Baaghi TV

Tag: ٰاسحاق ڈار

  • لبنان پر اسرائیلی حملوں کے باعث مذاکراتی عمل متاثر ہوا،اسحاق ڈار

    لبنان پر اسرائیلی حملوں کے باعث مذاکراتی عمل متاثر ہوا،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات چند روز قبل شروع ہو سکتے تھے، تاہم لبنان پر اسرائیلی حملوں کے باعث تمام پیشرفت رک گئی تھی اور مذاکراتی عمل متاثر ہوا-

    العربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں شروع ہونے والے مذاکرات امریکا اور ایران کے سفارتی عمل کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہیں، جن میں جوہری پروگرام، پابندیوں اور منجمد اثاثوں کے معاملات سمیت لبنان کی صورتحال پر ورکنگ گروپس کام کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں کو قریباً ناکام بنا دیا تھا، تاہم اب دونوں ممالک کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے یہ مذاکرات چند روز قبل شروع ہو سکتے تھے، تاہم لبنان پر اسرائیلی حملوں کے باعث تمام پیشرفت رک گئی تھی اور مذاکراتی عمل متاثر ہوا۔

    انہوں نے بتایا کہ اب ایران اپنے پاس موجود ایٹمی مواد یعنی یورینیم کو ملک سے باہر بھیجنے کے بجائے اپنے ہی ملک کے اندر اس کی طاقت اور افزودگی کو کم کرنے پر راضی ہو گیا ہے شروع میں امریکا کا یہی مطالبہ تھا کہ ایران اپنا سارا یورینیم باہر بھیجے، لیکن اب معاملات طے پا گئے ہیں اس وقت تین خاص ورکنگ گروپس بنائے گئے ہیں جو ایٹمی فائل، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان کے معاملے پر الگ الگ کام کریں گے۔

    نائب وزیراعظم کے مطابق سعودی عرب، قطر، مصر اور متحدہ عرب امارات اس ثالثی کےعمل میں پوری مدد کر رہے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےخود اس پورے معاملے کی نگرانی کی ہے، مذاکرات کا اگلا مرحلہ اگرچہ سخت ہو سکتا ہے، لیکن ایک فائنل ہر صورت ممکن ہے کیونکہ اس ڈیل میں کوئی بھی بری یا منفی بات شامل نہیں ہے۔

    وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دفتر خارجہ کے حکام بھی برگن اسٹاک میں موجود رہے، جہاں امریکی اور ایرانی وفود نے مذاکرات میں شرکت کی انہوں نے حالیہ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کو مستقبل کے مذاکرات کے لیے ایک قابل اعتماد فریم ورک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سوچا سمجھا اور دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول دستاویز ہے، جس پر دستخط کرنے والے ممالک کے ارادوں پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔

    انہوں نے بتایا کہ بعض معاملات کو نمٹانے کے لیے مذاکرات کاروں کو 30 دن کا وقت دیا گیا ہے، جبکہ مجموعی اور حتمی معاہدہ 60 روز کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی کی جا سکتی ہے کشیدگی میں کمی کے معاشی فوائد سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں توانائی کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت بھی بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔

    اسحاق ڈار نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ وہاں جہاز رانی کا نظام 28 فروری سے پہلے والی صورتحال پر بحال ہو، یعنی تجارتی جہازوں پر کسی قسم کی فیس یا ٹول عائد نہ کیا جائے ابتدائی 60 روز کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کی فیس نہ لینے کی ضمانت دی گئی ہے، جبکہ اس دوران علاقائی ممالک کے ساتھ مشاورت کے بعد مستقل طریقہ کار طے کیا جائے گا۔

  • اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ

    اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ترکی کے وزیر خارجہ حاکان فیدان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں خطے کی صورتحال اور امریکا و ایران کے درمیان پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے گزشتہ رات ترکی کے وزیر خارجہ حاکان فیدان سے ٹیلیفونک گفتگو کی دونوں رہنماؤں نے خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا،گفتگو کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان جاری مفاہمت کی جانب پیشرفت کو خوش آئند قرار دیا گیا اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ یہ مثبت پیشرفت خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد بن سکتی ہے دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی صورتحال پر قریبی رابطہ جاری رکھا جائے گا اور آئندہ پیش رفت پر مسلسل مشاورت کی جائے گی۔

    دفتر خارجہ کے مطابق یہ رابطہ خطے میں سفارتی کوششوں اور کشیدگی میں کمی کے لیے جاری روابط کا حصہ ہے۔

  • پاکستان فیفا ورلڈ کپ میں شریک نہ سہی،مگر ہر کھیل میں پاکستان کا حصہ موجود ہوگا،اسحاق ڈار

    پاکستان فیفا ورلڈ کپ میں شریک نہ سہی،مگر ہر کھیل میں پاکستان کا حصہ موجود ہوگا،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان ورلڈ کپ میں شریک نہ سہی، مگر ہر پاس، ہر سیو اور ہر گول میں پاکستان کا حصہ موجود ہوگا۔

    فیفا ورلڈ کپ 2026 کے حوالے سے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر پیغام میں کہا کہ جیسے ہی فیفا ورلڈ کپ 2026میکسیکو، امریکہ اور کینیڈا میں شروع ہو رہا ہے، پاکستان کھیل کے اس عالمی جشن میں اپنا کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کی آفیشل میچ بال سیالکوٹ کے ہنرمند کاریگروں نے تیار کی، پاکستانی محنت کشوں کی مہارت، درستگی اور دستکاری عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کر رہی ہے، سیالکوٹ میں تیار کردہ ایڈیڈاس ٹرائیونڈا ورلڈ کپ کے ہر میچ میں استعمال ہوگی، پاکستانی ہنرمندوں کی عالمی معیار کی صلاحیتیں قابل فخر ہیں۔

  • وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سعودی ہم منصب  سے رابطہ

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سعودی ہم منصب سے رابطہ

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان الیکٹرانک دستخطی تقریب کل ہوگی۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے آخری مرحلے کا خیرمقدم کیا،اس موقع پر انہوں نے اس امید کا اظہار کیاکہ کل متوقع الیکٹرانک دستخطی تقریب کے بعد ہونے والی یہ اہم پیشرفت خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام میں مثبت کردار ادا کرے گی۔

    سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے مذاکرات اور ثالثی کے عمل میں پاکستان کی مسلسل اور مثبت کوششوں کو سراہتے ہوئے اس کردار کی زبردست تعریف کی،گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے رواں ماہ کے اختتام پر مصر میں منعقد ہونے والے علاقائی چار ملکی وزرائے خارجہ (آر-4) اجلاس سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا پاکستان اور سعودی عرب نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی یہ مفاہمت خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام میں معاون ثابت ہوگی۔

    واضح رہے کہ قبل وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران پہلے سے کہیں زیادہ امن معاہدے کے قریب ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی پاکستان امن معاہدے کو حتمی شکل ملنے کے فوراً بعد اس پر الیکٹرانک دستخط کے لیے تیاریاں کررہا ہے، جبکہ اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی متوقع ہیں۔

    بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی ٹوئٹ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی شیئر کی۔

  • اسحاق ڈار سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے

    اسحاق ڈار سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ دورے کے دوران وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے میں شرکت کریں گے یہ اجلاس سلامتی کونسل کی چینی صدارت کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں عالمی و علاقائی امن و سلامتی سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار اپنے دورہ نیویارک کے دوران مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں بھی کریں گے جبکہ اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور زیر بحث آئیں گے۔

  • پاک و چین  کا ‘فولادی بھائی چارہ’ ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مضبوط ہورہا ہے،اسحاق ڈار

    پاک و چین کا ‘فولادی بھائی چارہ’ ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مضبوط ہورہا ہے،اسحاق ڈار

    نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ جہاں پاکستان اور چین اپنے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، وہیں ان کا ‘فولادی بھائی چارہ’ ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔

    ہانگژو میں آئی ٹی و ٹیلی کام، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اور زراعت کے موضوع پر منعقدہ ‘پاک چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس’ سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہماری دوستی بدلتی ہوئی عالمی حقیقتوں، وقت کی آزمائشوں اور علاقائی چیلنجز کے سامنے ہمیشہ پورا اتری ہے، مجھے اس بات پر خاصی مسرت ہے کہ ہمارے تاریخی حکومتی سطح کے (جی ٹو جی) تعلقات کو اب ایک متحرک اور پھیلتی ہوئی تجارتی و کاروباری (بی ٹو بی) شراکت داری سے مزید تقویت مل رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تجربات سے سیکھنے پر مبنی چین کا معاشی ماڈل پاکستان کے لیے بہترین سبق فراہم کرتا ہے و زیر اعظم شہباز شریف کی متحرک قیادت میں حکومت معاشی بحالی، صنعتی توسیع اور پائیدار ترقی کے ایک پرعزم ایجنڈے پر گامزن ہے بیرونی چیلنجز کے باوجود گزشتہ 4 سالوں کے دوران معاشی استحکام حاصل کیا گیا ہے اور آج ملکی معیشت کا رخ مضبوطی سے اوپر کی طرف ہے۔

    دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اسحاق ڈار نے چینی سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کاروبار کے لیے مکمل طور پر کھلا ہے۔ پاکستان میں اصلاحات ہو رہی ہیں اور پاکستان ابھر رہا ہے، وزارتِ خارجہ نے بھی اپنے روایتی کردار کو بنیادی طور پر تبدیل کرتے ہوئے اب معاشی سفارت کاری کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنا دیا ہے ، چین کے ساتھ ہمارا بڑھتا ہوا کاروباری (بی ٹو بی) رابطہ اس نئی سمت کی ایک بہترین اور واضح مثال ہے۔

    نائب وزیر اعظم نے بتایا کہ اب تک ہم چین میں 2 اور پاکستان میں 2 بی ٹو بی کانفرنسیں منعقد کر چکے ہیں اور مخصوص شعبوں پر مرکوز یہ اس سلسلے کی پانچویں کانفرنس ہےمجموعی طور پر اب تک 300 سے زائد مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) اور تقریباً 3 درجن مشترکہ منصوبوں (Joint Ventures) پر دستخط کیے جا چکے ہیں، جن کی کل مالیت 13 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔

    نائب وزیر اعظم نے شرکا کو بتایا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے ہی اسلام آباد میں ‘آئی بی آئی پاکستان ڈیجیٹل اکانومی ہیڈ کوارٹرز’ کا افتتاح کیا ہے۔ بیجنگ میں وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ آئی بی آئی کے چیئرمین کیان کی ملاقات کے بعد محض 8 ماہ سے بھی کم عرصے میں آئی بی آئی نے پاکستان میں اپنا دفتر قائم کر کے آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے،آئی بی آئی کے گزشتہ ہفتے دورہ پاکستان کے دوران ایک ارب ڈالر سے زائد کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

    اسحاق ڈار نے پاکستان کے سروس گروپ اور چین کے لانگ مارچ ٹائرز کے درمیان کامیاب مشترکہ منصوبے کا بھی ذکر کیا، جو 5 سال کے اندر اب پا کستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ ہونے والی ایک ارب ڈالر کی جائنٹ وینچر کمپنی بننے جا رہی ہے،کہا کہ تمام کامیابیاں وزیر اعظم کی رہنمائی میں پاکستان کے متعد د اداروں کی مربوط کوششوں کا نتیجہ ہیں، میں اس مشن میں حصہ ڈالنے والے ہر فرد اور ادارے کو سراہتا ہوں، میں بالخصوص سفیرِ پاکستان خلیل ہاشمی کی تعریف کرنا چاہوں گا جنہوں نے ہمارے ترجیحی شعبوں میں بی ٹو بی کاروباری روابط کو فروغ دینے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے،خوشی ہے کہ اس ہال میں دونوں اطراف سے 500 سے زائد کمپنیاں موجود ہیں اور جن شعبوں کو اس کانفرنس کے لیے منتخب کیا گیا ہے، وہ پاکستان کی معاشی تبدیلی اور صنعتی جدید کاری کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

    اس موقع پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف، صوبہ ژجیانگ کے گورنر لیو جی، وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شیزا فاطمہ خواجہ، وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین، صنعت و پیداوار کے لیے وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی، سروس گروپ آف پاکستان کے سی ای او عمر سعید، لانگ مارچ ٹائر کے چیئرمین جن یونگ شینگ، آئی بی آئی گولیان گوفن کے صدر کیان شیاؤجون اور چائنا کونسل فار دی پروموشن آف انٹرنیشنل ٹریڈ (ژجیانگ پروونشل کمیٹی) کے چیئرمین چن جیان ژانگ بھی موجود تھے۔

  • ایران امریکا ممکنہ مذاکرات: اسحاق ڈار نے اہم پیشرفت کی تصدیق کر دی

    ایران امریکا ممکنہ مذاکرات: اسحاق ڈار نے اہم پیشرفت کی تصدیق کر دی

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی قیادت میں پاکستان سمیت سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے سربراہان کے درمیان ایک تاریخی ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بیان میں اسحاق ڈار نے اسے خطے میں پائیدار امن، استحکام اور جلد ممکنہ سفارتی حل کی جانب ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے اس حساس عمل میں وزیر اعظم شہباز شریف کے وژن اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مرکزی سفارتی کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    اسحاق ڈار نے اپنی پوسٹ میں کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات اور اردن کے رہنماؤں کے ساتھ کیا جانے والا آج کا اہم ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن، استحکام اور جلد ممکنہ سفارتی حل کے ہمارے مشترکہ ہدف کی جانب ایک بڑا اور اہم قدم ہے، ان شاء اللہ۔

    اسحاق ڈار نے صدارتی سفارت کاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم صدر ٹرمپ کی قیادت اور مذاکرات و سفارت کاری کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم کو دل سے تسلیم کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور پوری امریکی ٹیم (بشمول اسٹو وٹکوف اور جیرڈ کشنر) کی کوششوں کی بھی تعریف کی، جن کے مسلسل رابطوں نے جاری مذاکرات میں بامعنی پیش رفت حاصل کرنے میں مدد فراہم کی۔

    نائب وزیر اعظم نے ان امن کوششوں کو آگے بڑھانے میں ایرانی قیادت کے تعمیری کردار کا اعتراف کیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ سید عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے مثبت رویے کو دل سے سراہتے ہیں۔

    اسحاق ڈار نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ وہ خود 28 فروری سے اس پورے سفارتی عمل کے دوران عالمی قیادت کے ساتھ مسلسل قریبی رابطے میں رہے انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس اور برادر علاقائی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا، جن میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی اور قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی شامل ہیں، جن کے تعمیری تعاون اور حمایت نے اس حتمی نتیجے کے حصول میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

    پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ میں خاص طور پر پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے دور اندیش وژن اور امن کے لیے ان کے پختہ عزم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خدمات کو سراہتا ہوں جنہوں نے اس انتہائی حساس اور دور رس عمل کے دوران ایک مرکزی کردار ادا کیا اور آج کی اس اہم ترین عالمی بات چیت میں پاکستان کی نمائندگی بھی کی انہوں نے اس طویل کاوش میں مسلسل اور مستقل سفارتی تعاون فراہم کرنے پر پاکستان کی وزارتِ خارجہ (دفتر خارجہ) کا بھی شکریہ ادا کیا۔

    نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان پائیدار امن، باہمی احترام اور علاقائی استحکام کے لیے کی جانے والی تمام مخلصانہ کوششوں کی حمایت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے ان مذاکرات کے کامیاب نتائج اس امید کو تقویت دیتے ہیں کہ ایک مثبت اور پائیدار حل اب ہماری پہنچ میں ہے، ان شاء اللہ۔ ہمارے خطے اور اس سے آگے کے ممالک کی مشترکہ خوشحالی اور سلامتی کے لیے جنگ و تصادم کے مقابلے میں ہمیشہ مذاکرات اور سفارت کاری کو ہی فتح ملنی چاہیے۔

  • اسحاق ڈار سے یو اے ای میں تعینات پاکستانی سفیر سے ملاقات

    اسحاق ڈار سے یو اے ای میں تعینات پاکستانی سفیر سے ملاقات

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے متحدہ عرب امارات میں تعینات پاکستانی سفیر شفقت علی خان نے اسلام آباد میں ریجنل ایمبیسیڈرزکانفرنس کے موقع پر ملاقات کی،ملاقات کے دوران پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا،نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط کو مزید مستحکم کرنا وقت کی ضرورت ہے،جبکہ تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع تلاش کیے جانے چاہییں۔

    اسحاق ڈار نے متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مثبت کردار کو بھی سراہا اور ہدایت کی کہ وہاں پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لیے سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے انہوں نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

  • ایران میں پاکستان کے نامزد سفیر عمران احمد صدیقی کی اسحاق ڈار سے ملاقات

    ایران میں پاکستان کے نامزد سفیر عمران احمد صدیقی کی اسحاق ڈار سے ملاقات

    وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ایران میں پاکستان کے نامزد سفیر عمران احمد صدیقی نے تہران روانگی سے قبل ملاقات کی-

    ملاقات کے دوران نائب وزیر اعظم نے پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا، انہوں نے تجارت، علاقائی روابط، عوامی روابط اور علاقائی تعاون کے شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مثبت سفارتی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے قریبی رابطہ اور باہمی اعتماد انتہائی اہم ہے،انہوں نے خطے میں امن، مکالمے اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو بھی اجاگر کیا اور امید ظاہر کی کہ نامزد سفیر عمران احمد صدیقی پاکستان اور ایران کے دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے،نائب وزیر اعظم نے انہیں نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

  • اسحاق ڈار اور ازبک وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ

    اسحاق ڈار اور ازبک وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاک۔ازبک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، ازبک وزیر خار جہ نے خطے میں امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور ثالثی کی کوششوں کو سراہا،گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی رابطے برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