Baaghi TV

Tag: ٹیکس

  • ملازمین کو مفت بجلی یونٹس کیخلاف درخواست پر سماعت ملتوی

    ملازمین کو مفت بجلی یونٹس کیخلاف درخواست پر سماعت ملتوی

    ‏لاہور ہائیکورٹ: ملازمین کو مفت بجلی یونٹس اور بجلی بلوں میں ٹیکسز ختم کرنے کیلئے درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے ترمیمی پٹیشن کیلئے دائر متفرق درخواست منظور کرلی ،عدالت نے کیس کی سماعت 10 اکتوبر تک ملتوی کردی جسٹس شمس محمود مرزا نے شہری شاہد لطیف کی احمد عبداللہ ڈوگر ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر درخواست پر سماعت کی،درخواست میں وزارت قانون، نیپرا اور واپڈا کو فریق بنایا گیا ہے

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ بجلی کے بلوں میں مختلف نوعیت کے ٹیکسز وصول کئے جارہے ہیں،ایف سی سرچارج، جی ایس ٹی، ٹی وی فیس، الیکٹریسٹی ڈیوٹی سمیت ٹیکسز وصول کئے جارہے ہیں، اعلی عدالتیں بجلی کے مختلف ٹیکسوں کی وصولی غیر قانونی قرار دے چکی ہیں، واپڈا ملازمین کو اربوں روپے کی مفت بجلی فراہم کی جارہی ہے ,بجلی بلوں میں ایک یونٹ کے فرق پر ہزاروں روپے اضافہ کردیا جاتاہے،بجلی بلوں میں بھاری اضافے نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی، عدالت سرکاری ملازمین کو مفت بجلی یونٹس کی فراہمی روکنے کا حکم دے عدالت بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں کی وصولی کالعدم قرار دے

    بجلی کے بھاری بلوں کیخلاف پہیہ جام ہڑتال جاری

    مہنگائی، بچوں کو بھوکا دیکھنا مشکل کام خود کشیاں، احتجاج، بجلی بل موت کا پروانہ

    نگران حکومت سے عوام کی توقعات ، تحریر:ڈاکٹر سبیل اکرام

    سیاستدان سیاست پر ملک کے مفاد کو ترجیح دیں، ڈاکٹر سبیل اکرام

    پاکستان کا زرعی ومعاشی مستقبل نئے ڈیموں کی تعمیر سے وابستہ ہے ،ڈاکٹر سبیل اکرام

    حکومت بھارت کی آبی جارحیت کا فوری سدباب کرے،ڈاکٹر سبیل اکرام

    پنجاب حکومت کا بجلی چوروں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کرنے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ شہریوں کے بجلی کے بل اتنے آئے کہ شہری سڑکوں پر آ گئے، حکومت نے ٹیکس لگا دیئے، جتنے یونٹ استعمال ہوئے، اس سے کئی گنا زیادہ بل موصول ہوئے،290 یونٹ استعمال کرنے والوں کو بارہ بارہ ہزار کا بل ملا تو وہیں کئی شہریوں کو چالیس پچاس ہزار کا بھی بل ملا، زیادہ بل آنے پر شہریوں نے احتجاج کیا، بل جمع نہیں کروائے، وزیراعظم نے نوٹس لیا، ابھی تک زائد بلوں کے حوالہ سے آئی ایم ایف سے بات چل رہی تھی کہ حکومت نے دوبارہ بجلی کی قیمت بڑھا دی ہے،

    پاکستان میں شہریوں کے بجلی کے بل اتنے آئے کہ شہریوں نے گھریلو اشیا فروخت کرنا شروع کر دیں تو وہیں خود کشیاں بھی ہونے لگیں، بجلئ کے بلوں نے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں، بجلی کے بلوں کی وجہ سے عوام نے احتجاج کیا، لیکن ابھی تک آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے یوں لگتا ہے کہ عوام کو کسی قسم کا ریلیف نہیں ملا، کیونکہ جو بل آیا وہ تو ادا کرنا ہی پڑے گا،

  • بجلی کے بلوں میں ریلیف، آئی ایم ایف نے تحریری پلان مانگ لیا

    بجلی کے بلوں میں ریلیف، آئی ایم ایف نے تحریری پلان مانگ لیا

    بجلی کے بلوں کے معاملہ پر آئی ایم ایف نے ریلیف کے لئے پاکستانی حکام سے تحریری پلان مانگ لیا

    پاکستان اور آئی ایم ایف حکام کے مابین ورچوئل رابطہ ہوا ہے، پاکستان کی نگران وزیر خزانہ شمشاد اختر نے آئی ایم ایف کی نمائندہ ایسٹر پیریز سے رابطہ کیا اور بجلی کے بلوں میں ریلیف کیلئے بات چیت کی، میڈٍیا رپورٹس کے مطابق وزیر خزانہ شمشاد اختر نے آئی ایم ایف کو بجلی بلوں میں اضافے کے بعد کی صورتحال سے آگاہ کیا اور بجلی بلوں میں ریلیف کیلئے مختلف تجاویز پیش کیں،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف حکام نے بجلی کے بلوں میں ریلیف کیلئے پاکستان کے مؤقف پر بریفنگ لی اور بجلی کے بلوں میں ریلیف کے لیے پاکستانی حکام سے تحریری پلان مانگ لیا ،

    پاکستانی حکام کی جانب سے آج شام تک آئی ایم ایف کو تحریری پلان بھیجے جانے کا امکان ہے ،اگلے چند روز میں ایف بی آر حکام اورآئی ایم ایف کا دوبارہ رابطہ ہو گا ،

    ورچوئل مذاکرات میں نگران وزیر خزانہ, سکرٹری خزانہ اور ایف بی حکام نے شرکت کی ،اسٹینڈ بائی معاہدے کے تحت ایف بی آر کی دو ماہ کی کارکردگی کے جائزہ لیا گیا .آئی ایم ایف کو ایف بی آر نے رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ریونیو اکٹھا کرنے کی کارکردگی رپورٹ پیش کی ،ورچوئل مذاکرات میں آنے والے مہینوں کے تخمینوں کا جائزہ بھی لیا گیا ،آئی ایم ایف کو جولائی اور اگست کی آمدنی کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی،

    بجلی بحران کے فوری حل کیلیے نگران وزیراعظم پاکستان کو پانج نکاتی مشورہ

    بجلی کے بل میں ریلیف کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت

    بجلی کی قیمتوں میں اضافہ،مرکزی مسلم لیگ کا ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز

    بجلی بلوں کی کڑک: کن مدوں میں عوام ٹیکس دیتی ہے، ایک تجزیہ!تحریر: ملک شفقت اللہ

    بجلی کے بلوں میں اضافہ پرشہری سڑکوں پرنکل آئے

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بجلی کے نرخوں کے حوالے سے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

    پیس اینڈ جسٹس سوسائٹی پاکستان کے چیئرمین میاں نعیم الدین نے کہا ہے کہ بجلی کے بل غریب لوگوں کیلئے موت کا پروانہ بن چکے ہیں، عوام بجلی کے بلوں میں بے تحاشا اضافے کے خلاف سراپا احتجاج ہے ، غریب اور متوسط طبقہ فاقہ کشی اور خودکشیاں کرنے پر مجبور ہورہا ہے اگر بجلی بلوں پر عوام کو ریلیف نہ دیا گیا توملک میں انارکی پھیلے گی اور اس کی ذمہ دارنگران حکومت اور ماضی کے حکمران ہوں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پیس اینڈ جسٹس سوسائٹی پاکستان کے چیئرمین میاں نعیم الدین نے کہا کہ بجلی بل میں13 قسم کے ٹیکسز کے ذریعے ہر مہینے ڈاکہ غریب عوام کی جیبوں پر ڈالا جا رہا ہے،پور ے ملک میں بجلی کے بلوںمیں ہوشربا اضافے کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہو رہی ہے، ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا شخص پریشان ہے اس کے برعکس اشرافیہ کو بجلی ،گیس ، پٹرول سمیت دیگر سہولیات مفت میں دستیاب ہیں ۔ میاں نعیم الدین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے غلام حکمرانوں کی وجہ سے 24کروڑعوام کی زندگی اجیرن بن چکی ہے،غربت ،مہنگائی،بے روزگاری ،کرپشن، لوٹ مار اورسود پر مبنی استحصالی نظام نے قوم کو بد حال کر دیا ہے، اقتصادی بحران جنم لے رہا ہے، ملکی حالات انارکی کی جانب بڑھ رہے ہیں ، ملک کی موجودہ صورتحال میں حکمران طبقہ اور طاقتور ادارے ہوش کے ناخن لیں کیونکہ اگرسول نافرمانی تحریک شروع ہو گئی تو پاکستان کے حالات سری لنکا سے زیادہ خراب ہوں گے۔

  • بچوں کو روٹی کھلائیں یا بجلی کا بل ادا کریں؟ شہری سڑکوں پر نکل آئے

    بچوں کو روٹی کھلائیں یا بجلی کا بل ادا کریں؟ شہری سڑکوں پر نکل آئے

    مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری

    لاہور ( )پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف جاری تحریک کے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔جس میں نگران حکومت سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور غیر اعلانیہ ٹیکسز کا فیصلہ فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

    نگران حکومت کی جانب بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے لاہور، ملتان، مظفرگڑھ،رحیم یارخان،لیہ، حافظ آباد، بہاولپور، میانوالی،وہاڑی، حیدرآباد، شہداد پور، تھرپارکر،کراچی اور پشاور سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔جس میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لاکھوں افراد نے شرکت کی۔شرکاء نے ’’پلے کارڈز اور بینرز‘‘ اٹھا رکھے تھے ۔جن پر،قوم پر بجلی گرانا بند کرو ،مہنگی بجلی نامنظور، بچوں کو روٹی کھلائیں یا بجلی کا بل ادا کریں،حکمرانو مہنگائی کے بوجھ تلے سسکتے پاکستانی عوام کو بجلی کے بل کی مار مارنا بند کرو،جیسے نعرے درج تھے-مظاہرین نے بجلی کی قیمتوں کو مستردکرتے ہوئے شدید نعرہ بازی کی اور نگران حکومت سے بجلی سستی کرنے کے ساتھ ٹیکسز واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ بجلی کے بل میں اصل قیمت کم اور ٹیکس زیادہ ہوتاہے۔بجلی کے بل ادا کریں یا گھر کا چولہا جلائیں؟ ملک بھر ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے دینی، سیاسی ، سماجی و تاجر تنظیموں کے رہنماؤں نے شرکت و خطاب کیا۔ مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف جاری مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا مشترکہ علامیہ کا کہنا تھا کہ بجلی کےبلوں میں ظالمانہ ٹیکسز قابل قبول نہیں ۔ لوگ فاقے کر رہے ہیں ۔جب کہ نگران حکومت کی سرپرستی میں غریب کو بجلی کے بل نہیں بلکہ موت کے پروانے جاری کیے جارہے ہیں۔ حکومت کے حالیہ فیصلے سے 8 افراد خودکشی کر چکے ہیں۔ حکمران طبقے نے عوام کو لاوارث چھوڑ دیا ہے۔لوگ اپنی قیمتی اشیاء بیٹیوں کی جہیز تک بیچ کر بل ادا کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ مہنگائی کا طوفان بجلی کے بلوں پر آکر شدید ہوگیا ہے۔بجلی کے بلوں میں بے تحاشہ اضافہ اور ٹیکسز کی وجہ سے عوام سخت پریشان اور ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں جو حکمرانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نگرانی کرنے کیلیے جو نگران اقتدار میں آئے ہیں ۔انہوں نے عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے ہیں ۔انہوں نے ملک میں عام انتخابات کرانے ہیں ۔انہیں مہنگائی کے سلسلے کو بند کرنا چاہئے۔ لیکن انہوں نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا اور اس وقت بجلی کے بلوں میں 13قسم کے ٹیکسز لگا کر عوام پر بجلی بم گرا دیا ہے۔بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ناقابل برداشت ہے۔ 300 یونٹ تک کسی قسم کا ٹیکس لاگو نہ کیا جائے، غریب مزدور مہینے بھر کی کمائی بھی بجلی کے بلوں کی مد میں لوٹا دیتا ہے۔عوام بچوں کو روٹی کھلائیں یا بجلی کا بل ادا کریں۔حکمرانوں کو مہنگائی کے بوجھ تلے سسکتی پاکستانی عوام کوبجلی کے بل کی مارمارنا بند کرنا ہوگی۔ حکمرانوں کو عملا عوام کی سہولت کےلیے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔وگرنہ آنے والے انتخابات میں عوام ان مفاد پرستوں اور کرپٹ سیاستدانوں کو مسترد کرکے محب وطن اور دیانتدار قیادت کو منتخب کریں گے

    بجلی بحران کے فوری حل کیلیے نگران وزیراعظم پاکستان کو پانج نکاتی مشورہ

    بجلی کے بل میں ریلیف کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت

    بجلی کی قیمتوں میں اضافہ،مرکزی مسلم لیگ کا ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز

    بجلی بلوں کی کڑک: کن مدوں میں عوام ٹیکس دیتی ہے، ایک تجزیہ!تحریر: ملک شفقت اللہ

    بجلی کے بلوں میں اضافہ پرشہری سڑکوں پرنکل آئے

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بجلی کے نرخوں کے حوالے سے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

