Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • لبنانی وزیر داخلہ 2 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے

    لبنانی وزیر داخلہ 2 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی خصوصی دعوت پر لبنان کے وزیر داخلہ احمد الحجار 2 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

    لبنان کے وزیر داخلہ احمد الحجار اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ جیسے ہی اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے تو وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ان کا باضابطہ استقبال کیا، اس موقع پر چیف کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد پولیس بھی ایئرپورٹ پر موجود تھے، جنہوں نے معزز مہمان کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔

    لبنانی وزیر داخلہ یہ دورہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی خصوصی دعوت پر کر رہے ہیں۔ 2 روزہ قیام کے دوران لبنان کے وزیر داخلہ پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و حکومتی قیادت اور بالخصوص وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے تفصیلی ملاقاتیں کریں گے، دورے کے دوران لبنانی وزیر داخلہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور امن و امان کے شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔

    ان ملاقاتوں کا بنیادی محور پاکستان اور لبنان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی استواری، سیکیورٹی، بارڈر مینجمنٹ اور داخلہ امور سے متعلق باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا،دونوں برادر ممالک کے درمیان آئندہ کی حکمتِ عملی اور مشترکہ اقدامات پر بھی اہم بات چیت کی جائے گی۔

  • پاکستان میں 200 سے زائد افغان میڈیکل طلبہ کی نشاندہی،پی ایم ڈی سی میں صرف 22 رجسٹرڈ

    پاکستان میں 200 سے زائد افغان میڈیکل طلبہ کی نشاندہی،پی ایم ڈی سی میں صرف 22 رجسٹرڈ

    پاکستان میں 200 سے زائد افغان میڈیکل طلبہ کی نشاندہی ہوئی ہے جبکہ پی ایم ڈی سی میں صرف 22 طلبہ رجسٹرڈ ہیں،جبکہ پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان میڈیکل طلبہ کی واپسی کے حوالے سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے یکم ستمبر 2026 کو تمام سرکاری اور نجی طبی اداروں کو باقاعدہ مراسلہ جاری کیا ہے۔

    پی ایم ڈی سی کے مطابق 22 میں سے 14 اپنی ڈگری مکمل کرچکے ہیں جبکہ 8 آئندہ سال گریجویشن کریں گے۔ باقی 176 طلبہ کی حیثیت کی تصدیق اور ریگولیٹری جائزے کا عمل جاری ہے،پاکستان میں غیر ملکی طلبہ کے لیے میڈیکل تعلیم پر قومیت کی بنیاد پر کوئی پابندی نہیں، تاہم تمام غیر ملکی طلبہ کے لیے تعلیمی، رجسٹریشن، دستاویزی اور امیگریشن تقاضے پورے کرنا لازم ہے۔

    صرف میڈیکل ڈگری مکمل کرلینا پاکستان میں قیام، ملازمت یا طب کی پریکٹس کا حق نہیں دیتا بلکہ پاکستان میں پریکٹس کے خواہشمند غیر ملکی گریجویٹس کو متعلقہ لائسنسنگ اور رجسٹریشن کی شرائط پوری کرنا ہوں گی،متاثرہ طلبہ کو قانونی کارروائی مکمل کرنے اور حکومتی پالیسی کے مطابق واپسی کے انتظامات میں سہولت فراہم کی جا رہی ہے، تعلیمی معیار، قانونی تقاضوں اور مریضوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان میڈیکل طلبہ کی واپسی کے حوالے سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے یکم ستمبر 2026 کو تمام سرکاری اور نجی طبی اداروں کو باقاعدہ مراسلہ جاری کیا ہے، پی ایم ڈی سی نے ملک بھر کے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کو ہدایت کی ہے کہ وہ زیرِ تعلیم افغان طلبہ کو وطن واپس بھیجنے کے لیے انتظامی امور اور این او سی کا اجرا فوری مکمل کریں-

    موجودہ تعلیمی سیشن میں افغان شہریوں کے لیے میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں نئے داخلوں، مائیگریشن اور ٹرانسفر پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے،لاہور کی کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی (KEMU) سمیت بعض اداروں نے ضابطے پر عمل کرتے ہوئے افغان طلبہ کو فوری دستاویزات اور کلیئرنس کے احکاما ت جاری کیے ہیں،دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ درست ویزا اور باقاعدہ یونیورسٹی رجسٹریشن رکھنے والے طلبا کے لیے تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی گنجا ئش موجود ہے-

  • پاکستان کو ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی طرف تیزی سے منتقل ہونا ہوگا،احسن اقبال

    پاکستان کو ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی طرف تیزی سے منتقل ہونا ہوگا،احسن اقبال

    اسلام آباد : وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت اڑان پاکستان کے قومی اقتصادی مشن، ٹیکس اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق اجلاس ہوا۔

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات اور وسائل میں اضافہ مشن 2 پورے اڑان پاکستان پروگرام کے لیے مالیاتی انجن کی حیثیت رکھتا ہے، قابلِ اعتماد ذرائع سے آمدن میں اضافہ کیے بغیر دیگر قومی اقتصادی مشنز کے لیے مطلوبہ وسائل فراہم نہیں کیے جاسکتے، گیارہ قومی اقتصادی مشنز کا مقصد پاکستان کو 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے، تاہم یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے ہر شعبے میں تبدیلی اور روایتی طریقہ کار سے نجات ضروری ہے۔

    احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کو ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی طرف تیزی سے منتقل ہونا ہوگامعاشی استحکام حاصل ہوا ہے لیکن موجودہ سطح کا استحکام پائیدار ترقی کے لیے کافی نہیں، اس لیے مجموعی قومی پیداوار اور برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا،ٹیکس کی شرح کم کرتے ہوئے ٹیکس نیٹ اور وصولی بڑھانا، وسائل کو متحرک کرنا اور ٹیکس نظام میں بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کرنا ناگزیر ہے، جبکہ ٹیکس اصلاحات اور معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے ملکی وسائل میں اضافہ اور معیشت کو دستاویزی بنانا ہوگا۔

  • پاکستان کی بلیو اکانومی میں اہم پیش رفت، سی فوڈ کی برآمدات میں تاریخی اضافہ

    پاکستان کی بلیو اکانومی میں اہم پیش رفت، سی فوڈ کی برآمدات میں تاریخی اضافہ

    پاکستان کی بلیو اکانومی میں اہم پیش رفت، سمندری خوراک کی برآمدات میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے-

    پاکستان کی سی فوڈ برآمدات مالی سال 26-2025میں پہلی بار 500 ملین ڈالر کی حد عبور کرتے ہوئے 568 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں،وزارتِ بحری امور کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں پاکستانی سی فوڈ برآمدات میں 38 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، سی فوڈ برآمدات 24-2023 میں 406 ملین ڈالر سے بڑھ کر 26-2025 میں568 ملین ڈالرکی تاریخی سطح پر پہنچ گئیں

    وزارتِ بحری امور کے مطابق فروزن فش پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی سمندری خوراک رہی، جس سے 105 ملین ڈالر سے زائد آمدن حاصل ہوئی، فروزن اسکویڈ، کٹل فش، فش میل، جھینگے اور کیکڑے بھی پاکستان کی اہم برآمدی مصنوعات میں شامل رہے-

    وزارتِ بحری امور کے مطابق پاکستانی سی فوڈ چین، جاپان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکہ اور دیگر عالمی منڈیوں تک پہنچ رہی ہےبرآمدی معیار، فوڈ سیفٹی اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی نے اس کامیابی میں اہم کردار ادا کیا یورپی یونین کی 2007 کی پابندی کے بعد پاکستانی سی فوڈ مصنوعات دوبارہ یورپی مارکیٹ میں اعتماد بحال کر رہی ہیں-

    ماہرین کے مطابق ویلیو ایڈڈ سی فوڈ مصنوعات پر توجہ دے کر پاکستان اس شعبے کو 3 ارب ڈالر تک بڑھا سکتا ہے، پاکستان کی بڑھتی سی فوڈ برآمدات بلیو اکانومی، روزگار اور معاشی ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں-

  • انگلینڈ :پاکستان انڈر 19 ٹیم کو پناہ گزین سمجھ کر ہوٹل کے باہر احتجاج

    انگلینڈ :پاکستان انڈر 19 ٹیم کو پناہ گزین سمجھ کر ہوٹل کے باہر احتجاج

    پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو برطانوی شہر پورٹسماؤتھ میں غلطی سے پناہ کے متلاشی افراد کا گروپ سمجھ لیا گیا،یہ واقعہ منگل کی شام میریئٹ ہوٹل کے باہر پیش آیا جہاں پاکستانی ٹیم قیام پذیر تھی-

    رپورٹس کے مطابق تقریباً 40 غیر ملکی افراد کی ایک ٹیم میریئٹ ہوٹل پہنچی تو وہاں موجود بعض افراد نے اسے پناہ گزینوں کی آمد سمجھتے ہوئے احتجاج شروع کر دیا،صورتحال اس وقت کشیدہ ہوگئی جب مظاہرین ہوٹل کے باہر جمع ہوگئے،سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیل گئی تھی کہ غیر ملکی افراد ایک کوچ کے ذریعے و ہاں پہنچے ہیں، جس کے بعد پولیس کو شام ساڑھے 6 بجے سے کچھ دیر پہلے طلب کیا گیا،پولیس نے موقع پر پہنچ کر معلوم کیا کہ جن افراد کے بارے میں احتجا ج کیا جا رہا ہے وہ دراصل پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی ہیں۔

    ریفارم پارٹی کے کونسلر جارج میڈوک نے معاملہ سلجھانے کے لیے ہوٹل سے رابطہ کیا اور پاکستان انڈر 19 ٹیم کے کوچ سے بات کی بعد ازاں انہوں نے مظاہرین کو بتایا کہ یہ افراد پناہ گزین نہیں بلکہ کرکٹ ٹیم کے ارکان ہیں جس پر مظاہرین چند ہی منٹ میں منتشر ہوگئے ،انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے واقعے کے بعد پاکستان کرکٹ حکام سے رابطہ کیا ہے اور ٹیم کی سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    جارج میڈگوک نے گارڈین سے گفتگو میں کہا کہ میں نے ٹیم کے کوچ سے بات کی، وہ اس معاملے کو سمجھ رہے تھے۔ میں مظاہرین کے پاس گیا اور کہا کہ آپ لوگوں کو غلط فہمی ہوئی ہے، یہ کرکٹ ٹیم ہے۔ وہ چند منٹ میں وہاں سے چلے گئے، یہ انتہائی بدقسمت واقعہ تھا۔

    واقعے کی ابتدا اس وقت ہوئی جب بس سے اترنے والے افراد کی ایک تصویر آن لائن شیئر کی گئی تصویر دیکھ کر لوگوں نے بغیر تصدیق کے یہ خیال قائم کرلیا کہ وہاں پناہ کے متلاشی افراد پہنچے ہیں،میڈگوک نے بتایاکہ کسی شخص نے سوشل میڈیا پر دیکھا کہ غیر ملکی نظر آنے والے کچھ لوگ کوچ سے اتر رہے ہیں اور ان کی تصویر آن لائن ڈال دی، جس کے بعد یہ معاملہ شروع ہوا، یہ محض قیاس آرائی تھی، اس کی حقیقت یا کسی ثبوت پر بنیاد نہیں تھی۔

    ہیمپشائر پولیس کے مطابق اہلکاروں نے مظاہرین سے بات کرکے انہیں بتایا کہ ان کا خدشہ غلط فہمی پر مبنی ہے، پولیس نے کسی جرم کی نشاندہی نہیں کی اور مظاہرین رات 9 بجے سے کچھ دیر پہلے وہاں سے چلے گئےپورٹس ماؤتھ نارتھ کی رکن پارلیمنٹ امانڈا مارٹن نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غلط معلومات کی وجہ سے نوجوان کرکٹرز کو نشانہ بنایا جانا قابل قبول نہیں۔

    پاکستان انڈر 19 ٹیم نے 2 سے 5 ستمبر تک انگلینڈ انڈر 19 کے خلاف چار روزہ میچ کھیلا جس میں اسے 10 رنز سے شکست ہوئی جبکہ 9 ستمبر کے یوتھ ون ڈے میں پاکستان نے 177 رنز سے کامیابی حاصل کی۔

  • پاکستان سمیت 8 ممالک کا اسرائیلی بستیوں کے خلاف برطانیہ کے اقدام کا خیرمقدم

    پاکستان سمیت 8 ممالک کا اسرائیلی بستیوں کے خلاف برطانیہ کے اقدام کا خیرمقدم

    پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، مقطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدا ت پر پابندی کے برطانوی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق آٹھوں ممالک نے برطانیہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی درآمد پر پابندی اور ان بستیوں سے منسلک خدمات پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

    مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کا اقدام عالمی برادری کو متحرک کرنے اور غیر قانونی اسرائیلی آبادکاری میں ملوث بستیوں، اداروں اور افراد کو جوابدہ بنانے کی کوششوں میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے آٹھ ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھی بین الاقوامی قانون کے مطابق ایسے ہی ٹھوس اقدامات کرے۔

    بیان میں کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین، سویڈن اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے کا بھی خیرمقدم کیا گیا ہے، جس میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے تجارتی اشیا کی خرید و فروخت پر قومی یا یورپی سطح پر پابندیوں کے اقدامات کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    آٹھ ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان اقدامات کو آگے بڑھاتے ہوئے ایسے تمام ٹھوس اقدامات اختیار کرے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی معاونت یا انہیں برقرار رکھنے والی سرگرمیوں کا خاتمہ یقینی بنا سکیں،اسرائیلی آبادکاری کی پالیسی اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں سے متصادم ہے۔

    بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 اور 19 جولائی 2024 کی عالمی عدالت انصاف کی مشاورتی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام ریاستوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسرائیلی قبضے سے پیدا ہونے والی غیر قانونی صورتحال کو تسلیم نہ کریں اور اس صورتحال کو برقرار رکھنے میں معاونت یا مدد فراہم نہ کریں۔

    آٹھوں ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے جغرافیائی اور آبادیاتی خدوخال تبدیل کرنے والی آبادکاری سمیت تمام اقدامات واپس لیے جائیں پاکستان سمیت آٹھ ممالک نے اسرائیل کے متنازع ’ای ون‘ (E1) آبادکاری منصوبے اور مشرقی یروشلم کے قریب اس سے متعلق سرگرمیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    مشترکہ مؤقف کے مطابق ای ون منصوبہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے درمیان جغرافیائی تسلسل کو متاثر کرسکتا ہے اور مستقبل میں ایک خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ ای ون منصوبہ فوری طور پر روکا جائے اور اس سے متعلق تمام اقدامات منسوخ کیے جائیں۔

    اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ دو ریاستی حل ہی منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے حصول کا قابل عمل راستہ ہے۔ آٹھ ممالک نے ایک آزاد، خودمختار، متصل اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جو 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ہو اور جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

    بیان میں غزہ کو بھی مقبوضہ فلسطینی علاقے کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع منصوبے پر مکمل اور فوری عملدرآمد، انسانی صورتحال سے نمٹنے، تعمیر نو اور دیرپا امن کی بنیاد رکھنے پر زور دیا گیا ہے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر بھی زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق، خصوصاً حقِ خودارادیت کے تحفظ اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

  • افغان میڈیکل طلبہ کو پاکستان چھوڑنےکی ہدایت، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار تشویش

    افغان میڈیکل طلبہ کو پاکستان چھوڑنےکی ہدایت، ایمنسٹی انٹرنیشنل کا اظہار تشویش

    پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل(پی ایم ڈی سی) نے افغان میڈیکل و ڈینٹل طلبہ سے متعلق اہم فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان میں زیرتعلیم افغان طلبہ کو افغانستان واپس جانے کی ہدایت کردی۔

    پی ایم ڈی سی کی جانب سے یکم ستمبر 2026 کو جاری مراسلے میں میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ کی واپسی کیلئے انتظامی کارروائی مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ متعلقہ ادارے افغان طلبہ کو مطلوبہ نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری کریں۔

    موجودہ تعلیمی سیشن میں افغان شہریوں کے میڈیکل، ڈینٹل داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے، افغان شہریوں کو میڈیکل و ڈینٹل اداروں میں پلیسمنٹ، ٹرانسفر اور مائیگریشن کی اجازت نہیں ہو گی فغان شہریوں کو کسی بھی قسم کی سہولت فراہم نہ کی جائے، میڈیکل و ڈینٹل ادارے سابقہ ہدایات پر سختی سے عملدرآمد کریں۔

    تعمیلی رپورٹ جمع نہ کرانے والے اداروں کو 3 روز میں مکمل تفصیلات فراہم کرنے کا کہا گیا ہے ، ہدایات پر عمل نہ کرنے، معلومات چھپانے یا غیر مجاز سہولت کاری پر کارروائی ہو گی، پی ایم ڈی سی کے مطابق خلاف ورزی پر پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 کے تحت ریگولیٹری کارروائی ہوسکتی ہے۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں افغان سفارتخانے نے پی ایم ڈی سی کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم جیسے اہم شعبے کو سیاسی اختلافات سے محفوظ رکھا جانا چاہیے، ہم سمجھتے ہیں کہ اس اقدام کا اُن افغان طلبہ کی تعلیمی پیش رفت اور مستقبل پر گہرا اثر پڑے گا، جنہوں نے قانونی اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت اپنی تعلیم کا آغاز کیا تھا اور برسوں کی لگن، وقت اور نمایاں مالی و ذاتی سرمایہ کاری کے بعد اب اپنے متعلقہ تعلیمی پروگراموں کی تکمیل کے مرحلے میں ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں افغانستان کا سفارتخانہ پاکستان کے تعلیمی حکام اور متعلقہ بین الاقوامی طبی، تعلیمی، انسانی اور پیشہ ورانہ اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ افغان طلبہ کے تعلیمی حقوق کے تحفظ پر مناسب توجہ دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ بغیر کسی رکاوٹ یا غیر ضروری مشکلا ت کے اپنی تعلیم مکمل کر سکیں۔

    انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے خاص طور پر افغان طالبات پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے،بہت سی طالبات پہلے ہی افغانستان میں طالبان کی جانب سے جاری صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک اور جبر کے باعث اعلیٰ تعلیم کے حصول سے محروم ہو چکی ہیں، اور اب انہیں تعلیم اور پیشے کو آگے بڑھانے کے چند باقی ماندہ راستوں میں سے ایک کے بھی ختم ہو جانے کے خدشے کا سامنا ہے، بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے تحت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی پس منظر کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز کے بغیر تعلیم کے لیے سہولیات فراہم کرے۔

    سابق وفاقی وزیر مشاہد حسین سید نے حکومت سے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کو چاہیے کہ وہ اپنے دور اندیشی سے عاری اور سیاسی محرکات پر مبنی فیصلے کو واپس لے، جس کے ذریعے افغان طلبہ کو تعلیم کے حصول کی ان کی جائز کوشش سے محروم کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے اپنے ماضی کے اُس انسانی ہمدردی پر مبنی کردار کے بھی منافی ہے، جب پاکستان ایک مثالی میزبان ملک کے طور پر سامنے آیا تھا۔ دروازے بند کرنا غلط پالیسی ہے!

    افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر منصوراحمد خان نے بھی ایکس پر کہا کہ میں پی ایم ڈی سی سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ افغان طلبہ کے میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں میں داخلوں سے متعلق اپنے فیصلے پر انسانی ہمدردی اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تہذیبی و تاریخی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے نظرِ ثانی کرے، ان طلبہ کو اپنی متعلقہ ڈگریاں مکمل کرنے کی اجازت دی جائے اور ان کی تعلیم مکمل ہوتے ہی انہیں افغانستان واپس بھیجنے کا انتظام کیا جائے۔

  • پاکستان کا 2 ریاستی حل کی حمایت پر برطانیہ ،فرانس سمیت 13 ممالک کے مؤقف کا خیرمقدم

    پاکستان کا 2 ریاستی حل کی حمایت پر برطانیہ ،فرانس سمیت 13 ممالک کے مؤقف کا خیرمقدم

    پاکستان نے کینیڈا، فرانس، برطانیہ سمیت 13 ممالک کی جانب سے فلسطین کے مسئلے کے 2 ریاستی حل کی حمایت کے اعادے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    پاکستان کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات 2 ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جبکہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے تشدد سے صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے،فلسطینی سرزمین کے انضمام یا قبضے کے مترادف اقدامات اور فلسطینی آباد ی کی جبری بے دخلی کی سخت مخالفت کی جائے گی، اسرائیل کو غیر قانونی بستیوں کی توسیع فوری طور پر روکنے اور آبادکاروں کے تشدد کے ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنانا چاہیے، اسرائیلی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف مبینہ سنگین جرائم کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

    پاکستان نے واضح کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق 2 ریاستی حل کا بھرپور حامی ہے، اس حل کے تحت 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام اور القدس شریف کو اس کا دارالحکومت قرار دیا جانا چاہیے،مستقل جنگ کے خاتمے اور خطے میں دیرپا امن کے لیے 2 ریاستی حل ہی قابلِ عمل راستہ ہے، جبکہ اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی آبادکاری اور اس کے ساتھ جاری تشدد کا سلسلہ ختم کرنا ہوگا۔

  • جونیئر ہاکی ایشیا کپ: پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ گیا

    جونیئر ہاکی ایشیا کپ: پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ گیا

    مینز جونیئر ایشیا کپ 2026 میں پاکستان نے ملائیشیا کو شکست دے کر سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا-

    پول بی کے ایک اہم میچ میں پاکستان جونیئر ہاکی ٹیم نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملائیشیا کو 2 کے مقابلے میں 5 گول سے شکست دے دی، میچ کا آغاز سنسنی خیز رہا جہاں 9ویں منٹ میں ملائیشیا کے محمد صالحی نے گول کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلائی،تاہم پاکستان کی قومی جونیئر ٹیم نے دوسرے ہاف میں زبردست کم بیک کیا اور کھیل کا پانسہ پلٹ دیا-

    پاکستان کی جانب سے گول کرنے کا سلسلہ 32ویں منٹ میں ندیم خان کے شاندار گول سے شروع ہوا جس نے مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا اس کے بعد 36ویں منٹ میں عبداللہ سمیع رانا نے گول کر کے پاکستان کو 1-2 کی برتری دلائی،پاکستان کے ولید رانا نے بہترین کھیل پیش کرتے ہوئے 39ویں اور 40ویں منٹ میں بیک ٹو بیک دو خوبصورت گول داغ کر میچ پر پاکستان کی گرفت مضبوط کر دی۔

  • شمالی وزیرستان میں ایرانی شہری سمیت  9 جنگجو ہلاک

    شمالی وزیرستان میں ایرانی شہری سمیت 9 جنگجو ہلاک

    شمالی وزیرستان میں گزشتہ روز پاکستانی فورسز کی کارروائی کے دوران 9 جنگجو ہلاک کیے گئے، جن میں ایک ایرانی شہری بھی شامل بتایا گیا ہے-

    تفصیلات کے مطابق ایرانی شہری نے قریباً 16 سال کی عمر میں 2014 میں شام میں مسلح سرگرمیوں کا آغاز کیا اور القاعدہ سے وابستہ گروپ جبہۃ الفتح الشام کے ساتھ رہا، بعد ازاں تحریر الشام سے بھی وابستہ رہا،مذکورہ شخص نے شام میں ایک شامی خاتون سے شادی کی، جس سے اس کی 2 بیٹیاں ہیں شام سے نکلنے کے فیصلے کے بعد اہلیہ کے ساتھ سفر پر آمادہ نہ ہونے پر اس نے اسے طلاق دے دی اور اپنے سفر کو جاری رکھا۔

    شام میں مذکورہ شخص کا نام جعفر جبکہ پاکستان میں محمد فاتح استعمال کیا جاتا تھا وہ قریباً 8 ماہ سے تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ تھا اور کچھ عرصہ بلوچستان کے علاقے مکران میں بھی موجود رہا بعد ازاں وہ شمالی وزیرستان یہ شخص شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں سفر کے دوران دیگر 8 ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا،محمد فاتح کی ماضی میں شام میں کالعدم تنظیم القاعدہ سے وابستگی اور بعد ازاں فتنہ الخوا رج میں شمولیت خطے میں شدت پسند تنظیموں کے باہمی روابط اور غیر ملکی عناصر کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے-