Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • آئی ایم ایف کا مشن اقتصادی جائزہ کے لیے کل رات پاکستان پہنچے گا

    آئی ایم ایف کا مشن اقتصادی جائزہ کے لیے کل رات پاکستان پہنچے گا

    آئی ایم ایف کا مشن اقتصادی جائزہ کے لیے کل رات پاکستان پہنچے گا

    مشن 14 سے 18 مارچ تک معاشی ٹیم سے مزاکرات کرے گا،مشن اور معاشی ٹیم میں 4 روز تک اقتصادی جائزہ پر مزاکرات ہونگے،مشن وزارت خزانہ، توانائی اور ایف بی آر حکام سے مزاکرات کرے گا، مشن اور معاشی ٹیم کے درمیان مزاکرات کا شیڈول تیا ر کر لیا گیا،مشن کے ساتھ نئے قرض پروگرام کے لیے بات چیت کا بھی امکان ہے

    دوسری جانب وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت وزارت خزانہ میں اجلاس ہوا جس میں آئی ایم ایف جائزہ مشن کے ساتھ مذاکرات کا جائزہ لیا گیا، آئی ایم ایف جائزہ مشن اسٹینڈ بائی پروگرام کے تحت اگلی قسط جاری کرنے کے لیے مذاکرات کرے گا مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں 1.1 ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کا فیصلہ ہو گا

  • رمضان ریلیف پیکج کاحجم بڑھا دیا گیا

    رمضان ریلیف پیکج کاحجم بڑھا دیا گیا

    اسلام آباد: : وزیراعظم شہباز شریف نے ماہ رمضان میں عوام کیلئے خصوصی پیکج کی رقم میں بڑا اضافہ کر دیا۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم نے رمضان ریلیف پیکج کا حجم ساڑھے7 ارب روپے سے بڑھا کر ساڑھے 12 ارب روپے کردیا ہے اور اس کے ساتھ ہی رمضان ریلیف پیکج کا دائرہ کاربھی بڑھانے کی ہدایت کی ہے، انہوں نے کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ساتھ ساتھ موبائل یونٹس بھی سستے داموں کھانے پینے کی اشیاء فراہم کریں گے۔

    وزیراعظم نے زیادہ سے زیادہ غریب، نادار اور مستحق افراد تک رمضان ریلیف پیکج پہنچانے کی ہدایت کی ہے جس وجہ سے یوٹیلٹی اسٹورز اور بی آئی ایس پی کے ساتھ اب موبائل یونٹس بھی کھانے پینےکی سستی اشیا دیں گے، ابتدائی طورپر 1200 موبائل پوائنٹس اور 300 مستقل پیکج ریلیف مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، یکم رمضان سے اختتام رمضان تک ریلیف پیکج میں عام بازار سےکم نرخ پر اشیا دی جائیں گی اور متعین مقامات کے علاوہ ٹرک مختلف علاقوں میں غریب عوام کو سستی اشیا پہنچائیں گے۔

    یونائیٹڈ کا سلطانز کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ

    رمضان ریلیف پیکج کے تحت متعین مقامات کے علاوہ ٹرک مختلف علاقوں میں غریب عوام کو سستی اشیائے خورونوش پہنچائیں گے، مقام کا تعین جدید ٹیکنالوجی ’جی پی ایس‘ کی مدد سے کیا جائے گا، موبائل ایپ کے استعمال کی رہنمائی کے لیے خصوصی ویڈیو بھی جار ی کی جائے گی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے چلنے والا ڈیش بورڈ تیار کیا جا رہا ہے تاکہ موبائل آٹے کی فروخت کی نگرانی ہو سکے، موبائل یونٹس کے ایک سے دوسرے مقام منتقلی کے دوران آٹے کی فراہمی کا عمل جاری رہے گا، موبائل اور لائیو فوٹیج سے آٹے کی تقسیم کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔

    چینی صدر کی نومنتخب پاکستانی ہم منصب کو مبارکباد

    اس خصوصی پیکج کے تحت 3 کروڑ 96 لاکھ خاندانوں کو رمضان میں سستے داموں کھانے پینے کی اشیا دی جائیں گی اور رمضان ریلیف پیکج کے تحت مستحق افراد کو بازار سے 30 فیصد سستی اشیا دی جائیں گی، آٹے پر فی کلو 77 روپے اورگھی پر 70 روپے فی کلو سبسڈی دی جائے گی-

    پاکستان سے زمینی راستے کے ذریعے روس تک پھلوں کی ترسیل شروع

  • چینی صدر کی نومنتخب پاکستانی ہم منصب کو مبارکباد

    چینی صدر کی نومنتخب پاکستانی ہم منصب کو مبارکباد

    اسلام آباد: نو منتخب صدر آصف علی زرداری کو صدارتی پروٹوکول اور سکیورٹی فراہم کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی :صدارتی الیکشن جیت کر دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے والے آصف علی زرداری آج اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے، آصف علی زرداری کو صدارتی پروٹوکول اور سکیورٹی فراہم کر دی گئی ہے، آصف علی زرداری حلف برداری کی تقریب سے قبل ایوان صدر منتقل ہو جائیں گے، آصف زرداری کا اہم سامان ایوان صدر منتقل کر دیا گیا ہے، سامان آصف زرداری کی پرسنل سیکرٹری رخسانہ بنگش کی نگرانی میں ایوان صدر منتقل کیا گیا۔

    واضح رہے کہ آصف علی زرداری ملکی تاریخ میں دوسری مرتبہ صدر منتخب ہو نے کااعزاز حاصل ہے، آصف علی زرداری نے 411 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل سنی اتحاد کونسل کے نامزد کردہ امیدوار محمود خان اچکزئی کو 180 الیکٹورل ووٹ ملے۔

