Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران جنگ ختم اور تیل کی قیمتیں تیزی سے گرجائیں گی، ٹرمپ

    مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران جنگ ختم اور تیل کی قیمتیں تیزی سے گرجائیں گی، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اس سال نومبر میں ہونے والے امریکی مڈ ٹرم انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی، کیونکہ تہران اب مزید امریکی اقتصادی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور جنگ کے باعث بلند ہونے والی تیل کی قیمتیں بھی انتخابات کے بعد تیزی سے نیچے آئیں گی۔

    ڈیلس میں ریپبلکن نیشنل کنونشن کے لیے روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ”میرا خیال ہے انتخابات کے فوری بعد جنگ ختم ہو جائے گی کیونکہ وہ (ایرانی حکمران) اب مزید نہیں ٹک سکتے اور وہ ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح ان انتخابات پر اثر انداز ہو سکیں۔

    امریکی صدر نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ ایران کے ساتھ سفارتی بات چیت کا امکان موجود ہے، تاہم یہ ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ”جی ہاں، مذاکرات بالکل ہو سکتے ہیں لیکن یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کی ہم اس وقت کوشش کر رہے ہوں۔“

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری یہ تنازع اپنے ساتویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے اور فی الحال اس کے فوری خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان تازہ ترین تصادم اس وقت سامنے آیا جب امریکی فوج کی جانب سے پانچ ایرانی تیل بردار جہازوں کو غرق کرنے کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا اس نئی فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں یکدم بڑھ گئی ہیں اور بین الاقوامی بنچ مارک برینٹ کروڈ جولائی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے اوپر چلا گیا ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ہوا ہے تاہم انتخابات کے فوراً بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے جائیں گی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

    ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ وہ محض ایک روایتی جوہری معاہدہ نہیں چاہتے بلکہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل میں جوہری پروگرام سے کہیں زیادہ معاملات طے کرنا چاہتے ہیں۔

    ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کے بارے میں امریکی مؤقف میں حالیہ دنوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے رائٹرز کے مطابق مئی میں ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امن تجویز آنے کے بعد حملہ روکنے اور جوہری پروگرام کو محدود کرنے والے ممکنہ معاہدے کی امید ظاہر کی تھی۔

    دوسری جانب ایران کے جوہری پروگرام پر مغربی دباؤ برقرار ہے، برطانیہ نے رواں ہفتے ایران کے خلاف مزید سخت پابندیوں کے لیے قانون سازی بھی شروع کی ہے، جس میں ایرانی مالیاتی نظام، تجارت، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں پر پابندیاں شامل ہیں۔

    ایران جنگ اور خلیج میں توانائی کی تنصیبات و جہازوں پر حملوں کے باعث عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ میں ہے۔ رائٹرز کے مطابق خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً دو تہائی تک رہ گئی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی سپلائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

    اسی تناظر میں برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں توانائی کے اہم انفرااسٹرکچر کو مزید نقصان پہنچا تو تیل کی قیمتوں میں مزید نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ ٹرمپ اس کے برعکس جنگ کے خاتمے کے بعد قیمتوں میں تیز کمی کی توقع ظاہر کررہے ہیں۔

    یوں ٹرمپ کے حالیہ بیانات میں ایران جنگ کے خاتمے، تیل کی قیمتوں میں کمی، ایران کے ساتھ ممکنہ وسیع تر مذاکرات، اسرائیلی بستیوں پر پابندیوں اور روس یوکرین جنگ کے لیے نئی ڈیل کو امریکی خارجہ پالیسی کے اہم موضوعات کے طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔

  • دو فائر فائٹر مجھے اٹھا کر بھاگے، نائن الیون سے متعلق ٹرمپ نے دلچسپ واقعہ سنا دیا

    دو فائر فائٹر مجھے اٹھا کر بھاگے، نائن الیون سے متعلق ٹرمپ نے دلچسپ واقعہ سنا دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ نائن الیون حملوں کے بعد ایک موقع پر دو فائر فائٹرز انہیں اٹھا کر وہاں سے بھاگ نکلے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ ایک عمارت ان پر گر سکتی ہے۔

    انہوں نے یہ واقعہ وائٹ ہاؤس میں نائن الیون حملوں کے امدادی کارکنوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سنایا،ٹرمپ نے بتایا کہ وہ اپنی تعمیراتی کمپنی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ حملے کے فوراً بعد گراؤنڈ زیرو پہنچے تھے ان کے بقول وہاں موجود ایک عمارت سے چرچرا نے کی آوازیں آرہی تھیں اور خدشہ تھا کہ وہ منہدم ہوجائے گی۔

    ٹرمپ نے کہا کہ دو طاقتور فائر فائٹرز نے انہیں بازوؤں سے پکڑ کر اٹھایا اور وہاں سے بھاگنے لگے، “میں نے کہا، ‘میں خود بھاگ سکتا ہوں یار’، مگر وہ بھا گتے رہے، کیونکہ انہیں لگا تھا کہ یو ایس اسٹیل کی عمارت گرنے والی تھی۔

    تاہم سی این این سمیت دیگر امریکی میڈیا اداروں نے اپنی رپورٹس میں قرار دیا ہے کہ نائن الیون حملوں کے حوالے سے ٹرمپ کے سنائے گئے واقعے کے حق میں شواہد موجود نہیں جبکہ ان کے بیان کے بعض حصے گمراہ کن بھی ہیں۔

    سی این این نے اپنی فیکٹ چیک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ دستیاب ریکارڈ کے مطابق 11 ستمبر کو حملے کے وقت ٹرمپ ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے کئی میل دور مڈ ٹاؤن مین ہٹن میں ٹرمپ ٹاور میں موجود تھے ٹرمپ نے بعد میں 2016 میں اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ فائر فائٹرز کا انہیں اٹھانے کا واقعہ حملوں کے ’ایک دو روز بعد‘ پیش آیا تھا۔

    سی این این کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے اس واقعے کے مزید شواہد یا تفصیلات فراہم نہیں کیں اور مؤقف اختیار کیا کہ اُس وقت ٹرمپ ایک عام شہری تھے، اس لیے ان کی ہر سرگرمی کا ریکارڈ ہونا ضروری نہیں۔

    سی این این کے مطابق ٹرمپ نے جس عمارت کا ذکر کیا اسے 2001 میں ’یو ایس اسٹیل بلڈنگ‘ کہا، جو ون لبرٹی پلازا کے نام سے معروف تھی حملوں کے بعد واقعی اس عمارت کے منہدم ہونے کے خدشات پیدا ہوئے تھے، تاہم شہری حکام نے اسے ساختی طور پر محفوظ قرار دیا تھا 12 اور 14 ستمبر کو عمار ت سے امدادی کارکنوں اور صحافیوں کو ممکنہ خطرے کے باعث باہر نکالے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔

    سی این این نے واضح کیا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ ٹرمپ اس عمارت کے اندر موجود تھے یا انہیں فائر فائٹرز نے وہاں سے نکالا تھا۔

    اسی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے اس دعوے کے بھی کوئی شواہد سامنے نہیں آئے کہ انہوں نے گراؤنڈ زیرو پر امدادی کارروائیوں کے لیے اپنے کارکنوں کی بڑی ٹیم بھیجی تھی نیویارک فائر ڈپارٹمنٹ کے ایک سابق عہدیدار کے مطابق اگر ٹرمپ واقعی 100 کارکنوں کی ٹیم لے کر وہاں پہنچے ہو تے تو اس کا کوئی نہ کوئی ریکارڈ ضرور موجود ہوتا۔

    ٹرمپ نے اپنی حالیہ گفتگو میں یہ بھی کہا کہ ون لبرٹی پلازا ’اب بھی چرچراتی ہے‘، تاہم سی این این کے مطابق اس دعوے کی بھی کوئی بنیاد سامنے نہیں آئی، عمارت اکتوبر 2001 میں دوبارہ کھول دی گئی تھی اور آج بھی معمول کے مطابق زیر استعمال ہے۔

    ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بھی اپنے دعوے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے بیان کی گئی تمام باتیں درست تھیں انہوں نے اس واقعے کی حقیقت پر سوال اٹھانے والے صحافیوں اور میڈیا آرگنائزیشنز کو فیک نیوز کی فیکٹریاں قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ “وہ میرے 3 بار صدارتی انتخابات جیتنے پر غصے میں ہیں۔

  • امریکی حکومت نااہل ترین لوگوں کے ہاتھ میں ہے، جارج کلونی کی ٹرمپ پر تنقید

    امریکی حکومت نااہل ترین لوگوں کے ہاتھ میں ہے، جارج کلونی کی ٹرمپ پر تنقید

    آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار جارج کلونی نے وینس فلم فیسٹیول کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس وقت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو حکومت چلانے کیلئے سب سے کم اہل ہیں۔

    آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار کو وینس فلم فیسٹیول میں فلمی دنیا میں طویل خدمات کے اعتراف میں گولڈن لائن فار لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا،اس دوران امریکا کی موجودہ صورتحال سے متعلق سوال پر جارج کلونی نے کہا کہ ملک اس وقت ایک افسوسناک دور سے گزر رہا ہے۔

    امریکی حکومت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کلونی نے کہا کہ انہیں موجودہ صورتحال پر ’شرمندگی‘ محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے سیاسی اصطلاح ’کاکسٹو کریسی‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مراد ایسا نظام حکومت ہے جو ’کم ترین اہلیت رکھنے والے لوگوں‘ کے ہاتھ میں ہو، اور شاید اس وقت امریکا بھی اسی کیفیت سے گزر رہا ہے، تاہم ’ہم اس دور سے نکل جائیں گے‘۔

    معروف ہالی وڈ اداکار جارج کلونی نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکا اپنی تاریخ کے ایک ’بدقسمت وقت‘ سے گزر رہا ہے، جہاں حکومت ان کے بقول ’کم ترین اہلیت رکھنے والے لوگوں‘ کے ہاتھ میں ہے 65 سالہ اداکار نے تاہم امید ظاہر کی کہ امریکا اس مشکل دور سے نکل آئے گا۔

    کلونی نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کو حکومت کے لیے ’چیک اینڈ بیلنس‘ کا ذریعہ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ 2028 تک ملک میں کسی حد تک معمول کی صورتحال بحال ہو سکتی ہے۔ خود کو پُرامید شخص قرار دیتے ہوئے انہوں نے 1968 کے پُرتشدد دور کو یاد کیا، جب امریکا کے کئی شہروں میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے، مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور بوبی کینیڈی ایک ہی سال قتل ہوئے اور امریکی کیپیٹل کے گرد ٹینک تعینات کیے گئے تھے۔

  • ٹرمپ کی مقبولیت سیاسی کیریئر کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

    ٹرمپ کی مقبولیت سیاسی کیریئر کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت ان کے سیاسی کیریئر کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے-

    رائٹرز اور اِپسوس کے تازہ سروے کے مطابق صرف 33 فیصد امریکی شہری وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن ہیں،یہ مسلسل تیسرا سروے ہے جس میں ٹرمپ کی منظوری کی شرح 33 فیصد ریکارڈ کی گئی،موجودہ شرح ان کی دوسری صدارتی مدت کے ابتدائی دنوں میں حاصل ہونے والی 47 فیصد منظوری کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔

    سروے کے نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ریپبلکن پارٹی نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی،صدر ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت کو ریپبلکن امیدواروں کے لیے ممکنہ سیاسی بوجھ قرار دیا جارہا ہے۔

    دوسری جانب ڈیموکریٹک ووٹرز انتخابات کے حوالے سے ریپبلکنز کے مقابلے میں زیادہ پرجوش دکھائی دیتے ہیں،سروے میں 46 فیصد ڈیموکریٹس نے کہا کہ وہ نومبر کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے بہت زیادہ پرجوش ہیں، جبکہ ریپبلکنز میں یہ شرح صرف 31 فیصد رہی۔

    آزاد ووٹرز میں بھی ڈیموکریٹس کو واضح برتری حاصل ہے اگر کانگریس کے انتخابات آج ہوں تو 36 فیصد آزاد ووٹرز نے ڈیموکریٹس جبکہ صرف 22 فیصد نے ریپبلکن امیدواروں کو ووٹ دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔

    ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اور اس کے معاشی اثرات ہیں سروے کے مطابق صرف 36 فیصد امریکی ایران کے خلاف جنگ میں ٹرمپ کی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں۔

    ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے پہلے ہی مہنگائی سے پریشان امریکی عوام کی مشکلات بڑھا دی ہیں روزمرہ اخراجات کے معاملے پر عوامی ناراضی اس سے بھی زیادہ واضح ہے، تقریباً 71 فیصد امریکی شہریوں نے کہا کہ وہ زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے کے ٹرمپ کے طریقہ کار سے ناخوش ہیں۔

    حیران کن طور پر ان میں تقریباً 40 فیصد ریپبلکن ووٹرز بھی شامل ہیں، معاشی پالیسی کے میدان میں بھی ڈیموکریٹس نے طویل عرصے بعد ریپبلکنز پر برتری حاصل کی ہے گزشتہ ایک ماہ سے سروے میں رجسٹرڈ ووٹرز مسلسل ڈیموکریٹک پارٹی کو معیشت کے حوالے سے بہتر خیالات رکھنے والی جماعت قرار دے رہے ہیں۔

    تقریباً ایک دہائی میں یہ پہلا موقع ہے کہ ڈیموکریٹس نے اس معاملے پر ریپبلکنز کو پیچھے چھوڑا ہے رائٹرزاور اِپسوس کا 4 روزہ سروے ملک بھر میں 1,167 بالغ امریکیوں سے کیا گیا، جس میں تقریباً 3 فیصد پوائنٹس کا ممکنہ فرق موجود ہے سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کو مہنگائی، جنگ اور عوامی اعتماد کی بحالی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

  • ایران کا ساتھ دینے والے ہر ملک کے خلاف سنگین کارروائی ہوگی، ٹرمپ کی دھمکی

    ایران کا ساتھ دینے والے ہر ملک کے خلاف سنگین کارروائی ہوگی، ٹرمپ کی دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو کسی بھی قسم کی مدد یا سہارا فراہم کرنے والے ممالک کیخلاف غیر معمولی پیمانے پر معاشی جنگ اور تنہائی کی پالیسی اختیار کی جائے گی۔

    ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ جو بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کے ذریعے ایران کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرے گا، اسے ’’بہت بڑے معاشی نتائج‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا،تاہم امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ دھمکی پر عمل درآمد کی صورت میں واشنگٹن کن مخصوص اقدامات کا سہارا لے گا اور نہ ہی کسی ملک کا نام لیا،ان کے بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ ان ممالک کو بھی امریکی دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے جو ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    واضح رہے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ میں امریکا بھی شامل رہا ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ خلیجی مما لک بھی اس تنازع کے اثرات سے متاثر ہوئے ہیں، جنگ کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت پر اثرانداز ہونے کی صلا حیت کا مظاہرہ کیا، جس سے عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تجارت شدہ تیل کی مقدار اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی تھی۔

    امریکا اور ایران نے اپریل اور جون میں جنگ بندی کے دو معاہدوں کا اعلان کیا تھا، جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر لانا اور تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا تھا، تاہم دونوں معاہدے جلد ہی ناکام ہوگئے،ادھر متحدہ عرب امارات نے منگل کو ایران کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں، کار وباری لین دین اور مالی معاملات غیر معینہ مدت تک معطل کرنے کا اعلان کیایو اے ای کے مطابق ایران سے داغے گئے دو میزائل سمندر میں گر ے تھے، تاہم ایران نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا،چین ایران سے برآمد ہونے والے 80 فیصد سے زائد تیل کا خریدار ہےمبصرین کے مطابق بیجنگ پر مزید معاشی دباؤ ڈالنے سے امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

  • ٹرمپ کا شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کا اعلان

    ٹرمپ کا شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ رواں سال شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے دوبارہ ملاقات کریں گے-

    ٹرمپ نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ کم جونگ اُن کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور دونوں رہنماؤں کے درمیان بہتر تعلقات کو مثبت قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ وہ کم جونگ اُن سے ملاقات کے لیے کسی مخصوص وقت کے پابند نہیں اور ان کے فیصلے پر امریکا کے وسط مدتی انتخابات کا کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔

    امریکی صدر نے کہا کہ میں کم جونگ اُن کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں اور جب تک ہمارے (امریکا) پاس ایک سمجھدار صدر ہے وہ ٹھیک رہیں گے ہاں اگر کوئی بیوقوف نے صدارت سنبھال لی تو پھر کم جونگ بھی ویسے اچھے نہیں رہیں گے،یہ حقیقت کہ میری ان کے ساتھ بنتی ہے اور یہ اچھی بات ہے بری نہیں۔

    اس کے بعد انہوں نے شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کم جونگ اُن کے پاس 57 ’بہت طاقتور‘ جوہری ہتھیار ہیں، شمالی کوریا کو کبھی جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میں صدر ہوتا تو میں ایسا نہیں ہونے دیتا لیکن اب اس کے پاس یہ ہتھیار موجود ہیں۔

    ٹرمپ کے کم جونگ اُن سے دوبارہ رابطے کے اشارے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انہوں نے امریکی محکمہ دفاع کو جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں محدود کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    ٹرمپ نے اتوار کو سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ان مشقوں سے شمالی کوریا کو ایک مکمل طور پر نامناسب اور جارحانہ پیغام ملتا ہے۔ ان کے مطابق جب سے وہ امریکا کے صدر ہیں اور شمالی کوریا نے ان کے ساتھ دھمکی آمیز رویہ اختیار نہیں کیا اور احترام کا مظاہرہ کیا ہے۔

    امریکا اور جنوبی کوریا کی سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں شمالی کوریا کے لیے طویل عرصے سے حساس معاملہ رہی ہیں۔ پیانگ یانگ (شمالی کوریا کا دارالخلافہ) انہیں حملے کی تیاری قرار دیتا ہے جبکہ واشنگٹن اور سیول (جنوبی کوریا) کا مؤقف ہے کہ یہ مشقیں دفاعی نوعیت کی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ان مشقوں کو محدود کرنے کے امریکی فیصلے نے جنوبی کوریا میں بھی تشویش پیدا کی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 57 جوہری ہتھیاروں کا عدد بتانا خاصا غیر معمولی ہے کیونکہ شمالی کوریا کے جوہری ذخیرے کی درست تعداد طویل عرصے سے ایک اندازہ ہی رہی ہے۔

    جون 2026 میں اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے اندازہ لگایا تھا کہ شمالی کوریا نے ممکنہ طور پر تقریباً 60 جوہری وارہیڈز تیار کر رکھے ہیں جبکہ اس کے پاس کم از کم مزید 30 جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے کافی فِسائل مواد موجود ہے،اس لیے ٹرمپ کا 57 کا عدد ماہرین کے حالیہ اندازوں سے بہت دور نہیں تاہم اسے شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کی حتمی یا آزادانہ طور پر تصدیق شدہ تعداد نہیں سمجھا جا سکتا۔

    شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا سے نشر کیے گئے ایک بیان میں کم یو جونگ نے کہا کہ شمالی کوریا کے حوالے سے امریکا کی دشمنانہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور امریکا اور اس کے اتحادی اس وقت بھی شمالی کوریا کے خلاف بھرپور فوجی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں،اپنے بیان میں کم جونگ اُن کی بہن نے شمالی کوریا کے رہنما اور ٹرمپ کے درمیان تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے دل میں کم جونگ اُن کے لیے ذاتی طور پر اچھی یاد یں اور مثبت جذبات موجود ہیں۔

  • ایران کے خلاف جنگ میں ساتھ نہ دینے پر ٹرمپ کی جنوبی کوریا کے ساتھ  مشترکہ فوجی مشقیں کم کرنے کی ہدایت

    ایران کے خلاف جنگ میں ساتھ نہ دینے پر ٹرمپ کی جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کم کرنے کی ہدایت

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ نہ دینے پر جنوبی کوریا سے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے پینٹاگون کو جنوبی کوریا کے ساتھ جاری مشترکہ فوجی مشقیں کم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا کہ اب مشقیں مکمل طور پر منسوخ کرنا ممکن نہیں، تاہم وہ اس بات سے خوش نہیں کہ امریکا نے ان میں شرکت پر پہلے رضامندی ظاہر کی تھی،انہوں نے جنوبی کوریا کی جانب سے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں شامل نہ ہونے کے فیصلے پر بھی ناراضی کا اظہار کیا۔

    امریکی صدر نے لکھا کہ یہ مشقیں نہ صرف مہنگی ہیں بلکہ ایک ایسے ملک کے لیے انتہائی نامناسب اور مخالفانہ پیغام بھی بھیجتی ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے غیر دھمکی آمیز اور احترام کا رویہ رکھتا ہے۔

    ٹرمپ نے موجودہ فوجی مشقوں کے معاملے میں جنوبی کوریا کے ایران سے متعلق مؤقف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا انہوں نے لکھا، “میں نے حال ہی میں جنوبی کوریا کے صدر سے پوچھا کہ کیا وہ اسلامی جمہوریہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی کوشش میں ہمارے ساتھ شامل ہونا چاہیں گے، اور انہوں نے کہا کہ نہیں شکریہ-

    ’اولچی فریڈم شیلڈ‘ نامی یہ سالانہ فوجی مشقیں 17 سے 27 اگست تک جاری رہنے والی ہیں، جن میں جنوبی کوریا کے تقریباً 18 ہزار فوجی حصہ لے رہے ہیں،شقوں میں ڈرونز کے خطرات سے نمٹنے، جی پی ایس سگنلز میں خلل ڈالنے اور سائبر حملوں سے نمٹنے کی تربیت شامل ہے تاکہ شمالی کوریا کی بدلتی ہوئی فوجی صلاحیتوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

    جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ فوجی مشقیں پیر کو طے شدہ پروگرام کے مطابق شروع ہوگئی ہیں، تاہم ادارے نے ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر اور وزارت دفاع نے بھی فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

    امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان نے اس معاملے پر سوالات کا جواب دینے کے بجائے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کرنے کو کہا، جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی مشقوں کے مستقبل سے متعلق فوری طور پر کوئی وضاحت نہیں دی۔

    امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان فوجی مشقوں کا معاملہ کئی سال سے اختلاف کا باعث رہا ہے ٹرمپ اپنی پہلی صدارت کے دوران بھی ان مشقوں کو ”اشتعال انگیز“ اور مہنگا قرار دیتے رہے ہیں،وہ جنوبی کوریا میں تعینات تقریباً 28 ہزار 500 امریکی فوجیوں کے اخراجات اور خطے میں ان کے کردار پر بھی سیئول کے ساتھ اختلاف کرچکے ہیں،جبکہ شمالی کوریا بھی امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کی مسلسل مخالفت کرتا ہے اور انہیں اپنے خلاف ممکنہ حملے کی تیاری قرار دیتا ہے۔

    اس فیصلے کو بعض ماہرین ٹرمپ کی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں اسٹمسن سینٹر کے تھنک ٹینک کے 38 نارتھ پروگرام کی سربراہ جینی ٹاؤن نے کہا کہ یہ فیصلہ ممکنہ طور پر پیانگ یانگ کے ساتھ سفارتی موقع پیدا کرنے کی ایک بڑی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے، جس کی ٹرمپ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے مسلسل خواہش رکھتے ہیں،فیصلے کا غیر واضح اور اچانک انداز شمالی کوریا پر زیادہ اثر ڈالنے کا امکان کم ہے۔

    ٹرمپ اور کم جونگ اُن کے تعلقات ماضی میں کئی بار اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں ٹرمپ نے ایک وقت میں کم جونگ اُن کو ”لٹل راکٹ مین“ قرار دیا تھا، جبکہ کم جونگ اُن نے بھی ٹرمپ کے خلاف سخت زبان استعمال کی تھی،بعد میں دونوں رہنماؤں کے درمیان تین سربراہی ملاقاتیں ہوئیں ٹرمپ نے ایک موقع پر کم جونگ اُن کے ساتھ خطوط کے تبادلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے تھے تاہم ان ملاقاتوں کے باوجود شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل پروگرام میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔

  • یہ ایران ہے، اس کے محافظ آپ کی ٹانگیں توڑ دیں گے،ایرانی آرمی چیف کی ٹرمپ کو وارننگ

    یہ ایران ہے، اس کے محافظ آپ کی ٹانگیں توڑ دیں گے،ایرانی آرمی چیف کی ٹرمپ کو وارننگ

    ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے آبنائے ہرمزکو امریکی علاقہ قرار دینےکے ٹرمپ کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے ۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کریں گے،جس پر ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے آبنائے ہرمزکو امریکی علاقہ قرار دینےکے ٹرمپ کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے –

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ امریکی افواج کو عملاً یہاں سے نکال دیا گیا ہے اور اب انہیں خلیج، بحیرہ عمان یا آبنائے ہرمز میں داخل ہونےکی اجازت نہیں ہےایسی باتوں پر مذاق کرنا بھی بڑی غلطی ہے، کیونکہ یہ ایران ہے، اس کے محافظ آپ کی ٹانگیں توڑ دیں گےخطے میں امریکی فوجی اڈوں کو دوبارہ ان کی سابقہ پوزیشن میں واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ امن مفاہمتی یادداشت پر طاقت اور وقار کے ساتھ اتفاق کیا،ایران نے سابق ایرانی رہبر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اصولوں کو بھی مدنظر رکھا،معاہدہ دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے مضبوط مؤقف کے ساتھ کیا گیا،معاہدے کو ماہرین کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد تیار کیا گیا۔

