Baaghi TV

Tag: ٹیکس

  • ملک بھرمیں پبلک ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال،عوام کو مشکلات کا سامنا

    ملک بھرمیں پبلک ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال،عوام کو مشکلات کا سامنا

    لاہور:ٹرانسپورٹرز نے حکومت کی جانب سے نو نکاتی مطالبات تسلیم نہ کرنے پر ہڑتال کردی، پبلک ٹرانسپورٹ بند ہونے سے مسافروں کوشدید پریشانی کاسامنا ہے۔مطالبات پورے نہ ہوئے ٹرانسپورٹرزکا کہنا ہےکہ ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی،

    آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ ایکشن کم ٹی کی کال پر ٹرانسپورٹرزکی لاہور سمیت ملک بھر میں ہڑتال جاری ہے،چِیئرمین کمیٹی عصمت اللہ نیازی کا کہنا ہے 10 روزپہلے مطالبات پیش کئے مگر تاحال کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

    ٹرانسپوٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایک سیٹ پر ٹیکس تین سو روپے سے بڑھا کر چار ہزار اور آٹھ ہزار روپے ٹیکس عائد کر دیا گیا۔ ٹرانسپورٹرکا کہنا ہے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو ہڑتال کے ساتھ ساتھ سڑکیں بھی بلاک کردیں گے۔

    شہر کے مختلف بس اڈوں پر ٹرانسپورٹرز نے گاڑیاں بند کر دیں ، مسافروں کا کہنا ہے ہڑتال کے باعث شدیدپریشانی کاسامنا ہے، ویگنوں نے بھی کرائے ڈبل کر دیے ہیں۔

    ایسوسی ایشن نے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو انڈسٹری کا درجہ دیا جائے جبکہ ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کو آسان بنایا جائے۔ ٹریفک وارڈنز اور موٹروے پولیس کو ناجائز چالانوں سے روکا جائے۔

    دوسری طرف تاجروں نے بجلی کے بلوں میں ٹیکس عائد کیے جانے کے خلاف ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا تاجر سیلز ٹیکس لگے بجلی کے بل جمع نہیں کرائے گا۔

    مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چودھری و دیگر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ 3 سے 20 ہزار روپے تک بجلی کے بلوں پر ٹیکس لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکس بند دکانوں اور زیرو میٹر ریڈنگ کی تفریق کیے بغیر کمرشل بلوں میں شامل کیا گیا جب کہ تاجر پہلے ہی ایڈوانس ٹیکس، ایکسٹرا ٹیکس، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور دیگر ٹیکس ادا کررہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں بجلی کی قیمتوں کو کم کیا جانا چاہیے تھا۔ جیسے ہی بجلی کی قیمت بڑھتی ہے تو ٹیکسوں کی شرح میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ پاکستان کا چھوٹا تاجر بل ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ باربار حکومت سے گزارش کی کہ بجلی بلوں پر لگائے جانے والے اس ٹیکس کو ختم کیا جائے، مگر وفاقی وزیر خزانہ نے پاکستان کی نمائندہ تاجر تنظیم کے ساتھ اس ٹیکس کو لگاتے ہوئےکوئی بات نہیں کی۔

  • ایف بی آرغیرمستقل لیکچررزکی تنخواہوں پرغیرمنصفانہ ٹیکس کٹوتی بند کرے،صدرعارف علوی

    ایف بی آرغیرمستقل لیکچررزکی تنخواہوں پرغیرمنصفانہ ٹیکس کٹوتی بند کرے،صدرعارف علوی

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے فیڈرل ٹیکس محتسب کے فیصلوں کے خلاف دائر کردہ 30 ایک جیسی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر مستقل لیکچررز کی تنخواہوں پر غیر منصفانہ اور غیر معقول ٹیکس کٹوتی کا عمل بند کرے ۔

    الیکشنز میں جو ہارتا ہے وہ شکست تسلیم نہیں کرتا، عمران خان

    صدر مملکت نے وفاقی ٹیکس محتسب کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے سمسٹرز سے سمسٹرز عارضی طور پر رکھے گئے لیکچررز کی 36 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر 20 فیصد کی شرح سے ودہولڈنگ انکم ٹیکس کی وصولی غیر قانونی اور بدانتظامی کا عمل ہے۔

    صدر مملکت نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ پوسٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین، بنوں یا اس طرح کے دیگر تعلیمی اداروں کے لیکچررز پر ود ہولڈنگ ٹیکس کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔ انہوں نے ریجنل ٹیکس آفیسر پشاور کو مزید ہدایت کی کہ وہ متعلقہ قانونی دفعات کے تحت ان مقدمات پر دوبارہ کارروائی کریں اور تمام ود ہولڈنگ ایجنٹس کو صدر کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہدایات جاری کریں اور 45 دنوں کے اندر تعمیل کی رپورٹ دیں۔

     

    ہم نے کسی ادارے کے کام میں مداخلت نہیں کی اداروں کی پشت پر کھڑے تھے،چیف جسٹس

     

    صدر مملکت نے ایف بی آر کے ان دلائل کو مسترد کر دیا کہ لیکچررز کو ادائیگیاں "خدمات ” کے زمرے میں آتی ہیں جس میں 20 فیصد کی شرح سے ود ہولڈنگ ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 12 ، 149 اور 153(1)(b) کے تحت ملازمت کی کسی بھی صورت یعنی ریگولر، ایڈہاک، عارضی، روزانہ اجرت، ہنگامی حالات وغیرہ پر رکھے گئے ملازمین کو ملنے والی اجرت کو "تنخواہ” کے طور پر ہی شمار کیا جائے گا اور "تنخواہ سے آمدن ” کے طور پر ہی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ لیکچررز خدمات حاصل کرنے والے اداروں کے ساتھ "آجر -اجیر "تعلق کے تحت کام کر رہے تھے اور قانون کے مطابق ان کی اجرت کو تنخواہ کے برابر ہی سمجھا جاتا ہے اور اس وجہ سے، ان کی اجرت کو "تنخواہ پر ٹیکس ” کے دائرے سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔

    صدر عارف علوی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مقدمات کے حالات اور حقائق کے پیش نظر محتسب کے احکامات جائز اور ٹھوس قانونی بنیادوں پر مبنی تھے، لہٰذا ، ایف بی آر کی نمائندگی کو مسترد کیا جاتا ہے۔

  • پاکستان میں ٹیکس کا کلچر موجود نہیں ہے:عائشہ غوث پاشا

    پاکستان میں ٹیکس کا کلچر موجود نہیں ہے:عائشہ غوث پاشا

    اسلام آباد: پاکستان میں ٹیکس کا کلچر موجود نہیں ہے، عائشہ غوث پاشا نے ایک بارپھر ٹیکس اصطلاحات کا مطالبہ کردیا ،تفصیلات کے مطابق وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے چھوٹے ریٹیلر اور کاروبار پر سیلز کے ذریعے ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔

    فکسڈ سیلز ٹیکس مسترد، تاجروں کا بجلی کے بل جمع نہ کرانے کا اعلان

    عاشئہ غوث پاشا نے کہا کہ انکم ٹیکس لگانے کا طریقہ ایک ہی ہونا چاہیے ہر کوئی جس کی تنخواہ مقرر کردہ حد سے زیادہ ہے وہ ریٹرن جمع کرائیں۔

    عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں، پاکستان میں ٹیکس کا کلچر موجود نہیں ہے اس لئے ہم ٹیکس نیٹ بڑھانا چاہ رہے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے پینشن بھی بڑھائی ہے، فیٹف اور آئی ایم ایف پروگرام ہے ہم خود چاہتے ہیں کہ ملک میں ڈالر آئیں۔

    سپرٹیکس 15 کروڑ سے زائد کی سالانہ آمدنی پر لگے گا. ایف بی آر

    وزیر مملکت خزانہ نے کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، یوکرائن کی جنگ اور بحران کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم نے اپنے بجٹ خسارے کو کم کرنے کی کوشش کی ہے، ہم سے 70 سے 80 فیصد براہ راست ٹیکس لگائے ہیں جبکہ ہم نے مہنگائی سے بچنے کے لئے ان ڈائریکٹ ٹیکس نہیں لگائے۔

    بجلی کے بلوں میں اضافی ٹیکس کا نفاذ، تاجروں نے 5دن کا الٹی میٹم دیدیا

    وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا کا مزید کہنا تھا کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں، وزیراعظم بی آئی ایس پی کے تحت ڈیزل پیٹرول سکیم بھی لائے۔

  • وزیراعظم نے فضائی مسافروں سے 50 ہزار ایف ای ڈی وصولی کا حکم معطل کردیا

    وزیراعظم نے فضائی مسافروں سے 50 ہزار ایف ای ڈی وصولی کا حکم معطل کردیا

    اسلام آباد:وزیراعظم نے فضائی مسافروں سے 50 ہزار ایف ای ڈی وصولی کا حکم معطل کردیا،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے فضائی مسافروں سے 50 ہزار روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف اے ڈی) وصولی کا نوٹس لے لیا۔

    وزیراعظم نے فضائی مسافروں سے ایف اے ڈی وصولی کو غیر قانونی قرار دیا اور اس حوالے سے جاری کردہ حکم نامہ فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دے دیا۔

    شہباز شریف نے ہدایت کی کہ ہوائی اڈوں پر مسافروں کو تنگ کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے۔انہوں نے اس فیصلے کی تحقیقات کا حکم دیا اور کہا کہ کابینہ کی بغیر منظوری ایف اے ڈی کی وصولی کیسے؟ اور کیوں ہوئی بتایا جائے۔

    وزیراعظم نے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو حکم دیا کہ فوری تحقیقات کی جائے اور ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف نےوزیر خزانہ کوہدایت کی کہ جن ذمےداروں کی وجہ سےمسافروں کو پریشانی ہوئی، انہیں عہدوں پر رہنےکا کوئی حق نہیں انہوں نے وفاقی وزیر کو ہدایت کی کہ جن مسافروں سےایف ای ڈی وصول کی گئی، انہیں رقوم واپس کی جائیں۔

    وزیراعظم نے اپنے احکامات پر فوری عمل درآمد اور ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

     

    یاد رہے کہ ایف بی آر نے فضائی مسافروں پرلاگوآرجی ٹیکس میں اضافہ کردیاتھا ، اس سلسلے میں  ایمرٹس ایئرلائنز نے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ ایف بی آر نے فضائی مسافروں پرلاگوآرجی ٹیکس میں اضافہ کردیا تھا جو  یکم جولائی 2022 سےنافذ العمل ہے

    اس حوالے سے جاری اعلان میں کہا گیاہے کہ آرجی ٹیکس جو کہ اس سے قبل 10ہزارروپے تھا بہت زیادہ بڑھا کر50 ہزارکردیا گیا ہے اور یہ دونوں قسم کے مسافروں یعنی فرسٹ کلاس اوربزنس کلاس دونوں پر لاگو ہے

    اس حوالے سے ایمرٹس ایئرلائنز کی طرف سے یہ پیغام جاری کیا گیا ہے کہ ایف بی آر کی طرف سے جاری کردی یہ سرکلرتمام ایئرلائنز پرلاگو کیا گیاہے اوراس حوالےسے جومسافر بھی ٹکٹ لے گا اس کو اس ضمن میں اضافی رقم ادا کرنا ہوگی ، اس حوالے سے جاری پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام ایئرلائنزاب اس فیصلے پرعملدرآمد کرنے کی پابند ہوںگی

    ادھر یاد رہےکہ پاکستان میں ٹیکس کولیکشن میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ،فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مقرر کردہ ہدف سے زیادہ ٹیکس وصول کرلیا۔

     

    ایف بی آر کے اعلامیے کے مطابق ایف بی آر نے آئی ایم ایف کے مقرر کردہ ہدف سے زیادہ ٹیکس وصول کیا، مالی سال 2022-2021 کے دوران 6129 ارب روپے سے زائد ٹیکس وصول کیا۔

    گزشتہ ماہ ایف بی آر نے763 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کیں،گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 580 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کی گئی تھیں۔

    اعلامیے کے مطابق جون کی ٹیکس وصولیاں پچھلے سال کی نسبت 32 فیصد زیادہ ہیں، جون 2022 میں ٹیکس دہندگان کو 39 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کئے گئے، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 27 ارب روپے کے ریفنڈزجاری کئے گئے تھے، جون کے ٹیکس ریفنڈز پچھلے سال کی نسبت 44 فیصد زیادہ ہیں۔

    ایف بی آر کے ماتحت ادارے ایل ٹی یو کراچی کی ٹیکس وصولیاں بھی مقررہ ہدف سے تجاوز کرگئیں۔

    رواں مالی سال میں ایل ٹی یو کراچی کی ٹیکس وصولیاں 1595 ارب روپے سے تجاوز کرگئیں جبکہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو 6 ہزار 100 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف دیا تھا۔

  • پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان

    پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان

    اسلام آباد: پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان،اطلاعات کے مطابق نئے بجٹ کا حجم 96 کھرب سے تجاوز کرگیا ہے اور پٹرولیم لیوی سے 750 کے بجائے 855 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

    نئے مالی سال کے بجٹ میں ترامیم کے مطابق اب نئے مالی سال میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو 7445 ارب کا ٹیکس جمع کرے گا کیونکہ ایف بی آر کے ٹیکس ہدف میں 1340 ارب روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ سپر ٹیکس سے 200 ارب روپے کی آمدن حاصل ہوگی اور سپر ٹیکس کا اطلاق یکم جولائی 2021 سے ہوگا۔

    یکم جولائی 2021 سے 30 جون 2022 کی آمدن پر سپر ٹیکس عائد ہوگا۔ فنانس بل میں پٹرولیم لیوی 30 روپے سے بڑھا کر 50 روپے فی لٹر کردی گئی ہے اور مائع پٹرولیم گیس پر 30 روپے فی کلو لیوی عائد کی جا رہی ہے۔ اس طرح پٹرول لیوی 750 کی بجائے 855 ارب روپے جمع کرنے کا تخمینہ ہے۔

    نئے مالی سال میں پنشن کے لیے 530 کی بجائے 605 ارب خرچ کا تخمینہ ہے جبکہ انتظامی امور چلانے کےلیے 550 کی بجائے 570 ارب کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ آئی ایم ایف سے 1.9 ارب ڈالر بجٹ دستاویز میں شامل کرلیے گئے۔

    چین سے 2.3 ارب ڈالر بجٹ دستاویز میں شامل کرلیے گئے۔ فنانس بل میں ترمیم کے بعد سناروں پر 17 فی صد سیلز ٹیکس کی بجائے اب سناروں پر ماہانہ 40 ہزار روپے فکس سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

  • نیب میں ترامیم کے نام پر ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیا گیا،عمران خان

    نیب میں ترامیم کے نام پر ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیا گیا،عمران خان

    نیب میں ترامیم کے نام پر ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیا گیا،عمران خان

    سابق وزیراعظم، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نیب میں ترامیم کے نام پر ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیا گیا

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک بات تو واضح ہوگئی کہ ان کے پاس معیشت ٹھیک کرنے کی کوئی حکمت عملی نہیں تھی، موجودہ حکومت نے ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیا،بجٹ میں انہوں نے عام آدمی کا معاشی قتل کیا ہے،پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ عارضی بجٹ کا سنا، اب50 روپے پیٹرولیم لیوی عائد کر نے جارہے ہیں،پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں یہاں رکیں گی نہیں، قوم پر پہلے ہی بوجھ بڑھا تھا اب بوجھ اور بڑھے گا،سوپر ٹیکس کی وجہ سے کارپوریٹ کا ٹیکس 39 فیصد پر چلا جائے گا، صنعتوں پر ٹیکس لگنے سے ملک میں بے روزگاری بڑھے گی صنعتیں اتنا ٹیکس نہیں دے سکتیں،

