Baaghi TV

Tag: پاکستان بار کونسل

  • پاکستان بار کونسل نے پنجاب پراپرٹی ایکٹ مسترد کر دیا

    پاکستان بار کونسل نے پنجاب پراپرٹی ایکٹ مسترد کر دیا

    پاکستان بار کونسل نے پنجاب پروٹیکشن آف پراپرٹی قانون 2025 کو متفقہ طور پر مسترد اور نامنظور کر دیا اور کہا ہے کہ پنجاب پروٹیکشن آف پراپرٹی قانون کے اطلاق کی معطلی کا لاہور ہائیکورٹ کا عبوری حکم خوش آئند ہے۔

    پاکستان بار کونسل نے پنجاب پراپرٹی تحفظ ملکیت ایکٹ نافذ کرنے کے حکومتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے خلاف پروپیگنڈے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ،پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس وائس چیرمین چوہدری طاہر نصر اللہ وڑائچ کی زیر صدارت ہوا جس میں کونسل نے متفقہ طور پر پنجاب پراپرٹی تحفظ ملکیت ایکٹ 2025 کو مسترد کردیا۔

    جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ نئے آرڈیننس کے تحت ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں کمیٹیوں کو جائیداد تنازعات کا اختیار دینا آئین و قانون کے منافی ہے، نیا آرڈیننس عدالتی بالادستی، شہری حقوق اور سول نظام کو کمزور کرتا ہے، زیرِ سماعت مقدمات میں ریونیو افسر کے ذریعے قبضہ دلوانا عدالتی اختیار پر حملہ ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف انصاف کے تقاضے مجروح ہوتے ہیں بلکہ عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد بھی متزلزل ہو سکتا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق کچھ عناصر تمام اختیارات بشمول عدالتی اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں، پٹواریوں اور اسسٹنٹ کمشنرز کو دائرہ اختیار سے بڑھ کر اختیارات دینا ناقابلِ قبول ہے قوانین کی تشریح کا اختیار آئینی طور پر صرف عدلیہ کو حاصل ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو عبوری حکم جاری کرنے کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے۔

    پبلک سروس کمیشن نے پی کیڈٹ امتحان کے حتمی نتائج کا اعلان کر دیا

    اعلامیے میں کہا گیا کہ عدلیہ کے اختیارات کو کمزور کرنے والے قانون کی معطلی درست فیصلہ ہے، وکلا برادری چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اور عدالتی ادارے کے ساتھ کھڑی ہے، پنجاب حکومت کی جانب سے آرڈیننس کے حق میں دیے گئے مؤقف کو مسترد کرتے ہیں۔

    اسرائیل صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ فوراً واپس لے،صومالیہ

  • پاکستان بار کونسل کے انتخابات، عاصمہ جہانگیر گروپ کو برتری حاصل

    پاکستان بار کونسل کے انتخابات، عاصمہ جہانگیر گروپ کو برتری حاصل

    پاکستان بار کونسل کے انتخابات میں عاصمہ جہانگیر گروپ نے برتری حاصل کرلی –

    پاکستان بار کونسل کی پنجاب کی 11 میں سے 8 نشستیں عاصمہ جہانگیر گروپ نے جیت لی ہیں،وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر گروپ نے پنجاب کی 11 میں سے 8 نشستوں پر کامیابی سمیٹ لی جبکہ دو نشستوں پر حامد خان گروپ کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اور ایک نشست پر رزلٹ آنا باقی ہے۔

    حامد گروپ کے سلمان اکرم راجا اور شفقت چوہان ممبر پاکستان بار کونسل منتخب ہوگئے ہیں،عاصمہ جہانگیر گروپ کے اعظم نذیر تارڑ، احسن بھون، پیر مسعود چشتی، عامر سعید راں، طاہر ناصراللہ وارئچ، حفیظ الرحمان چوہدری، ثاقب اکرم گوندل اور سید قلب حسن پاکستان بار کونسل کے رکن منتخب ہوگئے ہیں،پاکستان بار کونسل کے امیدواروں کی کامیابی کا حتمی نتیجہ 22 دسمبر کو جاری کیا جائے گا۔

