Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • 40 افراد غیر قانونی طور پر باہر جانے کے جرم میں گرفتار

    40 افراد غیر قانونی طور پر باہر جانے کے جرم میں گرفتار

    وفاقی تحقیقاتی ایجنسی یعنی ایف آئی اے نے غیرقانونی طور پر بیرون ملک جانے والے 40 افراد کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں ایف آئی اے نے انسانی اسمگلروں کےخلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے سہولت کاروں سمیت غیرقانونی طور پر بیرون ملک جانے والے 40 افراد کو حراست میں لے لیا۔

    جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے گوادر آصف نسیم بلوچ نے بتایا کہ ایف آئی اے نے ساحلی علاقے جیونی میں انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹوں اور سہولت کاروں کے ٹھکانوں پرچھاپے کے دوران سمندرکے راستے غیرقانونی طور بیرونی ممالک جانے والے 40 افراد کو حراست میں لیا جن میں سہولت کار بھی شامل ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    آصف نسیم بلوچ کا کہنا تھا کہ گرفتار افراد بغیر سفری دستاویز کے سفر کر رہے تھے جن کا تعلق پنجاب، کشمیر اور کے پی کے کے مختلف علاقوں سے ہے جبکہ ملزمان کے خلاف پاسپورٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ اور اب ان کے خلاف قانونی کاروائی ہوگی.

    ایک شخص نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ ایسے بہت سارے لوگ موجود ہیں ایسے دستاویزات بناتے ہیں جو بالکل صحیح لگتے ہیں اور لیکن حکومت کو چاہئے ایسے ماہرین کو سزا دینے کے بجائے روزگار دے اور ان کی صلاحتیوں مثبت کاموں میں استعمال کرے.

  • احتجاج کی  پاداش میں سزائے موت پانے والا  جیل میں چل بسا

    احتجاج کی پاداش میں سزائے موت پانے والا جیل میں چل بسا

    ایران میں احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں سزائے موت پانے والا ایک شخص جمعرات کے روز جیل میں دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گیا ہے جبکہ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس شخص کو گذشتہ سال ستمبر میں بائیس سالہ کرد خاتون مہسا امینی کی پولیس کے زیرِحراست موت کے ردِّعمل میں مظاہروں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور ایرانی عدلیہ کی میزان نیوز ویب سائٹ کے مطابق جواد روحی کو جمعرات کو علی الصباح جیل میں دل کا دورہ پڑا جس کے بعد انھیں شمالی شہر نوشہر کے ایک اسپتال لے جایا گیا جہاں طبّی عملہ نے ان کی جان بچانے کی کوشش کی لیکن وہ دم توڑ گئے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق میزان نے بتایا کہ متوفیٰ روحی کی نعش کو موت کی وجوہ کی تحقیقات کے لیے فارنسک میڈیکل ایگزامینر کے پاس بھیج دیا گیا ہے، جس میں زہریلے ٹیسٹ بھی شامل ہیں۔ پوسٹ مارٹم اور نمونے جمع کرنے کے لیے کارروائی مکمل کرلی گئی ہے۔

    جبکہ رپورٹ کے مطابق جواد روحی کو جس جیل میں رکھا گیا تھا اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جائے گا اور نوٹ اور ادویہ سمیت ان کے ذاتی سامان کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔روحی کو جنوری میں ایک ایرانی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔ان پر زمین پر فساد پھیلانے کے الزام میں فردِجُرم عاید کی گئی تھی۔ اور نیم سرکاری خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق متوفیٰ نوشہر شہر میں ہونے والے مظاہروں کے ایک ’رہ نما‘ کے طور پر سامنے آیاتھا جہاں اس نے’اہم مجرمانہ اقدامات‘ کیے تھے۔روحی پر متعدد جرائم میں ملوّث ہونے کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔ان میں عوامی املاک کو نقصان پہنچانا اور قرآن کو جلانے کے ذریعے ارتداد کا فعل بھی شامل تھا۔

