Baaghi TV

Tag: پانی

  • پانی کے امراض کا بڑھتا پھیلاؤ:سندھ حکومت غفلت کی نیند میں مبتلا

    پانی کے امراض کا بڑھتا پھیلاؤ:سندھ حکومت غفلت کی نیند میں مبتلا

    پانی کے نام پر سندھ کے باسیوں کو زہر دینابند کیا جائے: پاسبان
    کینجھر جھیل کی آلودگی انسانی جانوں کے لئے شدید خطرہ ہے: عبدالحاکم قائد

    پانی صحت کی علامت اور زندگی کی بقا کا ضامن ہے،حفاظت کی جائے، واٹر ریسورس کنزرویشن کے لئے با اختیار ادارہ بنایا جائے-

    کراچی میں پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائد نے کہا ہے کہ پانی کے نام پر سندھ کے باسیوں کو زہر دینا بند کیا جائے۔ کینجھر جھیل میں بڑھتی ہوئی آلودگی انسانی جانوں کے لئے شدید خطرہ ہے۔ نوری آباد اور کوٹری کی فیکٹریوں سے خارج ہونے والے صنعتی فضلہ کی پانی میں آمیزش اسے زہریلا بنا رہی ہے، فوری سد باب کیا جائے۔ چیف منسٹر، گورنر ہاؤس، سندھ اسمبلی اور سیکریٹریٹ میں منرل واٹر پر مکمل پابندی عائد کر کے کھینجر جھیل سے پانی سپلائی کیا جائے تاکہ حکمرانوں کو پینے کے پانی کی آلودگی کے مسئلہ کا احساس ہو سکے۔ پانی کی صفائی کا خیال رکھا جائے، پانی کی صفائی کے نام پر مختص بجٹ کو ہڑپ ہونے سے محفوظ بنایا جائے۔ پاکستان میں واٹر ریسورس کنزرویشن کے لئے با اختیار ادارہ بنایا جائے۔پانی کے ذخائر کو آلودگی سے بچایا جائے۔ترقی یافتہ ممالک کی طرح بارش کے پانی کو محفوظ رکھنے کا طریقہ کار وضع کیا جائے۔ پانی صحت کی علامت اور زندگی کی بقا کا ضامن ہے۔ قیمتی عطیہ خداوندی ہے، اس کی حفاظت کی جائے۔

    پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں ملک پانی کی کمی اور آلودگی پر گفتگو کرتے ہوئے عبدالحاکم قائد نے مزید کہا کہ پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جسے اگلے بیس سال میں پانی کی بد ترین قلت کا سامنا ہوگا۔ پاکستان کی پچاس فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔ ستر فیصد آبادی کو گھر تک پانی نہیں پہنچتا۔ پانی کی قلت اور فراہمی ایک بہت اہم ایشو ہے۔ پاکستان میں اس وقت کم و بیش دو سو پچیس آب گاہیں موجود ہیں جہاں تیزی سے بڑھتی ہوئی آلودگی ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ کراچی، ٹھٹھہ اور نوری آباد کے لاکھوں لوگوں کو پانی کی فراہمی اسی جھیل سے کی جاتی ہے۔ اس جھیل کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے اور اس میں آلودگی شامل ہونے کی وجہ سے اس کا پانی مضر صحت ہوتا جا رہا ہے۔ کینجھر جھیل میں فیکٹریوں کا صنعتی فضلہ پھینکا جاتا ہے اور یہی پانی کراچی اور ٹھٹھہ میں عوام کو سپلائی کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے صحت کے سنگین خطرات پیدا ہورہے ہیں جس میں جگر کی خرابی، آنکھوں کی بیماریاں، ہیپا ٹائٹس اور کینسر جیسی خطرناک بیماریاں شامل ہیں۔ سندھ حکومت بے حسی اور لاپرواہی ترک کر کے خواب غفلت سے جاگ جائے۔عوام کی صحت اور جان سے کھیلنا بند کرے۔

    ہر سال لاکھوں، کروڑوں روہے پانی کی صفائی کے نام پر مختص کئے جاتے ہیں اس کے باوجود عوام کو غیر معیاری اور مضر صحت پانی کیوں فراہم کیا رہا ہے؟ کینجھر جھیل کی آلودگی پر عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن حکومت کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ محض روایتی بیانات سے کام لیا جاتا رہا ہے۔ صحت مند شہری ہی اپنی صلاحیتوں سے ملک کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ کمزور مومن تو خدا کو بھی پسند نہیں ہے۔اس وقت صوبے میں کتنے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور فلٹریشن پلانٹ کام کر رہے ہیں، کتنے ناکارہ پڑے ہیں اور مزید کتنے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اور فلٹریشن پلانٹ کی ضرورت ہے؟ کیا صوبے اور ملک میں کوئی ایسا ادارہ ہے جو اس اہم مسئلہ کا نوٹس لے، رپورٹ بنائے اور صوبائی حکومت کا احتساب کر سکے؟ گر اس اہم مسئلہ کا نوٹس نہیں لیا گیا تو حکمرانوں اور ارکان اسمبلی کو آلودہ پانی کے انجکشن لگانے کی عوامی مہم کا آغاز بھی کیا جا سکتا ہے#

  • اوکاڑہ: جندراکہ میں قائم پولیس چوکی بارش کے پانی کیوجہ سے ڈوب گئی۔

    اوکاڑہ: جندراکہ میں قائم پولیس چوکی بارش کے پانی کیوجہ سے ڈوب گئی۔

    اوکاڑہ(علی حسین) اوکاڑہ کے نواح جندراکہ میں قائم پولیس چوکی بارش کے پانی سے ڈوب گئی۔ تھانہ راوی کی جندراکہ میں موجود پولیس چوکی گاوں کی آبادی سے پانچ فٹ نشیب میں ہے جسکی وجہ سے ہمیشہ بارش کے پانی سے چوکی تقریباً ڈوب جاتی ہے۔ گزشتہ رات شدید بارش کے باعث پانی نشیبی چوکی میں داخل ہوگیا۔ چوکی میں موجود فرنیچر اور متفرق سامان پانی میں ڈوب گیا۔ پولیس چوکی کے عملہ کی بے بسی دیکھتے ہوئے اہل علاقہ نے متعلقہ محکمے کے اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ چوکی کو کسی محفوظ مقام پر تعمیر کیا جائے۔

  • درخت چوری کرنیکی خبر لگانے پر بااثر افراد کی جانب سے صحافی کو ہراساں کیا گیا۔

    اوکاڑہ(علی حسین) اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 12 جیڈی میں بااثر شخص طاہر عاشق فاروق فیصل غنی کی غنڈہ گردی کی انتہا سرکاری درخت چوری کرنے کی خبر بریک کرنا صحافی کا جرم بن گیا کچھ روز قبل ملزمان نے گورنمنٹ کے ملکیتی درخت چوری کیے تھے جس کی خبر بریک ہونے پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہوگیا جس کا ملزمان کو رنج تھا اسی رنج کی وجہ سے ملزمان نے کئی دن کا کھڑا گندہ بارش کا پانی جس کی گندے نالے کے زریعے نکاسی ہوتی تھی اسے بند کر کے گندے پانی کو صحافی کے گھر کو موڑ دیا جس پر سارا مکان زمین بوس ہو گیا اور جگہ جگہ دراڑیں پڑ گئیں اور کھنڈر بن گیا ہے اہلیان گاؤں کے مطابق ملزمان بااثر ہیں اور سیاسی پشت پناہی کی وجہ سے پورے گاؤں کے معززین اور آس پڑوس کے رہائشیوں کا جیناحرام کیا ہوا ہے گاؤں والوں نے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے

  • محکمہ پانی بیچنے لگا

    محکمہ پانی بیچنے لگا

    قصور
    چونیاں سٹی کے ایس ڈی او محکمہ انہار نے ماتحت ملازمین سے مل کر پانی چوری کروانا شروع کر دیا
    تفصیلات کے مطابق چونیاں سٹی کے ایس ڈی او نے بڑے بڑے زمینداروں سے پانی چوری اور بڑے بڑے پائپ اور مہگے بڑے کروانے کی بکنگ شروع کردی محمد طالب خاں اور وسیم اکرم نے بتایا کہ ہم چھوٹے زمیندار ہیں اور آخری ٹیل پر پانی نہیں پہنچتا جو راستے میں ہی بڑے بڑے زمینداروں سے بھاری نذرانہ وصول کر کے ہمیں پانی سے محروم کیا جاتا ہے
    زمینداروں نے چیف ایری گیشن اور ایکشین قصور سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • قصور کا پانی اوکاڑہ میں چوری

    قصور کا پانی اوکاڑہ میں چوری

    قصور
    ضلع اوکاڑہ کے زمیندار محمکہ قصور کے عملے کی ملی بھگت سے پانی چوری کرنے لگے
    تفصیلات کے مطابق سب ڈویزن کنگن پور سیکشن کنگن پور نہر دیپالپور کینال بڑھی نمبر 87/88 لیفٹ ڈیفنس اوٹ لیٹ بڑھی نمبر 88/89 پائیپ 12 انچ ایس ڈی او احمد اقبال قدیر پراچہ سب انجینئر کی ملی بھگت سے پانی چوری ضلع اوکاڑہ کے زمینداروں کا پانی چوری کروانے اور بھاری رشوت لیکر چھوٹے زمینداروں کو محروم کرنے پر چیف ایری گیشن سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • پانی کے تنازع پر قتل

    پانی کے تنازع پر قتل

    قصور
    چونیاں کے نواح موضع نوشہرہ میں کھیتوں میں پانی لگانے کے تنازع پر ایک شحض قتل
    تفصیلات کے مطابق چونیاں کے نواحی گاؤں موضع نوشہرہ میں کھیتوں میں پانی لگانے گئے ہوئے شحض انور کو کلہاڑی کے پے در پے وار کے د قتل کر دیا
    برکت علی کا انور کے ساتھ کھیتوں میں پانی لگانے کا تنازعہ چلا رہا تھا وقوعہ کے روز دونوں آپس میں جھگڑ پڑے اور برکت نے طیش میں آکر انور کو کلہاڑیوں کے پے درپے وار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا پولیس مصروف تفتیش ہے

  • اپنے گھروں کا پانی اپنے ہی پیاروں کی قبروں میں

    اپنے گھروں کا پانی اپنے ہی پیاروں کی قبروں میں

    قصور
    250 گھروں پر مشتمل 1960 سے قائم آبادی سیوریج کے نظام سے محروم اپنا استعمال شدہ پانی اپنے ہی قبرستان میں چھوڑنے پر مجبور
    تفصیلات کے مطابق قصور فیروز پور روڈ سے 5 پانچ کلومیٹر دوری پر واقع بستی سلیمان خان والی کے رہائشیوں نے نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری بستی 1960 سے آباد ہے اور ہمارے تقریبا 250 گھر ہیں مگر ہماری بستی کیلئے کوئی بھی نکاسی آب کا انتظام نہیں جس پر ہم اپنے قبرستان سے ملحقہ جوہڑ میں اپنے گھروں کا پانی چھوڑتے ہیں جو کہ بھر کر ہمارے پیاروں کی قبروں میں داخل ہو جاتا ہے جس سے قبریں زیر آب آ جاتی ہیں اس کے علاوہ قبرستان سے ملحقہ ہماری دو ایکڑ اراضی بھی عرصہ دو سال سے گندے پانی سے بھری ہوئی ہے حالانکہ محض 10 ایکڑ دور ہم سے مین نالا ہے پھر بھی ہمارے لئے سیوریج کے پانی کی نکاسی کیلئے کوئی انتظام نہیں کیا جا رہا لہذہ ایم پی اے الیاس خان گجر اور ایم این اے ملک رشید احمد خان صاحب ہمارا مسئلہ حل کروائیں ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت ڈھائی لاکھ روپیہ اکھٹا کرکے قبرستان میں بھرتی ڈالی ہے لہذہ ہمارے اور ہمارے پیاروں کی قبروں پر رحم کیا جائے

  • پانی کی بدولت کڑوروں کا نقصان

    پانی کی بدولت کڑوروں کا نقصان

    قصور
    الہ آباد میں 40 سال قبل قائم ہونے والی واحد ٹیلی فون ایکسچینج تباہی کاشکار مشینری ضائع ہونے کا خدشہ
    تفصیلات کے مطابق الہ آباد تقریبا 40 سال قبل قائم ہونے والی اکلوتی ٹیلی فون ایکسچینج کی خستہ حالی کا شکار ہے اب تو نا کوئی بلڈنگ نہا کوئی چار دیواری نا سیکورٹی رہی بلکہ اب تو جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر اور سیوریج کا گندا اس جگہ کھڑا ہے اور یہ کچھ سب کچھ محکمہ کی غفلت کا نتیجہ ہے یہ حساس ادرہ ہے تاجر بنک رائیس ملز سکول و کالجز نے پی ٹی سی ایل اور نیٹ کنکشن حاصل کر رکھے ہیں محکمہ کروڑوں روپے کما رہا ہے جب ایکسچینج بنی تھی اس وقت سیوریج سسٹم نا ہونے کی وجہ سے ٹیلی فون ایکسچینج کے سیوریج کا گندا پانی نکالنے کیلئے ٹیلی فون ایکسچنیج کی حدود کے اندر ہی ایک انڈر گراءونڈ گھڑھا نکال کر سیوریج کا گندا پانی اس میں ڈالا جاتا تھا تب سے لیکر اب تک جوں کا توں ہی نظام چل رہا ہے یہ ایکسچینج آبادی میں ہے بارش اور سیوریج کا پانی ایکسچینج میں داخل ہوکر اس کے انڈر گراءونڈ گھڑھے میں جاتا ہے جس سے زمینی پانی کے ساتھ مکس ہو جاتا ہے اور عوام ہیپاٹئیٹس کاشکار ہو رہی ہیں اور پانی ٹیلی فون کی بیسمینٹ میں بھی داخل ہوتا ہے جس سے ڈینگی کا لاوہ پیدا ہوتاہے اس کے ساتھ قریبی عمارتوں کو تقصان بھی پہنچ رہا ہے الہ آباد سے عوامی مذہبی سیاسی رفاہی تنظیموں کی اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کی اپیل ہے

  • شہریوں  کے مقدر میں سیوریج ملا پانی

    شہریوں کے مقدر میں سیوریج ملا پانی

    قصور
    کھڈیاں خاص میں لوگوں کے گھروں میں واٹر سپلائی کے پانی میں سیوریج ملا پانی آنے لگا کئی شہری بیمار انتظامیہ لاعلم

    تفصیلات کے مطابق کھڈیاں خاص میں محلہ رحمان آباد کے کئ گھروں میں پینے کے صاف پانی کے بجاۓ سیوریج ملا پانی آنا شروع ہو گیا جس سے لوگوں میں مختلف وبائی بیماریاں پھیلنے کا شدید خدشہ ہو گیا ہے واٹر سپلائی کی پرانی لائن کی بدولت سیوریج کا پانی مکس ہو کر آ رہا ہے لوگوں نے ڈی سی قصور سے فوری اصلاح احوال کا مطالبہ کیا ہے

  • پانی کی قلت اور ہم : علی چاند

    پانی کی قلت اور ہم : علی چاند

    انسانی زندگی کا انتہاٸی لازمی جزو پانی جس کے بغیر کوٸی بھی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا ۔ انسانی زندگی میں پانی کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انسان کھانا بنانے سے لے کر اپنے نہانے ، کپڑے دھونے ، برتن دھونے ، گھر کی صفاٸی ، اپنی ذات کی جسمانی صفاٸی کے لیے بھی پانی کا طلب گار ہے ۔ پانی کی اس اہمیت کے باوجود انسان اس قدرتی نعمت کی بے قدری کر کے اپنے لیے مختلف مساٸل پیدا کر رہا ہے ۔ پاکستان میں قدرتی آبی وساٸل کثیر تعداد میں موجود ہیں لیکن اس کے باوجود پانی کے ذخاٸر میں دن بدن کمی آرہی ہے ۔ اگر پانی کی قلت میں اس طرح اضافہ ہوتا رہا تو خدشہ ہے کہ ایک دن انسان کو پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہوگا اور اس قلت کی وجہ سے انسانوں اور دیگر جانداروں کا وجود خطرے میں پڑ جاٸے گا ۔پانی کی مسلسل کمی کی کچھ وجوہات درج ذیل ہیں ۔

    پانی کا غیر ضروری استعمال بڑھ رہا ہے ۔ جن علاقوں میں پانی کی صورتحال ٹھیک ہے وہاں لوگوں کی بڑی تعداد پانی کا بے دریغ استعمال کرتی ہے ۔ پانی کا نل کھلا چھوڑ دینا ، آٸے دن کپڑوں اور گھروں کا دھونا اور اس معاملے میں پانی کا ضیاع عام سی بات ہے ۔

    آبادی میں اضافہ کی وجہ سے بھی پانی کی ضرورت میں بے تحاشا اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ آبادی تو مسلسل بڑھ رہی ہے لیکن پانی کے ذیادہ استعمال کی وجہ سے پانی مسلسل کم ہوتا جارہا ہے ۔

    پاکستان میں ڈیمز اور پانی کے دیگر ذخاٸر کا خاطر خواہ انتظام موجود نہیں ہے اور نہ ہی حکومتیں اس طرف توجہ دے رہی ہیں ۔ جب کہ ہمارے دو ہمساٸیہ ممالک بھارت اور چین پانی کے ذخاٸر کے لیے آٸے دن ڈیمز تعمیر کر رہے ہیں ۔ تاکہ انہیں پانی کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ جب کہ پاکستان میں جو بھی پارٹی برسر اقتدار آتی ہے وہ عوامی مساٸل کی بجاٸے اپنے اقتدار کو قاٸم رکھنے کی طرف توجہ دیتی ہے ۔

    پانی کے مساٸل کے حل کے لیے بناٸی گٸی ناقص پالیسیوں اور پھر ان پالیسیوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے بھی پانی کی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔

    پانی کی ٹوٹی پھوٹی پاٸپ لاٸنیں بھی پانی کے ضیاع کا اہم سبب ہیں

    موسمیاتی تبدیلیاں بھی پانی کی قلت کی وجہ بن رہی ہیں ۔گرمی میں دن بدن اضافہ کی وجہ سے پانی کا استعمال ذیادہ بڑھ رہا ہے ۔

    پاکستان دنیا میں پانی کے استعمال کی وجہ سے چوتھے نمبر پر ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پاکستان گورنمنٹ سے لے کر عام آدمی تک سب کے سب اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور پانی کو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کریں ۔ جو پانی کثیر تعداد میں سیلاب کی صورت ہمارا جانی و مالی نقصان کرتا ہے اسے محفوظ کرنے کے منصوبے بناٸیں جاٸیں ۔ ذیادہ سے ذیادہ درخت لگاٸیں جاٸیں تاکہ گرمی کی شدت میں کمی لاٸی جاسکے ۔ پانی کے ذخاٸر کے لیے ڈیمز بناٸے جاٸیں ۔ پانی کا استعمال اسلامی تعلیمات کے مطابق کیا جاٸے ۔ حکومت کوچاہیے کہ پانی کے ذخاٸر کے حوالے سے اعلی سطحی پالیسیاں بناٸے اور ان پالیسیوں پر عمل در آمد کرواٸے ۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان کو اپنا گھر سمجھ کر پالیسیاں بناٸے نہ کہ صرف اقتدار کی ہوس پوری کرے ۔ ٹوٹی پھوٹی پاٸپ لاٸنوں کی مرمت کی جاٸے تاکہ پانی ضاٸع ہونے سے بچ سکے ۔ فیکٹریوں کا گندہ پانی دریاٶں اور ندی نالوں میں داخل ہونے سے روکا جاٸے تاکہ جو پانی دستیاب ہے وہ تو قابل استعمال ہی رہے ۔

    ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم لوگوں نے شاید کبھی اپنے وطن کو اپنا گھر ہی نہیں سمجھا ۔ جو قوم اپنی موٹر ساٸیکل سے پیٹرول ختم ہونے کے بعد موٹر ساٸیکل کو بیچ سڑک لٹا کر چلانے کے قابل بنا لیتی ہے ، جو قوم اپنے پرانے کپڑے ضاٸع کرنے کی بجاٸے انہیں سلیپنگ ڈریس بنا لیتی ہے وہ قوم اپنے پیارے وطن کے قدرتی وساٸل کا اس طرح بے دریغ استعمال کرتی ہے جیسے لوٹ سیل لگی ہوٸی ہو ، یا پھر ہم کسی دشمن ملک پر حملہ آور ہیں کہ اسے تہس نہس کر کے رکھ دیں ۔ جیسی عوام ویسے حکمران ۔ پھر ایسی عوام پر حکمران بھی ایسے مسلط کر دٸیے جاتے ہیں جیسے عذاب الہی کا نزول ہوں ۔ پھر یہی حکمران کبھی ڈیمز کے نام پر بھاری بجٹ مختص کر کے ہڑپ جاتے ہیں تو کبھی قوم سے ڈیمز کے نام پر چندہ اکٹھا کر کے ساری دنیا کے سامنے کشکول پھیلا کر پھر وہی پیسہ صرف اشتہارات پر لگا کر ختم کر دیتے ہیں ۔ اللہ پاک ہمیں عقل سلیم عطا فرماٸے تاکہ ہم اپنے وطن کو اپنا گھر سمجھ کر اس کا خیال رکھیں ، اس کے وساٸل کو تحفظ دیں اور ہم ایسے حکمران منتخب کر سکیں جو وطن پاکستان کے ساتھ مخلص ہوں ۔ آمین