    رمضان المبارک کیلئے سرکاری دفاتر کے اوقات کار کا نوٹیفکیشن جاری

    دوسری جانب چین کے صدر شی جن پنگ نے آصف علی زرداری کو صدرِ پاکستان منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی ہے،چینی صدر نےکہا کہ پاک چین آہنی دوستی،تاریخ کا انتخاب اور عوام کا قیمتی خزانہ ہے، چین اورپاکستان اچھے پڑوسی، اچھے دوست، اچھے شراکت دار اور اچھے بھائی ہیں۔

    پاکستان سے زمینی راستے کے ذریعے روس تک پھلوں کی ترسیل شروع

    شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے سی پیک کی تعمیر میں مثبت نتائج حاصل کیے، پاکستان اور چین نے قریبی اعلیٰ سطح کے تبادلے برقرار رکھے اور دونوں ممالک نے بنیادی مفادات سے متعلق امور پر ایک دوسرے کی حمایت کی، چین پاکستان تعلقات کی تزویراتی اہمیت مزید نمایاں ہو گئی ہے، مختلف شعبوں میں عملی تعاون آگے بڑھانے کے لیے صدر زرداری کے ساتھ کام کرنےکے لیے تیار ہیں۔

    جماعت اسلامی کا اسلام آباد میں آج امریکی سفارتخانے تک مارچ کا اعلان

  • پاکستان  سے  زمینی راستے کے ذریعے روس تک پھلوں کی ترسیل شروع

    پاکستان سے زمینی راستے کے ذریعے روس تک پھلوں کی ترسیل شروع

    اسلام آباد: پاکستان کے باغات سے زمینی راستے کے ذریعے روس تک پھلوں کی ترسیل شروع کردی گئی۔

    باغی ٹی وی :نیشنل لاجسٹک سیل( این ایل سی) کی گاڑیوں کا قافلہ کینو کی کھیپ لے کر روس پہنچ گیا، مجموعی طور پر 16 گاڑیاں کینو لے کر سرگودھا سے روانہ ہوئیں، گاڑیوں نے مجموعی طور پر 6 ہزار کلومیٹر فاصلہ طے کیا، 14 گاڑیاں روس کے شہر دربنت اور 2 گروزنی پہنچیں، این ایل سی کی گاڑیاں 3 ممالک سے ہوتی ہوئی روس میں داخل ہوئیں، این ایل سی ریفر سروس کا اجرا زرعی شعبے کے لئے اہم پیشرفت ہے۔

    کولڈ چین کی عدم دستیابی کی وجہ سے 40 فیصد تازہ زرعی پیداوار خراب ہوجاتی ہیں، ریفر سروس کی بدولت پھلوں کی دوران ترسیل تازگی برقرار رہتی ہے، پاکستانی ٹرکوں کے دربنت پہنچنے پر استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، تقریب میں بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ یونین کے نمائندگان،روس کے کسٹمز حکام، پاکستانی سفارت خانے کے افسران اور تاجر برادری نے شرکت کی۔

    رمضان المبارک سے قبل اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ

    روسی حکام کی جانب سے این ایل سی کی اس کاوش کا خیرمقدم کیا گیا، این ایل سی کے اس قدم سے پاکستان اور روس کی باہمی تجارت کو فروغ ملے گا، این ایل سی ماضی میں بھی کیلے، گوشت اور سی فوڈ قازقستان ازبکستان کرغستان اور چین پہنچ چکا ہے۔

    لاہور: کھانا نا دینے پرخاتون پر شوہر اور سسرال والوں کا تشدد، وزیر اعلیٰ پنجاب …

    اٹلی میں جاری ایک نمائش سےسونے کے بنے قیمتی فن پارے چوری

  • حکومت کس طرح پرفارم کر ے گی،یہ رمضان المبارک کا مہینہ کلیئر کر دے گا،فیصل واوڈا

    حکومت کس طرح پرفارم کر ے گی،یہ رمضان المبارک کا مہینہ کلیئر کر دے گا،فیصل واوڈا

    کراچی: سابق سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف دینا حکومت کا ٹیسٹ کیس ہوگا،حکومت کس طرح آگے پرفارم کر پائے گی،یہ رمضان المبارک کا مہینہ کلیئر کر دے گا-

    باغی ٹی وی: ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حکومت نہیں بندربانٹ ہے، اس بندر بانٹ میں آپ مزید جمہوری جنازے دیکھ رہے ہیں، جمہوریت اور آئین کے پہرے دار، چوکی دار اور سپاہیوں سے قوم پوچھے جب پنجاب اور خیبر پختونخوا میں الیکشن نہ کرا کر آئین اور قانون پر شب خون مارا گیا تھا تو اس کا آج تک احتساب کیوں نہ ہوا، آئین اور قانون کے چیمپیئن یہاں کیا کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ صبح کو پڑھتے ہیں 6 اور شام کو پڑھتے ہیں 9، قوم ان کو جا کر مبارکباد دے اور بتائے کہ جمہوری نظام آنے کے بعد 11 روپے پٹرول بڑھ گیا ہے، 10 روز بعد قیمتیں دگنی ہوں گی، یہ اس ناکام ، نا اہل اور نکمی حکومت کا ٹیسٹ کیس ہے، جو رمضان المبارک میں قیمتوں پر قابو نہیں پا سکے گی، عام آدمی کو کوئی سہولت نہیں دے پائے گی، تو یہ ناکارہ حکومت کس طرح آگے پرفارم کر پائے گی،یہ رمضان المبارک کا مہینہ کلیئر کر دے گا، میں بڑا واضح ہوں کہ آپ کے عدالتی نظام نے سب کچھ کیا ہے۔ جنہوں نے ضمانت دی، جنہوں نے جیل دی ، جنہوں نے اہل کیا، جنہوں نے نااہل کیا، جنہوں نے کبھی صادق و امین بنا دیا ، کبھی کرپٹ بنا دیا، یہ ٹوپی ڈرامہ تو چلتا ہے۔

  • پاکستان  میں روزہ کتنے گھنٹوں پر مشتمل ہو گا؟

    پاکستان میں روزہ کتنے گھنٹوں پر مشتمل ہو گا؟

    امسال رمضان کا آغاز 11 یا 12 مارچ کو ہوگا، دنیا میں مختلف ٹائم زونز ہونے کی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک میں روزے کا دورانیہ انتہائی مختصر اور کہیں غیر معمولی طور پرطویل ہے۔

    باغی ٹی وی : مختلف ممالک میں روزے کے اوقات مختلف ہوتے ہیں، اس سال کی حد 12 گھنٹے سے 17 گھنٹے ہونے کی توقع ہے، اس سال چلی کے مسلمانوں کو رمضان المبارک کے دوران اوسطاً 12 گھنٹے 44 منٹ کے روزے رکھنا ہوں گے جو کہ مختصر ترین وقت ہے، اس کے علاوہ نیوزی لینڈ، ارجنٹائن اور جنوبی افریقہ میں بھی اس سال روزے کا دورانیہ 12 سے 13 گھنٹے ہوگا۔

    وہیں فن لینڈ، گرین لینڈ اور آئس لینڈ کے مسلمان اس سال سب سے طویل روزہ رکھیں گے۔ یہ افراد ماہ مقدس کے دوران روزانہ اوسطاً 17 گھنٹے روزہ رکھیں گے، پاکستان اور بھارت میں روزہ تقریباً 13 گھنٹے کا ہوگا، جو رہمضان کے اختتام تک 14 گھنٹوں کا ہوجائے گا۔

    دوسری جانب پاکستان میں رویت ہلال کمیٹی نے رمضان المبارک کے چاند کیلیے اجلاس 11 مارچ کو طلب کرلیا، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق رمضان المبارک 1445 ہجری کے چاند کی رویت کیلئے چیئرمین مولانا عبدا لخبیر کی زیر صدارت مرکزی اجلاس 11 مارچ بروز پیر بمطابق 29 شعبان بعد نماز عصر پشاور میں منعقد ہو گا۔

    اس کے علاوہ دیگر زونل و ضلعی رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس اپنے اپنے مقامات پر بیک وقت منعقد کیے جائیں گے۔
    چاند سے متعلق حتمی اعلان رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر کریں گے جبکہ محکمہ موسمیات نے گیارہ مارچ کو ماہ صیام کا چاند نظر آنے کی پیش گوئی کی ہے۔

  • صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا الوداعی بیان جاری

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا الوداعی بیان جاری

    اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے الوداعی بیان جاری کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : صدر پاکستان کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ بطور صدر ملک کے عوام کی خدمت میرے لیے باعث فخر رہی، اللہ میری کوتاہیوں پر مجھے معاف کرے، اچھے اعمال کا اجر دے، میری اہلیہ ثمینہ علوی بھی اس دعا میں مرے ساتھ شریک ہیں، مجھے کوئی شک نہیں کہ پاکستان کا مستقبل تابناک ہے۔
    https://x.com/PresOfPakistan/status/1766469228067188950?s=20
    https://x.com/PresOfPakistan/status/1766469231628202405?s=20
    ان کا مزید کہنا تھا کہ بطور پاکستان کے 13 ویں صدر کے ایکس ہینڈل پر میرا یہ آخری پیغام ہے، یہ اکاؤنٹ اگست 2018 میں میں نے بنایا تھا، میں صدر پاکستان کا ایکس ہینڈل ملک کے 14 ویں صدر کو منتقل کر رہا ہوں۔

  • دو برس بیت گئے،بھارتی میزائل کے پاکستان میں گرنے کی تحقیقاتی رپورٹ جاری نہ ہو سکی

    دو برس بیت گئے،بھارتی میزائل کے پاکستان میں گرنے کی تحقیقاتی رپورٹ جاری نہ ہو سکی

    بھارتی براہموس میزائل کے پاکستان میں گرنے کے دو سال مکمل ہوگئے ہیں،بھارت خطے میں بالادستی قائم کرنے کیلئے میزائل ٹیکنالوجی کو وسعت دینے میں مصروف ہے تا ہم دو برس گزرنے کے باوجود ابھی تک انکوائری رپورٹ جاری نہ ہو سکی،

    بھارتی غیر ذمہ داری خطے میں عدم استحکام پیدا کرسکتی ہے، بھارتی براہموس میزائل کے پاکستان میں گرنے کے واقعے نے ثابت کیا کہ ہتھیاروں کے حوالے سے بھارت کا کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی نظام مشکوک ہے،9 مارچ 2022ء کو بھارت کا براہموس میزائل پاکستان کے علاقے میاں چنوں میں آگرا تھا،بھارت نے پاکستان کے ساتھ معذرت کرتے ہوئے اسے انسانی غلطی قرار دیا تھا،

    بڑے بڑے ہتھیار رکھنے والے بھارت کے پاس سنبھالنے کی صلاحیت نہیں، براہموس میزائل کا پاکستان کے علاقے میں گرنا ٹیکنالوجی پر سوالیہ نشان ہے، واقعہ کی دو سال بعد بھی رپورٹ جاری نہیں کی گئی جو بڑی نا اہلی ہے۔ میزائل واقعے کے بعد بھارت نے ذمہ دار تین اہلکاروں کو برطرف کیا تھا مگر رپورٹ منظر عام پر نہ آئی،براہموس میزائل کو پاکستان ایئر ڈیفنس سسٹم نے دیکھ لیا تھا جب وہ فائر ہوا تھا، میزائل کا پاکستان میں گرنا اقوام متحدہ کے آرٹیکل (2)4 کی خلاف ورزی ہے،واقعہ کی مشترکہ تحقیقات کے مطالبے پر بھارت نے کوئی توجہ نہ دی، اس طرح کی غیر ذمہ داری خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے،پاکستان نے اس واقعہ پر صبر و تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، افواج پاکستان مستقبل میں بروقت جواب دینے کیلئے مکمل چوکس اور منظم ہیں

    بھارتی حکومت کاکہنا ہے کہ پاکستانی حدود میں براہموس میزائل فائر کرنے کے واقعے پر عالمی سطح پر بھارت اور بھارتی فضائیہ کی ساکھ پر بھی سوال اٹھ گئےتھے،واقعے کے بعد برطرف کیے گئےبھارتی فضائیہ کےافسران کی جانب سے دہلی ہائیکورٹ میں برطرفیوں کےخلاف درخواست میں بھارتی حکومت نے عدالت میں جواب جمع کرواتے ہوئے اعتراف کیا کہ براہموس میزائل گرنے کے واقعے سے پڑوسی ممالک سے تعلقات بھی متاثر ہوئے۔ بھارتی سرکار نے دہلی ہائی کورٹ میں ونگ کمانڈر ابھینو شرما کی جانب سے ملازمت سے برطرفی کی درخواست کے خلاف جواب جمع کرایا جس میں ونگ کمانڈر سمیت تین بھارتی فضائیہ (IAF) افسران کی برطرفی کا جواز پیش کیا گیا،حکومت نے کہا کہ ان افسران کی سنگین غفلت کی وجہ سے حکومت کو 24 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے اس غلطی کی وجہ سے ریاست کی سلامتی پر وسیع پیمانےپرمنفی اثرات مرتب ہوئے ہیں بھارتی حکومت نے اعتراف کیا کہ پاکستانی حدود میں میزائل گرنے سے عالمی سطح پر بھارت اور بھارتی فضائیہ کی ساکھ پر بھی سوال اٹھ گئےتھے، بین الاقوامی برادری نے بھی واقعے کی تفصیلات جاننے کیلئے حکومت پر دباؤ بڑھایا تھا۔علاوہ ازیں معاملے کی حساس نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست گزار کی سروس کو ختم کرنے کا ایک شعوری اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا گیا ہے۔

    پاکستان نے میزائل فائر کی انکوائری بند کرنے کا بھارتی فیصلہ مسترد کردیا۔

    بھارتی میزائل کا پاکستانی حدود میں گرنے کا واقعہ،چین کا تحقیقات کا مطالبہ

    شُہداء، غازیوں اوراُن سے جُڑے تمام رِشتوں کو سَلام،آئی ایس پی آر کی نئی ویڈیو جاری

    بھارت کی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی،ترجمان پاک فوج کا بڑا اعلان

    فضائی حدود کی بلااشتعال خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    بھارت مان گیا، میزائل ہم سے فائر ہوا، بھارتی وزارت دفاع

    میزائل گرنے کے واقعے پر بھارت کے غلطی کا اعتراف،پاکستان کا مشترکہ تحقیقات کا مطالبہ

  • خواتین کی شمولیت کے بغیر ترقی نا ممکن

    خواتین کی شمولیت کے بغیر ترقی نا ممکن

    خواتین کا عالمی دن،پاکستان میں صنفی مساوات کو آگے بڑھانے کا مشن
    تحریر۔۔ناظم الدین
    خواتین کو بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور بااختیار بنانے کا مطلب اس کوبہادربنانااوروسیع پیمانے پر اپنی زندگی کوتشکیل دینے کے لئے انتخاب اوراس پر عمل کی آزادی کو آگے بڑھانا ہے یعنی وسائل اور فیصلوں پر کنٹرول ہے۔ ایک بااختیارعورت وہ ہو گی جو پر اعتماد ہو، جو اپنے ماحول کا تنقیدی تجزیہ کرتی ہو اور جو اپنی زندگی کو متاثر کرنے والے فیصلوں پرکنٹرول رکھتی ہو۔ بااختیار بنانے کا خیال سماجی تعامل کی تمام سطحوں پر ظاہر ہوتا ہے۔ یہ کمزور اور پسماندہ لوگوں کو آوازدینے میں پایا جاتا ہے۔ اس کے لیے صلا حیتوں کی توسیع کے لیے ضروری آلات اور مواد تک رسائی کی ضرورت ہوتی ہے۔خواتین کو بااختیار بنانے کے پانچ اجزاء ہیں: خواتین میں خود کی قدر کا احساس، انتخاب کرنے اور تعین کرنے کا ان کا حق، مواقع اور وسائل تک رسائی کا ان کا حق، گھر کے اندر اور باہر، اپنی زندگی کو کنٹرول کرنے کااختیار،پسندیدہ چیز حاصل کرنے کا ان کا حق اور قومی اور بین االقوامی سطح پر ایک زیادہ منصفانہ سماجی اور اقتصادی ترتیب بنانے کے ل یے سماجی تبدیلی کی سمت کو متاثر کرنے کی ان کی صالحیت۔ عام طور پر، بہت کم لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانا اور صنف ایک غیر ملکی ایجنڈا ہے لیکن اس کی واحد غلط فہمی پوری دنیا میں خواتین کو تاریخ کے آغاز سے ہی چیلنجز اور صنفی عدم مساوات کا سامنا رہا ہے۔ اگر ہم قرآن اور حدیث سے مدد لیں تو معلوم ہوگا کہ دونوں خواتین کے حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیتے ہیں جن میں تعلیم، عبادت، آزادی رائے، شریک حیات کے انتخاب، معاشی آزادی اور سماجی کردار کے حقوق شامل ہیں۔قومی ترقی کومردوں اور عورتوں دونوں میں وسائل کی مساوی تقسیم کے ساتھ متوازن ہونا چاہیے کیونکہ پاکستان میں خواتین کل آبادی کا تقریبا 51 فیصد ہیں اور خواتین کی فعال شمولیت کے بغیرپاکستان ترقی کی مطلوبہ سطح کو حاصل نہیں کر سکتا۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے ہی اسے غربت کی لعنت وراثت میں ملی اور اس غربت کا بوجھ خواتین کی آبادی پر بہت زیادہ ڈاال گیا جس کی وجہ یہ ہے کہ خواتین کی اکثریت زراعت کے کاموں، گھر کی دیکھ بھال، پانی اٹھانے اور جمع کرنے کے کاموں میں مصروف ہے۔ لیکن پیداواری سرگرمیوں میں ان کا کام غیر تسلیم شدہ ہے اور اس وجہ سے معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی شرکت کم دکھائی دیتی ہے۔اس حوالے سے محمد علی جناح نے فرمایا ” کوئی بھی قوم اس وقت تک عظمت کی بلندی پرنہیں چڑھ سکتی جب تک کہ تمہاری عورتیں تمہارے شانہ بشانہ نہ ہوں۔ ہم بری رسم و رواج کا شکار ہیں۔ یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے کہ ہماری خواتین کو گھروں کی چار دیواری میں قیدی بنا کر رکھا جاتا ہے۔ ہماری خواتین کو جس ناگفتہ بہ حالت میں رہنا پڑتا ہے اس کی کہیں بھی ”اجازت نہیں ہے۔عالمی سطح پر صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانا، ترقی کے حصول کے لیے اہم ہتھیار ہیں اس لیے خواتین کو مرکزی دھارے میں النا بہت ضروری ہے تاکہ وہ ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

    ایک زیادہ جامع معاشرے کا مشترکہ وژن، جہاں ہر عورت ترقی کر سکتی ہے اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہے، ان اجتماعی کوششوں کا مرکز ہے۔ آئی پی ایم جی کا قیام 2009 میں پاکستان میں صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے تعاون کو بڑھانے کے لیے کیا گیا تھا۔ یہ اسمبلی ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتی ہے، تعاون کو فروغ دیتی ہے اور پاکستان میں صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے راستے پر مثبت تبدیلی کا آغاز کرتی ہے۔ آؤ مل کر ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کے لیے متحد ہو جائیں جہاں ہرعورت کی آواز گونجتی ہو، اور اس کے حقوق اور شراکت کی قدر ہو۔ ”IPMG پاکستان کی منفرد ضروریات کو پورا کرنے کیلئے موزوں حل وضع کرنے کے لیے ایک اختراعی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کی ایک مثال نیشنل جینڈر ڈیٹا پورٹل ہے۔ ڈیٹا کے اہم کردار کو تسلیم کرتے ہوئے ہم پالیسی کے خلاء کی نشاندہی کرنے اور باخبر فیصلے کرنے کیلئے حکام کو بااختیار بنانے میں اس کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ نیشنل جینڈر ڈیٹا پورٹل جسے UN کی مالی مدد حاصل ہے، صنف سے متعلق ڈیٹا کا ایک معتبر اور جامع ذریعہ ہے۔ بہتر ڈیٹا اکٹھا کرنا، تجزیہ کرنا اور صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے کام کرنے والے عطیہ دہندگان دونوں کی طرف سے زیادہ باخبر فیصلہ سازی کی راہ ہموار کرتی ہے۔بین الصوبائی وزارتی گروپ کے ایک حصے کے طور پر، ہم تبدیلی کے عمل میں سب سے آگے کھڑے ہیں۔ آئی پی ایم جی ایک فورس کے طور پر کام کرتا ہے، اختراعی حکمت عملیوں اور باہمی تعاون کی کوششوں کو بھڑکاتا ہے، ہمیں ایسے مستقبل کی طرف لے جاتا ہے جہاں مساوات اور انصاف سب کے لیے غالب ہو۔نیشنل جینڈر ڈیٹا پورٹل (این جی ڈی پی) کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی، ایک پورٹل جو این سی ایس ڈبلیو کی چھتری تلے اقوام متحدہ کی خواتین اور نسٹ کے تعاون سے قائم کیا گیا تھا اسے خواتین سے متعلق اعدادوشمار/معلومات کے کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا بیس کے طور پر اس طرح سے منظم اور پروگرام کیا گیا ہے کہ یہ قومی، صوبائی اور ضلعی سطحوں پر فیصلہ سازوں کے لیے خواتین کی حیثیت کے بارے میں باقاعدہ تجزیہ اور رپورٹس تیار کرتا ہے۔ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے اپنی قیمتی معلومات، بصیرت اور درپیش چیلنجز کا اشتراک کیا۔

    خاتون محتسب پنجاب نبیلہ حاکم خان نے ورکنگ ویمن کوپرتحفظ ورک اسٹیشنزاورخواتین کو وراثتی جائیداد میں حصہ کی فراہمی کے حوالے سے اہم اجلاس کی صدات کی جس میں ہوم نیٹ پاکستان، سرکاری وغیرسرکاری اداروں،سول سوسائٹی اور وکلائنے شرکت کی۔خاتون محتسب پنجاب نبیلہ حاکم خان نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ہراسگی کی روک تھام کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے جبکہ اداروں میں منفی رجحانات اور خواتین کو وراثتی جائیداد کی فراہمی میں کوتاہی کی حوصلہ شکنی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہراسگی کے خاتمے اورویمن پراپرٹی رائٹس کی فراہمی کے لیے میڈیا کا رول بھی اہم ہے اس حوالے سے ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد لازمی ہے۔ اسی مناسبت سے غیر فعال ہراسانی کی کمیٹیاں جلد فنکشنل کردی جائیں گی اس حوالے سے صوبے میں واچ کمیٹیوں کا دائرہ کار بھی وسیع کیا جائے گا۔

    ہیلتھ سیکٹر کی بہتری حکومت کی اولین تر جیحات ہیں۔پرائمری ہیلتھ کے بعض ہسپتال بہت بہتر حالت میں ورکنگ کررہے ہیں،مظفر گڑھ کا رجب طیب اردوان ہسپتال لاہور کے بعض بڑے ہسپتالوں سے بھی بہتر حالت میں ہے۔لاہور سمیت تمام بڑے ہسپتالوں کی ری ویمپنگ شروع کر دی گئی ہے۔ رورل ایمبولینس میں نئی گاڑیاں آنے سے سروسز میں بہتری اور عوام کو سہولت ملی ہے۔ صوبے کے دیہات میں 493 ایمبولینسز اور بچے کی صحت اور ماں بچے کو صحت کی بہترین سہولتوں کی رسائی کے لئے کام کررہی ہیں۔آئی آر ایم این سی ایچ پراجیکٹ کے تحت پنجاب کے دیہات میں 500ایمبولینس گاڑیاں حاملہ خواتین وبچوں اور معذور افراد کو مراکز صحت تک پک اینڈ ڈراپ کی سروس دے رہی ہیں۔حاملہ خواتین اور ان کے اہل خانہ ٹال فری نمبر1034 پر کال کرکے مفت پک اینڈ ڈراپ کی سروس حاصل کی جا رہی ہے۔ہیضہ اور نمونیا میں مبتلا کمسن بچوں کو بھی مراکز صحت تک لانے کے لئے رورل ایمبولینس سروس حاصل کی جا رہی ہے۔معذور افراد بھی فزیو تھراپی کے لئے روزانہ ہسپتال جانے کے لئے رورل ایمبولینس سروس استعمال کر رہے ہیں۔دور دراز دیہات میں 3بنیادی مراکز صحت کے ساتھ ایک رورل ایمبولینس سروس منسلک ہے۔مریض کو ایمبولینس سروس کے ذریعے مراکز صحت سے ہسپتال بھی منتقل کیا جارہا ہے۔

    محکمہ بہبود آبادی پنجاب کی جانب سے پاپولیشن پالیسی کی تشکیل نو کے لئے ڈرافٹ تیارکر لیا ہے۔پالیسی کے تحت فیملی پلاننگ سروسز اور کاؤنسلنگ کی سہولت عوام کی دہلیز پر فراہم ہو گی۔کمیونیکیشن کے ذریعے عوام میں فیملی پلاننگ اور اس کے فوائد کے متعلق آگہی اور علم کو یقینی بنایا جائے گا۔نئی پاپولیشن پالیسی 2024-29 کے ویژن میں خوشحال، صحت مند اور تعلیم یافتہ معاشرے کی تشکیل شامل ہے.تولیدی صحت، بھرپور غذا اور بہتر معیار زندگی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ پالیسی میں پاپولیشن گروتھ کی شرح میں کمی کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بہتر کوارڈینیشن قائم کرنا بھی شامل ہے۔ امام اور خطیب حضرت کے ساتھ ساتھ کمیونیٹیز اور لوگوں کو بھی اس سارے عمل حصہ بنایا جائے گا۔محکمہ بہبود آبادی پنجاب صوبہ بھر میں تولیدی صحت کی خدمات تک رسائی میں دیگر صوبوں کے لئے رول ماڈل ثابت ہو رہا ہے۔مواصلات، آگاہی اور علم کے ذریعے ہر شخص کو اس کی دہلیز پر خدمات اور مشاورت کی توسیع کو اپنا مشن بنائے ہوئے ہے۔نئی پالیسی میں میں ہر خاندان کی منصوبہ بندی اور بہتر پرورش کی سہلیات کو فوکس کیا گیا ہے۔ تمام شہریوں کی زندگی کا معیار، تولیدی صحت کی بہتری کے حصول کے لیے رسائی اور انتخاب فراہم کیا گیا ہے۔صوبہ میں نئی حکومت نے چھوٹے خاندان کی خوشحالی اور سہو لیات کی فراہمی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا ہوا ہے۔ورلڈ بنک کا پنجاب میں خاندانی منصوبہ بندی کے عظیم پراجیکٹ کا آغاز ہوا ہے جو عالمی بینک کا پروگرام خاندانی منصوبہ بندی کو بہتر بنانے، مانع حمل ادویات کے استعمال اور آبادی میں اضافے کو کم کرنے پر مبنی ہے۔خاندانی منصوبہ بندی کی معیاری خدمات تک مفت رسائی،خدمات میں نگہداشت کا معیار ادارہ جاتی شکل پر مشتمل ہے۔ ورلڈ بنک کا پروگرام کے تحت خاندانی منصوبہ بندی کے فوائد،ڈیلیوری سسٹم اوربہتر صحت سے وابستہ سہولیات کی فراہمی ہے۔ ورلڈ بینک کا یہ پروگرام کلینکل فرنچائزنگ، واؤچر سکیموں، اور کمیونٹی لیڈرز کے ذریعے فیملی پلاننگ کونسلنگ جیسی اختراعات کو بڑھا نے میں مدد گار ثابت ہو رہا ہے۔ ورلڈ بنک پروگرام کو پنجاب کے مختلف اضلاع میں پائلٹ کیا گیا ہے۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز، فیملی ویلفیئر ورکرز اور کمیونٹی ہیلتھ ورکرز ایک وسیع نیٹ ورک کے ذریعے صحت کی سہولیات، فیملی ہیلتھ کلینک اور فیملی ویلفیئر سے منسلک۔واؤچر ترغیبی اسکیم، سماجی مارکیٹنگ، مرد اور کمیونٹی رہنماؤں کی مصروفیت، اور خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات میں اضافے کے لیے نوجوانوں کے پلیٹ فارمز کو بڑھا نے میں مدد گار ہو گا۔ ورلڈ بنک پروگرام کے ذریعے خاندانی منصوبہ بندی سے وابستہ خدمات فراہم کرنے والوں کے باہمی رابطے کو بہتر بنانے میں کارگر ثابت ہو گا۔ کم عمری کی شادی بچیوں کی ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ بلوغت کی عمر بچیوں کی زندگی کا نازک ترین دور ہوتا ہے جس میں کسی قسم کا صدمہ، بیماری یا کمزوری ان بچیوں کے لئے شدید مشکلات کا باعث بنتی ہے۔ چنانچہ پاکستان میں بچیوں کی شادی کی لئے ان عمر بڑھاناضروری ہے۔ بچیوں کی شادی کی کم سے کم عمر کا تعین کرنے کے لیے قانون سازی اور اس پر عمل درامد کرنے کی ضرورت ہے۔ شادی سے پہلے بچیوں کو خاندانی اور معاشرتی معاملات سے آگاہی ہونابے حد ضروری ہے۔ بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیا جائے تا کہ انہیں شعور حاصل ہو۔ ماں کو تعلیم دیں تو معاشرہ ترقی کرتا ہے۔ ایک عورت باشعور ہو تو پوری نسل کو تبدیل کر دیتی ہے۔ پنجاب میں مشاورت سے کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل بھی ترتیب دیا جا رہا ہے۔ کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے صوبائی سطح پر منعقدہ مشاورتی پروگرام کا انعقاد و قت کی اہم ضرورت ہے۔ کم عمری کی شادی بچوں کو بنیادی انسانی حقوق جن میں تعلیم اور صحت کے حق سر فہرست ہے سے محرم کر دیتی ہے۔کم عمری کی شادی ہماری معاشی اور سماجی ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ہمیں مل کر باہمی مشاورت اور تعاون سے اس رواج کا خاتمہ کرنا یوگا۔متعلقہ ادارے کم عمری کی شادی پر قوانین میں تبدیلی کے لیے ہر دم کوشاں ہے تاکہ مثبت معاشرتی تبدیلی لائی جا سکے۔مشاورت کا مقصد تمام اسٹیک ہولڈرز کے ہمراہ کم عمری کی شادی کی وجوہات، محرکات، نتائج اور خاتمہ سنجیدگی سے لائحہ عمل کرنا ہو گا۔

    پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں محکمہ بہبود آبادی کے دفاتر میں تعینات عملے کے کام کی آن لائن لائیو وڈیو مانیٹرنگ اور اس کے لیے مرکزی مانیٹرنگ اور کنٹرول روم قائم کیا ہے۔ اس مقصدکیلئے سیکر ٹری پاپولیشن اور ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن ویلفیئرنے وزیر اعلیٰ کے ویژن کے مطابق محکمہ کی طرف سے کئے جانے والے کاموں، بجٹ اور کاموں کے بارے میں مانیٹرنگ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ شہریوں کو ضروری معلومات اور رہنمائی کی فراہمی کے لیے چار ہندسوں پر مشتمل ہیلپ لائن قائم کرنے اور اسے روزانہ 12 گھنٹے فعال رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس مقصد کے لئے محکمہ بہبود آبادی کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات کے بارے میں عوامی آگاہی کے لیے ایک موثر میڈیا مہم چلائی جارہی ہے۔ محکمے کے کاموں کی اہمیت کے پیش نظر عملے کی تربیت کے لیے ایک جامع نظام وضع کیا جا رہا ہے۔ عوامی آگاہی کے پیغامات اور پروگراموں کی تیاری کے لیے پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ میں اسٹوڈیو قائم کیا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے لیے ‘چھوٹے خاندان کا خوشحال پاکستان’ کے نعرے کو فروغ دینا ہو گا۔ محکمہ بہبود آبادی کی تنظیم نو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق کی جارہی ہے۔ صوبہ بھر میں محکمہ کے سوشل موبلائزرز اور فیلڈ ورکرز کی کارکردگی قابل ذکر ہے۔ محکمہ بہبود آبادی پنجاب کے مختلف منصوبوں کی رپورٹنگ اور مانیٹرنگ کے لیے ویب پورٹلز اور ڈیش بورڈز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس میں ای رجسٹریشن، سٹریٹجک مینجمنٹ یونٹ، علمائے کرام اور خطیبوں سے رابطے، خدمات کو مضبوط بنانے اور سروس ڈیلیوری پروگرام شامل ہیں۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی ٹیم نے تمام ڈیش بورڈز اور پورٹلز بنانے میں بے حد معاونت کی ہے۔

    باخبر انتخاب کرنا اور اپنے دستیاب وسائل کے مطابق خاندان قائم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات حاصل کرنے کے لیے شوہر اور بیوی دونوں کے درمیان مشاورت ایک خوشحال مستقبل کی طرف ایک چھلانگ ہے کیونکہ ماں اور بچے کی صحت کے لیے پیدائش میں وقفہ ضروری ہے۔ اس سلسلے میں نوبیاہتا جوڑوں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ہمیں خواتین کو سماجی و اقتصادی طور پر بااختیار بنانے کا عہد بھی کرنا ہے۔ ایک بااختیار عورت آبادی میں تیزی سے اضافہ وغیرہ جیسے چیلنجوں پر قابو پانے میں مدد کر سکتی ہے۔ باپ، بھائی اور شوہر، خاندان کے مرد ارکان ہونے کے ناطے، ہمیں اپنی خواتین خاندان کے ارکان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا۔ پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ یہ مقصد اسی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب ہم سب اپنے معاشرے میں چھوٹے اور متوازن خاندان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز، سرکاری محکموں اور ترقیاتی شراکت داروں کی مشاورت سے پنجاب پاپولیشن پالیسی تیار کی گئی۔ جس کا مقصد وسائل کی منصفانہ تقسیم، پائیدار ترقی اور صوبے بھر کے عوام کو صحت اور تعلیم کی معیاری سہولیات کی فراہمی ہے۔ محکمہ بہبود آبادی پنجاب آبادی میں اضافے کو روکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔ صوبہ بھر میں قائم خاندانی بہبود کے مراکز پنجاب کے کونے کونے میں محفوظ، محفوظ اور قابل اعتماد خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات مفت فراہم کر رہے ہیں۔ ہمارے تربیت یافتہ مرد اور خواتین متحرک افراد گھر گھر جا کر خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں بیداری پیدا کر رہے ہیں۔ موبائل ہیلتھ یونٹس پنجاب کے دور دراز علاقوں میں خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ PWD کو بااختیار بنانے کے لیے مانع حمل لاجسٹک مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم قائم کیا گیا ہے اس کے علاوہ نچلی سطح سے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے PITB کا تعاون حاصل کیا گیا۔ ان تمام کوششوں کے لیے شہریوں کے تعاون کی ضرورت ہے تاکہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع انداز اپنایا جا سکے۔ آبادی کی روک تھام کے سلسلہ میں ہم تمام پاکستانیوں کواس آگاہی مہم کے مشعل بردار بننے کا عزم اور اپنے خوشحال مستقبل کے حوالے سے خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت کو اجاگرکرنا ہو گا۔ ڈائریکٹر جنرل پاپولیشن ویلفیئر سمن رائے نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں تقریباً ہر خاندان میں مرد فیصلہ ساز ہوتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کی پیدائش، جگہ اور تعداد کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ اس لیے پیغام پہنچانے کے لیے مرد اراکین کو بھی برابر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے.

    ایف سی بلوچستان ساؤتھ کی خواتین سولجرز نے کی قومی دفاع میں ایک نئی روایت قائم

    خواتین کو مساوی حقوق کی فراہمی حکومت کی ترجیح ہے ،وزیراعظم

    قصور میں ایک اور جنسی سیکنڈل،خواتین کی عزت لوٹ کر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    خواتین کو با اختیار بنا نے کیلیے صلاحیتوں کو نکھارنے پر کام کرنا ہو گا،نیلوفر بختیار

    عورت مارچ رکوانے کے لئے درخواست خارج

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

    خواتین وارڈنز کئی شعبوں میں مرد وارڈنز سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں،سی ٹی او لاہور

    مجھے اپنی جماعت میں جگہ بنانے کیلئے بارہ برس بہت زیادہ محنت کرنا پڑی،مریم نواز

  • سیاسی معاملات  اندرونی معاملہ ،مداخلت نہیں کرتے، عمران خان کے خط پر آئی ایم ایف کا ردعمل

    سیاسی معاملات اندرونی معاملہ ،مداخلت نہیں کرتے، عمران خان کے خط پر آئی ایم ایف کا ردعمل

    پاکستان تحریک انصاف کے خط پر آئی ایم ایف کی نمائندہ ایسٹرپیرز کا اہم بیان سامنے آیا ہے

    آئی ایم ایف کی نمائندہ ایسٹرپیرز کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے آئی ایم ایف کو لکھا گیا خط 28 فروری کو موصول ہوا، تحریک انصاف کا خط پاکستان کے قرض پروگرام کے بارے ہے،آئی ایم ایف سیاسی معاملات کو اندرونی معاملہ سمجھتا ہے،ایسے معاملے میں عالمی ادارہ مداخلت نہیں کرتا، آئی ایم ایف بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا معاشی مسائل تک مینڈیٹ محدود ہے،ہم ادارہ جاتی معاشی استحکام اور ترقی کیلئے انتخابی تنازعات کے شفاف اور پرامن حل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں،پاکستان کیساتھ سینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کے دوسرے جائزے پر مذاکرات کے منتظر ہیں،حکومت پاکستان درخواست کرے تو نئے وسط مدتی اقتصادی پروگرام کی حمایت کریں گے،آئی ایم ایف کا مقصد معاشی ترقی کے استحکام کو گہرا کرنا ہے،چیلنجز سے نمٹنے کیلئے حکومتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں،ٹیکس بنیاد کو وسیع کرنے کیلئے محصولات کے حصول کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں،توانائی کے شعبے کی عملداری اور ادارہ جاتی نظم ونسق میں اصلاحات پاکستان کیلئے ناگزیر ہیں،ہم نئی پاکستانی حکومت کیساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں اور نئی کابینہ کی تشکیل کے بعد اپنا مشن بھیج رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط کا متن سامنے آگیا ہے جس میں عمران خان کی جماعت نے آئی ایم ایف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو مزید قرض دینے سے پہلے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 30 فیصد نشستوں پر الیکشن کا آڈٹ کرائے،

    بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آج آئی ایم ایف کو خط لکھنےکا فیصلہ کیا گیا ہے ، بیر سٹر گوہر

    اڈیالہ جیل،عمران ،بشریٰ ملاقات،190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کیس،فردجرم کاروائی مؤخر

    نومنتخب حکومت کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں،آئی ایم ایف

    اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عمران خان کے خط کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی

    تحریک انصاف ابھی بھی چاہتی ہے کہ ملکی معیشت تباہ ہو جائے،شیری رحمان

    آئی ایم ایف کو خط لکھنا حب الوطنی نہیں،شرجیل میمن