Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • انگلینڈ کا پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

    انگلینڈ کا پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

    آئی سی سی ورلڈ کپ: انگلینڈ نے پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے

    آئی سی سی ورلڈ کپ، آج 44 واں میچ پاکستان اور انگلینڈ کے مابین کھیلا جا رہا ہے، میچ کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں ہو رہا ہے، ٹاس ہوا تو انگلینڈ نے جیتا اور بیٹنگ کا فیصلہ کیا،انگلینڈ کی پہلی وکٹ 82 رنز پر گر گئی، افتخار احمد نے ڈیوڈ ملان کو 31 رنز پر آؤٹ کیا، پاکستان کیخلاف 108 رنز پر انگلینڈ کی دوسری وکٹ گرگئی.

    ٹاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا کہ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا ارادہ تھا، ٹیم میں ایک تبدیلی ہے، حسن علی کی جگہ شاداب خان شامل ہیں،انگلش کپتان جوز بٹلر کا کہنا تھا وکٹ بیٹنگ کےلیے اچھی ہے، زیادہ سے زیادہ اسکورکرنے کی کوشش کریں گے

    ورلڈ کپ کے پہلے مرحلے میں انگلینڈ او ر پاکستان دونوں ٹیموں کا یہ آخری میچ ہے پاکستان اور انگلینڈ دونوں نے اب تک آٹھ آٹھ میچز کھیلے ہیں، پاکستان نے اپنے 4 اور انگلینڈ نے اپنے 2 میچز جیتے ہیں

    ورلڈ کپ،پاکستانی ٹیم کی سیمی فائنل تک رسائی "خواب” بن گیا
    پاکستان اور انگلینڈ کے مابین میچ، پاکستان کے سیمی فائنل میں پہنچنےکے امکانات ختم ہو گئے ہیں، انگلینڈ بیٹنگ کر رہاہے،پاکستان اگر پہلے بیٹنگ کرتا اور زیادہ رنز بنا کر انگلینڈ‌کو جلدی آؤٹ کرتا تو کسی حد تک امکان تھا تاہم اب ناممکن نظر آ رہا ہے کہ پاکستان کی سیمی فائنل تک رسائی ہو، پاکستانی ٹیم پہلے راؤنڈ کے آٹھ میچ کھیل کر اب وطن واپسی کی راہ لے گی

    پاکستان اب سیمی فائنل میں کیسے پہنچ سکتا ہے،کرکٹ ویب سائٹ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق اگر پانچ چیزیں ہو جائیں تو پاکستان سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر سکتا ہے، ایک ، انگلینڈ 50 رنز بناکر آؤٹ ہوجائے اور پاکستان یہ 50 رنز 2 اوورز میں مکمل کرے،دو، انگلینڈ 100رنز بنائے اور پاکستان یہ ہدف 2.5 اوورز میں حاصل کرلے، تین، انگلینڈ اگر 150 رنز بناتا ہے تو پاکستان کو یہ 3.4 اوورز میں حاصل کرنا ہوگا،چار، اگر انگلش ٹیم نے 200 رنز کا ہدف دیا تو قومی ٹیم کو یہ 4.3 اوورز میں حاصل کرنا ضروری ہوگا،پانچ، 300 رنز بنانے کی صورت میں پاکستان کو یہ ہدف 6.1 اوورز میں حاصل کرنا ہوگا جو کہ تقریباً ناممکن ہے۔