    جبکہ مہسا امینی کو تہران کی اخلاقی پولیس نے خواتین کے لیے سخت ضابطہ لباس کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیاتھا اور تین روز بعد ان کی پولیس کے زیرحراست موت واقع ہوگئی تھی۔ان کی موت کے بعد ایران میں کئی ماہ تک مظاہرے جاری رہے تھے جو تیزی سے ایرانی نظام کا تختہ الٹنے کے مطالبے میں تبدیل ہو گئے تھے جبکہ واضح رہے کہ ایرانی حکام مہسا امینی کی موت کے بعد ہونے والے مظاہروں کو غیر ملکی طاقتوں کے بھڑکائے گئے ’فسادات‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان مظاہروں میں حصہ لینے والوں کوحکام کی جانب سے پُرتشدد کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے اور ہزاروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ان کے خلاف مختلف جرائم کے الزامات میں مقدمات چلائے گئے ہیں یا چلائے جارہے ہیں۔

  • سائفر کیس میں تحریری فیصلے جاری

    سائفر کیس میں تحریری فیصلے جاری

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف 16 اور 30 اگست کو سائفر کیس کی سماعتوں کے تحریری فیصلے جاری کردیے ہیں جبکہ ان میں کہا گیا ہے کہ غیر معمولی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کا جسمانی ریمانڈ منظور نہیں کیا جاسکتا، جوڈیشل کمپلیکس پیش نہ کرنے کی وجہ عمران خان کی جان کو تحفظ فراہم کرنا ہے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی عدالت سے جاری دو دو صفحات پر مشتمل الگ الگ تفصیلی فیصلوں میں عدالت کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف سائفر کیس کی 16 اگست کی سماعت جوڈیشل کمپلیکس میں ہوئی تھی، ایف آئی اے نے تفتیش کے لیے 16 اگست کو چیرمین پی ٹی آئی کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا تھا.

    جبکہ فیصلے کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی پہلے سے ہی توشہ خانہ کیس میں بطور مجرم اٹک جیل میں قید تھے، سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت کورٹ کے پاس اختیار ہے کہ ملزم کا جسمانی، جوڈیشل یا ضمانت منظور کرے اور عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ زندگی اہم ہے، معلوم نہیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل سے باہر لانے پر کوئی حادثہ پیش آجائے، غیر معمولی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کا جسمانی ریمانڈ منظور نہیں کیا جاسکتا۔

    مزید براں کہا گیا کہ جوڈیشل کمپلیکس پیش نہ کرنے کی وجہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو تحفظ فراہم کرنا ہے، فیصلے میں کہا گیا سائفر کیس عام نوعیت کا نہیں، سائفر جیسے حساس کیسز میں ریاست کی خود مختاری بھی شامل ہوتی ہے جبکہ فیصلے کے مطابق، سپرنٹنڈنٹ جیل کو چیئرمین پی ٹی آئی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اپنی تحویل میں لینے کا حکم دیا جاتا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کی جان کو خطرہ اور عوام کو لاحق خدشات کے پیش نظر عمران خان کو حاضری سے استثنیٰ دیا گیا۔

    علاوہ ازیں عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی حاضری جوڈیشل کمپلیکس میں تصور کی جاتی ہے، ان کی غیر حاضری پر ان سے قانونی حق نہیں چھینا جائےگا، عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے بھی اٹک جیل میں چیئرمین پی ٹی آئی کی حاضری کی یقین دہانی لی جبکہ فیصلے میں کہا گیا کہ اٹک جیل سے جوڈیشل کمپلیکس منتقلی کی صورت میں سپرنٹنڈنٹ کو سخت سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کا حکم ہے، 30 اگست کے فیصلے کے مطابق عدالت کو وزارت قانون سے چیئرمین پی ٹی آئی کا ٹرائل اٹک جیل میں کرنے کا نوٹیفکیشن موصول ہوا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    تاہم خیال رہے کہ عدالتی فیصلے میں مزید لکھا گیا کہ 30 اگست فیصلہ کے مطابق عدالت نے گزشتہ سماعت پر چیئرمین پی ٹی آئی کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا۔ عدالت نے سپرنٹنڈنٹ جیل کو اٹک جیل میں سیکرٹ ایکٹ عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی کو پیش کرنےکا حکم دیا تھا، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی سے جیل میں حالات، مسائل اور ٹریٹمنٹ کے حوالے سے پوچھا، عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل قانون کے مطابق تمام سہولیات مہیا کرنے کی ہدایت کی جبکہ فیصلے کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کی صحت بہت اہم ہے، سپرنٹنڈنٹ جیل تمام تر اقدامات اٹھائے، وکیل صفائی نے وزارت قانون کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دینے اور سائفر کیس کو اوپن کورٹ میں کرنے کی درخواست دائر کی۔

