Baaghi TV

Tag: ٹک ٹاک

  • فرانس نے بھی چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی

    فرانس نے بھی چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی

    فرانس نے بھی چینی ایپلیکیشن ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی-

    باغی ٹی وی: فرانس کی پبلک سیکٹر ٹرانسفارمیشن اور سول سروسز کی وزارت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حکومت کی طرف سے عائد کی گئی پابندی پر فوری عمل درآمد کیا جائے گا فرانس نے جمعہ کو اعلان کیا کہ اس نے ڈیٹا کی ناکافی حفاظتی اقدامات کے بارے میں تشویش کی وجہ سے پابند ی عائد کی جا رہی ہے-

    یہ اقدام مقبول ویڈیو شیئرنگ ایپ کے بارے میں خدشات کے درمیان جمہوری ممالک میں ٹِک ٹاک پر اسی طرح کی پابندیوں کے بعد ہے۔ لیکن فرانسیسی فیصلے میں دوسرے پلیٹ فارمز کو بھی شامل کیا گیا جو بڑے پیمانے پر سرکاری عہدیداروں، قانون سازوں اور خود صدر ایمانوئل میکرون کے ذریعہ استعمال ہوتے ہیں۔

    فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین اور انتظامیہ کی سائبر سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے حکومت کی جانب سے ملازمین کے پروفیشنل فون پر ٹک ٹاک جیسی ’ری کریئشنل‘ ایپلی کیشنز کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    فرانسیسی وزیر برائے تبدیلی اور پبلک ایڈمنسٹریشن، سٹینسلاس گورینی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’تفریحی‘‘ ایپس اتنی محفوظ نہیں ہیں کہ ریاستی انتظامی خدمات میں استعمال کیے جا سکیں یہ ڈیٹا کے تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں-

    پابندی کی نگرانی فرانس کی سائبر سیکیورٹی ایجنسی کرے گی بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کن ایپس پر پابندی ہے لیکن یہ نوٹ کیا گیا کہ یہ فیصلہ دیگر حکومتوں کی جانب سے ٹِک ٹاک کو نشانہ بنانے کے اقدامات کے بعد آیا۔

    گورینی کے دفتر نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ پابندی میں ٹویٹر، انسٹاگرام، نیٹ فلکس، کینڈی کرش جیسی گیمنگ ایپس اور ڈیٹنگ ایپس بھی شامل ہوں گی۔

    حکام کے مطابق فرانس کے یورپی اور بین الاقوامی پارٹنرز کی جانب سے چینی ایپلی کیشن ٹک ٹاک کی ڈاؤن لوڈنگ اور استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی، سکیورٹی خدشات کے بنا پر فرانس نے بھی ایپلی کیشن پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے تاہم پروفیشنل معاملات میں ایپلی کیشن کے استعمال کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکا، کینیڈا، برطانیہ، نیدرلینڈ، بیلجیئم اور نیوزی لینڈ سمیت دیگر ممالک کی جانب سے ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

  • نیوزی لینڈ نے بھی ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی

    نیوزی لینڈ نے بھی ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی

    امریکا اور برطانیہ کے بعد نیوزی لینڈ نے بھی ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی،

    نیوزی لینڈ نے اراکین پارلیمان کے ڈیوائسز پر ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے،خبر رساں ادارے کے مطابق ٹک ٹاک ایپ ان تمام ڈیوائسز پر بند ہو گی جو پارلیمان کے نیٹ ورک سے جُڑے ہیں،نیوزی لینڈ میں ٹک ٹاک پر پابندی کا آغاز 31 مارچ سے ہوگا،2020میں امریکا نے ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا،