    ادھر خیبرپختونخوا میں بھی پاکستان بار کونسل کے 4 ممبران کا انتخاب ہوا جہاں جمعیت علمائے اسلام کے نوید اختر ایڈووکیٹ، ملگری وکیلان کے رحمان اللہ شاہ ایڈوکیٹ، انصاف لائرز فوم کے ستار خان ایڈووکیٹ اور جماعت اسلامی کے وکلا ونگ آئی ایل ایم کے قاضی ارشد پاکستان بار کونسل کے رکن منتخب ہوگئے ہیں۔

  • پاکستان بار کونسل انتخابات 2025، 59 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرادیے

    پاکستان بار کونسل انتخابات 2025، 59 امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرادیے

    پاکستان بار کونسل کے انتخابات 2025 کے لیے ملک بھر سے مجموعی طور پر 59 امیدواروں نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے ہیں۔

    مقررہ تاریخ اور وقت تک جمع ہونے والے کاغذات میں بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور اسلام آباد (آئی سی ٹی) کے امیدوار شامل ہیں۔ترجمان کے مطابق بلوچستان کی واحد نشست کے لیے 5 امیدوار میدان میں ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا کی 4 نشستوں کے لیے 11 امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے۔ پنجاب کی 11 نشستوں کے لیے سب سے زیادہ 27 امیدوار سامنے آئے ہیں۔ سندھ کی 6 نشستوں کے لیے 14 امیدوار جبکہ اسلام آباد کی ایک نشست کے لیے 2 امیدوار نے نامزدگیاں جمع کرائیں۔

    انتخابی فہرست کے مطابق مختلف صوبوں کے امیدواروں میں

    بلوچستان کے امیدوار (1 نشست):

    منیر احمد کاکڑ، رحمت اللہ بریچ، جمیل احمد خان، امان اللہ کنرانی اور محمد رؤف عطا۔

    خیبر پختونخوا کے امیدوار (4 نشستیں):

    سید امجد شاہ، نور عالم خان، قاضی محمد ارشد، خوش دل خان، رحمان اللہ، اٹلس خان، ملک اختر حسین، عبدالسلام خان، قاضی محمد انور، نوید اختر اور کوثر علی شاہ۔

    پنجاب کے امیدوار (11 نشستیں):

    محمد احسن بھون، اعظم نذیر تارڑ، قلبِ حسن، طاہر نصراللہ وڑائچ، ساقب گوندل، حفیظ الرحمن چوہدری، پیر مسعود چشتی، مقصود بٹر، عامر سعید راں، پرویز عنایت ملک، آصف محمود چیمہ، زلفیقار علی، محمود اشرف خان، الیاس شیخ، احسن الدین، عبدالقدوس، اسد منظور بٹ، سلمان اکرم راجہ، مشتاق موہل، چوہدری ذوالفقار علی، اشتیاق احمد خان، احمد اویس، شفقات چوہان، رانا ضیا الرحمن، خادم حسین قیصر، غلام مصطفیٰ کاندوال اور ظفر محمود مغل۔

    سندھ کے امیدوار (6 نشستیں):

    صلاح الدین احمد، لطف اللہ آرائیں، منیر احمد ملک، شہاب سارکی، ندیم قریشی، عابد شاہد زبیری، رانا محمد شمیم، عبیداللہ ملا نو، فضل قادر میمن، فاروق ایچ نائیک، حمید اللہ دہری، مظفر لغاری، عبدالجبار قریشی، اور سلیم منگریو۔

    اسلام آباد (آئی سی ٹی) کے امیدوار (1 نشست):

    راجہ رضوان عباسی اور سید قمر حسین شاہ سبزواری۔

    پاکستان بھر کے صوبائی اور اسلام آباد بار کونسلوں کے ارکان اس انتخاب میں ووٹرز کی حیثیت سے 23 ممبران کا انتخاب کریں گے۔کاغذاتِ نامزدگی کی اسکروٹنی 2 دسمبر 2025 کو اسلام آباد میں ریٹرننگ آفیسر کے دفتر میں ہوگی، جبکہ پولنگ 13 دسمبر 2025 کو چاروں صوبائی دارالحکومتوں اور اسلام آباد میں ایڈوکیٹ جنرل کے دفاتر میں ہوگی۔یہ اعلان ریٹرننگ آفیسر گلزار احمد کی جانب سے جاری کیا گیا

  • چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایماندار، اہل اور قابل ترین شخصیت ہیں،پاکستان بار کونسل

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایماندار، اہل اور قابل ترین شخصیت ہیں،پاکستان بار کونسل

    پاکستان بار کونسل نے تحریک انصاف کا چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پر اعتراض مسترد کر دیا

    پاکستان بار کونسل کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ” پاکستان بار کونسل پی ٹی آئی کے چیف جسٹس سے ان کے پارٹی کیسز سے الگ ہونے کے مطالبے کی مذمت کرتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایماندار، اہل اور قابل ترین شخصیت ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈہ کو مسترد کرتے ہیں،یہ تحریک انصاف کی جانب سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر دباؤ ڈالے کی گھناؤنی سازش ہے، باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کردار کشی کی جارہی ہے، پاکستان بار کونسل چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے۔

    واضح رہے کہ یکم جون کو تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز پر گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے پارٹی کے کیسز سے الگ ہونے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھاکہ کور کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پی ٹی آئی کے کیسز سے الگ ہوں، اس معاملے پر سپریم کورٹ سے کب رجوع کرنا ہے اس کا حتمی فیصلہ قانونی ٹیم کرے گی

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسریٰ نے سپریم کورٹ میں کھڑے ہوکر چیف جسٹس پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ۔شوکت بسرا کا کہنا تھا کہ مائی لارڈ آپ اس بنچ سے الگ ہو جائیں ۔سابق چیف جسٹس گلزار احمد خان کا فیصلہ موجود ہے جس میں آپ پر عمران خان کے کیسز سننے پر پابندی لگا دی گئی ہے ۔

    ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی چیف جسٹس پر اعتراض سے متعلق خبر کی تردید

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

  • ججز کا خط ،پاکستان بار کونسل کا انکوائری کا مطالبہ

    ججز کا خط ،پاکستان بار کونسل کا انکوائری کا مطالبہ

    اسلام آباد:پاکستان بار کونسل کی جانب سے ہائی کورٹ ججز کے خط کے معاملے کی شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سپریم جوڈیشل کونسل کو عدالتی امور میں مداخلت کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز مسٹر جسٹس محسن اختر کیانی، مسٹر جسٹس طارق محمود جہانگیری، مسٹر جسٹس بابر ستار، مسٹر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، مسٹر جسٹس ارباب محمد طاہر اور مسز جسٹس سمن رفعت امتیاز کے خط کے معاملے پر پاکستان بار کونسل کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا-

    اعلامیے کے مطابق پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین جناب ریاضت علی سحر اور پاکستان بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین جناب فاروق ایچ نائیک نے پاکستان بار کونسل کے پرنسپل نمائندہ ادارے کے طور پر ملک میں قانونی برادری، سپریم جوڈیشل کونسل (SJC) کو لکھے گئے خط میں بیان کردہ متعلقہ مسائل کو فوری حل کرنے پر زور دیا-

    ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

    اعلامیے کے مطابق خط میں جن خدشات کو اجاگر کیا گیا ہے وہ درحقیقت سنگین ہیں اور ان پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تاہم، ان خدشات کو دور کرنے کا صحیح مجاز اتھارٹی سپریم جوڈیشل کونسل (SJC) نہیں بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان ہے کیونکہ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے خلاف شکایات کا ازالہ کرنے کا فورم ہے۔ مداخلت اور دھمکانے کے الزامات اہم ہیں اور ایک مناسب کمیٹی کے ذریعے مکمل انکوائری/تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں، سپریم کورٹ کے تین سینئر ججز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے الزامات کی تحقیقات لازمی ہے، عدلیہ کی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، الزامات کی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس پاکستان کو کمیٹی تشکیل دینی چاہئے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کل چیف جسٹس سے سپریم کورٹ میں ملاقات کریں گے

