بانی پاکستان محمد علی جناح نے کشمیر کو شہ رگ پاکستان کہا تھا یہ کوئی جذباتی بات یا سیاسی بیان نہیں تھا بلکہ اس زیرک انسان کی نگاہ بھانپ چکی تھی کشمیر پاکستان کے لیے کیا حیثیت رکھتا ہے. آپ اگر نقشہ وغیرہ پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ دیکھیں گے کہ پاکستان میں آنے والے سبھی دریاؤں کا منبع کشمیر ہی ہے.سوائے ان دو دریا ؤں ستلج(بیاس+بیاس) اور راوی کے جو بھارتی علاقے سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں لیکن سندھ طاس معاہدے کی وجہ سے ان کے پانی پر بھارت کا حق ہے اور بھارت مختلف مقامات پر ان دریاؤں پر ڈیم بنا چکا ہے. اسی لیے سوائے سیلابی کیفیت کے آپ کو وہ دونوں دریا پاکستان میں خشک دکھائی دیتے ہیں.
جنگ مسئلے کا حل ہے یا نہیں؟؟؟ محمد عبداللہ
جبکہ چناب جو ہماچل سے نکل کر جموں و کشمیر سے ہوتا ہوں سیالکوٹ میں مرالہ کے مقام پر دریائے توی سے مل کر پاکستان میں پانی لاتا ہے جو پاکستان کے بیشتر حصے کی زرعی ضروریات کو پورا کرتا ہے. ہیڈ مرالہ کے مقام سے اس سے دو نہریں نکلتی ہیں اپر اور لوئر چناب جن میں سے ایک آگے جاکر بمبانوالہ میں دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے ان میں سے ایک جس کو بی آربی کہا جاتا ہے وہ لاہور کو بھی پانی پہنچاتی ہے اور راوی کے نیچے سے گزرت ہوئے آگے دیپالپور نہر میں شامل ہوجاتی ہے. راوی اور ستلج دونوں کے خشک ہوجانے کی وجہ سے اس سارے مشرقی پنجاب کے علاقے کو پانی چناب سے نکلنے والی اس نہر سے ہی بہم پہنچایا جاتا ہے.
ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ
اسی طرح دریائے جہلم پیر پنجال کے ویری ناگ چشمے سے نکل کر سری نگر ڈل جھیل سے ہوتا ہوا چکوٹھی کے مقام پر مظفر آباد آزاد کشمیر میں داخل ہوتا ہے جہاں مظفرآباد میں اس میں دریائے نیلم شامل ہوتا ہے، وادی کاغان میں دریائے کنہار ان میں شامل ہوتا ہے جبکہ آزاد کشمیر کے علاقے میرپور، منگلا سے کچھ پیچھے دریائے پونچھ بھی ان کے ساتھ مل جاتا ہے اور یہ منگلا میں مقام پر ڈیم میں گرتے ہیں منگلہ ڈیم پاکستان کی بجلی کی بہت بڑی ضرورت کو پورا کرتا ہے وہاں ڈیم سے دریائے جہلم پنجاب کے علاقے جہلم سے گزر کر آگے بڑھتا ہے اور تریموں کے مقام پر دریائے پنجاب سے مل جاتا ہے اور دونوں دریا آگے بڑھتے ہوئے پنجند کی طرف بڑھتے ہیں.
سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ
آپ نقشے پر مزید اوپر کی طرف جائیں تو آپ کو دریائے سندھ نظر آتا ہے جو تبت کے علاقے مانسرور سے نکل کر لداخ سے گزرتا ہوا گلگت بلتستان سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے اور کے پی کے سے ہوتا ہوا تربیلا کے مقام پر ڈیم میں داخل ہوتا ہے تربیلا ڈیم پاکستان کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے اسی دریا سے نکلنے والی تھل کینال نے جنوبی پنجاب کے بنجر صحرائی علاقے کو سرسبز اور شاداب بنا دیا ہے . یہاں سے دریائے سندھ آگے پنجاب کے مختلف علاقوں کو سیراب کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے اور کوٹ مٹھن کے قریب پنجنند کے مقام پر دریائے چناب و جہلم اور دریائے ستلج و راوی دریائے سندھ میں گرتے ہیں اور یہاں سے آگے یہ دریا سندھ کے مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا زرعی اور پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرتا ہوا ٹھٹھہ کے مقام پر بحیرہ عرب میں گرتا ہے.
کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
دریاؤں کی اس ساری بحث کا ماحاصل یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی بدولت بھارت آپ کے دریاؤں بیاس، ستلج، راوی کے پانی کو پہلے ہی ہڑپ کرچکا ہے صرف کشمیر سے آنے والے دریا باقی تھے جو پاکستان میں پانی لا رہے تھے لیکن کشمیر کے مکمل طور بھارت میں چلے جانے کے بعد آپ مکمل طور پر بھارت کے مختاج اور زیر اثر ہوجائیں گے کیونکہ پانی ہی زندگی ہے آپ کا زرعی ملک ہے جس کی ستر فیصد معیشت کا انحصار زراعت پر ہے تو آپ کی زمینیں بنجر ہوجائیں گی اور آپ کی بوند بوند کو ترسیں گے لیکن آپ کو پینے کے لیے بھی پانی نہیں ملے گا. (ہم نے کچھ عرصہ سندھ کیں گزارا ہے ہم جانتے ہیں ٹیل میں رہنے والے لوگ پانی کے لیے کتنا ترستے ہیں اور بعض اوقات پینے کے پانی کی بھی قلت ہوجاتی ہے.)
بلوچستان بھی پاکستان ہے… محمد عبداللہ
اگرچہ بھارت نے ان دریاؤں پر جن کے پانی پر پاکستان کا حق ہے ان پر بھی مقبوضہ کشمیر کیں چونسٹھ کے قریب چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کرلیے ہوئے اور مزید یہ کہ ٹنلز کے ذریعے ان دریاؤں کا پانی چوری کرکے دور دراز راجستھان میں لے جاکر ا کو سیراب کر رہا ہے. کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم ہونے کے بعد اس سارے پانی اور دریاؤں پر مکمل طور پر بھارت کا کنٹرول ہوگا اور وہ جب چاہے جیسے چاہے اس کو استعمال کرے گا. جب ضرورت ہوگی تو پانی روک لیا جائے گا اور جب بارشوں اور سیلاب کا سیزن ہوگا تو بھارت پاکستان میں ضرورت سے زیادہ پانی بھیج کر آپ کو تباہ و برباد کرے گا جس کا وہ ماضی میں تجربہ بھی کرچکا ہے جس کو دنیا بھر کے ماہرین واٹر بم کا نام دے رہے ہیں.
بھارت کو کتے نے نہیں کاٹا کہ وہ آپ کو محض ٹرینیں اور بسیں روک دینے سے کشمیر دے کر کشمیر آزاد کردے اور آپ کو آزادی سے زندگی گزارنے کا موقع دے دے. جو لوگ اس خوش فہمی میں ہیں کہ فقط سیاسی اور سفارتی حربوں سے کشمیر مل جائے گا تو وہ لوگ بہت بڑی بھول میں ہیں اک کشمیر کی وجہ سے بھارت پاکستان کو مکمل طور کنٹرول کرسکتا ہے جبکہ اسی کشمیر کی ہی وجہ سے بھارت امریکہ کے ساتھ مل کر نہ صرف چین کو ڈسٹرب کرسکتے ہیں کہ بلکہ گیمر چینجر پلان سی پیک کی گیم بھی الٹائی جاسکتی ہے.یہ وہ مرحلہ ہوگا جس پر پاکستان کے لیے سارے راستے مسدود ہوجائیں گے.
اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ کشمیر کے مسئلہ پر سنجیدہ ہوجائے. جلد یا بدیر آپ کو کشمیر کی صورت میں پاکستان کی بقاء کے لیے بھارت سے دو دو ہاتھ کرنا پڑیں گے، کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانا پڑے گا وہ آپ آج اٹھاتے ہیں یا سب کچھ گنوا کر اٹھاتے ہیں فیصلہ
آپ کے ہاتھ میں ہے.