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ روپیہ مسلسل گراوٹ کا شکار ہے، لوڈشیڈنگ اور مہنگے ڈیزل کا سب سے زیادہ اثر ملکی زراعت پر پڑنے والا ہے، انہوں نےایک لاکھ اور ایک لاکھ سے اوپر والے تنخواہ دار طبقے کی ٹیکس چھوٹ بھی واپس لے لی،ان اقدامات سے لوگ ٹیکس چوری پر مجبور ہوں گےہم نے اپنی حکومت میں ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا،ہم نے ٹیکس نہ دینے والے 4 کروڑ 30 لاکھ گھرانوں کی نشاندہی کی، اس ڈیٹا کو مرتب کرنے کیلئے آرٹی فیشل انٹیلی جنس کا استعمال کیا گیا، ہم نے ٹیکس دہندگان پر بوجھ ڈالنے کی بجائے ٹیکس نیٹ بڑھانے کا منصوبہ بنایا تھا،ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سے ٹیکس نہ دینے والی کئی شوگر ملز کی نشاندہی ہوئی،ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کیلئے 20 صنعتوں کا انتخاب ہوا، 3 پر کام شروع ہو چکا تھا،ہمارے دور میں ٹیکسٹائل کے شعبے میں ریکارڈ برآمدات ہوئیں،نیب ترامیم صرف اس ملک کی تباہی ہے، پاکستان کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہے، یہ جو کرنے جا رہے ہیں وہ تباہی ہے، ان کی ترامیم میں صرف اور صرف ملک کی تباہی ہے، انہوں نے کرپٹ افراد کو چھوٹ دیدی ہے،انہوں نے اپنی چوری بچانے کیلئے ہمارا انصاف کا نظام برباد کیا،انہوں نے پاکستان کا مستقبل اندھیرے میں ڈال دیا ہے،جن ملکوں کے اندر غربت ہے انکی غربت کا وجہ یہ ہے کہ وہ بھی بڑے ڈاکووں کو نہیں پکڑ سکتے۔ وہاں وائٹ کالر کرائمز زیادہ ہے اسلئے وہ ملک غریب ہوگئے۔

    عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے دور میں نیب نے 480ارب روپے ریکور کیے،نیب قانون پاس ہوگیا تو پاکستان بنانا ریپبلک بن جائے گا، نیب ترمیم کے ذریعے 11 سو ارب روپیہ معاف کر دیا گیا ہے،انہوں نے خود کو بچانے کیلئے ملک کا نقصان کیا ہے، میں نے جنرل مشرف کے مارشل لا میں 8دن جیل میں گزارا یہ ڈنڈے کے زور پر لوگوں میں خوف پھیلانا چاہتا ہے،قوم خوف کا بت توڑ دے، یہ بت آپ کو غلام بنا دے گا،عمران خان نے 2 جولائی کو ایک بار پھر بڑے احتجاج کا اعلان کردیا اور کہا کہ اگلے ہفتے بڑا چلسہ پریڈ گراونڈ اسلام اباد میں۔ باقی شہر اس رات اپنے شہروں میں احتجاج کریں۔

    خواتین کو تعلیم سے روکنا جہالت،گزشتہ 7ماہ سے انتشار کا کوئی واقعہ نہیں ہوا،طاہر اشرفی

    کسی بھی مکتبہ فکر کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا ،علامہ طاہر اشرفی

    امریکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے،علامہ طاہر اشرفی

    وزیراعظم  نے مکہ میں دوران طواف 3 مرتبہ مجھے کیا کہا؟ طاہر اشرفی کا اہم انکشاف

  • وزیراعظم  نے سپر ٹیکس لگانے کی اصل وجہ بتادی

    وزیراعظم نے سپر ٹیکس لگانے کی اصل وجہ بتادی

    وزیراعظم شہباز شریف نے امیروں پر 10 فیصد سپر ٹیکس کے اعلان کی اصل وجہ بتاتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ اتحادی حکومت کے اقتدارمیں آنے پر دو راستے تھے، پہلاراستہ یہ تھا کہ الیکشن کرائیں اورمعیشت کوٹوٹ پھوٹ کاشکارہونےکے لیے چھوڑدیں جب کہ دوسرا راستہ یہ تھاکہ پہلے اقتصادی چیلنجز سے نمٹا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ: ہم نے پاکستان کو معاشی دلدل سے بچانے کا انتخاب کیا اور پاکستان کو پہلے سامنے رکھا
    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ پہلابجٹ ہےجس میں معیشت کی بحالی کامنصوبہ ہے، سخت فیصلے ملک کو معاشی بحران پرقابوپانےکےقابل بنائیں گے، حکومت نےکم آمدنی والے اور تنخواہ دارپرکم سےکم بوجھ ڈالنےکی کوشش کی، حکومت نے یہ فیصلہ غربت کے خاتمے کے مقصد سے کیا ہے۔

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ: متمول طبقے سے کہا ہے وہ بوجھ بانٹ کر قومی فرض پوراکریں، براہ راست ٹیکس سےحاصل رقم مالی مشکلات سےمتاثر افراد پرخرچ ہوگی۔

    ان کا کہنا تھا: میکرو اکنامک استحکام پہلاقدم ہے، اتحادی حکومت معاشی خود کفالت حاصل کرناچاہتی ہے، ہماری قومی سلامتی کا معاشی انحصار سے بہت گہراتعلق ہے

  • حکومتی اقدامات سے چھوٹا تاجر تباہ ہوجائے گا،شوکت ترین

    حکومتی اقدامات سے چھوٹا تاجر تباہ ہوجائے گا،شوکت ترین

    سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ بجٹ پر بجٹ لائے جا رہے ہیں،

    شوکت ترین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی معاشی پالیسی تمام شعبوں کے لیے بہترین تھی،پی ٹی آئی نے نہیں آپ لوگوں نے معیشت تباہ کی،ان کو سمجھ نہیں آرہا ہے کہ اب معیشت کے ساتھ کیا کیا جائے،جن 13 شعبوں پر ٹیکس لگایا گیا اس سے 45 سے 50 فیصد ٹیکس ہوجائے گا ،فکس ٹیکس لگائیں گے تو بڑی مچھلیاں نکل جائیں گی 43ملین کا ڈیٹا ردی کی ٹوکری میں ڈال دیاگیا ،10فیصدٹیکس صنعتیں بند ہوں گی اور بے روزگاری بڑھ جائے گی حکومتی اقدامات سے چھوٹا تاجر تباہ ہوجائے گا،یہ حکومت ساڑھے 700ارب روپے کی پیٹرولیم لیوی لگائے گی ،

    شہباز گل کا کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل کے مطابق سپر ٹیکس لگنے سے عوام پر بوجھ نہیں پڑے گا،کھاد، سیمنٹ ، چینی سمیت دیگرصنعتوں پر جو ٹیکس لگا ہےوہ اشیا مریخ پر خلائی مخلوق کو سپلائی کی جاتی ہیں،

    وفاقی وزیر آئی ٹی امین الحق نے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے پارلیمنٹ میں اعلانات پر ردعمل میں کہا ہے کہ آئی ٹی انڈسٹری پر سے ود ہولڈنگ ٹیکس اور اسٹیٹمیٹ کی شرائط ختم کرنا بہترعمل ہے، آئی ٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری کرنے والوں پر سے کیپیٹل گین ٹیکس کا خاتمہ فائدہ مند ہوسکتا ہے،ضروری ہے کہ ان اعلانات پر عملدرآمد کیلئے ایف بی آر کو واضح ہدایات جاری کی جائیں،وزیر خزانہ کےاعلانات خوش آئند ضرور، لیکن ناکافی ہیں،مزید اصلاحات کی ضرورت ہے وزارت آئی ٹی کی تمام تجاویز پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کیا جائے، آئی ٹی سیکٹر سے بڑے اہداف کے حصول کیلئے مزید فیصلے کرنے ہوں گے،پالیسیوں میں آئے روز کی تبدیلیاں انڈسٹری کے اعتماد کو بحال نہیں ہونے دیتیں،ایف بی آر کو بھی سمجھنا ہوگا کہ آئی ٹی سیکٹر ملکی معیشت کیلئے اہم ہے، ٹیلی کام سیکٹر سے متعلق تجاویز پر بھی وزیر خزانہ کے اعلانات کے منتظر ہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آئی ٹی سیکٹر کی ریڑھ کی ہڈی ٹیلی کام سیکٹر ہے، اسے فراموش نہیں کرنا چاہیے