    اعلامیے کے مطابق خط کے مندرجات میں عدلیہ کی خود مختاری کو نقصان پہنچانے اور سیاسی مقاصد کے لیے عدالتی کارروائیوں پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کا پردہ فاش کیا یا خاص طور پر انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کارندوں کی طرف سے ججوں پر مبینہ جبر، بشمول نگرانی، اغوا، اور ججوں اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں دینے جیسے واقعات کا ذکر کیا گیا ،عدلیہ اور ججوں کی نجی زندگی میں مداخلت کی نہ صرف مذمت ہونی چاہیے بلکہ اس کے خلاف کارروائی بھی ہونی چاہیے۔

    ایسا لگتا تحریک انصاف کے اشارے پر ججز نے خط لکھا،سپریم کورٹ میں درخواست …

    اعلامیے میں کہا گیا کہ اس بات کا اعادہ کرنا ضروری ہے کہ میڈیا کے ذریعے ٹرائل نہیں بلکہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سخت اور جامع انکوائری/تحقیقات کی ضرورت ہے۔ پاکستان بار کونسل عدلیہ کی سالمیت اور آزادی کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی کوشش کی حمایت اور تعاون کے لیے تیار ہے۔ یہ ضروری ہے کہ انصاف نہ صرف غالب رہے بلکہ اسے برقرار رکھا جائے، اور یہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف اور مساوات کے ان بنیادی اصولوں کو برقرار رکھیں جو ہمارے قانونی فریم ورک کی بنیاد ہیں۔

    پاکستان میں دہشت گردی کا منبع افغانستان میں ہے،خواجہ آصف

  • پی ٹی آئی کی چیف جسٹس پر تنقید،ٔپاکستان،سپریم کورٹ بار میدان میں آ گئیں

    پی ٹی آئی کی چیف جسٹس پر تنقید،ٔپاکستان،سپریم کورٹ بار میدان میں آ گئیں

    پاکستان بار اور سپریم کورٹ بار کے نمائندگان نے موجودہ ملکی صورتحال پر پریس کانفرنس کی ہے

    وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ بلے کے انتخابی نشان سے متعلق کیس میں پی ٹی آئی سے نشان واپس لے لیا گیا،ہمیشہ پاکستان میں جمہوریت کو آمریت نے دبایا ہے،جو طاقتیں پی ٹی آئی کو لائی تھیں وہی پی ٹی آئی کو واپس لے گئیں،پی ٹی آئی کا سربراہ جمہوری نہیں تھا تو اسے تحریک عدم اعتماد سے گھر بھیجا گیا،سپریم کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی خلا ہے تو دیکھا جا سکتا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے میں کوئی قانونی سقم ہے تو بتائیں، سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف سینئر وکلاء کھڑے ہو کر کہہ رہے ہیں کہ یہ جج فلاں فلاں ہے،آئین و قانون کے مطابق سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تو اس پر اعتراض کیا جارہا ہے،پی ٹی آئی نے ہمیشہ اداروں کو کمزور کیا ہے،کچھ سینئر وکلا اور پی ٹی آئی کے رہنما ججز پر تنقید کر رہے ہیں،پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کرائے جس پر انکے خلاف کاروائی ہوئی،پی ٹی آئی نے گمنام گاؤں میں انٹرا پارٹی الیکشن کرائے،وکلا اور پی ٹی آئی کے کارکنان سے گزارش ہے ججز پر بے جا تنقید نہ کی جائے،

    سپریم کورٹ تنقید کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے،حسن رضا پاشا
    چئیرمین ایگزیکٹو کمیٹی حسن رضا پاشا کا کہنا تھا کہ ایک شخص کو عدالت نے معصوم کہا تو ایک جماعت کی جانب سے ٹرولنگ شروع ہو گئی، جب تک کسی پر جرم ثابت نا ہو وہ قانون کی نظر میں معصوم ہی ہوتا ہے،سائفر مقدمے میں ابھی جرم ثابت نہیں ہوا تو کہہ دیا گیا کہ سپریم کورٹ معصوم ڈکلئیر کر رہی ہے، نو گھنٹے کی سماعت میں پی ٹی آئی کے وکلاء کی تیاری نہیں تھی،جب پوچھا گیا کہ انتخابات کہاں کرائے تو چمکنی کے گاوں کا بتایا، سب سے بڑی بات کہ پشاور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کرتے وقت لاہور ہائیکورٹ میں زیر التوا مقدمات کا ذکر نہیں کیا،ایک ہائیکورٹ میں درخواست زیر التوا ہونے کا ذکر دوسری عدالت میں نا کیا جائے تو عدالتیں کیا برتاو کرتی ہیں سب کو پتا ہے،پی ٹی آئی کا حق ہے کہ نظر ثانی دائر کرے، اس فیصلے کا ایک پہلو اخلاقی اور ایک قانونی ہے، اخلاقی طور پر پی ٹی آئی کو بلے کا نشان ملنا چاہیے،قانونی طور پر انٹراپارٹی انتخابات کرائے بغیر ریلیف ملنا ممکن نہیں تھا، سینئیر وکلاء کو جس عدالت سے ریلیف لینا ہے اس کے بارے الفاظ کے چناو میں محتاط ہونا چاہیے،سینئیر وکلاء کی جانب سے بلا وجہ تنقید کو بار کونسلز برداشت نہیں کریں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف مہم کی پرزور مذمت کرتے ہیں، پی ٹی اے اور ایف آئی اے چیف جسٹس کے خلاف مہم چلانے والوں کے خلاف خاموش تماشائی نا بنیں،سپریم کورٹ اپنے خلاف نام لے لے کر تنقید کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے،

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شہزاد شوکت کا کہنا تھا کہ تمام لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ سپریم اور پاکستان بار سمیت وکلاء ججز پر تنقید برداشت نہیں کریں گے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف سے بلے کا نشان لیا تو پشاور ہائیکورٹ نے واپس دیا، الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں اپیل کی، سپریم کورٹ میں دو دن مسلسل کیس کی سماعت ہوئی ،سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کی، جس پر سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی جانب سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر تنقید کی جا رہی ہے، پی ٹی آئی کے وکلا بھی چیف جسٹس پر تنقید کر رہے ہیں،

    تیزاب گردی، مبشر لقمان پھٹ پڑے،کہاسرعام لٹکایا جائے

     سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کریں گے،

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    مجھے نہیں معلوم بشریٰ بی بی کہاں ہیں، میرا بشریٰ بی بی سے کوئی رابطہ نہیں

     (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کا نشان بھی نہیں ہونا چاہیے ۔

  • سوشل میڈیا پر ہڑتال کی خبر جھوٹ پر مبنی ، پاکستان بار کونسل کی تردید

    سوشل میڈیا پر ہڑتال کی خبر جھوٹ پر مبنی ، پاکستان بار کونسل کی تردید

    پاکستان بار کونسل نے ہڑتال کی تردیدکر دی

    پاکستان بار کونسل کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک پیغام، خبر وائرل ہے کہ پاکستان بار کونسل نے آج ہڑتال کا اعلان کیا ہے جو کہ سراسر غلط ہے کیونکہ کونسل نے اس حوالے سے نہ تو ہڑتال کی کال دی ہے اور نہ ہی کوئی پریس ریلیز جاری کی ہے۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ واضح کیا جاتا ہے کہ پاکستان بار کونسل ہمیشہ اپنے لیٹر ہیڈ پر ایک پریس ریلیز جاری کرتی ہے اور میڈیا والوں کو مناسب طریقے سے آگاہ کرتی ہے، اس لیے آج کی ہڑتال کے حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ خبر،پیغام سراسر جعلی ہے۔

    واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر کل سے کہا جا رہا تھا کہ پاکستان بار کونسل نے جسٹس اعجاز الاحسن کے استعفیٰ کے بعد ہڑتال کا اعلان کیاہے، تا ہم آج پاکستان بار کونسل نے اعلامیہ جاری کر کے اس خبر کی تردید کر دی ہے

    سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز الاحسن نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے

  • کسی کے دباؤ یا بلیک میلنگ میں نہیں آئینگے، ترجمان الیکشن کمیشن

    کسی کے دباؤ یا بلیک میلنگ میں نہیں آئینگے، ترجمان الیکشن کمیشن

    ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن میڈیا پر چلنے والی اس خبر کی سختی سے تردید کرتا ھے کہ چیف الیکشن کمشنر کے ضلع میں کوئی اضافی نشست پیدا کی گئی ھے ۔ان کا آبائی حلقہ این اے 82 ضلع سرگودھا میں ہے اور اس ضلع میں کوئی اضافی نشست پیدا نہیں کی گئی۔البتہ کمیشن کسی کی ذاتی خواہش پر کسی بھی مخصوص شخصیت کے لئے اضافی نشست بنانے سے معذوری ظاہر کرتا ھے ۔مزید یہ کہ الیکشن کمیشن کسی کے دباؤ یا بلیک میلنگ میں نہیں آئے گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان بار کونسل نے ایک اعلامئے میں کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر نے اپنے آبائی ضلع جہلم کے لئے دو قومی اسمبلی کی نشستیں مختص کیں جس کی آبادی 13 لاکھ 82 ہزار ہے،جبکہ ضلع حافظ آباد، جس کی آبادی تقریباً 13 لاکھ 20 ہزار ہے اسے صرف ایک سیٹ مختص کی گئی ہے،انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں،یہ واضح ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کا طرز عمل عام انتخابات کی سالمیت کے بارے میں سنگین شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے، پاکستان بار کونسل ان نازک معاملات پر آنکھیں بند نہیں کر سکتی،سپریم کورٹ کو چیف الیکشن کمشنر کے ہر عمل کی توثیق کرنے کے بجائے ان تضادات کا نوٹس لینا چاہیے،پاکستان بار کونسل نے بڑا مطالبہ کر دیا

    توہین الیکشن کمیشن میں جیل ٹرائل کے خلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست

    الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہوگا

     وزارت داخٰلہ اجازت دے گی چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت کرلیں،

     ہم چیئرمین پی ٹی آئی پر فردجرم عائد کردیں گے دفاع میں جو پیش کرنا چاییں آپ کی مرضی

  • پاکستان بار کونسل کا چیف الیکشن کمشنر پر اعتراض،شفاف انتخابات کا مطالبہ

    پاکستان بار کونسل کا چیف الیکشن کمشنر پر اعتراض،شفاف انتخابات کا مطالبہ

    پاکستان بار کونسل نے ملک میں شفاف انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے

    پاکستان بار کونسل نے چیف الیکشن کمشنر کے انتخابی طریقہ کار، حلقہ بندیوں اور نشستوں کی تقسیم کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی موجودگی میں آزادنہ اور شفاف انتخابات نہیں کرائے جا سکتے،ایسا لگتا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے پاس ہر سیاسی جماعت یا فرد کے لیے مختلف ضابطے ہیں،

    پاکستان بار کونسل کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے لیے انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ ہونی چاہیے،موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی موجودگی میں عام انتخابات آزادانہ اور منصفانہ نہیں ہو سکتے۔پاکستان بار کونسل کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ چیف الیکشن کمشنر نے اپنے آبائی ضلع جہلم کے لئے دو قومی اسمبلی کی نشستیں مختص کیں جس کی آبادی 13 لاکھ 82 ہزار ہے،جبکہ ضلع حافظ آباد، جس کی آبادی تقریباً 13 لاکھ 20 ہزار ہے اسے صرف ایک سیٹ مختص کی گئی ہے،انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں،یہ واضح ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کا طرز عمل عام انتخابات کی سالمیت کے بارے میں سنگین شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے، پاکستان بار کونسل ان نازک معاملات پر آنکھیں بند نہیں کر سکتی،سپریم کورٹ کو چیف الیکشن کمشنر کے ہر عمل کی توثیق کرنے کے بجائے ان تضادات کا نوٹس لینا چاہیے،پاکستان بار کونسل نے بڑا مطالبہ کر دیا

    توہین الیکشن کمیشن میں جیل ٹرائل کے خلاف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست

    الیکشن کمیشن نے فیصلے میں کہا کہ کیس کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہوگا

     وزارت داخٰلہ اجازت دے گی چیئرمین پی ٹی آئی کیس کی جیل میں سماعت کرلیں،

     ہم چیئرمین پی ٹی آئی پر فردجرم عائد کردیں گے دفاع میں جو پیش کرنا چاییں آپ کی مرضی

    پاکستان بار کونسل کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان بار کونسل کا پختہ یقین ہے کہ بنیادی مقصد محض انتخابات کا انعقاد نہیں ہے بلکہ ان کا آزادانہ، منصفانہ اور شفاف طریقے سے انعقاد، تمام اسٹیک ہولڈرز کو یکساں مواقع فراہم کرنا ہے،پاکستان بار کونسل نے وکلاء کنونشن بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کنونشن کا مقصد آزادانہ، منصفانہ اور شفاف عام انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانا ہے جو کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی موجودگی میں ممکن نہیں،

    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ
    سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کے زیر نگرانی انتخابات پر تحفظات کا اظہار کر دیا ،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا، سپریم کورٹ بار کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ موجودہ حالات میں چیف الیکشن کمشنر کو گھر جانا چاہیے کیونکہ ان کے زیر نگرانی شفاف انتخابات ممکن نہیں،موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی زیر نگرانی انتخابات کی شفافیت پر بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں، انتخابات 8 فروری کو ہی ہوں لیکن تمام اسٹیک ہولڈرز کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں،شکایات کو دور کیے بغیر محض انتخابی ٹائم لائنز پر عمل کرنا استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے،اس سے پہلے بھی شکوک و شہبات دور کیے بغیر انتخابات کے انعقاد سے قیمتی وسائل اور ملک کا نقصان ہوا تھا،

  • افغان مہاجرین کو قانون کے مطابق واپس بھیجا جائے،محمود خان اچکزئی

    افغان مہاجرین کو قانون کے مطابق واپس بھیجا جائے،محمود خان اچکزئی

    اسلام آباد: پاکستان بار کونسل نے غیرقانونی مقیم افراد کو ان کے ممالک میں واپس بھجوانے کے حکومتی فیصلے کی حمایت کی ہے ،جبکہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ افغان مہاجرین کو قانون کے مطابق واپس بھیجا جائے ، کسی کے ساتھ زیادتی برادشت نہیں کریں گے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پاکستان بارکونسل نے حکومت کے فیصلے کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ غیرقانونی مقیم افراد کے خلاف ایکشن خوش آئند ہے پاکستان بار کونسل کے اعلامیے میں کہا گیا کہ غیرقانونی افغان شہری اور دیگر غیر ملکی افراد کو باعزت طریقے سے ان کے ممالک بھیجا جائے، پوری دنیا نےپاکستان کی افغان مہاجرین کی میزبانی کو سراہا،افغان مہاجرین نے پاکستانی شہریوں اور املاک کو نشانہ بنایا، افغان اور دیگر غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کا فیصلہ بہت پہلے ہو جانا چاہیئے تھا۔

    دوسری جانب وکئٹہ میں جلسے سے خطاب میں محمود اچکزئی نے کہا کہ پاکستان میں آئین موجود ہے، کوئی بھی غیر قانونی رہائش اختیار نہیں کرسکتا افغان مہاجرین کو قانون کے مطابق واپس بھیجا جائے، زیادتی برادشت نہیں کریں گے، اقوام متحدہ کے قوانین ہیں، پاکستان میں بھی قانون ہے، افغان مہاجرین کو بھی ہم نے آباد کیا ہے، کسی کی جائیداد ضبط نہیں ہونے دیں گے-

    ڈاکٹر امجدعلی خان ، یو سی اور تحصیل چیئرمین سمیت 8 پی ٹی آئی …

    سربراہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے کہا ک پاک افغان سرحد سے غیر قانونی اسمگلنگ ہورہی ہے، سرحدوں میں موجود سکیورٹی اہلکاروں کو سب معلوم ہے کونسی اشیا اسمکلنگ ہورہی ہیں، قانونی اور غیرقانونی رہائش پذیر افراد کے لیے قوانین موجود ہیں بلاجواز رات کو کسی کے گھر میں گھسنے کی اجازت نہیں دیں گے-

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ جمہور یت کے لیے جانوں کا نذرانہ دینے والے سیاسی رہنماؤں کو سرکاری سطح پر شہید قرار دیا جائےہمارے صوبے میں بلوچ پشتون سندھی اور پنجابی سمیت دیگر اقوام آباد ہیں، پنجابی سندھی اور بلوچ صوبے رکھتے ہیں ہمیں بھی صوبہ دیا جائے۔

    لوگوں کی زمین پر قبضہ کرنے والے گروہ کا سرغنہ سابقہ پولیس انسپکٹر ساتھی …