Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • ٹرمپ انتظامیہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نیا ٹیرف عائد

    ٹرمپ انتظامیہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نیا ٹیرف عائد

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا کے 60 تجارتی شراکت دار ممالک سے آنے والی اشیا پر نئی درآمدی ڈیوٹیاں عائد کر دی ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے یہ اقدام جبری مشقت کے خلاف قوانین پر عمل درآمد میں مبینہ کمزوریوں کا الزام لگاتے ہوئے کیا ہے نئی پالیسی کے تحت زیادہ تر ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد جبکہ بعض ممالک پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیا گیا ہے یہ اقدامات عالمی سپلائی چین میں جبری مشقت کے خاتمے اور امریکی کارکنوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہیں، تاہم کئی ممالک نے ان فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کر تے ہوئے انہیں غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔

    نئے ٹیرف ایسے وقت میں نافذ کیے گئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کیا گیا عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف ختم ہو گیا تھا امریکی حکام کے مطابق نئی ڈیوٹیاں جمعہ کو رات 12 بج کر ایک منٹ پر نافذ ہوئیں، جبکہ راستے میں موجود سامان کو 28 جولائی تک رعایت دی گئی ہے۔

    امریکا کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابند ی کا قانون رکھتا ہے اور اس پر سختی سے عمل کرتا ہے اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارے تجارتی شراکت دار بھی اسی طرح کے اقدامات کریں آج کا اقدا م انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کو درست کرنے کی طرف ایک قدم ہے تاکہ دنیا بھر کے کارکنوں کی بہتری ممکن ہو سکے۔

    نئی ٹیرف پالیسی کے تحت ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، بھارت، انڈونیشیا، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور دیگر کئی ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے،یورپی یونین، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان اور سوئٹزرلینڈ کے لیے ٹیرف کی شرح اس طرح مقرر کی گئی ہے کہ ان کے پہلے سے موجود درآمدی ٹیکس شامل کرنے کے بعد مجموعی شرح تقریباً 10 یا 12.5 فیصد بنتی ہے۔

    دیگر 38 ممالک، جن میں ویتنام اور چین بھی شامل ہیں، کی مصنوعات پر 12.5 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا ہے امریکا نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سنکیا نگ کے ایغور مسلمانوں سے متعلق جبری مشقت کے معاملات میں ملوث ہے، تاہم بیجنگ ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

    چین کے حوالے سے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان نومبر 2025 میں ہونے والی تجارتی مفاہمت کے تحت چین پر عائد ٹیرف دوبارہ 20 فیصد تک بڑھانے کا ارادہ ہے، تاہم اس سے زیادہ نہیں کیا جائے گا۔

    اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 50 فیصد تک کے ٹیرف عائد کیے تھے لیکن امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں انہیں غیر مؤثر قرار دے دیا تھا جس کے بعد اس بار ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا کے ٹریڈ ایکٹ 1974ء کے سیکشن 301 کے تحت نئے ٹیرف لگا دیے ہیں اور اس اقدام کو قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

    امریکا کے ٹریڈ ایکٹ 1974ء کے سیکشن 301 کے تحت امریکا ایسے ممالک جن میں جبری مشقت پر پابندی کے کچھ قوانین نافذ کیے ہیں، ان پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرے گا اور جن ممالک میں جبری مشقت پر پابندی کے قوانین بالکل نافذ نہیں ہیں، ان پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

    کئی ممالک نے امریکی اقدام پر فوری ردعمل ظاہر کیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی چیف کاجا کالاس نے کہا کہ یورپی یونین ان نئے ٹیرف کو حیران کن سمجھتی ہے اور امریکا کی جانب سے دی گئی وجہ قابل قبول نہیں،اگر آپ ہمارے مزدور قوانین کا امریکا کے قوانین سے موازنہ کریں تو ہمارے پاس ملازمین کے لیے تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں اور بہتر کام کے حالات موجود ہیں، اس لیے یہ فیصلہ مضبوط بنیاد پر مبنی نہیں لگتا۔

    آسٹریلیا اور برازیل نے بھی امریکی ٹیرف کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے انہیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ ناروے نے کہا کہ ان اقدامات کی کوئی واضح وجہ موجود نہیں۔

    کینیڈا کے وزیر برائے امریکی تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ کینیڈا اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری رابطہ جاری رکھے گا انہوں نے کہا کہ ہم آنے والے ہفتوں میں امریکا کے ساتھ اس معاملے اور دیگر مسائل پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ممالک کے شہریوں کو فائدہ پہنچ سکے۔

    ٹرمپ انتظامیہ کی سابق تجارتی مشیر کیلی این شا نے کہا کہ نئی ٹیرف پالیسی زیادہ تر انہی اقدامات کے مطابق ہے جن کا پہلے سے اندازہ تھا، تاہم کچھ تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں، جن میں تقریباً 471 مصنوعات کو ٹیرف سے استثنیٰ دینا شامل ہے میرے خیال میں معاشی اثرات کے لحاظ سے یہ صورتحال زیادہ تبدیل نہیں ہوئی۔ یورپی یونین جیسے شراکت داروں نے ٹیرف کی حد مقرر کرنے کے لیے مذاکرات کیے تھے، جس کی وجہ سے نئی شرحیں پہلے کے مقابلے میں کم رہیں گی۔

    امریکی حکام کے مطابق تیل، گیس، کھاد، بعض غذائی اشیا، طیارے اور ان کے پرزے، اہم معدنیات اور کچھ ایسی مصنوعات جن پر پہلے ہی قومی سلامتی کے قوانین کے تحت ٹیرف عائد ہے، نئی ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

  • ٹرمپ کا ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پرغور

    ٹرمپ کا ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پرغور

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو نئی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پرغور جاری ہے، جو پہلے ہونے والی کارروائیوں سے کہیں زیادہ بڑا ہوگا۔

    جمعرات کو امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر نئی فوجی کارروائی پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، جو آپریشن ایپک فیوری کے دوران کیے گئے حملوں سے بھی زیادہ شدید ہو سکتا ہےمیں پہلے سے کہیں زیادہ بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں، میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور ہم اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ ابھی اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہوں نے کسی ٹائم لائن کا اعلان کیا۔

    رپورٹ کے مطابق دو امریکی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ تاحال صدر ٹرمپ کی جانب سے کوئی حتمی حکم جاری نہیں کیا گیا اور نہ ہی امریکی فوج کو نئی کارروائی کے لیے کوئی نیا حکم ملا ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ کے اندر نئی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے تاہم ان کے بقول امریکا کو ایران کے خلاف کارروائی کے لیے کسی دوسرے ملک کی ضرورت نہیں، اگر اسرائیل اس کارروائی میں شامل ہوتا ہے تو اس کے نتائج بھی سامنے آئیں گے، جس سے انہوں نے ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کی طرف اشارہ کیا، ایرانی حکام مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن اس وقت وہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار نہیں ہیں ،ایران نے ابھی تک اتنی تکلیف نہیں اٹھائی کہ وہ معاہدے پر آمادہ ہو جائے،

    رپورٹ کے مطابق خطے میں ثالثی کی کوششوں سے آگاہ دو ذرائع نے بتایا کہ ایرانی قیادت نے اب تک پیش کی گئی تازہ تجویز قبول نہیں کی۔ ایک ذریعے کے مطابق مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں لیکن ایران کی جانب سے تعاون نہیں کیا جا رہا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 12 روز کے دوران امریکا نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کو روکنے کے لیے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارر و ائیوں میں اضافہ کیا ہے تاہم ایران نے بھی اپنے حملے تیز کر دیے ہیں اور کسی قسم کی پسپائی کے آثار نظر نہیں آئے۔

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں جہازوں پر دوبارہ حملہ کیا تو امریکا اس کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرائے گا، حوثی ایران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں، اس لیے ایسی صورت میں ایران اور حوثیوں دونوں کو سخت فوجی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آئندہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی تعزیتی تقریب میں شرکت کرنا چاہتے ہیں،نیتن یاہو کے ساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے ہیں اور اگر وہ واشنگٹن آئے تو ان سے ملاقات بھی کریں گے-

  • ٹرمپ نے امریکا سعودی عرب جوہری معاہدے کی اجازت دے دی

    ٹرمپ نے امریکا سعودی عرب جوہری معاہدے کی اجازت دے دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک تاریخی سول نیوکلیئر معاہدے کی منظوری دے دی ہے-

    امریکی میڈیا کے مطابق، 30 سال پر محیط اس ممکنہ معاہدے میں امریکی کمپنیاں شامل ہوں گی اور ایک مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی کے بعد سعودی عرب میں یورینیم کی افزودگی کی تنصیب بھی قائم کی جا سکتی ہےاس معاہدے کو امریکی کانگریس میں پیش کیا جائے گا، جہاں اسے قانون سازوں کی جانب سے سخت مخالفت اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،امریکی اراکینِ اسمبلی کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب کو خود سے یورینیم افزودگی کی اجازت دینے سے خطے میں ا یٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور ایک نئی مقابلے بازی کا آغاز ہو سکتا ہے۔

    سعودی عرب ویانا میں قائم بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کا رکن ملک ہے، جو پرامن ایٹمی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے اور نگرانی کرتی ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق، اس نئے معاہدے میں ایجنسی کا اضافی پروٹوکول شامل نہیں ہو گا، جس کی وجہ سے ایٹمی تنصیبات کی سخت تفتیش اور نگرانی کا دائرہ محدود ہو سکتا ہے۔

    یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے نام پر جنگ جاری ہے اگرچہ یورینیم کی افزودگی ایٹمی بم بنانے کا فوری راستہ نہیں ہے، لیکن یہ ہتھیار بنانے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اسی وجہ سے غیر ملکی ایٹمی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سعودی زمین پر یورینیم کی افزودگی ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

    سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی پہلے یہ واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے ایٹمی بم بنایا تو وہ بھی اسی راستے پر جائیں گےایٹمی ہتھیارو ں سے لیس پاکستان اور سعودی عرب نے قطر میں حماس کے حکام پر اسرائیلی حملے کے بعد دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد پاکستان کے وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی دستیاب ہوگا۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے امریکا کے ساتھ معاہدہ کیا تھا لیکن انہوں نے اپنے ملک میں یورینیم افزودگی کے حق سے دستبرداری اختیار کی تھی، جسے بین الاقوامی ماہرین ایٹمی پاور کے لیے ایک بہترین نمونہ مانتے ہیں۔

  • ٹرمپ کی درجنوں ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری

    ٹرمپ کی درجنوں ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ہفتے درجنوں ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔

    برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی مدت ختم ہونے کے بعد نئی ڈیوٹیاں نافذ کی جا سکتی ہیں جبکہ ابتدائی طور پر بیشتر ممالک پر 10 فیصد ٹیرف برقرار رہنے کا امکان ہے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ زیادہ شرح کے ٹیرف عائد کرنے کے لیے قانونی بنیاد بھی تیار کر رہی ہے،گزشتہ روز ٹرمپ انتظامیہ نے کینیڈا کی گاڑیوں اور دیگر سامان پر 50 فیصد ٹیکس عائد کیا ہے جو آئندہ ماہ سے نافذ ہوگا۔

    واضح رہے 20فروری 2026 کو امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے مستقل ٹیکس لگانے کے قانون کو غیر آئینی قرار دے کر روک دیا تھا،عدالت نے اپنے فیصلے میں خاص طور پر ان ٹیرفس کو ختم کیا جو ‘انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ’ (IEEPA) کے تحت مختلف ممالک پر لگائے گئے تھےکیونکہ عدا لت کے مطابق کانگریس نے صدر کو اس قانون کے تحت ڈیوٹیز لگانے کا اختیار نہیں دیا تھا۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ نے ایک اور قانون (Section 122) استعمال کر کے 15 فیصد عالمی ٹیکس لگایا تھا،اس قانون کے تحت ٹیکس صرف 150 دنوں کے لیے عارضی طور پرلگایا جا سکتا ہے جو اسی ہفتے 24 جولائی 2026 کو ختم ہو رہا ہے۔

  • ایران پر جہنم کے دروازے کھول دو،ٹرمپ کی امریکی فوج کو سخت ہدایت

    ایران پر جہنم کے دروازے کھول دو،ٹرمپ کی امریکی فوج کو سخت ہدایت

    ایران کے حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے امریکی فوج کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر جہنم کے دروازے کھول دو-

    امریکی میڈیا کو ٹیلیفونک انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اردن میں ایرانی حملے کے نتیجے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ ہدایت جاری کیں یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، دونوں فوجیوں نے اپنے وطن کے لیے جان قربان کی اور قوم ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

    بعد ازاں صدر ٹرمپ نے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر جہنم کے دروازے کھول دو،امریکا کا بنیادی مقصد ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، کیونکہ ایسے ہتھیار نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

    انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اپنے فوجیوں پر ہونے والے حملوں کا مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا،صدر ٹرمپ کے اس بیان کو ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اردن میں واقع امریکی ایئربیس پر ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت جب کہ ایک اہلکار کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران کے حملوں میں 29 امریکی فوجی زخمی ہوئے جبکہ متعدد ہیلی کاپٹر شدید متاثر ہوئے اور فوجی تنصیبات کو بھی بھاری نقصان پہنچا،ایران کی جانب سے کی گئی کارروائیوں میں عراق کے شہر اربیل میں امریکی قونصل خانے کے قریب دھماکا خیز ڈرون تباہ کیا، کویت میں امریکی لاجسٹک مرکز، کیمپ اور ایئربیس کے ریڈار سسٹم کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں ہینگرز اور دیگر فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

  • جرائم میں اضافہ،امریکا کابھارتی ٹرک ڈرائیورز پرپابندی لگانے پر غور

    جرائم میں اضافہ،امریکا کابھارتی ٹرک ڈرائیورز پرپابندی لگانے پر غور

    بغیر لائسنس ڈرائیونگ اور منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہونے پر امریکا نے بھارتی ٹرک ڈرائیورز پر پابندی لگانے پر غور شروع کردیا۔

    بھارتی اخبارانڈیاٹوڈے کے مطابق امریکی صدرٹرمپ نے تارکینِ وطن ٹرک ڈرائیورزکی جگہ امریکی فوج کے سابق اہلکاروں کوتعینات کرنے کی تجویز پیش کردی اس تجویز کے نفاذ سے امریکا میں کام کرنے والے تقریباً ڈیڑھ لاکھ بھارتی ٹرک ڈرائیورز متاثر ہوں گے۔

    امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے تارکینِ وطن ڈرائیورزسےمتعلق نئی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی ہلاکتوں کا باعث بننے والےغیر قانونی تارکینِ وطن ڈرائیو رزکیخلاف تاریخی کارروائی کریں گے، ڈرائیورز سائن بورڈز بھی نہیں پڑھ سکتے، ان میں سے بہت سے منشیات کے عادی ہوتے ہیں،یہ غیر قانونی طر یقے سے ملک میں داخل ہوتے ہیں اور پورے امریکا کی سڑکوں پر گاڑیاں چلا رہے ہوتے ہیں۔

    انڈیا ٹوڈے کے مطابق بھارتی ٹرک ڈرائیورزامریکا میں سنگین حادثات اور منشیات اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے باعث سخت جانچ کی زد میں ہیں، بھار تی شہریوں کو ان کی بڑھتی مجرمانہ سرگرمیوں کے باعث مختلف ممالک میں پابندیوں سمیت ملک بدریوں کا سامنا ہے۔

  • ایران نواز عراقی ملیشیا کا ٹرمپ کے قتل پر ایک کروڑ ڈالر انعام کا اعلان

    ایران نواز عراقی ملیشیا کا ٹرمپ کے قتل پر ایک کروڑ ڈالر انعام کا اعلان

    ایران سے قریبی تعلق رکھنے والی عراقی ملیشیاؤں کے اتحاد ’اسلامک ریزسٹنس اِن عراق‘ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل پر ایک کروڑ ڈالر (10 ملین ڈالر) انعام دینے کا اعلان کیا ہے-

    یہ اعلان ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے ایک بار پھر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا رہنما ابو مہدی المہندس کی ہلاکت میں اپنے کردار کا ذکر کیا تھا ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کے اتحاد ’اسلامک ریزسٹنس اِن عراق‘ (آئی آر آئی) نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی شخص امریکی صدر ڈو نلڈ ٹرمپ کو قتل کرے یااس کارروائی میں مالی یا عملی معاونت فراہم کرے گااسے ایک کروڑ ڈالر انعام دیا جائے گا، ملیشیا نے دعویٰ کیا کہ یہ رقم اس کے ارکان اور حامیوں کے عطیات سے جمع کی گئی ہے، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

    یہ اعلان وائٹ ہاؤس میں عراقی وزیراعظم علی الزیدی سے ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے 2020 میں بغداد کے قریب امریکی ڈرون حملے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی پاپولر موبلائزیشن فورسز کے نا ئب سربراہ ابو مہدی المہندس کی ہلاکت کا دوبارہ حوالہ دیا تھا۔

    اسلامک ریزسٹنس اِن عراق دراصل ایران کی حمایت یافتہ شیعہ مسلح گروہوں کا ایک اتحاد ہے، جس میں کتائب حزب اللہ، حرکۃ حزب اللہ النجباء، عصائب اہل الحق اور دیگر تنظیمیں شامل ہیں، امریکا ان گروہوں پر عراق، شام اور خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں، سفارتی مراکز اور اتحادیوں پر متعدد راکٹ، ڈرون اور میزائل حملوں کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق ان ملیشیاؤں کو ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس سے مالی، عسکری اور لاجسٹک معاونت حاصل ہے، جبکہ بعض گروہوں پر سرحدی گزرگاہوں، کاروباری سرگرمیوں، اسمگلنگ نیٹ ورکس اور سرکاری وسائل سے مالی فوائد حاصل کرنے کے بھی الزامات ہیں، ادھر امریکی حکام ماضی میں بھی دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ایران سے منسلک عناصر نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے ٹرمپ کو نشانہ بنا نے کی کوشش کی، تاہم تہران ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

    یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر چکی ہےحالیہ ہفتوں میں امریکا نے ایران پر فوجی دباؤ اور پابندیاں مزید سخت کی ہیں، جبکہ ایران سے وابستہ گروہوں نے عراق، شام، لبنان اور یمن میں امریکی مفادات کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

  • ٹرمپ کا چین پر 2020 کے امریکی انتخابات میں ‘ڈیٹا ہیکنگ’ کا الزام، بیجنگ کا بھی ردعمل آگیا

    ٹرمپ کا چین پر 2020 کے امریکی انتخابات میں ‘ڈیٹا ہیکنگ’ کا الزام، بیجنگ کا بھی ردعمل آگیا

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ چین امریکی الیکشن ڈیٹا ہیک کرنے اور انتخابات میں مداخلت کی کوشش کر رہا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے الزام عائد کیا ہے کہ چین نے 2020 کے امریکی صدارتی انتخابی مرحلے کے دوران انتخابی ڈیٹا میں مداخلت کی، جسے انہوں نے ”انتخابی ڈیٹا سے متعلق تاریخ کی سب سے بڑی خلاف ورزی“ قرار دیا وائٹ ہاؤس کے مطابق اس مبینہ واقعے کے نتیجے میں چین نے تقریباً 22 کروڑ امریکی ووٹرز کی فائلوں تک رسائی حاصل کی۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس مبینہ ڈیٹا کے ضائع ہونے یا غیر مجاز رسائی کے باعث امریکی انتخابی سلامتی کو ایک غیر معمولی خطرے کا سامنا کرنا پڑا ہے ان کے مطابق یہ معاملہ انتخابات کے تحفظ اور ووٹرز کے ڈیٹا کی حفاظت کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے،چین چاہتا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب ہار جائیں۔

    دوسری جانب واشنگٹن میں قائم چینی سفارت خانے کے ترجمان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چین نے نہ کبھی امریکا کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کی ہے اور نہ ہی آئندہ ایسا کرے گا، بیجنگ امریکی انتخابات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کے الزامات کو بے بنیاد سمجھتا ہے۔

    ادھر 2021 میں امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کی جانب سے جاری کی گئی ایک غیر خفیہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ظاہر ہو کہ کسی بھی غیر ملکی فریق نے 2020 کے صدارتی انتخابات کے کسی تکنیکی پہلو، جیسے ووٹر رجسٹریشن، بیلٹ، ووٹوں کی گنتی یا انتخابی نتائج میں ردوبدل کرنے کی کوشش کی یا اس میں کامیاب ہوا۔

    یہ جائزہ اس وقت تیار کیا گیا تھا جب جان ریٹکلف امریکی قومی انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر تھے وہ اس وقت ٹرمپ انتظامیہ میں خدمات انجام دے رہے تھے اور بعد میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر بھی بنے اس کی خفیہ تفصیلی رپورٹ 7 جنوری 2021 کو، یعنی ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت ختم ہونے سے چند روز قبل، صدر ٹرمپ، ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام، کانگریس کی قیادت اور انٹیلی جنس کمیٹیوں کو بریف کی گئی تھی۔

    تاحال صدر ٹرمپ کے حالیہ الزامات اور 2021 کی امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے نتائج کے درمیان فرق موجود ہے ایک جانب ٹرمپ چین پر بڑے پیمانے پر انتخابی ڈیٹا حاصل کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب امریکی انٹیلی جنس کے پہلے سے جاری کردہ جائزے میں انتخابی نظام کے تکنیکی عمل یا نتائج میں کسی غیر ملکی مداخلت کے شواہد نہ ملنے کی بات کی گئی تھی دوسری جانب چین بھی ان تمام الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔

  • ایران  کی جانب سے  امریکی شہری کی رہائی پر ٹرمپ کا اہم بیان سامنے آ گیا

    ایران کی جانب سے امریکی شہری کی رہائی پر ٹرمپ کا اہم بیان سامنے آ گیا

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے ایک امریکی شہری کی رہائی کو خیرسگالی کا اشارہ قرار دیتے ہوئے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے-

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایک امریکی شہری، جسے ان کے بقول 2024 میں بائیڈن انتظامیہ کے دور میں غلط طور پر حراست میں لیا گیا تھا اب ایران سے بحفاظت باہر آ چکا ہے،متعلقہ امریکی شہری محفوظ مقام پر پہنچ چکا ہے اور اس کی صحت بھی بہتر ہے، امریکا اس اقدام کو ایران کی جانب سے ایک مثبت اور خیرسگالی کے اظہار کے طور پر دیکھتا ہےایسے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، اگرچہ خطے میں موجودہ سکیورٹی صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے-

    سیاسی مبصرین کے مطابق امریکی شہری کی رہائی ایک اہم سفارتی پیش رفت سمجھی جا سکتی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی اور فوجی تنازع کے باعث مستقبل کی صورتحال کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

  • ٹرمپ کی کارکردگی پر 59 فیصد امریکیوں کے عدم اطمینان  کااظہار

    ٹرمپ کی کارکردگی پر 59 فیصد امریکیوں کے عدم اطمینان کااظہار

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی کے حوالے سے ایک تازہ عوامی سروے میں ان کی مقبولیت میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔

    سروے کے مطابق 59 فیصد امریکی شہری صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے ناخوش ہیں، جبکہ صرف 37 فیصد افراد نے ان کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا یہ رائے شماری 10 سے 13 جولائی کے دوران کی گئی، جس میں مجموعی طور پر 1616 افراد نے حصہ لیا۔ سروے کے نتائج کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات اور پالیسیوں پر عوامی اعتماد میں کمی آئی ہے۔

    سروے میں شامل 54 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد عالمی سطح پر امریکا کے اثر و رسوخ میں کمی آئی ہے، جبکہ متعد د افراد نے خارجہ پالیسی اور عالمی معاملات سے متعلق بھی تحفظات کا اظہار کیا ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کا رجحان عالمی کشیدگی اور جنگی حالات کے باوجو د برقرار ہے۔ عوامی رائے میں سب سے زیادہ تشویش معیشت، مہنگائی، روزگار اور امریکا کے عالمی کردار سے متعلق امور پر ظاہر کی گئی۔

    سیاسی ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے حالیہ سرو ے میں ڈیموکریٹس کو ریپبلکن پارٹی پر 4 فیصد برتری حاصل رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی رجحانات میں تبدیلی آ رہی ہے اگر یہی رجحان برقرار رہا تو ڈیموکریٹس کانگریس کے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو سخت مقابلہ دے سکتے ہیں۔

    امریکی سیاسی سروے کے معروف ادارے ریئل کلیئر پولیٹکس کے مطابق صدر ٹرمپ کی موجودہ اوسط مقبولیت بھی دباؤ کا شکار ہے ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 41 فیصد امریکی شہری ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں، جبکہ 56.4 فیصد نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے ٹرمپ کی مقبولیت میں اتار چڑھاؤ گزشتہ ایک سال سے جاری ہے، تاہم گزشتہ چند ماہ کے دوران اس میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

    کارنیل یونیورسٹی کے روپر سینٹر فار پبلک اوپینین ریسرچ کے مطابق امریکی تاریخ میں کسی صدر کی سب سے کم مقبولیت سابق صدر ہیری ٹرومین کو درپیش آئی تھی، جن کی مقبولیت کی شرح فروری 1952 میں صرف 22 فیصد تک رہ گئی تھی۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کی کارکردگی پر ہونے والے جائزے کو مسترد کرتے ہوئے ان کے اقدامات کا دفاع کیا ہے وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل نے ’نیوز ویک‘ کو ای میل کے ذریعے بتایا کہ امریکی تاریخ میں کسی بھی دوسرے صدر نے عوام کے لیے وہ کام نہیں کیے جو صدر ٹرمپ نے کیے ہیں ان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، معیشت کو مضبوط بنانے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔

    واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری 2025 میں دوسری مرتبہ امریکی صدر کا منصب سنبھالا تھا ان کی دوسری مدتِ صدارت میں امیگریشن، تجارتی پالیسی، حکومتی اخراجات، خارجہ تعلقات اور معاشی فیصلے امریکی سیاست میں اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں۔