    دوسری جانب اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ میں فوجی اور سیاسی محاذوں پر کامیابی حاصل کی،امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ میں 9 اہداف مقرر کیے تھے، دونوں کسی ایک مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے،امریکا اور اسرائیل کو جنگ میں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا،سفارتی محاذ پر ہونے والا معاہدہ ایران کے لیے باعثِ فخر ہے۔

  • ٹرمپ انتظامیہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نیا ٹیرف عائد

    ٹرمپ انتظامیہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نیا ٹیرف عائد

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا کے 60 تجارتی شراکت دار ممالک سے آنے والی اشیا پر نئی درآمدی ڈیوٹیاں عائد کر دی ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے یہ اقدام جبری مشقت کے خلاف قوانین پر عمل درآمد میں مبینہ کمزوریوں کا الزام لگاتے ہوئے کیا ہے نئی پالیسی کے تحت زیادہ تر ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد جبکہ بعض ممالک پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیا گیا ہے یہ اقدامات عالمی سپلائی چین میں جبری مشقت کے خاتمے اور امریکی کارکنوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہیں، تاہم کئی ممالک نے ان فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کر تے ہوئے انہیں غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔

    نئے ٹیرف ایسے وقت میں نافذ کیے گئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کیا گیا عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف ختم ہو گیا تھا امریکی حکام کے مطابق نئی ڈیوٹیاں جمعہ کو رات 12 بج کر ایک منٹ پر نافذ ہوئیں، جبکہ راستے میں موجود سامان کو 28 جولائی تک رعایت دی گئی ہے۔

    امریکا کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابند ی کا قانون رکھتا ہے اور اس پر سختی سے عمل کرتا ہے اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے تجارتی شراکت دار بھی اسی طرح کے اقدامات کریں آج کا اقدا م انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کو درست کرنے کی طرف ایک قدم ہے تاکہ دنیا بھر کے کارکنوں کی بہتری ممکن ہو سکے۔

    نئی ٹیرف پالیسی کے تحت ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، بھارت، انڈونیشیا، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور دیگر کئی ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے،یورپی یونین، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان اور سوئٹزرلینڈ کے لیے ٹیرف کی شرح اس طرح مقرر کی گئی ہے کہ ان کے پہلے سے موجود درآمدی ٹیکس شامل کرنے کے بعد مجموعی شرح تقریباً 10 یا 12.5 فیصد بنتی ہے۔

    دیگر 38 ممالک، جن میں ویتنام اور چین بھی شامل ہیں، کی مصنوعات پر 12.5 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا ہے امریکا نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سنکیا نگ کے ایغور مسلمانوں سے متعلق جبری مشقت کے معاملات میں ملوث ہے، تاہم بیجنگ ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

    چین کے حوالے سے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان نومبر 2025 میں ہونے والی تجارتی مفاہمت کے تحت چین پر عائد ٹیرف دوبارہ 20 فیصد تک بڑھانے کا ارادہ ہے، تاہم اس سے زیادہ نہیں کیا جائے گا۔

    اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 50 فیصد تک کے ٹیرف عائد کیے تھے لیکن امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں انہیں غیر مؤثر قرار دے دیا تھا جس کے بعد اس بار ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا کے ٹریڈ ایکٹ 1974ء کے سیکشن 301 کے تحت نئے ٹیرف لگا دیے ہیں اور اس اقدام کو قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

    امریکا کے ٹریڈ ایکٹ 1974ء کے سیکشن 301 کے تحت امریکا ایسے ممالک جن میں جبری مشقت پر پابندی کے کچھ قوانین نافذ کیے ہیں، ان پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرے گا اور جن ممالک میں جبری مشقت پر پابندی کے قوانین بالکل نافذ نہیں ہیں، ان پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

    کئی ممالک نے امریکی اقدام پر فوری ردعمل ظاہر کیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف کاجا کالاس نے کہا کہ یورپی یونین ان نئے ٹیرف کو حیران کن سمجھتی ہے اور امریکا کی جانب سے دی گئی وجہ قابل قبول نہیں،اگر آپ ہمارے مزدور قوانین کا امریکا کے قوانین سے موازنہ کریں تو ہمارے پاس ملازمین کے لیے تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں اور بہتر کام کے حالات موجود ہیں، اس لیے یہ فیصلہ مضبوط بنیاد پر مبنی نہیں لگتا۔

