Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • انسدادِ دہشتگردی، انسانی حقوق اور بہتر حکمرانی افغانستان کے اہم چیلنجز اور ترجیحات ہیں،عاصم افتخار

    انسدادِ دہشتگردی، انسانی حقوق اور بہتر حکمرانی افغانستان کے اہم چیلنجز اور ترجیحات ہیں،عاصم افتخار

    پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہ پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں میں ملوث ہیں اور افغانستان سے جنم لینے والی دہشتگردی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔

    سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے انسدادِ دہشتگردی، انسانی حقوق اور بہتر حکمرانی افغانستان کے اہم چیلنجز اور ترجیحات ہیں سلامتی کونسل نے افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ بعض طالبان عناصر کے دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ تعاون کی اطلاعات بھی موجود ہیں ٹی ٹی پی، بی ایل اے، مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور القاعدہ افغانستان میں سرگرم ہیں۔

    عاصم افتخار نے کہا کہ چین نے قرارداد پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان افغانستان میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کیلئے یوناما کی حمایت جاری رکھے گا اور ایک ایسے پُرامن افغانستان کا خواہاں ہے جو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن اور تعاون کے ساتھ رہ سکےیوناما مہاجرین اور بے گھر افراد کی باعزت واپسی کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے میں کردار ادا کرے، جبکہ غیر قانونی اسلحہ کی تجارت اور اس کے پھیلاؤ کی روک تھام میں بھی معاونت فراہم کرے یوناما کو افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے جائز سلامتی خدشات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے، عاصم افتخار نے یوناما کے سربراہ کی تقرری میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے خالی اسامی جلد پُر کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

  • ایرانی سفیر کی پاکستان کو امن معاہدے کے لیے کامیاب سفارتکاری پر مبارکباد

    ایرانی سفیر کی پاکستان کو امن معاہدے کے لیے کامیاب سفارتکاری پر مبارکباد

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی-

    ملاقات میں ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے، پاک۔ایران تعلقات اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے پر ایرانی قیادت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے معاہدے کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے فروغ کی جانب ایک مثبت اور حوصلہ افزا قدم ہے، جو علاقائی اور عالمی سطح پر امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    اس موقع پر ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے کے حصول کے لیے پاکستانی پارلیمنٹ اور سیاسی و عسکری قیادت کی کوششوں کو سراہا،انہوں نے پاکستان کی پارلیمانی، سیاسی، سفارتی، سول اور عسکری قیادت کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے امن معاہدے کے لیے کامیاب سفارتکاری پر مبارکباد پیش کی۔

    ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران کی حکومت اور عوام، ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور امن معاہدے کے لیے پاکستان کی پارلیمنٹ، حکومت، عسکری قیادت اور عوام کی جانب سے ادا کیے گئے مخلصانہ کردار کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاک ایران دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور، پارلیمانی روابط کے فروغ اور خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا،بعد ازاں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اپنے وفد کے ہمراہ قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی بھی دیکھی۔

  • کراچی پورٹ نے 8 سال کے بعد 2 ہزار جہازوں کی آمد کا سنگ میل عبور کرلیا

    کراچی پورٹ نے 8 سال کے بعد 2 ہزار جہازوں کی آمد کا سنگ میل عبور کرلیا

    وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے بتایا ہے کہ کراچی پورٹ نے 8 سال بعد 2 ہزار جہازوں کی آمد کا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔

    وفاقی وزیر بحری امورجنید انوار چوہدری نے کہا کہ ایک سال کے دوران کراچی پورٹ پر مجموعی طور پر 2 ہزار 3 جہاز لنگر انداز ہوئے، جو بندرگاہ کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافے کی عکاسی کرتا ہے کراچی پورٹ پر جہازوں کی آمد میں گزشتہ سال کے مقابلے 7.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے بندرگاہ پر آنے والے جہازوں کا مجموعی ٹنیج 8 کروڑ 44 لاکھ ٹن سے تجاوز کر گیا، جبکہ گراس رجسٹرڈ ٹنیج میں بھی 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے بحری تجارت میں یہ اضافہ ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے اور اس سے تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کی عکاسی ہوتی ہے –