  • بجلی کے بلوں میں وہ ٹیکسز جو صارفین اضافی دینے پر مجبور

    بجلی کے بلوں میں وہ ٹیکسز جو صارفین اضافی دینے پر مجبور

    بجلی بلوں میں اضافے کی بڑی وجہ وہ ٹیکسز ہیں جو صارفین اضافی دینے پر مجبور ہیں۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق اس وقت بجلی کے بلوں میں 8 مختلف ٹیکسز اور 3 سرچارجز کے ساتھ ایڈجسٹمنٹس کی مد میں وصولیاں کی جاری ہیں تاہم کچھ ایسے ٹیکسز ہیں جو صارفین اپنے بجلی کے بلوں میں بچا سکتے ہیں،فیڈرل بورڈ آف ریوییو (ایف بی آر) میں رجسٹر ڈ فائلرصارفین بجلی کےبلوں میں شامل کیے جانےوالا انکم ٹیکس بھی بل کےساتھ ادا کر رہے ہیں ایسے افراد فوری طور پر پاور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی (پی آئی ٹی سی) کی ویب سائٹ پر اپنے کوائف آن لائن جمع کروا سکتے ہیں۔

    1 ارب سے زائد کی چینی افغانستان اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

    اس طرح پی آئی ٹی سی میں صارفین رجسٹرڈ ہونے کے بعد بجلی بلوں میں انکم ٹیکس شامل ہونے سے بچ جائیں گے انکم ٹیکس 25 ہزار روپے سے زائد بل پرعائد کیا جاتا ہے جو مجموعی بل کا ساڑھے سات فیصد ہوتا ہے-

    دوسری جانب بجلی کے بلوں میں غیر معمولی اضافے کے خلاف ملک بھر میں شہریوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، شہریوں کا حکومت سے بلوں کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ ہے نیپرا کی طرف سے حال ہی میں بجلی کی قیمت بڑھانے اور اضافی ٹیکسز وصول کرنے کے خلاف گوجرانوالہ کے شہری بھی سڑکوں پر نکل آئے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہرین نے حافظ آباد روڈ کو بلاک کر دیا جس کے باعث ٹریفک جام ہوگئی۔

    دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ

    گوجرانوالہ کے شہریوں نے نگراں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے،دووسری طرف بہاولپور میں بھی بجلی کے نرخوں میں اضافے کیخلاف شہریوں کا احتجاج جاری ہے مظاہرین نے سندھ اور پنجاب کو ملانے والی قومی شاہراہ بلاک کردی جس کی وجہ سے کراچی موڑ ہائی وی پر گاڑیوں کی دور دور تک لمبی قطاریں لگ گئیں۔

    61 سال ماں کے پیٹ میں رہنے والا بچہ پتھرکا بن گیا

  • بجلی کے بلوں کا ادا کرنا عام آدمی کے بس میں نہیں رہا،عابد شیر علی

    بجلی کے بلوں کا ادا کرنا عام آدمی کے بس میں نہیں رہا،عابد شیر علی

    مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر عابد شیر علی پریس کانفرنس کرتے ہوئے بجلی کے بھاری بلوں پر پھٹ پڑے ،

    عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ 25 ہزار تنخواہ والے کو 45 ہزار بل آ رہا ہے ، دو پنکھے چلانے والے کا بل 35 ہزار آ رہا ہے ،
    بجلی کے بلوں کا ادا کرنا عام آدمی کے بس میں نہیں رہا ہے ،آئی ایم ایف کے کہنے پر جو ٹیکسز لگائے ہیں بلوں وہ فوری واپس لیں ، نواز شریف کے دور میں بجلی 8 روپے یونٹ ملی تھی،نگران حکومت کو بجلی کے ٹیکسوں میں اضافہ واپس لینا پڑے گا، نوازشریف دور میں ڈالر 105 روپے تھا،ملک میں خانہ جنگی کو ہوا دی جا رہی ہے، ہم مزدوروں اور شہریوں کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں گے،واپڈا ملازمین سب سے بڑے ڈاکو ہیں، کمپنیوں کے ساتھ مل کر مزاکرات کرنا پڑیں گےکپیسٹی چارجز کا خاتمہ ضروری ہے، واپڈا 30 کے بجائے 40 دنوں کا بل بھجوا رہا ہے،

    بجلی کے بلوں میں اضافہ پرشہری سڑکوں پرنکل آئے

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بجلی کے نرخوں کے حوالے سے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

    تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کا کہنا ہے کہ عمران خان کے آخری سال میں بجلی کا ایک یونٹ اوسطً 18.60 روپے تھا۔ صنعت کو اضافی بجلی استعمال کرنے پر پیکج دیا گیا اور اضافی یونٹ کی قیمت 12 روپے مقرر کی۔ گردشی قرضوں کا بہاؤ 100 ارب سالانہ سی بھی نیچے آ گیا تھا۔آج ایک یونٹ کی قیمت ٹیکس ملا کر Rs 60 سے بھی زیادہ ہے اور گردشی قرضوں کو بہاؤ تین گنا بڑھ چکا ہے۔ بجلی کی کھپت میں کمی آ رہی ہے اور بل کلیکشن بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔

    ہمارے دفتر کا 21 لاکھ روپے بل آیا بتایا جائے کیا کریں؟ تاجر بھی پھٹ پڑے
    راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر ثاقب رفیق نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کی ہے، اور کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے حالیہ اقدامات سے تاجر برادری پریشان ہےحکومت نے بجلی میں مزید ساڑھے 4 روپے اضافہ کردیا ہے حکومت ایکسپورٹ بڑھانے کا کہہ رہی ہے کیسے ہوگا ؟ہمارے دفتر کا 21 لاکھ روپے بل آیا ہے حکومت فورًا سے پہلے پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں کو کنٹرول کرے۔ لوگ ذاتی اشیاء بھیچنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔پی آئے کے پہلے گیارہ جہاز گراؤنڈ ہوئے اب سترہ ہوگئے پی آئی اے کا اربوں کا خسارہ بھی عوام نے پورا کرنا ہے ؟بجلی کا بل کرایہ دار کے کرایہ سے بھی زیادہ آتا ہے حکومت ٹیکس حصول کیلئے متبادل انتظامات کرے،حکومت سولرسسٹم کو انکریج کرے۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی بجلی کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف ملک گیر احتجاج کی کال
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے انفارمیشن سیکرٹری محمد تابش نے کہا ہے مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف کل اتوار ملک گیر احتجاج کی کال دے دی ہے، جس میں حکومت کو مجبور کیا جائے گا کہ حکمران عوام کا معاشی قتل بند کریں۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور ٹیکسز کا فیصلہ واپس لیا جائے۔اور فوری طور پر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے، قوم کو بجلی کے بل نہیں بلکہ موت کے پروانے جاری کیے گئے ہیں، مرکزی مسلم لیگ کے انفارمیشن سیکرٹری محمد تابش نے کہا ہے کہ مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹریٹ میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف منعقدہ اجلاس میں کابینہ کی جانب سے متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت کے اس ظالمانہ اقدام کیخلاف ملک گیر احتجاج کی کال دی جائے اور حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لیں۔ وگرنہ اس وقت ملک میں جو حالات بن رہے ہیں ملک قوم کے لیے خطرناک ثابت ہو نگے۔

  • صنعتکار بجلی نرخوں میں اضافے کے خلاف سراپا احتجاج

    صنعتکار بجلی نرخوں میں اضافے کے خلاف سراپا احتجاج

    بجلی نرخوں میں اضافہ واپس نہ لیا توصنعتیں بند کرکے چابیاں حکومت کے حوالے کردیں گے،فیصل معیز خان

    ایس ایم ایز کے لحاظ سے سیالکوٹ کے بعد دوسرے اور سندھ کے سب سے بڑے نارتھ کراچی صنعتی ایریا کے صنعتکاروں نے بجلی نرخوں میں حالیہ اضافے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے بجلی نرخوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اورتنبیہ کی ہے کہ اگر ان کا مطالبہ نہ مانا گیا تو وہ سراپا احتجاج ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی صنعتوں کو تالے لگا دیں گے اور چابیاں حکومت کے حوالے کردیں گے۔

    نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (نکاٹی) کے صدر فیصل معیز خا ن نے چیف آف آرمی اسٹاف جنر ل سید عاصم منیر(نشان امتیاز ملٹری)، نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکٹر،نگراں وزیرانرجی،پاور، پیٹرولیم محمد علی اورنگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر سے اپیل کی کہ وہ صنعتوں کو تباہی سے بچانے کے لیے بجلی نرخوں کو کم کرنے میں اپنا کردارادا کریں بصورت دیگر صنعتیں خاص طور پر چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں (ایس ایم ایز) بند ہونے سے نہ صرف برآمدات پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے بلکہ بے روزگاری کا سیلاب آجائے گا جس کو قابو کر نا دشوار ہوگا۔

    صدر نکاٹی نے مزید کہا کہ دنیا میں اگر ترقی یافتہ ممالک کی کامیابیوں کا جائز ہ لیا جائے تو ایس ایم ایز کا اہم کردار نظر آئے گا مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایس ایم ایز کو بری طرح نظر انداز کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زائد پیداواری لاگت کی وجہ سے پہلے ہی پیداواری سرگرمیاں محدود ہوگئی ہیں اور صنعتیں چلانا انتہائی دشوار ہے جبکہ ایس ایم ایز اپنے یونٹس بند کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ چھوٹا صنعتکار تقریباً مرگیا ہے لہٰذا بجلی نرخوں میں حالیہ اضافہ صنعتوں باالخصوص چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایس ایم ایز) کو برباد کردے گا کیونکہ مہنگی بجلی اور مہنگی گیس نے بڑی صنعتوں سمیت ایس ایم ایز کی پیداواری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے بلکہ صورتحال اس حد تک خراب ہو گئی ہے کہ 35 فیصد ایس ایم ایز بند ہوگئی ہیں جس سے ہزاروں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں۔

    فیصل معیز خان نے نگراں حکومت پر زور دیا کہ وہ کاروبار وصنعت مخالف پالیسیوں کے بجائے ایسی پالیسیاں وضع کریں جس سے کاروبارکرنے اور صنعتیں چلانے میں آسانیاں پیدا ہوں اور روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے باالخصوص ایس ایم ایز کے لیے خصوصی پالیسی مرتب کرتے ہوئے سبسڈی کے ساتھ خصوصی بجلی ٹیرف دیا جائے تاکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان بھی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوسکے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نگراں حکومت نے اگر ملک کو سنگین معاشی بحرانوں سے نکانے اورایس ایم ایز کو تباہی سے بچانے کے اقدامات نہ کیے تو ہم ایسے بھنور میں پھنس جائیں گے جہاں سے واپسی شاید ممکن نہ ہو

    بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کو مشتعل کر دیا ہے

    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق

    مہنگائی کا نیا طوفان ,پٹرول ، ڈیزل ، بجلی کے نرخ بڑھیں گے

    ضمانت ملی تو ملک کے بعد مذہب بھی بدل لیا،

    سیما کو واپس نہ بھیجا تو ممبئی طرز کے حملے ہونگے،کال کے بعد ہائی الرٹ

     سیما حیدر کے بھارت میں گرفتاری کے ایک بار امکانات

    پب جی پارٹنر ، سیما اور سچن ایک بار پھر جدا ہوا گئے

  • زرعی آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا،اسحاق ڈار

    زرعی آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا،اسحاق ڈار

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہےکہ زرعی آمدن پر نہ کوئی وفاقی ٹیکس لگایا گیا اور نہ ہی لگایا جائےگا۔

    باغی ٹی وی : زراعت اور تعمیراتی شعبے پر ٹیکس کے حوالے سے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ میں نے زراعت اور تعمیراتی شعبے پر ٹیکس کے معاملے پر قومی اسمبلی میں بیان دیا تھا جس کامقصد اس تاثرکو ختم کرنا تھا کہ حکومت زراعت اور تعمیراتی شعبہ جات پر نئے ٹیکس لگائےگی میرے وضاحتی بیان کی غلط تشریح کی جا رہی ہے، جن ٹیکس اقدامات کا تذکرہ ہے وہ یہ ہیں جو 30 جون تک ملک میں لگائے جاچکے ہیں، ان کے علاوہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا۔

    قبل ازیں ایک بیان میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یقین دہانی کرائی ہےکہ زراعت اور رئیل اسٹیٹ پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں آئی ایم ایف معاہدے کی دستاویز پیش کیں اور کہا کہ آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کیا ہے اس کی تفصیلات ایوان میں پیش کررہا ہوں، اس کا مقصد یہ ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کو اس کی تفصیلات کا علم ہوسکے، یہ کام شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے کیا جارہا ہے-

    چئیرمین پی ٹی آئی توشہ خانہ کیس میں زیادہ دیرراہ فراراختیار نہیں کر سکیں گے

    اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ تمام دستاویزات وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں جب کہ ان دستاویزات کی نقول قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی لائبریری میں بھی بھجوائی جارہی ہیں پاکستانی ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، 5.3 ارب ڈالر نجی بینکوں کے پاس ذخائر موجود ہیں جب کہ 8.7 ارب ڈالر ذخائر اسٹیٹ بینک کے ہیں، کوشش ہے ملک کو معاشی طور پر مستحکم کر کے چھوڑ کر جائیں۔

    شمالی کوریا نےمتعدد کروز میزائل فائر کردیئے

    انہوں نے کہا تھا کہ گزشتہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے سبب ملک کی معیشت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، آئی ایم ایف کا نواں جائزہ نومبر 2022 ، دسواں فروری 2023 اور گیارہواں بھی 2023 میں منعقد ہونا تھا لیکن کریڈیبیلیٹی گیپ کی وجہ سے نواں جائزہ تاخیر کا شکار ہوا۔

    منی لانڈرنگ کیس:وزیراعظم شہبازشریف کی بیٹی اشتہاری قرار،دائمی وارنٹ گرفتاری جاری

  • قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 24-2023  کا وفاقی بجٹ منظور

    قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 24-2023 کا وفاقی بجٹ منظور

    اسلام آباد: آئندہ مالی سال 24-2023 کا وفاقی بجٹ منظور کرلیا گیا ،قومی اسمبلی نے فنانس بل 24-2023 کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی : وفاقی بجٹ کا کل تخمینہ 14 ہزار 480 ارب روپے ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ ساڑھے 900 ارب روپے ہوگا،جبکہ حکومت کی جانب سے بہت سی ترامیم بھی کی گئی ہیں، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی حد 50 روپے سےبڑھاکر 60 روپے فی لیٹر کردی گئی ہے، جس کے بعد آئی ایم ایف معاہدے کی ایک اور شرط پوری ہوگئی ہے۔

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ہفتہ کو اعلان کیا کہ بجٹ میں 215 ارب سے زائد کے نئے ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہےٹیکس وصولیوں کا ہدف 9 ہزار 200 ارب سے بڑھا کر 9 ہزا 415 ارب کردیا گیا پنشن ادائیگی 761 ارب سے بڑھا کر 801 ارب کردی گئی ہےآئندہ مالی سال کے منظور شدہ بجٹ کے مطابق این ایف سی کے تحت 5 ہزار 276 ارب روپے کے بجائے 5 ہزار 390 ارب روپے ملیں گے۔

    غلام محمود ڈوگر کیجانب سے لینڈ مافیا کی سرپرستی کا انکشاف،اینٹی کرپشن کی تحقیقات شروع

    پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے جعلی ویڈیو شئیر کرنے پررانا ثناء اللہ کا …

    فنانس بل میں مزید ترمیم کے تحت 215 ارب کے نئے ٹیکس عائد کیے گئے ہیں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم 459 ارب روپے کے بجائے 466 ارب روپے کردی گئی ہے پراپرٹی کی خرید اور فروخت پر ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر 2 فیصد کرنے کا امکان ہے، پراپرٹی ٹیکس بڑھانے سےحکومت کو 45 ارب کے اضافی ٹیکس وصول ہوں گے کھاد پر 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا بھی امکان ہے، کھاد پر فیڈرل ایکساٸز ڈیوٹی بڑھانے سے 35 ارب اضافی وصول ہوں گے انکم ٹیکس میں سالانہ 24 لاکھ سے زائد آمدن پر ٹیکس 2.5 فیصد اضافہ کیا ہے پرانی ٹیکنالوجی والے پنکھوں اور پرانے بلب پریکم جنوری 2024 سے اضافی ٹیکسوں کے نفاذ کی ترمیم منظور کی گئی ہے، یہ ترمیم وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پیش کی اب پرانی ٹیکنالوجی والے پنکھوں پر یکم جنوری 2024 سے 2 ہزار روپے فی پنکھا ٹیکس عائدہوگا، پرانے بلب پر یکم جنوری 2024 سے 20 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔

    آئی ایم ایف کو اسحاق ڈار پر اعتماد نہیں ہے،شاہ محمود قریشی

    فیصل آباد سے بدنام زمانہ انتہائی مطلوب انسانی اسمگلر کو گرفتار

    استور کے جنگل میں آگ پر تاحال قابو نہ پایا جاسکا،ہزاروں درخت جل گئے

  • امریکا میں بھارتی وزیراعظم کو شرمندگی کا سامنا

    امریکا میں بھارتی وزیراعظم کو شرمندگی کا سامنا

    بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے معاملے پر 75 امریکی ممبران کانگریس و ایوان نمائندگان نے امریکی صدر کو خط لکھ دیا،خط پر 18 سینیٹرز اور 57 ایوان نمائندگان نے دستخط کیے ہیں،18 امریکی سینیٹر اور 57 ارکان ایوان نمائندگان نے خط میں مودی کے جرائم بے نقاب کیے۔

    باغی ٹی وی: اراکین کانگریس نے بھارتی وزیراعظم کے دورہ امریکا کے موقع پر صدر کو لکھے اپنے خط میں بھارت کے اندر بڑھتی ہوئی سیاسی گھٹن، مذہبی عدم برداشت، صحافیوں کو نشانہ بنانے، آزادی اظہار اور انٹرنیٹ کی بندش جیسے مسائل اٹھا دیئے۔

    اراکین کانگریس نے اپنے خط میں کہا کہ بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات میں صدر بائیڈن ان معاملات پر بھی بات کریں،خط میں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی 2022 کی کنٹری رپورٹ برائے انسانی حقوق کا ذکربھی شامل کیا گیاساتھ ہی لکھا گیا کہ آزادی اظہار سے متعلق بھارت کی عالمی درجہ بندی میں کمی ہوئی ہے، بھارت کے ساتھ دوستی مشترکہ اقدار پر ہونی چاہیے۔

    بائیڈن نے پوٹن کی ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی کو حقیقی قرار …

    امریکی قانون سازوں نے مطالبہ کیا کہ امریکی صدر بائیڈن مودی سے ملاقات میں یہ تمام معاملات زیر غور لائے جائیں۔ بھارت کے ساتھ دوستی مشترکہ اقدار پر استوار ہونی چاہیے۔

    امریکی صدر کی جانب سے نریندر مودی کی اعزاز میں وائٹ ہاؤس میں عشائیہ منعقد کیے جانے پر اراکین کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کو مودی سرکار کے ماتحت بھارت میں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی پر آنکھیں بند نہیں کرنی چاہیے۔

    امریکی صدر کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کا ممکنہ اعتراف جرم


    امریکی رکن کانگریس راشدہ طلیب نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ مودی کی غیر جمہوری اقدامات، مسلمانوں اور مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانےانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور صحافیوں کے خلاف کارروائیوں کی ایک لمبی تاریخ کے باوجود انہیں ہمارے ملک کے دارالخلافہ کا پلیٹ فارم پیش کرنا انتہائی شرمناک ہے۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ وہ مودی کے خطاب کیلئے بلائے گئے ایوان کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کریں گی۔

    برٹش ائیرویز کا طیارہ 30 ہزار فٹ کی بلندی پر ہچکولے کھانے لگا

  • فلم تیار کرنے والوں کو آمدن پر ٹیکس استثنیٰ حاصل ہوگا،مریم اورنگزیب

    فلم تیار کرنے والوں کو آمدن پر ٹیکس استثنیٰ حاصل ہوگا،مریم اورنگزیب

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہےکہ فلم تیار کرنے والوں کو آمدن پر ٹیکس استثنیٰ حاصل ہوگا-

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے نیشنل امیچورفلم فیسٹیول ایوارڈ کیلئے ہائی اچیورز سے خطاب میں کہا کہ نیشنل امیچور فلم فیسٹیول ایوارڈ کیلئے آسٹریلیا روانہ ہورہے ہیں، 1970 سے 2000 کے دوران پاکستان فلم انڈسٹری کی ترقی رکی رہی-

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ 2000 کے بعد فلم انڈسٹری میں ترقی کا سفر شروع ہوا، بڑے میڈیا ہاؤسز نے فلمیں بنائیں جس سے انڈسٹری بحال ہونا شروع ہوئی، سنیماگھر نہ ہونے کی وجہ سے فلم انڈسٹری میں مزید ترقی نہیں ہورہی اور ملٹی اسکرین سینما مہنگے ہونے سے عام عوام کا فلم دیکھنا چیلنج بن چکا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ 2 روزہ دورے پر چین پہنچ گئے

    سمندری طوفان سے بھارتی ریاست گجرات کے متاثرہ علاقوں میں سیلابی صورتحال

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی فلم انڈسٹری پر زیرو ٹیکس ہے، فلم تیار کرنے والوں کو آمدن پر ٹیکس استثنیٰ حاصل ہوگا، آلات کی درآمد، فلم میکنگ، سنیما اور پروڈکشن کے آلات کی درآمد پر ٹیکس زیرو ہے،کارپوریٹ سیکٹر فلم کیلئے رقوم فراہم کرے گا تو ٹیکس کریڈٹ لیا جاسکتا ہے۔

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ فلم میکنگ کے اندر کنٹری بیوشن یا فنڈ فراہم کرنے پربھی ٹیکس استثنیٰ حاصل ہوگا، حکومت پاکستان کا فلم فنانس فنڈ شروع ہو رہا ہے، حکومت پاکستان نے 2 ارب روپے کے فلم فنانس فنڈ کا اعلان کیا ہے اور حکومت فلم، ڈاکیومنٹری اور ڈرامہ تیارکرنے پر فنڈز فراہم کرے گی، سنیما گھروں کو 10 سال کیلئے ٹیکس فری کیا گیا ہے پاکستان کے بیانیے کو صرف اسکرین ٹورازم سے فروغ دیا جاسکتا ہے، فلم کے شعبے میں 5 سے 10 سال کیلئے بہت سی مراعات دی گئی ہیں۔

    عمران خان سے ملاقات کرنیوالے 27 کارکن گرفتار

    دنیا بھر میں مہنگائی کے اعداد و شمار جاری، پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں …