمام افراد کے لیے سہولیات فراہم کر رہے ہیں، ریسکیو کے ساتھ پاک فوج نے بھی سیلابی صورتحال میں ہمارا ساتھ دیا، ہم نے لوگوں کے جانوروں کو بھی محفوظ بنایا ہے۔

    یوٹیلٹی اسٹورز آج سے بند ، ملازمین کیلئے 28 ارب روپے کا پیکیج تیار

    انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے کہا ہے کہ ہم نے انسانی جانوں کی ہر قیمت پر حفاظت کرنی ہے، اس لیے ضلعی انتظامیہ ہر وقت دریاؤں پر موجود ہے اور صورتحال کا جائزہ لی رہی ہےستلج کے مقام پر پانی کا بہاؤ کم ہو گیا ہے اور 1 لاکھ 54 ہزار کیوسک پانی ہیڈ سلیمانی کے مقام پر پانی موجود ہے جبکہ 1 لاکھ کیوسک پانی بہاولپور کے قریب دریاؤں میں موجود ہے6 سے 7 دونوں میں اگر پانی کی سطح کم ہوتی ہے تو ہم پھر مزید ان علاقوں پر کام کر سکتے ہیں، ہماری زیادہ توجہ زیر آب علاقوں میں ہیں تاکہ ان کو جلد از جلد کلیئر کیا جائے۔

    سندھ: سپر فلڈ کی تیاری، ضلعی انتظامیہ اور مسلح افواج متحرک

  • یوٹیلٹی اسٹورز آج سے بند ، ملازمین کیلئے 28 ارب روپے کا پیکیج تیار

    یوٹیلٹی اسٹورز آج سے بند ، ملازمین کیلئے 28 ارب روپے کا پیکیج تیار

    حکومت نے آج سے ملک بھر میں یوٹیلٹی اسٹورز سروس بند اور ملازمین کیلئے پیکج کا اعلان کیا ہے۔

    وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 1971میں یوٹیلیٹی اسٹورز قائم کیے گئے، یوٹیلیٹی اسٹورز کے بزنس میں ماہانہ 60 کروڑ کا نقصان ہوتا ہے، وزیراعظم کی ہدایت پرآج 31 اگست سے ملک بھر میں یوٹیلیٹی اسٹورز بند کیے جا رہے ہیں، یوٹیلیٹی اسٹور کارپوریشن کا خسارہ کم کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی، یوٹیلیٹی اسٹورز کے کنٹریکٹ ملازمین مجموعی طور پر 28 ارب روپے کا پیکیج دیا جا رہا ہےملک بھر میں یوٹیلیٹی اسٹورز کے اثاثوں کو نیلام کیا جائے گا، یوٹیلیٹی اسٹورز کے 11 ہزار سے زائد ملازمین کے لیے پیکیج تیار کیا ہے۔

    وزیر نے کہا کہ کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں مالی تحفظ دینے کے لیے خصوصی پیکج تیار کیا گیا ہے اس پیکج کو وزیر خزانہ کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے تیار کیا، وزیر اعظم نے وزیر خزانہ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی،کمیٹی نے 4 سے زائد میٹنگز کے بعد تفصیلی پیکج تیار کیا۔

  • پاکستان اور چین ’لوہے جیسی دوستی‘ کی بنیاد پر قائم ہیں، صدر زرداری

    پاکستان اور چین ’لوہے جیسی دوستی‘ کی بنیاد پر قائم ہیں، صدر زرداری

    صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات دنیا بھر میں مثالی ہیں اور ’لوہے جیسی دوستی‘ کی بنیاد پر قائم ہیں۔

    تیانجن میں ہونے والے اجلاس کے موقع پر ’چائنا ڈیلی‘ کے لیے لکھے گئے اپنے مضمون میں صدر زرداری نے کہا کہ وہ چین کو ہمیشہ اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں، دونوں ممالک ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔

    انہوں نے صدر شی جن پنگ کو تاریخی اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اب دنیا کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم بن چکی ہے جو یوریشیا کے 80 فیصد رقبے اور دنیا کی 40 فیصد آبادی پر مشتمل ہے،رکن ممالک کے مشترکہ مقاصد اُس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتے جب تک دہشتگردی، انتہاپسندی اور علیحدگی پسندی کے ’تین بڑے خطرات‘ کو مل کر ختم نہ کیا جائے، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غربت، ماحولیاتی تبدیلی اور عدم مساوات جیسے چیلنجز کا مقابلہ بھی اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر کی ملاقات

    صدر زرداری نے پاکستان اور چین کے دیرینہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے چین کے بانی رہنماؤں کے ساتھ مل کر اس دوستی کی بنیاد رکھی جبکہ بے نظیر بھٹو نے اسے مزید مضبوط کیاپاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) اس رشتے کی ایک عظیم علامت ہے جو پاکستان کی معیشت کی ترقی کا نیا باب ہے پاکستان ’شنگھائی اسپرٹ‘ کی مکمل حمایت کرتا ہے جو اعتماد، مساوات اور مشترکہ ترقی کی بنیاد فراہم کرتا ہےیہ پلیٹ فارم ہمیں امن، سلامتی، تجارت، ٹیکنالوجی اور معاشی خوشحالی کے نئے مواقع فراہم کرتا ہے

    یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ لوگوں کو ریلیف دینے کا ہے،عظمیٰ بخاری۔

  • وزیراعظم  شہباز شریف اور ترک صدر کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر کی ملاقات

    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی۔

    ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاک–ترک تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا اور سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کو دہرایا،صدر اردوان نے پاکستان میں حالیہ مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں ترک عوام اور حکومت پاکستان کے ساتھ ہیں۔

    ہم کسی ٹرول یا سیاسی دباؤ کا جواب نہیں دینا چاہتے، مریم اورنگزیب

    دونوں رہنماؤں نے خطے اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ غزہ میں بگڑتی انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے اسرائیلی جارحیت اور فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کی پالیسیوں کی مذمت کی اور عالمی فورمز پر فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے دفاع کے عزم کو دہرا یا۔

    ملاقات کے اختتام پر پاکستان اور ترکیہ نے برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے اور مسلم دنیا سمیت عالمی امن و استحکام کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

    یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ لوگوں کو ریلیف دینے کا ہے،عظمیٰ بخاری

  • ہم کسی ٹرول یا سیاسی دباؤ کا جواب نہیں دینا چاہتے، مریم اورنگزیب

    ہم کسی ٹرول یا سیاسی دباؤ کا جواب نہیں دینا چاہتے، مریم اورنگزیب

    پنجاب کی سینیئر وزیرمریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ہم کسی ٹرول یا سیاسی دباؤ کا جواب نہیں دینا چاہتے، ہمارا مقصد صرف عوام کی جانیں بچانا ہے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب،نے کہا کہ دریا کنارے غیر قانونی آبادیوں کی ذمہ داری ماضی کی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے جبکہ موجودہ حکومت نے درختوں کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہےدریاؤں کے کنارے ریور بیڈز کی میپنگ کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے پنجاب میں ڈیمز بنانے کے لیے اے ڈی بی میں ایلوکیشن کر دی گئی ہے اور سیلاب سے بچاؤ کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے،مریم نواز نے ہمیشہ سیاسی دباؤ برداشت کیا ہے، اور انکروچمنٹ، پوسٹنگ ٹرانسفر جیسے معاملات میں کسی کو رعایت نہیں دی گئی ہم کسی ٹرول یا سیاسی دباؤ کا جواب نہیں دینا چاہتے، ہمارا مقصد صرف عوام کی جانیں بچانا ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ پنجاب اس وقت تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث صوبے میں ایمرجنسی صورتحال ہے۔ راوی، ستلج اور چناب دریاؤں میں غیر معمولی صورتحال پیدا ہو چکی ہےراوی میں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 20 ہزار کیوسک تک جا پہنچا ہے، جبکہ خانکی، قادرآباد، ریواز برج، تریموں اور بلوکی سمیت مختلف مقامات سے لاکھوں کیوسک کے ریلے گزر رہے ہیں، ریواز برج اور تریموں پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ لوگوں کو ریلیف دینے کا ہے،عظمیٰ بخاری

    سینیئر وزیر کے مطابق، 20 لاکھ سے زائد افراد اس سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے ساڑھے 7 لاکھ لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالا گیا۔ ایک لاکھ 15 ہزار افراد کو کشتیوں کی مدد سے ریسکیو کیا گیا جبکہ پانچ لاکھ مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا،صوبے بھر میں 400 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے ہیں اور تمام اسکولوں کو عارضی ریلیف کیمپس میں تبدیل کر دیا گیا ہے اس وقت پنجاب کے جھنگ، ملتان، مظفر گڑھ، اوکاڑہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، اور وہاڑی سمیت متعدد اضلاع ہائی الرٹ پر ہیں، جہاں حکومت کے تمام ریسکیو انتظامات مکمل ہیں۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز خود اس تاریخی ریسکیو آپریشن کی نگرانی کر رہی ہیں سیلاب سے متاثرہ 2207 موضع جات کا تخمینہ لگایا جا چکا ہے، اور ایک ہزار مواضع مزید متاثر ہو سکتے ہیں، حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ عوام کی جان و مال کو بچایا جا سکے اور نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے بھارت کی جانب سے بغیر اطلاع دیے اسپیل ویز کھولے گئے، جس پر فارن آفس اور این ڈی ایم اے ڈیٹا جمع کر رہے ہیں، انہوں نے روڈا اور نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے کردار پر انکوائری کا مطالبہ بھی کیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر پتوکی سیلابی دورے کے دوران جاںبحق

    مریم اورنگزیب نے بتایا کہ تمام علاقوں کی ڈرونز اور تھرمل کیمروں سے نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ ’’کلینک آن وہیلز‘‘ اور میڈیکل کیمپس متاثرہ افراد کو طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ عوام کو پانی سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کھانے، پینے کے پانی، خشک خوراک اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے، جبکہ چوری کی اطلاعات پر پولیس کو الرٹ کر دیا گیا ہےسیلاب کے باعث اب تک 38 قیمتی جانوں کا نقصان ہوا ہے اموات چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے سمیت مختلف وجوہات کی بنیاد پر ہوئیں۔