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    تمباکو پر ٹیکس عائد کر کے نئی حکومت بجٹ خسارے پر قابو پا سکتی ہے،ماہرین

    تمباکو اور میٹھے مشروبات پر ٹیکس میں اضافہ آنیوالے بجٹ میں کیا جائے، ثناء اللہ گھمن

    تمباکو پر ٹیکس، صحت عامہ ، آمدنی کے لئے جیت

    سگریٹ مافیا کتنا تگڑا ہے؟ اسد عمر ،شبر زیدی نے کھرا سچ میں بتا دیا

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی

    امریکی صدرجو بائیڈن کیجانب سےایندھن پرعائد ٹیکس میں تین ماہ کیلئے استثنیٰ دینےکی خبرسامنے آتے ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر ایجنسی کے مطابق عالمی منڈی میں برطانوی برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 6.5 فیصد یعنی 7.49 ڈالر فی بیرل کم ہوکر 107.16 ڈالرہوگئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 7.1 فیصد یعنی 7.74 ڈالر کم ہوکر 101.78 ڈالرفی بیرل پرآگئی ہے۔

    کویت کی پارلیمنٹ تحلیل، قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان

    بی بی سی کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے جواب میں امریکہ کے قومی پٹرول ٹیکس کو تین ماہ کے لیے معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ایک گیلن گیس، یا پیٹرول کی اوسط قیمت 5 ڈلار کے قریب ہے، جو ایک سال پہلے تقریباً 3 ڈالر تھی نومبر میں کانگریس کے لیے قومی انتخابات آنے کے ساتھ، بائیڈن پر ردعمل کا دباؤ ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لیوی ہٹانے سے گھریلو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر محدود اثر پڑے گاگیس ٹیکس سے استثنیٰ کے لیے سیاسی حمایت، جس کے لیے کانگریس کے ایکٹ کی ضرورت ہوگی، بھی غیر یقینی ہے۔

    بدھ کے روز ایک اعلی ریپبلکن سینیٹر نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجویز بالکل صحیح نہیں ہے جب کہ بائیڈن کی اپنی پارٹی کے ممبران نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ اس اقدام سے بنیادی طور پر تیل اور گیس کی کمپنیوں کو فائدہ ہوگا۔

    بائیڈن نے کہا کہ پالیسی سازوں کو وہ کرنا چاہئے جو ان کے اختیار میں ہے کہ وہ خاندانوں پر دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کریں ، کمپنیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بچت میں "ہر ایک پیسہ” عوام کو دیں۔

    انہوں نے کہا، "میں پوری طرح سمجھتا ہوں کہ صرف گیس ٹیکس سے استثنیٰ دینے سے مسئلہ حل نہیں ہو گالیکن اس سے خاندانوں کو کچھ فوری ریلیف ملے گا، ہم طویل فاصلے تک قیمتیں کم کرنے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    امریکی گیس ٹیکس کیا ہے؟

    فی الحال، امریکہ میں پٹرول پر تقریباً 18 سینٹ فی گیلن اور ڈیزل پر 24 سینٹ ٹیکس لگایا گیا ہے، جمع شدہ رقم ہائی وے انفراسٹرکچر کی ادائیگی میں مدد کے لیے استعمال کی جاتی ہے

    ستمبر تک لیوی کو ختم کرنے سے، جیسا کہ مسٹر بائیڈن نے تجویز کیا ہے، حکومت کو تخمینہ 10 بلین ڈالر لاگت آئے گی یہ اقدام توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے تازہ ترین کوشش ہے۔

    پچھلے سال سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ 2020 میں وبائی امراض کی زد میں آنے کے بعد بہت سی کمپنیوں کی طرف سے کی جانے والی کٹوتیوں کی وجہ سے طلب سے زیادہ رسد میں رکاوٹ پیدا ہوئی –

    جیسا کہ یوکرین کی جنگ نے مغربی ممالک کو روس سے تیل سے دور رہنے پر زور دیا ہے جو کہ توانائی پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک ہے اس نے بھی بحران میں حصہ ڈالا ہے۔

    امریکی ایندھن اور پیٹرو کیمیکل مینوفیکچررز انڈسٹری گروپ نے کہا کہ گیس ٹیکس کی چھٹی سے "قریب مدتی ریلیف ملے گا لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا پیٹرولیم مصنوعات کی طلب اور رسد میں عدم توازن رہے گا۔

    سابق صدر براک اوباما کو مشورہ دینے والے ماہر اقتصادیات جیسن فرمین نے صدر کے اعلان سے قبل ٹوئٹر پر لکھا کہ امریکی صارفین کے لیے، ٹیکس سے استثنیٰ سے بچت میں صرف "چند سینٹ” حاصل ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ "آپ نے فروری میں گیس ٹیکس سے استثنیٰ کے بارے میں جو کچھ بھی سوچا تھا، اب یہ ایک بدتر خیال ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں میں کسی بھی قسم کی کمی ممکنہ طور پر مانگ کو فروغ دے گی، قیمتوں کو پیچھے دھکیل دے گی۔

    ملک میں مہنگائی،امریکی صدرکا اپنے چینی منصب سے رابطے کا عندیہ

  • ٹیکس مراعات نہ دیں تو آئی ٹی صنعت بند ہو جائے گی ،وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی

    ٹیکس مراعات نہ دیں تو آئی ٹی صنعت بند ہو جائے گی ،وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی

    اسلام آباد: وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے کہا ہے کہ ٹیکس مراعات نہ دیں تو آئی ٹی صنعت بند ہو جائے گی۔

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیرانفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق نے پالیسی کمیٹی اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ فنڈ کے اجلاس کی صدارت کرتے کہا ہے کہ ایف بی آر کی پالیسیوں اور اسٹیٹ بینک کے کچھ قواعد ملک میں آئی ٹی ایکسپورٹ میں اضافے اور فری لانسرز کے ذریعے برآمدی ترسیلات کو بڑھانے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

    مہنگائی کا ایسا طوفان آنے والا ہے جو برداشت سے باہر ہوگا،بابر اعوان

    انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مقامی ٹیلنٹ کام تو یہاں کررہا ہوگا لیکن کسی دوسرے ملک سے اپنی کمپنی کو آپریٹ کرکے سارا زرمبادلہ اور کریڈٹ اس ملک کو مل رہا ہوگا۔

    اجلاس میں وزارت آئی ٹی کے ماتحت ادارے یونیورسل سروس فنڈ کے مالی سال 2022/23 کیلئے 32 ارب 13 کروڑ روپے اور نیشنل ٹیکنالوجی فنڈ(اگنائٹ)کیلئے 3 ارب 75 کروڑ روپے کے بجٹ کی اصولی منظوری دی گئی۔

    واضح رہے کہ ٹیکس کی چھوٹ کی لاگت نے مسلسل چوتھے سال اپنے بڑھتے رجحان کو جاری رکھا جس کی بنیادی وجہ برآمدی صنعتوں کی لاگت کم کرنے کے لیے خام مال اور نیم تیار شدہ اشیا پر دیا گیا استثنیٰ تھا۔

    ایف بی آر نے رواں سال جنوری میں زیادہ تر سیلز ٹیکس کی مد میں تقریباً 350 ارب روپے کی چھوٹ واپس لی جبکہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کھادوں اور مشینری پر جزوی چھوٹ دی گئی تھی-

    حال ہی میں وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے پاکستان اقتصادی سروے 22-2021 جاری کیا تھا جا کے مطابق ٹیکس چھوٹ 33.71 فیصد بڑھ کر17 کھرب 57 ارب روپے تک پہنچ گئی جو ایک سال پہلے 13 کھرب 14 روپے تھی۔

    کالے شیشوں، فینسی و بوگس اور بغیر نمبر پلیٹس گاڑیوں کےخلاف کریک ڈاؤن