Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • لاس اینجلس میں تاریخ کی بدترین آگ، 6 ہزار گھر   تباہ

    لاس اینجلس میں تاریخ کی بدترین آگ، 6 ہزار گھر تباہ

    امریکی شہر لاس اینجلس میں لگی تاریخ کی بدترین آگ نے پورے علاقے میں تباہی مچادی ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق، اس آگ نے 6 ہزار سے زائد گھروں اور عمارتوں کو مکمل طور پر جل کر راکھ میں تبدیل کر دیا ہے اور 32 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلے ہوئے جنگلات اور وادیاں اجڑ چکی ہیں۔

    یہ آتشزدگی منگل سے شروع ہوئی تھی اور اب تک اس پر قابو پانے میں ناکامی کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس سانحے میں ہلاک افراد کی اصل تعداد کتنی ہوگی، لیکن آگ کی شدت کے پیش نظر بڑی تعداد میں جانی و مالی نقصان کا خدشہ ہے۔ اس آتشزدگی کے باعث ڈیڑھ لاکھ افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب، شہر کے خالی گھروں میں ڈکیتوں کی جانب سے لوٹ مار کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پولیس نے اب تک 20 ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جو گھروں میں لوٹ مار میں ملوث تھے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ خشک اور تیز ہوائیں آگ کی شدت میں مزید اضافے کا سبب بن رہی ہیں، اور اگر فوری طور پر قابو نہ پایا گیا تو یہ سانحہ امریکی تاریخ کے بدترین قدرتی آفات میں شامل ہو سکتا ہے۔

    صدر جو بائیڈن کا امدادی اعلان
    امریکی صدر جو بائیڈن نے لاس اینجلس میں آگ سے ہونے والی تباہی کے بعد متاثرہ علاقوں میں امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے 6 ماہ تک وفاقی حکومت 100 فیصد اخراجات اٹھائے گی، جن میں متاثرہ علاقوں سے ملبہ ہٹانا، عارضی پناہ گاہوں کا قیام، اور ریسکیو ورکرز کی تنخواہوں کا انتظام شامل ہوگا۔ مزید یہ کہ، صدر بائیڈن نے تعمیراتی کام کے لیے اضافی فنڈز کی ضرورت کا بھی ذکر کیا ہے، جس کے لیے وہ کانگریس سے اپیل کریں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا گورنر کیلیفورنیا سے استعفیٰ کا مطالبہ
    اس دوران، امریکی سیاستدان اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گورنر کیلیفورنیا گیون نیوسم سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاس اینجلس کا خوبصورت ترین علاقے جل کر راکھ ہو گئے ہیں اور اس کی ذمہ داری ڈیموکریٹ گورنر نیوسم پر عائد ہوتی ہے۔

    ہالی وڈ کی مشہور شخصیات کے گھروں کو نقصان
    لاس اینجلس میں لگی آگ کا اثر صرف مقامی رہائشیوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس سے ہالی وڈ کی معروف شخصیات کے گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ مشہور اداکارہ اور گلوکارہ پیرس ہلٹن نے انسٹاگرام پر اطلاع دی کہ ان کا مالیبو میں واقع گھر آگ کی زد میں آ کر تباہ ہوگیا ہے۔ اسی طرح، اداکار اسپینسر پراٹ اور ہیڈی مونٹگ نے بھی اپنے گھروں کے جلنے کی خبر دی۔اس کے علاوہ، اداکارہ اینا فیرس کا گھر مکمل طور پر راکھ میں تبدیل ہو چکا ہے، جبکہ گیت نگار ڈیان وارن نے بھی اپنے تقریباً 30 سال پرانے بیچ ہاؤس کے جلنے کی تصدیق کی۔ فلم "ٹاپ گن میورک” کے اسٹار مائلز ٹیلر اور ان کی اہلیہ کا 75 لاکھ ڈالر مالیت کا گھر بھی اس آگ کی نذر ہو چکا ہے۔

    لاس اینجلس کی اس آگ کی وجہ سے نہ صرف گھروں کو نقصان پہنچا ہے بلکہ شوبز انڈسٹری کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ متعدد تقریبات منسوخ کر دی گئیں اور شہر کے شمالی علاقوں میں تیز ہواؤں کی وجہ سے پھیلنے والی آگ نے مشہور پیسیفک پیلیسیڈز جیسے علاقے میں مہنگے گھروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اس آتشزدگی کی وجہ سے آسکر کی نامزدگیوں کی تاریخ کو بھی آگے بڑھا کر 19 جنوری کر دیا گیا ہے، جبکہ کئی فلموں کے پریمیئرز بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

    لاس اینجلس میں لگی اس تاریخ کی بدترین آگ نے نہ صرف لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے وسیع اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ حکام اور امدادی ادارے اس آتشزدگی پر قابو پانے کے لیے سخت کوششیں کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ کی مرکزی حکومت نے فوری امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں بسے افراد کے لیے نئے فیملی قوانین کا اعلان

    26 نومبر احتجاج،24 پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت مسترد

  • ٹرمپ نے اٹلی کی وزیراعظم کو عظیم خاتون قرار دے دیا

    ٹرمپ نے اٹلی کی وزیراعظم کو عظیم خاتون قرار دے دیا

    امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹلی کی وزیراعظم جورجیا میلونی کو "عظیم خاتون” قرار دیا جب وہ فلوریڈا کے مار اےلاگو رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کرنے آئیں۔ٹرمپ نے وہاں موجود ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "یہ بہت دلچسپ لمحہ ہے۔ میں یہاں ایک شاندار خاتون کے ساتھ ہوں، اٹلی کی وزیراعظم۔ وہ واقعی یورپ میں طوفان کی طرح آئی ہیں۔”