    ہم نے انڈیا میں اُس طرح کی کرکٹ نہیں کھیلی جس طرح کی کھیلنی چاہئے تھی،حسن علی
    دوسری جانب فاسٹ باؤلر حسن علی کا کہنا ہے کہ انڈیا کی کنڈیشن فاسٹ باؤلر کے لئےسازگار نہیں، کچھ فاسٹ باؤلرز ہیں جنہوں نے اچھی باؤلنگ کی، میں وائٹ بال کرکٹ میں نہیں تھا، مگر نسیم کی انجری کےبعد مجھے سلیکٹ کیا گیا، 6 میچز میں میری 9 وکٹیں ہیں، جو کہ زیادہ ہونی چاہئے تھی،مگر نہیں ہے، ورلڈکپ میں میری اس طرح کی باؤلنگ نہیں ہے جس طرح کی ہونی چاہئے تھی، میں اپنی پرفارمنس سے مطمئن ہوں،میگاایونٹ میں ہر کھلاڑی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اچھا پرفارم کرے، پوری دنیا کی نظر اس ایونٹ پر ہوتی ہے، ہر وینیو کی کنڈیشن مختلف تھی، ہم یہاں کھیلے نہیں تو ہمیں اُس طرح اندازہ نہیں تھا کنڈیشن کا، ہم آئی پی ایل نہیں کھیلتے، جو انفارمیشن ملیں وہ یہی تھیں کہ زیادہ رنز بنتے ہیںیہ واحد ورلڈکپ ہو گا جس میں کئی باراننگز میں 300 سے زیادہ رنز بنے ہیں ،باقی ٹیموں کے کھلاڑی آئی پی ایل بھی کھیل چکے ہیں، وائٹ بال میں مجھے موقع نہیں مل رہا تھا کیونکہ میں نے ایک دومیچزمیں اچھا پرفارم نہیں کیا تھا، ذہنی طور پر ورلڈکپ کھیلنے کے لئےتیارنہیں تھا، اسپورٹس مین ذہنی طور پر تیارہوتاہے،مجھےذہنی طورپرتیارہونے میں زیادہ ٹائم نہیں لگا،اسپورٹس مین کی زندگی بڑی مشکل ہوتی ہے مگر خوبصورت بھی اُتنی ہے،پرفارمنس اوپر نیچےہوتی رہتی ہے،سب سے اہم یہ ہے کہ آپ انہیں بیلنس کیسے رکھتے ہیں، اگرآپ ٹیم سے باہرہوتو اُس چیز پر کام کروجس کی وجہ سے باہر ہوئے ہو، کھیل کے ہرلمحےکو انجوائے کرنا چاہئے،جب انڈیا میں آئے تو اندازہ تھا کہ ہمارے فینز کی ہم سے امیدیں زیادہ ہوں گی،آپ انڈیا میں آکرکھیل رہے ہوتو آپکےفینز بھی چاہتے ہیں کہ آپ اچھی کرکٹ کھیلیں ،ہماری ٹیم اچھا کھیلتی آرہی تھی،ہم نے انڈیا میں اُس طرح کی کرکٹ نہیں کھیلی جس طرح کی کھیلنی چاہئے تھی،انڈیا کی مہمان نوازی بڑی اچھی لگی ہے، بھارت کے لوگ کرکٹ دیکھنا چاہتے ہیں،ہمیں یہاں کے فینز نے سپورٹ کیا، دومیچ کےعلاوہ ہمیں ہر میچ میں سپورٹ ملی، ورلڈکپ میں بہت ساری چیزیں سیکھنے کوملیں،

  • اسرائیل مغرب کی غیر مشروط حمایت سے فلسطین پر ظلم وبربریت کر رہا ،احسن اقبال

    اسرائیل مغرب کی غیر مشروط حمایت سے فلسطین پر ظلم وبربریت کر رہا ،احسن اقبال

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل اور سابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے’بی آر آئی’ کے ثمرات کے موضوع پر چین میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ منصوبہ پاکستان کے لئے لائف لائن بن چکا ہے،

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ صدر شی جن پنگ کا تصور دنیا کی بین الاقوامی تعلقات میں بڑی تبدیلی لایا ہے، سرحدوں کی قید سے ماورا وژن لوگوں کو انفراسٹرکچر کے جال کے ذریعے جوڑ رہا ہے، یوکرین کی جنگ ختم نہیں ہوئی اور فلسطین میں جنگ بھڑک اٹھی ہے، اسرائیل مغرب کی غیر مشروط حمایت سے فلسطین پر ظلم وبربریت کر رہا ہے، غزہ بچوں کا قبرستان بن گیا ہے، نسل کشی کا نشانہ بننے والوں کے حق میں آواز اٹھانے پر چین کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ عالمی تعاون اور اشتراک عمل کی حیران کن مثال بن چکا ہے،بی آر آئی میں دنیا کے مشکل مسائل حل کرنے کی صلاحیت موجود ہے، سی پیک پاکستان اور چین کی ترقی کی صلاحیت رکھنے والا منفرد منصوبہ ہے، سی پیک سے پاکستان معاشی سرگرمیوں کا علاقائی مرکز بن گیا ہے، بی آر آئی کے نشان ساؤتھ ایسٹ ایشیا، ساؤتھ ایشیا اور سینٹرل ایشیا تک پھیل چکے ہیں، یہ ساؤتھ ساؤتھ تعاون کی عمدہ مثال ہے،بندرگاہوں، سڑکوں اور ریل کے ذریعے ایشیا، یورپ اور افریقہ کو جوڑنے کا ذریعہ یہ منصوبہ عالمی معیشت کے لئے نہایت اہم ہے، سیاسی جماعتیں عوام کےلئے فیصلہ سازی کرتی ہیں، سیاسی جماعتوں میں تعاون مستقبل کی صورت گری میں نہایت اہم ہے،دنیا کو آج سب سے بڑھ کر تعاون کی راہ اپنانے کی ضرورت ہے،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • فرح‌گوگی کی کرپشن کی داستان سن کر طاہر اشرفی بھی خاموش نہ رہ سکے