    قبل ازیں برطانیہ نے سرکاری ڈیوائسز میں چین کی ایپلی کیشن ٹک ٹاک کے استعمال پرپابندی لگا دی گئی برطانیہ کے کابینہ وزیر اولیور ڈاؤڈن کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے سرکاری ڈیوائسز میں ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔برطانوی وزیراولیور نے بتایا کہ برطانیہ نےسکیورٹی خدشات پرسرکاری ڈیوائسز میں چین کی ایپلی کیشن ٹک ٹاک پرپابندی لگائی ہے، چینی ایپلی کیشن پر عائد پابندی پر فوری عمل درآمد کیا جائے گا۔ دوسری جانب چین نے برطانیہ کی جانب سے ٹک ٹاک پر لگائی گئی پابندی پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو سیاسی قرار دے دیا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا، کینیڈا اور بیلجیم سمیت مختلف یورپی ممالک بھی سرکاری ڈیوائسزمیں ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی لگا چکے ہیں۔

    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ

  • برطانیہ میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی گئی

    برطانیہ میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی گئی

    برطانیہ میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد کردی گئی

    برطانیہ نے سرکاری ڈیوائسز میں چین کی ایپلی کیشن ٹک ٹاک کے استعمال پرپابندی لگادی، اقدام پر چین کی جانب سے سخت ردعمل اظہار۔ جبکہ خبر ایجنسی کے مطابق برطانیہ کے کابینہ وزیر اولیور ڈاؤڈن کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے سرکاری ڈیوائسز میں ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔

    برطانوی وزیراولیور نے بتایا کہ برطانیہ نےسکیورٹی خدشات پرسرکاری ڈیوائسز میں چین کی ایپلی کیشن ٹک ٹاک پرپابندی لگائی ہے، چینی ایپلی کیشن پر عائد پابندی پر فوری عمل درآمد کیا جائے گا۔ دوسری جانب چین نے برطانیہ کی جانب سے ٹک ٹاک پر لگائی گئی پابندی پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو سیاسی قرار دے دیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    زمان پارک،کارکن بنے عمران خان کی ڈھال،تاحال گرفتاری نہ ہو سکی
    عمران خان کو کس نے کہا کہ بیڈ کےنیچے چھپ جاو؟ مریم نواز
    روٹین سے ہٹ کر کردار کرنا چاہتا ہوں عثمان مختار
    نور مقدم قتل کیس، ملزمان کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سنایا فیصلہ
    بانی ایم کیو ایم 1 کروڑ پاؤنڈ پراپرٹی کا کیس لندن ہائیکورٹ میں ہار گئے
    مریم نواز بارے جھوٹی خبر پرتجزیہ کار عامر متین کو ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا گیا
    پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع
    آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر پر حکومت کا امریکا سے بات کرنے کا فیصلہ
    برطانوی فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے برطانیہ میں چینی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ سرکاری فونز میں ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ حقائق کے برعکس ہے۔ تاہم چینی سفارتخانہ کے مطابق فیصلہ برطانیہ میں متعلقہ کمپنیوں کے معمول کے کاموں میں مداخلت ہے، ایسے فیصلے سے برطانیہ کے اپنے مفادات کو ہی نقصان پہنچے گا۔ برطانوی پابندی پر اپنے ردعمل میں ٹک ٹاک کے ترجمان نے فیصلے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ پابندی وسیع سیاسی غلط فہمیوں کی بنیاد پر لگائی گئی ہے جس میں ٹک ٹاک یا اس کے لاکھوں صارفین کا کوئی کردار نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا، کینیڈا اور بیلجیم سمیت مختلف یورپی ممالک بھی سرکاری ڈیوائسزمیں ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی لگا چکے ہیں۔

  • امریکی پارلیمان نے بائیڈن کو ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کے اختیار کا بل منظور کر لیا

    امریکی پارلیمان نے بائیڈن کو ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کے اختیار کا بل منظور کر لیا

    امریکی پارلیمانی کمیٹی برائے خارجہ امور نے صدر جو بائیڈن کو چینی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر پابندی کے اختیارات دینے کا بل منظور کر لیا۔

    باغی ٹی وی : "روئٹرز” کے مطابق صدر بائیڈن کو حاصل ہونے والے اختیارات کے تحت وہ ٹک ٹاک سمیت کسی بھی سوشل میڈیا ایپ پر پابندی لگا سکیں گے۔

    امریکی قانون سازوں نے 16 کے مقابلے میں 24 ووٹوں سے ٹک ٹاک پر پابندی کے صدارتی اختیار کا بل منظور کر لیا جس کے تحت صدر بائیڈن کو 100 ملین سے زائد امریکیوں کی جانب سے استعمال کی جانے والی چینی ایپلی کیشن پر پابندی لگانے کا اختیار حاصل ہو گیا۔

    امریکی پارلیمانی کمیٹی برائے خارجہ امور کے ریپبلکن چیئرمین مائیکل مک کال نے ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کیلئے ایک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی وقت ہے کہ اس کے خلاف عملی اقدامات اٹھائے جائیں، کوئی بھی شخص جو اپنے ڈیوائس پر ٹک ٹاک ایپ انسٹال کرتا ہے دراصل وہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کو اپنی نجی معلومات تک رسائی کیلئے ایک بیک ڈور مہیا کر رہا ہے، یہ آپ کے موبائل فون میں ایک جاسوس غبارہ ہے۔

    "کسی بھی شخص نے اپنے ڈیوائس پر ٹِک ٹاک ڈاؤن لوڈ کیا ہے جس نے سی سی پی (چین کی کمیونسٹ پارٹی) کو اپنی تمام ذاتی معلومات کا بیک ڈور دیا ہے۔ یہ ان کے فون میں جاسوسی غبارہ ہے۔”

    دوسری جانب ڈیموکریٹ اراکین نے بل کی مخالفت کرتے ہوئےموقف اختیار کیا کہ ماہرین کی رائے لیے بغیر اور بحث کیے بغیر جلد بازی میں یہ بل منظور کیا گیا ہے، بل میں واضح نہیں ہے کہ پابندی کس طرح عمل میں لائی جائے گی بلکہ یہ بل صدر کو یہ اختیار دے دیتا ہے کہ وہ ٹک ٹاک کے ساتھ امریکا میں کسی بھی ایپلی کیشن کو اپنے موبائل فون پر ڈاؤن لوڈ کرنے پر پابندی عائد کر سکیں-

    انہوں نے بل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل صدر بائیڈن کو یہ اختیار دے دیتا ہے کہ کسی بھی ایسی چیز پر پابندی عائد کر دیں جس سے انہیں یہ محسوس ہوتا ہو کہ یہ چین کے زیر اثر ہونے کے باعث خطرہ بن سکتی ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے اس ہفتے سرکاری ایجنسیوں کو یہ یقینی بنانے کے لیے 30 دن کا وقت دیا کہ ٹک ٹاک کسی بھی وفاقی ڈیوائسز اور سسٹم پر نہیں ہے۔ 30 سے ​​زیادہ امریکی ریاستوں، کینیڈا اور یورپی یونین کے پالیسی اداروں نے بھی ٹک ٹاک کو سرکاری ڈیوائسز پر لوڈ کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل وائٹ ہاؤس کی جانب سے تمام وفاقی ایجنسیوں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے تمام ڈیوائسز اور سسٹمز پر ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

    امریکی پیروی کرتے ہوئے یورپی یونین اور کینیڈا کے پالیسی ساز اداروں کی جانب سے بھی سرکاری ڈیوائسز پر ٹک ٹاک انسٹال کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

    امریکا کی جانب سے سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر پابندیاں عائد کرنے پر چین نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹک ٹاک پر عائد پابندیوں سے امریکی حکومت کے عدم تحفظ اور ریاستی اختیار کے غلط استعمال کا انکشاف ہوتا ہے، امریکی حکومت نے قومی سلامتی کے تصور کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے اور ریاستی اختیار کو دیگر ممالک کی کمپنیوں کو دبانے کیلیے استعمال کیا ہے۔

  • سلامتی کیلئے خطرہ ،چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی

    سلامتی کیلئے خطرہ ،چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی

    کینیڈا نے چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی ہے، پابندی حکومت کی جاری کردہ تمام سرکاری ڈیوائسزپر لگائی گئی ہے ۔

    باغی ٹی وی: کینیڈین حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹک ٹاک ایپ پرائیوسی اور سلامتی کیلیے ناقابل قبول حد تک خطرہ ہے ۔

