Baaghi TV

Tag: پارلیمنٹ

  • خواہش ہے ہر اسمبلی،وزیراعظم اپنی مدت پوری کرے،نواز شریف

    خواہش ہے ہر اسمبلی،وزیراعظم اپنی مدت پوری کرے،نواز شریف

    سابق وزیراعظم نواز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے،شہباز شریف اور اسحاق ڈار نواز شریف کے ہمراہ تھے

    اس موقع پر صحافیوں نے نواز شریف سے سوال کیا جس پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت اکانومی کو ٹھیک کرےگی، خواہش ہے ہر اسمبلی اپنی مدت پوری کرے ہر سینیٹ اپنی مدت پوری کرے، وزیر اعظم اپنی مدت پوری کرے، انشاءاللہ یہ حکومت معیشت کو ٹھیک کرے گی، معیشت سے ساری معاملات جڑے ہوئے ہیں، سیاسی عدم استحکام کی کوئی بات نہیں ہے، انشاءاللہ حکومت معیشت کو ٹھیک کرے گی تو سب ٹھیک ہوگا،

    پاکستان مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس شروع ہو گیا،اجلاس کے آغاز پر قائد مسلم لیگ ن کی آمد پر ارکان نے پرتپاک استقبال کیا،شہباز شریف تمام ارکان کو فردا فردا سب سے ملے ،اجلاس کی صدارت نواز شریف اور شہباز شریف کررہے ہیں ،اجلاس میں مسلم لیگ ن کے قومی اسمبلی اور سینیٹ ارکان شریک ہیں،پارلیمانی پارٹی اجلاس میں مسلم لیگ ن کے تقریبا 100 سے زائد ارکان شریک ہیں،نومنتخب ارکان نے پارٹی قیادت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا،پارلیمانی پارٹی نےملک کو مشکلات سے نکالنے میں قیادت کا ہر قدم پر ساتھ دینے کا عزم کیا،

    وزیر اعظم شہباز شریف ،اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ہوں گے، نواز شریف کا اعلان
    نواز شریف نے وزیرِ اعظم کے لئے شہباز شریف کا نام پارلیمانی پارٹی کے سامنے رکھ دیا،پارلیمانی پارٹی نے شہباز شریف کے نام کی توثیق کر دی،سپیکر قومی اسمبلی کے لئے نواز شریف نے ایاز صادق کا نام دے دیا،پارلیمانی پارٹی نے قیادت کے فیصلے پر مکمل اعتماد کا اظہار کر دیا،وفاقی کابینہ کی تشکیل سمیت تمام فیصلوں کا اختیار پارٹی قیادت کو سونپ دیا گیا ،پارلیمانی پارٹی نے ملک کی بہتری ،عوام کی خوشحالی اور ترقی کے لئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی .جمہوریت کی بالادستی ،پارلیمان کے استحکام کے لئے کردار ادا کے کا عزم کیا گیا، ملک اور قوم کو ملکر مشکلات سے نکالنے کے عزم کا اعادہ کیا،

    پاکستان کو تبدیلی کی نہیں تعمیری سیاست کی ضرورت ہے،نواز شریف
    نواز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ نے پہلے بھی ملک اور قوم کی بہتری کے لئے کام کیا ،پاکستان کو بھنور سے نکالنے کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،شہباز شریف کی قیادت میں ملک کو واپس پٹڑی پر چڑھائیں گے ،تبدیلی لانے والوں نے ملک کا بیڑہ غرق کیا،اسے دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہو گا ،ملک اب مزید کسی تجربے کا متحمل نہیں ہو سکتا ،پاکستان کو انتشار کی نہیں،اتحاد کی ضرورت ہے ،پاکستان کو تبدیلی کی نہیں تعمیری سیاست کی ضرورت ہے،نومنتخب ارکان اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،بھرپور مقابلے کے بعد آپ لوگ یہاں پہنچے ہیں ،
    ہمارے ارکان بہت سخت لڑائی لڑ کر قومی اسمبلی میں پہنچے ہیں،بانی پی ٹی آئی جب گرے تو میں سب سے پہلے اسپتال پہنچا،ملک کے وزیراعظم کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کیا گیا،ایسے لگتا تھا جیسے غصے میں مجھے نااہل کیا گیا،قوم آج جو دن دیکھ رہی ہے وہ اسی فیصلے کا نتیجہ ہے،چیف جسٹس ثاقب نثار نے میرے خلاف فیصلے دیئے، کہاں ہے وہ آج ؟ ثاقب نثار کے بیٹے کس کی ٹکٹ کیلئے پیسے وصول کررہے تھے ،وہ جج جہاں ہیں جنہوں نے ہمیں سسلین مافیا کہا،ہم نے کیا بگاڑا تھا ہمارے خلاف اتنا غصہ کیوں تھا ،اس سارے کھیل میں اور بھی پلیئر تھے ،مجھے جن ججوں نے فارغ کیا عوام کو پتہ چل گیا کہ انہوں نے کس لئے مجھے نکالا ،مجھے ہٹانے سے نہ میرا نقصان ہوا تھا اور نہ ہی میری پارٹی کا نقصان ہوا تھ تو صرف پاکستان کا ہوا تھا،

    آنے والے ڈیڑھ 2 سال تھوڑے مشکل،مجھے یقین ہے کہ ہم اس مشکل وقت سے نکل جائیں گے،نواز شریف
    نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ دھرنے ہوتے رہے اور ہم بجلی کے کار خانے لگاتے رہے۔2013 میں وزیراعظم بنا تو بنی گالہ عمران خان کے گھر گیا اور کہا کہ سیاسی قوتوں کو مل کر چلنا چاہیے۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔مگر چند ہفتے بعد لندن میں میٹنگ کرکے طے کیا کہ دھرنے ہوں گے،2017 میں لگ رہا تھا کہ مسلم لیگ ن دوبارہ الیکشن جیتے گی۔ساری سیاسی جماعتوں کو سیاسی ایجنڈے کے تحت کام کرنا چاہئے۔قوم کے بچوں کو تو بدتمیزی اور بدتہذیبی نا سکھاو،ملک کے وزیراعظم کی یہ زبان ہوتی ہے؟4سال میں آپ نے کیا کیا کون سا منصوبہ لگایا۔ عمران خان کے کسی بھی الزام سے نہ ڈرنا چاہیے نہ گھبرانا چاہئے کیونکہ اس نے ہمیشہ ایسے ہی رونا ہے کہ میرے ساتھ دھاندلی ہو گئی ،آپ کچھ بھی کر لیں جب بھی آپ جیتیں گے انکا رویہ ایسا ہی ہوگا۔پاکستان کے ہر بڑے منصوبے پر مسلم لیگ ن کی مُہر لگی ہوئی ہے اگر کسی اور نے کوئی منصوبے لگائے ہیں تو سامنے آئیں ہم تسلیم کریں گے،ہم نے پہلے بھی ڈیلیور کیا اب بھی ڈیلیور کریں گے۔میں تو شہباز شریف صاحب کو داد دیتا ہوں پچھلے 16 ماہ میں جس قدر مسائل تھے یہ انہی کا کام ہے جو ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا گئے، آنے والے ڈیڑھ 2 سال تھوڑے مشکل ہوں گے ہم نے ایک ساتھ رہ کر کام کرنا ہے،مجھے یقین ہے کہ ہم اس مشکل وقت سے نکل جائیں گے،ہم نے مل کر زخم بھرنے ہیں پاکستان اس وقت بہت زخمی ہے اس سے پہلے میں نے اتنا زخمی پاکستان نہیں دیکھا،ہم نے روپے کی قیمت کو کم کرنا ہے، بجلی اور گیس کے بل کم کرنے ہیں،اگر ہم ایک سوچے سمجھے منصوبے کیساتھ چلیں گے تو یقیناً ہم کامیاب ہو جائیں گے

    نو مئی والوں نے ملک کادیوالیہ نکال دیا تھا ،شہباز شریف
    ن لیگ کے صدر شہباز شریف نےبڑے بھائی سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ پارٹی نے جب بھی جو زمہ داری احسن طریقے سے نبھانے کی کوشش کی پی ڈی ایم حکومت میں بھی ملک کو مشکلات سے نکالا ،نو مئی والوں نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا تھا ،پی ڈی ایم حکومت نے انتہائی جانفشانی سے ملک کے لئے کام کیا ، پاکستان کو واپس اپنے پاؤں پر کھڑا کریں گے،سب کو محنت کرنا ہو گی،ن لیگ ،نواز شریف کی قیادت میں آپ کی بہت بڑی کامیابی ہے ،ہمارے ارکان اسمبلی اپنے بل بوتے پر جیت کر آئے،جو آزاد اراکین پارٹی میں شامل ہوئے انہیں خوش آمدید کہتا ہوں ،نواز شریف نے کراچی کا امن بحال کیا، آزاد اراکین کی قوت کے ساتھ ہماری تعداد 104 ہوگئی ہے،سی پیک کے منصوبے لیکر آئے اس کی پوری قوم گواہ ہے ،7 ہزار میگا واٹ بجلی قوم کو مہیا کی، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی ،چاروں صوبوں کو موٹرویز کے ذریعے جوڑا،بھٹو کو پھانسی ہوئی، بے نظیر شہید ہوئیں، مگر کسی نے جی ایچ کیو کی طرف نہیں دیکھا، جب نواز شریف بیمار ہوئے تو غلیظ زبان استعمال کی گئی مگر انہوں نے صبر کیا،

    آرٹیکل 6 کی کاروائی صدر کے خلاف ہونی چاہیے ،خواجہ آصف
    پارلیمانی پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ن لیگی رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ اور فیض ہم سے قانون سازی کرواتے تھے ،اس ماحول میں کیا ہو سکتا تھا ،اس وقت کا بگاڑ ہم بھگت رہے ہیں،اداروں سے اختلافات نہیں کرنا چاہیے، صدر اس ادارے سے اختلاف کر رہا ہے ،آرٹیکل 6 کی کاروائی صدر کے خلاف ہونی چاہیے ،دو بار آئین کی خلاف ورزی کی گئی،پاکستان کا پاور اسٹرکچر کو مل کر بیٹھنا چاہیے کوئی حل نکالنا چاہیے ،اپنی ذاتی انا کو پس پشت ڈالنا چاہیے.

    مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس کی صدارت ہمارے قائد نواز شریف نے کی، نواز شریف نے باضابطہ شہباز شریف بطور وزیراعظم اور ایاز صادق کو اسپیکر نامزد کیا،نوازشریف کی پارٹی اور ملک کے لئے خدمات ہیں جن پر خراج تحسین پیش کیا گیا،شہباز شریف کو ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے پر خراج تحسین پیش کیا گیا،ہم نے جوعوام کی فلاح و بہبود کے لئے ترقیاتی کام کئے اس پر پارلیمانی پارٹی میں روشنی ڈالی، پارٹی جو ذمہ داریاں دے گی ان کو نبھاؤں گا،اتحادیوں جماعتوں کے ساتھ آج شام کو مشترکہ پارلیمانی میٹنگ ہے، مشترکہ اجلاس اور عشائیہ پنجاب ہاوس میں ہوگا،

    وزیراعلیٰ مریم نواز کی پنجاب اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب سے ملاقات

    پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز نے قومی کرکٹر محمد عامر کی فیملی کے ساتھ سٹیڈیم میں ہونے والے بدتمیزی کے واقعہ پر نوٹس

