Baaghi TV

Tag: ٹک ٹاک

  • ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے دوران گولی چلنے سے نوجوان جاں بحق

    ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے دوران گولی چلنے سے نوجوان جاں بحق

    لاہور کے علاقہ غالب مارکیٹ میں ٹک ٹاک نے نوجوان کی جان لے لی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق لاہور کے علاقہ غالب مارکیٹ میں ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے دوران گولی چلنے سے نوجوان جاں بحق ہوگیا۔پولیس کے مطابق 2 بھائی عبدالرحمان اور عبدالمنان چھت پر رائفل کے ساتھ ٹک ٹاک ویڈیو بنا رہے تھے،رائفل سے اچانک گولی چلی جو عبد الرحمان کی چھاتی پر لگی۔پولیس کا کہنا ہے کہ عبد الرحمان کو طبی امداد کیلئے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن جانبر نہ ہو سکا۔پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لئے، مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہے،ایس پی ماڈل ٹاؤن اخلاق اللہ تارڑ نے جائے حادثہ اور ہسپتال کا دورہ کیااور متاثرہ خاندان سے ملاقات کی، انہوں نے واقعہ کے حوالے سے تفصیلات بھی حاصل کیں۔ ایس پی ماڈل ٹاؤن کا کہنا ہے کہ واقعہ کے حوالے سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں تاہم متوفی کی میت ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے سپرد کر دی جائے گی۔

    وزیراعظم کا پی آئی اے کے ’احمقانہ اشتہار‘ کی تحقیقات کا حکم

    بیرون ممالک جانے والے افراد کو آف لوڈ کرنے کی شکایات

    ٹریفک قوانین سے ناواقف لوگوں کو لائسنس نہیں ملنا چاہیے، شرجیل میمن

  • وینزویلا نے  ٹک ٹاک پر ایک کروڈ ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا

    وینزویلا نے ٹک ٹاک پر ایک کروڈ ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا

    کراکس: وینزویلا کی سپریم کورٹ نے چیلنج ویڈیوز مواد سے ہلاکتوں پر اقدامات نہ لینے پر ٹک ٹاک پر ایک کروڑ ڈالر کا جرمانہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق وینز ویلا میں ٹک ٹاک چینلج ویڈیوز کو پورا کرنے کی دوڑ میں مبینہ طور پر اب تک 3 کم عمر نوجوانوں کی موت ہوچکی ہے اور اس متعلق عدالت نے کہا کہ ٹک ٹاک اس حوالے سے مواد کو روکنے یا ہٹانے کےلیے کوئی اقدامات نہیں کررہا،عدالتی فیصلے میں اس بات کا تذکرہ نہیں ہےکہ ٹک ٹاک جرمانہ کس طرح ادا کرے جبکہ ٹک ٹاک حکام کی جانب سے بھی ابھی تک اس فیصلے پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔

    ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی موہن منجیانی مستعفی

    گزشتہ ماہ نومبر میں وینز ویلا کے صدر نکولس مادورو نے ایک 12 سالہ بچی کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹک ٹاک کو قرار دیا تھا جس نے مبینہ طور پر ایک ٹک ٹاک چیلنج میں حصہ لیا تھا جس میں سکون کی گولیاں لینی تھیں مگر سونا نہیں تھا۔

    لاہور: شراب کے ساتھ اسلحے کی نمائش کرنے والا شخص گرفتار

  • ٹک ٹاک پر پابندی، ٹرمپ،جوبائیڈن آمنے سامنے

    ٹک ٹاک پر پابندی، ٹرمپ،جوبائیڈن آمنے سامنے

    ٹرمپ نے سپریم کورٹ سے ٹک ٹاک پر عائد پابندی مؤخر کرنے کی درخواست کی، جبکہ بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایپ کی موجودگی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ ٹک ٹاک پر عائد پابندی کو مؤخر کرے، جو کہ آئندہ ماہ نافذ ہونے والی ہے۔ جمعہ کے روز ایک قانونی دائرہ میں ٹرمپ نے کہا کہ اس پابندی کے نفاذ میں تاخیر سے ان کی انتظامیہ کو "مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے” کا موقع ملے گا۔ٹرمپ کی یہ درخواست بائیڈن انتظامیہ کے موقف سے متصادم ہے، جس نے جمعہ کو اپنے مؤقف میں ٹک ٹاک کی موجودگی کو امریکی قومی سلامتی کے لیے "سنگین” خطرہ قرار دیا۔ بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک چین کی کمپنی کا حصہ ہے اور اس کی موجودگی امریکی شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ اور عالمی سیاست میں چین کے مفادات کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔

    یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں اس وقت ایک اہم معاملہ بن چکا ہے کہ آیا اپریل میں کانگریس کے منظور کردہ ٹک ٹاک پر پابندی کے قانون سے امریکی آئین کے پہلے ترمیم (آزادی اظہار) کی خلاف ورزی ہوتی ہے یا نہیں۔ عدالت نے 10 جنوری کو اس مقدمے کی سماعت کے لیے دو گھنٹے مختص کیے ہیں۔سپریم کورٹ میں جمعہ کے روز اس مقدمے پر مختلف گروپوں اور حکام کی طرف سے دو درجن سے زیادہ قانونی مؤقف درج کیے گئے ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ اس مقدمے میں فریق نہیں ہیں، تاہم انہوں نے "دوست عدالت” کی حیثیت سے اپنا مؤقف سپریم کورٹ میں پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ ٹک ٹاک پر عائد پابندی کے نفاذ کی تاریخ کو مؤخر کرے تاکہ ان کی آنے والی انتظامیہ اس مسئلے کا کوئی مذاکراتی حل تلاش کر سکے۔

    اپنی قانونی درخواست میں ٹرمپ نے اس مقدمے میں آئین کے پہلے ترمیمی سوالات پر کوئی موقف اختیار نہیں کیا، لیکن انہوں نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ وہ پابندی کے نفاذ کی تاریخ 19 جنوری تک مؤخر کرے تاکہ ان کی انتظامیہ ٹک ٹاک کے معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر سکے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس تاخیر سے امریکہ میں ٹک ٹاک کی مکمل بندش کو روکا جا سکے گا اور امریکی شہریوں کے آئینی حقوق کو بچایا جا سکے گا۔ٹرمپ نے اپنے مؤقف میں مزید کہا کہ وہ اپنے "قوی انتخابی مینڈیٹ” کے تحت اس معاملے کو حل کرنے کے لیے خاص طور پر اہل ہیں اور انہوں نے خود کو سوشل میڈیا کا ایک "انتہائی طاقتور، کامیاب، اور اثر رسوخ رکھنے والا صارف” قرار دیا۔

    جمعہ کو بائیڈن انتظامیہ اور سابق امریکی حکام کی ایک بایپارٹیز گروپ نے ٹک ٹاک پر پابندی کے حق میں اپنی قانونی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کروائیں، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ماضی میں ٹرمپ کے تحت کام کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کی کمپنی کے ساتھ ٹک ٹاک کے تعلقات امریکی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔انتظامیہ نے عدالت کو بتایا کہ ٹک ٹاک "امریکہ کے لاکھوں شہریوں کا ڈیٹا جمع کرتا ہے”، اور چین "اس ایپ کو خفیہ طور پر اپنے جغرافیائی سیاسی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے”۔ اس کا ایک مقصد امریکہ میں انتشار اور غلط اطلاعات پھیلانا ہو سکتا ہے۔

    سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے دستاویزات میں قومی سلامتی اور آزادی اظہار کے درمیان موجود کشمکش کو واضح کیا گیا ہے، خصوصاً اس وقت جب 170 ملین امریکی ٹک ٹاک کا استعمال خبریں اور تفریح کے لیے کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی درخواست میں اس بات کو تسلیم کیا کہ ان کی انتظامیہ نے بھی ٹک ٹاک کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا تھا اور 2020 میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کا حکم جاری کیا تھا، تاہم اس فیصلے کو عدالت نے روک دیا تھا۔ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کا نفاذ ان کے لیے "بدقسمتی سے وقت کی غیر موزوںیت” پیدا کرتا ہے اور اس سے امریکہ کی خارجہ پالیسی کو منظم کرنے میں مشکل پیدا ہوگی۔ ٹرمپ نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ اس پابندی کو مؤخر کرے تاکہ ان کی انتظامیہ اس معاملے کا حل تلاش کر سکے، جو نہ صرف قومی سلامتی کی حفاظت کرے بلکہ ٹک ٹاک جیسے مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو بھی بچایا جا سکے۔

    اب اس مقدمے کی سماعت اور اس کے نتیجے میں آنے والے فیصلے کو امریکہ میں ٹک ٹاک کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو کہ سوشل میڈیا، قومی سلامتی اور آزادی اظہار کے درمیان پیچیدہ تعلقات کو واضح کرے گا۔

  • ٹرمپ کا  امریکا میں ٹک ٹاک کو کام کرنے کی اجازت دینے کا عندیہ

    ٹرمپ کا امریکا میں ٹک ٹاک کو کام کرنے کی اجازت دینے کا عندیہ

    واشنگٹن: امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سرزمین میں ٹک ٹاک کو کام کرنے کی اجازت دینے کا عندیہ دیا ہے-

    باغی ٹی وی : نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ‌ٹرمپ نے کہا ہے کہ کم از کم کچھ عرصے کے لیے وہ ٹک ٹاک پر پابندی کے حق میں نہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایریزونا کے شہر فینکس میں ایک عوامی خطاب کے دوران کہا کہ امریکی صدارتی مہم کے دوران ٹک ٹاک پر ان کی ویڈیوز کے ویوز اربوں میں تھے،یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا میں ٹک ٹاک پر ممکنہ پابندی کی مخالفت کے حوالے سے اب تک کا سب سے زیادہ ٹھوس اشارہ تھا۔

    واضح رہے کہ پہلے ایوان نمائندگان کانگریس نے 20 اپریل اور پھر سینیٹ نے 24 اپریل 2024 کو ٹک ٹاک پر پابندی کے بل کی منظوری دی تھی اس امریکی قانون کے تحت ٹک ٹاک کو 19 جنوری تک امریکا میں کمپنی کو فروخت کرنے کی ہدایت کی گئی ہےاس مدت میں کمپنی کو فروخت نہ کرنے پر امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

    ٹک ٹاک اور بائیٹ ڈانس کی جانب سے مئی 2024 میں اس قانون کو ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کی کورٹ آف اپیلز میں چیلنج کیا گیا اور 16 ستمبر کو اس کی پہلی سماعت ہوئی،6 دسمبر کو عدالت کے تینوں ججوں نے متفقہ فیصلے میں ٹک ٹاک کی اس درخواست کو مسترد کر دیا کہ یہ قانون غیر آئینی ہے۔

    کورٹ آف اپیلز کے 3 ججوں پر مشتمل پینل نے قومی سلامتی سے متعلق خدشات کو جواز قرار دیتے ہوئے ٹک ٹاک پر مجوزہ پابندی کے قانون کو برقرار رکھا تھاعدالتی فیصلے کے بعد ٹک ٹاک کی جانب سے ایک بار پھر اسی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے قانون پر عملدرآمد عارضی طور پر روکنے کی درخواست کی تھی،مگر 13 دسمبر کو کورٹ آف ایپلز نے ٹک ٹاک کی اس درخواست کو بھی مسترد کردیا۔

    گزشتہ دنوں ٹک ٹاک نے امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور امریکا کی اعلیٰ عدالت نے مقدمے کی سماعت پر رضامندی ظاہر کی ہے مگر امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے اگر ٹک ٹاک کے حق میں فیصلہ نہیں سنایا جاتا یا قانون کے اطلاق کو عارضی طور پر ملتوی نہیں کیا جاتا تو پھر اس سوشل میڈیا ایپ کو 19 جنوری کو پابندی کا سامنا ہوگا۔
    لاہور ہائیکورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان
    سعودی عرب نے افغانستان میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا
    وفاقی وزیر تجارت کی کینیا کے ہائی کمشنر سے اہم ملاقات
    شام: عبوری حکومت کے کمانڈر انچیف نے نئی ملٹری پالیسی جاری کردی

  • ایک اور ملک کا ٹک ٹاک پر پابندی کا اعلان

    ایک اور ملک کا ٹک ٹاک پر پابندی کا اعلان

    البانیہ کی حکومت نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ ایک نوجوان طالب علم نے اپنے ساتھی کو چاقو کی وار کر کے قتل کر دیا تھا۔ جس کی وجہ ٹاک ٹاک تھی۔ جھگڑے کا آغاز ٹک ٹاک پر ہونے والی بحث سے ہوا تھا۔ البانوی حکومت نے ٹک ٹاک کی وجہ سے نوجوان کے قتل کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔اس واقعے کے بعد حکام نے والدین اور اساتذہ کے ساتھ متعدد میٹنگز کیں۔ جس کے بعد ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا گیا۔البانوی وزیر اعظم ادی رام نے اس حوالے سے کہا کہ ہم ایک سال کے لیے ٹک ٹاک کو مکمل بند کر رہے ہیں۔ اور اس پابندی کا آغاز سال نو سے ہو گا۔وزیر اعظم کے اعلان کے بعد ٹک ٹاک حکام نے البانوی حکومت سے پابندی پر وضاحت طلب کر لی۔ اور کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ متاثرہ نوجوانوں کے ٹک ٹاک پر اکاؤنٹس تھے۔

    پاورسیکٹرکیلئے مزید 50 ارب سے زائد سبسڈی کافیصلہ

    انگلینڈ کا چیمپئنز ٹرافی کے لیےاسکواڈ کا اعلان

    آرمی چیف کا جنوبی وزیرستان کا دورہ، جوانوں سے ملاقات

  • ٹک ٹاک اور پی ٹی اے کی جانب سے یوتھ سیفٹی سمٹ پاکستان کا انعقاد

    ٹک ٹاک اور پی ٹی اے کی جانب سے یوتھ سیفٹی سمٹ پاکستان کا انعقاد

    ٹک ٹاک نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے اشتراک سے اسلام آباد میں جمعرات کے روز یوتھ سیفٹی سمٹ پاکستان کا انعقاد کیا۔ اس سمٹ کا مقصد آن لائن تحفظ کے بارے میں آگاہی بڑھانا، ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دینا، اور پاکستانی نوجوانوں کو آن لائن تحفظ فراہم کرنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔

    یہ سمٹ نوجوانوں اور کم عمر افراد کی حفاظت پر کام کرنے والے متعلقہ شراکت داروں کو ایک اہم پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا ذریعہ تھی، جس میں حکومتی نمائندے، قانون نافذ کرنے والے ادارے، اساتذہ، والدین اور بچے، بچوں کی حفاظت کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے اور صنعت کے ماہرین شامل تھے۔اس سمٹ میں کئی معلوماتی سیشنز منعقد ہوئے۔ ایک سیشن میں ‘ڈیجیٹل حفاظت’ کے اقدام پر روشنی ڈالی گئی تھی، جو ٹک ٹاک اور پی ٹی اے کے درمیان ایک مشترکہ کاوش ہے تاکہ پاکستانی نوجوانوں میں آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل شعور کو فروغ دیا جا سکے۔ پی ٹی اے نے اپنی موجودہ کاوشوں پر ایک پریزنٹیشن بھی دی، جس میں بچوں کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو اجاگر کیا گیا، خاص طور پر ایسے اقدامات جن کا مقصد نوجوان صارفین کے لیے ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول کی تشکیل ہے۔

    ایک اور سیشن میں بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ٹک ٹاک کے عزم کو اجاگر کیا گیا اور ساتھ ہی پلیٹ فارم کی جانب سے نوجوان صارفین کے تحفظ کے لیے پیش کیے گئے سیفٹی فیچرز پر بھی توجہ دی گئی ۔ ان فیچرز میں فیملی پیرنگ،سیفٹی فیچر، کمیونٹی گائیڈلائنز، اور یوتھ سیفٹی پورٹل شامل تھے۔ یہ تمام ٹولز والدین، اساتذہ، اور خود نوجوان صارفین کو ایک محفوظ آن لائن ماحول کی تشکیل میں بااختیار بنانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔

    ‘بچوں کی آن لائن حفاظت میں بہتری ‘کے موضوع پر ایک پینل ڈسکشن کا انعقاد بھی ہوا، جس میں ٹک ٹاک کی نوجوان صارفین کے لیے محفوظ ماحول بنانے کے عزم کو اجاگر کیا گیا۔ اس پینل میں پی ٹی اے، سی ای آر ٹی، یونیسف پاکستان، اور ساحل کے نمائندوں نے بطور ماہرین شرکت کی اور بچوں کے تحفظ پر مختلف زاویوں سے روشنی ڈالی۔ اس کے بعد سوال و جواب کا سیشن ہوا اور معزز شخصیات نے حاضرین سے خطاب کیا۔

    سمٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے پی ٹی اے کے چیئرمین، میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمٰن نے ایک محفوظ آن لائن ماحول کے قیام کے لیے اتھارٹی کے غیر متزلزل عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا: ”یہ سمٹ پاکستان میں نوجوانوں کے لیے محفوظ اور جامع ڈیجیٹل ماحول کو یقینی بنانے کے ہمارے مشن میں ایک اہم قدم کی حیثیت رکھتی ہے۔ پی ٹی اے بچوں کے آن لائن تحفظ کو یقینی بنانے اور ڈیجیٹل طور پر ذمہ دار معاشرے کو فروغ دینے کے لیے جدید اقدامات کے نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔“

    ٹک ٹاک میں مشرق وسطیٰ، تُرکیہ، افریقہ، پاکستان اور جنوبی ایشیا کے ڈائریکٹر برائے گورنمنٹ ریلیشنز اور پبلک پالیسی، امیر گلین نے کہا: ”ٹک ٹاک میں ہم اپنے صارفین، خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کے آن لائن تحفظ اور بہبود کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ سمٹ پاکستان میں ایک محفوظ آن لائن ماحول کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ہم ڈیجیٹل لٹریسی اور آن لائن تحفظ کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے پی ٹی اے کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔ “

    سمٹ کے اختتام پر #DigitalHifazat مقابلے کے کامیاب شرکاء کا اعلان کیا گیا۔#DigitalHifazatمقابلے کوٹک ٹاک اورپی ٹی اے کے مشترکہ اقدام کے طور پر شروع کیا گیا تھا اور اس کا مقصد پاکستانی نوجوانوں میں ڈیجیٹل تحفظ کے حوالے سے آگاہی کو فروغ دینا تھا۔ اس مقابلے میں کری ایٹرز کو چھ اہم شعبوں پر مختصر ویڈیوز بنانے کی دعوت دی گئی تھی: جن میں سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال، آن لائن ہراسانی کا خاتمہ، آن لائن دھوکہ دہی کی روک تھام، نوجوانوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا، ٹک ٹاک کے حفاظتی ٹولز کو سمجھنا اور غلط معلومات کا تدارک شامل تھے۔مقابلے میں 11,000 درخواستیں موصول ہوئیں تھیں جن سے میں 3 کو انعامات دیے گئے۔ ان ویڈیوز کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں میں ڈیجیٹل تحفظ سے آگاہی کے فروغ میں غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کی نشاندہی ہوئی۔ مقابلے کے فاتح بلال شہزاد قرار پائے، جبکہ چوہدری دانش اور محمد عثمان کیانی بالترتیب پہلے اوردوسرے رنر اپ رہے۔

    یوتھ سیفٹی سمٹ پاکستان کی کامیابی کے تسلسل میں، ٹک ٹاک اور پی ٹی اے نے اپنے پبلک پالیسی پروگرام کے دائرہ کار کو بڑھانے کا اعلان کیا، جو "ڈیجیٹل حفاظت” پر مرکوز ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت ٹک ٹاک اور پی ٹی اے کے درمیان تعاون مزید مضبوط کیا جائے گا تاکہ ملک بھر میں ڈیجیٹل خواندگی اور تحفظ کو فروغ دیا جا سکے

    ٹک ٹاک پر مختلف سکلز ،مقامی زبانوں میں تعلیم دی جا سکتی ہے،شزہ فاطمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • ٹک ٹاک  پر مختلف سکلز ،مقامی زبانوں میں تعلیم دی جا سکتی ہے،شزہ فاطمہ

    ٹک ٹاک پر مختلف سکلز ،مقامی زبانوں میں تعلیم دی جا سکتی ہے،شزہ فاطمہ

    وزیر مملکت آئی ٹی شزہ فاطمہ سے ٹک ٹاک کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور سوشل میڈیا پر معیاری مواد کے حوالے سے گفتگو کی گئی، وفد نے وزیر مملکت کو ٹک ٹاک کے پاکستان میں اقدام اور مستقبل کے پروگرامز پربریفنگ دی، ٹک ٹاک کے وفد نے ڈائریکٹر پبلک پالیسی مسٹر ایمر گیلن کی قیادت میں ملاقات کی.

    وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹک ٹاک کے بہت زیادہ صارفین ہیں.سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر معیاری مواد کا ہونا بہت اہم ہے.ٹک ٹاک پلیٹ فارم کا تعلیمی مقاصد کیلئے بھی استعمال چاہتے ہیں.ٹک ٹاک پلیٹ فارم پر مختلف سکلز ،مقامی زبانوں میں تعلیم دی جا سکتی ہے.وزارت آئی ٹی ٹک ٹاک کو مکمل سپورٹ فراہم کرے گی.وفد نے وزیر مملکت کو یقین دہانی کروائی کہ ٹک ٹاک پر معیاری اور سود مند مواد یقینی بنایا جائے گا، ٹک ٹاک وفد نے وزارت آئی ٹی کے ذیلی اداروں کے ساتھ ملکرکام کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا.

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • کینیڈا  نے  ٹک ٹاک کو ملک سے دفاتر بند کرنے کا حکم دےدیا

    کینیڈا نے ٹک ٹاک کو ملک سے دفاتر بند کرنے کا حکم دےدیا

    کینیڈا نے چینی شارٹ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کا خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے ملک سے اپنے تمام دفاتر بند کرنے کا حکم دے دیا۔

    امریکی اخبار ے مطابق کینیڈین وزیر سائنس و صنعت فرانسس فلپ چمپیگن (Francois-Philippe Champagne) نے ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر اپنے آپریشنز کینیڈا میں بند کرنے کا حکم دیا۔وزیر نے حساس اداروں سمیت مختلف اداروں نے ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا، جس کے بعد ایپلی کیشن انتظامیہ کو اپنے دفاتر بند کرنے کا کہا گیا۔انہوں نے واضح کیا کہ ٹک ٹاک پر پابندی نہیں لگائی جا رہی، تاہم ساتھ ہی انہوں نے کینیڈین عوام کو تجویز دی کہ مذکورہ ایپلی کیشن کا استعمال ترتیب وار کم کیا جائے تو بہتر ہے۔کینیڈین وزیر کے مطابق ٹک ٹاک کے دفاتر بند کیے جا رہے ہیں، ایپلی کیشن کے استعمال پر پابندی عائد نہیں کی جا رہی۔اس سے قبل کینیڈین خفیہ ایجنسی کی سفارش پر بھی حکومت نے عوام کو ٹک ٹاک کے استعمال کو محدود کرنے کی تجویز دی تھی۔واضح رہے کہ کینیڈا کی حکومت نے سرکاری ڈیوائسز میں بھی ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی جب کہ وہاں ایپلی کیشن پر وقتا بوقتا دوسری پابندیاں بھی لگائی جاتی رہی ہیں۔دوسری طرف کینیڈین حکومت کی جانب سے دفاتر بند کرنے کے احکامات جاری کیے جانے کے بعد ٹک ٹاک نے حکومتی فیصلے کے خلاف عدالتوں سے رجوع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ٹک ٹاک کے مطابق وہاں دفاتر ختم کرنے سے درجنوں مقامی افراد کی ملازمتیں ختم ہوں گی اور کسی کا روزگار ختم ہونا کسی کے لیے بھی فائدہ مند نہیں۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا کوئٹہ کادورہ سول ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی

    کراچی : پولیس کے ضلع سینٹرل کےمختلف علاقوں میں سرچ آپریشنز

    بلدیہ عظمیٰ کراچی کی مارکیٹوں کو سولر سسٹم پر منتقل کیا جائے گا، میئر کراچی

  • امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    امریکہ میں ہونے والے حالیہ انتخاب میں نوجوان ووٹرز نے بڑی تعداد میں حصہ لیا، جن میں سے بیشتر پہلی بار ووٹ ڈالنے والے تھے۔ کملا ہیرس اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے انتخابی مہم کے دوران ان نوجوانوں کو ٹارگٹ کیا، جو اب اپنے سیاسی فیصلے کرنے کی عمر تک پہنچ چکے ہیں۔

    کولمبیا یونیورسٹی کے کولمبیا میگزین کی رپورٹ کے مطابق، جنریشن زی 40 ملین سے زیادہ ووٹرز پر مشتمل ہے، جن میں سے آٹھ ملین نئے ووٹرز ہیں۔ اور سوشل میڈیا کا ان پر اثر و رسوخ کم نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ ایڈن کون،مرفی، جنریشن زی فار چینج کے بانی نے سی این این کو بتایا۔ ان کے مطابق، ٹک ٹاک نے نوجوانوں کو صدارتی امیدواروں اور ان کی مہمات کے بارے میں آگاہ کرنے میں مدد کی ہے۔ ایڈن کون مرفی نے کہا، "نوجوانوں کے لئے کلیدی مسائل موسمیاتی تبدیلی، تولیدی انصاف، اسلحہ کا تشویشناک استعمال، اور جو بائیڈن کا اسرائیلی حکومت کے لیے غیر مقبول حمایت ہیں۔ نوجوانوں نے ٹک ٹاک پر معلومات کا تبادلہ اس انداز میں کیا کہ اس سے ان کے سیاسی خیالات میں تبدیلی آئی اور امیدواروں کی حمایت بڑھ گئی۔

    ایک اور اہم پہلو یہ تھا کہ نئے ووٹرز میں سے زیادہ تر کو پہلے والے سیاسی سکینڈلز، جیسے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی "ایکسیس ہالی ووڈ” ٹیپ، کا علم نہیں تھا۔ لیکن سوشل میڈیا نے ان نوجوانوں کو ان سکینڈلز سے آگاہ کیا۔ ایڈن کون مرفی نے کہا، "ہم اس وقت پانچویں اور ساتویں جماعت کے درمیان تھے جب ایکسیس ہالی ووڈ کی ٹیپ سامنے آئی تھی۔ ہم ٹرمپ کے بدزبانی اور غیر اخلاقی رویوں کے عادی ہو گئے ہیں، لیکن یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں ان نوجوانوں نے نہیں سنا تھا، اور مجھے لگتا ہے کہ ٹک ٹاک نے ان نوجوانوں کو ان واقعات کے بارے میں آگاہ کیا اور انہیں چونکا دیا۔”

    یہ بات واضح ہے کہ ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے نوجوانوں میں سیاسی آگاہی کو تیز کیا ہے اور انہیں اپنے انتخابی فیصلوں میں زیادہ سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ اس کے ذریعے سیاست میں شامل ہونے والی نئی نسل کی آواز میں طاقت آئی ہے، اور وہ اپنے مستقبل کے بارے میں زیادہ آگاہ اور متحرک ہو گئے ہیں۔

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

    کون بنے گا وائیٹ ہاؤس کا مکین،پہلا حیران کن نتیجہ موصول

    امریکی صدارتی انتخابات،فیصلہ کن دن،ٹرمپ اور کملا کی نظریں کن ریاستوں پر

    کملا کی آخری ریلی،میوزک سپراسٹار لیدی گاگاکی شرکت،مداحوں کو پرجوش کر دیا

    انتخابی مہم،ٹرمپ کے 900 جلسے،گالیاں،کملاہیرس کو "سیکس ورکر”کہہ دیا

    غزہ جنگ کا خاتمہ کروں گی،کملاہیرس کی عرب امریکیوں کی حمایت کی کوشش

    ٹرمپ کی معیشت کے حوالے سے ہیرس پر تنقید

    ٹرمپ الیکشن سے پہلے کا آخری دن کہاں گزاریں گے؟

    انتخابی مہم میں ٹرمپ کے جھوٹ،ہارتے ہیں تونتائج چیلنج کرنیکی تیاری

    امریکی انتخابات میں خلائی اسٹیشن پر موجود خلا باز بھی ووٹ کاسٹ کریں گے؟

  • ٹک ٹاک کا  پی ٹی اے کے تعاون سے مقابلہ منعقد کرانے کا اعلان

    ٹک ٹاک کا پی ٹی اے کے تعاون سے مقابلہ منعقد کرانے کا اعلان

    اسلام آباد:ویڈیو شئیرنگ ایپ ٹک ٹاک نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے تعاون سے نوجوانوں کیلئے ایک مقابلہ منعقد کرانے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ٹک ٹاک نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے تعاون سے نوجوانوں میں ڈیجیٹل سیفٹی سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے لیے ڈیجیٹل حفاظت (DigitalHifazat#) نامی مقابلہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ،اس مقابلے کے تحت ٹک ٹاک صارفین کو ایسی مختصر ویڈیوز تیار کرنی ہوں گی جن میں 6 موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہو-

    ان موضوعات میں سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال، آن لائن ہراس کا مقابلہ، آن لائن دھوکہ دہی کی روک تھام، نوجوانوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا، ٹک ٹاک کے سیفٹی ٹولز کو سمجھنا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غلط معلومات کا تدارک شامل ہیں-

    پاکستان میں سب سے پہلے آصفہ بھٹو کو پولیو ویکسین پلائی گئی،بلاول بھٹو

    ٹک ٹاک پر مقابلے کے آفیشل ہیش ٹیگ پیج پر فارم بھر کر ویڈیوز کے ساتھ جمع کرانا ضروری ہے 20 اکتوبر سے 5 نومبر 2024 تک جاری رہنے والے مقابلے کے نتائج کا اعلان آفیشل ہیش ٹیگ پیج پر کیا جائے گا اور 3 افراد کو انعامات بھی دئیے جائیں گے۔

    عمران خان سے اڈیالہ جیل میں وکلا کی ملاقات کا فیصلہ