  • ہماری کوشش ہے انتخابات میں تاخیر نہ ہو۔ ایمل ولی خان

    ہماری کوشش ہے انتخابات میں تاخیر نہ ہو۔ ایمل ولی خان

    عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء ایمل ولی خان کا کہنا ہے کہ ماحول انتخابات میں تاخیر کا نظر آرہا ہے، غیرسیاسی عناصر انتخابات میں تاخیر چاہتے ہیں، ہماری کوشش ہے انتخابات میں تاخیر نہ ہو جبکہ نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماحول اور بات چیت انتخابات کے ڈیلے (تاخیر) کی چل رہی ہے، ہم کوشش کریں گے کہ انتخابات ڈیلے نہ ہوں، جو میں دیکھ رہا ہوں، جو پاکستان کی قوتیں ہیں وہ کوشش میں ہیں کہ انتخابات کسی طرح ڈیلے ہوجائیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ آج کی بات نہیں 1947 سے لے کر ابھی تک ، یہ اس ایک اختیار پر بہت بڑا مسئلہ ہے، یہ اختیار جو عوام کا ہے، ایک طرف ایک فورس (طاقت) ہے جو چاہتی ہے کہ یہ اختیار عوام کا ہو، عوام اسے استعمال کرے، پاکستان میں ایک جمہوری نظام ہو جہاں پر پارلیمنٹ سب سے بالا ہو۔ اس کے اگینسٹ (مخالف) ایک لابی ہے جو ڈے ون (روزِ اول) سے جو قیوم خان صاحب سے شروع ہے وہ اب تک اسی میں کہ نہیں پاور کا محور عوام نہیں ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    جبکہ انہوں نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے علاوہ ازیں‌انہوں نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف پارلیمینٹیرینز جیسی پارٹیاں کون بنا رہا ہے جبکہ ایمل ولی خان نے دعویٰ کیا کہ اس وقت کوئی نیوٹرل نہیں ہے، لگتا ہے ہم نے استحکام پاکستان سے لے کر سایہ خدائے ذوالجلال تک پارٹیاں بنانی ہیں۔ الیکٹیبلز کو فون کرکے کہا گیا کہ پرویز خٹک کی پارٹی جوائن کریں، ایسے میں شفاف انتخابات نہیں ہو سکتے۔

  • بجلی کی قیمتوں کیخلاف قائد آباد میں احتجاجی مظاہرہ

    بجلی کی قیمتوں کیخلاف قائد آباد میں احتجاجی مظاہرہ

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کراچی کا مہنگائی وبجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف قائد آباد پربڑا احتجاجی مظاہرہ ۔ جس میں کارکنوں ، تاجربرادری اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ۔جن پر بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف مکالمات درج تھے۔اس موقع پر مظاہرین حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے رہے۔

    جبکہ مظاہرین نے کہا کہ ٹیکسز سے بھرپور بجلی بل کسی صورت قبول نہیں۔ حکومت نے اپنی سہولیات کے لیے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔چھوٹے کاروبار ہیں،چولہا نہیں جلتا، بل کیسے اداکریں۔مظاہرے سے دینی، سیاسی ، سماجی و تاجر تنظیموں کے رہنماؤں نے شرکت و خطاب کیا۔احتجاجی مظاہرےسے مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدراحمدندیم اعوان ،رہنما انجنئیر نعمان ، افتخار،ارسلان،مبشر شاہد،اویس،عثمان ودیگرذمہ داران نےبھی گفتگو کی۔


    علاوہ ازیں مظاہرےسے خطاب کرتے ہو ئےمقررین کا کہنا تھا کہ پورا ملک بجلی کے بلوں میں ظالمانہ ٹیکسز کے خلاف متحد ہوچکا ہے۔ عوام بجلی کے بلوں میں بے تحاشا اضافے کے خلاف سراپا احتجاج ہے ، غریب اور متوسط طبقہ فاقہ کشی اور خودکشیاں کرنے پر مجبور ہورہا ہے،نگراں حکومت کہتی ہے کہ بجلی کے بلوں میں اضافہ جولائی کے مہینے میں کیا گیا اور ہماری حکومت اگست میں آئی ہے اس لیے ہم کچھ نہیں کرسکتے۔وزیراعظم کا اس قدر بچگانہ بیان قابل افسوس ہے۔حکمران طبقے نے عوام کو لاوارث چھوڑ دیا ہے۔

