Baaghi TV

Tag: پانی

  • اکتوبر سے فروری تک ترقیاتی کام بند کرنے کا حکم

    اکتوبر سے فروری تک ترقیاتی کام بند کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ میں سموگ کے تدارک سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی،

    جسٹس شاہد کریم نے استفسار کیا ایک ماہ میں کتنے پراجیکٹس شروع کئے گئے؟ وکیل پنجاب حکومت نےعدالت میں کہا کہ اس وقت 5منصوبوں پر کام جاری ہے،شاہدرہ میں جاری پراجیکٹ بھی جلد مکمل ہو جائے گا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ نیازی ٹو بابو صابو انٹرچینج پراجیکٹ پر کام شروع نہ کریں، فروری میں شروع کرلیں، جو پراجیکٹ چل رہا ہے وہ ٹھیک ہے،یہ بھی بتایا جائے ایئر کوالٹی پرپراجیکٹس کتنا اثرکریں گے، جو ڈیٹا جمع ہوا ہے آئندہ سماعت پر اس کی روشنی میں آگاہ کریں،جوڈیشل واٹر اینڈ انوائرمینٹل کمیشن نے عدالت میں کہاکہ سموگ سیزن میں تعمیراتی پراجیکٹ شروع نہیں ہونا چاہئے،جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ اکہ یہ بالکل ٹھیک تجویز ہے ایسا ہی ہونا چاہئے،لاہور ہائیکورٹ نے اکتوبر سے فروری تک نئے ترقیاتی منصوبوں پر کام روک دیا،

    دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پانی کو بچانے کیلئے کام کرنا ہوگا،10مرلے کے گھروں کی تعمیر میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لازمی ہونا چاہئے،سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ عدالت نے پہلے ایک کنال کے گھروں کیلئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لازمی قرار دیئے تھے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب آپ 10مرلے کے گھروں کے نقشوں کی منظوری بھی واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر کیساتھ مشروط کریں، آئندہ سماعت پر پروپوزل بنا کر عدالت میں پیش کریں،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اکتوبرسے مارچ تک سائیکلنگ کو پروموٹ کیا جاسکتا ہے، سائیکلنگ کے آئیڈیا کو دیگر شہروں میں بھی اپلائی کیا جا سکتا ہے،لندن میں سائیکل کرائے پر دینے کا کام شروع کیا گیا تھا،سردیوں کے چارماہ میں آپ سائیکل کرائے پر یا ابتدا میں مفت بھی سہولت دی جاسکتی ہے،برطانیہ میں تو جج بھی سائیکل استعمال کرتے ہیں،یہ تجاویز ہیں اس پر غور کریں،

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ایسا مال روڈ پر شروع کیا گیا تھا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ لوگ دفاتر میں موٹر سائیکل یا گاڑی پر جانے کی بجائے سائیکل پر جائیں،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہاکہ ہم ہائیکورٹ سے سول کورٹ جانے تک کتنی گاڑیاں استعمال کرتے ہیں،ہم سائیکل کا استعمال کر سکتے ہیں، عدالت نے سموگ کیس پر کارروائی ملتوی کردی،

    میڈیا کو حکومت نے اشتہارات کی کتنی ادائیگیاں کر دیں اور بقایا جات کتنے ہیں؟ قائمہ کمیٹی میں رپورٹ پیش

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں سیکورٹی سخت،رینجرزتعینات،حملہ وکلاء کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    باقی یہ رہ گیا تھا کہ وکلا آئیں اور مجھے قتل کر دیں میں اسکے لیے تیار تھا،چیف جسٹس اطہر من اللہ