    جورجیا میلونی، جو کہ اٹلی کی دائیں بازو کی سیاسی جماعت "برادرز آف اٹلی” کی رکن ہیں، اکتوبر 2022 میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے تعلقات ٹرمپ کے متوقع انتظامیہ کے ساتھ خاص طور پر ایلون مسک کے ساتھ مضبوط ہیں۔جہاں فرانس اور جرمنی جیسے یورپی طاقتور ممالک اس وقت سیاسی عدم استحکام کا شکار ہیں، وہیں میلونی کی حکومت کی استحکام اور قدامت پسند پالیسیوں کی بنا پر وہ امریکہ کے آئندہ صدر کے لئے ایک قدرتی اتحادی ثابت ہوئی ہیں۔

    ٹرمپ اور میلونی کے ہمراہ سابقہ امریکی وزیر خارجہ کے امیدوار سینیٹر مارکو روبیو (رپبلکن، فلوریڈا) اور قومی سلامتی کے مشیر کے امیدوار نمائندہ مائیک والٹس (رپبلکن، فلوریڈا) بھی موجود تھے۔میلونی نے ٹرمپ کے ساتھ اپنی ایک تصویر "ایکس” (سابقہ ٹویٹر) پر شیئر کی، جس کے ساتھ لکھا تھا: "اچھی شام @realDonaldTrump کے ساتھ، جن کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انہوں نے خوش آمدید کہا – ہم ایک ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔” تاہم، یہ نہیں بتایا گیا کہ اس ملاقات میں کون سی بات چیت ہوئی، حالانکہ اٹلی کی وزیراعظم، جیسے دیگر عالمی رہنما، ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے ان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    ایک ممکنہ موضوع جو ایجنڈے میں ہو سکتا ہے وہ ہے اٹلی کی صحافی سیسیلیا سالا کی گرفتاری، جو گزشتہ ماہ ایران میں گرفتار ہو گئی تھیں۔اٹلی کی وزارت خارجہ نے گزشتہ جمعہ کو ایک بیان میں تصدیق کی کہ سیسیلیا سالا، جو اٹلی کے روزنامہ "ایل فوگلیو” کی رپورٹر ہیں، کو تہران میں گرفتار کیا گیا۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے پیر کو بتایا کہ سیسیلیا سالا کو 19 دسمبر کو "اسلامی جمہوریہ ایران کے قوانین کی خلاف ورزی” پر گرفتار کیا گیا۔سالہ کی گرفتاری نے اٹلی کے لیے ایک سفارتی مسئلہ پیدا کر دیا ہے، اور اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اسے واپس لانے کے لیے "انتھک محنت” کر رہی ہے۔

    ٹرمپ اور میلونی کے مابین بڑھتے ہوئے تعلقات کی ایک مثال اس بات سے بھی ملتی ہے کہ روم میں ایلون مسک کے اتحادی، سائبر سیکیورٹی کے ماہر اینڈریا اسٹرپپا نے "ایکس” پر ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شیئر کی، جس میں میلونی ٹرمپ اور مسک کے ساتھ رومن سلطنت کے لباس میں دکھائی دے رہی ہیں۔میلونی اس ہفتے روم میں امریکی صدر جو بائیڈن سے بھی ملاقات کریں گی، جہاں بائیڈن ان کا شکریہ ادا کریں گے کہ انہوں نے پچھلے سال جی7 کی قیادت کی، اور عالمی چیلنجز پر بات چیت کریں گے۔

    میلونی کا فلوریڈا کا دورہ اس وقت ہوا ہے جب وہ پچھلے ماہ پیرس میں نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل کی دوبارہ افتتاحی تقریب کے دوران ٹرمپ اور مسک کے ساتھ عشائیہ کر چکی ہیں، جس کے بارے میں ٹرمپ نے بعد میں نیو یارک پوسٹ کو بتایا کہ یہ ایک مثبت تجربہ تھا۔ٹرمپ اور میلونی کے سیاسی نظریات میں کافی مماثلت ہے، تاہم دونوں کے عالمی مسائل پر ہر بات پر ایک جیسی رائے نہیں ہے۔ میلونی نے یوکرین کی جنگ میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ 12 مرتبہ ملاقات کی ہے اور وہ یوکرین کے حق میں مضبوط حمایت فراہم کرتی رہی ہیں۔

    اسی دوران ایلون مسک اور میلونی کے درمیان 2023 کی گرمیوں میں ایک مضبوط دوستی قائم ہوئی تھی، اور ایلون مسک نے میلونی کی سیاسی جماعت "برادرز آف اٹلی” کے کنونشن "اٹریجو” میں بطور ہیڈ لائنر شرکت کی تھی۔

    ارجنٹائن کے لبرل صدر جاویر میلے نے مار-اےلاگو میں ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے پہلے عالمی رہنما تھے۔ اس کے بعد ہنگری کے وکٹر اوربان اور کینیڈا کے جسٹن ٹروڈو بھی ٹرمپ سے ملنے والے عالمی رہنماؤں میں شامل ہو چکے ہیں۔

    شرجیل میمن کاصحافیوں کو پلاٹس کی فراہمی کا مسئلہ فوری حل کرنے کی ہدایات

    بشریٰ بی بی پر ڈیل کرنے کے الزامات درست نہیں، عمران خان

  • ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر

    ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر

    نیو یارک: امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہش منی کیس میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ نیو یارک کی عدالت نے 10 جنوری 2025 کو ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق، جج نے کاروباری معلومات میں جعلسازی کے مقدمے میں ٹرمپ پر فرد جرم برقرار رکھی ہے۔ اس کیس میں ٹرمپ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے کاروباری معاملات میں جعلی معلومات فراہم کی تھیں، جس کے نتیجے میں انہوں نے مالی فوائد حاصل کیے۔تاہم، ابتدائی طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کو اس کیس میں جیل کی سزا ممکنہ طور پر نہیں سنائی جائے گی۔ اس کے بجائے، انہیں جرمانے یا دیگر سزائیں مل سکتی ہیں۔ اس مقدمے میں ٹرمپ کی ذمہ داری کی نوعیت کی وجہ سے جج نے یہ کہا کہ ان پر فرد جرم برقرار رکھی جائے گی، لیکن اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں صدر کے عہدے کے لیے خدمات انجام دینے کی اجازت دی جائے گی، حالانکہ وہ مجرم قرار پائیں گے۔

    واضح رہے کہ 10 جنوری کے فیصلے کے بعد صرف چند دنوں میں، یعنی 20 جنوری 2025 کو، ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر کے عہدے کے لیے حلف اٹھانا ہے۔ اس حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا ٹرمپ کی صدر کے طور پر حلف برداری کے عمل میں کوئی قانونی رکاوٹ آئے گی یا نہیں، اور آیا وہ اس مقدمے کے باوجود امریکی صدر کے طور پر اپنے فرائض انجام دے پائیں گے۔

    ٹرمپ کی ٹیم اور ان کے حامیوں کی جانب سے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ری پبلکن پارٹی کے کئی رہنما اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی نوعیت کا مقدمہ ہے جو ٹرمپ کی صدارت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے بنایا گیا ہے۔اگرچہ ٹرمپ کو مجرم قرار دیا جائے گا، لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اپنے سیاسی کیریئر کو جاری رکھیں گے اور 2025 میں صدر کے طور پر اقتدار سنبھالیں گے، کیونکہ امریکی آئین میں کسی شخص کو صدر بننے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ عدالتی مقدمات میں بے قصور ہو۔

    جج رخصت پر،اڈیالہ جیل میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ملتوی

    خواب سے حقیقت تک کا سفر: گلگت، آزاد کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام

  • ٹرمپ کی نامزد کابینہ کو بیانات دینے سے روک دیا گیا

    ٹرمپ کی نامزد کابینہ کو بیانات دینے سے روک دیا گیا

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ کے نامزد ارکان کو سوشل میڈیا پر بیانات دینے سے روک دیا گیا
    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی کابینہ میں شامل ہونے والے ممکنہ ارکان کو سخت ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اپنے ناموں کی توثیق کے عمل سے قبل سوشل میڈیا پر کسی قسم کے بیانات یا تبصرے نہ کریں۔

    یہ ہدایات ٹرمپ کی انتخابی مہم کی منیجر سوسی وائلز نے جاری کیں، جو کہ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس کی نئی چیف آف اسٹاف ہوں گی۔ انہوں نے ایک میمو میں کابینہ کے ارکان کو متنبہ کیا کہ وہ وائٹ ہاؤس کے نئے قانونی مشیر، ڈیوڈ وارنگٹن کی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ یا بیان نہ دیں۔مذکورہ میمو میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے کسی بھی غیر مناسب یا متنازعہ بیان سے بچنا ضروری ہے تاکہ کابینہ کی توثیق کے عمل میں کسی قسم کی مشکلات یا رکاوٹیں پیدا نہ ہوں۔

    یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے نامزد کابینہ ارکان کے ہر اقدام پر سخت نگرانی رکھے گی، خاص طور پر ایسے مواقع پر جب ان کی توثیق کا عمل شروع ہونے والا ہو۔نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیوڈ وارنگٹن کو وائٹ ہاؤس کے نئے کاونسل کے طور پر منتخب کیا ہے، جو کابینہ کے ارکان کی قانونی مشاورت کا ذمہ دار ہوں گے۔

    اس سے قبل سوشل میڈیا پر ایلون مسک اور وویک رام سوامی کے درمیان ایچ ون بی ویزا کی قانونی حیثیت پر بحث چھڑی تھی۔ مسک اور رام سوامی دونوں نے ایچ ون بی ویزا کی حمایت کی تھی، جبکہ اسٹیو بینن اور ٹرمپ کے دیگر قریبی ساتھیوں نے اس ویزا کے خلاف اپنی مخالفت ظاہر کی تھی۔ یہ بحث اس بات کو مزید پیچیدہ بناتی ہے کہ نئے کابینہ ارکان کو ایسی حساس موضوعات پر غیر رسمی بیانات دینے سے گریز کرنا ہوگا۔

    ٹرمپ کی انتظامیہ کا یہ اقدام اس بات کا اشارہ ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال کابینہ کے ارکان کے لیے ایک حساس مسئلہ بن چکا ہے، اور حکومت کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے یہ ضروری سمجھا جا رہا ہے کہ ہر بیان یا موقف کا بغض سے تجزیہ کیا جائے۔کابینہ کی توثیق کا عمل اگلے ہفتے شروع ہونے کا امکان ہے، اور اس وقت تک یہ ممکنہ ارکان سوشل میڈیا پر اپنی کسی بھی پوسٹ سے گریز کرتے ہوئے اپنی توثیق کی کوششوں کو سست روی سے آگے بڑھائیں گے۔

    کراچی،پولیس افسر کے بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے خاتون زخمی

    پاک روس مضبوط ہوتے رشتے اور امریکی پابندیاں

  • جنسی ہراسانی کیس،ٹرمپ کی نظر ثانی درخواست مسترد

    جنسی ہراسانی کیس،ٹرمپ کی نظر ثانی درخواست مسترد

    نیو یارک: امریکی فیڈرل اپیل کورٹ نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف جنسی ہراسانی کے کیس میں فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ان کی نظرثانی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے ٹرمپ کو مصنفہ ای جین کیرول کے خلاف 50 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، جسے اب اپیل کورٹ نے بھی برقرار رکھا ہے۔

    یاد رہے کہ ای جین کیرول، ایک معروف امریکی صحافی اور مصنفہ ہیں، جنہوں نے ٹرمپ پر 1990 کی دہائی میں نیو یارک کے ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور کے ڈریسنگ روم میں جنسی طور پر بدسلوکی کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ کیرول کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا تھا، جس پر انہوں نے ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔
    ای جین کیرول نے ٹرمپ پر الزام عائد کیا تھا کہ 1990 کی دہائی کے وسط میں نیو یارک کے ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور کے ڈریسنگ روم میں ٹرمپ نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا۔ٹرمپ نے اس الزام کو مکمل طور پر مسترد کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ کیرول جھوٹ بول رہی ہیں۔اس کے بعد کیرول نے ٹرمپ کے اس الزامات کی تردید پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔2023 میں نیو یارک کی وفاقی عدالت نے ٹرمپ کو ای جین کیرول کی جنسی ہراسانی کا مرتکب قرار دیا اور انہیں 50 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی، تاہم فیڈرل اپیل کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے کو سیاسی طور پر متعصب قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ ان کے خلاف ایک "سیاسی حملہ” ہے۔ ٹرمپ نے اس بات کا بھی ذکر کیا تھا کہ یہ مقدمہ دراصل 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات کو متاثر کرنے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم، اپیل کورٹ نے ان کے موقف کو تسلیم نہیں کیا اور فیصلہ برقرار رکھا۔

    یہ فیصلہ ٹرمپ کی سیاسی زندگی کے لیے ایک سنگین دھچکہ ہے۔ ان کے خلاف جنسی ہراسانی کے مقدمات اور ہتک عزت کے مقدمات کئی برسوں سے جاری ہیں، اور یہ فیصلہ ان کے لیے ایک نیا قانونی مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ای جین کیرول کے حق میں آیا گیا یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ عدالت نے متاثرہ خاتون کی گواہی کو سچ سمجھا اور اسے تسلیم کیا، جس سے ٹرمپ کے خلاف قانونی جنگ میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

    نیو یارک کی عدالت کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف فیصلہ برقرار رکھنے اور ہرجانے کا حکم دینے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ قانونی نظام میں کسی بھی شخص کو انصاف سے بالاتر نہیں سمجھا جا سکتا، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ ای جین کیرول کی قانونی فتح نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ خواتین کے حقوق اور ان کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔

    میئر لندن صادق خان کو بادشاہ چارلس نے نائٹ اعزاز سے نواز دیا

    پی ایچ ڈی مقالے بعنوان "سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات” کا مطالعاتی جائزہ

  • ٹک ٹاک پر پابندی، ٹرمپ،جوبائیڈن آمنے سامنے

    ٹک ٹاک پر پابندی، ٹرمپ،جوبائیڈن آمنے سامنے

    ٹرمپ نے سپریم کورٹ سے ٹک ٹاک پر عائد پابندی مؤخر کرنے کی درخواست کی، جبکہ بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایپ کی موجودگی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ ٹک ٹاک پر عائد پابندی کو مؤخر کرے، جو کہ آئندہ ماہ نافذ ہونے والی ہے۔ جمعہ کے روز ایک قانونی دائرہ میں ٹرمپ نے کہا کہ اس پابندی کے نفاذ میں تاخیر سے ان کی انتظامیہ کو "مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے” کا موقع ملے گا۔ٹرمپ کی یہ درخواست بائیڈن انتظامیہ کے موقف سے متصادم ہے، جس نے جمعہ کو اپنے مؤقف میں ٹک ٹاک کی موجودگی کو امریکی قومی سلامتی کے لیے "سنگین” خطرہ قرار دیا۔ بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک چین کی کمپنی کا حصہ ہے اور اس کی موجودگی امریکی شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ اور عالمی سیاست میں چین کے مفادات کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔

    یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں اس وقت ایک اہم معاملہ بن چکا ہے کہ آیا اپریل میں کانگریس کے منظور کردہ ٹک ٹاک پر پابندی کے قانون سے امریکی آئین کے پہلے ترمیم (آزادی اظہار) کی خلاف ورزی ہوتی ہے یا نہیں۔ عدالت نے 10 جنوری کو اس مقدمے کی سماعت کے لیے دو گھنٹے مختص کیے ہیں۔سپریم کورٹ میں جمعہ کے روز اس مقدمے پر مختلف گروپوں اور حکام کی طرف سے دو درجن سے زیادہ قانونی مؤقف درج کیے گئے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ اس مقدمے میں فریق نہیں ہیں، تاہم انہوں نے "دوست عدالت” کی حیثیت سے اپنا مؤقف سپریم کورٹ میں پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ ٹک ٹاک پر عائد پابندی کے نفاذ کی تاریخ کو مؤخر کرے تاکہ ان کی آنے والی انتظامیہ اس مسئلے کا کوئی مذاکراتی حل تلاش کر سکے۔

    اپنی قانونی درخواست میں ٹرمپ نے اس مقدمے میں آئین کے پہلے ترمیمی سوالات پر کوئی موقف اختیار نہیں کیا، لیکن انہوں نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ وہ پابندی کے نفاذ کی تاریخ 19 جنوری تک مؤخر کرے تاکہ ان کی انتظامیہ ٹک ٹاک کے معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر سکے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس تاخیر سے امریکہ میں ٹک ٹاک کی مکمل بندش کو روکا جا سکے گا اور امریکی شہریوں کے آئینی حقوق کو بچایا جا سکے گا۔ٹرمپ نے اپنے مؤقف میں مزید کہا کہ وہ اپنے "قوی انتخابی مینڈیٹ” کے تحت اس معاملے کو حل کرنے کے لیے خاص طور پر اہل ہیں اور انہوں نے خود کو سوشل میڈیا کا ایک "انتہائی طاقتور، کامیاب، اور اثر رسوخ رکھنے والا صارف” قرار دیا۔

    جمعہ کو بائیڈن انتظامیہ اور سابق امریکی حکام کی ایک بایپارٹیز گروپ نے ٹک ٹاک پر پابندی کے حق میں اپنی قانونی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کروائیں، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ماضی میں ٹرمپ کے تحت کام کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی کمپنی کے ساتھ ٹک ٹاک کے تعلقات امریکی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔انتظامیہ نے عدالت کو بتایا کہ ٹک ٹاک "امریکہ کے لاکھوں شہریوں کا ڈیٹا جمع کرتا ہے”، اور چین "اس ایپ کو خفیہ طور پر اپنے جغرافیائی سیاسی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے”۔ اس کا ایک مقصد امریکہ میں انتشار اور غلط اطلاعات پھیلانا ہو سکتا ہے۔

    سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے دستاویزات میں قومی سلامتی اور آزادی اظہار کے درمیان موجود کشمکش کو واضح کیا گیا ہے، خصوصاً اس وقت جب 170 ملین امریکی ٹک ٹاک کا استعمال خبریں اور تفریح کے لیے کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی درخواست میں اس بات کو تسلیم کیا کہ ان کی انتظامیہ نے بھی ٹک ٹاک کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا تھا اور 2020 میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا تھا، تاہم اس فیصلے کو عدالت نے روک دیا تھا۔ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کا نفاذ ان کے لیے "بدقسمتی سے وقت کی غیر موزوںیت” پیدا کرتا ہے اور اس سے امریکہ کی خارجہ پالیسی کو منظم کرنے میں مشکل پیدا ہوگی۔ ٹرمپ نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ اس پابندی کو مؤخر کرے تاکہ ان کی انتظامیہ اس معاملے کا حل تلاش کر سکے، جو نہ صرف قومی سلامتی کی حفاظت کرے بلکہ ٹک ٹاک جیسے مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو بھی بچایا جا سکے۔

    اب اس مقدمے کی سماعت اور اس کے نتیجے میں آنے والے فیصلے کو امریکہ میں ٹک ٹاک کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو کہ سوشل میڈیا، قومی سلامتی اور آزادی اظہار کے درمیان پیچیدہ تعلقات کو واضح کرے گا۔

  • ٹرمپ کا اعلان، خواجہ سراؤں کے لئے مشکلات

    ٹرمپ کا اعلان، خواجہ سراؤں کے لئے مشکلات

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد اہم فیصلے کرنے کا اعلان کیا ہے جن میں اسکولوں اور مسلح افواج سے خواجہ سراؤں کو نکالنے کا احکام بھی شامل ہیں۔

    ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ سب سے پہلے وہ بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف اقدامات اٹھائیں گے اور خواجہ سراؤں کو ایلیمنٹری، مڈل اور ہائی اسکولوں سے نکالنے کے ساتھ ساتھ امریکی فوج میں بھی ان کی بھرتیوں کو روک دیں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ "بطور امریکی صدر، اپنے دفتر میں پہلے دن بچوں کے جنسی استحصال کو ختم کرنے، خواجہ سراؤں کو فوج اور اسکولوں سے باہر نکالنے کے انتظامی احکامات پر دستخط کروں گا۔” ان کا یہ اعلان ان کے حامیوں کے لئے خوش آئند اور مخالفین کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

    اس کے علاوہ، ٹرمپ نے منشیات فروشوں کے خلاف اپنی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ منشیات کے عالمی کارٹیلز کو "غیرملکی دہشت گردی تنظیم” قرار دیں گے۔ اس کا مقصد ان کے خلاف سخت کارروائی کرنا اور منشیات کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ٹرمپ نے ایک اور اہم مسئلہ پر بھی اپنے موقف کا اظہار کیا، اور کہا کہ وہ امریکی حکومت کے زیر اہتمام خواتین کے کھیلوں میں مردوں کو حصہ لینے سے روکنے کے لئے اقدامات کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "امریکی حکومت باضابطہ طور پر صرف دو جنسوں کو تسلیم کرے گی، یعنی مرد اور عورت، اور ان کی بنیاد پر ہی پالیسیاں مرتب کی جائیں گی۔”