    مزید کہا گیا کہ حکمران قوم پر بجلی گرانا بند کریں ۔مہنگائی سے ماری عوام مہینے بھر کی کمائی بھی بجلی کے بلوں کی مد میں لوٹا دیتی ہے۔عوام بچوں کو روٹی کھلائیں یا بجلی کا بل ادا کریں۔حکمرانوں کومہنگائی کے بوجھ تلے سسکتی پاکستانی عوام کوبجلی کے بل کی مارمارنا بند کرنا ہوگی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    ان کامزید کہنا تھا کہ چند خاندان ملکی وسائل پر قابض ہیں۔حکمران طبقہ خود پر ٹیکس نہیں لگانےدیتا۔انہوں نے پاکستان کو یرغمال بنایا ہوا ہے ۔پارٹیاں بدل بدل کرعوام کو لوٹ رہے ہیں۔ اور اپنی کرپشن کا بوجھ عوام پر ڈال رہے ہیں۔ ہم عوام کوکرپٹ اور نااہل حکمرانوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں ہونے دیں گے۔ مرکزی مسلم لیگ پاکستان اور اس کے عوام کی نمائندہ جماعت ہے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ ظالموں کے خلاف دیوار بن کر کھڑی ہوگی۔

  • بجلی کا بل تو دینا پڑے گا اور معاہدوں کی پاسداری کریں گے. نگران وزیر اعظم

    بجلی کا بل تو دینا پڑے گا اور معاہدوں کی پاسداری کریں گے. نگران وزیر اعظم

    بجلی کا بل تو دینا پڑے گا،معاہدوں کی پاسداری کریں گے
    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑنے 48 گھنٹوں میں عوام کو بجلی بلوں میں ریلیف دینے کا اعلان کردیا ہے جبکہ اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےوزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ بجلی کا بل تو دینا پڑے گا،معاہدوں کی پاسداری کریں گے،جنہوں نےمسائل پیداکیےاب وہ حل بتارہےہیں، علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ حالات مشکل ہیں لیکن ملک میں کوئی بحران نہیں،ہمیں معاشی اورسیکیورٹی کےمسائل ہیں، بجلی کے بلوں کامعاملہ آئی ایم ایف کےساتھ ملکر دیکھ رہے ہیں،48 گھنٹےمیں بجلی بلوں پرریلیف کا اعلان کریں گے۔

    جبکہ نگران وزیراعظم نے کہا کہ بجلی بلوں کےحوالےسےاحتجاج ہوا ،ایک شہرمیں بل جلائےجا رہے ہیں اسی شہرمیں بجلی چوری ہورہی ہے ، مگرمسئلہ بڑھاچڑھاکرپیش کیاجارہا ہے،بجلی بحران کی وجہ لائن لاسز،چوری اورآئی پی پیزکےمعاہدےہیں،بجلی بلوں پرایسا نہیں کہ چندظالم حکمران عوام کاخون چوس کرچھوڑیں گے، انوار الحق کاکڑ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں عام انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے۔

    ان کا مزید کہ بجلی بلوں کےحوالےسےاحتجاج ہوا ،ایک شہرمیں بل جلائےجا رہے ہیں اسی شہرمیں بجلی چوری ہورہی ہے ، مگرمسئلہ بڑھاچڑھاکرپیش کیاجارہا ہے،بجلی بحران کی وجہ لائن لاسز،چوری اورآئی پی پیزکے معاہدے ہیں ، بجلی بلوں پرایسا نہیں کہ چند ظالم حکمران عوام کاخون چوس کرچھوڑیں گے، انہوں نے کہا کہ فوج ایک بھی مفت یونٹ استعمال نہیں کررہی اورفوج،نیوی اورایئرفورس اپنےبجٹ سےبجلی استعمال کرتےہیں،صرف واپڈا کے ملازمین فری بجلی استعمال کررہے ہیں،ہم نے پاور سیکٹر کو سمجھنے کی کوشش کی ہے اوربجلی بلوں میں اضافے کے مسئلے پرغورکیاہے۔