Tag: پانی
-

کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
Muhammad Abdullah -

راولپنڈی سلطان پورہ کے باسی کیوں سڑک پر آگئے جانیئے
راولپنڈی_ شہر کے ہر کونے سے پانی دوپانی دو کی سدا بلند ہو رہی ہیں واسا حکام اور منتخب نمائندے خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں شدید گرمی کے موسم میں شہری پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ان خیالات کا اظہار ظہیراحمداعوان چئیرمین سٹیزن ایکشن کیمٹی وراہنما تحریک انصاف نے سلطان پورہ کے دورے کے موقع پر احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کیا. ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے شہر میں پانی کی شدید قلت کے مسئلے پر احتجاجی دستخطی مہم چلا رکھی ہے جس کا مقصد اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں تک شہریوں کی آواز پہنچانا ہے۔
دور قدیم میں لوگ پانی کی وجہ سے نقل مکانی کرتے تھے جہاں پانی قریب ہوتا وہاں ڈیرے ڈالے جاتے تھے اب شہری گھر کرایہ یا خریدنے سے پہلے معلومات لیتے ہیں کہ اس علاقے میں پانی کی قلت تو نہیں۔
منتخب نمائندوں نے الیکشن میں بڑے بڑے حسین خواب دیکھائے تھے لیکن الیکشن جیتنے کے بعد زاتی کاموں میں مصروف عمل ہیں۔ہم چیف جسٹس آف پاکستان وزیراعظم پاکستان وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ راولپنڈی کے شہریوں کو بنیادی حقوق دلوائے تاکہ شہری سکھ کا سانس لیں سکیں۔اس موقع پر حاجی اول خان صدر سلطان پورہ ویلفیر سوسائٹی،بابرزمان قریشی کونسلر،حاجی نصیر بھٹی کونسلر،اصلاح الدین خان صدر انصاف ورکرز اتحاد،حاجی منان خان،لیاقت خان شینواری نے بھی خطاب کیا۔ -

پانی انسان کے لیے کتنا ضروری ہے؟؟؟ حکیم حبیب الرحمن کمبوہ
جسمانی ٹشوز کے وزن کا ٪ 70 پانی ہوتا ہے اور پروٹو پلازم کا لازمی جزو ہے۔ خوراک کے بغیر انسان 15 یوم تک زندہ رہ جاتا ہے مگر پانی کے بغیر انسان 48 گھنٹوں سے زیادہ زندہ رہنا ایک خاص واقعہ ہو سکتا ہے۔
یہ ہمارے جسمانی نظام کے لئے بے حد اہم ہے۔
یہ خوراک ہضم کرنے اور ہضم شدہ غذاء اور دوسرے بے شمار مادوں کو مائع حالت میں ترسیل میں مدد دیتا ہے۔

ہمارے جسم میں ہونے والے تمام کیمیائی عوامل پانی کی موجودگی میں محلول (سلوش فارم) میں ہوتے ہیں۔
انسانی جسم میں پانی پینے سے اور بعض غذائیں مائع حالت میں لینے سے حاصل ہوتا ہے۔
اسی طرح جسم سے فاسد مادوں پیشاب اور فضلہ کا اخراج، جلد اور پھیپھڑوں کے راستے سے بھی دن میں 2 سے 3 لیٹر پانی خارج ہوتا ہے جسکی کمی پانی پینے سے پوری ہوتی ہے۔
اسکے علاوہ دیگر انزائمز بھی پانی کی موجودگی ہی میں فعال ہوتے ہیں۔
پانی خون کو پتلا رکھتا ہے جسکی وجہ سے یہ جسم کے ہر سیل تک پہنچتا ہے.
پانی جسم کے درجہ حرارت کو بھی کنٹرول کرتا ہے.
پانی کی کمی سے ڈی ہائیڈریشن ہو جاتی ہے جو مہلک ثابت ہو سکتی ہے.
سبز پودوں میں فوٹو سینتھیسز کا عمل اسکے بغیر ممکن نہیں.
انسانی جسم کیلئے پانی کی مقدار کا انحصار کسی انسان کی سر گرمیوں اور ماحولیاتی حالات پر ہوتا ہے.
ایسے لوگ جو گرم اور خشک علاقوں میں رہتے ہیں انہیں پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے.
اسی طرح سانس لینے پسینہ اور پیشاب کے اخراج سے جسم سے پانی کا اخراج ہوتا رہتا ہے اس کمی کو پورا کرنے کے لئے ایک عام نارمل اور صحت مند بالغ انسان کو تقریباً 3 لیٹر پانی کی دن بھر میں اوسطاً ضرورت ہوتی ہے۔