    فرح‌گوگی کی کرپشن کی داستان سن کر طاہر اشرفی بھی خاموش نہ رہ سکے

    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین، وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی بین المذاہب ہم آہنگی حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ فرح گوگی کی کرپشن کا معاملہ عمران خان کے سامنے آیا تھا ان کو کرپشن کا بتایا گیا مگرعمران خان نے مٹی ڈال دی

    حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی دوست فرح گوگی کے خلاف پی ٹی آئی کی حکومت کے دوران ہی کرپشن کے شواہد سامنے آ گئے تھے،سوال یہ ہے کہ کرپشن پر ایکشن کیوں نہیں ہوت مقدمات کے فیصلے کیوں نہیں ہوئے انہیں باہر سے پکڑ کر لایا کیوں نہیں گیا،طاہر اشرفی نے فرح گوگی کا نام لئے بغیر سوال اٹھایا کہ یہ محترمہ کیا پرائم منسٹر اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب تھیں کیوں ان کے کہنے پر تبادلے ہوئے؟

    علامہ طاہر اشرفی جو سابق وزیراعظم عمران خان کے بھی معاون خصوصی رہ چکے ہیں کا کہنا تھا کہ عام آدمی اتنی بڑی کرپشن اکیلے نہیں کر سکتا، لازمی اس کے پیچھے نیٹ ورک ہو گا،پاکستان جب ترقی کرے گا جب کرپشن کے خلاف ایکشن نظر آئے گا، احتساب کا معاملہ غیر سیاسی اور مصلحتوں سے بالا ہونا چاہیے

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    طیبہ گل ویڈیو اسکینڈل،میں خاتون سے نہیں ملا، اعظم خان مکر گئے

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح گوگی کےاکاؤنٹس میں ایک سال کے دوران کتنی رقم جمع کرائی گئی،رپورٹ منظرعام پر

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی دوست فرح گوگی ، کرپشن کی ماسٹر مائنڈ، تحریک انصاف دور حکومت میں کرپشن کے کیا کیا ریکارڈ بنائے؟ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہر آنے والے دن نئی کہانی سامنے آ رہی ہے، فرح گوگی کے خلاف پاکستان میں مقدمات چل رہے، لیکن وہ پیش نہیں ہو رہیں، فرح گوگی کے بچوں کے نام پی سی ایل میں ہیں جن کو نکالنے کے لئے عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے.

  • تکلیف کسی اور جگہ،شکایت کسی اور جگہ،سزا کسی اور کو دی جاتی ہے،مولانا فضل الرحمان

    تکلیف کسی اور جگہ،شکایت کسی اور جگہ،سزا کسی اور کو دی جاتی ہے،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ افغانستان پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی ہوتو پھر یہ بین الاقوامی ایجنڈا ہے جس کی تکمیل ہوگی،
    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ فیصلہ سازوں کے سامنے تجویز رکھی ہے کہ کمیشن بنا کر دوطرفہ مسئلہ حل کیا جائے یکطرفہ فیصلوں سے تعلقات خراب ہونگے ،افغانستان نے اپنے علماء سے فتوی لیا ہے کہ پاکستان میں مسلح کاروائی کو جہاد قرار نہیں دیا جا سکتاہے،افغانوں کو غیر قانونی کہہ کر نکالا جا رہا ہے کیا وہ 42,43 سے غیر قانونی نہیں تھے ؟ تکلیف کسی اور جگہ ہوتی ہے ،شکایت کسی اور جگہ سے ہوتی ہے ،سزا کسی اور کو دی جاتی ہے،ریاست کے فیصلے ہم کیا کرسکتے ہیں ، مشرف نے بھی فیصلہ کیا تھا ہم نے مخالفت کی ،پھر فیصلہ نافذ ہوا لیکن کیا فائدہ ہوا ؟ امریکہ کو افغانستان پر حملے سے کیا فائدہ ہوا ؟ بالآخر رسوا ہوکر چلا گیا ۔عراق پر حملہ کیا پھر کہا کہ اطلاعات غلط تھیں اور پورے عراق کو تباہ وبرباد کردیا ۔کیا امریکہ کو حق ہے کہ وہ انسانی حقوق کے نام پر جہاں چاہے انسان کا خون بہائے ۔امن ہمیشہ انصاف کے ساتھ آتا ہے ،