    نگران وزیر اعظم نے کہا کہ ایس آئی ایف سی میں شامل 4سے5ایریازمیں بہت زیادہ صلاحیت ہے،آئی ٹی،معدنیات،زراعت اور دفاعی پیداوار اہم ایریاز ہیں،توانائی کےشعبےمیں پیداوار، ترسیل اور وصولیوں کےنظام میں نقائص ہیں، انکا کہنا تھا کہ کوئی دہشتگرد ملک کی کسی یوسی کوبھی ٹیک آورنہیں کرسکتا،بیانیہ بنایا جا رہا ہےکہ ملک کلیپس کرنے لگا ہے،ہم نے مسئلے کو ٹالنا ہے تو یہ ٹالا ہوا مسئلہ پھرسامنے آئےگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    انوارالحق کاکڑ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارےیہاں سیاسی عدم استحکام بھی بڑامسئلہ ہے،ملک میں عام انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے۔تمام سیاسی جماعتیں اس وقت الیکشن موڈ میں ہیں، ہمارا کام الیکشن کمیشن کی معاونت کرنا ہے،الیکشن کمیشن ہم سے جوکہےگاہم انہیں فراہم کریں گے،کوشش ہےشفاف الیکشن کرواکرعزت سے رخصت ہوکرچلےجائیں تاہم خیال رہے کہ ملک بھر میں بجلی کے زائد بلوں کیخلاف عوام سراپا احتجاج ہیں ، اورلاہور ، کراچی ،پشاوراورکوئٹہ سمیت ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں مظاہرے کیے جارہےہیں ،مظاہرین کی جانب سے بجلی کے بلوں کو نذر آتش کیا جا رہا ہے، دوسری جانب تاجر برادری نےبجلی بلوں میں کمی نہ ہونے کی صورت میں ملک بھر میں شٹر ڈائون ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے۔

  • اشیائے ضروریہ کی سرحد پار اسمگلنگ برداشت نہیں کریں گے. وزیر داخلہ

    اشیائے ضروریہ کی سرحد پار اسمگلنگ برداشت نہیں کریں گے. وزیر داخلہ

    نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے چینی اور کھاد کی اسمگلنگ روکنے کے لئے جوائنٹ چیک پوسٹس اورجوائنٹ پٹرولنگ پر عملدرآمد کو مکمل طور پر فعال بنانے کا حکم دے دیا ہے جبکہ وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی ہدایت پر نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی کی زیر صدارت چینی اور کھاد کی اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے اجلاس ہوا ہے.

    جبکہ اجلاس میں سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ چینی اورکھاد سمیت اشیائے ضروریہ کی ملک سے باہر اسمگلنگ ہماری معیشت پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے ، اسمگلنگ کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ عوام کی مشکلات کو بھی بڑھا رہاہے لہذا اس کی روک تھام کیلئے اقدامات جاری ہیں اور مزید بھی کیئے جائیں گے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ چینی اور یوریا سمیت اشیائے ضروریہ کی سرحد پار اسمگلنگ کسی صورت برداشت نہیں کریں گے ، جو لوگ اس غیرقانونی کام سے منسلک ہیں اور اس میں سہولت کار ہیں ان کے خلاف سب سے پہلے کارروائی عمل میں لانا ہو گی ، وفاقی اداروں اور صوبائی حکومت کو اس ضمن میں مل کر کام کرنا ہوگا ۔ وفاق اور صوبے مل کر اس بدنما دھبے اور کا سدباب کریں گے جبکہ سرفراز احمد بگٹی نے یہ بھی ہدایت کیًں کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان حکومتیں اسمگلنگ کے سدباب کے حوالے سے ہفتہ وار رپورٹ جمع کرائیں جو وزیراعظم کو پیش کی جائے گی۔

  • حلقہ بندیاں 14 دسمبر تک مکمل ہوں گی. چیف الیکشن کمشنر

    حلقہ بندیاں 14 دسمبر تک مکمل ہوں گی. چیف الیکشن کمشنر

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں کا عمل اس سال چودہ دسمبر تک مکمل ہو جائے گا جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا آئندہ عام انتخابات سے متعلق سیاسی جماعتوں سے مشاورت کاسلسلہ جاری ہے اور آج چیف الیکشن کمشنر سے مسلم لیگ ق ، تحریک لبیک پاکستان، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے وفود نے ملاقاتیں بھی کیں ہیں۔

