Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • گرفتار سابق انسپکٹر عابد باکسر   فرار

    گرفتار سابق انسپکٹر عابد باکسر فرار

    لاہور پولیس مقابلوں سے شہرت حاصل کرنے والے سابق انسپکٹر عابد باکسر کو پولیس نے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کرلیا تھا لیکن اب وہ فرار ہوگیا ہے اور فرار کی اطلاع آنے سے قبل عابد باکسر کا بتانا تھاکہ مجھےغیرقانونی پولیس مقابلے میں ماردیا جائے گا جبکہ لاہور پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ عابد باکسرسرکاری رائفلیں چھین کر 3 ساتھیوں سمیت فرار ہوا ہے اور پولیس ذرائع کے مطابق کہا جارہا ہے کہ عابد باکسر کو محافظوں سمیت گرفتار کیا گیا تھا جبکہ عابد باکسراشتہاری ملزمان کےساتھ فرارہوا، ملزم گرفتاری کے بعد پولیس کو للکار رہا تھا۔

    تاہم اس سے قبل پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ عابد باکسر کو پولیس افسران کو دھمکیاں دینے کے الزام میں سی آئی اے نے گرفتار کیا تھا جس کے بعد انہیں سی ٹی اے ماڈل ٹاؤن تھانے منتقل کیا گیا تھا علاوہ ازیں پولیس کے مطابق عابد باکسر کو ماڈل ٹاؤن میں اُن کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد عابد باکسر کے اہلخانہ نے الزام عائد کیا تھا کہ پولیس نے چھاپے کے دوران عابد باکسر کے پندرہ ملازمین کو بھی حراست میں لیا تھا، کارروائی کے دوران پولیس نے گھر کا سامان اور کیمرے بھی توڑ دئیے تھے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بھارت جانے سے قبل ہی میں‌بہت بولڈ اداکارہ تھی حمائمہ ملک
    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد
    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
    شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے
    جبکہ دوسری طرف عابد باکسر نے واقعہ کے بعد ٹوئٹ میں کہا کہ میرے گھر پرغیرقانونی طور پر چھاپہ مارا گیا، ڈی ایس پی سی آئی اے محمدعلی بٹ کی قیادت میں ٹیم نے میرے گھر پرچھاپہ مارا تھا۔ انسپکٹر راشد امین بٹ، ماجد بشیر بھی ٹیم میں شامل تھے۔ عابد باکسر کا مزید کہنا تھا کہ راشد امین بٹ میرے گھر پر فائرنگ کرانے والوں میں شامل تھا، میں غیرمسلح ہوں، مجھےغیرقانونی پولیس مقابلے میں مارا جائے گا، میرے گھر پر چھاپے کا نوٹس لیا جائے۔

  • ورلڈکپ؛  اب تک کئی حیرت انگیز اور دلچسپ ریکارڈ بن چکے ہیں؟

    ورلڈکپ؛ اب تک کئی حیرت انگیز اور دلچسپ ریکارڈ بن چکے ہیں؟

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ورلڈ کپ 2023 صرف شائقین کرکٹ کے لیے ہی نہیں بلکہ کھلاڑیوں کے لیے بھی زبردست ثابت ہورہا ہے اور اس ایونٹ کے ابتدائی 10 میچز میں ہی کئی ریکارڈ بن گئے اور اس گزشتہ روز جنوبی افریقا اور آسٹریلیا کے درمیان 10واں میچ لکھنو میں کھیلا گیا، اس ورلڈ کپ میں کئی حیرت انگیز اور دلچسپ ریکارڈ بن چکے ہیں جبکہ ورلڈ کپ 2023 میں پاکستان نے شائقین کے ساتھ ماہرین کرکٹ کو بھی حیرت زدہ کردیا ہے، جس نے میگا ایونٹ کی تاریخ کے بڑے ہدف کو کامیابی سے عبور کرنے کا ریکارڈ اپنے نام کرلیاہے۔

    واضح رہے کہ سری لنکا نے پاکستان کو 345 رنز کا ہدف دیا تھا، جو اس نے 10 گیندوں قبل عبور کرلیا، میچ کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ دونوں ٹیموں کے 2، 2 کھلاڑیوں نے سنچریاں اسکور کیں، یوں ایک میچ میں 4 سنچریاں بنیں، یہ بھی ورلڈ کپ میں ایک ریکارڈ ہے جبکہ جنوبی افریقا ٹیم جس نے آسٹریلیا کو 10ویں میچ میں شکست سے دوچار کیا ہے، اس نے سری لنکا کے خلاف ایونٹ کے چوتھے میچ میں 428 رنز کا بڑا ہدف سیٹ کیا اور ریکارڈ بنادیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اداکارہ و گلوکارہ مسرت نذیر کا یوم پیدائش
    ہم نے ریاست کو بچانے کے لیے اپنی سیاست کا نقصان کیا. شہباز شریف
    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد
    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
    شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے
    تاہم ورلڈ کپ کے اسی مقابلے میں جنوبی افریقا کے ایڈن مارکرم نے صرف 49 گیندوں پر سنچری اسکور کی تھی اور میگا ایونٹ کی تاریخ میں تیز ترین سنچری کا اعزاز اپنے نام کرلیا تھا جبکہ اس سے قبل یہ اعزاز آئرلینڈ کے کیون اوبرائن کے پاس تھا، جنہوں نے انگلینڈ کے خلاف 2011 میں بنگلورو میں 50 گیندوں پر سنچری اسکور کی تھی اور بھارتی کپتان اور اوپنر روہت شرما جو آسٹریلیا کے خلاف میچ میں صفر پر پویلین لوٹ گئے تھے، انہوں نے افغانستان کے خلاف سنچری اسکور کی، جو ورلڈ کپ میں اُن کی ساتویں سنچری تھی، اس سے قبل ورلڈ کپ میں 6 سنچریوں کا ریکارڈ سچن ٹنڈولکر کے پاس تھا جبکہ روہت شرما نے افغانستان کے خلاف میچ میں شاندار پرفارمنس دی اور 5 چھکے لگائے، اس طرح وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ (556) چھکے لگانے والے کھلاڑی بن گئے۔

  • اداکارہ و گلوکارہ  مسرت نذیر کا یوم پیدائش

    اداکارہ و گلوکارہ مسرت نذیر کا یوم پیدائش

    چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ

    مسرت نذیر کا پورا نام مسرت نذیر خواجہ 13 اکتوبر 1940 کو لاہور میں پیدا ہوئی آجکل کینیڈا میں مقیم پاکستانی گلوکارہ اور فلمی اداکارہ ہیں، جنہوں نے بہت ساری اردو اور پنجابی فلموں میں اداکاری کی۔ مسرت نذیر کے شادی بیاہ کے پنجابی نغمات لوک گیت زبان زدعام ہیں۔ مسرت نذیر کے والدین کشمیری نژاد پنجابی تھے۔ ان کے والد خواجہ نذیر احمد، لاہور میونسپل کارپوریشن میں رجسٹرڈ ٹھیکیدار کے طور پر کام کرتے تھے۔
    مسرت نذیر کی زندگی کے اوائل میں، ان کے والدین چاہتے تھے کہ وہ ڈاکٹر بنیں، اور انھیں بہترین تعلیم فراہم کی جس کی ۔ مسرت نے میٹرک کا امتحان (دسویں جماعت) امتیازی کے نمبروں ساتھ پاس کیا اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان (بارہویں جماعت) لاہور کے کنیئرڈ کالج سے پاس کیا۔