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کا مسئلہ دو طرفہ ہے ۔اگر شکایتیں ہیں تو پوری کمیونیٹی کو اچھے الفاظ کے ساتھ اور اچھی یادوں کے ساتھ رخصت کیا جاسکتا تھا ۔اگر چالیس سال مہمان نوازی کے بعد لات مار کر رخصت کیا جائے تو مہمان نوازی تو ختم ہوگئی پھر ،یہ معاملہ دوطرفہ مذاکرات کے ساتھ سنجیدہ انداز میں حل کرنا چاہیے تھا،افغانستان افغانوں کا ہے بالآخر انہوں نے جانا تھا ،انہوں نے ایسی ہجرت نہیں کی کہ افغانستان میں اپنے حقوق سے دستبردار ہوگئے ہو ،

    غیر قانونی طور پر رہائش پزیر افغان مہاجرین کو ہر صورت واپس اپنے وطن جانا ہوگا، نگراں وزیر اطلاعات

    پاکستان میں غیر قانونی مقیم تمام غیر ملکی شہریوں کو 31 اکتوبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا حکم

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    حکومت کا پیغام پاکستان میں مقیم تمام غیرقانونی مقیم افراد کے لیے ہے 

    افغان باشندوں کا انخلا،ڈیڈ لائن تک پاکستان چھوڑنا ہی ہو گا

  • علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    پاکستان میں آج کل سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ مختلف سیاسی نظریات اور مفادات کے درمیان ایک کشمکش کا ماحول ہے۔ الزامات لگتے ہیں، جوابی الزامات لگتے ہیں، کردارکشی ہوتی ہے اور اب تو کردارکشی کے الزامات کو ثابت کرنے کے لئے آڈیو اور وڈیو بھی تیار کرکے بلیک میلنگ کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔ اس ساری کشمکش میں اتنی گرد اڑائی جاتی ہے کہ لوگوں کے ذہن سے یہ بات یکسر محو ہو جاتی ہے کہ اس ملک خداداد کو قائم کرنے کا مقصد کیا تھا۔

    برصغیر میں مسلمانوں کی علیحدہ ریاست کے قیام کا تصور شاعر، فلاسفر اور وکیل علامہ اقبال نے پیش کیا تھا۔ برصغیر سے مغل حکومت کے خاتمے کے بعد اس بات کے واضح اشارے ملنے لگے تھے کہ اگر انگریز ہندوستان سے نکل گئے تو ہندو اپنی اکثریت کے بل پر مسلمانوں کا استحصال کریں گے۔ انیسویں صدی کے لسانی فسادات کے بعد سرسید احمد خان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے تھے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ثقافتی تضادات کی وجہ سے دونوں کا اکٹھا رہنا مشکل ہے۔ بعد کے واقعات نے ان خدشات کی تصدیق کر دی۔

    ہندوؤں نے آل انڈیا کانگریس قائم کی اور اس کا پہلا سربراہ ایک انگریز کو بنایا گیا۔ بظاہر ایسا لگتا تھا کہ کانگریس تمام ہندوستانیوں کی نمائندہ جماعت ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ 1905 کے تقسیم بنگال کے فیصلے کے بعد کانگریس اور قوم پرست ہندوؤں کا ردِعمل واضح طور پر مسلم دشمنی کا مظہر تھا۔ جب مسلمان لیڈروں کو احساس ہوا کہ آل انڈیا کانگریس اصل میں آل ہندو کانگریس ہے تو اس کے جواب میں 1906ء میں ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ تقسیم بنگال، جو تمدنی اور معاشی طور پر بنگالی مسلمانوں کے لئے فائدہ مند تھی، ہندوؤں کو منظور نہ تھی۔ ان کے شدید ایجی ٹیشن نے انگریزوں کو صرف چھ سال بعد ہی تقسیم بنگال کی تنسیخ پر مجبور کر دیا۔ یہی بات مسلم زعما کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھی۔ انہیں اندازہ ہو گیا کہ اپنے حقوق کے لئے انہیں اپنے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح، جو کانگریس کے بنیادی رکن اور ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کہلاتے تھے، ہندوؤں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس اتحاد سے مایوس ہو کر برطانیہ چلے گئے تھے۔

