پاکستان بار کونسل نے پنجاب پروٹیکشن آف پراپرٹی قانون 2025 کو متفقہ طور پر مسترد اور نامنظور کر دیا اور کہا ہے کہ پنجاب پروٹیکشن آف پراپرٹی قانون کے اطلاق کی معطلی کا لاہور ہائیکورٹ کا عبوری حکم خوش آئند ہے۔
پاکستان بار کونسل نے پنجاب پراپرٹی تحفظ ملکیت ایکٹ نافذ کرنے کے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے خلاف پروپیگنڈے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ،پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس وائس چیرمین چوہدری طاہر نصر اللہ وڑائچ کی زیر صدارت ہوا جس میں کونسل نے متفقہ طور پر پنجاب پراپرٹی تحفظ ملکیت ایکٹ 2025 کو مسترد کردیا۔
جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ نئے آرڈیننس کے تحت ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں کمیٹیوں کو جائیداد تنازعات کا اختیار دینا آئین و قانون کے منافی ہے، نیا آرڈیننس عدالتی بالادستی، شہری حقوق اور سول نظام کو کمزور کرتا ہے، زیرِ سماعت مقدمات میں ریونیو افسر کے ذریعے قبضہ دلوانا عدالتی اختیار پر حملہ ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف انصاف کے تقاضے مجروح ہوتے ہیں بلکہ عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد بھی متزلزل ہو سکتا ہے۔
اعلامیے کے مطابق کچھ عناصر تمام اختیارات بشمول عدالتی اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں، پٹواریوں اور اسسٹنٹ کمشنرز کو دائرہ اختیار سے بڑھ کر اختیارات دینا ناقابلِ قبول ہے قوانین کی تشریح کا اختیار آئینی طور پر صرف عدلیہ کو حاصل ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو عبوری حکم جاری کرنے کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے۔
پبلک سروس کمیشن نے پی کیڈٹ امتحان کے حتمی نتائج کا اعلان کر دیا
اعلامیے میں کہا گیا کہ عدلیہ کے اختیارات کو کمزور کرنے والے قانون کی معطلی درست فیصلہ ہے، وکلا برادری چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اور عدالتی ادارے کے ساتھ کھڑی ہے، پنجاب حکومت کی جانب سے آرڈیننس کے حق میں دیے گئے مؤقف کو مسترد کرتے ہیں۔
اسرائیل صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ فوراً واپس لے،صومالیہ






