Baaghi TV

Tag: پانی

  • پاکستان کی 80 فیصد سے زائد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے،ایشیائی ترقیاتی بینک

    پاکستان کی 80 فیصد سے زائد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے،ایشیائی ترقیاتی بینک

    ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کی 80 فیصد سے زائد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے-

    ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے ایشین واٹر ڈیویلپمنٹ آوٴٹ لک رپورٹ 2025ء جاری کردی گئی ہے جس میں میں پانی کے ذخائر میں تیزی سے کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو پانی کے شدید بحران کا سامنا ہے، ذخائر میں تیزی سے کمی جاری ہے،پاکستان کی 80 فیصد سے زائد آبادی پینے کے صا ف پانی سے محروم ہے، پاکستان میں فی کس پانی دستیابی 3500 سے کم ہو کر 1100 مکعب میٹر رہ گئی ہے، زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال سے زہریلا آرسینک پھیل رہا ہے، ماحولیاتی تبدیلی، آبادی، ناقص مینجمنٹ سے پانی کا بحران بڑھ رہا ہے زرعی شعبہ سب سے زیادہ پانی ضائع کررہا ہے۔

    قومی اسمبلی میں گرے ہوئے پیسے ملنے کے بعد دلچسپ صورت حال،اسپیکر کا مزاحیہ تبصرہ

    رپورٹ کے مطابق واٹر سیکیورٹی کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں ہے پاکستان میں پالیسیاں مضبوط مگر عمل درآمد کمزور اور سست ہے، مالی وسائل کی شدید کمی، واٹر سیکٹر میں اصلاحات اور سرمایہ کاری درکار ہے،رپورٹ میں اگلی دہائی میں 10 سے 12 ٹریلین روپے درکار ہونے اور موجودہ سرمایہ ناکافی قرار دیا گیا ہےکہا گیا ہے کہ پاکستان میں 2022ء کے سیلاب نے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا پاکستان میں سیلاب اور خشک سالی کے خطرات برقرار ہیں پاکستان کو ایس ڈی جیز کیلئے سالانہ 12 ارب ڈالر درکار ہیں۔

    اے ڈی بی کا کہنا ہے کہ ناقص پانی و صفائی سے سالانہ 2.2 ارب ڈالر نقصان کا سامنا ہے، پاکستان میں اربن فلڈنگ اور گندے پانی کا اخراج بڑے چیلنج ہیں، دیہی علاقوں میں پانی کی رسائی کم جبکہ آلودگی اور نگرانی کے مسائل برقرار ہیں، شہری پانی کا انفرا اسٹرکچر کمزور ہے اور گندا پانی بغیر ٹریٹمنٹ خارج ہو رہا ہے، صنعتی شعبہ تقریبا مکمل طور پر زیرزمین پانی پر انحصار کرتا ہے، پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ناکافی، پْرانا نظام بحران بڑھا رہا ہے، آبی ماحولیاتی نظام مزید خراب، دریاوٴں اور ویٹ لینڈز پر دباوٴ ہے، پاکستان کا پانی سیکیورٹی اسکور 2013ء سے 2025ء میں 6.4 پوائنٹس بہتر ہوا، پانی کے شعبے میں ٹیکنیکل صلاحیت اور کوآرڈینیشن کمزور ہے بڑے منصوبوں پر سرمایہ کاری، اصلاحات پر کم توجہ ہے، صنفی مساوات اور سماجی شمولیت کا عمل ابھی سست ہے۔

    برطانوی عدالت کا عادل راجہ کو بریگیڈیئر(ر)راشد نصیر سے عوامی سطح پر معافی مانگنے کا حکم

