Baaghi TV

Tag: پاکستانی

  • مراکش کشتی حادثے کی تحقیقات، 20 افراد کا تعلق فیصل آباد، لاہور اور کراچی سے

    مراکش کشتی حادثے کی تحقیقات، 20 افراد کا تعلق فیصل آباد، لاہور اور کراچی سے

    مراکش کشتی حادثے کی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ 20 افراد فیصل آباد، لاہور اور کراچی سے سینیگال گئے تھے، جن میں سے 8 جاں بحق ہوگئے جبکہ 12 کو بچایا گیا۔

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) حکام نے اس سانحے کے متاثرین کا سراغ لگا لیا ہے اور ان کی تفصیلات سامنے آچکی ہیں۔رپورٹ کے مطابق، ان افراد کا تعلق مختلف شہروں سے ہے، اور ان میں سے کچھ افراد وزٹرز اور ٹورسٹ ویزا پر سفر کر رہے تھے، جبکہ کچھ عارضی رہائشی ویزا پر سینیگال گئے تھے۔ 7 افراد فیصل آباد سے سینیگال گئے تھے، جن میں 1 فرد عارضی رہائشی ویزا پر تھا، جبکہ 6 افراد ٹورسٹ ویزا پر ایتھوپین ایئرلائنز کے ذریعے کراچی سے سینیگال روانہ ہوئے۔ علاوہ ازیں، 2 افراد نے عمرہ ویزا پر 18 ستمبر کو لاہور سے سعودی عرب کا سفر کیا تھا۔تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ 9 افراد کا تعلق گجرات سے تھا، جن میں سے 5 کو بچا لیا گیا جبکہ 4 افراد حادثے کا شکار ہوئے۔ منڈی بہاؤالدین کے افراد بھی اس حادثے میں شامل تھے، جن میں سے 3 جاں بحق ہوگئے جبکہ 3 کو بچا لیا گیا۔ اسی طرح، شیخوپورہ کے 3 افراد اور سیالکوٹ کا ایک شخص بھی بچا لیا گیا، جبکہ گوجرانوالہ کے ایک شخص کی موت واقع ہوئی۔

    یہ تمام افراد مئی سے ستمبر کے دوران سینیگال اور سعودی عرب کا سفر کر رہے تھے۔ ان مسافروں میں سفیان، غلام مصطفی، مہتاب الحسن، رئیس افضل جیسے افراد شامل ہیں، جو فیصل آباد سے سینیگال گئے تھے، جبکہ علی حسن اور حامد شبیر بھی اسی سفر پر فیصل آباد سے روانہ ہوئے تھے۔

    حکومت نے اس سانحے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کمیٹی میں 4 ارکان شامل ہوں گے، جو اس حادثے کی تمام تفصیلات کا جائزہ لیں گے اور اس پر رپورٹ مرتب کریں گے۔

    یاد رہے کہ یہ کشتی حادثہ جمعرات کو موریطانیہ کے ساحل کے قریب پیش آیا تھا، جب غیرقانونی طور پر اسپین جانے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی۔ اس حادثے میں 44 پاکستانیوں سمیت 50 افراد ہلاک ہوگئے تھے، اور کشتی میں سوار 86 تارکین وطن میں سے 66 پاکستانی تھے۔ مراکشی حکام کے مطابق، اس حادثے میں 36 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔یہ سانحہ ایک اور سنگین مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس میں غیرقانونی طریقوں سے بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کی جانوں کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔

    دنیا کو پرامن بنانے کیلیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ٹرمپ کا چینی صدر سے رابطہ

    گیس کی خریداری، فروخت کے شعبے میں تبدیلی،سوئی گیس کمپنیوں کی اجارہ داری کا خاتمہ

  • 2024 میں بیرون  ملک جانے والے پاکستانیوں میں نمایاں کمی

    2024 میں بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں میں نمایاں کمی

    سال 2024 میں سال 2023 کے مقابلے ملک چھوڑ کر بیرون ملک روزگار کی تلاش میں جانے والے افراد میں نمایاں کمی ہوئی۔

    خیلجی میڈیا نے پاکستانی سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سال 2024 میں مجموعی طور پر 7 لاکھ 27 ہزار 381 پاکستانی روزگار کی خاطر بیرون ملک گئے۔رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ مذکورہ اعداد و شمار حکومت کی جانب سے مرتب کردہ ہیں جو کہ حکومتی پراسیس کے ذریعے بیرون ملک گئے، تاہم نجی ٹوئر، ٹریول اور جاب آپریٹرز کے ذریعے بیرون ملک منتقل ہونے والے افراد کی تعداد الگ ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2023 میں ملک چھوڑنے والے پاکستانیوں کی تعداد 8 لاکھ 62 ہزار 561 تھی۔

    خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت کے بجائے نجی آپریٹرز کے ذریعے بیرون ملک منتقل ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد حکومتی اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہوگی، تاہم اس حوالے سے کوئی مستند اعداد و شمار دستیاب نہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں سب سے زیادہ 4 لاکھ 52 ہزار سے زائد پاکستانی روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب منتقل ہوئے جب کہ دوسرے نمبر پر 81 ہزار 578 پاکستانیوں کے ساتھ عمان دوسرے نمبر پر رہا۔روزگار کے سلسلے میں پاکستانیوں کے انتخاب کے حوالے سے تیسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) رہا، جہاں 64 ہزار پاکستانی منتقل ہوئے۔

    مجموعی طور پر روزگار کے سلسلے میں سب سے زیادہ پاکستانی خلیجی ممالک منتقل ہوئے، جن میں قطر، بحرین اور کویت بھی شامل ہیں۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک منتقل ہونے والے پاکستانیوں میں زیادہ تر ڈرائیورز اور دوسرے تجربہ کار مزدور تھے اور ایسے پاکستانیوں کی تعداد 75 فیصد تک تھی۔روزگار کے سلسلے میں سال 2024 میں 3 ہزار 642 ڈاکٹرز جب کہ 8 ہزار 81 انجنیئرز بھی بیرون ممالک منتقل ہوئے۔اچھی، صاف ستھری اور دفتری ملازمت کے خواہش مند کچھ پاکستانیوں نے برطانیہ، امریکا، یورپ کے دیگر ممالک سمیت دوسرے ترقی یافتہ ممالک کا بھی رخ کیا۔اعداد و شمار میں دعویٰ کیا گیا کہ مجموعی طور پر گزشتہ سال روزگار کے سلسلے میں بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں 2023 کے مقابلے ڈیڑھ لاکھ تک کمی نوٹ کی گئی۔

    ”گنیش چترتھی تہوار“ پر مسلم گنپتی بھگوان کے مجسمے نے نئی جنگ چھیڑ دی

  • سعودیہ سمیت دیگر ممالک سے 63 پاکستانیوں کی بے دخلی

    سعودیہ سمیت دیگر ممالک سے 63 پاکستانیوں کی بے دخلی

    کراچی: سعودی عرب، یو اے ای، ملائیشیا اور عراق سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 63 پاکستانیوں کو بے دخل کر دیا گیا۔

    ائیرپورٹ ذرائع کے مطابق سعودی عرب، یو اے ای، ملائیشیا اور عراق سے پاکستانیوں کی بے دخلی کا عمل جاری ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ان ممالک سے مجموعی طور پر 63 پاکستانیوں کو بے دخل کیا گیا، جنہیں کراچی ایئرپورٹ پر پہنچنے کے بعد قانونی کارروائی کے بعد گھروں کو روانہ کر دیا گیا۔سعودی عرب سے بے دخل ہونے والوں میں 4 پاکستانی بلیک لسٹ ہونے کی وجہ سے، 15 افراد ہاروب ہونے کی وجہ سے اور 10 افراد زائد المیعاد قیام کے باعث پاکستان واپس بھیجے گئے۔

    ملائیشیا سے 16 پاکستانیوں کو ممنوعہ تارکین وطن کی حیثیت کی وجہ سے پاکستان واپس بھیجا گیا۔ یہ افراد اپنے ویزے کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے کے سبب ملک سے بے دخل کیے گئے۔عراق سے 11 پاکستانیوں کو غیر قانونی داخلے اور زائد المیعاد قیام کے باعث ایمرجنسی پاسپورٹ کے ذریعے پاکستان واپس بھیجا گیا۔یو اے ای سے 4 پاکستانیوں کو بے دخل کر کے پاکستان روانہ کر دیا گیا۔ ان افراد کا تعلق غیر قانونی اقامت یا ویزے کی خلاف ورزی کرنے والے تارکین وطن سے تھا۔

    ائیرپورٹ ذرائع کے مطابق تمام افراد کی واپسی کے بعد قانونی کارروائی کی گئی ہے اور انہیں اپنے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور متعلقہ ادارے ان معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ تارکین وطن کی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔

    ڈی سی کرم پر فائرنگ کرنے والے دو مبینہ شرپسند گرفتار

    190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

  • یونان کشتی حادثہ،مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئیں

    یونان کشتی حادثہ،مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئیں

    یونان میں پیش آنے والے کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئی ہیں۔

    ایف آئی اے کے مطابق، اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی لاشیں ملنے کی تعداد 9 ہو چکی ہے۔ ان لاشوں کی شناخت اور دیگر تفصیلات سے متعلق نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔تین لاشوں کی شناخت نارووال کے رہائشی شبیر، زین علی اور ذیشان کے نام سے ہوئی ہے۔ایک لاش کی شناخت سیالکوٹ کے رہائشی اویس علی کے نام سے ہوئی ہے۔یہ لاشیں یونان کے جزیرے گیواڈوس سے ایتھنز کے اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق، پاکستانی سفارت خانہ ان لاشوں کو پاکستان بھجوانے کے انتظامات کر رہا ہے۔ ان لاشوں کو پاکستان لانے میں مزید ایک ہفتے کا وقت لگنے کا امکان ہے۔

    ایف آئی اے کے مطابق، اس کشتی حادثے میں اب بھی 40 پاکستانیوں کی لاشیں لاپتہ ہیں، جن کا سراغ ابھی تک نہیں مل سکا۔ حکام کی جانب سے سرچ آپریشن جاری ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ مزید لاشوں کو بازیاب کیا جائے گا۔

    یہ المناک حادثہ 13 اور 14 دسمبر کی درمیانی شب پیش آیا تھا، جب ایک کشتی جو لیبیا کے علاقے تبروک سے یونان جا رہی تھی، حادثے کا شکار ہو گئی۔ اس حادثے میں 44 پاکستانیوں کو ریسکیو کیا گیا تھا، جن میں سے بعض زخمی ہیں اور کچھ محفوظ ہیں۔یہ حادثہ ایک بار پھر غیر قانونی طور پر سمندری راستوں سے یورپ جانے والے پاکستانیوں کی مشکلات اور خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر قانونی طریقوں سے ہجرت کرنے سے گریز کریں اور محفوظ راستوں کو اپنائیں۔

    پاکستانی حکام نے اس حادثے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ ایف آئی اے اور وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ تمام متاثرہ افراد کی مکمل مدد فراہم کریں گے اور جلد از جلد ان کی لاشیں پاکستان منتقل کرنے کے انتظامات کریں گے۔

    ایف آئی اے اور یونان کشتی حادثہ، وزیراعظم کی برہمی ، انصاف کب ہوگا؟

    یونان کشتی حادثہ: ایف آئی اے کے 31 افسران اور اہلکاروں کےملوث ہونے کا انکشاف

    یونان کشتی حادثہ، مزید 15 انسانی اسمگلروں کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل

  • پاکستان کا عالمی سطح پر مثبت کردار، عالمی میڈیا معترف

    پاکستان کا عالمی سطح پر مثبت کردار، عالمی میڈیا معترف

    امریکی اخبار شکاگو ٹریبیون میں معروف امریکی ملٹری ایڈوائزر جان روزن برگ نے اپنے آرٹیکل میں پاکستان کے عالمی سطح پر مثبت کردار کو سراہا ہے،

    شکاگو ٹریبیون میں کہا گیا ہے کہ خطے میں تنازعات کے حل اور تعمیر و ترقی کے عالمی معاہدوں میں پاکستان کا ہمیشہ اہم و مثبت کردار رہا ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں – محفوظ عالمی بحری تجارت میں بھی پاکستان کا اہم کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا – عالمی و خطے کے امن کے لیے پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ میں کسی سے بھی بڑھ کر قربانیاں دی ہیں۔عالمی امن کی خاطر پاکستان اب تک 153 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کر چکا ہے، دہشت گردی کی عالمی جنگ میں پاکستان کا کردار دنیا کی نظروں سے اوجھل نہیں ہونا چاہیے۔پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تین لاکھ سے زائد فوج تعیینات کرنے والا پہلا ملک ہے۔ پاکستان انتہائی مشکل معاشی حالات کے باوجود سالانہ دو ارب ڈالر انسداد دہشت گردی آپریشنز پر خرچ کر رہا ہے۔یہ انسداد دہشت گردی آپریشن نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے انتہائی اہم ہیں -پاکستان کے بہادر سپاہیوں نے 541 دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔ حالیہ آپریشنز میں پاکستان کی بہادر افواج نے 153 فوجی جوانوں اور افسروں کی قربانیاں دی ہیں،افغان نیشنل آرمی کے سابق ملٹری ایڈوائزر نے آرٹیکل میں پاکستان کے سیاسی حالات کا بھی احاطہ کیا،

    شکاگو ٹریبیون میں مزید کہا گیا کہ پاکستان ایک پھلتی پھولتی جمہوریت ہے۔ پاکستان میں باقاعدگی سے انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے۔اقوام متحدہ کے امن مشن میں بھی پاکستان کا کردار دیگر ممالک سے کہیں بڑھ کر ہے۔پاکستانی قوم کو ہمیشہ غلط سمجھا گیا، جو حقیقت میں استقامت اور جمہوری ترقی کی عکاس ہے،پاکستان کو منفی نظر سے دیکھنا اس کی عالمی امن کے لیے خدمات کو فراموش کرنے کے مترادف ہےوقت آ گیا ہے عالمی برادری پاکستان کو متوازن نظر سے دیکھے۔

    کراچی میں گیس کی لوڈشیڈنگ،شرجیل میمن کا اظہار تشویش

    میزائل پروگرام،پابندیاں،امریکہ پاکستانی خود مختاری کا پاس رکھے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جنگل میں کھڑی کار سے 52 کلو سونا،15 کروڑ نقدی برآمد

  • یونان کشتی حادثہ،زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی داستان

    یونان کشتی حادثہ،زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی داستان

    13 دسمبر کو یونان کے جزیرہ کریٹ کے جنوب میں ایک افسوسناک کشتی حادثہ پیش آیا تھا جس میں 4 پاکستانیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ اس حادثے میں بچ جانے والے پاکستانیوں نے اپنی دردناک کہانیاں اور حیرت انگیز انکشافات کیے ہیں، جو نہ صرف ان کے لیے بلکہ عالمی سطح پر اس حادثے کی شدت کو واضح کرتے ہیں۔

    حادثے کے حوالے سے بچ جانے والے پاکستانیوں نے بتایا کہ یہ حادثہ 13 دسمبر کی رات، جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب پیش آیا۔ ان کے مطابق سمندر میں حالات انتہائی خراب تھے اور کشتی پر 84 افراد سوار تھے۔ یہ کشتی غیر قانونی طور پر لیبیا سے یونان جا رہی تھی، اور بدقسمتی سے اس حادثے میں کئی پاکستانیوں کی زندگیوں کا خاتمہ ہو گیا۔ متاثرین کے مطابق حادثے کے دوران درجنوں پاکستانیوں کو انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے سمندر میں ڈوبتے ہوئے دیکھا۔متاثرین نے مزید بتایا کہ جس کشتی پر وہ سوار تھے، اس کا نہ انجن صحیح کام کر رہا تھا، نہ واکی ٹاکی (رابطہ کے آلات) درست تھے، اور نہ ہی کشتی کے کپتان کا رویہ مناسب تھا۔ ان کے مطابق کشتی کے حادثے کے بعد ایک کارگو شپ نے انہیں بچایا، لیکن اس دوران ان کے کپڑے، موبائل اور جوتے سمندر میں بہہ گئے۔ اس وقت ان کے پاس نہ مناسب کپڑے ہیں، نہ جوتے، اور نہ ہی ضروری سامان۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ یونان کے ایک پناہ گزینی کیمپ میں مقیم ہیں، جہاں انہیں عارضی پناہ فراہم کی گئی ہے۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان سے لیبیا پہنچے تھے، جہاں وہ ڈیڑھ دو ماہ تک شدید مشکلات کا شکار رہے۔ اس دوران انہیں خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا تھا۔ پھر 11 دسمبر کو ان کی کشتی لیبیا سے روانہ ہوئی تھی، اور 13 دسمبر کو یہ حادثہ پیش آیا۔

    یونان میں پاکستان کے سفیر، عامر آفتاب قریشی نے اس حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حادثے میں درجنوں پاکستانی اب بھی لاپتا ہیں، اور ریسکیو آپریشن جاری ہے، مگر بچ جانے کی امیدیں کم ہیں۔ سفیر نے کہا کہ جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی لاشیں سفارتخانہ اپنے خرچ پر پاکستان بھیجے گا تاکہ ان کے خاندان کو ان کی آخری رسومات کے لیے آرام دہ حالات فراہم کیے جا سکیں۔

    واضح رہے کہ یہ پانچ کشتیاں لیبیا سے غیر قانونی طریقے سے روانہ ہوئی تھیں، جن پر پاکستانی شہری سوار تھے۔ ان کشتیوں کو ضرورت سے زیادہ افراد سوار ہونے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ ان کشتیاں میں پاکستانی بچے بھی شامل تھے، جو اس خوفناک حادثے میں شامل ہوئے۔یونان میں ہونے والا یہ کشتی حادثہ ایک سنگین اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جس میں پاکستانیوں کی زندگیوں کا نقصان ہوا ہے۔ اس واقعے کی تفصیلات اور بچ جانے والوں کے انکشافات نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر سمندر کے راستے سفر کرنا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ اس میں انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان کے سفارتخانے کی جانب سے امداد فراہم کی جا رہی ہے،

    حکومت واپوزیشن عوامی مسائل پر توجہ دیں ،خالد مسعود سندھو

    سرکاری اسپتالوں سے چوری کی گئی لاکھوں روپے مالیت کی ادویات برآمد

    ماسکو،دھماکے میں جنرل اور انکا معاون ہلاک

  • شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی واپس پہنچ گئے،احسن اقبال نے کیا استقبال

    شام میں پھنسے پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے ہیں

    شام میں پھنسے 318 پاکستانی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے پاکستان واپس پہنچے،چارٹرڈ طیارہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچا، پاکستان پہنچنے پر وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے پاکستانی شہریوں کا استقبال کیا،اس موقع پر وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کو خیریت سے ملک واپس آنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،پاکستانیوں کی باحفاظت واپسی پر لبنان کے وزیراعظم کے شکر گزار ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ شام میں مقیم پاکستانیوں کو باحفاظت وطن واپس لایا جائے.شام سے پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ وطن واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تشکیل دیا گیا.شام میں مقیم پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے ہیں. شام میں مقیم پاکستانیوں کے جان و مال کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے.وزیرِاعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی.حکومت نے دمشق میں پاکستانی سفارت خانے میں معلوماتی ڈیسک اور رابطے کے لیے ہیلپ لائن قائم کیا.وطن واپسی پر تمام شہریوں کیلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا گیا ہے.امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے تک کرائسس مینجمنٹ یونٹ اور پاکستانی سفارت خانے کا معلوماتی ڈیسک 24 گھنٹے فعال رہے گا.اللہ کا شکر ہے کہ شام سے طیارہ باحفاظت پاکستان پہنچ چکا ہے.حکومت کا یہ انتظام اس جذبہ کی علامت ہے کہ پاکستانی جہاں بھی مشکل میں ہوں وہ تنہا نہیں.پاکستانی قوم کی خوشیاں اور دکھ سانجھے ہیں.این ڈی ایم اے اور پاکستان کے سفارتخانوں نے انتھک کام کیا،

    شام میں پھنسے تین سو اٹھارہ پاکستانیوں کو بیروت سے چارٹر طیارے کے ذریعے پاکستان روانہ کیا گیا تھا،وزیراعظم شہباز شریف نے لبنانی وزیراعظم سے رابطہ کرکے شام میں پھنسے پاکستانیوں کے انخلا میں مدد کی اپیل کی تھی جس پر لبنان نے پاکستانی شہریوں کو ویزے جاری کیے ،ذرائع کے مطابق ان شہریوں کو بذریعہ سڑک شام سے لبنان پہنچایا گیا، جہاں سے آج انہيں خصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان روانہ کیا گیا تھا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی شہریوں کی محفوظ واپسی یقینی بنانے پر متعلقہ حکام کو خراج تحسین پیش کیا اور شام سے مزید پاکستانیوں کے انخلاء کیلئے اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی، وزیراعظم نے پاکستانیوں کے باحفاظت انخلاء پر لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت اور بہبود کیلئے پرعزم ہے۔

  • دینی مدارس میں سرکار کی مداخلت نہیں مانتے،مولانا فضل الرحمان

    دینی مدارس میں سرکار کی مداخلت نہیں مانتے،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ دینی مدارس کے بل پر دستخط نہ کرنا بدنیتی پر مبنی ہے، ہم مدارس کا ایک اجلاس بلا رہے ہیں، جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائےگا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پشاور میں ’اسرائیل مردہ باد‘ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کارکنوں سے وعدہ لیا کہ اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دینے کی صورت میں وہ تیار رہیں۔ ہم موجودہ حکومتوں کو تسلیم نہیں کرتے، کیونکہ یہ اسٹیبلشمنٹ کی حکومتیں ہیں، ہم نے اگر اسلام آباد کی جانب بڑھنے کا فیصلہ کرلیا تو کوئی ہمیں روک نہیں سکے گا۔ حکومت 56 شقوں پر مشتمل جو آئینی ترمیم پاس کرنا چاہتی تھی اگر وہ پاس ہوجاتی تو نہ ملک بچتا اور نہ ادارے بچتے، لیکن ہم نے مشاورت کے ذریعے حکومت کو 34 شقوں سے دستبردار کرایا، اور پھر کچھ شقیں اپنی بھی شامل کیں جو سود اور وفاقی شرعی عدالت سے متعلق ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ مدارس کے حوالے سے ایک بل جو پہلے سے تیار تھا، اس پر حکومت سے اتفاق رائے ہوگیا، اور وہ دونوں ایوانوں سے پاس بھی ہوا لیکن صدر نے اس پر دستخط نہیں کیے۔مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ آپ جانتے ہیں کہ ہم دینی مدارس میں سرکار کی مداخلت نہیں مانتے، مدارس آزاد حیثیت سے کام کریں گے۔انہوں نے کہاکہ مدارس کی رجسٹریشن کے معاملے پر ڈائریکٹوریٹ بنانے کا جو فیصلہ ہوا یہ معاہدے میں کہیں موجود نہیں تھا۔سربراہ جے یو آئی نے کہاکہ ایک جرنیل جس شناختی کارڈ کی بنیاد پر پاکستانی ہے میں اور میرا کارکن بھی اسی کی بنیاد پر پاکستانی ہیں، ہم ملک کی بقا اور تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں نے ہمیشہ پاکستان کے نظریے کا انکار کیا، پاکستان ہمارے کچھ سرکاری محکموں کا نام نہیں، یہ ریاست عوام کی بنیاد پر ریاست کہلاتی ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ مولوی صاحبان تھک جائیں گے تو یہ ان کی بھول ہے، ہم جدوجہد جاری رکھیں گے اور یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے۔انہوں نے کہاکہ فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے لیکن مغربی دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، ان کو اب انسانی حقوق کی بات کرنے کا کوئی حق نہیں۔انہوں نے کہاکہ اسرائیل فلسطینی مجاہدین کا مقابلہ نہیں کرسکتا، وہ معصوم اور بے بس مسلمانوں پر بمباری کررہا ہے، اس صورت حال میں ہم فلسطینی بھائیوں کے شانہ بشانہ ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ حکمرانو زرا سوچو مودی تو ڈٹ کر کہتا ہے کہ ہم اسرائیل کے ساتھ ہیں، آپ کو فلسطینیوں کے حق میں کھل کر کھڑے ہونے کی جرات کیوں نہیں ہورہی۔

    عمران خان نے حکومت سے مذاکرات کیلیے کمیٹی بنا دی

    کچے کے ڈاکوؤں کو اسلحہ فراہم کرنے والے 5 ملزمان گرفتار

    شوہر نے دوسری بیوی کے ساتھ مل کر پہلی کو قتل کردیا

    گورنر سندھ سے اٹلی کی سفیراور وزارت دفاع کے مشیرکی ملاقات

  • عراق میں 44 پاکستانی ایجنٹس انسانی سمگلنگ کے جرم میں قید

    عراق میں 44 پاکستانی ایجنٹس انسانی سمگلنگ کے جرم میں قید

    اسلام آباد (محمد اویس)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز میں انکشاف ہوا ہے کہ 40 سے پچاس ہزار پاکستانی غیر قانونی طور پر عراق میں رہائش پزیر ہے۔ صرف 8 ہزار پاکستانی عراق میں قانونی طور پر کام کررہے ہیں۔ 44 پاکستانی ایجنٹس انسانی اسمگلنگ کے جرم میں عراق میں قید ہیں۔ قانونی طور پر عراق میں کام کرنے والوں کو مسائل نہیں ہیں۔ان کو اچھی تنخواہ اور مراعات ملتی ہیں۔ غیر قانونی طور پر آباد لوگوں کو مسائل درپیش ہیں

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں متحدہ عرب امارات اور عراق میں پاکستانیوں کو درپیش مسائل اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانیوں کے لیے ویزہ پابندیوں کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ اراکین کمیٹی کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی میڈیا میں متحدہ عرب امارات کے مسئلے پر غیر زمہ دارانہ رپورٹنگ کی گئی ہے۔ غیر زمہ دارانہ رپورٹنگ کی وجہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور متعلقہ اداروں کو کام میں مشکلات پیش آئی ہیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خان زادہ نے کہا کہ وزارت امور خارجہ اور وزارت اوورسیز پاکستانی کی جانب سے درخواست موصول ہوئی ہے کہ یو اے ای والا معاملہ ان کیمرہ کیا جائے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس معاملہ کو ان کیمرہ کرنے کے لیے اراکین کی مشاورت سےکمیٹی فیصلہ کرے گی۔اراکین کمیٹی نے چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک قومی نوعیت کا معاملہ ہے۔ اراکین کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ اس معاملہ کو ان کیمرہ کر دیا جائے۔رکن کمیٹی سینیٹر ضمیر حسین گھمرو نے کہا کہ آئین کے تحت کوئی بھی شہری پبلک پٹیشن کمیٹی کو ارسال کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک عوامی فورم ہے اور یہ فورم عوامی مسائل کو سن سکتا ہے ۔عراق میں اورسیز پاکستانیوں کو درپیش مسائل کے معاملہ پر انہوں نے کہا کہ عراق میں پاکستانی شہریوں کو تین سے چار سو ڈالر میں نوکریوں پر رکھا جاتا ہے۔

    سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ عراق میں پاکستانی شہریوں پر تشدد بھی کیا جاتا ہے۔پاکستانی شہریوں سے عراق پہنچنے پر پاسپورٹ ضبط کیا جاتا ہے۔سیکریٹری وزارت اوورسیز پاکستانیز نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کچھ زائرین واپس پاسپورٹ لینے کے لیے بھی نہیں آتے۔جس پر سینیٹر راجہ ناصر عباس نے کہا کہ یہ پاکستانی پاسپورٹ کی بےعزتی ہو رہی ہے۔اس حوالے سے متعلقہ وزارتوں کو اقدامات اٹھانے چاہیے۔قائمہ کمیٹی نے اس معاملہ پرتفصیلی بحث کی۔سیکرٹری وزارت اوورسیز پاکستانیز نے کمیٹی اجلاس میں بتایا کہ اس معاملے کے حوالے سے وزارت مذہبی امور اور وزارت امور خارجہ کے حکام وزارت اوورسیز میں آجائیں تاکہ ایک مشترکہ گائیڈ لائن بنائی جا سکے اور درپیش مسائل کا حل نکالا جا سکے۔وزارت خارجہ امور کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 40 سے پچاس ہزار پاکستانی غیر قانونی طور پر عراق میں رہائش پزیر ہے۔ صرف 8 ہزار پاکستانی عراق میں قانونی طور پر کام کررہے ہیں۔ 44 پاکستانی ایجنٹس انسانی اسمگلنگ کے جرم میں عراق میں قید ہیں۔بیورو آف امیگریشن کے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ قانونی طور پر عراق میں کام کرنے والوں کو مسائل نہیں ہیں۔ان کو اچھی تنخواہ اور مراعات ملتی ہیں۔ غیر قانونی طور پر آباد لوگوں کو مسائل درپیش ہیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ نے وزارت اوورسیز کو ہدایت کی کہ وہ وزارت مذہبی امور اور وزارت امور خارجہ کے حکام کے ساتھ مل کر اس معاملہ کو حل کریں۔

    او پی ایف ہاؤسنگ سوسائٹی ایسوسی ایشن کے صدر نے کمیٹی کو بتایا کہ 10 سال پہلے 543 ملین آئسکو کو ادا کیے گئے تھے مگر سوسائٹی کے لیے علیحدہ سے گرڈاسٹیشن ابھی تک نہیں لگایا گیا۔انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ سوسائٹی میں سکول پارک اور بجلی دستیاب نہیں ہیں اور ابھی تک اس معاملہ کو ترجیح بنیادوں پر حل نہیں کیا جا سکا۔جس پر ایم ڈی او پی ایف نے کمیٹی کو بتایا کہ او پی ایف ہاؤسنگ سوسائٹی کی ٹوٹل زمین میں سے450 کنال اراضی 1992 سے تنازعات کا شکار ہے جو کہ ابھی تک سوسائٹی میں شامل نہیں ہو سکی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر زیشان خانزادہ نے کہا کہ سوسائٹی کی تنازعات والی اراضی کے معاملے کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ سوسائٹی میں ڈویلپمنٹ اور دوسرے تعمیراتی کام جلد از جلد پایا تکمیل تک پہنچ سکیں۔

    ایم ڈی اے او پی ایف نے کمیٹی کو بتایا کہ سوسائٹی میں سہولیات کے فقدان کی وجہ سے ابھی تک وہاں پر آبادی نہیں ہے۔اراکین کمیٹی نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیز پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہے جو کہ پاکستان کو سالانہ 32 ارب ڈالر بھیجتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سہولیات کے فقدان کی وجہ سے سوسائٹی میں آبادی نہیں ہو رہی لہذا سہولیات میں بہتری لائی جائے۔اراکین کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ او پی ایف ہاؤسنگ سوسائٹی سرکاری طور پر کام کر رہی ہے اور اوورسیز پاکستانیز کا اس پر اعتماد ہے کہ انہیں بہترین سہولیات ملیں گی لیکن یہ سوسائٹی مسائل سے دو چار ہے۔جس پر چیئرمین کمیٹی وارا کین کمیٹی نے کمیٹی کے اگلے اجلاس میں آئیسکو، ایس این جی پی ایل کے حکام کو طلب کر لیا تاکہ وہ اس معاملہ پر کمیٹی کو مفصل بریفنگ دیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر ذیشان خانزادہ نے یہ بھی ہدایت کی کہ اوورسیز ہاؤسنگ سوسائٹی میں کتنے پلاٹ اہل لوگوں کو الاٹ کیے گئے اور کتنے پلاٹ قواعدو ضوابط سے ہٹ کر الاٹ کیے گئے کی تفصیل کمیٹی کے اگلے اجلاس میں دی جائے ۔

    کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز ضمیر حسین گھمرو، راجہ ناصر عباس،گردیپ سنگھ اور شہادت اعوان کے علاؤہ متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی ۔

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • امریکا نے 26 پاکستانی، چینی اور اماراتی کمپنیوں پر پابندیاں لگا دیں

    امریکا نے 26 پاکستانی، چینی اور اماراتی کمپنیوں پر پابندیاں لگا دیں

    امریکا نے پاکستان اور ایران میں ہتھیاروں اور ڈرونز پروگراموں کی مبینہ حمایت اور یوکرین میں روس کی جنگی کوششوں میں مدد سمیت دیگر معاملات کے پیش نظر 26 اداروں کو تجارتی بلیک لسٹ میں شامل کر لیا۔

    غیر ملکی ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ تجارت کا کہنا ہے کہ پاکستان، چین اور متحدہ عرب امارات میں واقع ان 26 کمپنیوں پر برآمدی کنٹرول کی خلاف ورزی کی، ’تشویشناک ہتھیاروں کے پروگراموں‘ میں ملوث ہونے یا روس اور ایران پر امریکی پابندیوں اور برآمدی کنٹرول سے بچنے کا الزام عائد ہے۔ان کمپنیوں پر واشنگٹن کی اجازت کے بغیر امریکی اشیا اور ٹیکنالوجی کی خریداری پر بھی پابندی ہوگی۔سیکریٹری آف کامرس برائے صنعت و سلامتی کے تحت ایلن ایسٹیویز نے ایک بیان میں کہا کہ ہم امریکی قومی سلامتی کو برے عناصر سے بچانے کے لیے چوکنا ہیں، مزید کہا کہ آج ہمارے اقدامات سے ان عناصر کو یہ پیغام جاتا ہے کہ اگر انہوں نے ہمارے کنٹرول کی خلاف ورزی کی تو انہیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔پاکستان سے تعلق رکھنے والی 9 کمپنیوں کو پاکستانی کمپنی کے لیے فرنٹ کمپنیوں اور پروکیورمنٹ ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کی وجہ سے شامل کیا گیا ، امریکی محکمہ تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ باقی 7 پاکستانی کمپنیوں کو پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں شراکت کی وجہ سے شامل کیا گیا۔2010 کے بعد سے اس گروپ نے اپنے صارفین کو گمراہ کرکے امریکی اشیا خریدی ہیں۔اس فہرست میں چین کی 6 کمپنیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر چین کی فوج کو جدید بنانے یا ایران کے ہتھیاروں اور ڈرون پروگراموں کی مدد کے لیے امریکی اشیا خریدی تھیں، متحدہ عرب امارات کی تین اور مصر کی ایک کمپنی نے 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد عائد پابندیوں سے بچنے کے لیے امریکی اشیا حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔امریکی محکمہ تجارت نے کینیڈین کمپنی سینڈ وائن کو ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو روکنے کے اقدامات کی بنا پر کمپنی کو بلیک لسٹ کی فہرست سے نکال دیا۔کامرس ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کینیڈین کمپنی کو فروری 2024 میں اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا جب اس کی مصنوعات کو بڑے پیمانے پر ویب مانیٹرنگ اور سنسرشپ اور انسانی حقوق کے کارکنوں اور مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

    پی ٹی آئی کا پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    بی این پی کے منحرف سینیٹر قاسم رونجھو مستعفی ہو گئے