Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب روانہ

    وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب روانہ

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر 2 روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ ہو گئے ہیں۔

    وزیراعظم کے ہمراہ آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی سعودی عرب گئے ہیں۔

    وزیراعظم آفس اور ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کی سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات ہوگی، جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ برادرانہ تعلقات، دوطرفہ تعاون، سرمایہ کاری، تزویراتی شراکت داری، خطے کی موجودہ صورتحال، فلسطین، ایران۔امریکا تنازع اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    اعلامیے کے مطابق وزیراعظم اپنے دورۂ سعودی عرب کے دوران عمرہ ادا کریں گے اور مدینہ منورہ میں روضۂ رسول ﷺ پر حاضری بھی دیں گے یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط اعتماد، دوستی اور بھائی چارے کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ اس سے باہمی تعلقات، تزویراتی تعاون اور علاقائی و بین الاقوامی امور میں ہم آہنگی کو مزید فروغ ملے گا۔

  • افغانستان دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکاہے، پاکستان

    افغانستان دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکاہے، پاکستان

    پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں متعدد دہشتگرد تنظیمیں بدستور سرگرم ہیں اور وہیں سے پاکستان سمیت دیگر ممالک کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے-

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں ٹی ٹی پی، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی مجید بریگیڈ، داعش خراسان (آئی ایس آئی ایل-کے)، القاعدہ سے وابستہ گروہوں اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) سمیت متعدد دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ دہشتگرد گروہ افغانستان سے بھرتی، تربیت، منصوبہ بندی اور پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جبکہ انہیں پاکستان کے مشرقی ہمسائے کی جانب سے مالی اور دیگر معاونت بھی حاصل ہے گزشتہ ہفتے سوات میں ٹی ٹی پی کے خودکش حملے میں 16 پاکستانی جان کی بازی ہار گئے اگرچہ پاکستان کی مؤثر کارروائیوں کے باعث داعش خراسان کو دھچکا پہنچا ہے، تاہم افغانستان میں اس تنظیم کا خطرہ اب بھی برقرار ہے۔

    سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی ایک سرحد پار خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون، سرحدی نظم و نسق، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ اور دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنا ناگزیر ہے،دہشتگرد تنظیمیں جدید ٹیکنالوجی، ڈرونز، سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل والٹس اور کرپٹو کرنسیوں کو بھرتی، فنڈنگ اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کر رہی ہیں، جس کا مشترکہ عالمی سطح پر مقابلہ کرنا ہوگا۔

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ طالبان حکومت کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ افغان سرزمین کسی بھی دہشتگرد گروہ کی جانب سے پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، جبکہ دہشت گرد گروہوں کے سرپرستوں اور معاونین کو بھی جواب دہ ٹھہرایا جائے۔

    پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست بھارت کے یکطرفہ اقدامات کی ساتویں برسی ہے انہوں نےبھارتی اقدامات کو ریاستی دہشتگردی کی بدترین مثال قرار دیتےہوئےکہا کہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر سمیت ہر جگہ ریاستی دہشتگردی کے خلاف بھی زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنانا ہوگی، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دوہرے معیار سے بالاتر ہو کر جامع، مربوط اور کثیرالجہتی حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور پاکستان اس عالمی کوشش میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

  • محسن نقوی کی قطری وزیر داخلہ سے ملاقات

    محسن نقوی کی قطری وزیر داخلہ سے ملاقات

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے قطری ہم منصب شیخ خلفیہ بن حمد بن خلفیہ الثانی سے ملاقات کی جس میں سکیورٹی سے متعلقہ شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دونوں وزرائے داخلہ نے سکیورٹی پارٹنر شپ بڑھانے اور خطے کی موجودہ صورتحال اور امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا، دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون کو مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا،ملاقات میں داخلی سکیورٹی سے متعلق باہمی تعاون اور شراکت داری کو مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا گیا محسن نقوی نے کہا کہ قطر کے ساتھ سکیورٹی و مشترکہ مفادات کے شعبوں میں اشتراک کو مستحکم بنانے کیلئے پرعزم ہیں۔

    وزیر داخلہ نے قطری ہم منصب سے ان کے والد سابق امیر قطر شیخ حمد بن خلفیہ الثانی کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا، اور قطر کی تعمیر و ترقی میں سابق امیر قطر شیخ حمد بن خلفیہ الثانی کی گراں قدر خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔

    اس موقع پر قطری وزیر داخلہ شیخ خلفیہ بن حمد بن خلفیہ الثانی کا کہنا تھا کہ قطر پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

  • بھارتی وزیر دفاع کے اشتعال انگیز بیانات، پاکستان کا اقوام متحدہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ

    بھارتی وزیر دفاع کے اشتعال انگیز بیانات، پاکستان کا اقوام متحدہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ

    دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے مسئلہ کشمیر سے متعلق حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں انتہائی اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔

    دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ بھارتی وزیر دفاع کے ریمارکس نہ صرف اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ جموں و کشمیر تنازع سے متعلق حقائق کو مسخ کرتے ہیں بلکہ یہ بھارتی حکومت کی جانب سے علاقائی اور عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے کی دانستہ پالیسی کی بھی عکاسی کرتے ہیں، بھارت ایسے بیانات کے ذریعے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر پر اپنے قبضے، خطے میں دہشتگردی کی سرپرستی اور اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ جارحانہ بیانات کے باوجود بھارت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، جس کا مظاہرہ گزشتہ برس آپریشن بنیان المرصوص کے دوران پوری قوم اور مسلح افواج نے کیا۔

    پاکستان نے بین الاقوامی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ، پر زور دیا کہ وہ بھارت کے طرزِ عمل کا نوٹس لے اور سلامتی کونسل کی ان قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرے جن میں کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے کی ضمانت دی گئی ہے۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    اسلام آباد: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آج بڑی کمی کا امکان ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں آج خام تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی، اوگرا عالمی مارکیٹ کے تناسب سے نئی قیمتوں کا تعین آج کرے گاعالمی مارکیٹ کے تناسب سے پاکستان میں آج قیمتوں میں بڑی کمی متوقع ہے-

    واضح رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ 60 روپے تک اضافہ ہوا، جس میں پیٹرول 24 اور ڈیزل 60 روپے سے زائد مہنگا کیا گیا،حکومت کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور درآمدی لاگت میں اضافے کو قرار دیا گیا تھا۔

    آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کے مجوزہ نظام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس سے کاروباری منصوبہ بندی، اسٹاک مینجمنٹ اور سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ضرورت ہے۔

  • قومی سلامتی کے ادارے اور سیاسی مباحث پاکستان کو سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت،تجزیہ شہزاد قریشی

    قومی سلامتی کے ادارے اور سیاسی مباحث پاکستان کو سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت،تجزیہ شہزاد قریشی

    قومی سلامتی کے ادارے اور سیاسی مباحث پاکستان کو سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت

    دنیا میں کم، پاکستان میں زیادہ قومی اداروں پر مسلسل بحث کے اثرات اور چیلنجز

    قومی اداروں کا وقار اور ریاستی استحکام عالمی تجربات پاکستان کو کیا سبق دیتے ہیں؟

    دنیا کے تقریباً ہر ملک میں مسلح افواج، انٹیلی جنس ادارے اور قومی سلامتی کے دیگر ادارے ریاست کے بنیادی ستون تصور کیے جاتے ہیں ان اداروں کا بنیادی مقصد سرحدوں کا دفاع، داخلی و خارجی خطرات کی نگرانی، اور قومی مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین، بھارت، ترکی اور دیگر ممالک میں بھی فوج اور قومی سلامتی کے ادارے موجود ہیں، لیکن وہاں عمومی طور پر ان اداروں کو روزمرہ کی سیاسی کشمکش کا مستقل موضوع نہیں بنایا جاتا۔

    بین الاقوامی سطح پر سول و عسکری تعلقات (Civil-Military Relations) کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ قومی سلامتی کے اداروں کی پیشہ ورانہ حیثیت اور سیاسی غیرجانبداری کسی بھی ریاست کے استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ جمہوری معاشروں میں قومی سلامتی کے معاملات پر بحث ضرور ہوتی ہے، مگر یہ بحث عموماً پالیسی، دفاعی حکمتِ عملی، بجٹ، یا آئینی و قانونی دائرہ کار تک محدود رہتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ فوج اور انٹیلی جنس ادارے سیاسی جماعتوں کے باہمی تنازعات کا حصہ نہ بنیں، کیونکہ اداروں کی ساکھ اور عوامی اعتماد قومی سلامتی کا ایک اہم جزو سمجھے جاتے ہیں۔

    پاکستان کا معاملہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہ ایک ایٹمی طاقت ہے، دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑ چکا ہے، اور دنیا کے حساس ترین جغرافیائی خطوں میں واقع ہے۔ ایسے ماحول میں قومی سلامتی کے اداروں پر تنقید، سوال یا احتساب کی گنجائش اپنی جگہ موجود رہتی ہے، لیکن جب یہ موضوع مسلسل سیاسی محاذ آرائی، سوشل میڈیا مہمات، یوٹیوب مباحث اور جماعتی بیانیوں کا مرکز بن جائے تو اس کے اثرات ریاستی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی پر بھی مرتب ہوتے ہیں، بین الاقوامی تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جب فوج یا قومی سلامتی کے ادارے شدید سیاسی پولرائزیشن کا حصہ بن جائیں تو سول و عسکری تعلقات پر دباؤ بڑھتا ہے اور قومی اداروں پر عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی لیے کئی جمہوری ممالک میں فوج کی غیرجانبداری اور اسے سیاسی تنازعات سے دور رکھنے کو ایک بنیادی قومی اصول سمجھا جاتا ہے۔

    پاکستان میں بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں سے متعلق گفتگو ذمہ دارانہ، حقائق پر مبنی اور قومی مفاد کے دائرے میں ہو۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر ایسا طرزِ گفتگو جو اداروں کو مستقل سیاسی تنازعات کا مرکز بنا دے، وہ قومی وحدت اور ریاستی استحکام کے لیے سودمند نہیں سمجھا جاتا، قومی سلامتی کے ادارے کسی فرد، جماعت یا حکومت کے نہیں بلکہ ریاست اور قوم کے ادارے ہوتے ہیں، اور ان کے بارے میں رائے دیتے وقت قومی مفاد، ادارہ جاتی وقار اور ریاستی استحکام کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔

    مختصراً، دنیا کی کامیاب ریاستوں کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ مضبوط جمہوریت، مستحکم قومی سلامتی اور باوقار ادارے ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہوتے ہیں۔ جب سیاسی قوتیں، میڈیا اور ریاستی ادارے اپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرتے ہیں تو قومیں مضبوط اور ریاستیں مستحکم بنتی ہیں۔

  • حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں ،وزیراعظم

    حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں ،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں ،بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور امن کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش ہے، تاہم پاکستان دہشت گردی کے اس چیلنج کا پوری قوت سے مقابلہ کرے گا۔

    بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچ اور پشتون عوام نے قیامِ پاکستان کے وقت تاریخی کردار ادا کیا اور اپنی قیادت کے ذریعے پاکستان میں شمولیت اختیار کرکے قومی وحدت کو مضبوط بنایا، بلوچستان کی محب وطن قیادت نے ہمیشہ قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی اور صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی میں بھرپور شریک رہا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا لیکن رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں طویل فاصلے اور دشوار جغرافیہ ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ وسائل خرچ کرنے کا تقاضا کرتے ہیں، اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق میں نمایاں اضافہ کیا گیا، اس فیصلے میں تمام صوبوں نے اتفاق کیا، جبکہ پنجاب نے رضاکارانہ طور پر سالانہ 11 ارب روپے اضافی دینے کا فیصلہ کیا اور 2010 سے اب تک تقریباً 150 ارب روپے بلوچستان کے لیے فراہم کیے جا چکے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ یہ کسی پر احسان نہیں بلکہ وفاقی یکجہتی اور بھائی چارے کا تقاضا تھا۔

    شہباز شریف نے کہا کہ میاں نواز شریف کے ادوارِ حکومت میں بھی بلوچستان کی ترقی کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے، جبکہ موجودہ حکومت نے بھی صوبے کے جائز مطالبات پورے کرنے کو ترجیح دی ہے بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے تقریباً 75 ارب روپے کا منصوبہ شروع کیا گیا، جس میں وفاق نے تقریباً 50 ارب روپے فراہم کیے، تاکہ کسانوں کو بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے نجات مل سکے،بلوچستان کی ترقی کےلیے وفاقی حکومت کوئی کمی نہیں چھوڑے گی-

    وزیراعظم نے کہا کہ کراچی سے چمن تک ایم-25 شاہراہ، جسے ماضی میں مسلسل حادثات کے باعث “خونی سڑک” کہا جاتا تھا، اسے جدید ایکسپریس وے میں تبدیل کیا جا رہا ہے، تقریباً 300 ارب روپے لاگت کے اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف سفری سہولیات بہتر ہوں گی بلکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ بھی ممکن ہوگا، انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ڈیڑھ سے دو برس میں یہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد یہ شاہراہ ترقی، تجارت اور امن کی علامت بن جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں رفتار سے آگے بڑھیں اگر صرف ایک یا دو صوبے ترقی کریں اور د یگر پیچھے رہ جائیں تو اسے پاکستان کی ترقی نہیں کہا جا سکتا وفاق کی ذمہ داری ہے کہ ملک کے ہر حصے کو مساوی ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

    وزیراعظم نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس عبدالقادر اور ان کے ساتھی اہلکار سمیت دہشت گردی میں شہید ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ قوم ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اب تک 90 ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، جن میں شہری، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور افواجِ پاکستان کے افسران و جوا ن شامل ہیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ 2017 اور 2018 تک پاکستان دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پا چکا تھا، لیکن بعد ازاں دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، جو دہشت گرد عناصر کو مالی اور دیگر معاونت فراہم کر رہا ہےپاکستان نے بارہا افغان عبو ری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین دہشت گرد تنظیموں کے استعمال سے روکے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان دو ہزار کلومیٹر سے زائد مشترکہ سرحد موجود ہے اور خطے میں امن دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، تاہم، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس حوالے سے مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آ سکے۔

    انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان نے دفاعی اور سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن سے دنیا میں ملک کا وقار بلند ہوا ہے، مگر پاکستان کے دشمن ان کامیابیوں کو برداشت نہیں کر پا رہے انہوں نے زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر معاشی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے سفر کو آگے بڑھائے تاکہ پاکستان دنیا میں اپنا حقیقی مقام حاصل کر سکے۔

    اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے علامہ اقبال کا شعر پڑھتے ہوئے قومی اتحاد، مشترکہ جدوجہد اور انتھک محنت کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ چاروں صوبوں اور 24 کروڑ عوام کی مشترکہ کوششوں سے ہی پاکستان ایک مضبوط، خوشحال اور باوقار ریاست بن سکتا ہے۔

  • پاکستان ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے،اسحاق ڈار

    پاکستان ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کرغز جمہوریہ کے خوبصورت شہر چولپون آتا میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی کونسل برائے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کہا کہ پاکستان ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے اور رکن ممالک کے درمیان تعاون، روابط اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے اپنی بھرپور حمایت جاری رکھے گا-

    دفتر خارجہ کے مطابق سینیٹر اسحاق ڈار نے اجلاس کی میزبانی پر کرغز قیادت اور وزیر خارجہ ژین بیک کولوبایف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے شاندار انتظامات کو سراہا نائب وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کی 25ویں سالگرہ پر رکن ممالک کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ایس سی او گزشتہ 25 برس کے دوران خطے میں امن، سلامتی، خوشحالی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے،انہوں نے علاقائی امن، استحکام، رابطہ کاری اور مشترکہ ترقی کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان ’شنگھائی اسپرٹ‘ کے اصولوں پر مکمل یقین رکھتا ہے اور رکن ممالک کے درمیان تعاون، روابط اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے اپنی بھرپور حمایت جاری رکھے گااسحاق ڈار نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا بھی ذکر کیا، جن میں اسلام آباد مذاکرات اور اس کے نتیجے میں طے پانے والا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت شامل ہیں انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات پاکستان کے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل پر یقین کی عکاسی کرتے ہیں۔

    انہوں نے اجلاس میں شریک وزرائے خارجہ کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششو ں کو سراہااور اس موقع پر اعلان کیا کہ پاکستان ستمبر 2026 میں شنگھائی تعاون تنظیم کی کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی سربراہی سنبھالنے کے لیے تیار ہے، انہوں نے تمام رکن ممالک کو 2027 میں پاکستان میں منعقد ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

  • ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے اسکواڈ کا اعلان کردیا

    ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے اسکواڈ کا اعلان کردیا

    ویسٹ انڈیز نے پاکستان کیخلاف ٹیسٹ سیریز کیلئے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا ۔

    ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کے مطابق ر وسٹن چئیز ویسٹ انڈیز کے کپتان برقرار رکھے گئے ہیں جبکہ جومیل واریکن نائب کپتان ہوں گے،دیگر کھلاڑیوں میں جوشعوا بشپ، ٹیگنارائن چندرپال، جوشعوا ڈی سلوا شامل ہیں ، جسٹن گریوز، کیوم ہوج، شے ہاپ، عامر جنگو، شیمار جوزف بھی اسکواڈ کا حصہ ہیں برینڈن کنگ، کرک میکینزی، کیمو پال، کیمار روچ اور جیڈن سیلز بھی شامل ہیں،پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلا ٹیسٹ میچ برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں 25 جولائی سے شروع ہوگا۔

    دوسری جانب قومی ٹیسٹ سکواڈ کا برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں پریکٹس سیشن ہوا،قومی کھلاڑیوں نے وارم اپ اور فیلڈنگ سیشن میں حصہ لیا ،کوچز نے کھلاڑیوں کو سلپ کیچز کی ڈرلز کروائیں،کوچز کے زیر نگرانی کھلاڑیوں نے بیٹنگ اور باؤلنگ کی نیٹ پریکٹس بھی کی ۔

  • پاکستان کے  ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر

    پاکستان کے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر

    پاکستان نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے-

    پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا افتتاح کیا گیاتقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا اس موقع پر دونوں رہنماؤ ں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

    ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہےامید ہے کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

    اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

    تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