    کینیڈین حکومت نے وفاقی ملازمین کو مستقبل میں ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے سے روک دیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ٹک ٹاک کے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے طریقے فون کے مواد تک کافی رسائی فراہم کرتے ہیں۔

    اس سے پہلے برطانوی ماہرین نے بھی ٹک ٹاک ایپ محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔برطانوی ماہرین کا خیال ہے کہ ٹک ٹاک کے ذریعے برطانیہ کا ڈیٹا چین کے سرکاری اداروں تک پہنچ سکتا ہے۔

    دریں اثنا برطانوی ماہرین نے بھی ٹک ٹاک ایپ محدود کرنے کا مطالبہ کر دیا برطانوی ماہرین کا خیال ہے کہ ٹک ٹاک کے ذریعے برطانیہ کا ڈیٹا چین کے سرکاری اداروں تک پہنچ سکتا ہے۔

    اس سے قبل امریکہ امریکہ اور یورپی یونین اپنے سرکاری ملازکی کو ٹاک استعمال کرنے سے روک چکا ہے۔

    ایک ہفتہ قبل 24 فروری کو یورپی یونین کے سرکاری ملازمین کو ڈیٹا کے حفاظت کی خاطر فوری طور پر ٹک ٹاک ایپ اپنے موبائل سے ڈیلیٹ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

    امریکہ کی 26 ریاستیں ٹک ٹاک پر مکمل پابندی عائد کر چکی ہیں اور اب امریکہ میں ٹک ٹاک کے مختلف پہلووْں کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ امریکہ میں ٹک ٹاک پر مکمل پابندی کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • ٹک ٹاک کا ابھرتا ہوا ستارہ ہنی کِنگ گرفتار

    ٹک ٹاک کا ابھرتا ہوا ستارہ ہنی کِنگ گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں

    لاہور پولیس نے کاروائی کی ہے اور ٹک ٹاک کا ابھرتا ہوا ستارہ ہنی کِنگ گرفتار کر لیا ہے، لاہور کے تھانے ملت پارک پولیس نے کارروائی کی ہے، سوشل میڈیا پر فالوورز۔لائکس کی دوڑ میں اسلحہ کی نمائش کرنے والا حنان شیخ عرف ہنی کِنگ گرفتارکر لیا گیا، ایس پی اقبال ٹاؤن عثمان ٹیپو کا کہنا ہے کہ انٹرٹینمنٹ کی آڑ میں قانون کی خلاف ورزی مت کریں۔ملزم حنان شیخ عرف ہنی کِنگ نے اسلحہ کی نمائش کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی تھی سوشل میڈیا پر اسلحہ کی نمائش۔ہوائی فائرنگ پر پابندی عائد ہےملزم کے قبضہ سے پستول و گولیاں برآمد کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا، ایس پی اقبال ٹاؤن عثمان ٹیپو نے ایس ایچ او زوہیب اعوان اور ملت پارک پولیس ٹیم کو شاباش دی، اور کہا کہ سوشل میڈیا پر اسلحہ کی نمائش۔ہوائی فائرنگ کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی

    مارگلہ ہلز پرآگ لگا کر ویڈیو بنانے والی خاتون ٹک ٹاکر کے خلاف مقدمہ درج

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

    دو خواجہ سراؤں کا قتل،پولیس نے خواجہ سراؤں کو دھکے مار کر تھانے سے نکال دیا

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    دوسری جانب آن لائن پتنگیں و ڈور سپلائی کرنے والے 02 ملزمان گرفتارکر لئے گئے، شیراکوٹ پولیس نے کارروائی کی اور ملزمان کو بابو صابو چوک کے قریب بس سٹاپ سے گرفتار کیا گیا پشاور سے پتنگیں منگوا کر آن لائن فروخت کرنے والے ملزمان طلحہ اور احتشام گرفتارکئے گئے، ملزم آن لائن پتنگیں پشاور سے منگوا کر لاہور میں آن لائن آرڈر سپلائی کرتے تھے پتنگ فروش ملزمان طلحہ اور احتشام کے قبضہ سے 125 پتنگیں برآمد کی گئیں، ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا،

  • 2022 میں سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ

    2022 میں سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت میں غیرمعمولی اضافہ