    آسٹریلیا اور برازیل نے بھی امریکی ٹیرف کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے انہیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ ناروے نے کہا کہ ان اقدامات کی کوئی واضح وجہ موجود نہیں۔

    کینیڈا کے وزیر برائے امریکی تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ کینیڈا اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری رابطہ جاری رکھے گا انہوں نے کہا کہ ہم آنے والے ہفتوں میں امریکا کے ساتھ اس معاملے اور دیگر مسائل پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ممالک کے شہریوں کو فائدہ پہنچ سکے۔

    ٹرمپ انتظامیہ کی سابق تجارتی مشیر کیلی این شا نے کہا کہ نئی ٹیرف پالیسی زیادہ تر انہی اقدامات کے مطابق ہے جن کا پہلے سے اندازہ تھا، تاہم کچھ تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں، جن میں تقریباً 471 مصنوعات کو ٹیرف سے استثنیٰ دینا شامل ہے میرے خیال میں معاشی اثرات کے لحاظ سے یہ صورتحال زیادہ تبدیل نہیں ہوئی۔ یورپی یونین جیسے شراکت داروں نے ٹیرف کی حد مقرر کرنے کے لیے مذاکرات کیے تھے، جس کی وجہ سے نئی شرحیں پہلے کے مقابلے میں کم رہیں گی۔

    امریکی حکام کے مطابق تیل، گیس، کھاد، بعض غذائی اشیا، طیارے اور ان کے پرزے، اہم معدنیات اور کچھ ایسی مصنوعات جن پر پہلے ہی قومی سلامتی کے قوانین کے تحت ٹیرف عائد ہے، نئی ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

  • ٹرمپ کا ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پرغور

    ٹرمپ کا ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پرغور

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پرغور جاری ہے، جو پہلے ہونے والی کارروائیوں سے کہیں زیادہ بڑا ہوگا۔

    جمعرات کو امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر نئی فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، جو آپریشن ایپک فیوری کے دوران کیے گئے حملوں سے بھی زیادہ شدید ہو سکتا ہےمیں پہلے سے کہیں زیادہ بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں، میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور ہم اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ ابھی اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہوں نے کسی ٹائم لائن کا اعلان کیا۔

    رپورٹ کے مطابق دو امریکی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ تاحال صدر ٹرمپ کی جانب سے کوئی حتمی حکم جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی امریکی فوج کو نئی کارروائی کے لیے کوئی نیا حکم ملا ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ کے اندر نئی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے تاہم ان کے بقول امریکا کو ایران کے خلاف کارروائی کے لیے کسی دوسرے ملک کی ضرورت نہیں، اگر اسرائیل اس کارروائی میں شامل ہوتا ہے تو اس کے نتائج بھی سامنے آئیں گے، جس سے انہوں نے ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کی طرف اشارہ کیا، ایرانی حکام مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن اس وقت وہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار نہیں ہیں ،ایران نے ابھی تک اتنی تکلیف نہیں اٹھائی کہ وہ معاہدے پر آمادہ ہو جائے،

    رپورٹ کے مطابق خطے میں ثالثی کی کوششوں سے آگاہ دو ذرائع نے بتایا کہ ایرانی قیادت نے اب تک پیش کی گئی تازہ تجویز قبول نہیں کی۔ ایک ذریعے کے مطابق مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں لیکن ایران کی جانب سے تعاون نہیں کیا جا رہا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 12 روز کے دوران امریکا نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کو روکنے کے لیے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارر و ائیوں میں اضافہ کیا ہے تاہم ایران نے بھی اپنے حملے تیز کر دیے ہیں اور کسی قسم کی پسپائی کے آثار نظر نہیں آئے۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں جہازوں پر دوبارہ حملہ کیا تو امریکا اس کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرائے گا، حوثی ایران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں، اس لیے ایسی صورت میں ایران اور حوثیوں دونوں کو سخت فوجی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آئندہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی تعزیتی تقریب میں شرکت کرنا چاہتے ہیں،نیتن یاہو کے ساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے ہیں اور اگر وہ واشنگٹن آئے تو ان سے ملاقات بھی کریں گے-