Baaghi TV

Tag: پاکستان مسلم لیگ (ن)

  • شہباز شریف کی جانب سے عشائیہ، اپوزیشن قیادت کی آمد کا سلسلہ جاری

    شہباز شریف کی جانب سے عشائیہ، اپوزیشن قیادت کی آمد کا سلسلہ جاری

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی جانب سے اپوزیشن کی اعلیٰ قیادت کے اعزاز میں عشائیہ دیا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : پیپلز پارٹی کا وفد اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کے عشائیہ میں پہنچ گیا جس میں آصف زرداری، بلاول بھٹو ، یوسف گیلانی، شیری رحمان اور دیگرشامل ہیں۔

    سربراہ پی ڈی ایم مولانافضل الرحمان بھی عشائیے میں پہنچ گئے ہیں جبکہ مولانا عبدالغفور حیدری، اکرم درانی و دیگر بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

    شہباز شریف نے مہمانوں کا خود استقبال کیا-

    مسلم لیگ ن رہنماؤں میں شاہد خاقان، مریم اورنگزیب، ایاز صادق، رانا ثنا اللہ اوررانا تنویر بھی عشائیہ میں موجود ہیں خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال، احمد ملک شریک ہیں اس کے علاوہ بھی اپوزیشن قیادت کی جانب سے عشائیے میں آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

    ذرائع کے مطابق عشائیے میں تحریک عدم اعتماد پر اپوزیشن کی حکمت عملی اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

  • عمران نیازی  کھلاڑی نہیں کھلواڑ کرنے والا شخص ہے، حمزہ شہباز

    عمران نیازی کھلاڑی نہیں کھلواڑ کرنے والا شخص ہے، حمزہ شہباز

    اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ عمران نیازی کوملک میں مہنگائی اور قوم کیساتھ جھوٹےوعدوں کا حساب دینا ہوگا۔

    باغی ٹی وی :اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نےعدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان جب سے آئے ہیں انہوں نے ڈرامہ رچایا ہوا ہے حکومت کا چوتھا سال ہے کہاں ہیں 50 لاکھ گھر؟پیشی اس کی ہونی چاہیے جس نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا مگر نہیں دی پیشی اس کی ہونی چاہیے جس نے عوام کو چینی کے لیے لائنوں میں لگادیا۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ معاشی ماہرین کہہ رہےہیں پاکستان دیوالیہ ہوچکا عمران نیازی کوبنی گالہ میں بیٹھ کرغریب کےدکھ نظرنہیں آتے؟آج یوریا کھاد کی قیمت آسمان سےباتیں کررہی ہے آج مریضوں کےپاس دواخریدنےکےپیسےنہیں ہیں کہتےہیں گیس صبح،دوپہر،شام آئےگی،کیا قوم بھکاری ہے؟-

    "یہ غم انگیز سولہ دسمبر، اصل غم کس بات کا ہے” محمد عبداللہ

    مسلم لیگ ن رہنما نے کہا ہے کہ 3 سال سے عوام کودھوکہ دیا جارہاہے ،معیشت کوتباہ کردیا گیا یہ کھلاڑی نہیں کھلواڑ کرنے والا شخص ہےاس حکومت نے ایک کلو میٹر موٹروے نہیں بنائی موٹروے پر جگہ جگہ گڑھے پڑ چکے ہیں،عمران نیازی یوم حساب کا وقت آچکا ہے افغانسان کے کرائسسز کے اثرات پاکستان پر مرتب ہو رہے ہیں چار سالوں میں یہ حکومت ایک دن بھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر بیٹھی ہے؟ ان کی انا بنی گالہ سے بھی اونچی ہے اگر اس قوم نے عوامی مسائل سے چھٹکارا پانا ہے تو حکومت کے سامنے کھڑے ہو جائیں۔