    کوئی سیاسی بھرتی نہیں ہوگی،احتساب، شفافیت، کوالٹی و ٹائم ورک ریڈ لائن ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    نومنتخب وزیراعلیٰ مریم نواز کا تھانہ شالیمار کا دورہ

    مریم نواز کی غیر آئینی ’سلیکشن‘ سے صوبے میں استحکام نہیں آئے گا،بیر سٹر گوہر

    مریم نواز کی جانب سے ہاتھ پیچھے کرنے پر عظمیٰ کاردار کا وضاحتی بیان

    مریم نواز کا پانچ روز میں مہنگائی پر کنٹرول کے لئے ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کا حکم

    نواز شریف چیخ اٹھے مجھے کیوں بلایا،زرداری کی شرط،مولانا کی ضد،ن کی ڈیمانڈ

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

  • برطانیہ میں پہلی بار ارکان پارلیمنٹ کو  سیکیورٹی  فراہم

    برطانیہ میں پہلی بار ارکان پارلیمنٹ کو سیکیورٹی فراہم

    لندن: برطانیہ میں پہلی بار ارکان پارلیمنٹ کو باڈی گارڈز فراہم کیے جانے لگے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی میڈیا کے مطابق تین خواتین ارکان پارلیمنٹ کو گارڈز، گاڑیاں اور ڈرائیور مہیا کردیے گئے ہیں، یہ فیصلہ اسرائیل حماس جنگ کے تناظر میں بڑھتی انتہا پسندی کے پیش نظر کیا گیاگارڈز کے اخراجات پارلیمنٹ کے فنڈز سے ادا ہوں گے،برمنگھم سے لیبر رکن پارلیمنٹ پریت گل کے مطابق جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنا معمول بن گیا ہے، غزہ تنازع کے بعد بدسلوکی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، یہ رویہ ناقابل برداشت ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم رشی سونک نے بھی سیاست میں بڑھتی نفرت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔

    امریکہ اور برطانیہ کے یمن میں مشترکہ حملے

    ملکی حالات اور اقتدار کی جنگ، تجزیہ : شہزاد قریشی

    ارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس تاحال نہیں بلایا

  • کون بنے گا وزیراعظم؟ جوڑتوڑ میں تیزی، اسلام آباد سیاسی سرگرمیوں کا مرکز

    کون بنے گا وزیراعظم؟ جوڑتوڑ میں تیزی، اسلام آباد سیاسی سرگرمیوں کا مرکز

    کون بنے گا وزیراعظم؟ کس کی بنے گی حکومت، جوڑ توڑ ، رابطے جاری، ن لیگ حکومت بنانے کے لئے مسلسل سیاسی جماعتوں سے رابطے کر رہی ہے،شہباز شریف کی گزشتہ شب بلاول ہاؤس میں آصف زرداری اور بلاول سے ملاقات ہوئی تو آج مسلم لیگ ن کے میاں نواز شریف نے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو ٹیلی فون کیا ہے۔

    حکومت سازی،نواز شریف کی مولانا فضل الرحمان کو طیارہ بھیجنے کی پیشکش،مولانا کی معذرت
    دونوں رہنماؤں کے درمیان ملک کی سیاسی صورتحال اور حکومت سازی سے متعلق تبادلہ خیال ہوا،نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو حکومت سازی کے لئے مشاورت میں شرکت کی دعوت دی اور لاہور آنے کے لئے خصوصی طیارہ بھیجنے کی پیشکش کی، تاہم مولانا فضل الرحمان نے انتہائی نرمی کے ساتھ مشاورت میں شرکت سے معذرت کر لی،
    اس سے قبل شہباز شریف دو بار مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کر چکے تھے تا ہم مولانا فضل الرحمان نے انتخابی نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا تھا ، جے یو آئی نے آج انتخابی نتائج پر اپنا اجلاس طلب کر رکھا ہے، سندھ میں جے یو آئی انتخابی نتائج کے خلاف احتجاج کر رہی ہے تو وہیں بلوچستان کے بارے بھی جے یو آئی کا کہنا ہے کہ ہم سے سیٹیں چھین لی گئی ہیں

    وفاق میں 3 سال مسلم لیگ ن اور 2 سال کیلئے پیپلز پارٹی،حکومت سازی پر اتفاق
    مرکز اور پنجاب میں حکومت سازی پر بڑی جماعتوں کے مابین اتفاق رائے ہو گیا ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکز میں حکومت سازی کے لیے دو نکاتی فارمولے پر اتفاق کیا گیا ہے،مرکز میں زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کا پہلے تین سال کے لیے وزیراعظم ہو گا،آخری دو سال کے لیے دوسری جماعت اپنا وزیراعظم لائے گی،پیپلز پارٹی نے پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے لیے مریم نواز کی حمایت کی یقین دہانی کرا دی،مرکز میں تین سال اور دو سال کا فارمولہ طے پا گیا،حتمی فیصلے دونوں بڑی جماعتوں کی مرکزی کمیٹیوں کے اجلاسوں میں لیے جائیں گے.حکومت سازی کا فارمولہ طے پا جانے کے بعد آصف علی زرداری نے پیپلز پارٹی کو ن لیگ مخالف بیانات سے روک دیا، آصف زرداری نے ہدایت کی کہ حکومت سازی سے قبل ن لیگ پر تنقید نہ کی جائے، ، ن لیگ سے متعلق شائستگی کا مظاہرہ کیا جائے،

    ن لیگ کی کوشش ہے کہ شہباز شریف وزیراعظم بنیں، پیپلز پارٹی کی کوشش ہے کہ بلاول وزیراعظم بنیں تا ہم ایک دوسر ے سے اتحاد کئے بغیر وزیراعظم کوئی بھی نہیں بن سکتا شہباز شریف نے الیکشن سے ایک روز قبل کہا تھا کہ کہ اگر سادہ اکثریت نہ ملی تو نواز شریف وزیراعظم کے امیدوار نہیں ہوں گے،

    آٹھ فروری کو ملک بھر میں ہونے والے انتخابی نتائج سامنے آئے ، جس کے مطابق وفاق میں کسی بھی سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں، اسی لئے ن لیگ نے رابطے شروع کئے،الیکشن کمیشن نے ویب سائٹ پر قومی اسمبلی کے 264 حلقوں کے نتائج جاری کئے ہیں،قومی اسمبلی میں آزاد امیدوار سب سے آگے ہیں، 101 سیٹیں آزاد امیدوار لے اڑے جن میں سے 93 تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ہیں، ن لیگ کے پاس 75 اراکین ہیں،پیپلز پارٹی نے 54 نشستیں جیت لیں، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان 17 نشستوں پر کامیاب ہوئی،مسلم لیگ ق اور جے یو آئی تین تین نشستوں پر کامیاب ہوگئی جبکہ استحکام پاکستان پارٹی نے دو اور مجلس وحدت المسلین، مسلم لیگ ضیاء اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے ایک ایک نشست جیت لی ہے۔

    نواز شریف اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان، چودھری شجاعت سے ملیں گے
    مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی آج اسلام آباد روانگی متوقع ہے، مریم نواز بھی نواز شریف کے ہمراہ اسلام آباد جائیں گی،نواز شریف اسلام آباد میں چوہدری شجاعت سے ملاقات کریں گے, آئندہ حکومت بنانے کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی،نواز شریف ملاقات میں چوہدری شجاعت کو اعتماد میں لیں گے,نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان بھی ملاقات متوقع ہے،اسلام آباد میں سیاسی جماعتوں کے بڑے آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے,پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بھی آج اسلام آباد میں ہوگا, پیپلز پارٹی کے قائدین مسلم لیگ ن کی تجاویز کے حوالے سے سی آئی سی ممبران سے رائے لیں گے,

    مسلم لیگ ن نے مرکز و پنجاب میں حکومت سازی کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں،صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف آج آزاد اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی سے ملاقات کریں گے،17 کے قریب کامیاب آزاد امیدواران شہباز شریف سے ملاقات کریں گے،آذاد امیدواران ممکنہ طور پر مسلم لیگ ن کی حمایت کا اعلان کریں گے،گزشتہ روز مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات بھی کی، لاہور سے جیتنے والے ایک آزاد امیدوار ن لیگ میں کل شامل ہوئے،

    ن لیگ کو وزیراعظم کا ووٹ دیکر اپوزیشن میں بیٹھ سکتے ہیں، فیصل کریم کنڈی
    دوسری جانب پیپلز پارٹی جنہوں نے وزارت عظمیٰ ن لیگ سے مانگی ہے، کے ترجمان فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ ہم ن لیگ کو وزیراعظم کا ووٹ دے کر بھی اپوزیشن میں بیٹھ سکتے ہیں، گزشتہ روز ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی ملاقات میں بات چیت ہوئی، عددی برتری تو آزاد امیدواروں کو بھی حاصل ہے،بلاول بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کے وزیراعظم کے امیدوار ہیں، سی ای سی کے سامنے تجاویز رکھی جائیں گی، فیصلہ سی ای سی میں ہو گا، اگر پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو وزیراعظم نہیں بنتے تو پیپلز پارٹی کو اپوزیشن میں بیٹھنا چاہیے، پی ڈی ایم پارٹ ٹو آتی ہے تو میرے خیال میں اچھے طریقے سے نہیں چل سکتے، ہم ن لیگ کی پنجاب میں حمایت کرتے ہیں تو ن لیگ بلوچستان میں ہماری حمایت کرے.

    ایم کیو ایم پاکستان کا وفد آئندہ کی حکمت عملی کے لئے اسلام آباد روانہ ہو گیا،متحدہ قومی موومنٹ کا وفد خالد مقبول کی سربراہی میں اسلام آباد پہنچے گا،ایم کیو ایم وفد میں خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفٰی کمال شامل ہیں،ایم کیو ایم کا وفد اسلام آباد میں سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کرے گا،ایم کیو ایم کا وفد مسلم لیگ ن کی سفارش پر بھی لیگی رہنماؤں سے ملاقات کریگا

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

    سندھ میں پی پی کا تیر چل گیا،نتائج مکمل،پیپلز پارٹی84 سیٹیں لے اڑی

    آزاد امیدواروں نے بڑےناموں کو شکست دیکر ایوان پہنچنے سے روک دیا

    قومی وصوبائی855 میں سے 831 نتائج،آزاد 335 سیٹیں،ن لیگ 216 لے اڑی

    این اے 130 لاہور ، نواز شریف جیل میں گرفتار یاسمین راشد سے جیت گئے

    تخت لاہور،لطیف کھوسہ، میاں اظہر ،وسیم قادر کی جیت،شہباز،حمزہ،مریم،ایازصادق کی بھی جیت

    پنجاب،عمران نذیر،سلمان رفیق،میاں اسلم اقبال،بلال یاسین جیت گئے، رانا مشہود کو شکست

    انتخابی نتائج،آزاد امیدوار وں کا پلڑا تاحال بھاری، ن لیگ دوسرے نمبرپر

    تحریک انصاف کیلیے اچھی خبر، مخصوص نشستوں کا حصول آسان ہو گیا

    آزاد امیدوار ابھی تک آگے،مگر نواز شریف کو حکومت بنانے کی جلدی

    مانسہرہ سے نواز شریف جیت چکے ہیں،اسحاق ڈار کا دعویٰ

  • ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی غیرقانونی قرار

    ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی غیرقانونی قرار

    ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی غیرقانونی قرار دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی:ڈنمارک اور سوئیڈن میں پچھلے کئی ماہ میں قرآن پاک کی بےحرمتی کے متعدد واقعات ہوئے تھے جس کے بعد مسلمان ممالک نے ایسی مذموم حرکتوں پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا جس پر ڈنمارک کی پارلیمنٹ میں قرآن پاک کی بےحرمتی روکنے کا بل منظور ہو گیا ہے جس کے بعد ڈنمارک میں عوامی مقامات پر قرآن پاک کی بےحرمتی غیرقانونی ہوگئی ہے۔

    مبصرین کے مطابق ڈنمارک نے اس قانون کے ذریعے اپنے آزادی اظہار کے قانون اور قومی سلامتی کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ قرآن کی بے حرمتی کے واقعات سے دنیا بھر سمیت ڈنمارک کی مسلم کمیونٹی میں شدید تحفظات پائے جاتے تھے۔

    ایف بی آرکے ہزاروں افسران کا ٹیکس فائلر نہ ہونے کا انکشاف

    پاکستان میں بھی اس وقت کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ڈنمارک کے ہم منصب سے قرآنِ پاک کی بےحرمتی کے واقعات پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا تھا ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے بتایا تھا کہ ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے خود اُن سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہےوزیر خارجہ نے ڈنمارک اور دیگر یورپی ملکوں میں قرآن پاک کی بےحرمتی واقعات پر تحفظات ظاہر کیے ہیں، ڈنمارک نے ان گھناؤنے واقعات کی مذمت کی اور مسلم ممالک سے رابطوں میں ہے۔

    ایرانی صدر سرکاری دورے پر ماسکوپہنچ گئے

    بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ میں نے ڈنمارک کے ہم منصب سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے ایسے اسلاموفوبیا پر مبنی واقعات کو بند کرنے پر زور دیا،میں نے مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور مذہبی برداشت کے فروغ پر بھی زور دیا۔

  • حمیرا احمد نے صدر پاکستان کی پرنسپل سیکرٹری کی خدمات انجام دینے سے انکار کر دیا

    حمیرا احمد نے صدر پاکستان کی پرنسپل سیکرٹری کی خدمات انجام دینے سے انکار کر دیا

    اسلام آباد: سیکرٹری وقار احمد نے ڈاکٹرعارف علوی سے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) یا کسی اور ایجنسی کے ذریعے تحقیقات کرانے کے لئے خط لکھ دیا جبکہ 22 گریڈ کی افسر حمیرا احمد نے صدر پاکستان کی پرنسپل سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دینے سے انکار کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی:پرنسپل سیکرٹری ہٹانے کےلیے صدر مملکت کے احکامات کی تعمیل نہ ہوسکی، الیکشن کمیشن کی اجازت کے بغیر پوسٹنگ تبادلے ہوسکتے ہیں نہ حکومت پر صدر کی درخواست لازم ہے نارکوٹکس ڈویژن کی سیکرٹری کی حیثیت سے کام کرنے والی 22 گریڈ کی افسر حمیرا احمد نے صدر پاکستان کی پرنسپل سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دینے سے انکار کر دیا ہے۔

    دی نیوز کے مطابق مسز حمیرا احمد جنہیں پہلے صدرکی پرنسپل سیکرٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کےلیے کہا گیا تھا انہوں نے یہ اسائنمنٹ اپنی درخواست پرچھوڑ دی اور انہیں وفاقی سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی لگایا گیا ہےجبکہ بعدازاں انہیں سیکرٹری نارکوٹکس ڈویژن لگا دیا گیا وہ ایک باوقار افسر خیال کی جاتی ہیں اور ان کے پاس اپنے فرائض انجام دینے کی مہارت موجود ہے۔

    پاکستان کے صدر مملکت کے پاس کسی سرکاری افسر کو تبدیل کرنے کا استحقاق نہیں ہےکسی بھی تبدیلی کےلیے انہیں حکومت سے رابطہ کرنا ہوتا ہے اور ذرائع نے اپنی بات میں اضافہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ حکومت پر یہ لازم بھی نہیں ہے کہ صدر مملکت کی درخواست مانے۔

    سعودی عرب:روبوٹ کے ذریعے مرگی کے مریض کے دماغ میں چپ لگا دی گئی

    قبل ازیں سیکرٹری وقار احمد نے یہ خط اس وقت لکھا جب صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ بل اور آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے معاملے پر اپنے سیکریٹری وقار احمد کی خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کردیں۔

    وقار احمد نے اپنے مراسلے میں کہا کہ ان کا مقصد کچھ حقائق کو واضح کرنا ہے، میں یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ میں بلز کے حوالے سے کسی بے ضابطگی کا ذمہ دار نہیں ہوں تاخیر اور خلاف ورزی کے الزامات کے برعکس بلز سے متعلق دستاویزات ابھی تک صدارتی ایوانوں میں موجود ہیں، میری خدمات واپس کرنے کا فیصلہ انصاف پر مبنی نہیں ہے-

    وقار احمد نے کہا کہ صدر نے آرمی ایکٹ (ترمیمی) بل کو پارلیمنٹ میں منظور یا واپس نہیں بھیجا، بل سے متعلق فائلز 21 اگست تک سیکرٹری آفس کو واپس نہیں کی گئیں صدر مملکت اس معاملے کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) یا کسی بھی متعلقہ ایجنسی کے ذریعے تحقیقات کرائیں تاکہ کسی حقیقت منظر عام پر آئے اگر کوئی غلط کام ثابت ہو جائے تو ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے، میں سپریم کورٹ یا کسی دوسری عدالت کے سامنے گواہی دینے کے لیے تیار ہوں، میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے ریکارڈ پیش کروں گا۔