    اے ڈی بی نے رپورٹ میں پانی کے معیار کی نگرانی کیلئے آزاد اتھارٹی کے قیام کی سفارش کی ہے کہا ہے کہ طرز حکمرانی بہتر نہ ہوئی تو ترقی غیر مساوی رہے گی، ایشیا پیسفک میں 2.7 ارب کی آبادی پانی کی عدم دستیابی سے باہر آگئی، براعظم ایشیا میں واٹر سیکیورٹی کیلئے 250 ارب ڈالر درکار ہیں، ماحولیاتی زوال اور فنڈنگ کی کمی مستقبل میں خطرات بڑھا رہی ہے، براعظم ایشیا دنیا کے 41 فیصد سیلابوں کا مرکز ہے، پانی اور صفائی کے منصوبوں پر موجودہ اخراجات ضرورت کا 40 فیصد ہیں، سالانہ 150 ارب ڈالر کا فنڈنگ گیپ واٹر سیکیورٹی کیلئے خطرہ ہے، 2040 تک خطے میں پانی کے نظام کیلئے 4 ٹریلین ڈالر درکار ہیں۔

    ملک بھر میں پانی کی شدید قلت سے متعلق رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش

  • گڈانی کا سمندری پانی گلابی ہوگیا

    گڈانی کا سمندری پانی گلابی ہوگیا

    حب : گڈانی جیٹی کا سمندری پانی گلابی رنگت اختیار کرگیا، مقامی افراد، ماہی گیر اور سیاح تشویش میں مبتلا ہوگئے-

    گڈانی جیٹی کے پانی کی غیر معمولی صورتحال دیکھ کر مقامی افراد، ماہی گیر اور سیاح تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں تاہم اس حوالے سے محکمہ تحفظ ماحولیات بلوچستان کا بیان سامنے آیا ہے،محکمہ تحفظ ماحولیات بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق گڈانی جیٹی کا پانی آلودہ ہونے کے باعث گلابی رنگ کا ہوگیا ہے، جیٹی کے پانی کا رنگ تبدیل ہونےکے باعث بدبو بھی پھیل رہی ہے۔

    اس حوالے سے ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات عمران کاکڑ کا کہنا ہے کہ جیٹی میں کافی عرصے سے پانی جمع تھا اور بائیو لوجیکل تبدیلی سے پانی کی رنگت تبدیل ہوئی،سمندری پانی گلابی ہونے کی وجہ خوردبینی حیاتیات کی تبدیلی ہے جس کے پیش نظرلوگوں کوپانی سےدور رہنےکی ہدایت کی گئی ہے۔

    حمزہ خان ویلنشیا اوپن اسکواش کے فائنل میں پہنچ گئے

    سیلاب میں ہونے والے جانی مالی نقصان پر ہمارے دل غم زدہ ہیں ۔ قدرت اللہ

    کوئٹہ: بجلی کی لوڈشیڈنگ،ڈاکٹرز کو آپریشنز میں مشکلات کا سامنا

  • دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    لاہور:دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا کے مقام پردریائے سندھ میں پانی کی آمد ایک لاکھ 31 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 82 ہزار کیوسک ہے منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 52 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 32 ہزار کیوسک ہے چشمہ بیراج میں پانی کی آمد ایک لاکھ 43 ہزار 800 کیوسک اوراخراج ایک لاکھ 14 ہزار کیوسک ہے۔

    ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 33 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 13 ہزار 700 کیوسک ہے، نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد 44 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 44 ہزار 700 کوسک ہے۔

    ترجمان واپڈا نے کہا کہ تربیلا ریزروائر میں آج پانی کی سطح 1459.21 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 13 لاکھ86 ایکڑ فٹ ہے، منگلا ریزروائر میں آج پانی کی سطح 1142.30 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 14 لاکھ 18 ہزار ایکڑ فٹ ہےچشمہ ریزروائر میں آج پانی کی سطح 647.10 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 2 لاکھ 17 ہزار ایکڑ فٹ ہے، تربیلا، منگلا اور چشمہ ریزوائر میں قابل استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 30 لاکھ 21 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔

    تربیلا اور چشمہ کے مقامات پر دریائے سندھ، نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل اور منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد اور اخرا ج 24 گھنٹے کے اوسط بہاؤ کی صورت میں ہے جبکہ دیگر مقامات پر پانی کی آمد و اخراج کی تفصیل آج صبح 6 بجے کی ہے۔

  • دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال سے متعلق رپورٹ جاری کردی۔

    ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 95 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 50 ہزار کیوسک ہے منگلا پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 43 ہزار 500کیوسک اور اخراج 32ہزار کیوسک ہے جب کہ چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 99 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 85 ہزار کیوسک ہے، ہیڈمرالہ پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 28 ہزار 300کیوسک اور اخراج 19 ہزار 100 کیوسک ہے، نوشہرہ پردریائےکابل میں پانی کی آمد37 ہزار کیوسک اور اخراج 37 ہزار کیوسک ہے۔

    ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلاریزروائر میں آج پانی کی سطح 1444.30فٹ اور ذخیرہ 9 لاکھ 2 ہزار ایکڑ فٹ ہے، منگلاریزروائر میں آج پانی کی سطح 1137فٹ اور ذخیرہ 12 لاکھ 35 ہزار ایکڑ فٹ ہے چشمہ ریزروائر میں آج پانی کی سطح 646.90 فٹ اور ذخیرہ2 لاکھ 8 ہزار ایکڑ فٹ ہے جب کہ تربیلا، منگلا اور چشمہ ریزروائر میں قابل استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 23 لاکھ 45 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔

  • خلا میں   140 کھرب سمندروں سے بھی زیادہ  بڑا پانی کا  ذخیرہ  دریافت

    خلا میں 140 کھرب سمندروں سے بھی زیادہ بڑا پانی کا ذخیرہ دریافت

    سائنسدانوں کو کائنات کے ایک دور دراز حصے میں پانی کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ملا ہے۔

    باغی ٹی وی: رپورٹ کے مطابق پانی کا یہ ذخیرہ ایک خاص قسم کے ستارے کے گرد چکر لگا رہا ہے جسے کواسر(quasar) کہا جاتا ہے جو 12 بلین نوری سال کی ناقابل یقین حد تک فاصلے پر موجود ہے پانی کا یہ ذخیرہ اس وقت سے خلا میں سفر کر رہا ہے جب کائنات بہت چھوٹی تھی، یہ دور دراز پانی کا ذخیرہ ناقابل یقین حد تک بڑا ہے، جس میں زمین کے تمام سمندروں سے تقریباً 140 کھرب سمندروں سے بھی زیادہ پانی موجود ہے یہ ایک بہت بڑے بلیک ہول کے قریب واقع ہے جو ہمارے سورج سے تقریباً 20 بلین گنا بڑا ہے۔

    ایران کا واٹس ایپ پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ

    سائنسدانوں کے مطابق خلا میں ایک بہت بڑا بلیک ہول اے پی ایم 08279+5255 نامی کواسر سے گھرا ہوا ہے، جو کہ ایک ہزار ٹریلین سورج کے برابر توانائی کی ایک بڑی مقدار جاری کرتا ہےاس کواسر میں پوری کائنات کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ دور معلوم پانی کا ذخیرہ ہے۔

    خلائی تحقیقات کے ادارے ناسا کے سائنسدان بریڈ فورڈ نے کہا کہ اس کواسر کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بہت زیادہ مقدار میں پانی بنا رہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی پوری کائنات میں ابتداء سے ہی عام ہے۔

    ہم وزارت تعلیم کی رجسٹریشن کے تحت رہنا چاہتے ہیں، جامعہ بنوریہ عالمیہ

    کواسر پہلی بار 50 سال قبل دریافت کیا گیا تھا، اس وقت طاقتور دوربینوں کی مدد سے خلا کے دور دراز حصوں میں پراسرار روشنی کو دیکھا گیا تھا،تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ چیزیں عام ستارے نہیں تھے وہ ناقابل یقین حد تک روشن ہیں اور بہت دور کہکشاؤں کے مراکز میں پائے جاتے ہیں وہ اس قدر چمکتے ہیں کہ وہ ان کہکشاؤں میں موجود تمام ستاروں کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں، ان کے مرکز میں بڑے بڑے بلیک ہولز موجود ہیں، جو سورج سے لاکھوں یا اربوں گنا زیادہ گرم ہیں جیسے جیسے ان کے ارد گرد گیس اور دھول گھومتی ہے، وہ زیادہ سے زیادہ گرم ہوتے جاتے ہیں، بہت زیادہ توانائی خارج کرتے ہیں۔

    ہم وزارت تعلیم کی رجسٹریشن کے تحت رہنا چاہتے ہیں، جامعہ بنوریہ عالمیہ

  • کراچی میں پانی کا ایک بار پھر بحران کا خدشہ، 84 انچ قطرکی پانی کی سپلائی لائن دوبارہ ٹوٹ گئی

    کراچی میں پانی کا ایک بار پھر بحران کا خدشہ، 84 انچ قطرکی پانی کی سپلائی لائن دوبارہ ٹوٹ گئی

    کراچی میں یونیورسٹی روڈ پر 84 انچ قطرکی پانی کی سپلائی لائن دوبارہ ٹوٹ گئی۔

    باغی ٹی وی: جامعہ کراچی کے قریب بی آر ٹی ریڈ لائن کے تعمیراتی کام کے دوران پانی کی لائن ٹوٹی جس کے باعث شہر کو 70 فیصد پانی کی سپلائی معطل ہوگئی،کراچی میں پانی کا ایک بار پھر بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، یونی ورسٹی روڈ پر 84 انچ کی لائن کے مرمتی کام کی وجہ سے شہر کے بڑے حصے کو پانی کی فراہمی پیر سے بند کردی جائے گی، ریڈ لائن کی تعمیرات کے دوران 3 دسمبر کو متاثر ہو نے والی پانی کی لائن شہریوں کیلیے عذاب بن گئی-

    3 دسمبر کو ریڈ لائن کی تعمیرات کے دوران 84 انچ قطر کی لائن کو 2مقامات سے پھاڑ دیا گیا تھا جس کے بعد شہر کا پانی بند کر کے 8 دن بعد واٹر کارپوریشن نے مرمتی کام مکمل کیا تھا تاہم 24 گھنٹے بعد ہی ایک متاثرہ مقام سے پانی کا رساؤ شروع ہوگیا تھا لیکن واٹر کارپور یشن کی جانب سے پانی کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے تاہم اب واٹر کارپوریشن نے فیصلہ کیا ہے جس مقام سے لائن میں رساؤ آرہا ہے اس کا مرمتی کام پیر سے شروع کیاجا ئے گا تاہم ایک بار پھر کراچی کے بڑے حصے کو پانی کی فراہمی بند کی جائے گی-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ 48 سے 72 گھنٹوں کیلیے پانی کی فراہمی بند رہے گی زیادہ علاقے جو متاثر ہوں گے ان میں کورنگی ، لانڈھی، شاہ فیصل کالونی ، ملیر، گلستان جوہر، اولڈ سٹی ایریا ، طارق روڈ، اولڈ سٹی ایریا ،لیاری، لیاقت آباد، پی آئی بی کالونی سمیت متعدد شامل ہے متاثرہ علاقوں کے مکین ہفتہ اور اتوار کو کا ذخیرہ کرلیں تاکہ آنے والوں دنوں میں پانی کی شدید کمی کا سامنا کرنا ہوگا ۔

    ترجمان واٹر بورڈ کے مطابق پائپ لائن ٹوٹنے سے شہر میں 250 ملین گیلن پانی کی یومیہ قلت ہےبی آر ٹی کے تعمیراتی کام کے سبب 15دن میں تیسری بار لائن پھٹی ہے۔