    ان کی شادی ڈاکٹرارشد مجید سے ہوئی ہے اور وہ 1965 ء سے کینیڈا میں مقیم ہے مسرت نذیر کے تین بچے ہیں۔ مسرت نذیر نے اپنا فلمی کیریئر کو اپنے شوہر کے لئے ترک کردیا جو اس وقت ان کا کیریئر عروج پر تھا اور اس کے ساتھ کینیڈا جانے پر راضی ہوگئیں ۔
    مسرت نذیر اور ارشد مجید 1970 ءکی دہائی کے آخر میں پاکستان واپس آکر لاہور میں آباد ہونا چاہتے تھے۔ بمطابق 2005ء، ارشد مجید لاہور میں ایک اسپتال قائم کرنا چاہتے تھے اور وہ اس مقصد کے لئے وہاں ایک مکان خرید چکے تھے جو ان کے پاس ہے اور وہ ابھی تک برقرار رکھا ہے۔ بہت پیسہ خرچ کرنے، مہینوں کی جدوجہد کے بعد، ارشد مجید نے ہار مانی۔

    ایک مختصر عرصہ میں سپرسٹار ہیروئن کا درجہ پانے اور اپنے عین عروج کے دور میں فلمی دنیا کی چکا چوند روشنیوں کو خیرآباد کہہ دینے والی مسرت نذیر ، ایک ناقابل فراموش اداکارہ تھی۔۔!
    مسرت نذیر کو گائیکی کا شوق تھا لیکن فلمساز اور ہدایتکار انورکمال پاشا نے اسے فلم قاتل (1955) میں وقت کی مقبول ترین اداکارہ صبیحہ خانم کے مقابل سائیڈ ہیروئن کے طور پر متعارف کروایا تھا۔ نیرسلطانہ ، اسلم پرویز اور گلوکار سلیم رضا کی بھی یہ پہلی پہلی فلم تھی جو اپنی جملہ خوبیوں کے علاوہ اقبال بانو کی مشہور زمانہ غزل "الفت کی نئی منزل کو چلا۔۔” کی وجہ سے یادگار فلموں میں شمار ہوتی ہے۔

    اپنی دوسری ہی فلم
    پتن (1955) میں مسرت نذیر کو بریک تھرو مل گیا تھا۔ یہ ایک سپرہٹ پنجابی فلم تھی جس میں مسرت نذیر کی جوڑی پاکستانی فلموں کے دوسرے سپرسٹار ہیرو سنتوش کے ساتھ تھی۔ اس فلم میں زبیدہ خانم کا یہ گیت "چھڈ جاویں نہ چناں بانہہ پھڑ کے۔۔” پہلا سپرہٹ گیت تھا جو مسرت نذیر پر فلمایا گیا تھا۔ اسی فلم میں بابا چشتی کے کمپوز کئے ہوئے دو بڑے اعلیٰ پائے کے دوگانے بھی تھے جنہیں زبیدہ خانم اور عنایت حسین بھٹی نے گایا تھا اور وہ مسرت نذیر اور سنتوش پر فلمائے گئے تھے "ساڈا سجرا پیار ، کوے بار بار ، کیتے ہوئے قرار بھل جاویں نہ۔۔” اور "بیڑی دتی کھیل اوئے ، محبتاں دا میل اوئے ، رب نے ملایا ساڈا پتناں تے میل اوئے۔۔”
    اسی سال مسرت نذیر نے مشہورزمانہ فلم پاٹے خان (1955) میں میڈم نورجہاں اور زبیدہ خانم کے ساتھ ایک معاون اداکارہ کے طور پر کام کیا تھا اور اس پنجابی فلم میں اردو بولی تھی۔ میڈم نورجہاں کے گائے ہوئے دو اردو گیت "جان بہار ، آیا تیرے آنے سے رت پہ نکھار۔۔” اور "دوراہی رستہ بھول گئے ، رنگ بدل گیا افسانے کا۔۔” مسرت نذیر پر فلمائے گئے تھے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہم نے ریاست کو بچانے کے لیے اپنی سیاست کا نقصان کیا. شہباز شریف
    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد
    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
    شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے
    1956ء میں اپنے دوسرے ہی سال میں مسرت نذیر ، ایک چوٹی کی اداکارہ بن چکی تھی۔ اس سال اس کی چھ فلمیں ریلیز ہوئیں۔ پنجابی فلم ماہی منڈا (1956) میں مسرت نذیر نے پہلی بار ٹائٹل رول کیا جس میں ہیرو ، پاکستان کے پہلے سپرسٹار اور سب سے کامیاب اور مقبول ترین فلمی ہیرو سدھیر تھے۔ یہ فلم عنایت حسین بھٹی کے مشہور زمانہ گیت "رناں والیاں دے پکن پرونٹھے۔۔” کی وجہ سے مشہور تھی جو اداکار ظریف پر فلمایا گیا تھا۔ مسرت نذیر پر فلمایا گیا زبیدہ خانم کا یہ گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا "وے میں نار پٹولے ورگی ، مینوں اکھ دی پٹاری وچ رکھ وے۔۔” سدھیر ہی کے ساتھ مسرت نذیر نے فلم مرزا صاحباں (1956) میں ٹائٹل رولز کئے تھے لیکن یہ ایک ناکام فلم تھی۔

    اسی سال کی ایک اور کامیاب فلم قسمت (1956) میں مسرت نذیر کے ہیرو سنتوش تھے لیکن سال کی سب سے بڑی گولڈن جوبلی اردو فلم باغی (1956) تھی جس نے سدھیر کو پاکستان کا پہلا ایکشن ہیرو بھی بنا دیا تھا۔ مسرت نذیر کی ایک اور اوسط درجہ کی فلم پینگاں (1956) میں بابا چشتی ہی کی دھن میں کوثرپروین کا گایا ہوا سب سے مقبول پنجابی گیت فلمایا گیا تھا "تینوں بھل گیاں ساڈیاں چاہواں تے اساں تینوں کی آکھناں۔۔” اس فلم میں ہیرو اسلم پرویز تھے جو اپنے دوسرے ہی سال میں سدھیر اور سنتوش کے بعد تیسرے مقبول ترین ہیرو بن گئے تھے۔
    اس سال کی ایک اور یادگار فلم گڈی گڈا (1956) بھی تھی جو اپنی منفرد کہانی کی وجہ سے یادگار تھی۔ بچیوں کے کھیل میں گڑیوں کی شادی ہوتی ہے لیکن اصل نکاح ہیرو ہیروئن سے پڑھوا لیا جاتا ہے جس پر باقی فلم کی کہانی چلتی ہے۔ یہی کہانی معروف ناول نگار رضیہ بٹ کے ایک ناول ‘گڑیا’ کی بھی تھی۔ اس فلم میں بھی بابا چشتی کی دھن میں منورسلطانہ کا یہ گیت بڑا پسند کیا گیا تھا "او دلا کچیا ، قراراں دیا پکیا ، کسے دے نال گل نہ کریں۔۔” اس فلم کے دو اور گیت "نئیں ریساں شہر لہور دیاں۔۔” اور "بابل دا ویہڑا چھڈ کے ، ہوکے مجبور چلی ، گڈیاں پٹولے چھڈ کے ویراں توں دور چلی۔۔” بھی بڑے مقبول ہوئے تھے۔

