Baaghi TV

Tag: ٹرمپ

  • جوبائیڈن مجرم اور فاؤچی ملک کیلئے تباہی ہے،ٹرمپ کی لفظی گولہ باری

    جوبائیڈن مجرم اور فاؤچی ملک کیلئے تباہی ہے،ٹرمپ کی لفظی گولہ باری

    واشنگٹن:جوبائیڈن مجرم اور فاؤچی ملک کیلئے تباہی ہے،ٹرمپ کی لفظی گولہ باری،اطلاعات کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے موجودہ امریکی صدرجوبائیڈن پرسخت تنقید کی ہے اور کہا ہےکہ جوبائیڈن امریکی قوم کا مجرم ہے اور یہ شخص ملک کے لیے تباہی کا سبب بن رہا ہے

    ٹرمپ نے جوبائیڈن پرلفظی گولہ باری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایریزونا کے شہر فونیکس میں انتخابی ریلی سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ جوبائیڈن ایک مجرم ہے۔ وہ پکڑا جاچکا ہے۔

     

     

    ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگرکسی کواس کے مجرم ہونے پر شک ہے تو اس کا لیب ٹاپ چیک کرلیں آپ کو بہت سا گند اس میں سے مل جائے گا اور یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ جوبائیڈن کی حرکات کیسی ہیں‌

    امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدرجوبائیڈن پرسخت تنقید کی ہے۔امریکی چینل فاکس نیوزکوانٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بائیڈن نے تاریخ میں کسی بھی دوسرے صدر سے زیادہ امریکہ کی تذلیل کی ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ ان تمام سالوں میں امریکا کو اتنی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔نہیں جانتا اسے فوجی شکست کہوں یا نفسیاتی شکست۔یہ ہمارے ملک کے لیے ایک خوفناک وقت ہے۔

    سابق صدر ٹرمپ نے اپنا ایک بیان جاری کرتے ہوئے جو بائیڈن پر ”امریکا کو مزید تقسیم کرنے” کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔

    انہوں نے ایک بیان میں اپنے ان سازشی نظریات کا بھی اعادہ کیا کہ نومبر 2020 کے انتخابات ”چوری” کر لیے گئے تھے اور انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کے دعووں کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ اسی بنیاد پر جو بائیڈن عہدہ صدارت پر فائز ہوئے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے

  • ٹرمپ کی آوازدبانے والوں کوشکست:ٹرمپ ٹروتھ سوشل ایپ کو پہلے 48 گھنٹوں میں نصف ملین صارفین مل گئے

    ٹرمپ کی آوازدبانے والوں کوشکست:ٹرمپ ٹروتھ سوشل ایپ کو پہلے 48 گھنٹوں میں نصف ملین صارفین مل گئے

    واشنگٹن :ٹرمپ کی آوازدبانے والوں کوشکست:ٹرمپ ٹروتھ سوشل ایپ کو پہلے 48 گھنٹوں میں نصف ملین صارفین مل گئے ،اطلاعات کے مطابق ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل ایپ اسٹور میں بہت سے انتظار کے لمحات کےساتھ لانچ ہوا

    ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا سوشل میڈیا وینچر، ٹروتھ سوشل، اتوار کو دیر گئے ایپل کے ایپ سٹور میں شروع ہوا، جو کہ ممکنہ طور پر سابق صدر کی سوشل میڈیا پر واپسی کو نشان زد کر رہا ہے جب ان پر گزشتہ سال کئی پلیٹ فارمز سے پابندی لگائی گئی تھی۔

    ایک متزلزل آغاز کے باوجود، ڈونلڈ ٹرمپ کی Truth Social ایپ نے اپنے پہلے 48 گھنٹوں میں 500,000 سے زیادہ صارفین کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

    ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ کی طرف سے بنائی گئی ایپ ایپل کے ایپ اسٹور پر پیر کے اوائل میں لائیو ہو گئی۔ لانچ کا مطلب یہ تھا کہ جنہوں نے ٹروتھ سوشل کو پہلے سے آرڈر نہیں کیا وہ خود ساختہ "فری اسپیچ” پلیٹ فارم پر اکاؤنٹس قائم کر سکتے ہیں۔

    منگل کی شام تک، ٹروتھ سوشل ایپل کی مارکیٹ پلیس پر نصف ملین سے زائد لوگوں کے سائن اپ کرنے کے بعد نمبر ایک مفت ایپ بن گئی تھی، ٹویٹر کے صارفین کے مطابق جنہوں نے اپنی تعداد بڑھتی ہوئی انتظار کی فہرست میں شیئر کی۔

    ایپ آدھی رات سے کچھ دیر پہلے دستیاب تھی اور پیر کے اوائل میں ایپ اسٹور پر دستیاب سب سے اوپر مفت ایپ تھی۔ Truth Social خود بخود Apple Inc کے ان صارفین کے آلات پر ڈاؤن لوڈ ہو گیا جنہوں نے ایپ کا پہلے سے آرڈر کیا تھا۔

     

     

     

    https://twitter.com/pbmnews/status/1496300920057085958?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1496300920057085958%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.newsweek.com%2Ftrump-truth-social-app-apple-app-store-users-1681790

    بہت سے صارفین نے رپورٹ کیا کہ یا تو اکاؤنٹ کے لیے اندراج کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا یا ایک پیغام کے ساتھ انتظار کی فہرست میں شامل کیا گیا: "بڑے پیمانے پر مانگ کی وجہ سے، ہم نے آپ کو اپنی انتظار کی فہرست میں رکھا ہے۔”

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے پہلے اطلاع دی تھی کہ یہ ایپ آزمائشی مرحلے کے دوران استعمال کرنے کے لیے مدعو کیے گئے لوگوں کے لیے دستیاب ہے۔

    ٹرمپ پر 6 جنوری 2021 کو یو ایس کیپیٹل پر ان کے حامیوں کے حملے کے بعد ٹویٹر انکارپوریشن، فیس بک اور الفابیٹ انک کے یوٹیوب پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، جب ان پر تشدد پر اکسانے والے پیغامات پوسٹ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

     

    سابق ریپبلکن امریکی نمائندے کی قیادت میں ڈیوین نونس، ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ (TMTG)، پیچھے کا منصوبہ سچائی سماجی، ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ایک بڑھتے ہوئے پورٹ فولیو میں شامل ہوتا ہے جو خود کو آزاد تقریر کے چیمپئن کے طور پر پوزیشن میں لے رہی ہیں اور امید کرتی ہیں کہ ایسے صارفین کو اپنی طرف متوجہ کریں جو محسوس کرتے ہیں کہ ان کے خیالات کو مزید قائم پلیٹ فارمز پر دبایا گیا ہے۔

    ابھی تک کوئی بھی نئی کمپنی، جس میں ٹویٹر کے حریف گیٹر اور پارلر اور ویڈیو سائٹ رمبل شامل ہیں، اپنے مرکزی دھارے کے ہم منصبوں کی مقبولیت کے قریب نہیں پہنچی ہیں۔

    "اس ہفتے ہم ایپل ایپ اسٹور پر رول آؤٹ کرنا شروع کر دیں گے۔ یہ بہت اچھا ہونے والا ہے، کیونکہ ہمیں بہت سے لوگ ملنے جا رہے ہیں جو پلیٹ فارم پر آنے والے ہیں،” نونس نے ماریا بارٹیرومو کے ساتھ فاکس نیوز کے سنڈے مارننگ فیوچرز پر اتوار کی پیشی میں کہا۔

    "ہمارا مقصد ہے، مجھے لگتا ہے کہ ہم اسے مارنے جا رہے ہیں، مجھے لگتا ہے کہ مارچ کے آخر تک ہم کم از کم امریکہ کے اندر مکمل طور پر کام کرنے جا رہے ہیں،” انہوں نے مزید کہا۔

    ٹروتھ سوشل کے ایپ اسٹور کے صفحے نے اس کے ورژن کی تاریخ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایپ کا پہلا عوامی ورژن دکھایا، یا ورژن 1.0 ایک دن پہلے دستیاب تھا، رائٹرز کی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کی تصدیق۔ صفحہ کے مطابق موجودہ ورژن 1.0.1 میں "بگ فکسز” شامل ہیں۔

  • بائیڈن انتظامیہ نے ٹرمپ دور میں ایران پر عائد پابندیوں سےاستثنیٰ کو بحال کر دیا

    بائیڈن انتظامیہ نے ٹرمپ دور میں ایران پر عائد پابندیوں سےاستثنیٰ کو بحال کر دیا

    امریکی صدر نے ٹرمپ دور میں ایران پر عائد پابندیاں ہٹانا شروع کر دیں-

    باغی ٹی وی : بین الاقوامی خبررساں ادارے "الجزیرہ” کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے جمعہ کے روز ایران کے جوہری پروگرام پر عائد پابندیاں ہٹانا دوبارہ شروع کر دیں۔ انہیں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 2020 میں نافذ کیا تھا۔

    ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب ،یواے ای کو ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے جمعہ کو ایران کی پابندیوں سے استثنیٰ کو بحال کر دیا ہے کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے میں واپسی پر بالواسطہ بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے مئی 2020 میں اس چھوٹ کو منسوخ کر دیا تھا جس میں روسی، چینی اور یورپی کمپنیوں کو ایرانی جوہری مقامات پر عدم پھیلاؤ کی کارروائیاں کرنے کی اجازت دی-

    غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

    محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ یہ چھوٹ ان تکنیکی بات چیت کی اجازت دینے کے لیے ضروری تھی جو مذاکرات کے لیے ضروری ہے اس کا مقصد معاہدے پر واپس جانا ہے جسے باضابطہ طور پر مشترکہ جامع پلان آف ایکشن کہا جاتا ہے۔

    تاہم اہلکار نے کہا کہ استثنیٰ کو بحال کرنا اس بات کا اشارہ نہیں ہے کہ واشنگٹن معاہدے پر واپسی کے لیے سمجھوتہ کرنے کے قریب ہے پابندیوں سے اس چھوٹ کے بغیر تیسرے فریق کے ساتھ ذخیرے کو ٹھکانے لگانے اور عدم پھیلاؤ سے متعلق دیگر سرگرمیوں پر تفصیلی تکنیکی بات چیت کرنا ممکن نہیں ہے۔

    دنیا میں 6.4 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

    اس استثنیٰ میں اراک میں ایران کے بھاری پانی کے تحقیقی ری ایکٹر کی تبدیلی، تہران کے تحقیقی ری ایکٹر کو افزودہ یورینیم کی فراہمی اور صرف شدہ ایندھن کی بیرون ملک منتقلی شامل ہے ٹرمپ کے 2018 میں جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے اور دوبارہ سخت پابندیاں عائد کرنے کے بعد ایران نے بتدریج معاہدے میں طے کی گئی جوہری پابندیوں کی خلاف ورزی شروع کر دی۔

    پاکستان ہمارا اسٹریٹجک پارٹنرہے،پاک چین قربت کے حوالے سے سوال پر امریکا کا جواب

  • مجھے کیوں نکالا:ٹرمپ:آپ جمہوریت کے لیے خطرہ تھے:جوبائیڈن کا جواب

    مجھے کیوں نکالا:ٹرمپ:آپ جمہوریت کے لیے خطرہ تھے:جوبائیڈن کا جواب

    واشنگٹن:مجھے کیوں نکالا:ٹرمپ:آپ جمہوریت کے لیے خطرہ تھے:جوبائیڈن کا جواب،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جھوٹ کا پلندہ ہیں اور امریکہ میں جمہوریت کیلئے شدید خطرہ ہیں۔

    امریکی میڈیا میٹرو یو ایس کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جوبائیڈن نے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 6 جنوری 2021 کو جو واشنگٹن میں سرکاری عمارت کیپیٹل ہِل پر حملہ ہوا اس کی پوری ذمہ داری ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے۔

    صدر کا یہ بھی کہنا تھا ٹرمپ کا یہ بیان کہ 2020 کے الیکشن کے نتائج میں دھاندلی کی گئی، یہ بیان ملک میں قانون کی بالادستی کے نظریے اور مستقبل میں آنے والے انتخابات کی بنیادوں کیلئے خطرہ ہے۔

    جوبائیڈن نے کہا کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ؟ ہمیں اس میں باریک بینی سے تفریق کرنے کی ضرورت ہے۔ سچ یہ ہے کہ سابق صدر نے 2020 کے الیکشن سے متعلق فریب کا جال بُنا اور یہ انہوں نے اس لیے کیا کیونکہ وہ اصولوں سے زیادہ طاقت کو ترجیح دیتے ہیں۔

  • ٹرمپ اور اردوان میٹھی میٹھی باتیں کرنے لگے

    ٹرمپ اور اردوان میٹھی میٹھی باتیں کرنے لگے

    واشنگٹن:شام میں کردوں کے خلاف کارروائی پر امریکہ کی طرف سے ترک صدر طیب اردوان کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ کے سخت اور تلخ جملوں کے جواب میں ترکی کے صدر طیب اردوان کی طرف سے بھرپورجواب کے بعد دونوں ملکوں کی فضا بہت خراب ہوگئی تھی ، تاہم اب صورت حال سنھبلنے لگی ہے

    اصل سے نقل بہتر ، ایک اور حمزہ علی عباسی کا ظہور

    ذرائع کےمطابق معاملات بگڑنے کے بعد اب ٹرمپ اور اردوان میٹھی میٹھی باتیں کرنے لگے ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی شام میں معمولی مارٹر گولے اور اسنائپر کی جھڑپ تھی جو ختم ہوگئی۔

    تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اردون نے بھی جنگ بندی یا لڑائی روکنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، کردوں نے بھی رجب اردوان جیسی خواہش کا اظہار کیا۔https://twitter.com/realDonaldTrump/status/1185219642668867585?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1185219643432230913&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.arynews.tv%2Fus-president-trump-twit-about-erdogan%2F

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ افسوس ایسی سوچ سالوں پہلے سے نہیں تھی، ماضی میں ایسی صورت حال سے مصنوعی طریقوں سے نمٹا گیا، دونوں جانب سے نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا، کامیابی کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔https://twitter.com/realDonaldTrump/status/1185219641972539392?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1185219642668867585&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.arynews.tv%2Fus-president-trump-twit-about-erdogan%2F

    انہوں نے لکھا کہ دولت اسلامیہ کردوں اور ترک دونوں جانب سے گھیرے میں ہیں، پہلی بار یورپی ممالک دولت اسلامیہ میں شامل اپنے شہریوں کے واپسی کے لیے تیار ہیں، واپسی پہلے ہی ہوجانی چاہئے تھی جب جنگجو ہمارے قبضے میں تھے۔

    .https://twitter.com/realDonaldTrump/status/1185219641972539392?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1185219641972539392&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.arynews.tv%2Fus-president-trump-twit-about-erdogan%2F

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ بہرحال اس معاملے میں اچھی پیش قدمی ہوئی ہے۔

    ترک امریکا تعلقات کی بنیاد مضبوط اور جڑیں گہری ہیں، ترک صدر اردوان نے ٹرمپ کے جواب میں خوبصورت جواب دے کر سب کو حیران کردیا

    ڈومور:فروری 2020 تک پھر تلوارلٹک گئی ایف اے ٹی ایف ناخوش

    دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ ترکی اور امریکا تعلقات کی بنیاد مضبوط اور جڑیں گہری ہیں۔

    ترک صدر کا کہنا تھا کہ باہمی تعلق کی مضبوطی کے لیے جو اقدامات کیے گئے ان سے مطمئن ہوں، باہمی کوششیں خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام برقرار رکھیں گی۔

    سینیٹرمشاہداللہ سیاست کریں شرارت نہیں‌،فیصلے میرٹ پر ہوتے ہیں‌ ،پی سی بی

    Comments

  • ٹرمپ  نے چین سے متعلق اہم اعلان کردیا،

    ٹرمپ نے چین سے متعلق اہم اعلان کردیا،

    واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند دن خاموشی کےبعد اب پھر ایک نیا بیان داغ کر عالمی سیاست کا ماحول گرما دیا ہے، اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے حوالے سے اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہےکہ امریکہ چین سے اپنے تجارتی معاملات حل کرنا چاہتا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حسب عادت ٹویٹ کا سہارا لیتے ہوئے ایک بیان داغا ہےکہ امریکہ اپنے عظیم اور بڑے کسانوں کی خاطر چند اہم اقدامات اٹھانے جارہا ہے، یہ کسان محبت وطن ہیں اور امریکی حکومت ان کی بھلائی کے لیے تمام تو کوششیں بروئے کار لائے گی

    مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور ظلم ختم کیا جائے، ترک صدر اردوان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہےکہ وہ اپنے کسانوں کو سہولیات بہم پہنچانے کے لیے چین کے ساتھ مفید معاہدے کریں گے اور ان کو بھرپورفائدہ پہنچائیں‌گے ، یاد رہےکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹویٹس سے گاہے بگاہے عالمی ماحول گرم رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں‌

  • ترکی کا شام میں آپریشن غلط فیصلہ ہے، ٹرمپ کو موڈ خراب ہوگیا

    ترکی کا شام میں آپریشن غلط فیصلہ ہے، ٹرمپ کو موڈ خراب ہوگیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ترکی کا شمالی شام پر حملہ کرنے کا فیصلہ غلط ہے۔واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کو شام سے واپس بلالیا تھا جس کے بعد ترکی کو امریکا کے سابقہ اتحادی کرد جنگجوؤں پر حملہ کرنے کا موقع ملا تھا۔

    اب سعودی خواتین سرحدوں کی حفاظت کریں گی ، محمد بن سلمان کا انوکھا فیصلہ

    فوجیوں کو واپس بلانے کے فیصلے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی ہی جماعت، ریپبلکن پارٹی کے سینیئر اراکین سمیت واشنگٹن کے کئی اعلیٰ عہدیداروں کی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ٹرمپ کے فیصلے کو کرد ملیشیاز کے ساتھ دھوکا قرار دیا گیا ہے۔

    آزادی نہیں فسادی مارچ ،توڑ پھوڑ کے منصوبے ، ریاست کے خلاف شرارت ہے ، شوکت یوسفزئی

    خیال رہے کہ کرد جنگجووں کے ساتھھ مل کر امریکی فورسز نے شام سے داعش کے خاتمے کے لیے لڑا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کہ ‘واشنگٹن اس حملے کو قبول نہیں کرتا’۔ٹرمپ نے ترکی کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فی الفوریہ حملے بند کردے لیکن دوسری طرف ترکی نے امریکہ سمیت تمام عالمی قوتوں کے الزامات کو مسترد کردیا ہے

    اقوام متحدہ بھی کنگال، پیسےمک گئے ،سیکرٹری جنرل نے پردہ چاک کردیا

  • مسلمانوں کے خلاف بھارت اور امریکہ کی ایک زبان  :علی چاند

    مسلمانوں کے خلاف بھارت اور امریکہ کی ایک زبان :علی چاند

    امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں امریکیوں اور ہندوستانیوں سے بھرے سٹیڈیم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم مودی نے ایک دوسرے کو تھپکی دیتے ہوٸے اس بات کا عزم کیا ہے کہ وہ دونوں مل کر دنیا سے اسلامی دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے ۔ یہ بات امریکی صدر نے کہی ہے کہ
    ” ہم بےقصور شہریوں کی انتہا پسند اسلامی دہشت گردی کے خطرہ سے حفاظت کے لئے پرعزم ہیں ”

    کاش مسلمان حکمرانوں میں اتنا عقل و شعور اور سمجھ ہوتی کہ کافر ، عیساٸی اور یہودی کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے ۔ کاش مسلمان حکمرانوں میں اتنی غیرت ہوتی کہ وہ اپنے مظلوم مسلمان بہن بھاٸیوں کی جہاد کے ساتھ مدد کرتے ہمارے حکمرانوں کا یہ المیہ ہے کہ وہ صرف معیشیت کا ہی رونا روتے رہتے ہیں ۔ یہ نہیں سوچتے کہ جنگیں ہار جیت اور معشیت کے لیے نہیں بلکہ اپنے وقار کے لیے لڑی جاتی ہیں ۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی معیشیت بہتر بنانے کے چکروں اپنا وقار مٹی میں ملا دیا ہے ۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنی معیشیت کی خاطر ان ہندوٶں کو اپنے اپنے ملکوں میں نہ صرف مندر تعمیر کر کے دٸیے ہیں بلکہ ان مندروں کا افتتاح بھی اپنے ہاتھوں سے کر رہے ہیں ۔ یہی مسلمان حکمران ان یہود و ہنود کو نہ صرف مندر تعمیر کر کے دے رہے ہیں بلکہ انہیں اپنے اعلی سول اعزازات سے بھی نواز رہے ہیں ۔ کسی کو پچاس لاکھ ڈالر مالیت کا سونے کا ہار پہنایا جارہا ہے اور کسی کو سول اعزاز دیا جارہا ہے ۔ اور بدلے میں کیا مل رہا ہے ان مسلمان حکمرانوں کو ۔ خود ہم پاکستانی حکمران اپنی نمک جیسی نعمت کو انہی یہود و ہنود کو کوڑیوں کے دام دے رہے ہیں ۔ بدلے میں مسلمانوں کو کیا مل رہا ہے سود در سود قرض تلے ساری قوم جھکڑی جارہی ہے ۔

    کشمیر ، فلسطین ، عراق ، برما ، وہ کون سا علاقہ ہے جہاں مسلمان محفوظ ہیں ۔ ؟ امریکہ ہو یا بھارت جیسا ملک مسلمانوں کو کہاں سکون لینے دے رہے ہیں ۔ اور مسلمان شہید ہورہے ہیں ، بچے یتیم ہورہے ہیں ، بہنوں بیٹیوں کے ساتھ جو ہو رہا اس پر تو اب تک شاید آسمان بھی پھٹ جاتا لیکن ان مسلمان بزدل حکمرانوں نے غیرت مند مسلمانوں کی بھی غیرت ڈالر اور معیشیت کے بدلے گروی رکھ دی ۔ ہر جگہ مسلمان اپنی عزتیں لٹا رہے ہیں ، جانیں دے رہے ہیں پھر بھی ملا کیا اسلامی دہشت گردی کا طعنہ ؟ بزدل حکمرانوں نے جتنا امن امن کا راگ الاپا اتنا ہی ہم دہشت گرد ٹھہرے ۔ وجہ صرف اور صرف ہمارے حکمرانوں کی بزدلی اور پھر اس بزدلی کو امن کا نام دینا ۔ محمد بن قاسم صرف ایک مسلمان بچی کی فریاد پر پورا سندھ ہلا گے ۔ نا معیشیت کا سوچا نہ امن کا سوچا ۔ ہے کسی کی جرأت کے محمد بن قاسم کو دہشت گرد لکھے ؟ محمود غزنوی جس نے ہندوستان پر سترہ حملے کیے سو منات کا مندر توڑا ، سترہ حملے کرتے وقت محمود غزنوی نے معیشیت کا سوچا ؟ سو منات کا مندر توڑتے وقت محمود غزنوی نے سوچا کہ دنیا مجھے دہشت گردکہے گی ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مسلمان بزدلی کو امن کا نام نہیں دیتے بلکہ غیرت مند ہوتے ہیں ۔ہے کسی کی جرأت کے محمود غزنوی کو دہشت گرد لکھے ؟ ٹیپو سلطان نے جنگ کی جنگ ہار گے لیکن کسی بزدل یہود وہنود کے آگے گھٹنے نہ ٹیکے ۔ ہے کسی کی جرأت کہ ٹیپو سلطان کو ہارا ہوا لکھے ۔ تاریخ ہارا ہوا اور دہشت گرد صرف اسی کو لکھتی ہے جو بزدلی کو امن کا نام دے کر گھٹنے ٹیک لے ۔

    غیرت مندوں کو ہارا ہوا اور دہشت گرد لکھنے کی جرأت کسی میں نہیں ہوتی ۔ طارق بن زیاد ، صلاح الدین ایوبی ، محمد بن قاسم ، محمود غزنوی ، ٹیپو سلطان ان سب کو کیا اسلام امن کا درس نہیں دیتا تھا ؟ کیا اسلام امن کا درس صرف آج کے ڈرپوک بزدل اور ڈالر کے غلام مسلمان حکمرانوں کو دیتا ہے ؟ مسلمان دہشت گرد نہیں ۔ نہ ہی بزدل ہوتا ہے ۔ مسلمان صرف اور صرف غیرت مند ہوتا ہے ۔

    مودی اور ٹرمپ کے بیان کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان حکمران غیرت کی گولی کھاٸیں اور ایسے غیرت اور جرأت مندانہ خطاب کریں کہ ان نمک حرام یہود و ہنود کی نیندیں حرام ہو جاٸیں ۔ اور انہیں نہ صرف مسلم مقبوضہ علاقے خالی کرنے پڑیں بلکہ اپنی معیشیت کی بھی فکر لاحق ہوجاٸے ۔ لیکن ایسا صرف تبھی ممکن ہوگا جب مسلمان حکمران غیرت مندی دیکھاٸیں گے ۔ ابھی ساری دنیا کی نظریں وزیر اعظم عمران خاں اور ترکی کے صدر رجب طیب اردگان پر لگی ہوٸی ہیں ۔ عرب حکمران تو ان یہود و ہنود کے ہاتھوں کٹھ پتلیاں بن کر انہیں اعلی اعزازات سے نواز رہے ہیں وہ کیا جواب دیں گے اور کیا غیرت مندی دیکھاٸیں گے ۔ یہ ہی وقت ہے جب عمران خان پوری امت کا دل جیت بھی سکتے ہیں اور پوری امت کے دل سے اتر بھی سکتے ہیں ۔ یہی وہ وقت ہے جب عمران خاں یا تو ہیرو بن جاٸے گا یا پھر زیرو ۔

    اللہ پاک مسلمان حکمرانوں کے دل سے یہود و ہنود اور ڈالر کی محبت نکال کر انہیں جرأت مندی اور غیرت کا مظاہرہ کرنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ آمین

  • ٹرمپ جھوٹا شخص ہے اور ہماری جانوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے، مسلمان رکن کانگریس  ٹرمپ پر برس پڑیں‌

    ٹرمپ جھوٹا شخص ہے اور ہماری جانوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے، مسلمان رکن کانگریس ٹرمپ پر برس پڑیں‌

    واشنگٹن : ٹرمپ ہماری جانوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے، اطلاعات کے مطابق امریکی کانگریس میں مسلمان خاتون رکن ایلہان عمر نے کہا ہے امریکی صدر ٹرمپ کے جھوٹ نے ہماری جان کو خطرے میں ڈال دیا ہے

    ذرائع کےمطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ امریکی ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی مسلمان خاتون رکن ایلہان عمر نے گیارہ ستمبر کے واقعات کی برسی کے موقع پر ہونے والے جشن میں شرکت کی تھی –

    دوسری طرف مسلمان رکن کانگریس ایلہان عمر نے بھی ٹرمپ کے اس دعوے کے جواب میں کہا کہ یہ ویڈیو سیاہ فام خواتین کے اعزاز میں ہونے والے ایک پروگرام کی ہے جس کا اہتمام کانگریس کے سیاہ فام اراکین نے کیا تھا- ایلہان عمر نے کہا کہ ٹرمپ ایسے ایسے جھوٹ بول رہے ہیں جس کی وجہ سے ہماری جان اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے –

  • ٹرمپ کے خلاف  بالٹی مور کی سڑکوں پر نکل آئے ، ٹرمپ "چوہا ” کے نعرے

    ٹرمپ کے خلاف بالٹی مور کی سڑکوں پر نکل آئے ، ٹرمپ "چوہا ” کے نعرے

    واشنگٹن : بالٹی مور کے عوام نے امریکی صدر کے دورے کے موقع پر ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور دھرنا دیا۔ امریکی صدر نے جولائی کے مہینے میں اپنے ایک ٹوئیٹ میں بالٹی مور کو ایک گندہ علاقہ کہا تھا جو بقول ان کے بدبودار چوہوں سے بھرا ہوا ہے۔

    امریکی میڈا نے ٹرمپ کے خلاف ہونے والے اس مظاہرے کے بارے میں انکشاف کیا ہے کہ بالٹی مور کے عوام امریکی صدر کے خلاف اپنے نعروں میں انھیں چوہا کہہ کر مخاطب کر رہے تھے۔ مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ ٹرمپ جس دلدل سے آئے ہو اسی میں واپس چلے جاؤ۔ ٹرمپ نے حال میں امریکی ایوان نمائندگان میں بالٹی مور کے نمائندگی کرنے والے الیجا کامنگز کو بدمعاش قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ میکسیکو میں امیگریشن حکام پر تنقید کے بجائے اپنے گندے اور چوہوں سے بھرے ہوئے علاقے پر توجہ دیں۔