    ایک ہی دشمن کے دو زخم ازقلم :غنی محمود قصوری

    حمزہ شہبازکا کہنا ہے کہ آج کا دن یہ یاد دلاتا کہ اس قوم کو دہشت گردی کے ناسور کے خلاف متحد ہونا پڑے گا،مسانحہ اے پی ایس کے بچے اس قوم کو جھومر ہیں سکیورٹی کا معاملے پر وزیر اعظم غائب کیوں ہو جاتے ہیں سانحہ اے پی ایس کا سبق ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر کام کرنا ہے۔

    کورونا وبا: مزید 6 افراد جاں بحق،302 نئے کیسز رپورٹ

  • این اے 133: ن لیگ اور پیپلز پارٹی خالی میدان میں بھی کھیل نہیں جیت سکتے    فواد چوہدری

    این اے 133: ن لیگ اور پیپلز پارٹی خالی میدان میں بھی کھیل نہیں جیت سکتے فواد چوہدری

    لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 133 کے ضمنی انتخاب پر وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی خالی میدان میں بھی کھیل نہیں جیت سکتے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹ میں فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ووٹنگ کی شرح انتہائی کم رہی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی خالی میدان میں بھی کھیل نہیں جیت سکتے تمام ترپروپیگنڈے کے باوجود تحریک انصاف ہی میدان کی اصل کھلاڑی ہے اور پی ٹی آئی کے بغیرمیدان ویران ہے۔


    شہباز شریف نے این اے 133 لاہور میں کامیابی پر عوام کے مشکور:

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے این اے 133 لاہور میں کامیابی پر عوام کا شکریہ ادا کیا ہے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 133 لاہور کے ضمنی الیکشن کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج میں مسلم لیگ (ن) نے اپنی نشست دوبارہ حاصل کرلی ضمنی الیکشن میں کامیابی پر شہباز شریف نے مرحوم پرویز ملک کی نشست پر اُن کی اہلیہ شائستہ پرویز ملک کی کامیابی پر عوام اور پارٹی رہنماؤں کو مبارکباد دی اور ن لیگ کی قیادت پر ایک بار پھر اعتماد پر عوام سے اظہار تشکر کیا ہے۔

    این اے 133 لاہور کا ضمنی انتخاب مسلم لیگ (ن) کی شائستہ پرویز نے جیت لیا:

    این اے 133 لاہور کے تمام پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ سامنے آگیاضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی شائستہ پرویز ملک نے 46811 ووٹ لیے جبکہ پیپلز پارٹی کے اسلم گل 32313 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

    این اے 133 کے ضمنی انتخاب میں ووٹنگ کی شرح کم رہنے کے باعث نتائج کا اعلان جلد متوقع ہے، بیشتر علاقوں میں ووٹرز کا جوش و خروش دکھائی نہ دیا، ووٹرز کی تعداد نہایت کم رہی نواحی علاقوں میں صورت حال نسبتاً بہتر رہی، مریم کالونی میں ن لیگ اور پی پی کے کارکنوں کا آمنا سامنا ہوا، دونوں پارٹیوں کے کارکنان کے درمیان دھکم پیل اور تلخ کلامی بھی ہوئی۔

    قومی اسمبلی کے حلقے این اے 133 میں ضمنی الیکشن میں 254 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے، کئی پولنگ اسٹیشنز پر مرد، خواتین، بوڑھے اور جوان ووٹرز کا رش نظر آیا 254 پولنگ اسٹیشنز میں اے کیٹیگری کے 22، بی کیٹیگری کے 198 اور سی کیٹیگری کے 34 پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں پولنگ اسٹیشن گورنمنٹ گریجویٹ کالج فار ویمن ٹاؤن شپ میں مقررہ وقت سے ڈیڑھ گھنٹے بعد پہلا ووٹ کاسٹ ہوا ٹاؤن شپ کے اس پولنگ اسٹیشن میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد 1550 ہے

    این اے 133 میں ضمنی الیکشن میں 2 ووٹرز دولہا بن کر ووٹ ڈالنے پہنچے تھےلاہور کے ضمنی انتخاب میں روایتی رنگ نظر نہ آئے تو 2 ووٹرز رنگ لگانے کے لیے دولہے بن کر ووٹ کاسٹ کرنے پہنچ گئے دولہا بنے ووٹرز نے پولنگ اسٹیشن پر خوب رنگ جمایا اور اپنا ووٹ بھی کاسٹ کیا۔

    ا ین اے 133 الیکشن میں تکنیکی وجہ سے باہر ہوجانا قابل افسوس ہے:سینیٹر فیصل جاوید خان

    اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و سینیٹر فیصل جاوید خان کا کہنا تھا کہ این اے 133 الیکشن میں پی ٹی آئی ہوتی تو پولنگ اسٹیشنز پر لوگوں کا ہجوم نظر آتا سوشل میڈیا پر بیان جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ا ین اے 133 الیکشن میں تکنیکی وجہ سے باہر ہوجانا قابل افسوس ہے تحریک انصاف کے کارکنان کا جوش وخروش ہمیشہ قابل ستائش ہوتا ہے این اے 133 الیکشن کی پولنگ میں عوام کی کم دلچسپی سے نون اور پی پی کی صورتحال آشکار ہے۔

    ٹرن آوٹ کم ہونے سے ضمنی انتخاب کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگ گیا:حسان خاور

    دوسری جانب حکومت پنجاب کے ترجمان حسان خاور نے کہا ہے کہ ضمنی الیکشن سے عوام کی لاتعلقی اپوزیشن کی احتجاج کی سیاست میں آخری کیل ہےحسان خاور نے کہا ہے کہ ووٹنگ ٹرن آوٹ ثابت کرتا ہے کہ پی ٹی آئی آئندہ الیکشن میں کلین سوئپ کرے گی ضمنی الیکشن سے عوام کی لاتعلقی اپوزیشن کی احتجاج کی سیاست میں آخری کیل ہے اپوزیشن اب بھی ہوش کے ناخن لے اور احتجاج کی سیاست سے باز آجائے۔

    صوبائی حکومت کے ترجمان حسان خاورنے کہا کہ ٹرن آوٹ کم ہونے سے ضمنی انتخاب کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگ گیا عوام نے ووٹ نہ ڈال کر ثابت کر دیا کہ اپوزیشن اب ووٹ کو ترسے گی حسان خاور نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف انتخاب سے آوٹ ہوکر بھی الیکشن جیت گئی ہے۔

    حسان خاور نے کہا کہ پی ٹی آئی کو میدان سے باہر کرنے پر عوام نے احتجاجاً ووٹ کاسٹ نہیں کیے اورتحریک انصاف کے ووٹرز نے اپوزیشن کو سرخ جھنڈی دکھا دی ترجمان پنجاب حکومت نے استفسار کیا کہ جو اپوزیشن ووٹرز کو گھروں سے نہ نکال سکی وہ احتجاج کے لیے عوام کو کیسے نکالے گی؟

    اس سے قبل پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور نے کہا تھا کہ آج نوٹوں کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے، این اے 133 میں آج جو بھی جیتے عوام کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں این اے 133 میں انتخاب کا پوسٹ مارٹم پہلے ہی ہو چکا، ٹھپہ مافیا کے ماسٹر مائنڈ عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکے دھاندلی کے پرانے طریقے اب نہیں چلیں گے، آئندہ انتخابات الیکشن اصلاحات کا ٹرائل ہوں گےتحریک انصاف مدمقابل نہ ہونے کے باوجود نون لیگ اور پیپلز پارٹی خوفزدہ ہیں۔

    ضمنی انتخاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی امیدوار شائستہ پرویز ملک کو برتری حاصل،ووٹوں کی گنتی جاری:

    این اے 133 پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی امیدوار شائستہ پرویز ملک کو برتری حاصل ہےاین اے 133 میں صبح 8 بجے شروع ہونے والی پولنگ شام 5 بجے تک بنا کسی وقفے کے جاری رہی اس وقت پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے جس کے تحت ن لیگی امیدوار کو برتری حاصل ہے۔