    دوسری جانب چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ شاہد احد نے اس کامیابی کو شپنگ سرگرمیوں اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری کا نتیجہ قرار دیا انہوں نے کہا کہ بہتر انتظامی اقدامات اور بندرگاہی آپریشنز میں بہتری کے باعث کراچی پورٹ یہ تاریخی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے 1887 میں قائم ہونے والا کراچی پورٹ آج بھی ملک کا سب سے اہم بحری تجارتی گیٹ وے ہے اور قومی و بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

  • بجٹ محض نمبرز آگے پیچھے کرنے کا نام ہی رہ گیا ہے،حافظ نعیم الرحمان

    بجٹ محض نمبرز آگے پیچھے کرنے کا نام ہی رہ گیا ہے،حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹیکس کا ظالمانہ نظام نافذ ہے، بجٹ میں عوام کو ریلیف نہیں ملتا، صرف نمبرز تبدیل کردیئے جاتے ہیں۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم کا بجٹ جی ڈی پی کا 0.5 فیصد ہے، جب آپ تعلیم اور صحت کو آؤٹ سورس کر ر ہے ہیں تو کیسے نظام چلے گا، تعلیم کی ایمرجنسی نافذ کر کے بجٹ کم کر دیا ہے، اگر تعلیم پر بجٹ مختص بھی ہے تو خرچ نہیں ہوتا بجٹ میں عوام کو کچھ نہیں ملا، بجٹ محض نمبرز آگے پیچھے کرنے کا نام ہی رہ گیا ہے، ایف بی آر اپنا ہدف پورا نہیں کرتا، عام آدمی 60 فیصد ٹیکسز دے رہا ہے، پیٹرولیم لیوی کو ختم کرنا چاہیے، پی ایس ڈی پی میں ایم این ایز کے فنڈز کو ختم کیا جائے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ سرکاری گاڑی 1300سی سی سے زائد کی نہیں ہونی چاہیے، آپ سرکار کی گاڑی 1300 سی سی سے کم کر دیں، آئی پی پیز کے کیپیسٹی چارجز ختم کریں، یہ ایف بی آر کے بابو 3400 سی سی گاڑیوں پر گھومیں اور بوجھ عوام پر پڑے؟ اس ملک میں سودی نظام کا خاتمہ نہیں ہو سکا، 26 ویں ترمیم میں جنہوں نے سود ختم کرنے کی شق ڈلوائی وہ بتائیں پالیسی ریٹ ایک فیصد کیسے بڑھ گیا صرف مفادات کے حصول کے لیے نورا کشتی کی جاتی ہے، بجلی، پیٹرول، گیس کی قیمتوں سے براہ راست عوام کو فرق پڑتا ہے، حکومت خود تسلیم کرتی ہے کہ آئی ایم ایف کا دباؤ ہے، بجٹ میں بہت سی رقم اپنی نااہلی چھپانے کے لیے رکھی گئی ہے۔

  • آج کسی قسم کے معاہدے پر دستخط کا امکان موجود نہیں،ایران نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا

    آج کسی قسم کے معاہدے پر دستخط کا امکان موجود نہیں،ایران نے ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا

    ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معاہدے پر دستخط کے دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار واضح کر چکے ہیں کہ اتوار کے روز کسی قسم کے معاہدے پر دستخط کا امکان موجود نہیں ٹرمپ کے بیانات زمینی حقائق کے برعکس ہیں اس نوعیت کے دعوے سنجیدہ سفارتی عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

    ایرانی فوجی ذرائع کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کی تقریب 14 جون کو رکھنے کا ذکر محض علامتی سیاسی پیغام ہے جس کا مقصد ذاتی تشہیر اور میڈیا توجہ حاصل کرنا ہے۔

    واضح رہے صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ اتوار کو طے پا جائے گا اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو تمام فریقین کے لیے کھول دیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ ایران کی وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکہ کے ساتھ دشمنی کے خاتمے کے لیے متوقع مفاہمتی یادداشت پر اتوار کو دستخط نہیں کیے جائیں گے۔

    ارنا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا تھا کہ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ہمیں دستخط کے صحیح وقت کے بارے میں انتظار کرنا ہوگا؛ اگرچہ یہ کل نہیں ہوگا،ثالث پاکستان کی جانب سے اس بیان کے بعد کہ ایران اور امریکہ آئندہ 24 گھنٹوں میں معاہدے کو حتمی شکل دے سکتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ”آئندہ دنوں میں ایسا ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔“

  • وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سعودی ہم منصب  سے رابطہ

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سعودی ہم منصب سے رابطہ

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان الیکٹرانک دستخطی تقریب کل ہوگی۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے آخری مرحلے کا خیرمقدم کیا،اس موقع پر انہوں نے اس امید کا اظہار کیاکہ کل متوقع الیکٹرانک دستخطی تقریب کے بعد ہونے والی یہ اہم پیشرفت خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام میں مثبت کردار ادا کرے گی۔

    سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے مذاکرات اور ثالثی کے عمل میں پاکستان کی مسلسل اور مثبت کوششوں کو سراہتے ہوئے اس کردار کی زبردست تعریف کی،گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے رواں ماہ کے اختتام پر مصر میں منعقد ہونے والے علاقائی چار ملکی وزرائے خارجہ (آر-4) اجلاس سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا پاکستان اور سعودی عرب نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی یہ مفاہمت خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام میں معاون ثابت ہوگی۔

    واضح رہے کہ قبل وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران پہلے سے کہیں زیادہ امن معاہدے کے قریب ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی پاکستان امن معاہدے کو حتمی شکل ملنے کے فوراً بعد اس پر الیکٹرانک دستخط کے لیے تیاریاں کررہا ہے، جبکہ اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی متوقع ہیں۔

    بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی ٹوئٹ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی شیئر کی۔

  • وزیراعظم شہباز شریف اور قطری وزیراعظم کے درمیان رابطہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور قطری وزیراعظم کے درمیان رابطہ

    وزیراعظم شہباز شریف اور قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان بن جاسم آل ثانی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہاکہ قطر کے وزیراعظم سے ٹیلیفون پر نہایت گرمجوشی اور خوشگوار گفتگو ہوئی، میں نے خلیجی بحران کے دوران پاکستان کی امن کوششوں کی قطر کی جانب سے مسلسل حمایت پر ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق ٹیلیفونک رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے تاریخی امن معاہدے سے متعلق تازہ ترین پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا،انہوں نے اس امید کا اظہار کیاکہ یہ تاریخی کوشش خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔

  • ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں  3.57 کروڑ ڈالر کا اضافہ

    ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں 3.57 کروڑ ڈالر کا اضافہ

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 5 جون کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں 3.57 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مجموعی حجم 22.67 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

    مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 5 جون کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 2.48 کروڑ ڈالر اضافے کے بعد 17.21 ارب ڈالر ہوگئے، جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر بھی 1.09 کروڑ ڈالر بڑھ کر 5.45 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔

    دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنا ریسرچ ایجنڈا 2026-29 بھی جاری کر دیا ہے، جس میں ادارے کی آئندہ تحقیقی ترجیحات کو 3 بڑے شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے،ریسرچ ایجنڈے کے مطابق توجہ جن اہم شعبوں پر مرکوز ہوگی ان میں افراطِ زر کی حرکیات اور مالیاتی پالیسی، مالیاتی شعبے کی بہتری اور استحکام، اور ساختی معاشی تبدیلی و ترقی شامل ہیں۔

    ماہرین کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں حالیہ اضافہ اور ریسرچ ایجنڈے کا اجرا معاشی نظم و نسق اور پالیسی تسلسل کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی

    ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی

    پاکستان اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ تعلیمی شعبے پر اخراجات کم ہو کر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے صرف 0.8 فیصد تک محدود رہ گئے ہیں-

    اقتصادی سروے کے مطابق 2024-25 کے دوران قومی غربت کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 2018-19 میں 21.9 فیصد تھی۔ اس اضافے کو ملک کی حالیہ تاریخ میں فلاحی صورتحال کی ایک بڑی تنزلی قرار دیا جا رہا ہے، شہری علاقوں میں غربت 11.0 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد اور دیہی علاقوں میں 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد ہو گئی ہے بلوچستان 47 فیصد آبادی کے ساتھ بدستور سب سے غریب صوبہ قرار پایا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا، سندھ اور پنجاب میں بھی غربت کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا ہے، ملک میں آمدنی کی غیر مساوات میں اضافہ ہوا ہے اور گینی کوفیشینٹ 28.4 سے بڑھ کر 32.7 تک پہنچ گیا ہے، جو معاشی فرق میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

    اسی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تعلیم پر سرکاری اخراجات 23 فیصد کمی کے بعد 962 ارب روپے رہ گئے ہیں، جو گزشتہ سال 1,251 ارب روپے تھے، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تعلیمی بجٹ میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ سندھ اور بلوچستان میں نسبتاً اضافہ ریکارڈ کیا گیا ملک میں صرف 59 فیصد پرائمری اسکولوں میں بجلی کی سہولت موجود ہے، جبکہ بلوچستان میں صفائی اور بنیادی سہولیات کی صورتحال انتہائی خراب ہے،اگر اصلاحات نہ کی گئیں تو تعلیمی نظام کی کمزوریاں اور معاشی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ موجودہ صورتحال میں پاکستان کا تعلیمی شعبہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر پیچھے ہے۔

  • پاکستان کی مسقط ایکشن پلان کی حمایت

    پاکستان کی مسقط ایکشن پلان کی حمایت

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلطنت عمان، اقوام متحدہ کے خصوصی مشیر برائے نسل کشی کی روک تھام کے دفتر اور پیس میکرز نیٹ ورک کو مسقط پلان آف ایکشن کی تیاری اور تکمیل پر مبارکباد پیش کی۔

    مسقط ایکشن پلان کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سلطنت عمان، اقوام متحدہ کے خصوصی مشیر برائے نسل کشی کی روک تھام کے دفتر اور پیس میکرز نیٹ ورک کو مسقط پلان آف ایکشن کی تیاری اور تکمیل پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ مسقط ایکشن پلان رواداری،امن اور پرامن معاشروں کے قیام کے لیے ایک جدید اور مؤثر راستہ ہے، جو نفرت انگیز تقاریر اور تشدد پر اکسانے کے رجحانات کے خاتمے میں مدد دے سکتا ہے۔

    عاصم افتخار نے کہا کہ نفرت انگیز بیانات اور نسل کشی جیسے جرائم کی ترغیب پیچیدہ عوامل سے جڑی ہوتی ہے، جن کا مؤثر اور جامع حل قومی و بین الاقوامی سطح پر مشترکہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مقامی قیادت کے فعال کردار کا بھی متقاضی ہے،قبائلی عمائدین، سردار اور مقامی رہنما تاریخ میں ہمیشہ مقامی حکمرا نی، تنازعات کے حل اور ثالثی میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں،اور آج بھی امن قائم کرنےتنازعات کم کرنے اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں میں پیش پیش ہیں۔

    پاکستانی مندوب کے مطابق مسقط ایکشن پلان ایک ایسا جدید اقدام ہے جو روایتی اور مقامی قیادت کی ثقافتی ساکھ اور اثر و رسوخ کو بروئے کار لا کر نفرت انگیز تقاریر کے خلاف مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے،یہ منصوبہ ریاستی کوششوں کو مزید مضبوط بناتا ہے تاکہ منصفانہ، جامع اور پرامن معاشروں کی تشکیل ممکن ہو سکے پاکستان بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر نفرت انگیز نظریات کے خاتمے اور معاشروں کو امن، مساوات اور ہم آہنگی کا گہوارہ بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