    ایک تیر سے3 شکار، عارف علوی چھپا رستم نکلا،بندیال، علوی گٹھ جوڑ،گیم پلان لیک

    وقار احمد نے کہا آفیشل سکریٹ ایکٹ (ترمیمی) بل 2023 ایوان صدر کو 8 اگست کو سرکاری اوقات کے بعد موصول ہوا تھا، اسے 9 اگست کو صدر کو بھجوا دیا گیا تھا اور صدر مملکت کو دونوں بلز سے متعلق حقائق سے پوری طرح آگاہی ہےآئین کے آرٹیکل 75 کے تحت صدر کو 10 دن کے اندر کسی بل کی منظوری دینی ہوتی ہے اور اسی شق کے تحت وہ اتنے ہی دنوں میں بل کو دوبارہ غور کے لیے پارلیمنٹ کو بھیج سکتے ہیں صدر نے نہ تو بل کی منظوری دی اور نہ ہی اسے پارلیمنٹ کو واپس بھیجا اور بلز 21 اگست تک صدر کے دفتر میں ہی رہا۔

    شاہ محمود قریشی کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

  • وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے سمری صدر کو بھیج دی

    وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے سمری صدر کو بھیج دی

    صدر مملکت عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورہ پر قومی اسمبلی توڑ دی ہے جس کے ساتھ ہی قومی اسمبلی، وفاقی کابینہ اور حکومت تحلیل ہوگئی ہے۔ جبکہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی تحلیل کرنےکی سمری پر دستخط کردیے ہیں اور وزیراعظم نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری صدر کو بھیجی تھی۔ جس پر صدر آئین کے آرٹیکل 58 کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی تحلیل کردی۔اور ان کے دستخط کرتے ہی اسمبلی ٹوٹ گئی.

    اگر ایسا نہ ہوتا تو یعنی صدر کے دستخط نہ ہونے کی صورت میں 48 گھنٹوں میں ازخود اسمبلی تحلیل ہوجائے گی، اسمبلی ٹوٹتے ہی کابینہ تحلیل ہوجائے گی اور نگران وزیراعظم کی تقرری تک وزیراعظم شہباز شریف عہدے پر برقرار رہیں گے، قومی اسمبلی تحلیل کے بعد آئین کےآرٹیکل224 اے کے تحت نگران وزیراعظم کا تقرر ہوگا، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نگران وزیراعظم کے لیے مشاورت کریں گے اور اسمبلی تحلیل ہونےکے بعدنگران وزیراعظم کا نام فائنل کرنےکےلیے 3 دن کا وقت ہوگا۔

    جبکہ ان تین دن میں نام فائنل نہ ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا اور وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر اپنے اپنے نام اسپیکر کی پارلیمانی کمیٹی کوبھیجیں گے اور پارلیمانی کمیٹی تین دن کے اندر نگران وزیراعظم کا نام فائنل کرے گی تاہم پارلیمانی کمیٹی کے نگران وزیراعظم کا نام فائنل نہ کرنے پر معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس بھی جاسکتا ہے اور الیکشن کمیشن دیے گئے ناموں میں سے دو دن کے اندر نگران وزیراعظم کا اعلان کرےگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    واضح رہے کہ اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کمیشن آرٹیکل224 ون کے تحت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گا اور مدت پورے ہونے سے قبل اسمبلی توڑے جانے پرعام انتخابات 90 روز میں کرانا ہوں گے۔ جبکہ عام انتخابات کےبعدالیکشن کمیشن آئین کے تحت14دن میں نتائج کا اعلان کرےگا۔

  • ارکان قومی اسمبلی کیلئے الوداعی عشائیہ

    ارکان قومی اسمبلی کیلئے الوداعی عشائیہ

    آج وفاقی حکومت کا قومی اسمبلی میں آخری روز ہے اور ممبران قومی اسمبلی کو آج رات عشایئے پر مدعو کیا گیا ہے جبکہ اس موقع پر انہیں پرتعیش اور چٹ پٹا ڈنر دیا جائے گا جبکہ ذرائع کے مطابق ڈنر کے مینیو میں مٹن کنہ، ترکش ریشمی کباب، لبنانی بون لیس بوٹی، میاں جی کی دال، چکن بون لیس ہانڈی, مٹن بخارا پلاؤ، بھنڈی مصالحہ، 3 طرح کے سیلڈ، نان کی مختلف اقسام اور کیریمل کرنچ بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے الوداعی خطاب کیا اور اس خطاب کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ نوید قمر کمال کے آدمی ہیں اور بہت کام والے آدمی ہیں لہذا بلاول بھٹو زرداری نوید قمر کو ن لیگ میں بھیج دیں کیونکہ ایسے شخص کی ہمیں ضرورت ہے، جبکہ وزیر اعظم کے نوید قمر سے متعلق اس جملے پر ایوان میں قہقہے لگ گئے۔
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی

    تاہم اس حوالے اپنی نشست پر موجود پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے جواب دیا کہ وزیر اعظم صاحب آپ اس طرف آجائیں یعنی پیپلزپارٹی میں آجائیں۔ جبکہ خیال رہے کہ نوید قمر کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے اور وہ اتحادی حکومت میں وزیر تجارت ہیں۔

    علاوہ ازیں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو ملک کے ساتھ زیادتی کی گئی جسے ہمیشہ یاد رکھا جائیگا ،ملکی سرحدوں کے محافظوں نے اپنا خون دے کر ملک کی حفاظت کی ،16 ماہ کسی سیاسی مخالف کو جیل بھجوانا تو دور ناجائز تنگ بھی نہیں کیا ،موجودہ حکومت میں کسی کے خلاف نیب کیسز نہیں بنائے ،پی ٹی آئی کا دور ظلم اور زیادتی کا فاشٹ دور تھا

  • راہول گاندھی کی”فلائنگ کس” پر رکن اسمبلی اور ادکارہ سمرتی ایرانی کا شدید ردعمل

    راہول گاندھی کی”فلائنگ کس” پر رکن اسمبلی اور ادکارہ سمرتی ایرانی کا شدید ردعمل

    نئی دہلی: بھارت کی مقبول اداکارہ اور بی جے پی کی رکن اسمبلی سمرتی ایرانی نے پارلیمنٹ میں راہول گاندھی کے “فلائنگ کس” پر شدید احتجاج کیا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن اسمبلی ،وفاقی وزیر اور معروف ٹی وی اسٹار سمرتی ایرانی نے پارلیمنٹ میں اپنی تقریر میں کانگریس رہنما راہول گاندھی کے "فلائنگ کس” کے اشارے کو نازیبا قرار دیتے کو آڑے ہاتھوں لے لیا جبکہ حکمراں جماعت کے ارکان اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر کے خلاف قرارداد بھی جمع کرادی۔

    وفاقی وزیر سمرتی ایرانی نے راہول گاندھی کا نام لیے بغیر کہا کہ صرف ایک بدتمیز آدمی ہی خواتین ارکان اسمبلی میں موجودگی کے باوجود پارلیمنٹ میں ’فلائنگ کس‘ کر سکتا ہے۔

    قبل ازیں مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے الزام لگایا تھا کہ راہول گاندھی نے تحریک عدم اعتماد پر اپنی تقریر کے بعد پارلیمنٹ سے باہر نکلتے ہوئے فلائنگ کس کیا تھاجس رکن اسمبلی کو کل ہی بحال کیا گیا ہے اس میں اقدار اور وقار کی کمی ہے۔ پارلیمنٹ نے کبھی بھی اس طرح کی “بدتمیزی” نہیں دیکھی گئی۔ جہاں خواتین کی عزت کے تحفظ کے لیے قوانین بنائے جاتے ہیں۔

    ماں نے 7 ہفتوں کے بچے کو چپ کرانے کیلئے فیڈر میں شراب پلا دی

    وزیر درشنا جردوش کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی کی فلائنگ کس ‘ہماری ثقافت کے خلاف ہےہمیں یہ پسند نہیں آیا جب انہوں نے (راہل
    گاندھی) جاتے وقت فلائنگ کس دیا ک یہ ہماری ثقافت کے خلاف ہے۔ ہم پارلیمنٹ میں ایسی چیزوں کو برداشت نہیں کریں گے-

    بعد ازاں بی جے پی خواتین ارکان اسمبلی نے راہول گاندھی کے فلائنگ کس کے اشارے پر لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے پاس قرارداد جمع کرادی۔

    دوسری جانب کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے بی جے پی پر ہمہ جہت حملہ شروع کیا جب انہوں نے آج اپوزیشن اتحاد انڈیا کی طرف سے لائی گئی بی جے پی کی زیرقیادت حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر بحث کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا، "انہوں نے منی پور میں ہندوستان کا قتل کیا ہے۔ وزیر اعظم منی پور کا دورہ نہیں کرتے کیونکہ وہاں ہندوستان کو قتل کیا گیا ہے-

    دفتری اوقات جب ملازمین زیادہ غلطیاں کرتے ہیں

    مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے راہول گاندھی کے ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے کہا، "منی پور تقسیم نہیں ہے، یہ ہندوستان کا حصہ ہے۔” راجیہ سبھا میں، ہندوستانی بلاک نے منگل کو ایوان کے قائد پیوش گوئل کے خلاف اپنے اراکین کو "غدار” کہنے پر استحقاق کی تحریک پیش کی عدم اعتماد کی بحث جمعرات تک جاری رہے گی جب توقع ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اپنا جواب دیں گے۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف تحریک عدم اعتماد گزشتہ روز کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے جمع کرائی تھی جس پر بحث جاری ہے اور کل بروز جمعرات کو تحریک عدم اعتماد کا جواب دیں گے۔

    برطانوی شہزادہ ہیری سے ایک اور لقب سے محروم ہو گئے

  • قومی اسمبلی کا آخری اجلاس آج ہوگا

    قومی اسمبلی کا آخری اجلاس آج ہوگا

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کا آخری اجلاس آج دن 2 بجے ہوگا-

    باغی ٹی وی : قومی اسمبلی کے اجلاس کا 6 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے قومی اسمبلی کے اجلاس میں قومی امور پر آگہی اور اتفاق رائےکیلئے 8 اہم نکات پربحث ہوگی، نکات میں قیام امن، اقتصادی پالیسی، مسئلہ کشمیر اور سی پیک کے علاوہ خارجہ پالیسی، قومی اداروں کا احترام اور موسمیاتی اثرات بھی شامل ہے۔ اہم نکات میں آبادی میں ہوشربا اضافہ کو بھی شامل کیا گیا ہےصدر کے اجلاس سے خطاب پر شکریہ کی تحریک ایجنڈے پر موجود ہے، تاہم آج کے ایجنڈے میں کوئی قانون سازی موجود نہیں۔

    اے این ایف کی کاروائیاں،بیرون ملک جانے والے مسافروں سے منشیات برآمد

    دوسری جانب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج شام 5 بجے ہوگا، اجلاس 2 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے۔ اقتصادی پالیسی اور کشمیرفارن پالیسی ایجنڈے میں شامل ہے، جب کہ تلاوت کلام پاک، نعت شریف اور قومی ترانہ بھی ایجنڈے پر موجود ہے، وزیراعظم شہبازشریف کا الوداعی خطاب بھی متوقع ہے۔

    ادھر ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف نے وفاقی کابینہ کا الوداعی اجلاس آج طلب کرلیا ہے، جس میں کابینہ اسمبلیوں کی تحلیل اور دیگر اہم امور کا جائزہ لیا جائے گا، کابینہ آئندہ کی سیاسی ومعاشی صورتحال کا بھی جائزہ لے گی۔

    بجلی کی قیمت میں 1 روپیہ 81 پیسے فی یونٹ اضافہ

    بلوچستان اسمبلی نے بلوچستان اسمبلی نے مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں صوبے کی آبادی کم کرنے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرلی ہے اراکین اسمبلی کا کہنا تھا کہ 70 لاکھ آبادی کم کرنا صوبے کے خلاف سازش ہے، اس سے نہ صوبے کی نشستوں میں اضافہ ہوسکے گا اور نہ وسائل کی تقسیم میں صوبے کے حصے میں بہتری آئے گی ملک بھر میں ساتویں خانہ و مردم شماری کے مطابق پاکستان کی مجموعی آبادی 24 کروڑ کے قریب پہنچ گئی ہے۔

    پاکستان کی آبادی میں اضافے کی شرح 2.55 فیصد ہے اور ملکی کی آبادی 24 کروڑ 14 لاکھ 99 ہزار 431 تک پہنچ گئی ہےپنجاب کی آبادی 2.63 فیصد اضافے سے 12 کروڑ 76 لاکھ سے تجاوزکرگئی ہے جبکہ خیبرپختونخوا کی آبادی 2.38 فیصد اضافے سے 4 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے سندھ کی آبادی 2.57 فیصد اضافے سے 5 کروڑ 56 لاکھ سے بھی بڑھ گئی ہے جب کہ بلوچستان کی آبادی 3.20 فیصد اضافے سے 1 کروڑ 48 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔

    سندھ میں نگران سیٹ اپ کے لیے مشاورت جاری ہےنگران وزیراعلیٰ کے لیے ایم کیو ایم اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) اپنے نام سامنے لاچکے ہیں اور اب پیپلزپارٹی کی جانب سے نام کا انتظار ہے۔

    شہریار آفریدی کہاں ہیں؟ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے رپورٹ طلب

    جی ڈی اے نے نگران وزیراعلیٰ کے لیے صفدر عباسی، رئیس غلام مرتضیٰ جتوئی، فضل اللہ قریشی، عبداللہ حسین ہارون کے نام دیے ہیں جب کہ ایم کیو ایم نے سابق بیورو کریٹس یونس ڈھاگہ اور شعیب احمد صدیقی کے نام دیے ہیں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور اپوزیشن لیڈر رعنا انصار کی باقاعدہ مشاورت کا انتظار ہے۔

    سندھ اسمبلی اپنی آئینی مدت پوری کرکے 11 اگست کی رات تحلیل ہوجائے گی، سندھ اسمبلی ارکان کی حلف برداری 13 اگست 2018 کو ہوئی تھی، آئینی طور پر وزیراعلی سندھ اور اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے نگران وزیراعلیٰ کا حتمی نام دیا جائے گا۔

    میں بابر سے شادی کرنا چاہتا ہوں،رمیز راجہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    11 اگست کو سندھ اسمبلی کا آخری اجلاس اور فوٹو سیشن ہوگا، اسمبلی ٹوٹنے کے بعد وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر 3 روز میں نگران سربراہ کیلئےاتفاق کریں گے اور اتفاق نہ ہونے کی صورت میں پارلیمانی کمیٹی 2 روز میں نام فائنل کرے گی، پارلیمانی کمیٹی میں فیصلہ نہ ہونے پر الیکشن کمیشن 2 دن میں فیصلہ کرے گا۔

  • پارلیمان اور آئین کو روند کربل پاس کرنے کی فیکٹری لگانا آئین شکنی ہے ،ایمل ولی

    پارلیمان اور آئین کو روند کربل پاس کرنے کی فیکٹری لگانا آئین شکنی ہے ،ایمل ولی

    عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی بے توقیری کرنے اور مذاق اڑانے والے کسی بھی صورت عوامی نمائندے نہیں ہوسکتے۔ آخری ایام میں دو دن کےاندر قومی اسمبلی سے 53 بل منظور کرنے کا جواز کیا ہے؟ان بلز کی آڑ میں صوبائی خودمختاری پر حملہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ قومی اسمبلی سے دو دن میں 53 بلوں کی منظوری پر ردعمل دکھاتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ پارلیمان اور آئین کو روند کربل پاس کرنے کی فیکٹری لگانا آئین شکنی ہے ۔ آئین شکنی مشرف کرے،نیازی کرے یا شہباز شریف،سب کیلئے ہمارا مطالبہ پھر ایک ہی ہوتا ہے۔یاد رکھیں آج بغیر وضاحت دیئے قانون سازی کرنےکے نتائج کل آپکو بھی بھگتنے ہوں گے۔ لاہور میں پاک چائنا گوادر یونیورسٹی قائم کرنے کے بل پر ان کا کہنا تھا کہ جب ہم کہتے ہیں کہ پنجاب پاکستان اور پاکستان پنجاب ہے تو ہمیں ملک دشمنی کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ پاک چائنا گوادر یونیورسٹی کی ضرورت بلوچستان سے زیادہ لاہور میں کیسے ہے؟بلوچستان اور پختونخوا دونوں وہ بدقسمت صوبے ہیں جہاں صرف بارود، انسانی خون، خودکش حملوں اور وسائل ہڑپنے کا کاروبار چل سکتا ہے لیکن تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات کیلئے صاحبان اقتدار لاہور کا رخ کرلیتے ہیں۔ قومی اسمبلی جیسے مقدس ادارے کیلئے یہ شرم کا مقام ہے کہ اسی ادارے کے ذریعے بلوچ عوام کا حق بھی لاہور منتقل کیا گیا۔