    اس پس منظر میں علامہ اقبال نے اپنے مشہور خطبۂ آلہ آباد میں ہندوستان کی تقسیم کا تصور پیش کیا۔ اس خطبے کا مرکزی نکتہ ہی مسلمانوں کی جداگانہ قومیت اور ان کے لئے متحدہ ہندوستان کے اندر ایک علیحدہ ریاست کا حصول تھا۔ یہ خیال رہے کہ اقبال نے جداگانہ مسلم قومیت کا تصور اس وقت پیش کیا جب پہلی جنگ عظیم کے بعد دنیا نیشن سٹیٹ کے جدید تصور کو اپنا چکی تھی اور ترکی کی عثمانی سلطنت کے حصے بخرے کئے جا چکے تھے۔ کیونکہ اقبال اتحاد بین المسلمین کے داعی تھے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک ملت سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے نیشن سٹیٹ کو مسترد کرتے ہوئے لکھا تھا:

    ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
    جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

    1930ء کا خطبۂ الہ آباد انگریزی زبان میں ہے اور قدرے طویل ہے کیونکہ اس میں علمی اور نظریاتی مسائل کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ اس خطبے میں اقبال نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ پنجاب ،شمال مغربی صوبہ سرحد ، سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ایک ہی ریاست میں مدغم کر دیا جائے۔ ان کا ابتدائی تصور "ہندوستان کے اندر مسلم ہندوستان” تھا۔ ان کا خواب یہ تھا کہ کم از کم ہندوستان کے شمال مغرب میں سلطنت برطانیہ کے اندر یا اس کے باہر ایک خود مختار حکومت اور شمالی مغربی متحدہ مسلم ریاست آخر کار مسلمانوں کا مقدر ہے۔ آلہ آباد سے پہلے یہ تجویز نہرو کمیٹی کے سامنے بھی پیش کی گئی تھی مگر کمیٹی نے اس بنا پر مسترد کر دی کہ اگر اس پر عمل درآمد کیا گیا تو اتنی وسیع ریاست وجود میں آجائے گی کہ جس کا انتظام مشکل ہوگا۔

    اقبال نے یہ بھی تجویز پیش کی: "جہاں تک رقبہ کا تعلق ہے یہ بات درست ہے لیکن آبادی کے لحاظ سےمجوزہ ریاست بعض موجودہ ہندوستانی صوبوں سے چھوٹی ہو گی۔ انبالہ ڈویژن اور ممکن ہے ایسے اضلاع کو الگ کر دینے سے جہاں غیرمسلموں کی اکثریت ہے اس کی وسعت اور بھی کم ہو جائے گی۔ مسلمانوں کی تعداد میں غلبہ ہو گا اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اپنی حدود کے اندر یہ متحدہ ریاست غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت پوری قوت سے کر سکے گی-”

    اقبال نے قائد اعظم کو ایک علیحدہ وطن کے قیام کے لئے مسلمانوں کی قیادت کے لئے قائل کیا جس کے نتیجے میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔ بدقسمتی سے اقبال اور قائد کی وفات کے بعد پاکستان ان لوگوں کے ہاتھ میں آ گیا جن کا پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں کوئی کردار نہیں تھا۔ انہوں نے قائد کی وفات کے بعد ان کی گیارہ اگست والی تقریر میں دئے گئے وژن کو مسترد کرنے کے لئے "قرارداد مقاصد” منظور کرائی۔ اقبال اور قائد مسلمانوں کے لئے ایک جمہوری ملک کا تصور رکھتے تھے جس کو مسخ کر کے کبھی سوشلزم کے تجربے کئے گئے کبھی قرون اولیٰ کی ریاست بنانے کی کوشش کی گئی۔

    اقبال اور قائد اعظم کے وژن کے مطابق پاکستان مسلمانوں کی جمہوری ریاست ہے جس میں دوسری قومیتوں کو نہ صرف برابر کے حقوق حاصل ہوں گے بلکہ مجوزہ مسلم ریاست ہندوستان کے غیرمسلموں کے حقوق کا بھی تحفظ کرے گی۔ گیارہ اگست کی تقریر بھی خطبۂ الہ آباد کی روح کے عین مطابق ہے انہوں نے کسی مرحلے پر بھی اسے بادشاہت کے تحت مذہبی ریاست بنانے کی کوشش نہیں کی۔ شاید اسی لئے مولویوں نے اس کے قیام کی ڈٹ کر مخالفت کی تھی۔

    پاکستان کو خطبۂ الہ آباد اور گیارہ اگست کی روح کے مطابق ڈھالنے کے لئے ضروری ہے کہ رواداری کو فروغ دیا جائے، مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ملک کی تاریخ کو مسخ کرنے سے گریز جائے۔ پاکستان ہندوستان کی ہندو اکثریت کے ہاتھوں مسلم اقلیت کے استحصال کو روکنے کے لئے ایک جمہوری ریاست کے طور پر معرض وجود میں آیا تھا۔ اس کے مقصد قیام کو بار بار مسخ کیا گیا تاکہ ان طبقات کو پاکستان پر کنٹرول کرنے کا جواز دیا جا سکے جنہوں نے اس کی ڈٹ کر مخالفت کی تھی۔

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

  • نگران وزیر خارجہ کی فلسطینی ہم منصب سے  ٹیلیفونک رابطہ

    نگران وزیر خارجہ کی فلسطینی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

    اسلام آباد: نگران وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی نے فلسطینی ہم منصب ریاض المالکی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا –

    باغی ٹی وی : دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا، کہا کہ اسرائیل کی وحشیانہ بربریت میں فلسطینی تنہا نہیں ہیں، پاکستان فلسطینیوں سے مکمل اظہار یکجہتی کرتا ہے۔

    نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے فلسطینی ہم منصب سے پاکستانی عوام اور حکومت کی جانب سے اظہار تعزیت کیا،اس موقع پر فلسطینی وزیرخارجہ نے حمایت اور امداد بھجوانے پر پاکستان سے اظہار تشکر کیا۔

    فلسطینیوں کیلئے پاکستانی امداد کی دوسری کھیپ مصر پہنچ گئی

    واضح رہے کہ پاک فوج اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سےمظلوم فلسطینی عوام کے لیے امداد کی دوسری کھیپ مصر پہنچ گئی ہے دوسری کھیپ 89.6 ٹن پر مشتمل ہے جس میں حکومت پاکستان کی جانب سے 40 ٹن فوڈ پیک جبکہ 3 ٹن فوڈ بیگز، 10.8 ٹن ادویات، 26 ٹن حفظان صحت اور پاکستان میں این جی اوز کے تعاون سے بچوں کی کٹس شامل ہیں۔

    پاکستان کی جانب سے بھیجا گیا امدادی سامان چارٹرڈ طیارے کے ذریعے مصر کے دارالحکومت میں قائم العریشن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچا، جہاں سینیٹر مشتاق احمد نے امداد غزہ میں فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی کے لیے امداد مصری ہلال احمر سوسائٹی کے حوالے کی،سینیٹر مشتاق احمد ذاتی حیثیت میں غزہ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مصر گئے ہیں۔

    حماس اور اسرائیل جنگ:یورپ میں اسلامو فوبیا کے واقعات میں اضافہ

    قبل ازیں پاکستان مظلوم فلسطینی بہن بھائیوں کی امداد کی غرض سے موسم سرما کے لیے ایک ہزار خیمے، چار ہزار کمبل اور تین ٹن ادویات بھیج چکا ہے،پاکستان کی جانب سے روانہ کی گئی دوسری کھیپ کا مقصد متاثرین غزہ کو مزید ریلیف فراہم کرنا ہے، پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی حمایت جاری رکھے گا۔

    آٹے،چاول ،چینی اور گھی کی قیمت میں اضافہ

  • پاکستان سے ایکسچینج کمپنیز  کیخلاف سکیورٹی اداروں کی کارروائی کی تفصیلات طلب

    پاکستان سے ایکسچینج کمپنیز کیخلاف سکیورٹی اداروں کی کارروائی کی تفصیلات طلب

    اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بڑھنے اور ایکسچینج کمپنیز کے خلاف سکیورٹی اداروں کی کارروائی کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں-

    باغی ٹی وی: وزارت خزانہ نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ پر مکمل عمل درآمد کیا ہےاسمگلنگ اور غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف کارروائی سے ڈالر کے مقابلے میں روپیہ بہتر ہوا، تین ماہ میں ڈالر کا ان فلو بڑھا، جس سے ڈالر کا ریٹ گرا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی سے روپےکی قدر میں مصنوعی اضافہ نہیں ہوا، اسمگلنگ اور غیرقانونی مقیم افراد کے خلاف کارروائی سے ڈالر ریٹ گرا۔

    باخبر ذرائع کے مطابق تکنیکی مذاکرات میں اسٹیٹ بینک حکام آئی ایم ایف کو مزید تفصیلات بھی فراہم کریں گے۔

    الیکٹرک سکوٹرز کیلئے مینوفیکچرنگ اور بیٹری سوئیپنگ نیٹ ورک کا قیام

    دوسری جانب آئی ایم ایف نے ٹیوب ویل صارفین کیلئے بجٹ سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، آئی ایم ایف مشن سے تکنیکی سطح کے مذاکرات میں وزارت توانائی اور وزارت خزانہ کے حکام کی میٹنگ ہوئی جس دوران ٹیوب ویل سولرائزیشن سکیم کو رواں مالی سال شروع کرنے پر بات چیت کی گئی۔

    سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ

    آئی ایم ایف نے پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے سولرائزیشن کا نظام متعارف کروانے کا کہا ہے اور ٹیوب ویل صارفین کیلئے بجٹ سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 90 ارب روپے میں 30 ارب وفاق، 30 ارب صوبے اور 30 ارب ٹیوب ویل صارفین دیں گےسکیم پر عملدرآمد سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیوب ویلز صارفین کو بجلی کے استعمال کی مد میں سبسڈی نہ دینے کا بھی کہا گیا ہے، کاسٹ ریکورننگ ٹیرف بہتری کیلئے نیپرا سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹس بروقت نوٹیفکیشن کررہا ہے،آئی ایم ایف کی جانب سے ڈسکوز، وزارت توانائی اور نیپرا کے درمیان تعاون اور فیصلوں پر جلد عملدرآمد کی ہدایت بھی کی گئی ہیں۔

    منشیات اسمگلنگ معاملہ،گاڑیوں پر محکموں اور پروفیشنلز کی نمبر پلیٹ لگانے پر پابندی عائد

  • آٹے،چاول ،چینی  اور گھی کی قیمت میں اضافہ

    آٹے،چاول ،چینی اور گھی کی قیمت میں اضافہ

    لاہور: اوپن مارکیٹ اورہول سیل میں چاول ،چینی،درجہ سوم کےگھی کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : مارکیٹ میں ایکس مل 50 کلو چینی کا تھیلا 200 روپے بڑھ کر 6950 روپے کا ہوگیا،ہول سیل میں چینی 139 اور پرچون میں 150 روپے فی کلو تک پہنچ گئی،درجہ سوم گھی 16 کلوگرام پیک 500 روپے مہنگا ہوگیا، اس کے علاوہ درجہ سوم فی کلوگرام گھی آئل 340 سے 370 روپے کا ہوگیا، جبکہ پرانا چاول 30 روپے بڑھ کر 380 روپے فی کلوگرام ہوگیا۔

    آٹے کی قیمتوں میں بھی ایک بار پھر اضافہ کردیا گیا ہے، ملک بھر میں آٹے کی قیمت میں 100 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے فلور ملز مالکان کے مطابق سرکاری گندم کی فراہمی میں تاخیر کے باعث آٹے کے دام میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے،اوپن مارکیٹ میں فی من گندم کی قیمت 2 سوروپے کےاضافے سے 4 ہزار 8 سو ہو گئی ہے جبکہ 20 کلو آٹے کی قیمت میں 100 روپے کا اضافہ ہونے سے نئی قیمت 2 ہزار 8 سو روپے تک پہنچ چکی ہے۔

    روس کا غزہ پر ایٹمی حملے سےمتعلق اسرائیلی وزیر کے بیان پرتحقیقات کا مطالبہ

    افغانستان کا ایران اور چین کے ساتھ تجارتی راہداریاں بنانے کا اعلان

    پاکستان آرمی نے فلسطینیوں کیلئے امداد کی دوسری کھیپ روانہ کردی

    اس حوالے سے ڈیلرز نے کہا ہے کہ اس اضافے کے بعد پرچون سطح پر 20 کلو آٹے کا تھیلا 2 ہزار 9 سو روپے میں فروخت کیا جارہا ہے۔

  • ریاض کی یونیورسٹی کی 700  پاکستانی طلبا کو وظائف کی پیشکش

    ریاض کی یونیورسٹی کی 700 پاکستانی طلبا کو وظائف کی پیشکش

    سعودی عرب کی امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد بن سالم العامری نے وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت مدد علی سندھی سے ملاقات کی۔

    مدد علی سندھی نے امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی اور پر وقار ادارہ ہے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ انہوں نے وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے تعلیم کے معیار، اسکول سے باہر بچوں کی تعداد میں کمی اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تحقیق کو ترجیح دی ہے۔ وزیر تعلیم نے سعودی عرب کو QAU میں 15 ریسرچ فیلوشپس کی پیشکش بھی کی۔

    مدد علی سندھی نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ہتھل حمود علطیبی کا کام اور کوششیں مثالی ہیں۔ وزیر نے IIUI میں سسٹمز کی اپ گریڈیشن کی تعریف کی۔ مدد علی سندھی نے کہا کہ IIUI میں تعلیم کا معیار ڈاکٹر ہتھل حمود علطیبی کی قیادت میں مسلسل بلند ہو رہا ہے۔

    مدد علی سندھی نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تحقیق کا دائرہ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کی یونیورسٹیوں کے درمیان شریعت، عدلیہ کے کردار، اسلامی قانون اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی تعلیمات کے حوالے سے تحقیق کے دائرہ کار کو بڑھانے اور وسیع کرنے کے لیے فوری کام ہونا چاہیے۔ مدد نے کہا کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سیاسی پہلو کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی جو کہ اب دی جاۓ گی۔

    مدد اور ریاض کی امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد بن سالم العامری نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تحقیق کرنے کے لیے یونیورسٹی کی سطح پر اساتذہ کے تبادلے شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ ریاض کی امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے صدر ایچ ای ڈاکٹر احمد بن سالم العامری نے کہا کہ ہم نے پاکستانی طلباء کو 700 وظائف کی پیشکش کی ہے اور ہم اس تعداد کو پاکستان کی وزارت تعلیم کی خواہش کے مطابق بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    وزیر تعلیم نے مدارس کے مذہبی رہنماؤں کو تربیت دینے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مذہبی رہنماؤں کو روشناس کرانے کی ضرورت ہے اور مملکت سعودی عرب پاکستان میں مدارس کے علماء کو تربیت دے کر مدد کر سکتی ہے۔ مد د نے پاکستانی عوام کے لیے عربی زبان کے کورسز بنانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ ریاض کی امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے صدر ایچ ای ڈاکٹر احمد بن سالم العامری نے کہا کہ سعودی عرب میں عربی زبان کے بہترین ادارے ہیں جو فاصلاتی تعلیم یا اساتذہ کے تبادلے کے ذریعے اپنے پروگراموں کو پاکستان کی یونیورسٹیوں تک بڑھا سکتے ہیں۔

    رپورٹ، محمد اویس اسلام آباد

  • ورلڈ کپ: سلو اوور ریٹ پر آئی سی سی کا پاکستان ٹیم پر جرمانہ

    ورلڈ کپ: سلو اوور ریٹ پر آئی سی سی کا پاکستان ٹیم پر جرمانہ

    دبئی: نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں سلو اوور ریٹ پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے پاکستان ٹیم پر جرمانہ عائد کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی: بھارت میں جاری آئی سی سی ون ڈے ورلڈکپ کے 13 ویں ایڈیشن میں گزشتہ روز پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں مدمقابل آئیں پاکستان نے ڈی ایل ایس میتھڈ کے تحت 21 رنز سے فتح اپنے نام کی،آئی سی سی کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم نے نیوزی لینڈ کے خلاف مقررہ وقت تک 2 اوورز کم کرائے تھے پاکستان ٹیم کے کھلاڑیوں پر 10، 10 فیصد میچ فیس کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے پاکستان ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے غلطی کو تسلیم اور جرمانے کی سزا کو قبول کیا ہے۔

    اسموگ کی روک تھام کیلئے پنجاب حکومت کا بھارت کو خط لکھنے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ اس سے قبل ورلڈکپ میں جنوبی افریقا کیخلاف میچ میں بھی پاکستان ٹیم پر سلو اوور ریٹ کی وجہ سے جرمانہ عائد ہوا تھاجنوبی افریقا کے میچ میں قومی کھلاڑیوں پر میچ فیس کا 20 فیصد جرمانہ لگایا گیا تھا جسے پاکستانی کپتان بابراعظم نے قبول کیا تھا۔

    نواز شریف کا سیاسی قیادت سے مشاورت کا فیصلہ،رہنماؤں کی پی ٹی آئی وفد کو …