    دوسری جانب واٹر کارپوریشن نے ٹرانس کراچی کے سی ای او کو خط لکھ کر 3 کروڑ 50 لاکھ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہےترجمان کا کہنا تھاکہ بی آر ٹی تعمیراتی ٹیم کام کے دوران احتیاط برتے، پائپ لائن کے نقصان کے باعث پانی کی قلت سے شہر بھر میں مشکلات ہیں، رپورٹ کے مطابق کنٹریکٹرزکی غفلت اورعدم تعاون کو حادثے کی اہم وجوہات قرار دیا گیا ، پانی کی لائن کی مرمت اورترسیل بحال کرنے میں ساڑھے3کروڑ روپے خرچ ہوئے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں بھی یونیورسٹی روڈ پر84 انچ قطر کی مین لائن دو بار پھٹ چکی ہے جس کے باعث شہر میں پانی کی فراہمی متاثر ہوئی تھی۔

  • چولستان کینال منصوبہ  چولستان کو ایک نئی زندگی دے گا

    چولستان کینال منصوبہ چولستان کو ایک نئی زندگی دے گا

    چولستان کے دل میں ایک خواب بسا ہوا ہے، ایک ایسا عہد جو اس خشک صحراء میں زندگی کی نئی لہر دوڑانے کا ہے۔ لیکن چولستان کینال منصوبہ، جو تبدیلی کی ایک بڑی امید بن کر ابھرا ہے، اب ایک تنازعہ کا شکار ہو چکا ہے۔ کچھ لوگ اس پر سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا اس منصوبے سے کم دریا کے علاقے (لوئر ریپیئرین) کے پانی کی فراہمی متاثر ہو گی؟ لیکن کیا اس خواب کو شک و شبہات کی نظر ہو کر روکا جا سکتا ہے؟

    چولستان کینال منصوبہ دریائے ستلج سے پانی موڑ کر چولستان کے 452,000 ایکڑ اراضی کو سیراب کرے گا۔ اس منصوبے کا تخمینہ لاگت 211 ارب روپے ہے اور یہ چولستان کی مزید ترقی کے لیے ایک عظیم تر منصوبے "گریٹر چولستان اسکیم” کا سنگ بنیاد بھی ہے، جس کے تحت اگلے مرحلے میں تقریباً دوگنا رقبہ سیراب کیا جائے گا۔پاکستان کا 1991 کا واٹر اپورٹمنٹ ایکورڈ صوبوں کو اپنی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدت اختیار کرنے کا اختیار فراہم کرتا ہے۔ اس کے باوجود، ہر سال ہمارے دریاؤں میں اوسطاً 141 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی بہتا ہے، لیکن اس میں سے 26 ملین ایکڑ فٹ (MAF) — جو کہ چار دیمیر بھاشا ڈیموں کو بھرنے کے لیے کافی ہے، ہر سال سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے، جو ساحلی علاقوں کو نمکین پانی کے داخلے سے بچانے کے لیے درکار مقدار سے کہیں زیادہ ہے۔

    چولستان کینال منصوبہ سندھ اور پنجاب میں سرپلس پانی کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ منصوبہ پانی کی کمی کو پورا کرنے کے بجائے زیر استعمال پانی کو زمین کی پیداوار بڑھانے کے لیے موڑ کر چولستان کی سرزمین کو زرخیز بنانے کی کوشش کرے گا۔ سیلابی موسم میں سندھ کو 45% اور پنجاب کو 12% اضافی پانی ملتا ہے۔ یہ صورتحال سندھ میں پانی کے ضیاع کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، کیونکہ سندھ میں ہر سال 18 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے۔

    پنجاب کے پاس 47 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی ہے، جو 8 ملین ایکڑ زرعی اراضی کو سیراب کرتا ہے، جبکہ سندھ میں 40 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی 3.21 ملین ایکڑ اراضی تک ہی پہنچ پاتا ہے۔ چولستان کینال، جو صرف 0.59 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی پنجاب کے حصے سے لے گا، اس توازن کو متاثر نہیں کرے گا بلکہ کم استعمال ہونے والے پانی کو پیداواری اراضی میں تبدیل کرے گا۔

    گرین پاکستان انیشیٹیو چولستان کینال منصوبے کا تکمیل کار ہے، جو بنجر زمینوں کو زرخیز کھیتوں میں تبدیل کرنے، غذائی تحفظ کو فروغ دینے اور پائیدار ترقی کے لیے تعاون پر مبنی زراعت کے ذریعے معاونت فراہم کرتا ہے۔ زمین کے متنوع ماڈلز اور کسانوں کے لیے تخصیص شدہ ایگری مالز کی فراہمی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کسانوں کو درکار وسائل اور مدد مل سکے۔

    چولستان کینال اور گرین پاکستان انیشیٹیو کا مجموعہ ایک خوبصورت اور پائیدار ماحولیاتی نظام کی تخلیق کرے گا، جو خشک صحراء کو سرسبز و شاداب زمینوں میں تبدیل کر کے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کا وعدہ کرتا ہے۔چولستان کینال منصوبہ نہ صرف چولستان کو ایک نئی زندگی دے گا بلکہ پورے پاکستان کے زرعی منظرنامے میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ منصوبہ پانی کی بہتر تقسیم، زرعی پیداوار میں اضافہ اور ماحولیات کی بہتری کے لیے ایک روشن مثال بنے گا، جو ایک خوشحال اور پائیدار پاکستان کی طرف ایک قدم اور بڑھائے گا۔

    پانی ہے تو زندگی ہے،چولستان نہر کی تعمیر،افواہیں اور حقائق

    صحرائے چولستان میں انڈس تہذیب کا قدیم شہر دریافت

    آرمی چیف کی ہدایت پرچولستان میں امدادی کیمپ قائم

    وطن پرجان قربان کرنےوالوں کواہل وطن کی جانیں عزیز: چولستان میں فری میڈیکل کیمپ ، خدمت انسانیت جاری

  • عظمیٰ بخاری پہلے زمینی حقائق معلوم کریں پھر بیان دیں،شرجیل میمن

    عظمیٰ بخاری پہلے زمینی حقائق معلوم کریں پھر بیان دیں،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ عظمیٰ بخاری پہلے زمینی حقائق معلوم کریں پھر بیان دیں،

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پانی کے انتظام پر سندھ کے خدشات بے بنیاد نہیں ہیں، پانی سب کا مشترکہ حق ہے، بغیر اتفاق رائے کے کوئی بھی منصوبہ شروع کرنا مناسب عمل نہیں، 1991 کا پانی معاہدہ سندھ سمیت تمام صوبوں میں پانی کی منصفانہ تقسیم کو لازمی قرار دیتا ہے، عظمیٰ بخاری پہلے زمینی حقائق معلوم کریں، پھر بیان دیں، ہم چاہتے ہیں کہ پورے پاکستان میں خوشحالی ہو اور زراعت کا شعبہ ترقی کرے،چھوٹے کسانوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات اور مدد کی ضرورت ہے، سندھ کا موقف واضح ہے،

    واضح رہے کہ وزیر اطلاعات پنجاب عظمٰی بخاری کا کہنا تھا کہ پانی دنیا کی اہم ترین ضرورت ہے،ہر صوبے کی اپنی اپنی ضرورت ہے،ہمارا پانی کا معاہدہ ہے جسکے تحت صوبے اپنا اپنا پانی لیں گے،کوئی صوبہ اپنے حصے سے زیادہ یا کم پانی نہیں لے سکتا،پنجاب اپنے حصے کے پانی سے واٹر مینجمنٹ بہتر کر رہا ہے،اپنے حصے کے پانی کی مینجمنٹ پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے،سندھ کے ساتھ پانی کے حوالے سے ہمارا مسئلہ چلتا رہتا ہے،نجانے کیوں سندھ کو پانی کے حوالے سے تحفظات رہتے ہیں،سندھ کا پانی قطعا پنجاب نہیں لینا چاہتا،پنجاب کے پانی کو استعمال کرنا، اسکو مینیج کرنا ہمارا حق ہے،ہمارے حق سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا

    متنازع منصوبوں کی بجائے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں،بلاول

    پانی ہے تو زندگی ہے،چولستان نہر کی تعمیر،افواہیں اور حقائق

    سندھ کا پانی کسی صورت چوری کرنے نہیں دیں گے، پیر پگارا

  • پانی ہے تو زندگی ہے،چولستان نہر کی تعمیر،افواہیں اور حقائق

    پانی ہے تو زندگی ہے،چولستان نہر کی تعمیر،افواہیں اور حقائق

    چولستان کینال،گرین پاکستان انیشیٹو کا ایک اہم ترین حصہ ہے جس سے چولستان کے 25,000 sq km پر پھیلے صحرا کو آباد کرنے کا شاندار منصوبہ ہے۔ اس پراجیکٹ سے پنجاب کی لاکھوں ایکڑ بنجر غیر آباد اراضی کو سیراب کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ چولستان صحرا میں پانی کی قلت کے مسائل کو حل کرے گا جو ہر قسم کی زندگی کو محفوظ بنانے کی ضامن بنے گا۔ دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل سے پانی ذخیرہ کرنے کی موجودہ صلاحیت سے زیادہ اضافی پانی دستیاب ہوگا جو چولستان کینال میں استعمال ہوگا۔ اس منصوبے کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز یکجا ہوکر قومی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ پانی ہے تو زندگی ہے

    پاکستان میں چولستان نہر کی تعمیر کے حوالے سے سوشل اور الیکٹرانک میڈیا میں جو افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، ان میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پنجاب اور سندھ کے درمیان تعلقات اس منصوبے کے باعث کشیدہ ہو گئے ہیں۔ یہ ایک ایسا بیانیہ ہے جسے مفاد پرست گروہ اور پاکستان کے استحکام کے مخالف عناصر پھیلا رہے ہیں۔ اس مسئلے کو عوامی جذبات کو بھڑکانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے معاشی وسائل پر اپنا قبضہ برقرار رکھ سکیں۔ ان دعووں کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور وہ مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ چولستان نہر کے حوالے سے جو چند اہم نکات ہیں وہ درج ذیل ہیں:

    پاکستان کی زرعی معیشت: پاکستان کی معیشت کی بنیاد زرعی شعبے پر ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ شعبہ سکڑ چکا ہے اور اب ملک کے کل 79.6 ملین ہیکٹر اراضی میں سے صرف 22 ملین ہیکٹر اراضی پر زراعت کی جا رہی ہے۔

    زرعی پیداوار میں کمی: پاکستان دنیا کا 15 واں بڑا زرعی پیدا کنندہ ہے اور گندم کا 8 واں بڑا پیدا کنندہ ہے، لیکن پھر بھی پیداوار اور مانگ میں فرق درپیش ہے۔ مثال کے طور پر، پاکستان کی سالانہ گندم کی ضروریات 30.8 ملین میٹرک ٹن ہیں، جب کہ اس کی کمی 4 ملین میٹرک ٹن ہے، جس کے باعث مہنگی درآمدات کرنا پڑتی ہیں۔

    حکومت نے گرین پاکستان منصوبے کے تحت بنجر زمینوں کی زراعت کے لئے اقدامات شروع کئے ہیں تاکہ ملک بھر میں زرعی پیداوار بڑھ سکے۔

    چولستان نہر کا منصوبہ: حکومت نے چولستان، تھل اور تھر کے بیابان علاقوں کی آبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے چھ اسٹریٹجک نہروں کی تعمیر کی منظوری دی ہے، جن میں چولستان نہر بھی شامل ہے۔

    چولستان کا جغرافیہ: چولستان صحرا کا رقبہ 26,300 مربع کلومیٹر ہے، جو پاکستان کے بہاولپور، بہاولنگر اور رحیم یار خان کے اضلاع میں واقع ہے۔ یہ صحرا بھارت کے راجستھان صحرا سے مشرق میں اور تھرپارکر سے جنوب میں ملتا ہے۔ یہاں کی معیشت زیادہ تر مویشیوں کی پرورش پر منحصر ہے۔