    پیکا ترمیمی آرڈیننس،لگتا ہے وزیراعظم کی کسی نے ٹھیک سے معاونت نہیں کی،عدالت

  • تین نوجوان نہاتے ہوئے ڈوب گئے

    تین نوجوان نہاتے ہوئے ڈوب گئے

    کراچی کے علاقے گڈاپ میں تین نوجوان تالاب میں نہاتے ہوئے ڈوب گئے ہیں جبکہ گڈاپ کے تین نوجوان تالاب میں نہانے کیلئے گئے تھے مگر پھر زندہ واپس نہ آسکے ہیں اور ڈوبنے کے بعد مقامی لوگوں نے تینوں افراد کی لاشیں تالاب سے نکال لیں تھیں جس کے بعد تینوں لاشوں کو عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ جاں بحق ہونیوالوں میں یوسف، وقاص اور اللہ بخش نامی نوجوان شامل ہیں ادھر نوجوانوں کے گھروں میں ان کی موت کی خبر پہنچنے کے بعد کہرام مچ گیا ہے اور ان کے اہل خانہ انتہائی رنجیدہ ہیں، تاہم خیال رہے کہ نوجوانوں کی لاشوں کے پوسٹمارٹم کے بعد ہی ان کی میتیں ان کے گھر پہنچائی جائیں گی.

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں بھی دریائےسندھ خورہ خیل کے مقام پر ایک ہی گھر کے 4 افراد ڈوب گئے تھے جن کی تلاش کے لئے ریسکیو آپریشن کیا گیا تھا جبکہ اٹک میں دریائے سندھ خورہ خیل کے مقام پر ایک ہی خاندان کے4 افراد نہاتے ہوئے ڈوبے تھے، ڈوبنے والوں میں 3 سگی بہنیں اورایک بھائی شامل تھے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں لگنی چاہیے،چودھری شافع حسین
    سیما حیدر نے بھارتی ترنگا لہرا کر بھارت زندہ باد کا نعرہ لگا دیا
    گھبرانے کی ضرورت نہیں منزل قریب ہے، راجہ پرویز اشرف

    جبکہ ریسکیوحکام نے بتایا تھا کہ ڈوبنے والوں میں 22 سالہ، 20 سالہ اور 18 سالہ دختر شہزادہ خان اور 15 سالہ عامر خان شامل تھے اور تینوں سگے بہن بھائی ہیں، جو دریا پر سیر و تفریح کے لیے گئے تھے۔ جبکہ ریسکیو حکام کا کہنا تھا کہ پانی گہرا ہونے کی وجہ سے آپریشن میں مشکلات ہورہی ہیں، تاہم کل صبح دوبارہ ریسکیو آپریشن شروع کیا جائے گا۔

  • واسا نے پانی کے بلوں میں 200 فیصد تک اضافہ کر دیا

    واسا نے پانی کے بلوں میں 200 فیصد تک اضافہ کر دیا

    واسا نے پانی کے بلوں میں ہوشربا اضافہ کردیا ہے-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق واسا نے پانی کے بلوں میں 200 فیصد تک اضافہ کر دیا ، واسا کی جانب سے پانی کے بلوں میں اضافے کے تناسب کے مطابق سات مرلہ گھر کا بل 500 سے بڑھ کر 1500 روپے ماہوار ہوگیا ہے، دس مرلے کے گھر کا بل 650 سے بڑھ کر 1800 روپے اور ایک کنال گھر کا بل 1300 سے بڑھ کر تین ہزار سے زائد ہوگیا ہے۔

    ایم ڈی واسا غفران احمد کا کہنا ہے کہ واسا پانچ ارب روپے سالانہ خسارہ برداشت کرتی ہے جس کی بنیادی وجہ بجلی، پٹرول اور دیگر اخراجات کا بڑھنا ہے لہذا مجبوراً واسا کے بلوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔

    آئی ایم ایف کی شرائط بڑی کڑی اور سخت ہیں،وزیراعظم

    دوسری جانب پینے کے صاف اور محفوظ پانی کے نام پر فروخت ہونے والے منرل واٹرکے 20 برانڈز کے مبینہ طور پر غیرمعیاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے جن کے پینے سے مختلف قسم کی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے،پی سی آر ڈبلیو آرکی طرف سے جاری سہ ماہی رپورٹ کے مطابق اپریل تا جون 2023 کی سہ ماہی میں مجموعی طور پر 20 شہروں سے منرل واٹر کے 169برانڈز کے نمونے حاصل کئے گئے۔

    وزیراعظم کا توشہ خانےکے تحفے نیلام کر کے رقم یتیم بچوں کو دینے کا اعلان

    ان نمونوں کا پی ایس کیو سی اے کے تجویز کردہ معیار کے مطابق لیبارٹری تجزیہ کیا گیا،تجزیے کے مطابق 169میں سے 20 برانڈز پینے کیلئے غیر معیاری پائے گئے ان 20 برانڈز میں سے 11 برانڈز کے نمونوں میں سوڈیم کی مقدار، دو برانڈز کے نمونوں میں نمکیات مقررہ مقدار سے زیادہ پائی گئی ،ایک برانڈ میں پوٹاشیم مقررہ مقدار سے زیادہ پایا گیا، 6برانڈز جراثیم سے آلودہ پائے گئے جوکہ پینے کے لئے مضرِ صحت ہیں، چار برانڈز کے نمونے میں آرسینک مقررہ مقدار سے زیادہ پائی گئی ہے۔

    امام کعبہ شیخ عبدالرحمان السدیس حرمین شریفین مذہبی امور انتظامیہ کے سربراہ مقرر

  • بھارت کا مزید پانی چھوڑنے کا اعلان

    بھارت کا مزید پانی چھوڑنے کا اعلان

    حویلی لکھا میں دریائےستلج ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ چھوٹے بڑے سینکڑوں دیہات ڈوب گئے ہیں، اور ہزاروں ایکڑ رقبے پر موجود کھڑی فصلیں سیلابی پانی کی نذرہوگئی ہیں۔ جبکہ بھارت نے بھاکھڑا ڈیم میں مزید پانی چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے۔
    آج نیوز کے مطابق پاکپتن کے مقام پر بھی دریائے ستلج میں درمیانی درجے کا سیلاب ہے ، کئی دیہاتوں کا نام ونشان مٹ گیا ہے، اور کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔
    اسطرح پتوکی میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر ایک بار پھر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوگیا ہے، اور دریا کے ملحقہ دیگر علاقوں میں پانی کھیتوں میں داخل ہونے کے باعث کسانوں کو چارہ کاٹنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
    راجن پور میں فلڈ بند ٹوٹنے سے درجنوں ایکڑ رقبہ زیر آب آگیا ہے، اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت فلڈ بند باندھنے میں مصروف ہیں، جب کہ عارف والا میں کنڈ قابل کے مقام پر اوور فلو ہونے سے سیلابی ریلا نورا رتھ بند میں داخل ہوگیا ہے۔ اور دریائے راوی کمالیہ کے مقام پر سینکڑوں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔
    دوسری جانب بھارت نے بھی بھاکھڑا ڈیم سے مزید پانی دریائے ستلج میں چھوڑنے کا اعلان کردیا ہے، جس سے پاکستان میں مزید تباہی کا خدشہ ہے۔

  • کیا 2025 تک پاکستان خشک اور بنجر ہوگا؟

    کیا 2025 تک پاکستان خشک اور بنجر ہوگا؟

    کیا 2025 تک پاکستان خشک اور بنجر ہو گا؟اس آنیوالی تباہی کے پیچھے محرکات کافی زیادہ ہیں،پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پانی کی ضروریات بڑھ رہی ہیں،ایک اندازے کے مطابق موجودہ آبادی 220 ملین سے زیادہ ہے۔ ایشین لائٹ کی رپورٹ کے مطابق پانی کی طلب 191 ملین ایکڑ فٹ کے مقابلے میں 274 ملین ایکڑ فٹ تک پہنچ سکتی ہے۔

    دوسری وجہ گنے، کپاس، چاول اور گندم جیسی پانی زیادہ لینے والی فصلوں کی پیداوار ہے۔ وہ موجودہ پانی کی فراہمی کا 95% استعمال کرتے ہیں جبکہ جی ڈی پی میں 5% سے بھی کم حصہ ڈالتے ہیں۔پانی صارفین تک پہنچانے میں ضائع ہو رہا ہے۔ نہروں میں شگاف کے ساتھ پانی کی بچت کا بنیادی نظام بھی پرانا ہے۔ پاکستان اپنی فصلوں کے لیے بارش پر بھی بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ برسات میں ہونے والی تبدیلیاں، اور درجہ حرارت میں اضافہ، زرعی شعبے کے لیے کافی چیلنجز لا رہا ہے. خاص طور پر شمالی پاکستان، جہاں موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ پہلے ہی زیادہ ہے۔

    پانی کی قلت کے بحران کے اثرات 2023 کے وسط میں پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں جبکہ تقریباً 30 ملین آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ پاکستان کے 24 بڑے شہروں میں رہنے والے 80 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔پانی اکثر آلودہ ہوتا ہے، جس سے صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان کے بہت سے شہروں میں زمینی پانی کی فراہمی ہی بنیادی ذریعہ ہے۔ "اس میں مختلف پیتھوجینز شامل ہیں جن میں بہت سے وائرل، بیکٹیریل، اور پروٹوزوئن ایجنٹس شامل ہیں، جس سے ہر سال اسہال کی بیماری پھیلتی اور اس سے 2.5 ملین اموات کا باعث بنتے ہیں۔” [ایم. کوسیک، سی. برن، اور آر ایل جیرنٹ، "اسہال کی بیماری کا عالمی بوجھ، جیسا کہ 1992 اور 2000 کے درمیان شائع ہونے والے مطالعات سے اندازہ لگایا گیا ہے” عالمی ادارہ صحت کا بلیٹن، جلد۔ 81، نمبر 3، صفحہ 197-204، 2003۔]

    پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ میونسپل سیوریج اور صنعتی گندے پانی کا مختلف مقامات پر جاری واٹر سپلائی میں شامل ہونا ہے۔ ٹریٹمنٹ پلانٹس میں پانی کی جراثیم کشی، اور پانی کے معیار کی جانچ کے موثر نظام میں بھی ناکامی ہے۔

    اگر ان مسائل کو مؤثر طریقے سے حل نہیں کیا گیا تو یہ قابل فہم ہے کہ پاکستان کو 2025 تک پانی کی شدید قلت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پانی کے بحران کو کم کرنے کے لیے، پاکستان کو پانی کے تحفظ، بنیادی نظام کی ترقی، زراعت، اور پانی کی صفائی میں نمایاں کوششیں کرنے کی ضرورت ہوگی۔ پانی کے پائیدار انتظام کو یقینی بنانے کے لیے ان اقدامات کے لیے حکومت، بین الاقوامی تنظیموں، اور عام شہریوں سے مربوط کارروائی کی ضرورت ہوگی۔

    پالیسی ساز اور اسٹیک ہولڈرز کے لیے پانی کی کمی اور اس کے منفی اثرات کے ممکنہ مستقبل کے منظر نامے کو روکنے کے لیے ان چیلنجوں کو فوری طور پر ترجیح دینا، اور ان سے نمٹنا بہت ضروری ہے۔ تاہم، اس طرح کے اقدامات کا نفاذ، اور کامیابی کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے. جن میں سیاسی رجحان، مالی وسائل، تکنیکی ترقی، اور سماجی تعاون بھی شامل ہیں۔.

  • سوات کبل پانی کا تنازعہ،دو افراد جاں بحق

    سوات کبل پانی کا تنازعہ،دو افراد جاں بحق

    سوات کبل علاقہ میں پانی کے تنازعے پر دو گروہوں کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق ہو گئے ہے، سوات پولیس کے مطابق لاشیں پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال بھجوا دیئے گئے ہے،پولیس نے مزید کہا کہ فائرنگ کے نتیجے میں دونوں فریقین سے ایک ایک شخص جاں بحق ہو ئے ہے،

  • حکومت بھارت کی آبی جارحیت کا فوری سدباب کرے،ڈاکٹر سبیل اکرام

    حکومت بھارت کی آبی جارحیت کا فوری سدباب کرے،ڈاکٹر سبیل اکرام

    سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے دریائے ستلج اور دریائے چناب میں ایک بار پھر سیلابی پانی چھوڑ دیا ہے ۔ اس طرح سے بھارت پاکستان کو تباہ، زرعی زمینوں کو برباد اورلاکھوں کو بے گھر کرنا یا ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ بھارت کی آبی جارحیت کا فوری سدباب کرے اور عالمی اداروں میں آواز بلند کرے بصورت دیگر لاکھوں پاکستانیوں کے گھر اجڑ جائیں گے لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہوجائے گی اور بہت بڑی تعداد میں لوگ جان بحق ہوجائیں گے۔

    ان خیالات کا اظہار سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا پاکستان میں زرعی انقلاب برپا کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے پوری قوم آرمی چیف کے اس فیصلے کا دل وجان سے خیر مقدم کرتی ہے لیکن پاکستان میں زرعی انقلاب اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا ہے کہ جب تک بھارت کے پاکستان پر ہونے والے آبی حملوں کو نہ روکا جائے ۔ بھارت پاکستان کا بدترین دشمن ہے وہ پاکستان کے ساتھ دشمنی کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ہے 75برس کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھارت کے آج بھی پاکستان پر آبی حملے جاری ہیں ۔ جس موسم میں پاکستان میں پانی کی شدید قلت ہوتی ہے اس موسم میں بھارت کے حکمران پاکستان کی طرف آنے والے دریاﺅں کا پانی روک لیتے ہیں جس سے فصلوں اور زرعی زمینوں کو پوری طرح پانی نہیں ملتا ہے اور زمینیں خشک اور بنجر ہوجاتی ہیں اس طرح سے پاکستانی کاشت کاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے جبکہ موسم برسات میں جب بارشوں کی وجہ سے پاکستان کے دریا پانی سے بھر جاتے ہیں تب بھارت اپنی طرف کا سیلابی پانی بھی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے جس سے تقریباََ ہرسال پاکستان میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے ۔

    ڈاکٹر سبیل اکرام کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا پاکستان میں زرعی انقلاب برپا کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے لیکن یہ زرعی انقلاب اس وقت تک برپا نہیں ہوسکتا ہے کہ جب تک بھارت کی آبی جارحیت کا موثر سدباب نہ کرلیا جائے ۔اسلئے کہ بھارت کے پاکستان پر ہونے والے آبی حملوں سے ہونے والا نقصان پاکستان کےلئے ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سٹیک ہولڈر بھارت کی آبی جارحیت روکنے کےلئے کا فوری اقدامات کریں ۔

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

     زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے ۔

  • سندھ طاس معاہدہ؛  ثالثی عدالت میں بھارت کو شکست نظر آنے لگی

    سندھ طاس معاہدہ؛ ثالثی عدالت میں بھارت کو شکست نظر آنے لگی

    لاہور (خالدمحمودخالد) سندھ طاس معاہدہ کے حوالے سے ہیگ کی ثالثی عدالت میں ہونے والے کیس میں بھارت کو اپنی شکست یقینی نظر آرہی ہے جس کے باعث بھارت کی طرف سے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا۔

    پاکستان کو اس بات کایقین ہوگیا ہے کہ بھارت یہ کیس ہار جائے گا اور پانی کے حوالے سے بھارتی اعتراضات مسترد کرنے کے بعد عدالت پاکستان کو اس کا حق دلائے گی۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان یہ بات طے ہے کہ عدالت کی فیس آدھی بھارت دے گا اور آدھی پاکستان دے گا لیکن بھارت نے اپنی مستقل ہٹ دھرمی اور میں نہ مانوں کی پالیسی اپناتے ہوئے اپنے حصہ کی آدھی فیس یہ کہہ کر دینے سے انکار کردیا کہ وہ عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کر رہا ہے اس لئے وہ فیس بھی نہیں دے گا۔ اس کے بعد عدالت نے پاکستان سے استفسار کیا کہ اگر وہ کیس کو آگے چلانا چاہتے ہیں تو کیا وہ پوری عدالتی فیس دینے کو تیار ہے؟ اس کے بعد پاکستان نے بھارت کے حصہ کی فیس بھی جمع کروادی اور اس طرح عدالت کی کارروائی شروع ہوئی۔

    ایک محتاط اندازے کے مطابق بھارت نے اب تک اپنے حصہ کی تقریبا45 لاکھ ڈالر فیس ادا نہیں کی۔ مذکورہ ثالثی عدالت میں ہونے والے کیس کی گارنٹی عالمی بینک نے دی تھی۔ بعض مبصرین پاکستان کی طرف سے بھارتی حصہ کی فیس جمع کروانے کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مالی حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ کہ پاکستانی عالمی عدالت کی بھاری فیس ادا کرے۔ لیکن دوسری طرف بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ کورٹ فیس ادا کرنا پاکستان کے حق میں گیا۔ اگر کورٹ بھارتی بائیکاٹ کے بعد کیس ناقابل سماعت قرار دے دیتی تو 6 بھارتی اعتراضات کے حوالے عدالت پاکستان کے حق میں فیصلہ نہ کرتی۔

    بھارتی حکومت کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ ہیگ کی مستقل ثالثی عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں کہ وہ دریائے جہلم اور چناب پر بھارت کی جانب سے غیر قانونی طور پر بنائے جانے والے رتلے ڈیم کے متنازع ڈیزائین میں تبدیلی کے حوالے سے مقدمہ سنے جب کہ عدالت نے بھارتی موقف کی یہ کہہ کر دھجیاں اڑا دیں کہ بھارت ہوتا کون ہے کہ وہ عدالتی دائرہ اختیار کا تعین کرے۔ عدالت نے بھارت کو بتادیا کہ ہیگ عدالت رتلے ڈیم کے متنازعہ ڈیزائین تبدیل کرنے کے معاملے کی سماعت کرنے اور فیصلہ دینے کی مجاز ہے۔ عدالت نے بھارت کو متنبہ کیا تھا کہ اگر بھارت عدالت کا بائیکاٹ کرے گا تو عدالت پاکستان کا موقف سننے کے بعد یکطرفہ فیصلہ دے سکتی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سعودی عرب نے اسٹیٹ آف پاکستان میں 2 ارب ڈالر ڈپازٹ کردیئے،اسحاق ڈار
    سرکاری ملازمین کا دوسرے روز بھی مطالبات کی منظوری کے لئے احتجاج
    پیپلز پارٹی کی حکومت نے شہر میں امن و امان بحال کیا،وزیراعلیٰ سندھ
    چیئرمین پی ٹی آئی جیسا ڈکٹیٹر ملکی تاریخ میں پیدا نہیں ہوا، شرجیل میمن
    موسم گرما میں حاملہ خواتین کے لئے قدرتی مشروبات
    سویڈن میں اسلام دشمن سرگرمی پر جنرل ہسپتال میں ہیلتھ پروفیشنلز کی احتجاجی ریلی
    کویت کا سویڈش زبان میں قرآن کریم کے ایک لاکھ نسخے شائع کرنے کا اعلان

    بھارت کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پر نظرثانی کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں اا نے پاکستان کو چند ماہ قبل ایک خط بھی لکھا تھا تاہم بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارتی خط کا جواب نییں دیا۔  

  • سرکاری افسر نےفون ڈھونڈنے کیلئے پورا ڈیم خالی کرادیا

    سرکاری افسر نےفون ڈھونڈنے کیلئے پورا ڈیم خالی کرادیا

    بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ایک سرکاری افسر کو سیلفی لینے کا شوق مہنگا پڑگیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق 32 سالہ فوڈ انسپکٹر راجیش وشواس جو ضلع کینکر کے شہر پاکھنجورمیں تعینات تھا سیلفی لیتے ہوئے وہ اپنا موبائل پانی میں گرا بیٹھا اور اس کی تلاش میں ڈیم ہی خالی کروادیا۔


    فوڈ انسپکٹر راجیش وشواس اپنے دوستوں کے ہمراہ سیر و تفریح کی غرض سے پرالکوٹ پہنچے تھے جہاں سیلفی لیتے ہوئے ان کا موبائل 10 فٹ گہرے پانی میں گرگیا پانی میں گرنے والا فون سام سنگ ایس 23 الٹر تھا جس کی قیمت 95 ہزار بھارتی روپے تھی پانی کو ڈیم سے خالی کرنے کا منگل کو شروع کیا گیا جو جمعرات مکمل کیا گیا –


    جب متعلقہ حکام کوعلم ہوا تو انہوں نے فوڈ انسپکٹر کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے ضلع کی کلکٹر پرینکا شکلا نےکہا کہ سرکاری افسر کےپاس ڈیم سے پانی کے نکالنے کا کوئی اختیار نہیں ہےیہ پانی سخت گرمی میں انسانوں اور جانوروں نے استعمال کیا جانا تھا۔ سرکاری افسر کے خلاف جاری حکم نامےمیں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا ساتھ ہی بغیر اجازت پانی ضائع کیا جس پر ان کو فوری طور پر معطل کردیا۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے راجیش وشواس نے بتایا کہ گاؤں کے کچھ غوطہ خوروں نے موبائل فون تلاش کرنے میں مدد کی لیکن دو دن تک کوشش کرنے کے بعد بھی نہی ملا تو انہوں نے ڈیم کو خالی کرنے کا مشورہ دیا میں نےان سےکہا کہ فون تو اب خراب ہوچکاہوگالیکن مقامی افراد کا ماننا تھا کہ شاید وہ ٹھیک ہو اور وہ میری مدد کے لئے آمادہ تھے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جب سب ڈویژنل افسر واٹر ریسورسز سے رابطہ کیا تو انہوں نے زبانی احکامات جاری کر دیئے تھے جس کے بعد ہی کرائے پر پمپ حاصل کرکے پانی نکالنا شروع کردیا تھا۔

  • اربوں سال قبل مریخ 300 میٹر گہرے سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا،تحقیق

    اربوں سال قبل مریخ 300 میٹر گہرے سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا،تحقیق

    سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ آج کا صحرا نما سرخ سیارہ مریخ کبھی پانی سے بھرپور تھا۔

    باغی ٹی وی :ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مریخ پر ماضی میں کبھی پانی تھا لیکن اس بات پر بحث جاری تھی کہ یہ پانی کتنی مقدار میں تھا تاہم اب ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا کہ 4.5 ارب سال قبل مریخ 300 میٹر گہرے سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا۔

    ڈیٹا رازداری کیس:گوگل 39 کروڑ ڈالرز سے زائد ادائیگی پر رضا مند

    یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کے محققین حاصل ہونے والےنتائج سے پُر امید ہیں کہ کبھی اس سیارے پر زندگی تھی؟ کا جواب حاصل کرنے کی جانب پیش قدمی ہوسکتی ہے۔

    تحقیق میں اندازہ لگایا گیا کہ پورا سیارہ سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا اور ان کی گہرائی 300 میٹر سے لے کر 1000 میٹر تک تھی۔

    سطح سمندر سے 2000 میٹربلندی پرمکہ کی فضا میں آسمانی بجلی کی چمک کا شاندار نظارہ

    سینٹر فار اسٹار اینڈ پلینٹ فارمیشن کے پروفیسر مارٹن بِزارو کا کہنا تھا کہ یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ مریخ کا سائز زمین کے مقابلے میں نصف ہے، اس کی نسبت ہمارے سیارے پر بہت کم پانی ہے مریخ پر یہ پانی برف سے بھرے سیارچوں کی وجہ سے آیا پانی کے ساتھ یہ سیارچے مریخ پر حیاتیات سے متعلقہ مالیکیول جیسے کہ امائنو ایسڈ بھی لائے۔

    ڈی این اے اور آر این اے کی جب بنیاد بنتی ہے تو امائنو ایسڈ کی ضرورت پڑتی ہے جو اپنے اندر ہر وہ چیز رکھتے ہیں جس کی ضرورت ایک خلیے کو ہوتی ہے۔

    پروفیسر بِزارو نے بتایا کہ یہ مریخ کے وجود میں آنے کے ابتدائی 10 کروڑ سالوں میں ہوا۔

    انسان نے کم از کم 7 لاکھ 80 ہزار سال قبل کھانا پکانے کے لیے آگ جلائی