    ٹرمپ نے اپنے قریبی ساتھیوں اور مشیروں میں سے بھارتی نژاد امریکی کاروباری شخصیت سری رام کرشنن کو وائٹ ہاؤس کے سینئر پالیسی مشیر برائے مصنوعی ذہانت نامزد کیا ہے۔ سری رام کرشنن ٹیکنالوجی کے میدان میں اہم تجربہ رکھتے ہیں اور اس عہدے کے لئے ان کی تقرری کو ایک اہم فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ٹرمپ کی صدارتی مہم کے دوران لاکھوں ویوز حاصل کرنے پر انہوں نے ٹک ٹاک پر مزید سرگرم رہنے کا عندیہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مہم کو سوشل میڈیا کے ذریعے مزید پھیلائیں گے اور ٹک ٹاک کا استعمال جاری رکھیں گے تاکہ عوام تک اپنے پیغامات پہنچا سکیں۔

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ فیصلے نہ صرف امریکی عوام بلکہ دنیا بھر میں سیاسی اور سماجی حلقوں میں ایک نیا بحث کا آغاز کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ کے ان اقدامات کا مقصد امریکی معاشرتی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور اپنے حامیوں کے ساتھ وعدے پورے کرنا ہے، تاہم مخالفین کا خیال ہے کہ ان اقدامات سے مختلف اقلیتی گروپوں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس دوران عالمی سطح پر ان کے فیصلوں کے اثرات کا بھی بغور جائزہ لیا جائے گا۔

    لیہ: جعلی پیر نے خاتون کے پاؤں جلا ڈالے، ملزم گرفتار

    داؤد ابراہیم کے بھائی اقبال کاسکر کا فلیٹ قبضے میں لے لیا گیا

    ہاں اسماعیل ہنیہ کو ہم نے مارا،اسرائیل کا کھل کر اعتراف

  • ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعض پہلو بھارت کے لیے پریشانی کا باعث

    ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعض پہلو بھارت کے لیے پریشانی کا باعث

    امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے خود دیے گئے لقب "ٹیرِف مین” پر قائم ہیں۔ اس بار، وہ اپنی حلف برداری سے پہلے دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    اس ماہ کے شروع میں، ٹرمپ نے برکس ممالک کو خاص طور پر نشانہ بنایا، اور انہیں دھمکی دی کہ اگر وہ ایک نئی کرنسی تشکیل دیتے ہیں یا امریکی ڈالر کی جگہ کوئی اور کرنسی اختیار کرتے ہیں، تو ان پر 100 فیصد ٹیکس عائد کیے جائیں گے۔بھارت، جو کہ برکس کا بانی رکن ہے اور اس تنظیم میں چین اور روس جیسے ممالک شامل ہیں، اس وقت اس عالمی تنظیم میں طاقتور اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ٹرمپ نے اس سے پہلے بھارتی تجارتی تعلقات کے حوالے سے نئی دہلی کو "بہت بڑا بدسلوکی کرنے والا” قرار دیا تھا، اور اس پر الزامات لگائے تھے۔

    ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں اسٹیل اور ایلومینیم پر ٹیکس عائد کیے تھے، جس سے جوابی اقدامات کی ایک لہر دوڑ گئی تھی۔ اس کے بعد ٹرمپ نے بھارت کو ترجیحی تجارتی حیثیت سے محروم کر دیا، جس سے بھارت کی اربوں ڈالر مالیت کی مصنوعات امریکی ٹیکسوں سے مستثنیٰ تھیں، اور اس فیصلے نے بھارتی حکام میں غصے کی لہر دوڑائی۔تاہم، ان سب کے باوجود، منتخب صدر ٹرمپ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ گرم جوش ذاتی تعلقات رکھتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی تعریف کی تھی، خاص طور پر جب ٹرمپ نے مودی کے گھر کے ریاست گجرات کا دورہ کیا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ قریبی تعلقات بھارت کو ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت میں فائدہ دے سکتے ہیں۔

    ٹرمپ کے اقتدار میں بھارت کی پوزیشن ایک منفرد مقام پر آتی ہے۔ Harsh Pant، جو کہ اوبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے نائب صدر ہیں، نے سی این این کو بتایا کہ "دیگر برکس ممالک جیسے روس، چین اور برازیل امریکہ مخالف جذبات رکھتے ہیں، لیکن بھارت ان میں شامل نہیں ہے۔” بھارت کی اس منفرد پوزیشن کو اس کے حق میں سمجھا جا سکتا ہے، خاص طور پر اس کی اقتصادی طاقت اور عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ کے پیش نظر۔برکس ممالک کے درمیان یہ امکان بھی موجود ہے کہ وہ امریکی ڈالر سے دوری اختیار کریں اور اپنی مشترکہ کرنسی تشکیل دیں یا کسی دوسرے مالیاتی نظام کی طرف بڑھیں۔ ایسے میں ٹرمپ کا دباؤ بھارت کے لیے ایک موقع فراہم کر سکتا ہے کہ وہ گروپ کے دیگر اراکین کو اس راستے پر چلنے سے روکے تاکہ امریکہ کے ردعمل سے بچا جا سکے۔

    بھارت میں اب بھی امریکہ کے لیے مثبت جذبات پائے جاتے ہیں، اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں مضبوطی آئی ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں بھارت کے ساتھ تعلقات اچھے رہے، اور اس کی وجہ سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ ٹرمپ کا دوسرا دور زیادہ خلفشار کا باعث نہیں بنے گا۔بھارتی وزیر خارجہ سبھرمیمنیم جے شنکر نے حال ہی میں کہا تھا کہ بھارت امریکی ڈالر کی طاقت کو کمزور کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت امریکی کرنسی کے ساتھ اپنے تعلقات میں استحکام کی خواہش رکھتا ہے۔

    مودی اور ٹرمپ نے اپنے ذاتی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔ 2019 میں، ٹرمپ کے دورے پر بھارتی وزیراعظم مودی کو ٹیکساس میں "ہاؤڈی مودی” ریلی میں زبردست پذیرائی ملی تھی۔ اس کے بعد، 2020 میں، احمد آباد میں "نمستے ٹرمپ” کے عنوان سے ہونے والی ریلی میں 1,25,000 افراد نے ٹرمپ کا خیرمقدم کیا تھا۔اگرچہ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات نے امریکہ کے حق میں توازن برقرار رکھا ہے، تاہم ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ 10 فیصد عمومی ٹیکس بھارت پر اثرانداز ہو سکتا ہے، کیونکہ بھارت امریکی مارکیٹ میں بہت زیادہ برآمدات کرتا ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں، امریکہ نے بھارت سے تقریباً دوگنا مال درآمد کیا ہے جو اس نے بھارت کو برآمد کیا۔

    بھارت اب ایک اہم مینوفیکچرنگ مرکز بن چکا ہے، خاص طور پر کمپنیوں جیسے ایپل کے لیے، جو چین کے بجائے بھارت میں اپنی سپلائی چین کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ 2024 کے ابتدائی 10 مہینوں میں، امریکہ نے بھارت سے 73 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات درآمد کیں، جبکہ بھارت کو امریکہ سے صرف 35 ارب ڈالر کی برآمدات ہوئیں۔اگرچہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے بعض پہلو بھارت کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں، تاہم بھارت کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہو سکتا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مستحکم کرے اور اپنے عالمی مقام کو مزید مستحکم کرے۔ ٹرمپ اور مودی کے درمیان مضبوط ذاتی تعلقات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں فاصلہ کم ہو گا،

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

  • ایلون مسک کی ٹویٹ،ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیک جانسن کے درمیان تنازع

    ایلون مسک کی ٹویٹ،ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیک جانسن کے درمیان تنازع

    امریکہ کے صدر منتخب ڈونلڈ ٹرمپ اور ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن کے درمیان تنازع نے ایک دن میں امریکی سیاست میں ایک بھونچال پیدا کر دیا، اور حکومت کے شٹ ڈاؤن کی طرف بڑھنے کی صورت حال پیدا ہوگئی۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایلون مسک، جنہیں ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے، نے جانسن کے حکومت کی فنڈنگ کے لیے پیش کردہ مختصر مدت کے معاہدے کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جس کے بعد ٹرمپ نے بھی اس معاہدے کی مخالفت کی اور ایک نیا بحران پیدا کر دیا۔

    ایلون مسک کی مداخلت اور ٹرمپ کی حمایت
    ڈونلڈ ٹرمپ اور مائیک جانسن کے تعلقات ہمیشہ مضبوط رہے ہیں۔ ٹرمپ نے انتخابی رات جانسن کو اپنے ساتھ رکھا، اور گزشتہ ہفتے آرمی اینیوی فٹ بال گیم میں بھی جانسن کو مدعو کیا۔ اس کے باوجود جب ایلون مسک نے ٹرمپ کی رضامندی سے سوشل میڈیا پر جانسن کے مختصر مدتی حکومت فنڈنگ معاہدے کو "غیر قانونی” قرار دیا تو یہ سب کو حیران کن لگا۔ مسک کی اس مداخلت کے بعد، ٹرمپ نے بھی اس معاہدے کے خلاف آواز اٹھائی اور دھمکی دی کہ وہ 2026 میں ان ریپبلکن ارکان کے خلاف انتخابی مہم چلائیں گے جو اس معاہدے کی حمایت کریں گے۔

    ٹرمپ کے مطالبات اور حکومت کی بندش کا خطرہ
    ٹرمپ نے مزید مطالبہ کیا کہ وہ اپنے عہدہ سنبھالنے سے قبل قرض کی حد کو ختم کروا دیں یا کم از کم اسے معطل کیا جائے۔ یہ مطالبات ایوان نمائندگان میں ریپبلکنز کے درمیان ایک نیا تنازعہ پیدا کرنے کا باعث بنے، اور نتیجے کے طور پر حکومت کا شٹ ڈاؤن قریب آ گیا۔یہ غیر متوقع سیاسی تبدیلی اور تنازعہ اس بات کا غماز ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے اندرونی اختلافات کتنے گہرے ہیں، خاص طور پر جب ٹرمپ جیسے طاقتور رہنما کی خواہشات ایوان کے اسپیکر کے ساتھ ٹکرا رہی ہوں۔

    کئی ریپبلکن قانون سازوں نے اس پر حیرانی کا اظہار کیا۔ ایک قانون ساز نے سی این این کو بتایا، "یہ سب بہت عجیب ہے، یہ صورتحال مکمل طور پر قابلِ اجتناب تھی۔” تاہم، جمعرات کی شام تک، ٹرمپ نے دوبارہ جانسن کی حمایت کی جب جانسن نے ایک نیا منصوبہ پیش کیا جو ٹرمپ کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی فنڈنگ کی مدت بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا۔جانسن اور دیگر قانون سازوں نے تین ماہ کے لیے حکومت کی فنڈنگ بڑھانے کی کوشش کی، جس میں قرض کی حد کو 2027 تک بڑھایا جانا، زرعی بل میں توسیع اور قدرتی آفات کے لیے 110 بلین ڈالر کی امداد شامل تھی۔ تاہم، اس منصوبے کی مخالفت میں 38 ریپبلکن ارکان نے ووٹ دیا اور یہ بل ناکام ہوگیا۔

    یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے اندر ٹرمپ اور جانسن کے تعلقات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے آرمی اینیوی فٹ بال گیم میں جانسن کے ساتھ گہرے گفتگو کی تھی اور اس موقع پر جانسن نے ٹرمپ کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی تھی کہ مختصر مدت کی فنڈنگ سے زیادہ وقت درکار ہے۔ تاہم، جب بل کا متن سامنے آیا، تو ٹرمپ نے اس کی مخالفت شروع کر دی۔ٹرمپ اور ایلون مسک کے درمیان تعلقات بھی ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ مسک کی حمایت نے ٹرمپ کے موقف کو مزید تقویت دی، اور دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بل میں بہت زیادہ رعایتیں دی جا رہی ہیں اور اس میں زیادہ خرچ کی پیشکش کی گئی ہے جو کہ ڈیموکریٹس کو فائدہ پہنچاتی ہے۔

    اس تمام پیچیدہ صورتحال نے ایوان نمائندگان کی قیادت کو شدید بحران میں ڈال دیا ہے۔ اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد ریپبلکن پارٹی کیسے کام کرے گی، خاص طور پر جب اس میں مختلف دھڑے موجود ہیں،ڈیموکریٹس، جنہوں نے گزشتہ موسم بہار میں جانسن کی حمایت کی تھی، اب کہتے ہیں کہ وہ مزید اس کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ جانسن کو اپنے پارٹی کے اندرونی تنازعات سے نمٹنے میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    وزیراعظم کی کاروباری سہولت مراکز کی جلد از جلد تعمیر مکمل کرنے کی ہدایت

    کراچی میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ،پولیس اہلکاروں کے کپڑے پھاڑ دیئے،چھ گرفتار

  • فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

    فحش فلم اداکارہ سے تعلقات،ٹرمپ کی سزا کیخلاف درخواست مسترد

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑا جھٹکا، نیویارک کے ایک امریکی جج نے ان کی ‘ہش منی’ کیس میں سزا منسوخ کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

    اس فیصلے سے ٹرمپ کو ایک اور سنگین قانونی بحران کا سامنا ہے، کیونکہ اب وہ 20 جنوری 2025 کو حلف اٹھانے کے باوجود سزا یافتہ صدر کے طور پر تاریخ رقم کریں گے۔رپورٹس کے مطابق نیویارک کی عدالت میں جج جوآن مرچن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو سیکس اسکینڈل چھپانے کے لیے کاروباری ریکارڈ میں ہیرا پھیری کرنے کے جرم میں قصوروار ٹھہرایا۔ جج مرچن نے ٹرمپ کے وکیلوں کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ نے اس طرح کے ایک ہی نوعیت کے کیس کو منسوخ کیا تھا۔ٹرمپ کے وکیلوں نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرتے ہوئے دلیل دی تھی کہ ٹرمپ کی حکومت میں کام کرنے کی صلاحیت میں رکاوٹ آئے گی، تاہم جج نے ان دلائل کو بھی مسترد کر دیا اور ٹرمپ کی سزا کو برقرار رکھا۔

    یاد رہے کہ یہ کیس 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران فحش فلم کی اداکارہ اسٹارمی ڈینیلس کے ساتھ ٹرمپ کے مبینہ تعلقات سے جڑا ہوا ہے، جسے چھپانے کے لیے ٹرمپ پر 1 لاکھ 30 ہزار ڈالر کی ادائیگی کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں مئی 2024 میں مین ہٹن کی جیوری نے ٹرمپ کو 34 مختلف الزامات میں قصوروار قرار دیا تھا۔اس فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ امریکا کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ کسی صدر یا سابق صدر کو کسی مجرمانہ کیس میں قصوروار ٹھہرایا گیا ہو۔ یہ معاملہ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ ٹرمپ کی سیاسی اور قانونی مشکلات کا سامنا ان کے 2024 میں ہونے والے انتخابات کی مہم کے دوران بھی ہو رہا ہے۔ٹرمپ نے اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے اپنی 2024 کی انتخابی مہم کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کیس ایک سیاسی سازش ہے جس کا مقصد انہیں انتخابی دوڑ سے باہر کرنا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے 2016 کے صدارتی انتخابات سے پہلے اسٹارمی ڈینیلس کے ساتھ اپنے تعلقات کو عوامی سطح پر چھپانے کے لیے کاروباری ریکارڈ میں تبدیلی کی۔ اس معاملے کو امریکا کی عدلیہ میں ایک اہم قانونی اور سیاسی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی سیاسی تاریخ میں پہلی بار ایک صدر یا سابق صدر کو مجرمانہ الزام کا سامنا ہے۔

    دوران پرواز ہوائی جہاز میں فحش فلم چل گئی

    ہاں،ٹرمپ نے جنسی تعلقات قائم کیے تھے، فحش فلموں کی اداکارہ کی تصدیق

    فحش فلموں کی اداکارہ اپنے کمرے میں پراسرار حالت میں مردہ پائی گئی

    رکن اسمبلی دوران اجلاس موبائل پر فحش فلمیں دیکھتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

    فحش فلمیں دیکھنے والے ٹاپ 20 ممالک میں مسلمان ملک کا نام بھی آ گیا