    چولستان نہر کی تعمیر کا مقصد: چولستان نہر کا مقصد دریائے ستلج کے سلیمانکی بیراج سے 4,120 کیوسک پانی کو 176 کلومیٹر کے فاصلے پر فورٹ عباس تک منتقل کرنا ہے، تاکہ 452,000 ایکڑ زمین کو سیراب کیا جا سکے۔

    چولستان نہر کی تکمیل: چولستان نہر کا یہ منصوبہ 225 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہو گا۔ اس کے ذریعے چولستان کے بیابان علاقے میں 1.2 ملین ایکڑ اراضی کو قابل کاشت بنایا جائے گا۔

    صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم: پانی کی تقسیم کا مسئلہ 1991 کے واٹر اپورٹیمنٹ ایکورڈ کے تحت حل کیا گیا ہے، جس میں پنجاب کو 48 فیصد، سندھ کو 42 فیصد، خیبر پختونخواہ کو 7 فیصد اور بلوچستان کو 3 فیصد پانی کی فراہمی کا حق دیا گیا ہے۔

    چولستان نہر پر سیاسی پروپیگنڈا: کچھ لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ چولستان نہر سندھ کی زرعی زمینوں اور پانی کی فراہمی کو متاثر کرے گی۔ تاہم، اس منصوبے کو پنجاب کے پانی کے جائز حصے میں شامل کیا گیا ہے اور یہ 0.58 MAF پانی کا استعمال کرے گا، جو کہ سندھ کے پانی کے حصے کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچائے گا۔

    آبی وسائل کے نظم و ضبط کے اقدامات: اس منصوبے کے تحت ایک جدید ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب بھی کی جا رہی ہے جس کی قیمت 25 ارب روپے ہے۔ یہ سسٹم پانی کی تقسیم اور استعمال کی نگرانی کرے گا اور کسی بھی قسم کی دھاندلی یا بدعنوانی کو روکنے میں مدد دے گا۔

    چولستان نہر کا منصوبہ پاکستان کی زرعی پیداوار کو بڑھانے، بیابان زمینوں کو قابل کاشت بنانے اور مقامی لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس منصوبے کو سیاسی یا صوبائی مسائل کا شکار نہیں بنانا چاہیے، بلکہ اسے اس کے اصل مقصد کے تحت دیکھا جانا چاہیے تاکہ پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اس کا مثبت کردار ادا کیا جا سکے

  • دس مرلہ گھروں میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانا لازمی قرار دیا جائے  ،عدالت

    دس مرلہ گھروں میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانا لازمی قرار دیا جائے ،عدالت

    اہور ہائیکورٹ میں اسموگ کے تدراک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی
    عدالت نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب جیسے واپس آئے تو آپ کو اسموگ پر لانگ ٹرم پالیسی پر بات کرنی چاہیے ،جسٹس شاہد کریم نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب سے کہا کہ کم از کم دس سالہ پالیسی بنانی چاہیے، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ہم نے پنجاب میں ای الیکٹرک بسیں چلنے کے لیے بجٹ مختص کردیا ہے ،جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ یہ اقدام تو بہت اچھا ہے ،ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ اگلے سال جون سے قبل یہ بسیں روڑز پر ہونگی،ہم فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے اقدامات بھی کررہے ہیں ،سیلاب کی صورتحال سے نمٹانے کے لیے بھی اقدامات کررہے ہیں ،ہم بارشی پانی کو محفوظ بنانے کے لیے بھی اقدامات کررہے ہیں، جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ حکومت کو چاہیے اعلان کرے کہ ایگری کلچر لینڈ پر ہاؤسنگ سوسائٹی نا بنائی جائیں،ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ہم لینڈ ایکوشن ایکٹ پر کام کررہے ہیں،عدالت نے کہا کہ زیر زمین پانی محفوظ کرنے والا ایک پودہ ہے جس کو زیادہ سےزیادہ لگایا جائے ،دس مرلہ گھروں میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانا لازمی قرار دیا جائے