    تازہ رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں سوشل میڈیا ایپس اور ان کے استعمال میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔

    دنیا بھر میں ڈجیٹل رحجانات پر نظررکھنے والی ایک کمپنی ڈیٹا اے آئی نے 91 صفحے کی رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 2022 میں سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت اور اس پر گزارے گئے عوامی وقت میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارم کے علاوہ نئی ایپ بھی اپنی جگہ بناسکیں جن میں ’بی ریئل‘ نامی تصویری ایپ بھی ہے جن کے صارفین اگست 2022 میں 53 لاکھ تھے اور اب ایک کروڑ تک پہنچ چکے ہیں۔ تاہم ان میں امریکی صارفین کی اکثریت ہے اور میٹا کی ایپس یعنی فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام اور ٹک ٹاک اب بھی سرفہرست ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اغوا برائے تاوان کے الزام میں سی ٹی ڈی افسر کا ڈرائیور گرفتار
    معاشی غیریقینی کے باوجود:انڈس موٹرز نے گاڑیوں کی قیمتوں میں 12 لاکھ تک اضافہ کردیا
    رپورٹ کے مطابق 2022 میں ٹک ٹاک ایپ کی آمدنی میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے جو سب سے زیادہ بھی ہے۔ اس سال بالخصوص لائیو اسٹریمنگ اور لائیو شاپنگ اسٹریم بہت مقبول ہوئیں۔ پھر ٹک ٹاک نے ایپ کے اندر ہی کرنسی خریدنے اور فروخت کرنے کی سہولت بھی دی جسے بہت سراہا گیا ہے۔ اس سال امریکی صارفین چین اور جاپان سے بازی لے گئے اور انہوں نے سب سے زیادہ وقت سوشل میڈیا ایپ پر صرف کیا۔ سوشل میڈیا ایپس کے استعمال پر عالمی پیمانے پر تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ سال 2022 میں سوشل میڈیا ایپس پر گزارے گئے وقت میں بھی 17 فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ پیشگوئی کے مطابق اس سال بھی سوشل میڈیا ایپس کے استعمال اور آمدنی میں اضافہ ہوگا۔

  • ٹک ٹاک اورایڈ‌کاسا کا پاکستانی اسٹوڈنٹس کیلئےاسکالرشپ پروگرام کا اعلان

    ٹک ٹاک اورایڈ‌کاسا کا پاکستانی اسٹوڈنٹس کیلئےاسکالرشپ پروگرام کا اعلان

    معروف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک اور ایڈکاسا کی جانب سے 18 ہزار پاکستانی طلبا و طالبات کے لیےایک اسکالرشپ پروگرام کا اعلان کیا گیا ہے ۔

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے جاری اعلامیے کے مطابق گزشتہ برس پاکستانی اسٹارٹ اپ ایڈکاسا کی بنائی گئی ایپ پر طلباوطالبات کی درس و تدریس پر مبنی #ExamReady مہم بہت کامیاب ہوئی تھی۔

    دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    تاہم اب ٹک ٹاک، ایڈ ٹیک اور ایڈکاسا(Edkasa) نے اعلان کیا ہے کہ پورے پاکستان میں 18 ہزار مستحق طلبا و طالبات کو آئن لائن تعلیم کے لیے گرانٹس دی جائیں گی تاکہ وہ معیاری تعلیم تک رسائی حاصل کرسکیں۔

    گزشتہ برس ستمبر میں، ٹک ٹاک نے ایڈکاسا (Edkasa) اور لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز (لمز) کے ساتھ اپنی نوعیت کا منفرد ڈیجیٹل لرننگ پروگرام شروع کرنےکی غرض سے پورے سال تعاون کیا تھا تاکہ ہائی اسکول کے اسٹوڈنٹس کو آن لائن تعلیم اور فاصلاتی تعلیم کی سہولت فراہم کی جا سکے ۔

    #ExamReady مہم کو لاکھوں پاکستانی اسٹوڈنٹس کے لیے تیار کیا گیا تھا جس میں کیمیا، حیاتیات، طبیعات اورریاضی جیسے مضامین پر 500 سے زائد تعلیمی ویڈیوز فراہم کیں گئیں تھیں۔ان ویڈیوز میں مطالعے کے بارے میں مشورے اور امتحانات میں کامیابی کے لیے گرْ بتائے گئے تھے۔

    پاکستان کے اہم تعلیمی اداروں میں سے ایک، لمز، کے ساتھ اشتراک میں، یہ دونوں ادارے اسٹوڈنٹس کو ایڈکاسا کے مفت مطالعاتی معلومات اور مواد تک دو ماہ تک رسائی فراہم کی جائے گی اس میں اسٹوڈنٹس اپنا گریڈ/بورڈ/امتحان کا انتخاب بھی کرسکیں گے۔

    ڈاکوؤں نے جہیز کا سامان لوٹ کر گھر کے واحد کفیل کوبھی قتل کردیا

    ٹک ٹاک میں ہیڈ آف گورنمنٹ ریلیشنز اینڈ پبلک پالیسی برائے مشرق وسطی، ترکیہ، افریقہ، پاکستان اور جنوبی ایشیاء فرح توکان نے کہا کہ ک ٹاک ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو متعدد کیٹیگریز میں مختلف کونٹینٹ پیش کرتا ہے اور تعلیم ہمارے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے،ہم پاکستان میں مستقبل کی نسلوں پر مثبت اثرات مرتب کرنے کے لیے ملک گیر خواندگی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنے پر مسرور ہیں

    ایڈکاسا کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، فہد تنویر نے کہاکہ ہمیں ٹک ٹاک پر سیکھنے کے کونٹینٹ میں بڑے پیمانے پر دلچسپی اور بالخصوس اسٹوڈنٹس کی دلچسپی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے،پاکستان کو اس قسم کے جدید اور معیار تعلیمی وسائل کی ضرورت ہے جو ہمارے نوجوانوں کو باقی دنیا سے مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کر سکے۔

    واضح رہے کہ وظائف غریب اور کم مراعات یافتہ پاکستانی طبقات کے طالبعلموں کے لیے فراہم کئے جائیں گے تاکہ ان کی تعلیمی رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے، وظائف، مہم کے آن لائن محرک، ٹک ٹاک کے ساتھ معاہدے میں ایڈکاسا اور لمز کے طے شدہ مشترکہ معیار اور گائیڈلائنز کے مطابق دئیے جائیں گے۔

    پی ڈی ایم، پی پی پی، پی ٹی آئی ٹرائیکا نے ہماری تہذیب، سماج، سیاست اور معیشت سمیت…

  • ٹک ٹاک کی نئے فیچر کی آزمائس

    ٹک ٹاک کی نئے فیچر کی آزمائس

    ٹک ٹاک صارفین کی جانب سے اکثر شکایت کی جاتی ہے کہ وہ اس سوشل میڈیا ایپ میں گم ہوجاتے ہیں اور گھنٹوں تک اس پر اسکرولنگ کرتے رہتے ہیں جس سے ان کی نیند متاثر ہوتی ہے۔

    باغی ٹی وی : صارفین کی شکایت پر کمپنی کی جانب سے ایک نیا فیچر متعارف کرایا جارہا ہے جس کا مقصد مناسب وقت تک نیند کو یقینی بنانا ہے کمپنی کی جانب سے نئے فیچر سلیپ ریمائنڈرز کی آزمائش کی جارہی ہے۔

    نیا فیچر ایپ میں "اسکرین ٹائم” سیٹنگز کے تحت ظاہر ہوتا ہے۔ وہ صارفین جو ٹیسٹ کا حصہ ہیں انہیں ایک نیا "نیند کی یاد دہانی” کا اختیار نظر آئے گا۔

    اس فیچر کے تحت سونے کے وقت کے الرٹس لگانے جبکہ نیند کے دوران نوٹیفکیشنز کو میوٹ کرنے جیسے آپشنز دستیاب ہوں گے کمپنی کےمطابق اس نئےفیچرکی آزمائش دنیا بھر میں صارفین کی محدود تعداد میں کی جارہی ہےیہ نیا فیچراسکرین ٹائم سیٹنگزمیں سلیپ ریمائنڈرز کے نام سے موجود ہوگا۔

    جی میل میں سکیورٹی فیچر کا اضافہ

    کمپنی نے بتایا کہ اس فیچر سے صارفین کو ٹک ٹاک پر اسکرولنگ کے دوران معلوم ہوسکے گا کہ اب ان کے سونے کا وقت ہوگیا ہے اس کے لیے صارفین کو سونے کے ایک وقت کو سلیکٹ کرنا ہوگا اور وہ وقت قریب آنے پر ایپ کی جانب سے یاد دلایا جائے گا کہ نیند کا وقت آگیا ہےاس کے ساتھ ساتھ پش نوٹیفکیشنز 7 گھنٹوں کے لیے میوٹ ہوجائیں گے تاکہ صارف کی نیند متاثر نہ ہوسکے۔

    ٹک ٹاک کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ہم صارفین کی بہتری کے لیے متعدد نئے ذرائع پر کام کررہے ہیں اور یہ نیا ٹول بھی اسی مقصد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل ٹک ٹاک نے فروری 2020 میں اسکرین ٹائم منیجمنٹ ٹولز متعارف کرائے تھے اور اس کے بعد سے ایسے متعدد فیچرز کا اضافہ کیا گیا جو صارفین کو ایپ کے استعمال کے حوالے سے زیادہ اختیار فراہم کرسکیں۔

    ٹوئٹرمیں بڑی تبدیلی، ڈیوائس لیبل نامی فیچر ختم کردیا گیا

  • امریکی ایوان نمائندگان میں چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی عائد

    امریکی ایوان نمائندگان میں چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی عائد

    امریکی ایوان نمائندگان میں مشہور چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی عائد کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ایوان نمائندگان کے زیر نگرانی استعمال ہونے والی تمام الیکٹرونک ڈیوائسز پر ٹک ٹاک کی پابندی لگادی گئی ہے۔

    امریکا کا سعودی عرب کیساتھ اسٹریٹجک شراکت داری برقرار رکھنے کی خواہش کا اظہار

    امریکی ایوان نمائندگان کو موصول ہونے والے نوٹس میں ارکان سے درخواست کی گئی ہے کہ جس نے بھی ایوان کے موبائل میں ٹک ٹاک ایپلیکیشن انسٹال کی ہوئی اسے براہ کرم اَن انسٹال کر دیں۔

    نوٹس کے مطابق ٹک ٹاک کو سکیورٹی خدشات کے باعث ارکان کے لیے خطرہ قرار یا گیا ہے علاوہ ازیں امریکی حکومت کی جانب سے جلد ہی تمام سرکاری ڈیوائسز پر ٹک ٹاک کی پابندی لگائے جانے کا امکان ہے۔

    یوکرین جنگ جلد ختم ہونے کی امید نہیں،کیف کو فوجی امداد جاری رکھیں گے،امریکا

    رپورٹس کے مطابق امریکی پالیسی سازوں نے ٹک ٹاک کو قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چینی حکومت ٹک ٹاک پر دباؤ ڈال کر امریکی صارفین کا ڈیٹا حاصل کرسکتی ہے جو کہ چینی انٹیلیجنس آپریشن میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    تاہم اس خدشے کے حوالے سے اب تک کوئی واضح ثبوت نہیں ملا، البتہ گزشتہ ہفتے ٹک ٹاک نے غلط طریقے سے دو صحافیوں کے ٹک ٹاک ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے والے اپنے 4 ملازمین کو نوکری سے نکال دیا تھا۔

    قبل ازیں امریکی سینیٹ نے سکیورٹی خدشات پر وائس ووٹ کے ذریعے وفاقی ملازمین کے سرکاری ڈیوائسز پر چینی ایپ ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی کا بل منظور کیا تھا یہ اقدام چینی کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں ایک اور اضافہ ہے، کہا گیا تھا کہ ایوان نمائندگان سے منظوری کے بعد بل صدر کو دستخط کے لیے بھیجا جائے گا۔

    دوسری جانب ٹک ٹاک نے امریکی اقدام پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے خلاف جاسوسی، ڈیٹا ٹرانسفر کے الزامات بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں-