Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے امکانات موجود ہیں،ٹرمپ

    ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے امکانات موجود ہیں،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے امکانات موجود ہیں، ایران نے جو کچھ کیا ہے اب تک ایران نے اس کی زیادہ بڑی قیمت ادا نہیں کی۔

    ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے، آبنائے ہرمز کی ناکا بندی انتہائی دوستانہ ہے مجھے ایران سے ڈیل کی تجویز سے آگاہ کر دیا گیا ہے، مجھے اس تجویز کے اصل الفاظ سے جلد آگاہ کیا جائے گا، جلد ہی جائزہ لوں گا، یہ سوچ نہیں سکتا کہ ایران کی تجاویز قابل قبول ہوں گی، کہ انہوں نے گزشتہ 47 سالوں میں انسانیت اور دنیا کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کی کوئی بڑی قیمت ادا نہیں کی ہے۔ جرمنی سے 5 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکاروں کو نکال رہے ہیں۔

    دوسری جانب عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے بعد اپنے نئے ہدف کے طور پر کیوبا کا نام لیا ہے اور امریکی جنگی پالیسی پر کھل کر گفتگو کی ہے فلوریڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران جنگ کے بعد واپسی پر امریکی بحریہ کا ایک بڑا طیارہ بردار جہاز کیوبا کے ساحل کے قریب تعینات کیا جا سکتا ہے، جنگی بحری بیڑے کی تعیناتی کی وجہ سے کیوبا خود ہی ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوجائے گا اور امریکا اس ملک کا کنٹرول سنبھال لے گا۔ یہ سب بہت جلد ممکن ہے۔

  • ٹرمپ نے  ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنےکی روسی پیشکش مسترد کردی

    ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنےکی روسی پیشکش مسترد کردی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنے اور اسے روس منتقل کرنے کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

    پیوٹن نے ایران کے ساتھ جوہری تنازع کو حل کرنے کے لیے یہ تجویز دی تھی، لیکن ٹرمپ نے اسے ٹھکرا دیا اور پیوٹن پر زور دیا کہ وہ اس کے بجائے یوکرین میں جنگ ختم کرنے پر توجہ دیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیوٹن سے کہا: "میں چاہوں گا کہ آپ یوکرین میں جنگ ختم کرنے میں شامل ہوں، میرے لیے، یہ زیادہ اہم ہو گا”۔

    پیوٹن نے ایران کے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم (جسے ٹرمپ اکثر "گرد” یا ‘dust’ کہتے ہیں) کے ذخیرے کو روس منتقل کرنے کی پیشکش کی تھی تاکہ ایران کے ساتھ جوہری بحران کو کم کیا جا سکے۔

    ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کی ترجیح یوکرین کے تنازع کا خاتمہ ہے، نہ کہ ایران کے جوہری مواد کے انتظامات میں روس کی مدد لینا، یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران نے 2018ء میں امریکا کے جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد 11 ٹن سے زائد افزودہ یورینیم جمع کر لیا ہے اور 2025ء کے آخر میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے بعد سے کشیدگی جاری ہے۔

    یہ بات چیت میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران سامنے آئی۔

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور یوکرین کے تنازع پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ کال تقریباً 90 منٹ سے زائد جاری رہی اور دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو دو ٹوک اور پیشہ ورانہ نوعیت کی تھی۔ اس گفتگو کے دوران صدور نے خاص طور پر ایران کی صورتحال اور خلیج فارس کے معاملات پر توجہ مرکوز کی۔

    یوری اوشاکوف کے مطابق ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی پیوٹن کا ماننا ہے اس فیصلے سے مذاکرات کو ایک موقع ملے گا اور مجموعی طور پر خطے کی صورتحال کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

    تاہم پیوٹن نے اس خطرے سے بھی آگاہ کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا تو اس کے نتائج نہ صرف ایران اور اس کے پڑوسیوں بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے انتہائی تباہ کن ہوں گےانہوں نے واضح کیا کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ہر ممکن سفارتی مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور یہ رابطہ ماسکو کی پہل پر کیا گیا تھا۔

    دونوں رہنماؤں نے یوکرین کی جنگ پر بھی تبادلہ خیال کیا جو سن 2022 میں روسی حملے کے بعد اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہےاوشاکوف نے بتایا کہ ٹرمپ کی درخواست پر ولادیمیر پیوٹن نے فرنٹ لائن کی تازہ صورتحال بیان کی جہاں ان کے بقول روسی افواج اسٹریٹجک برتری حاصل کیے ہوئے ہیں اور دشمن کو پیچھے دھکیل رہی ہیں۔

    یوری اوشاکوف کا کہنا تھا کہ ولادیمیر پیوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے زیلنسکی کی قیادت میں کیف حکومت کے رویے کے بارے میں تقریباً ایک جیسی رائے کا اظہار کیا، جس کے مطابق یورپی ممالک کی حمایت سے اس تنازع کو طول دینے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔

    یوکرین میں جاری اس جنگ نے اب تک ہزاروں شہریوں کی جانیں لے لی ہیں اور لاکھوں افراد کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہےگفتگو کے دوران پیوٹن نے ’یومِ فتح‘ کی تقریبات کے موقع پر جنگ بندی کا اعلان کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جس کی ٹرمپ نے فعال طور پر حمایت کی۔

    ٹرمپ نے اس بات کو نوٹ کیا کہ یہ دن دونوں ممالک کی مشترکہ فتح کی علامت ہے۔ روس ہر سال 9 مئی کو دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی فتح کی یاد میں یومِ فتح مناتا ہے، تاہم یوکرین کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خطرے کے پیشِ نظر اس بار ماسکو میں ہونے والی فوجی پریڈ کو محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

  • ٹرمپ کو ایران جنگ سے متعلق  درست معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو ایران جنگ سے متعلق درست معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں،جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ کی صورتحال کے بارے میں مکمل طور پر درست معلومات فراہم نہیں کر رہے ہیں۔

    ‘دی اٹلانٹک‘ کی رپورٹ کے مطابق جہاں پینٹاگون کے حکام صدر ٹرمپ کو یہ بتا رہے ہیں کہ امریکی فوج نے ایرانی فضائیہ، بحریہ اور دفاعی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، وہیں جے ڈی وینس ان دعوؤں کی حقیقت پر سوال اٹھا رہے ہیں جے ڈی وینس نے بند کمرہ اجلاسوں میں بار بار یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا صدر ٹرمپ کے سامنے پیش کی جانے والی جنگ کی خوش کن تصویر واقعی سچ ہے؟

    نائب صدر کو خاص طور پر اس بات پر تشویش ہے کہ پینٹاگون شاید امریکی میزائلوں کے ذخیرے میں ہونے والی بڑی کمی کو چھپا رہا ہےوہ سمجھتے ہیں کہ اگر امریکا کا اسلحہ اسی طرح ختم ہوتا رہا تو مستقبل میں چین، شمالی کوریا یا روس جیسے بڑے حریفوں کے ساتھ ممکنہ ٹکراؤ کی صورت میں امریکا کے پاس دفاع کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔

    جے ڈی وینس نے عوامی سطح پر تو وزیر دفاع کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ پیٹ ہیگستھ بہترین کام کر رہے ہیں، لیکن نجی محفلوں میں وہ بہت گہرے اسٹریٹیجک سوالات پوچھ رہے ہیں ہیگستھ کا ٹی وی پر کام کرنے کا تجربہ انہیں یہ جاننے میں مدد دیتا ہے کہ صدر ٹرمپ کیا سننا چاہتے ہیں، اور وہ اکثر صبح آٹھ بجے بریفنگ دیتے ہیں جب صدر فاکس نیوز دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

    ایک سابق امریکی اہلکار نے بتایا کہ پیٹ اپنی ٹی وی مہارت کی وجہ سے خوب جانتے ہیں کہ صدر سے کس طرح بات کرنی ہے اور وہ کیا سوچتے ہیں جنگ کے نقصانات کے بارے میں بھی پینٹاگون اور انٹیلی جنس رپورٹس میں واضح فرق نظر آتا ہے۔

    جہاں ہیگستھ کا دعویٰ ہے کہ ایرانی فوج تباہ ہو چکی ہے اور ایرانی فضائی حدود پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے، وہیں خفیہ معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ تہران اب بھی اپنی دو تہائی فضائیہ اور میزائل داغنے کی بڑی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہےاس کے علاوہ ایران کی وہ چھوٹی اور تیز رفتار کشتیاں بھی سلامت ہیں جو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے اور عالمی تجارت کو روکنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز نے بھی خبردار کیا ہے کہ امریکا اپنے اہم ترین اسلحے کا آدھا حصہ پہلے ہی استعمال کر چکا ہے۔

    جے ڈی وینس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شروع ہی سے ایران کے خلاف اس فوجی کارروائی کے مخالف تھے اور انہوں نے خبردار کیا تھا کہ یہ جنگ بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور علاقائی افراتفری کا باعث بنے گی ان کا موقف رہا ہے کہ امریکہ کو اپنے وسائل گھر پر خرچ کرنے چاہئیں۔

    رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ ان کا سیاسی مستقبل اور 2028 کے صدارتی انتخاب میں ان کی کامیابی کے امکانات اس ایران جنگ کے نتیجے سے جڑے ہوئے ہیں یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں خود شرکت کی تھی تاکہ کسی طرح اس تنازع کا پرامن حل نکالا جا سکے۔

  • میری والدہ کو  کنگ چارلس پر کرش تھا،صدر ٹرمپ

    میری والدہ کو کنگ چارلس پر کرش تھا،صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بادشاہ چارلس کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ میری والدہ کنگ چارلس کے بچپن سے ہی انہیں پسند کرتی تھیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برطانوی بادشاہ چارلس سوم اہلیہ ملکہ کامیلا کے ہمراہ 4 روزہ سرکاری دورے پر امریکا پہنچے جہاں صدر ٹرمپ نے ان کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد کی، برطانیہ کے شاہ چارلس سوم اور ملکہ کامیلا کی تقریب میں آمد پر فوجی بینڈ نے دونوں ممالک کے قومی ترا نے بجائے جب کہ 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔

    اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے سلامی پیش کی اور شاہ چارلس ان کے ہمراہ اسٹیج پر موجود رہے جب کہ امریکی خاتون اوّل میلانیا ٹرمپ بھی شاہی جوڑے کے استقبال کے لیے موجود تھیں تقریب میں آمد پر شاہ چارلس اور ملکہ کامیلا نے امریکی کابینہ کے اہم اراکین سے مصافحہ کیا، جن میں نائب صدر اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے بعد ازاں ٹرمپ، میلانیا، شاہ چارلس اور ملکہ کمیلا نے مشترکہ تصاویر بھی بنوائیں۔

    تقریب کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں بارش کے حوالے سے مذاق کرتے ہوئے اسے برطانوی موسم قرار دیا جس پر شرکا نے قہقہے لگائے، انہوں نے اپنے گزشتہ دورہ ونڈسر کاسل کو بھی یاد کیا اور شاہی خاندان کی میزبانی کو سراہا۔

    وائٹ ہاؤس میں بادشاہ چارلس کے اعزاز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکیوں کے لیے سب سے قریبی دوست برطانیہ کے سوا کوئی اور ملک نہیں ہے صدر ٹرمپ نے برطانوی قوم کے اعلیٰ کردار اور مشترکہ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی آزادی کی جدوجہد صدیوں پر محیط مشترکہ کوششوں کا نتیجہ تھی۔

    امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ میری والدہ کنگ چارلس کے بچپن سے ہی انہیں پسند کرتی تھیں مجھے یاد ہے کہ والدہ واضح طور پر کہا کرتی تھیں کہ چارلس بہت پیارے ہیں، میری والدہ کو چارلس پر کرش تھا، کیا آپ یقین کریں گے،ان کی والدہ کو بادشاہ چارلس کی والدہ بھی پسند تھی، جب بھی وہ انہیں ٹی وی پر دیکتھی تھیں مجھے مخاطب کرکے کہتی تھیں کہ دیکھو ڈونلڈ وہ کتنی خوبصورت ہیں۔ میری والدہ کو چارلس پر کرش تھا! کیا آپ یقین کر سکتے ہیں؟ میں سوچتا ہوں وہ اس وقت کیا سوچ رہی ہوں گی۔

    صدر ٹرمپ کے اس جملے پر تقریب میں موجود مہمانوں نے قہقہے لگائے، جبکہ کنگ چارلس بھی مسکراتے ہوئے دکھائی دیے اور انہوں نے ہاتھ اٹھا کر اس تبصرے کا جواب دیا۔

  • امریکی صدر ٹرمپ پر حملے کے ملزم پر فردِ جرم عائد، کتنی سخت سزا ہو سکتی ہے؟

    امریکی صدر ٹرمپ پر حملے کے ملزم پر فردِ جرم عائد، کتنی سخت سزا ہو سکتی ہے؟

    واشنگٹن میں ایک سالانہ تقریب کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے الزام میں گرفتار 31 سالہ ملزم کول ٹامس ایلن پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔

    پیر کے روز واشنگٹن کی وفاقی عدالت میں پہلی پیشی کے موقع پر ملزم نے نیلے رنگ کا جیل کا لباس پہن رکھا تھا اور اس کے ہاتھ پشت پر ہتھکڑیوں سے بندھے ہوئے تھے اس حملے کو امریکی صدر کو قتل کرنے کی ایک ناکام کوشش قرار دیا گیا ہے اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزم کو عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    استغاثہ کی وکیل جوسلین بیلانٹائن نے عدالت میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس شخص نے ریاستہائے متحدہ کے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی ہےکیلیفورنیا کے شہر ٹورنس سے تعلق رکھنے والے ایلن پر ریاستوں کے درمیان غیر قانونی طور پر اسلحہ منتقل کرنے اور پرتشدد جرم کے دوران گولی چلانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم اپنے ساتھ ایک پمپ ایکشن شاٹ گن، تین چاقو اور ایک خودکار پستول لے کر واشنگٹن پہنچا تھاحکام نے شاٹ گن کے اندر سے گولی کا خول بھی برآمد کیا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ وہاں فائرنگ کی گئی تھی۔

    مختصر سماعت کے دوران ایلن نے الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا، البتہ اس نے عدالت کو بتایا کہ اس نے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کر رکھا ہےملزم کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایلن کا اس سے قبل کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔

    ایف بی آئی کے بیانِ حلفی کے مطابق ایلن نے 6 اپریل کو اسی ہوٹل میں کمرہ بک کرایا تھا جہاں یہ تقریب ہونی تھی اور وہ گزشتہ ہفتے ٹرین کے ذریعے کیلیفورنیا سے واشنگٹن پہنچا تھاہفتے کے روز اس نے اپنے خاندان کو ایک ای میل بھیجی جس میں خود کو دوستانہ وفاقی قاتل قرار دیتے ہوئے ٹرمپ انتظا میہ کے اعلیٰ حکام کو نشانہ بنانے کے منصوبے کا ذکر کیا تھا، ای میل میں لکھا تھا کہ میں نے یہ سب کیوں کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں امریکا کا شہری ہوں اور میرے نمائندے جو کچھ کرتے ہیں اس کا اثر مجھ پر پڑتا ہے –

    بیانِ حلفی کے مطابق ایلن ہوٹل کے سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر لگی مشین سے اسلحہ سمیت تیزی سے گزرا، جس پر ایک سیکیورٹی افسر نے اس پر گولی چلائی، ایلن زمین پر گر گیا لیکن اسے گولی نہیں لگی اس ہنگامہ آرائی کے دوران ایک سیکیورٹی افسر کے سینے میں گولی لگی لیکن وہ بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے محفوظ رہا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ گولی کس کی طرف سے چلائی گئی تھی۔

    جج میتھیو شاربا نے حکم دیا ہے کہ ملزم کو کم از کم جمعرات تک حراست میں رکھا جائے جب اس کی ضمانت یا مستقل قید کے حوالے سے دوبارہ سماعت ہوگی۔

    قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے سماعت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ ایلن نے ٹرمپ کو اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ اس نے واقعے کی رات اپنے رشتہ داروں کو بھیجے گئے ایک ای میل میں صدر کو غدار، ریپسٹ اور بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا قرار دیا تھامہذب زندگی میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے، اسے جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی صدر کے خلاف اس طرح کے اقدامات جاری رہنے دیے جائیں گے۔

  • ٹرمپ کی موجودگی میں  فائرنگ کا واقعہ، ملزم پر آج فرد جرم عائدکی جائےگی

    ٹرمپ کی موجودگی میں فائرنگ کا واقعہ، ملزم پر آج فرد جرم عائدکی جائےگی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں کارسپونڈنگ ڈنر کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حملہ آور کا ممکنہ ہدف امریکی صدر تھے۔

    قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل نے کہا ایسا لگتا ہے ملزم نے اکیلے کارروائی کی اور وہ ہوٹل میں ہی مقیم تھا اور حکومتی عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا ملزم تفتیش میں تعاون نہیں کررہا، پیر کو اس پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔

    امریکی میٖڈیا کے مطابق مشتبہ حملہ آور کی شناخت کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے 31 سال کے Cole Tomas Allen کے طور پر ہوئی، مبینہ حملہ آور نے حکام کو بتایا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدے داروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا دوسری جانب ایف بی آئی کی جانب سے کیلیفورنیا کےعلاقے ٹورینس میں گرفتارملزم کے گھر اور اطراف میں تحقیقات شروع کردی گئی۔

  • ٹرمپ نے ایران کو 3 دن کا الٹی میٹم  دیدیا

    ٹرمپ نے ایران کو 3 دن کا الٹی میٹم دیدیا

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس صرف 3 دن ہیں، اس کے بعد ان کا تیل انفراسٹرکچر ختم ہوجائے گا۔

    اتوار کو امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دیے گئے انٹر ویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے وفد کو اس لیے نہیں بھیجا کہ 18 گھنٹے کی فلائٹ ہے، ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی اور اس صورت حال میں امریکا کو فتح حاصل ہوگی، اگر ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے تو وہ براہِ راست فون کے ذریعے رابطہ کر سکتا ہے کیوں کہ یہ معاملہ فون پر بھی طے کیا جا سکتا ہے ایران میں جن فریقین سے امریکا کا سامنا ہے ان میں کچھ قابلِ قبول ہیں جب کہ کچھ نہیں تاہم انہیں امید ہے کہ ایران اس معاملے میں دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا۔

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے افزودہ یورینیم سے متعلق معاملہ بھی جاری مذاکرات کا حصہ ہے اور امریکا اس تک رسائی حاصل کرے گا۔ چین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ زیادہ مایوس نہیں ہیں لیکن بیجنگ اس معاملے میں مزید تعاون کر سکتا ہے ایران سے متعلق صورت حال میں نیٹو امریکا کے ساتھ نہیں تھا اور جب جنگ کے خاتمے کے بعد برطانیہ نے بحری جہاز بھیجنے کی پیشکش کی تو یہ ایک غیر مناسب اقدام تھا۔

    امریکی صدر نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی جنگ کا ذکر چھیڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے دور میں انہوں نے 8 مختلف جنگی تنازعات کو رکوانے میں کردار ادا کیا، جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بھی شامل ہے پاک بھارت کشیدگی اس حد تک بڑھ رہی تھی کہ صورتحال جوہری تصادم کی طرف جا سکتی تھی، اس دوران 11 جہاز تباہ ہوئے، وزیراعظم پاکستان نے میرے حوالے سے کہا کہ میں نے کردار ادا کر کے لاکھوں جانیں بچائی ہیں، وہ پاکستان کا بہت احترام کرتے ہیں اور وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل بہت اچھے اور ان کے لیے قابل احترام ہیں۔

  • ‘ایک ریپسٹ کو اجازت نہیں دوں گا کہ  اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے، کول ٹامس ایلن

    ‘ایک ریپسٹ کو اجازت نہیں دوں گا کہ اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے، کول ٹامس ایلن

    امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے پر حملے کے ایک روز بعد امریکی حکام اس معمہ کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ایک معزز استاد اور گیم ڈویلپر نے اچانک تشدد کا راستہ کیوں اختیار کیا۔

    31 سالہ کول ٹامس ایلن نے حملے سے قبل اپنے خاندان کو ایک تحریری پیغام بھیجا تھا جس میں اس نے ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کو نشانہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا اس خط میں ایلن نے لکھا کہ میں ان تمام لوگوں سے معذرت چاہتا ہوں جن کے اعتماد کو میں نے ٹھیس پہنچائی، میں معافی کی امید نہیں رکھتا۔

    کول ٹامس ایلن نے اپنے پیغام میں خود کو ایک وفاقی حملہ آور قرار دیا اور صدر ٹرمپ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیاکول ایلن نے اپنے مبینہ ٹرمپ مخالف خط میں کسی اہلکار یا صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیر لکھا کہ میں اب اس بات کی مزید اجازت نہیں دوں گا کہ ایک بچوں کے جنسی استحصال میں ملوث شخص، زانی اور غدار اپنے جرائم کے داغ میرے ہاتھوں پر لگائے۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ’سی بی ایس نیوز‘ کے پروگرام ’60 منٹس‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے خلاف جنسی تشدد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ملزم کے بیان کو ایک ’انتہا پسندانہ‘ منشور قرار دیا، ملزم کے بیانات پڑھ کر سنانے پر انہوں نے صحافیوں کو ’خوفناک افراد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ہاں، اس نے یہ لکھا ہے میں زانی نہیں ہوں میں نے کسی کا ریپ نہیں کیا۔

    جب انٹرویو لینے والے نے ان سے یہ سوال کیا کہ کیا ان کے خیال میں ملزم کا اشارہ ان کی طرف تھا؟ تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ میں بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا نہیں ہوں، معاف کیجیے گا، معاف کیجیے گا، میں پیڈوفائل نہیں ہوں آپ ایک بیمار ذہن کے آدمی کی لکھی ہوئی بکواس پڑھ رہے ہیں؟ میرا نام ان تمام چیزوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا جن سے میرا کوئی لینا دینا نہیں، میں مکمل طور پر بے گناہ ثابت ہوا تھا۔

    پولیس کی تحقیقات کے مطابق ایلن نے حالیہ برسوں میں بائیں بازو کی سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی تھی اور وہ لاس اینجلس میں سرگرم تھااس کی بہن نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بتایا کہ وہ اکثر انتہا پسندانہ بیانات دیتا تھا اور اس نے قانونی طور پر اسلحہ خرید کر باقاعدہ مشق بھی شروع کر دی تھی۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق کول ٹامس ایلن لاس اینجلس سے ٹرین کے ذریعے شکاگو اور پھر واشنگٹن پہنچا، جہاں اس نے اسی ہوٹل میں قیام کیا جہاں صدر ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام کی تقریب ہونی تھی۔

    ملزم کے ماضی پر نظر ڈالی جائے تو وہ ایک انتہائی ذہین اور ہمدرد نوجوان کے طور پر سامنے آتا ہے اس نے 2017 میں مشہور تعلیمی ادارے کالٹیک سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی اور طالب علمی کے دور میں وہ وہیل چیئر کے لیے ہنگامی بریک کا نمونہ تیار کرنے پر خبروں کی زینت بھی بنا تھا۔

    وہ ایک نجی تعلیمی ادارے میں پڑھاتا تھا جہاں اسے دسمبر 2024 میں بہترین استاد کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ ایک فری لانس گیم ڈویلپر بھی تھا اور اس کا تیار کردہ ایک گیم انٹرنیٹ پر فروخت کے لیے دستیاب ہے ملزم نے اپنے پیغام میں یہ دلیل بھی دی کہ اس کا اقدام مسیحی اقدار کے خلاف نہیں ہے، اس نے لکھا کہ جب کوئی دوسرا مظلوم ہو تو خاموش رہنا مسیحی رویہ نہیں بلکہ ظالم کے جرائم میں شریک ہونا ہے۔

    ایلن کے بھائی نے جب یہ پیغام موصول کیا تو اس نے فوری طور پر پولیس کو تشویش سے آگاہ کیا، لیکن تب تک ملزم اپنی کارروائی شروع کر چکا تھا۔
    تفتیشی اداروں کو معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے اکتوبر 2023 اور اگست 2025 میں قانونی طور پر پستول اور شاٹ گن خریدی تھی جس کے لیے اس کا باقاعدہ بیک گراؤنڈ چیک بھی کیا گیا تھا۔

    اس وقت ایف بی آئی اور دیگر ادارے ملزم کے سوشل میڈیا اور خاندانی روابط کی جانچ کر رہے ہیں تاکہ اس کے اصل محرکات کو سمجھا جا سکے جسے صدر ٹرمپ نے مسیحی مخالف قرار دیا ہےملزم کے پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ اس کے والد ایک ملنسار شخص ہیں اور انہوں نے کول کو چند روز قبل ہی علاقے میں دیکھا تھا، لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ خاموش رہنے والا نوجوان اتنے بڑے پرتشدد منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

  • ٹرمپ پر حملہ: وائٹ ہاؤس ترجمان کی مذاق میں کی گئی پیش گوئی سچ ثابت

    ٹرمپ پر حملہ: وائٹ ہاؤس ترجمان کی مذاق میں کی گئی پیش گوئی سچ ثابت

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ہونے والی تقریب میں فائرنگ کے واقعے سے چند گھنٹے قبل دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اس رات تقریب ‘تفریحی اور مزاحیہ’ ہوگی اور وہاں ‘شاٹس فائر ہوں گی’۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کا ایک بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہا ہے جس میں انہوں نے وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ڈنر کی تقریب سے عین قبل کہا تھا کہ آج رات ہال میں شاٹس فائر ہوں گی اگرچہ ان کا اشارہ صدر ٹرمپ کی کاٹ دار اور تیکھی تقریر کی طرف تھا، لیکن تقریب کے دوران ہونے والے اصل حملے نے ان کے ان الفاظ کو ایک عجیب رنگ دے دیا ہے۔

    کیرولین لیوٹ نے امریکی نشریاتی ادارے ’فاکس نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ آج مقابلے کے لیے تیار ہیں اور ان کی تقریر روایتی ڈونلڈ ٹرمپ اسٹائل میں ہوگی، وہ مزاحیہ اور تفریح سے بھرپور ہوگی اور آج رات ہال میں کچھ گولیاں چلیں گی، اس لیے ہر کسی کو یہ دیکھنا چاہیے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ تقریر کس نے لکھی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ میں اس کا کریڈٹ نہیں لے سکتی، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مخصوص انداز میں خود قلم اٹھاتے ہیں اور کاغذ پر اپنے خیالات لکھتے ہیں، اس لیے یہ زیادہ تر ان کا اپنا کام ہےابھی تقریب جاری ہی تھی اور صدر ٹرمپ اسٹیج پر موجود تھے کہ اچانک گولیوں کی تڑتڑاہٹ نے ہال کا سکون برباد کر دیا۔

    تقریب سے قبل لارا ٹرمپ نے بھی ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ صدر نے اپنی تقریر کے لیے مزاحیہ لکھاریوں کی مدد لی ہے اور وہ صحافیوں کو طنز کا نشانہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ صدر تقریب میں بھرپور مزاح پیش کریں گے۔

    بعد ازاں ہوٹل کی لابی میں، جہاں وائٹ ہاؤس کریسپانڈنٹس ڈنر منعقد ہونا تھا، فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کے بعد کہا کہ سیکیورٹی اداروں نے تیزی اور بہادری سے کام کیا اور صورتحال پر قابو پا لیا۔ ابتدا میں انہوں نے تقریب جاری رکھنے کی تجویز دی تھی تاہم بعد میں سیکیورٹی خدشات کے باعث تقریب منسوخ کر دی گئی۔

    واقعے کے بعد واشنگٹن میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حکام نے فائرنگ کے محرکات اور حملہ آور کے پس منظر کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق تفتیشی ادارے مختلف زاویوں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں اور مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔

  • واشنگٹن:  ٹرمپ کی موجودگی میں تقریب میں فائرنگ، حملہ آور گرفتار

    واشنگٹن: ٹرمپ کی موجودگی میں تقریب میں فائرنگ، حملہ آور گرفتار

    واشنگٹن ڈی سی میں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں ایک تقریب میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے بعد امریکی صدر کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

    یہ واقعہ ہفتہ کی شام واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں پیش آیا، جہاں وائٹ ہاؤس نامہ نگاروں کی سالانہ تقریب جاری تھی جس میں صدر ٹرمپ، خاتونِ اول اور کابینہ کے ارکان تقریب میں موجود تھے حکام کے مطابق فائرنگ ہوٹل کے باہر سیکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب ہوئی۔

    بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایک شخص متعدد ہتھیاروں کے ساتھ سیکیورٹی حصار توڑنے کی کوشش کر رہا تھا، جسے خفیہ ادار ے کے اہلکاروں نے قابو کر لیا،جبکہ ایک سیکیورٹی اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہوا، تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی،انہوں نے مبینہ حملہ آور کو بیمار ذہنیت کا حامل شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہم نہیں چاہتے کہ ایسے واقعات دوبارہ پیش آئیں۔’

    امریکی خفیہ سروس کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں،عینی شاہدین اور واقعے کے ویڈیوز کے مطابق فائرنگ کی آواز سنتے ہی تقریب میں موجود افراد نے زمین پر لیٹ کر پناہ لی، جبکہ سیکرٹ سروسز ایجنٹ کے اہلکاروں نے صدر کو فوری طور پر وہاں سے نکال لیا۔

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی متعدد حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، جن میں 2024 میں پنسلوانیا میں ایک انتخابی جلسے کے دوران ہونے والا حملہ بھی شامل ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ایسوسی ایشن ڈنر کے دوران ہونے والے ایک فائرنگ کے واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے-

    وزیرِ اعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس افسوسناک واقعے سے شدید صدمے میں ہیں،نہیں یہ جان کر اطمینان ہوا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتونِ اول اور دیگر شرکاء محفوظ ہیں،شہباز شریف نے اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں، اور وہ ان کی مسلسل سلامتی اور خیریت کے لیے دعاگو ہیں۔

    جبکہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے وائٹ ہاؤس کریسپانڈنٹس ڈنر میں فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کی ایک گھناؤنی شکل قرار دیا ہے،صدر زرداری نے ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتونِ اوّل کے محفوظ رہنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    تقریب کے دوران فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی شناخت کر لی گئی ہےسی این این کے مطابق ملزم کی شناخت 31 سالہ کول ٹومس ایلن کے نام سے ہوئی ہے، جو امریکی ریاست کیلیفورنیا کا رہائشی بتایا جا رہا ہے۔

    سی این این کے مطابق ملزم لاس اینجلس کے نواحی علاقے ٹورنس کا رہائشی ہے اور اسے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل کے بال روم کی طرف فائرنگ کرتے ہوئے تیزی سے دوڑ رہا تھا، تاہم وہاں موجود سیکیورٹی افسران نے اسے بروقت کارروائی کرتے ہوئے روک لیا۔

    us

    واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل باؤزر نے تازہ ترین صورتحال بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم اس وقت قریبی اسپتال میں زیرِ علاج ہے اور پولیس کی سخت نگرانی میں ہے۔

    اس حوالے سے اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اس شخص کے خلاف قانونی کارروائی تیزی سے آگے بڑھائی جا رہی ہے اور اس پر بہت جلد فردِ جرم عائد کر دی جائے گی، ملزم کے خلاف فائرنگ، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے۔

    میٹروپولیٹن پولیس کے عبوری سربراہ جیفری کیرول نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار مشتبہ شخص ہوٹل کا مہمان تھا پولیس نے ہوٹل میں اس کے کمرے کو سیل کر دیا ہے اور وہاں موجود اشیا کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے۔

    پولیس چیف نے بتایا کہ ملزم کئی ہتھیاروں کے ساتھ خفیہ سروس کے سیکیورٹی چیک پوائنٹ کی طرف بڑھا اور رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش کی، جس پر اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے قابو کر لیا۔

    دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شفافیت برقرار رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پر ملزم کی تصویر اور سیکیورٹی کیمروں کی وہ فوٹیج بھی جاری کر دی ہے جس میں فائرنگ کے آغاز کا منظر دیکھا جا سکتا ہے صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ یہ معلومات عوام کے سامنے اس لیے لا رہے ہیں تاکہ اس معاملے میں کوئی ابہام نہ رہے۔

    تحقیقاتی ادارے اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ملزم کے اس اقدام کے پیچھے کیا محرکات تھے اور کیا اس کا کسی تنظیم سے تعلق تھا یا یہ اس کی انفرادی کارروائی تھی فی الحال ملزم پولیس کی تحویل میں ہے اور اسپتال سے ڈسچارج ہوتے ہی اسے جیل منتقل کر دیا جائے گا۔

    واشنگٹن میں فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے ہنگامی پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی جان لینے کی ایک اور کوشش تھی اور ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں،ہمیں ایسی سیکیورٹی درکار ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہو۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران انہیں نشانہ بنانے کی متعدد کوششیں ہوئیں جن میں پنسلوانیا، بٹلر میں جلسے کے دوران اور فلوریڈا پام بیچ میں گالف کھیلتے ہوئے پیش آنے والے واقعات شامل ہیں سالانہ ڈنر تقریب میں فائرنگ کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وائٹ ہاؤس میں جدید طرز کے بال روم اور غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کی اشد ضرورت ہےہمیں ایسی سیکیورٹی درکار ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ہو۔

    صدر کے مطابق واقعے کے دوران امریکی خفیہ ایجنسی کے ایک اہلکار کو قریب سے گولی ماری گئی تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی بدولت اس کی جان بچ گئی انہوں نے زخمی اہلکار سے بات کی ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے حملہ آور ایک سیکیورٹی چیک پوائنٹ کی جانب متعدد ہتھیاروں کے ساتھ بڑھا، جسے سیکرٹ سروس کے بہادر اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے قابو کر لیا۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ملزم کی تصویر اور واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر جاری کر دی ہے تاکہ شفافیت برقرار رکھی جا سکے خطاب کے دوران ان کے ہمراہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے وزیر اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر بھی موجود تھے یہ تقریب آزادی اظہار کے فروغ اور اتحاد کے لیے منعقد کی گئی تھی، مگر اس واقعے نے سیکیورٹی خدشات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