    1957ء میں مسرت نذیر کی کل سات فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔ سال کی سب سے بڑی فلم یکے والی (1957) تھی جس کا بزنس ریکارڈ آج تک نہیں ٹوٹ سکا۔ معروف صحافی علی سفیان آفاقی کے مطابق اس فلم پر اس دور کا ایک لاکھ روپیہ لاگت آئی تھی اور کمائی 45 لاکھ روپے ہوئی تھی یعنی منافع کا تناسب پینتالیس گنا تھا جو آج تک کسی بھی فلم کے بزنس کا ایک ناقابل شکست ریکارڈ ہے۔ اسوقت ایک ڈالر تین سے چار روپے کا ہوتا تھا اور ایک روپیہ بہت بڑا سکہ ہوتا تھا۔ بات پیسوں اور آنوں میں ہوتی تھی اور ایک روپے میں سولہ آنے ہوتے تھے۔ اس فلم کی کمائی سے باری سٹوڈیو بنا تھا جو 92 کنال اراضی پر محیط تھا۔ آج تک کسی فلم کی کمائی سے اتنی بڑا سرمایہ کاری نہیں ہوئی۔ اس فلم میں مسرت نذیر یکہ یا تانگہ چلاتی ہے اور نیلو اسے لڑکا سمجھ کر عاشق ہو جاتی ہے۔ روایتی ہیرو ، سدھیر تھے۔ بابا چشتی کا جادو سر چڑھ کر بولا تھا اور بیشتر گیت سپرہٹ ہوئے تھے جن میں "کلی سوای بھئی ، بھاٹی لوہاری بھئی۔۔” ، تیرے در تے آکے سجناں وے ، اسیں جھولی خالی لے چلے۔۔” ، ” ریشم دا لاچہ لک اوئے ، نالے بلیاں تے سجرا سک اوئے۔۔” ، "ہان دیا منڈیا وے اکھیاں چوں غنڈیا۔۔” قابل ذکر ہیں۔ یہ سبھی گیت پچاس کے عشرہ کی سب سے مقبول و مصروف گلوکارہ زبیدہ خانم نے گائے تھے۔

    اسی سال کی فلم آنکھ کا نشہ (1957) میں مسرت نذیر نے عین شباب کے دور میں ینگ ٹو اولڈ رول کیا تھا اور اس فلم میں اپنی حریف اداکارہ صبیحہ خانم کی ماں کا رول کیا تھا۔ سدھیر ، ہیرو کے علاوہ فلمساز بھی تھے۔ فلمساز اور ہدایتکار انورکمال پاشا کے والد حکیم احمدشجاع کے ناول باپ کا گناہ (1957) کو اسی نام سے فلمایا گیا تھا۔ اس فلم میں درپن ، پہلی بار مسرت نذیر کے ہیرو بنے تھے۔ فلم ٹھنڈی سڑک (1957) میں پہلی بار کمال متعارف ہوئے تھے جن کی پہلی ہیروئن بھی مسرت نذیر ہی تھی۔ فلم سہتی (1957) میں مسرت نذیر کا ٹائٹل رول تھا اور پہلی بار ہیرو اکمل تھے جنہوں نے مراد کا رول کیا تھا۔ پیر وارث شاہؒ کی کہانی پر بنائی گئی اس فلم میں ہیر کا رول نیلو اور رانجھے کا عنایت حسین بھٹی نے کیا تھا۔ دیگر دو فلمیں سیستان اور پلکاں (1957) میں مسرت نذیر کی پانچ فلمیں منظرعام پر آئیں۔ سال کی یادگار فلم جٹی (1958) تھی جسے ‘چٹی’ کے نام سے ریلیز کیا گیا تھا کیونکہ جٹ برادری نے فلم کے نام پر اعتراض کیا تھا۔ یہ بھی فلم یکے والی (1957) کی طرز پر بنائی گئی تھی جس میں زبیدہ خانم کا گایا ہوا شاہکار گیت "میری چنی دیاں ریشمی تنداں۔۔” فلم کا حاصل تھا۔

    اداکار رنگیلا کو پہلی بار اس فلم میں مکالمے بولنے کا موقع ملا تھا۔ فلم زہرعشق 1958 بھی اپنے نغمات کی وجہ سے یادگار تھی جس میں حبیب ہیرو تھے۔ مسرت نذیر پر ناہید نیازی اور کوثرپروین کے یہ دو مقبول گیت فلمائے گئے تھے "موہے پیا کو ملن کو جانے دے بیرنیا۔۔” اور "پل پل جھوموں ، جھوم کے گاؤں۔۔” خواجہ خورشیدانور کی موسیقی تھی۔ فلم جان بہار (1958) پہلی فلم تھی جس کے ہدایتکار سید شوکت حسین رضوی تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس فلم میں پہلے میڈم نورجہاں ہیروئن کا رول کر رہی تھیں لیکن طلاق کی وجہ سے ان کی جگہ مسرت نذیر کو کاسٹ کیا گیا تھا۔ یہ غالباً واحد فلم تھی جس کے ایک گیت میں سدھیر اور سنتوش کو ایک ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اس سال کی دیگر دو فلمیں نیا زمانہ اور رخسانہ (1958) تھیں۔
    1959ء میں مسرت نذیر ، نو فلموں کے ساتھ چوٹی کی ہیروئن تھی۔ اس سال کی سب سے بڑی فلم کرتارسنگھ (1959) تھی جو اپنی کہانی ، ادکاری اور نغمات کی وجہ سے ایک شاہکار فلم تھی۔ اس فلم میں نسیم بیگم کا یہ گیت "دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا ، ویر میرا گھوڑی چڑھیا۔۔” ایک فوک گیت کا درجہ اختیار کر گیا تھا۔ مسرت نذیر پر فلمایا ہوا زبیدہ خانم کا یہ گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا "گوری گوری چاننی دی ، ٹھنڈی ٹھنڈی چھاں نی ، دل کرے چن دا میں منہ چم لاں نی۔۔” فلم جھومر (1959) میں ناہید نیازی کا یہ سپرہٹ گیت "چلی رے چلی رے ، میں تو دیس پیا کے چلی رے۔۔” بھی مسرت نذیر پر فلمایا گیا تھا۔ فلم راز (1958) میں مسرت نذیر پر زبیدہ خانم کا یہ گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا "میٹھی میٹھی بتیوں سے جیا نہ جلا۔۔” اس فلم میں پہلی بار اعجاز کے ساتھ جوڑی بنی تھی۔ فلم سولہ آنے (1959) میں بھی زبیدہ خانم کا یہ گیت بڑا مقبول ہوا تھا "روتے ہیں چھم چھم نین ، بچھڑ گیا چین رے۔۔” فلم سوسائٹی (1959) ایک بولڈ موضوع پر بنائی گئی فلم تھی۔ دیگر فلموں میں یاربیلی ، سہارا ، لکن میٹی اور جائیداد (1959) تھیں۔

    1960ء کا سال مسرت نذیر کے لئے سات فلمیں لے کر آیا۔ اس سال کی خاص بات یہ تھی کہ فلم سٹریٹ 77 (1960) میں مسرت نذیر نے اپنا بنیادی شوق پورا کیا تھا یعنی بطور گلوکارہ اپنا اکلوتا گیت گایا تھا "یوں چپکے چپکے آنکھوں میں تصویر تیری لہرائی ہے۔۔” نیم آرٹ فلم کلرک (1960) میں مسرت کی جوڑی فلم کے ہدایتکار خلیل قیصر کے ساتھ تھی جن کی یہ بطور ہیرو واحد فلم تھی۔ اس سال کی دیگر فلمیں گلبدن ، نوکری ، وطن ، دل نادان کے علاوہ فلم ڈاکو کی لڑکی (1960) بھی تھی جس میں ساٹھ کے عشرہ کی سب سے مقبول و مصروف گلوکارہ مالا نے موسیقار رشید عطرے کی دھن میں اپنا پہلا گیت "اے میرے دل بتا ، کیسے بتا دوں بھلا۔۔” گایا تھا جو مسرت نذیر پر فلمایا گیا تھا۔
    1961ء میں مسرت نذیر کے کریڈٹ پر پانچ فلمیں تھیں۔ سال کی سب سے بڑی فلم گلفام (1961) تھی جس کے ہیرو درپن تھے۔
    اس فلم میں نسیم بیگم کا یہ خوبصورت گیت مسرت نذیر پر فلمایا گیا تھا "حضور دیکھئے ، ضرور دیکھئے ، شباب ہے نشے میں چور چور دیکھئے۔۔” موسیقار رشید عطرے کی کمال کی دھن تھی۔ فلم مفت بر (1961) میں مسرت نذیر نے وہی رول کیا تھا جو فلم بے قصور (1970) میں دیبا یا فلم انمول (1973) میں شبنم نے کیا تھا ، ان دونوں فلموں کی کہانی اسی فلم سے ماخوذ تھی۔ اس سال کی دیگر فلموں میں چھوٹے سرکار ، سنہرے سپنے اور منگول (1961) تھیں۔

    1962ء میں مسرت نذیر کی صرف دو فلمیں سامنے آئیں۔ غالباً اس عرصہ میں وہ شادی کر چکی تھی اور باقی ماندہ فلمیں مکمل کروا رہی تھی۔ ایک منزل دو راہیں (1962) تو عام سی فلم تھی لیکن شہید (1962) ایک شاہکار فلم تھی۔ کردارنگاری میں یہ مسرت نذیر کی سب سے بڑی فلم تھی۔ اس پر فلمایا ہوا نسیم بیگم کا یہ سدابہار گیت "اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو ، اشک رواں کی نہر ہے ، اور ہم ہیں دوستو۔۔” کیا کمال کا گیت تھا۔ منیر نیازی کی شاعری ، رشیدعطرے کی دھن ، نسیم بیگم کی آواز اور اس پر مسرت نذیر کی لاجواب ادکاری ، بلاشبہ ہدایتکار خلیل قیصر کی یہ شاہکار فلم بین الاقوامی میعار کی تھی۔ اعجاز روایتی ہیرو تھے لیکن طالش نے ایک انگریز کے روپ میں عالمی میعار کی اداکاری کا مظاہرہ کیا تھا۔ علاؤالدین نے بھی ایک عرب شیخ کے کردار میں لاجواب کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔

    (1967)مسرت نذیر نے فلم عشق پر زور نہیں (1963) میں مہمان اداکارہ کے طور پر کام کیا تھا۔ اس کی آخری ریلیز شدہ فلم بہادر ، چار سال تک تکمیل کے مراحل طے کرتی رہی اور بالآخر 1967ء میں جا کر ریلیز ہوئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ شادی کر کے بیرون ملک چلی گئی تھی لیکن فلمساز بضد تھا کہ فلم لازمی مکمل کرے گا اور مسرت نذیر ہی کے ساتھ کرے گا ، سو اس نے انتظار کیا اور فلم مکمل کروا کے ہی دم لیا تھا۔ یہ فلم جب ریلیز ہوئی تھی تو فلم کے ہیرو درپن کا دور گزر چکا تھا اور ولن محمدعلی ، چوٹی کے ہیرو بن چکے تھے۔ یہی واحد فلم تھی جس میں مسعودرانا کا کوئی گیت مسرت نذیر پر فلمایا گیا تھا "اے جان غزل ، لہرا کے نہ چل ، دلبر میرا دل تڑپا کے نہ چل۔۔” مسعودرانا کا اپنے ابتدائی دور میں آئرین پروین کے ساتھ گایا ہوا یہ دلکش رومانٹک دوگانا درپن اور مسرت نذیر پر فلمایا گیا تھا جس کی دھن دیبو بھٹاچاریہ نے بنائی تھی۔
    مسرت نذیر نے صرف سات برسوں میں 46 فلموں میں کام کیا تھا جن میں 32 اردو اور صرف 14 پنجابی فلمیں تھیں۔ سدھیر اور اسلم پرویز کے ساتھ بارہ بارہ فلموں میں کام کیا تھا۔ سنتوش کے ساتھ چھ جبکہ درپن اور اعجاز کے ساتھ سات سات فلموں میں کام کیا تھا۔ مسرت نذیر پر سو سے زائد گیت فلمائے گئے تھے جن میں سے آدھے گیت صرف زبیدہ خانم نے گائے تھے۔

    سیالکوٹ کے ایک کشمیری خاندان سے تعلق رکھنے والی مسرت نذیر نے کینیڈا کے ایک پاکستانی ڈاکٹر ارشد مجید سے شادی کی تھی۔ دو عشروں تک پاکستان سے باہر رہی لیکن 1980 کے عشرہ میں ایک منجھی ہوئی گلوکارہ کے طور پر دھماکہ خیز انداز میں واپس آئی۔ اس کا گایا ہوا لوک گیت "میرا لونگ گواچہ۔۔” ایک سٹریٹ سانگ ثابت ہوا جو فلمی دنیا میں کسی بھونچال سے کم نہ تھا۔ موسیقار ایم اشرف نے مسرت نذیر کے اس گیت کو فلم دلاری (1987) میں شامل کیا تھا۔ میڈم نورجہاں کو جب یہ خبر ملی تو انہوں نے فلمساز اور ایم اشرف کو حکم دیا کہ یہی گیت ، اسی دھن اور بولوں کے ساتھ ان سے بھی گوا کر فلم میں شامل کیا جائے اور فلم پہلے ریلیز بھی کی جائے ، ایسا ہی ہوا۔ میڈم کا گایا ہوا گیت فلم اللہ راکھا (1987) میں شامل کیا گیا تھا لیکن نقل ، اصل سے بہتر نہ تھی۔ اللہ راکھا (1987) کراچی میں سوا مہینے جبکہ دلاری (1987) سوا پانچ مہینے تک چلتی رہی تھی۔ بظاہر ‘لونگ گواچہ’ کی یہ سرد جنگ مسرت نذیر نے جیت لی تھی۔ مسرت نذیر نے اس دور میں بڑی تعداد میں پرائیویٹ البم ریلیز کئے تھے جن میں مقبول عام گیت ، غزلیں ، شادی و بیاہ کے لازوال پنجابی لوک گیت بھی تھے۔ مسرت نذیر کی گائی ہوئی ایک غزل کیا کمال کی تھی "چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر ، آہستہ آہستہ۔۔!”

    اعزازات
    1958ء میں نگار ایوارڈز برائے بہترین اداکارہ، فلم زہر عشق کے لئے۔
    1959ء میں نگار ایوارڈز برائے بہترین اداکارہ، فلم جھومر کے لئے۔
    1962ء میں نگار ایوارڈز برائے بہترین اداکارہ، فلم شہید کے لئے۔ میں مسرت نذیر کو صدر پاکستان کی طرف سے1989
    میں تمغہء حسن کارکردگی عطاء کیا گیا۔
    ۔……۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکی پیڈیا سے ماخوذ

    ترتیب و پیشکش آغا نیاز مگسی

  • افغان حکومت نے   انٹیلی جنس اڈے قائم ہونے کا روسی دعویٰ مسترد کردیا

    افغان حکومت نے انٹیلی جنس اڈے قائم ہونے کا روسی دعویٰ مسترد کردیا

    افغان حکومت نے افغانستان میں امریکی اور برطانوی انٹیلی جنس اڈے قائم ہونے کا روسی دعویٰ مسترد کردیا ہے اور امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان میں امریکی اور برطانوی انٹیلی جنس اڈوں کے قیام سے متعلق روسی دعوے پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کو افغان سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت قطعا نہیں دی جائے گی۔

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ افغانستان علاقائی مسابقت کا میدان نہیں ہے، ہم دیگر ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ افغانستان میں اپنی دشمنی کو آگے نہ بڑھائیں۔ انہیں افغان سرحدوں سے باہر اپنا مقابلہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاہم واضح رہے کہ روسی فیڈرل سکیورٹی سروس (ایف ایس بی) کے ڈائریکٹر الیگزینڈر بورٹنکوف نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی اور برطانوی انٹیلی جنس سروسز دولت مشترکہ کی جنوبی سرحدوں کے قریب افغانستان میں عدم استحکام پیدا کرنے میں ’فعال کردار‘ ادا کر رہی ہیں۔

    جبکہ رپورٹ کے مطابق الیگزینڈر بورٹنکوف نے کہا تھا کہ امریکا اور نیٹو نے فغان دہشت گردی کے خطرے پر قابو پانے کی آڑ میں، وسطی ایشیائی ممالک میں ہمارے (سی آئی ایس) شراکت داروں پر فوجی، تکنیکی اور سرحدی سلامتی کی معاونت کے لئے فعال طور پر اپنی خدمات مسلط کرنا شروع کر دی ہیں جبکہ افغانستان کے ٹولو نیوز کی رپورٹ کے مطابق سیاسی تجزیہ کار تورک فرہادی کا کہنا ہے کہ روس، امریکا کے خلاف پروپیگنڈے کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہم نے ریاست کو بچانے کے لیے اپنی سیاست کا نقصان کیا. شہباز شریف
    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد
    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
    شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے
    واضح رہے کہ تورک فرہادی نے مزید کہا کہ افغانستان ایک آزاد ملک ہے اور وہ کسی بھی ملک کے قریب آ سکتا ہے لیکن افغانستان میں امریکی اور برطانوی انٹیلی جنس سے متعلق تبصرے درست نہیں ہیں کیونکہ روس اور امریکا کی ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈا جنگ جاری ہے تاہم اس حوالے سے ایک اور سیاسی تجزیہ کار سید منہاج آغا کا مؤقف ہے کہ “وہ (روس اور امریکا) مقابلہ کرتے ہیں اور وہ افغانستان سے اپنی دلچسپی کا پہلو چاہتے ہیں۔

  • پاک، چین ایک خاندان؛ سی پیک کو محبت اور تعلقات کی راہداری بنایا جائے گا. چینی سفیر

    پاک، چین ایک خاندان؛ سی پیک کو محبت اور تعلقات کی راہداری بنایا جائے گا. چینی سفیر

    چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈانگ نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین ایک فیملی کی طرح ہیں اور سی پیک کو محبت اور تعلقات کی راہداری بنایا جائے گا، اب سی پیک میں نئے باب کا اضافہ ہونے جارہا ہے۔ نگراں وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ وزیراعظم جلد چین کا دورہ کریں گے جبکہ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے نئے چینی سفیر جیانگ ژائی ڈانگ نے پہلا انٹرویو دیا جس میں انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان ایک ٹیم کی طرح ہیں اور ایک ساتھ آگے بڑھیں گے۔

    جبکہ چینی سفیر کا کہنا تھا کہ دس سال میں سی پیک کو مکمل کامیابی ملی، سی پیک روشن مستقبل کی نوید ہے جبکہ سی پیک میں نئے باب کا اضافہ کیا جائے گا۔ سی پیک کو محبت اور تعلقات کی راہداری بنایا جائے گا اور جیانگ ژائی ڈانگ نے کہا ہے کہ سکیورٹی اور ترقی کے شعبوں میں تعاون جاری ہے، آئی ٹی، زراعت، صنعت کے شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ورلڈ کپ؛ پاک بھارت ٹیمیں کل احمد آباد کے نریندرا مودی اسٹیڈیم میں مدمقابل ہوں گی
    ہم نے ریاست کو بچانے کے لیے اپنی سیاست کا نقصان کیا. شہباز شریف
    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد
    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
    شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے
    علاوہ ازیں نگراں وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے پاک چین بارے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات سدا بہار ہیں جبکہ پاکستان اور چین کے تعلقات میں کبھی اتار چڑھاؤ نہیں آیا جبکہ انہوں نے کہا کہ پاک چین تعلقات کی خوبصورت تاریخ ہے، بیلٹ اور روڈ منصوبہ خوشحالی کا راستہ ہے اور مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ نگراں وزیراعظم جلد چین کا دورہ کریں گے، جس میں سی پیک کے نئے باب کا آغاز ہوگا۔ تاہم خیال رہے کہ سیکرٹری خارجہ سائرس قاضی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں نئےاتحاد اور پالیسیاں بن رہی ہیں، پاک چین دوستی حکومت اور عوام کی سطح پر ہے، اور انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین دونوں ایک دوسرےکی نیک نیتی پر یقین رکھتے ہیں، دونوں ممالک ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔

  • ورلڈ کپ؛ پاک بھارت ٹیمیں کل احمد آباد کے نریندرا مودی اسٹیڈیم میں مدمقابل ہوں گی

    ورلڈ کپ؛ پاک بھارت ٹیمیں کل احمد آباد کے نریندرا مودی اسٹیڈیم میں مدمقابل ہوں گی

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں 14 اکتوبر ( ‌یعنی کل) کو دنیا کے سب سے بڑے احمد آباد کے نریندرا مودی اسٹیڈیم میں مدمقابل ہوں گی اور اس میچ میں کامیابی فاتح ٹیم کو پوائنٹس ٹیبل پر ٹاپ پوزیشن پر پہنچا دے گی جبکہ ابھی تک ایونٹ میں دونوں ٹیموں نے 2،2 میچز کھیل کر 4،4 پوائنٹس حاصل کیے ہیں، میچ سے قبل احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں میچ سے قبل ایک رنگارنگ تقریب ہوگی جس میں کئی فن کار پرفارمنس پیش کریں گے۔
    https://‌twitter.com/BaaghiTV/status/1712880396013392071
    واضح رہے کہ میگا ایونٹ میں بھارت کو پاکستان کیخلاف ناقابل شکست ریکارڈ کی وجہ سے برتری حاصل ہوگی اور اس ورلڈ کپ سے پہلے پاکستان اور بھارت سات بار آمنے سامنے آئے ہیں اور ساتوں مرتبہ کامیابی بھارتی ٹیم کے حصے میں آئی جبکہ کرکٹ مبصرین کے خیال میں پاک بھارت میچ میں دونوں ٹیموں پر دباؤ ہوتا ہے اور فیلڈ میں جو ٹیم اعصاب پر قابو پانے میں کامیاب رہتی ہے وہ میچ اپنے نام کر لیتی ہے۔

    واضح رہے کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں تو پاکستانی ٹیم بھارت کو شکست دینے میں کامیاب ہوئی ہے لیکن ون ڈے ورلڈ کپ میں گرین شرٹس کو اپنی پہلی فتح کی تلاش ہے تاہم ماضی میں جب جب پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں میگا ایونٹ میں آمنے سامنے آئیں تو کوئی نہ کوئی یادگار واقعہ ضرور رونما ہوا ہے۔ شائقین پر امید ہیں کہ اس بار بھی ہونے والا میچ کسی نہ کسی طرح سے یادگار بنے گا۔

    ںجی ٹی وی کے مطابق ماضی کے ایسے چند میچز پر نظر ڈالتے ہیں جو ورلڈ کپ میں دونوں ٹیموں نے کھیلے اور ان میچز کے دوران پیش آنے والے واقعات شائقین کو آج بھی یاد ہیں جبکہ خیال رہے کہ پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں پہلی مرتبہ 1992 کے ورلڈ کپ میں سڈنی کے مقام پر آمنے سامنے آئیں۔ اس سے پہلے ہونے والے چار ورلڈ کپ ایونٹ میں اس کا مقابلہ نہیں ہوا تھا اس لیے اس میچ میں فتح کے لیے دونوں ہی کپتان پر امید تھے۔

    تاہم پاکستان نے یہ ورلڈ کپ ضرور جیتا تھا لیکن بھارت کے خلاف میچ میں انہیں 43 رنز سے شکست ہوئی تھی اور بھارت کے 7 وکٹوں پر 216 رنز کے جواب میں پاکستان ٹیم 173 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی تھی اور اس کامیابی میں بھارت کے نوجوان بلے باز سچن ٹنڈولکر کا کردار نمایاں تھا جنہوں نے 54 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی تھی تاہم ان کی بالنگ کے وقت ایک ایسا واقعہ پیش آیا تھا جس نے اس لمحے کو یادگار بنادیا تھا ۔

    خیال رہے کہ ٹنڈولکر کی بالنگ پر مسلسل اپیل کرنے پر جاوید میانداد بھارتی وکٹ کیپر کرن مورے سے الجھ پڑے تھے، دونوں کے اس جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے امپائر ڈیوڈ شیپرڈ نے بیچ بچاؤ کرایا۔لیکن جب کرن مورے اپیل کرنے سے باز نہ آئے تو جاوید میانداد نے ہوا میں چھلانگ لگا کر ان کی نقل کی اور شائقین کو محظوظ کرنے کا موقع اپنے ہاتھ سے نہ جانے دیا تاہم چار سال بعد جب پاکستان بھارت اور سری لنکا نے مشترکہ طور پر ورلڈ کپ کی میزبانی کی تو کوارٹر فائنل کھیلنے کے لیے پاکستان کو بھارت کے شہر بنگلور جانا پڑا، جہاں دونوں ٹیمیں ورلڈ کپ میں دوسری بار مدِمقابل آئیں۔

    جبکہ اس میچ میں بھی پاکستانی ٹیم بھارت کے اسکور آٹھ وکٹ پر 287 رنز کے جواب میں نو وکٹ پر صرف 248 رنز ہی بناسکی۔ ایک موقع پر پاکستانی اوپنرز کی جارحانہ بیٹنگ کی وجہ سے تماشائی خاموش تھے لیکن مڈل آرڈر کی مایوس کن کارکردگی پاکستان کی فتح کی راہ میں رکاوٹ بن گئی اور میچ میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کپتان وسیم اکرم کے بجائے عامر سہیل نے کی جو گرین شرٹس کی جانب سے نصف سینچری بنانے والے واحد کھلاڑی تھے۔ اپنی ففٹی مکمل کرنے کے بعد انہوں نے بھارتی بالر وینکاٹیش پرساد کو چوکا مارنے کے بعد دباؤ میں لانے کے لیے بلا دکھا یا جو انہیں مہنگا پڑا جبکہ اگلی ہی گیند پر پرساد نے نہ صرف پاکستانی کپتان کو واپس پویلین بھیج دیا بلکہ پوری ٹیم کو مشکل میں ڈال دیا۔ 113 کے مجموعی اسکور پر دو کھلاڑی آؤٹ کے اسکور سے پوری ٹیم 248 رنز تک ہی پہنچ سکی، جس میں تین وکٹیں لینے والے پرساد کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔
    پاکستان کے خلاف فتوحات کی ہیٹ ٹرک

    سن 1999 کے ورلڈ کپ میں بھی بھارتی بالر وینکاٹیش پرساد کی تباہ کن بالنگ کی وجہ سے گرین شرٹس کو سپر سکس مرحلے کے اہم میچ میں 47 رنز سے شکست ہوئی، مانچسٹر کے مقام پر بھارت کو چھ وکٹ پر 227 رنز پر محدود کرنے کے باوجود پاکستانی ٹیم میگا ایونٹ میں مسلسل تیسری بار بھارت کے خلاف کامیابی حاصل نہ کر سکی۔ 228 رنز کے تعاقب میں کوئی بھی پاکستانی بلے باز وینکاٹیش پرساد کی نپی تلی بالنگ کے سامنے مزاحمت نہیں کر سکا، پرساد نے 27 رنز دے کر پانچ کھلاڑیوں کو واپس پویلین بھیجا۔ تاہم پرساد کا بھرپور ساتھ دیا جواگل سری ناتھ اور انیل کمبلے نے جن کی کوششوں کی وجہ سے گرین شرٹس صرف 180 رنز پر ڈھیر ہوگئے تھے۔ لیکن اس ناکامی کے باوجود ایونٹ کے فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے، سن 2003 کا کرکٹ ورلڈ کپ جنوبی افریقہ میں کھیلا گیا جہاں کی وکٹوں کو فاسٹ بالرز کے لیے سازگار سمجھا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان اور بھارت کے میچ میں صرف سچن ٹنڈولکر ہی چھائے رہے اور 98 رنز اسکور کرنے میں کامیاب ہوئے۔

    خیال رہے کہ کپتان وقار یونس، وسیم اکرم، شعیب اختر اور محمد سمیع جیسے پیسرز کی موجودگی میں ٹنڈولکر نے صرف 75 گیندوں پر 98 رنز بنائے۔ دو رنز کی کمی کی وجہ سے وہ سینچری سے تو محروم ہوگئے تھے لیکن ان کی اننگز میں شامل 12 چوکوں اور ایک چھکے کو شائقین آج بھی بھول نہیں پائے اور سینچورین میں کھیلے گئے اس میچ میں پاکستان نے سعید انور کی سینچری کی بدولت سات وکٹ پر 273 رنز بنائے تھے۔ لیکن ٹنڈولکر کے 98 اور یوراج سنگھ کے 50 ناٹ آؤٹ کی وجہ سے بھارت نے یہ میچ چھ وکٹ سے جیت لیا جبکہ یہ پاکستان کی بھارت کے خلاف ورلڈ کپ مقابلوں میں مسلسل چوتھی شکست تھی، جس کے بعد اگلے معرکے کے لیے دونوں ٹیموں کو آٹھ سال انتظار کرنا پڑا۔

    واضح رہے کہ سال 2007 کے ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں یکے بعد دیگرے پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہو جانے کی وجہ سے آمنے سامنے نہیں آسکیں، لیکن 2011 کے سیمی فائنل میں دونوں کا ٹکراؤ ہو گیا جبکہ موہالی میں کھیلے گئے اس ناک آؤٹ مقابلے میں ایک بار پھر سچن ٹنڈولکر پاکستان کے سامنے چٹان بن کر کھڑے ہوگئے اور انہوں نے 85 رنز کی اننگز کھیلی اور میچ میں پانچ وکٹیں لینے والے وہاب ریاض کی کارکردگی تو سب کو یاد ہے۔ لیکن سعید اجمل کی بالنگ پر ٹنڈولکر کا وہ آؤٹ اس سے زیادہ مقبول ہوا جسے تھرڈ امپائر نے رد کردیا تھا۔

    یاد رہے کہ پاکستانی شائقین کے خیال میں ڈی آر ایس کا فیصلہ غلط تھا اور 12 سال گزرنے کے باوجود سعید اجمل کا بھی یہی ماننا ہےکہ تھرڈ امپائر کو جو ویڈیو دکھائی گئی اس میں ردوبدل کیا گیا تھا اور اس میچ میں پاکستانی فیلڈرز نے متعدد کیچز بھی گرائے جب کہ چند مداحوں نے مصباح الحق کو اس میچ کے بعد ٹک ٹک کا بھی خطاب دیا، کیوں کہ انہوں نے تیز کھیلنے کے بجائے وکٹ بچانے کو ترجیح دی تھی تو پاکستانی کرکٹ ٹیم کی اگلے دو ورلڈ کپ ایونٹس میں بھی بھارت کے خلاف کارکردگی مایوس کن رہی، دونوں ٹیمیں گروپ اسٹیج میں آمنے سامنے آئیں، لیکن صرف بھارت کو کامیابی ملی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان نے مفرور بہنوں صوفیہ مرزا اور مریم مرزا کی گرفتاری کے لیے انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کر دیے
    ہم نے ریاست کو بچانے کے لیے اپنی سیاست کا نقصان کیا. شہباز شریف
    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد
    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
    شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے
    تاہم سال 2015 کے ورلڈ کپ میں ایڈیلیڈ کے مقام پر وراٹ کوہلی کی سینچری کی وجہ سے گرین شرٹس کو 76 رنز سے شکست ہوئی اور اس میچ میں پاکستانی فاسٹ بالر سہیل خان کی پانچ وکٹیں بھی ٹیم کو فتح سے ہمکنار نہ کراسکیں۔ 301 رنز کے تعاقب میں پوری ٹیم 224 رنز بناکر آؤٹ ہو گئی جبکہ سال 2019 کا ورلڈ کپ بھی پاکستان کی قسمت نہ بدل سکا۔ مانچسٹر کے مقام پر روہت شرما نے 113 گیندوں کا سامنا کر کے 14 چوکے اور تین چھکوں کی مدد سے 140 رنز کی اننگز کھیل کر بھارت کو فاتح بنایا جبکہ کے ایل راہل اور وراٹ کوہلی کی نصف سینچریوں نے بھی بھارت کی 336 رنز اسکور کرنے میں مدد کی تھی۔محمد عامر تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب پاکستانی بالر رہے تھے خیال رہے کہ بارش سے متاثرہ میچ میں پاکستانی ٹیم کو ڈک ورتھ لیوس میتھڈ کے تحت 40 اوورز میں 302 رنز کا ٹارگٹ ملا جسے وہ حاصل کرنے میں ناکام رہے اور چھ وکٹ پر صرف 212 رنز ہی بناسکے، یوں ورلڈ کپ مقابلوں میں پاکستانی ٹیم کو بھارت کے خلاف سات میں سے سات میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ہفتے کو دونوں ٹیموں کے درمیان آٹھواں میچ ہونے جا رہا ہے جس میں میزبان ٹیم کا پلڑا بھاری دکھائی دے رہا ہے۔

  • پاکستان نے مفرور بہنوں صوفیہ مرزا اور مریم مرزا کی گرفتاری کے لیے انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کر دیے

    پاکستان نے مفرور بہنوں صوفیہ مرزا اور مریم مرزا کی گرفتاری کے لیے انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کر دیے

    حکومت پاکستان نے سابق ماڈل و اداکارہ صوفیہ مرزا (خوش بخت مرزا) اور ان کی بہن مریم مرزا کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ واضح رہے کہ صوفیہ اور مریم دونوں گزشتہ کئی ماہ سے لندن میں مقیم ہیں جبکہ ان کے خلاف دبئی میں مقیم بزنس مین عمر فاروق ظہور کی جانب سے پاکستان میں مقدمات درج کرائے گئے تھے، دونوں کے درمیان بچوں کی تحویل کے حوالے سے طویل عرصے سے تنازع چل رہا ہے۔

    وزارت داخلہ کی جانب سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے توسط سے ملزمین (مفرور) کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کرتے ہوئے نوٹس نمبر 2023/66146 کے تحت صوفیہ مرزا اور نوٹس نمبر 2023/66156 کے تحت مریم مرزا کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ایف آئی اے کے متعلقہ ڈائریکٹر نے نوٹس میں لکھا ہے کہ مجھے ہدایت کی جاتی ہے کہ ایف آئی آر نمبر 156/23 میں ملوث ملزمان خوش بخت مرزا اور مریم مرزا کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کرنے کے لیے مجاز اتھارٹی یعنی اسپیشل سیکرٹری ایم او آئی سے منظوری لی جائے۔

    ایف آئی اے کی جانب سے جاری نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ انٹرپول سیکریٹریٹ، فرانس کے سیکریٹری جنرل سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ملزمان خوش بخت مرزا اور مریم مرزا کو انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے کے لیے ریڈ نوٹس جاری کریں۔ انٹرپول کی جانب سے ریڈ نوٹس کا تعلق سابق وزیر احتساب شہزاد اکبر، ماڈل صوفیہ مرزا، ان کی ٹینس کھلاڑی مریم مرزا اور دیگر کے خلاف 2020 کے موسم گرما میں جھوٹے اور انتقامی مقدمات درج کرنے پر اسلام آباد میں دائر مجرمانہ شکایت سے ہے۔ یہ شکایت پی پی سی 1860 کی دفعہ 420، 468، 471، 385، 386، 389، 500 اور 506 کے تحت دھوکہ دہی، جعلی دستاویزات کی تیاری، بھتہ خوری، ہتک عزت اور مجرمانہ دھمکیوں کے تحت درج کی گئی تھی۔

    ایف آئی آر کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کارپوریٹ کرائم سرکل (سی سی سی) لاہور نے مئی 2020 میں عمر فاروق ظہور اور دیگر کے خلاف انکوائری نمبر 72/20 کا آغاز کیا تھا جس میں ان کی سابق اہلیہ خوش بخت مرزا کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست کو ذرائع کی رپورٹ کے طور پر لیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں نامزد افراد نے ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل لاہور میں عمر فاروق ظہور کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرکے ان سے رقم وصول کرنے کا کام کیا۔

    ایف آئی آر کی درخواست میں خاص طور پر شہزاد اکبر کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے عمر فاروق ظہور کے خلاف مہم چلانے کے لئے کابینہ کو استعمال کیا۔ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ فوجداری مقدمات کے اندراج کے بعد وزیر اعظم کے اس وقت کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے غیر قانونی مالی فائدے کے لیے سی آر پی سی 1898 کی دفعہ 1898 کے تحت دھوکہ دہی سے کابینہ سے منظوری حاصل کی اور اس حقیقت کو چھپایا کہ سوئٹزرلینڈ اور ناروے میں مقدمات پہلے ہی بند ہو چکے ہیں۔ درخواست گزار سال 2023 میں تحقیقات میں شامل ہوا اور ایف آئی آر نمبر 36/20 اور 40/20 کی تحقیقات کے لئے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم مکمل تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ مذکورہ ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات جھوٹے، بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ بعد ازاں جے آئی ٹی ایف آئی اے نے بورڈ کی منظوری سے دونوں ایف آئی آرز میں سی آر پی سی کی دفعہ 173 کے تحت منسوخی رپورٹ مجاز عدالتوں میں جمع کرائی۔ فاضل عدالت نے منسوخی کی رپورٹس کو قبول کیا اور اجازت دی .

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 2006 میں عمر فاروق ظہور سے شادی کرنے والی صوفیہ مرزا (خوش بخت مرزا) نے درخواست گزار کو بلیک میل کرنے اور اس سے رقم وصول کرنے کے لیے اس کے خلاف تحویل کا مقدمہ شروع کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمر فاروق ظہور نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر سال 2013 میں انہیں 10 لاکھ روپے کی خطیر رقم بھی ادا کی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ نے اس تنازعے کا ہمیشہ کے لیے فیصلہ کیا تھا۔ تاہم خوش بخت مرزا نے سال 2020 میں وزیراعظم کے اس وقت کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر اور عمید بٹ اور علی مردان شاہ (ایف آئی اے کے افسران) کے ساتھ مل کر درخواست گزار کو ایک بار پھر بلیک میل کرنا شروع کر دیا تاکہ اس سے مزید رقم وصول کی جا سکے۔ اس کے بعد خوشاب مرزا مذکورہ افراد کی مدد سے درخواست گزار اور اس کے خاندان کے دیگر افراد کے خلاف جھوٹے مجرمانہ مقدمات درج کرانے میں کامیاب ہوگئے۔ درخواست گزار کو بلیک میل کیا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور ہراساں کیا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ورلڈ کپ؛ نیوزی لینڈ نے بنگلہ دیش کو 8 وکٹ سے شکست دے دی
    ہم نے ریاست کو بچانے کے لیے اپنی سیاست کا نقصان کیا. شہباز شریف
    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد
    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
    شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے
    مقدمات درج کرتے وقت صوفیہ مرزا نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے شکایت کنندہ خوش بخت مرزا کے طور پر اپنا نام استعمال کیا اور یہ حقیقت بھی کہ ظہور ان کا سابق شوہر تھا اور دونوں اپنی دو کم عمر بیٹیوں کی تحویل کے حوالے سے عدالتی تنازعمیں ملوث تھے۔ عمر فاروق نے عوامی طور پر الزام عائد کیا ہے کہ صوفیہ اور اس کے ساتھیوں نے اس سے بھتہ لینے کی کوشش کی اور جب اس نے انکار کیا تو انہوں نے پی ٹی آئی حکومت میں اپنے حکومتی روابط کا استعمال کرتے ہوئے اس کے خلاف مقدمات شروع کردیئے۔ ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقات کے دوران یہ بات ریکارڈ پر لائی گئی کہ عمر فاروق ظہور نے نہ صرف الزامات کی تردید کی بلکہ ناروے پولیس کی جانب سے ایک خط بھی پیش کیا جس میں تصدیق کی گئی کہ مذکورہ انکوائری شواہد کی کمی کی وجہ سے بند کردی گئی اور کیس خارج کرنے کی سفارش کے ساتھ اوسلو پولیس کی ایک اور دستاویز پبلک پراسیکیوٹر کو بھی پیش کی۔ جب صوفیہ مرزا سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ریڈ نوٹسز کے بارے میں علم نہیں ہے۔

  • ورلڈ کپ؛ نیوزی لینڈ نے بنگلہ دیش کو 8 وکٹ سے شکست دے دی

    ورلڈ کپ؛ نیوزی لینڈ نے بنگلہ دیش کو 8 وکٹ سے شکست دے دی

    نیوزی لینڈ نے بنگلہ دیش کو 8 وکٹ سے شکست دے دی

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ورلڈکپ کے 11 ویں میچ میں نیوزی لینڈ نے بنگلادیش کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر ایونٹ میں مسلسل تیسری کامیابی حاصل کرلی ہے جبکہ نیوزی لینڈ نے بنگلادیش کا 246 رنز کا ہدف 43.5 اوورز میں 2 وکٹوخ کے نقصان پر حاصل کرلیا ہے اور چنئی میں کھیلے جارہے میچ میں نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا اور بنگلادیش کو بیٹنگ کی دعوت دی تھی۔

    جبکہ بنگلادیش کی جانب سے اننگز کا آغاز لٹن داس اور تنزید حسن نے کیا تھا تاہم میچ کی پہلی ہی گیند پر وکٹ کیپر بیٹر لٹن داس میٹ ہینری کو کیچ دے بیٹھےاور بغیر کوئی رنز کیے پویلین لوٹ گئے تھے۔ بنگلادیش کی دوسری وکٹ اوپننگ بیٹرتنزید حسن کی گری جب تنزید 16 رنز بناکر کیچ آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد مہدی حسن میراز 46 گیندوں پر 30 رنز، پھر نجم الحسن شنتو 7 اور کپتان شکیب الحسن 40 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے تھے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہم نے ریاست کو بچانے کے لیے اپنی سیاست کا نقصان کیا. شہباز شریف
    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد
    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
    شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے

    تاہم مشفیق الرحیم اور محمود اللہ نے ذمہ دارانہ اننگز کھیلیں جس کی بدولت بنگلادیش نے مقررہ 50 اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر 245 رنز بنائے، مشفیق الرحیم 66 رنز بناکر نمایاں رہے جبکہ محمود اللہ 41 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔ نیوزی لینڈ کے لوکی فرگوسن نے تین، ٹرینٹ بولٹ اور میٹ ہینری نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں۔

  • ہم نے ریاست کو بچانے کے لیے اپنی سیاست کا نقصان کیا. شہباز شریف

    ہم نے ریاست کو بچانے کے لیے اپنی سیاست کا نقصان کیا. شہباز شریف

    مسلم لیگ (نواز) کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ترقی یافتہ بنانا ہے تو نوازشریف کو لانا ہوگا، ہم نے ریاست کو بچانے کے لیے سیاست کا نقصان کیا، میری جان چلی جاتی مگر ریاست بچائی جبکہ مسلم لیگ نے شیخوپورہ میں ہونے والے آج کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ نوازشریف نے ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا تھا، واجپائی نے معاہدہ کیا کہ کشمیر سمیت ہر مسئلہ حل کریں گے، نوازشریف کے دور میں ملک تیزی سے ترقی کر رہا تھا، نوازشریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آرہے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو تباہ کرنے کے لیے بدترین سازشیں کی گئیں، ملکی ترقی کے لیے نوازشریف کا استقبال کرنے مینار پاکستان پہنچنا ہے، پاکستان کو ترقی یافتہ بنانا ہے تو اب نوازشریف کو لانا ہوگا کیونکہ نواز شریف نوجوانوں کو لیپ ٹاپ دے گا، دانش اسکول اور شاہراہیں دوبارہ بنیں گی، 21 اکتوبر کو پاکستان کو بچانے کے لیے مینار پاکستان آنا ہوگا جبکہ صدر مسلم لیگ ن نے مزید کہا کہ لوگ پوچھتے ہیں، 16ماہ میں ہم نے کیا کیا، 16ماہ میں پاکستان دیوالیہ ہوجاتا تو ریاست ہوتی نہ سیاست، ہم نے ریاست کو بچانے کے لیے سیاست کا نقصان کیا، میری جان چلی جاتی مگر ریاست بچائی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد
    فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ ،عمران خان کے نعرے لگانے پر پی ٹی آئی کارکنان گرفتار
    ہنگو حملے کے دوران دہشتگردو ں کا مقابلہ کرنیوالے پولیس نوجوان سے وزیراعظم کی ملاقات
    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد
    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
    شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے

    جبکہ شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ نوازشریف آئیں گے تو آٹا اور بجلی سستی ہوگی، کاروبار چلے گا، عوام کو روز گار ملے گا، ملک کو قائد اور اقبال کا پاکستان بنائیں گے، فلسطین اسرائیل تنازع کے حوالے سے شہبازشریف کا کہنا تھا کہ فلسطین اور کشمیریوں کو ان کا حق ملنا چاہیئے، اسرائیل فلسطینیوں پر مظالم ڈھا رہا ہے۔

  • ورلڈکپ کے دوران پچز کی تیاری پر سوال؟

    ورلڈکپ کے دوران پچز کی تیاری پر سوال؟

    پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد حفیظ نے ورلڈکپ کے دوران پچز کی تیاری پر سوال اٹھا دیا ہے جبکہ سرکاری ٹی وی پر اسپورٹس پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ آج ہورہا (نیوزی لینڈ، بنگلادیش) کا میچ ثابت کرےگا کہ ورلڈکپ کون کرا رہا ہے، آئی سی سی یا بی سی سی آئی کیونکہ اس پر بہت سارے سوالات ہیں


    جبکہ اینکر کے پوچھے گئے سوال پر حفیظ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اب تک نئی دہلی، دھرم شالا اور حیدرآباد میں 2،2 میچز ہوچکے ہیں اور ان تینوں کے دونوں میچز میں پچ کنڈیشن ایک جیسی تھی، تاہم اگر چنئی میں نیوزی لینڈ اور بنگلادیش کے درمیان ہونے والے میچ کی پچ کنڈیشن اسی گراؤنڈ میں 8 اکتوبر کو کھیلےگئے آسٹریلیا اور بھارت کے میچ سے مختلف رہی تو پھر سوال ہوگا کہ یہ ٹورنامنٹ کون کروا رہا ہے؟
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد
    فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ ،عمران خان کے نعرے لگانے پر پی ٹی آئی کارکنان گرفتار
    ہنگو حملے کے دوران دہشتگردو ں کا مقابلہ کرنیوالے پولیس نوجوان سے وزیراعظم کی ملاقات
    واضح رہے کہ محمد حفیظ کا مزید کہنا تھا کہ ورلڈکپ آئی سی سی کا ایونٹ ہے اور اس میں کوئی اور مداخلت نہیں کرسکتا ہے یہ ایونٹ آئی سی سی کے اپنے کیوریٹر اور ان کی ہدایات پر چلنا چاہیے تاہم خیال رہےکہ چنئی میں بھارت کے خلاف کھیلے گئے میچ میں آسٹریلیا کی پوری ٹیم 199 رن پر آؤٹ ہوگئی تھی، بھارت نے 200 رن کا ہدف 4 وکٹوں کے نقصان پر 42 ویں اوور میں پورا کرلیا تھا۔