    254 میں سے 132 پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ کی شائستہ پرویز 20 ہزار 968 ووٹ لے کر آگے ہیں غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار اسلم گل 13 ہزار 915 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔


    واضح رہے کہ این اے 133 لاہور کی نشست مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی پرویز ملک کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی جبکہ این اے 133 پر جمشید چیمہ اور ان کی اہلیہ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے بعد حلقے میں پی ٹی آئی کا کوئی امیدوار میدان میں نہیں ہے۔

    قومی اسمبلی کی نشست این اے 133 پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں پولنگ کا عمل ختم ہو چکا اور ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

    الیکشن کمیشن کے طریقہ کار کے تحت حلقہ این اے 133 لاہورمیں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ شام 5 بجے تک بنا کسی بھی وقفے کے جاری رہی اعداد و شمار کے مطابق ضمنی انتخاب میں حلقے کے 4 لاکھ 40 ہزار سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے مجاز ہیں۔

    الیکشن کمیشن نے این اے 133 میں 254 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے ہیں۔ ان میں اے کیٹیگری کے 22، بی کیٹیگری کے 198 جب کہ سی کیٹیگری کے 34 پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں مرد و خواتین کے لیے علیحٰدہ علیحٰدہ 200 جب کہ مخلوط 54 پولنگ اسٹیشنز قائم ہیں ضمنی انتخاب کے لیے 11 امیدوار میدان میں ہیں۔ نشست کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی نشست این اے133 پرویز ملک کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی این اے 133 میں ضمنی انتخابات کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ایس ایس پی آپریشنز کی نگرانی میں 6 ایس پیز اور 14 ایس ڈی پی اوز اس ضمن میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔

    الیکشن کے دوران 44 ایس ایچ اوز، 52 ڈولفن و پیرو اور 7 کوئیک ریسپانس ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں مجموعی طور پر 2 ہزار سے زائد افسران و اہل کار تعینات ڈیوٹی پر تعینات ہیں۔

    عوام نے ضمنی انتخاب سے لا تعلق رہ کر دونوں جماعتوں کی نوٹوں کی چمک کو مسترد کر دیا: حسان خاور

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جمشید اقبال چیمہ نے کہا ہے کہ این اے 133 پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے انتہائی کم ٹرن آوٹ سے ثابت ہو گیا ہے کہ عوام نے ضمنی انتخاب کو مسترد کردیا ہے ٹرن آوٹ انتہائی کم ہونے سے ضمنی انتخاب کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

    جمشید اقبال چیمہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کو میدان سے باہر کرنے پرعوام نے احتجاجاً ووٹ کاسٹ نہیں کئے ہیں بڑی سیاسی جماعت کی شمولیت کے بغیر ضمنی انتخاب کی کوئی حیثیت نہیں ہےاین اے 133 کے عوام نے دونوں جماعتوں کو مسترد کردیا ہے عوام نے ضمنی انتخاب سے لا تعلق رہ کر دونوں جماعتوں کی نوٹوں کی چمک کو مسترد کر دیا۔

  • پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ نے سینٹ کے کونسے  امیدواروں کو نامزد کیا، مریم اورنگزیب نے بتا دیا

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ نے سینٹ کے کونسے امیدواروں کو نامزد کیا، مریم اورنگزیب نے بتا دیا

    بقول پاکستان مسلم(ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ نے سینٹ کے لئے 7 امیدواروں کو نامزد کر دیا گیا۔ پارلیمانی بورڈ نے عرفان صدیقی، زاہد حامد، انجینئر بلیغ الرحمن کے ناموں کی منظوری دی۔سائرہ افضل تارڑ اور سیف الملوک کھوکھر کے ناموں کی بھی پارٹی کے نامزد ارکان کے طور پر منظوری دی گئی۔ان ارکان کو صوبہ پنجاب سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