Baaghi TV

Tag: ٰاسحاق ڈار

  • پاکستان خطے کے امن اور استحکام کا خواہشمند ہے ، اسحاق ڈار

    پاکستان خطے کے امن اور استحکام کا خواہشمند ہے ، اسحاق ڈار

    نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری کے ہمراہ وزارت خارجہ میں اہم پریس کانفرنس کررہے ہیں۔

    پریس کانفرنس کے آغاز پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ نیوز کانفرنس کا مقصد سب کو آگاہ کرنا ہے، واقعے کے بعد بھارت نے غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ رویہ اختیار کیا اسلام میں واضح احکامات ہیں کہ ایک انسان کا قتل سارے عالم کا قتل ہے، پہلگام میں معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے کے عمل کی پہلے بھی مذمت کی اور اب بھی کررہے ہیں پاکستان بھارت کی اسپانسرڈ دہشت گردی کا شکار ہے، ہم نے بھارتی اقدامات کے بعد مختلف ممالک سے رابطے کر کے دنیا کو صورت حال سے آگاہ کیا۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت پاکستان اور دیگر ممالک میں دہشتگردی اور خونریزی پر خوشیاں مناتا ہے، دہشتگردی کی جنگ میں 150 ارب ڈالرز اور ہزاروں جانوں کا نقصان کرچکے ہیں ہماری بہادر ایجنسیز اور شہریوں نے امن کیلئے قربانیاں دیں۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت مسلسل الزام تراشی کر رہا ہے، پہلی بار نہیں ہوا کہ بھارت نے یہ ہرزہ سرائی کی ہو، بھارت کشمیریوں کے حقوق، سیکیورٹی ناکامی سے توجہ ہٹانے کی ہمیشہ کوشش کرتا رہا ہے، بھارت دہائیوں سے ریاست دہشتگردی کر رہا ہے، اندرونی مسائل حل کرنے کے بجائے دوسرے ممالک پر انگلیاں اٹھاتا ہے، کشمیریوں پر مظالم کیلئے ڈریکولین قوانین لاگو کیے۔

    نائب وزیراعظم نے کہا کہ 5 اگست کا اقدام یو این سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہیں، بھارت بتائے کہ یہ واقعات ہمیشہ اعلی سطح کےدوروں پر ہی کیوں ہوتے ہیں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی بین الاقوامی برادری کیلئےباعث تشویش ہونا چاہئے، کشمیری اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف اسلام و فوبیا کا استعمال ہو رہا ہے۔

    نائب وزیراعظم نے کہا کہ تہلگام حملے کے بعد بغیر ثبوت کو الزام دھر دیا گیا، تہلگام واقعے سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ہم ٹی او آرز میں ہر ممکن تعاون کریں گے، بھارت اچانک یہ صورتحال کیوں پیدا کررہا ہے، مقصد کیا ہے، سندھ طاس معاہدہ کی منسوخی غیر قانونی ہے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ مشاورت کے بغیر منسوخ نہیں ہوسکتا، یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کو بین الاقوامی برادری کی کوئی پرواہ نہیں، قومی سلامتی کی کمیٹی نے واضح کیا کہ پانی روکنا جنگ سمجھا جائے گا، پاکستان خطے کے امن اور استحکام کا خواہشمند ہے کوئی حرکت ہوئی تو اپنے ملک کی سالمیت کا دفاع کریں گے، ہمیں اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے جن ممالک سے بات کی انہوں نے تحمل کی تلقین کی، پاکستان کبھی پہل نہیں کرے گا، لیکن بھارت نے کوئی حرکت کی تو سخت جواب دیں گے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ کچھ سوالوں کے جواب ضروری ہیں، کیا یہ ایسے وقت نہیں ہو رہا جب بھارت پر مختلف ممالک میں قتل کے الزامات ہیں، ہماری مسلح افواج چوکنا ہیں، ہم اپنے وقت اور مرضی کی جگہ پر وار کریں گے، کیا یہ وقت نہیں کہ پاکستان سمیت دنیا میں بھارت کی جانب سے شہریوں کے قتل کا احتساب کیا جائے؟ کیا یہ اہم نہیں کہ پہلگام میں متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور بھارت کی جارحیت میں تفریق کی جائے؟ کیا ایسا نہیں کہ بھارت ایک ملک پر فوجی حملےکے لیے پراپیگنڈا کر رہا ہے؟ کیا بھارت کی جانب سے عالمی قوانین کا احترام نہ کرنے سےخطےکی صورتحال خراب نہیں ہوگی؟ کیا یہ وقت نہیں کہ عالمی برادری مذہبی نفرت انگیزی اور اسلاموفوبیا پربھارت کی مذمت کرے؟ کیا ہم آگاہ ہیں کہ بھارت کی جارحانہ سوچ سے خطے میں ایٹمی طاقتوں کا ٹکراؤ خطرناک ہوسکتا ہے؟

    بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارتی ایجنسیز کنڑول کر رہی ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پہلگام ایل او سی سے 230 کلو میٹردور ہے، یہ علاقہ پہاڑی ہے، ایف آئی آر 10 منٹ کے اندر درج کرائی گئی، 8 دن ہوگئے، نہ حملہ آوروں کا کچھ بتایا، نہ ثبوت دیئے، بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارتی ایجنسیز کنڑول کر رہی ہیں، واقعہ کے فوری بعد پاکستان پر الزام لگا دیا گیاجائے وقوعہ سے پولیس اسٹیشن جانے میں کم از کم 30 منٹ لگتے ہیں، سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی جلدی ایف آئی آر کیسے درج ہو گئی۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اندھا دھند فائرنگ کی، جبکہ بیانیہ بنایا گیا کہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حقیقت پر بات کریں، الزام ہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والوں نے حملہ کیا، یہ ناہموار اور پہاڑی علاقہ ہے، جائے وقوعہ سے پولیس اسٹیشن جانے میں 30 منٹ لگتے ہیں، کیسے ممکن ہے کہ پولیس جائے وقوعہ پہنچی اور پھر پولیس اسٹیشن واپس آکر ایف آئی آر درج کر لی، ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا کہ ہینڈلرز سرحد پار سے آئے، ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اندھا دھند فائرنگ کی، جبکہ بیانیہ بنایا گیا کہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارتی بیانیہ یہ ہےکہ یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے،کہا جا رہا ہےکہ مسلمانوں نے فائرنگ کی،کہا جارہا ہےکہ ہندوؤں پر فائرنگ کی گئی، بھارت کی جانب سے یہ بیانیہ کیوں چلایا جا رہا ہے؟ وزیراعظم نے بھی بھارتی بیانیے پر سوال اٹھایا ہے، ہمارا مؤقف واضح ہےکہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا کی طرف سے کہا جارہا ہےکہ پاکستانی ایجنسیوں نے یہ واقعہ کرایا، بھارتی الزامات واقعےکے چند منٹ بعد ہی سامنے آنا شروع ہوگئے، زپ لائن آپریٹر کی ویڈیو کو بنیاد بنا کر جھوٹا بیانیہ بنایا گیا ، بھارتی میڈیا نے واقعےکے فوری بعد پاکستان کے خلاف الزام تراشی شروع کی-

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جن بھارتی اکاؤنٹس سے پہلگام حملے کو رپورٹ ہوئیں، ان میں سے ایک اکاؤنٹ میں لکھا گیا کہ کل ایک بڑا دن ہے اس لیے جلدی سو رہا ہوں، فتنہ الخواج کے حملے سے پہلے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی، لکھا گیا گڈ مارننگ میانوالی، جعفرایکسپریس حملے سے پہلے بھی اسی اکاؤنٹ سے پوسٹ ہوئی، لکھا گیا پاکستان میں آج اور کل نظریں رکھو۔

    پریس کانفرنس کے دوران بھارتی میڈیا کے وہ کلپس دکھائے گئے جن میں خود بھارتی شہریوں نے پہلگام حملے پر حکومت، فوج اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھائے۔

    ویڈیو کلپ میں ایک شہری کہتا دکھائی دیا کہ یہاں دس لاکھ سے زیادہ بھارتی فوج قابض ہے، اگر ہم کوئی پوسٹ سوشل میڈیا پر شیئر کریں تو ہمیں راتوں رات اٹھا لیا جاتا ہے، شہری نے سوال کیا کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں فوج موجود ہے تو وہ کیا کر رہی ہے، کیا وہ جھک مار رہی ہے؟ جہاں حملہ ہوا وہاں فوج کیوں نہیں تھی، اور وہاں موجود افراد کو بچانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کہاں تھیں؟

    ایک اور شہری نے براہِ راست سوال کیا کہ ”پہلگام کی ذمے داری کس کی ہے؟ کیا یہ حکومت کی ناکامی نہیں؟“ اس نے کہا کہ ”27 لوگوں کی جان گئی، وہاں سیکیورٹی کیوں نہیں تھی؟“

    کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ”پہلگام پر اتنا بڑا حملہ ہوا اور کسی کو کچھ پتا ہی نہیں چلا“ اسی دوران ایک اور فرد نے نشاندہی کی کہ پورے علاقے میں قدم قدم پر فوج تعینات ہے، اگر یہ واقعی بارڈر کے قریب تھا تو حملہ آور کہاں سے آئے؟ اور واپس کیسے گئے؟“ یہ چھوٹا سا علاقہ ہے، جہاں گاڑی بھی نہیں جا سکتی، اور سیکیورٹی اتنی سخت ہے کہ پیدل چلنا بھی مشکل ہوتا ہے، پھر حملہ آور وہاں کیسے پہنچے؟“

    پریس کانفرنس کے دوران ایک شہری کا بیان بھی سنایا گیا کہ ”کہیں نہ کہیں ہماری اپنی ایجنسی ہی یہ حملے کرواتی ہے“ دوسرے شہری نے کہا کہ کافی لوگوں کو نہیں معلوم کہ پہلگام کہاں ہے، امرناتھ کہاں ہے، چندن واڑی کہاں ہے خاتون نے کہا کہ آج اتنے دن ہو گئے ملک کے رہنما کہاں ہیں؟ وہ یہاں کیوں نہیں آئے یہ لوگ کیا سرکار اور کیا ڈیفینس منسٹری چلائے رہے ہیں ان سے اب تک حملہ آر پکڑے نہیں گئے ہیں۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعےکو سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے دہشت گردی کے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بھارت کا وتیرہ ہے، بھارت پچاس سال سے اسی ڈگر پر چل رہا ہے، پاکستان پر الزام لگاؤ، کریڈٹ لو اور الیکشن جیتو، یہ ہے ان کا مقصد۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارت کی جیلوں میں سیکڑوں پاکستانی غیرقانونی قید ہیں، بھارت ان قید پاکستانیوں کو جعلی مقابلوں میں استعمال کر رہا ہے، اوڑی میں محمد فاروق کو جعلی مقابلے میں شہید کردیا گیا، بھارتی فوج نے اس کو درانداز کہا، درحقیقت وہ معصوم شہری تھا، بھارت بے گناہ لوگوں کو درانداز کا الزام لگا کر مار رہا ہے، بھارت خود ایک دہشت گرد ریاست ہے، پاکستانی اور کشمیری شہریوں کو بھارت کی جیلوں میں رکھا ہوا ہے، بھارت ان قیدیوں پر تشدد کرتا ہے اور ان کے بیان دلواتا ہے۔

    گزشتہ روز بھی ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے اہم پریس بریفنگ کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کرنے اور ٹیرر فنانسنگ میں ملوث ہے –

    واضح رہے کہ بھارت نے 22 اپریل مقبوضہ کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے پہلگام میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے اور اس حملے کا واضح اور بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔

    بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو جواز بناتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے علاوہ پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹے میں بھارت چھوڑنے کا حکم دیا تھا جبکہ واہگہ بارڈرکی بندش اور اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن میں تعینات اپنے ملٹری اتاشی کو وطن واپس بلانے کے علاوہ پاکستان میں تعینات سفارتی عملے کی تعداد میں بھی کمی کردی تھی۔

    بھارتی اشتعال انگیزی کے خلاف منعقدہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد پاکستان نے شملہ سمیت تمام دوطرفہ معاہدوں کی معطلی کا عندیہ دیتے ہوئے بھارت کے لیے فضائی حدود، سرحدی آمد و رفت اور ہر قسم کی تجارت بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    سلامتی کمیٹی نے جوابی اقدام کے طور پر بھارتی ہائی کمیشن میں سفارتی عملے کو 30 ارکان تک محدود کرنے کے علاوہ بھارتی دفاعی، بحری اور فضائی مشیروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا تھا جبکہ سکھ یاتریوں کے علاوہ تمام بھارتی شہریوں کے ویزے منسوخ کرکے انہیں 48 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔

  • اسحاق ڈار کا ہنگری کے وزیرخارجہ سے رابطہ ، بھارتی بے بنیاد پروپیگنڈے کو مسترد کردیا

    اسحاق ڈار کا ہنگری کے وزیرخارجہ سے رابطہ ، بھارتی بے بنیاد پروپیگنڈے کو مسترد کردیا

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ہنگری کے وزیرخارجہ پیٹر زجارتو سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں اسحاق ڈار نے بھارتی بے بنیاد پروپیگنڈے کو مسترد کردیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ہنگری کے وزیر خارجہ اور تجارت پیٹر زجارتو سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا، ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں اسحاق ڈار نے ہنگری کے وزیرخارجہ کو موجودہ علاقائی صورتحال سے آگاہ کیا اسحاق ڈار نے پاکستان کے خلاف بھارت کے بے بنیاد پروپیگنڈے اور یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کو سختی سے مسترد کیا۔

    وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنا بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے، پاکستان ہر صورت قومی مفادات کا تحفظ کرے گا، امن اور استحکام کے فروغ بارے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا جبکہ نائب وزیراعظم نے اپنے قومی مفادات کے تحفط کے لیے پاکستان کے عزم پر زور دیا۔

    بھارت کیجانب سے سندھ طاس معاہدےکی معطلی سے علاقائی سلامتی کو خطرہ ہے، برطانوی اخبار

    بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا نیٹ ورک چلا رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    رانا ثنا اللہ خان سے امریکی سفارتخانے کے سیاسی مشیر کی ملاقات

    ہنگری کے وزیرخارجہ پیٹر زجارتو نے بات چیت اور مسائل کے پرامن حل کے ذریعے صورتحال کو کم کرنے کی اہمیت پر زور دیا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ہنگری کے وزیر خارجہ کے دورہ اسلام آباد کے بعد دو طرفہ تعلقات میں شاندار رفتار کو بھی سراہا۔

  • اسحاق ڈار سے اماراتی وزیرخارجہ  کی ملاقات

    اسحاق ڈار سے اماراتی وزیرخارجہ کی ملاقات

    اسلام آباد: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے اماراتی نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے ملاقات کی-

    یو اے ای کےنائب وزیراعظم و وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زاید دفتر خارجہ پہنچے جہاں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ان کا استقبال کیااس موقع پر پاکستان اور یو اے ای کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب ہوئی جس میں قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اور وزا ر ت ثقافت یو اے ای کے درمیان ثقافتی تعاون کی یادداشت پر دستخط ہوئے۔

    اس کے ساتھ ہی خارجہ وزارتوں کے درمیان قونصلر امور کے لیے مشترکہ کمیٹی کے قیام پر تعاون اور یو اے ای پاکستان مشترکہ بزنس کونسل کے قیام کے لیے تعاون کی یادداشت پر دستخط ہوئے،یادداشت فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اور یو اے ای ایوان صنعت و تجارت کے درمیان طے پائی ہے۔

    جنوبی وزیرستان میں پولیس پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام،ایک دہشت گرد ہلاک

    اس موقع پر اسحاق ڈار نے کہا کہ معزز مہمان کو اپنے گھر میں خوش آمدید کہتا ہوں،خواہش ہےکہ آپ کادورہ کامیاب ہو بہت سے منصوبو ں پر ہم مشترکہ طور پر کام کررہے ہیں ، پاکستان اور یو اے ای کے درمیان برادرانہ تعلقات ہیں۔

    شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ پر تپاک استقبال پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا شکر گزار ہوں، پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کریں گے، پاکستان کے لوگ یو اے ای کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

    پوپ فرانسس انتقال کرگئے

  • پاک افغان کے درمیان تجارت میں اضافہ ضروری ہے، اسحاق ڈار

    پاک افغان کے درمیان تجارت میں اضافہ ضروری ہے، اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ہم اپنی سرزمین دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے،افغان باشندوں کو باعزت طریقے سے واپس بھجوایا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : کابل میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کانفرنس میں کہا کہ افغانستان کے ساتھ تجارت کے فروغ پر بات ہوئی، تجارتی سامان کی نقل و حمل کیلئے تبادلہ خیال ہواسسٹم سےدونوں ممالک کو فائدہ ہوگا ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سےتجارتی سامان کی ترسیل میں تیزی آ سکتی ہے، سامان کی نقل وحمل کیلئے 2 کمپنیاں شامل کر دی ہیں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی وفود کا تبادلہ ضروری ہے، طورخم بارڈر پر آئی ٹی سسٹم کو جلد فعال کیا جائے گا۔

    نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاک افغان کے درمیان تجارت میں اضافہ ضروری ہے، افغان باشندوں کو باعزت طریقے سے واپس بھجوایا جا رہا ہے، ہم اپنی سرزمین دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونے دیں گے خطےمیں امن وامان کیلئے دونوں ممالک کو کام کرنا ہوگا افغان باشندوں کو اپنے اثاثہ جات واپس لے جانے کی اجازت ہوگی، خطے میں ترقی کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، افغان شہریوں کی واپسی کے عمل میں کوئی شکایت ہوئی تو فوری ایکشن لیا جائے گا، افغان شہریوں کی فراخدلی سے میزبانی کی کابل میں بہترین میزبانی پر افغان قیادت کا شکرگزار ہوں۔

    یہ نہیں ہو سکتا جو پاکستان میں سرمایہ کاری لائے ان پر کوئی بھی حملہ آور ہو، طلال چوہدری

    واضح رہے کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اس وقت کابل کے اہم دورے پر ہیں، جہاں انھوں نے پاک افغان مذاکرات کے دوران افغانستان کے عبوری وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند زاد اور افغان ہم منصب امیر خان متقی سے اہم ملاقاتایں کیں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی افغان وزیراعظم ملا حسن اخوند سے ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات، سیکیورٹی امور، سلامتی، تجارت، ٹرانزٹ تعاون، دیگر امور پر تبادلہ خیال گیا گیا اور برادرانہ تعلقات کو مذید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

    مناہل ملک کی گلوکار عمیر اعوان کو قانونی کارروائی کی دھمکی

  • اسحاق ڈار کا اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی جلد تقرری  کا مطالبہ

    اسحاق ڈار کا اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی جلد تقرری کا مطالبہ

    نیویارک: نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ میں او آئی سی کے مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

    باغی ٹی وی: اسحاق ڈار نے نیویارک میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کے مستقل نمائندوں سے خطاب کیا، اسحاق ڈار نے فلسطین میں منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو جاری رکھنے کا یقین دلایا اور غزہ میں فوری جنگ بندی، بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی اور فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی کسی بھی کوشش کی سخت مخالفت پر زور دیا۔

    انہوں نے پاکستان کی جانب سے دو ریاستی حل کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، جس میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہو، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو ،اسحاق ڈار نے کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر تنازعے کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن حل نکالا جائے۔

    وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ، افریقا اور ایشیا کے مسلم ممالک کو درپیش تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر کاربند رہنے پر زور دیا اور اسلامو فوبیا کے خلاف فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی جلد تقرری ہونی چاہیے انہوں نے یقین دلایا کہ سلامتی کونسل کی رکنیت کے دوران پاکستان او آئی سی کے تمام رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعاون کو یقینی بنائے گا۔

    علاوہ ازیں نیو یارک میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت پر گامزن ہے، مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی ہے، پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہوکر 12 فیصد پر آچکا ہے اور پالیسی ریٹ میں کمی سے معاشی استحکام پیدا ہورہا ہے جب کہ اقتصادی اشاریے بہتر ہورہےہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہرماہ ہر سیاسی جماعت کہا کرتی تھی کہ ملک ڈیفالٹ کرجائےگا، ہم نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا، اب پاکستان کی معاشی بہتری کا دنیا اعتراف کررہی ہے، زبوں حال معیشت کو دوبارہ مستحکم کیا، مشکل حالات سے نکل کر معیشت کو دوبارہ مستحکم کرنا آسان کام نہیں ہوتا۔

    نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پوری دنیا کو مختلف مسائل کا سامنا ہے، عالمی مسائل پر بات چیت اور غور و فکر کےلیے جمع ہوئے ہیں، جب بھی امریکا کا دورہ کیا تو پاکستانی کمیونٹی سے ملاقات کو ترجیح دیمملک میں آج ہونے والی شہادتیں سرحد پار بھاگنے والے دہشتگردوں کو واپسی کی اجازت دینے اور قاتلوں کو جیلوں سے چھوڑنے کا نتیجہ ہے، دہشتگردی ختم ہوچکی تھی مگر اب دوبارہ سر اٹھارہی ہے-

    انہوں نے کہا کہ پچھلے 2 سالوں میں دہشتگردی کی لہر میں اضافہ دیکھنے میں آیا، ہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ ایساکیوں ہورہا ہے، دہشتگردی کے باعث پاکستان کو معاشی لحاظ سے بہت زیادہ نقصان ہوا، چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلوں کےلیے محفوظ اور ترقی یافتہ ملک چھوڑ کرجائیں، پاکستان کے سفارتی تعلقات کو دوبارہ بہتر کیا، پالیسی اور فیصلہ سازی صرف اور صرف ملک کی بہتری کے لیے ہونی چاہیے۔

  • اسحاق ڈار کا آئندہ ماہ ملائشیا ،بنگلہ دیش کا دورہ متوقع

    اسحاق ڈار کا آئندہ ماہ ملائشیا ،بنگلہ دیش کا دورہ متوقع

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا آئندہ ماہ ملائشیا اور بنگلہ دیش کا دورہ متوقع ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی آئندہ ماہ دورہ ملائشیا و بنگلہ دیش کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں، جبکہ اسحاق ڈار 3 فروری سے 5 فروری تک ملائشیاء کا دورہ کریں گے۔ دفتر خارجہ نے ملائشیا کے دورے کے حوالے سے معاملات کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے، جبکہ انہیں ملائشیا کے دورے کی دعوت ملائشیائی وزیر اعظم انور ابراہیم نے دی ہے۔ اسحاق ڈار اپنے دورہ ملائشیا میں ملائشیا کے وزیر خارجہ داتو سری اتامہ حاجی محمد بن حاجی حسن سے ملاقات کریں گے، اس کے علاوہ نائب وزیراعظم کی ملائشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سمیت دیگر قیادت سے بھی ملاقاتیں متوقع ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ دورہ ملائشیا کا بنیادی مقصد تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کا فروغ ہے، جبکہ دورے کے دوران پاک ملائشیا تعلقات، تجارت، باہمی منسلکی، توانائی اور زراعت پر بات چیت ہوگی۔ حلال انڈسٹری اور سیاحت، سیاحتی تبادلوں، عوامی سطح کے روابط اور بزنس ٹو بزنس روابط پر خصوصی بات چیت کی جائے گی، جبکہ دورہ ملائشیا میں پاک ملائشیا باہمی تجارت کا حجم بڑھانے پر غور کیا جائے گا۔سفارتی ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ آئندہ ماہ ہی بنگلہ دیش کا دورہ بھی کریں گے، وہ یہ دورہ بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس کی دعوت پر کر رہے ہیں، جبکہ دورہ بنگلہ دیش کے پروگرام کو دونوں ممالک کی وزارت خارجہ حتمی شکل دے رہی ہیں۔

    وزیراعظم کی یو اے ای کے صدر سے ملاقات، تعلقات میں بہتری پرگفتگو

    آفتاب اقبال کی مانچسٹر میں بداخلاقی، اوورسیز پاکستانی پھٹ پڑے

    امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون میں پیشرفت

    کراچی میں دو نئے پاسپورٹ آفس قائم

  • 2024 پاکستان کے لیے اچھا اور بہترین سال تھا ،اسحاق ڈار

    2024 پاکستان کے لیے اچھا اور بہترین سال تھا ،اسحاق ڈار

    اسلام آباد: نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح 5 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے اور اس ماہ میں یہ 5 فیصد سے بھی کم ہوگئی ہے۔ترسیلات زر میں اضافہ ہو رہا ہے اور معیشت میں بہتری کے آثار ہیں۔

    اسحاق ڈار نے یہ بات اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔اس موقع پر اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ 2024 پاکستان کے لیے اچھا اور بہترین سال تھا اسی سال ن لیگ حکومت میں آئی، سب کو نیا سال مبارک ہوں،2024 میں عوام نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ مینڈیٹ دیا، جس کے بعد وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 31 دسمبر کو ایک جامع معاشی پلان پیش کیا۔ وزیرِ اعظم کا ‘اڑان پاکستان’ پروگرام بھی عوام کے سامنے لایا گیا ہے جس میں ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے مختلف اقدامات شامل ہیں۔نائب وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتوں میں جس طرح مہنگائی کا طوفان آیا تھا، وہ اب ختم ہوگیا ہے۔ "مہنگائی کا وہ شدید دباؤ اب کم ہوچکا ہے، عوام پر بجلی کے بلوں کا بوجھ بھی زیادہ تھا اور اس کی متعدد وجوہات تھیں، مگر وزیرِ اعظم نے بجلی کے بلوں میں کمی کرنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، جن سے عوام کو ریلیف مل رہا ہے۔”

    اسحاق ڈار نے کہا کہ ڈیڑھ سال پہلے پاکستان کو سفارتی تنہائی کا سامنا تھا، لیکن اب وہ "سفارتی تنہائی” مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ "پاکستان کی خارجہ پالیسی میں نیا جوش ہے، اور پاکستان کی ایکسپورٹس بھی اچھا ٹرینڈ دکھا رہی ہیں۔ آئی ٹی سیکٹر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ملکی معیشت کو فروغ مل رہا ہے۔”وزیر اعظم کے پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے دورے جاری رہینگے۔ ان دورے کی وجہ سے مستقبل میں 29 ارب کی سرمایہ کاری ہوگی وزیر اعظم کے دورہ چین میں 24 ایم او یو سائن ہوئے.اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم نے عوام کو بجلی کے حوالے سے اہم ریلیف فراہم کیا ہے، جس کے تحت 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو رعایت دی گئی ہے اور پنجاب میں 500 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کو بھی ریلیف دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارتِ خارجہ نے اکنامک ڈپلومیسی کو فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا ہے، اور اب وزیرِ خارجہ کا دفتر عالمی سطح پر پاکستان کے معاشی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔

    نائب وزیرِ اعظم نے دفترِ خارجہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے کام میں انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ "وزارتِ خارجہ کی ٹیم نے اپنی ذمہ داریاں بہت اچھے طریقے سے نبھائی ہیں۔ اسی وجہ سے ہم نے ممتاز زہرہ کو فرانس میں پاکستان کے سفیر کے طور پر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور شفقت صاحب کو دفترِ خارجہ کا ترجمان مقرر کیا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ خارجہ اور دفترِ خارجہ کے دیگر اراکین نے عالمی سطح پر پاکستان کی شبیہ بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور وزارتِ خارجہ کی کارکردگی کو بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔اسحاق ڈار نے آخر میں کہا کہ حکومت پاکستان معاشی اور سفارتی محاذوں پر مزید بہتری لانے کے لیے پرعزم ہے اور ان تمام اقدامات کا مقصد عوام کی زندگی میں بہتری لانا ہے۔

    قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نےمہنگائی کی شرح 81 ماہ کی کم ترین سطح پر آنے پر اظہار اطمینان کیا، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دسمبر 2024ءمیں مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد پر آنا خوش آئند ہے،میکرو اکنامک استحکام حاصل کرلیا ہے لیکن یہ صرف آغاز ہے ،ہم نے اڑان پاکستان جیسے منصوبے کا آغاز کیا، یہ منصوبہ پاکستان کو دنیا کے صف اول ممالک کی صف میں کھڑا کر دے گا،حکومت معاشی اصلاحات کی پالیسی پر گامزن ہے،24 سال بعد کرنٹ اکاﺅنٹ سرپلس ہوا،افراط زر 38 فیصد سے کم ہو کر 4.1 فیصد پر آ گیا، سٹاک مارکیٹ دنیا کی دوسری بہترین مارکیٹ بن چکی ہے ،پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد پر آ گیا ہے ،حکومتی معاشی اور مالیاتی ٹیم کی محنت سے معیشت استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے،عوام کی مشکلات کا احساس تھا، عوام کی مشکلات کے حل کے لئے دن رات کام کیا ،انشاءاللہ عوام کی زندگیوں میں مزید بہتری آئے گی.

    وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ دسمبر 2024 میں مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد رہی، جو نومبر 2024 میں 4.9 فیصد اور دسمبر 2023 میں 29.7 فیصد تھی۔انھوں نے کہا کہ6 ماہ کے دوران اوسط مہنگائی 7.2 فیصد رہی، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 28.8 فیصد تھی۔ غذائی مہنگائی میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں یہ 2.5 فیصد اور دیہی علاقوں میں -0.2 فیصد رہی۔ کور انفلیشن بھی کم ہو کر 8.1 فیصد پر آ گئی ہے، جو نومبر 2024 میں 8.9 فیصد اور دسمبر 2023 میں 18.2 فیصد تھی۔

    26 نومبر احتجاج، گرفتار مظاہرین کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    تشدد کیس، اداکارہ نرگس نے شوہر کو معاف کر دیا

  • اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے

    اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے

    پاکستان کے وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے ہیں

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف 18 سے 20 دسمبر 2024 تک مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہونے والے ڈی-8 سمٹ میں شریک ہوں گے اس سمٹ کا موضوع ‘یوتھ میں سرمایہ کاری اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کی حمایت ہے، جس کا مقصد روزگار کے مواقع پیدا کرنا، جدت طرازی، اور کاروبار کے فروغ پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔سمٹ کے دوران ایک خاص سیشن غزہ اور لبنان میں انسانی بحران پر بات کرے گا، جس میں اس خطے کے موجودہ حالات اور انسانی امداد کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس سیشن میں مصر، پاکستان اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ اور عالمی رہنما شرکت کریں گے۔

    ایران کے صدر مسعود پزشکیاں بھی اس سمٹ میں شریک ہوں گے، جو ایران کی طرف سے ایک نیا سفارتی قدم ہے۔ یہ ایران کے کسی صدر کا مصر کا پہلا دورہ ہوگا، جو ایک دہائی سے زیادہ کے وقفے کے بعد ہو رہا ہے۔ مصر اور ایران کے درمیان تعلقات گزشتہ دہائیوں میں کشیدہ رہے ہیں، مگر حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے خاص طور پر غزہ کے بحران کے دوران باہمی تعلقات میں بہتری کی کوشش کی ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اکتوبر میں مصر کا دورہ کیا تھا، جب کہ مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العتی نے جولائی میں تہران کا دورہ کر کے مسعود پزشکیاں کی حلف برداری میں شرکت کی تھی۔ ایران اس سمٹ کے دوران دیگر شریک ممالک کے ساتھ علاقائی اور دو طرفہ امور پر بات چیت کرے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقائی نے بتایا کہ ایران اپنے شراکت داروں کے ساتھ سمٹ کے موقع پر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کرے گا، جن میں اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے علاوہ دیگر علاقائی مسائل بھی شامل ہوں گے۔

    پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس سمٹ میں ڈی-8 وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ وزیر اعظم شہباز شریف بھی 11ویں ڈی-8 سمٹ اور غزہ و لبنان پر خصوصی سیشن میں شریک ہوں گے۔ سمٹ کے دوران دونوں پاکستانی رہنما مختلف ملکوں کے رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے تاکہ پاکستان کے اقتصادی مفادات اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے مسائل پر بات چیت کی جا سکے۔یہ سمٹ نہ صرف پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی موقع ہے بلکہ اس سے عالمی سطح پر اقتصادی تعاون کو فروغ دینے اور خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ترقی کے امکانات پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

    سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

    خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کا گنڈا پور کیخلاف اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج

  • ملکی بہتری کے لئے اقدامات اٹھانا ہوں گے،اسحاق ڈار

    ملکی بہتری کے لئے اقدامات اٹھانا ہوں گے،اسحاق ڈار

    اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملکی بہتری کے لئے اقدامات اٹھانا ہوں گے-

    باغی ٹی وی : نائب وزیراعظم نے پارلیمنٹ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ احتجاج کے باعث ملک کا روزانہ 190ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے، احتجاج کے نام پر توڑ پھوڑ ریاست کا نقصان ہے، کیا وہ نقصان ہمارا تھا یا پاکستان کا تھا؟ ہمیں ماضی سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے، یلغار کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے ۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنے دور میں مخالفین پر سیاسی کیسز بنوائے تھے، چیئرمین نیب کو بلا کرکیسز بنانے کا کہا جاتا تھا، کیا 2018 میں چیئرمین نیب کو ہدایت نہیں دی جاتی تھیں؟ ن لیگ کی حکومت آنے کے بعد ہم نے میثاق معیشت پرکام کیا، مجھے پہلے میثاق معیشت کی بات کرنے پر حمایت نہیں ملی تھی۔

    اسحاق ڈار نےکہا کہ ماضی میں 35 پنکچر کی بات کرنے والے 2018 کے عام انتخابات کی بات کیوں نہیں کرتے؟احتجاج کے دوران تشدد سے سیکیورٹی اہلکارشہید اور زخمی ہوئے ہیں، 9 مئی کو بھی احتجاج کے دوران حدود کراس کی گئیں۔

  • بلاول بھٹو سے اسحاق ڈار  کی ملاقات

    بلاول بھٹو سے اسحاق ڈار کی ملاقات

    اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی : بلاول بھٹو زرداری سےملاقات کیلئےنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زرداری ہاؤس آمد ہوئی، بلاول بھٹو نےنائب وزیراعظم کی آمد پر انہیں خوش آمدید کہا، بلاول بھٹو اور اسحاق ڈار کے درمیان معاملات کے حل کیلئے پی پی پی اور حکومتی کمیٹیوں کی ملاقاتوں پر اتفاق ہوا۔

    چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی موجودتھے، بلاول بھٹو سے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی ملاقات کی۔

    علاوہ ازیں بلاول بھٹو سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وزیرا علیٰ بلوچستان نے بھی ملاقاتیں کیں۔

    پشاور میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس سے متعلق گورنر خیبرپختونخوا نے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ آل پارٹیز کانفرنس میں خیبرپختونخوا کی 16 جماعتیں شریک تھیں، پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں قیام امن اور صوبائی وسائل کے وفاق سے تنازع کے حوالے سے ہونے والی اے پی سی کا بائیکاٹ کیا چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ پشاور میں ہونے والی تاریخی آل پارٹیز کانفرنس ایک اہم اقدام ہے۔

    خیبرپختونخوا کے وسائل اور صوبے میں قیام امن کیلئے آپ کے ساتھ کھڑا ہوں دریں اثنا چیئرمین بلاول بھٹو سے بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے بھی ملاقات کی،وزیراعلیٰ نے صوبے میں امن و امان کی صورت حال سے متعلق بریفنگ دی۔