    جبکہ عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے وفود سے ملاتوں کے دوران چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کے عمل کا دورانیہ مزید کم کرنے کا خواہاں ہے ، حلقہ بندیوں کا عمل اس سال چودہ دسمبر تک مکمل ہو جائے گا،اور اس کے فوراً بعد انتخابی شیڈول کا اعلان کیا جائے گا اور الیکشن کمیشن کے اعلامیہ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات میں تحریک لبیک پاکستان کے وفد نے کہا کہ ریٹرننگ افسرعدلیہ سے نہ لئےجائیں،وہ الیکشن بہترطریقے سےنہیں کراسکتے اورحلقہ بندیاں جلد مکمل کرنے کیلئے عملہ بڑھانے کا مطالبہ کیاہے۔

    علاوہ ازیں تحریک لبیک پاکستان کے رہنما چودھری رضوان سیفی کا کہنا تھا کہ جو آئین ہے آئین پہ عمل درآمد کرتے ہوئے الیکشن ان ٹائم ہونا چاہیے جبکہ ق لیگ کے وفد نے الیکشن کمیشن کے نئی حلقہ بندیوں کےفیصلےکی تائیدکرتے ہوئے کہاکہ ملکی مسائل کا حل معیشت کی بہتری ہے انتخابات نہیں اور رہنما ق لیگ غلام مصطفی ملک نے کہا کہ الیکشن90 روز کے اندر ہوں یا 190 روز کے اندر ، لیکن صاف اور شفاف ہونے چاہیے اور اس میں تمام سیاسی جماعتوں کو بھرپور انداز میں اپنا لائحہ عمل اور منشور عوام کے سامنے رکھنے کی کھلی اجازت ہونی چاہیے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    علاوہ ازیں الیکشن کمیشن کے مطابق حلقہ بندیوں کے عمل کا دورانیہ کم کرنا زیرغورہے،حلقہ بندیوں کے فوری بعد الیکشن شیڈول کا اعلان کیا جائے گا، ضابطہ اخلاق پر سیاسی جماعتوں سے الگ مشاورت ہوگی جبکہ اعلامیہ کے مطابق نادراکےساتھ مل کرفوت شدگان کوانتخابی فہرستوں سےنکالا جا رہا ہے، جبکہ انتخابی مہم اوراخراجات کی باقاعدہ مانیٹرننگ بھی ہوگی ۔

  • نادرا رولز ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    نادرا رولز ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    سپریم کورٹ میں نادرا رولز میں ترمیم کے خلاف درخواست داخل کرتے ہوئے درخواست گزار نے ترمیم کالعدم قرار دینے کی استدعا کر دی ہے جبکہ صحافی قیوم صدیقی کے مطابق درخواست گزار شہری اویس الرحمان نے استدعا کی کہ چیئرمین و ممبران کے تقرری رولز میں ترمیم نادرا آرڈیننس اور آئین سے متصادم قرار دے کر چیئرمین نادرا کی تقرری کے اشتہار کے بعد رولز میں ترمیم کالعدم قرار دی جائے.

    جبکہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ چیئرمین نادرا اپنی مدت ملازمت کے دوران کوئی دوسری سروس، کاروبار، پیشہ یا ملازمت نہیں کر سکتا، چیئرمین نادراکی تعیناتی کے رولز میں ترمیم نادرا آرڈیننس کے سیکشن 34 سے متصادم ہے تاہم درخواست گزار نے استدعا کی کہ چیئرمین نادرا کی تقرری کا عمل قانون اور شفافیت کے ساتھ مکمل کرنے کا حکم دیا جائے اور فیصلے تک وفاقی حکومت کو نادرا رولز 5 پر پورا نہ اترنے والے امیدوار کی تعیناتی سے روکا جائے۔

    علاوہ ازیں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ چیئرمین نادرا کی تقرری انتہائی مشکوک انداز میں کی جا رہی ہے، ریاست کی پالیسیوں کی تشکیل اور ان پرعمل درآمد کے ذمہ داراداروں میں تقرری بنیادی حقوق متاثر کرتی ہے جبکہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ منتخب وفاقی حکومت مدت کے دوران 60 دنوں میں چیئرمین نادرا کی تعیناتی میں ناکام رہی جبکہ اشتہار کے اجراء کے بعد رولز میں ترمیم سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کسی خاص فرد کو فائدہ پہنچانا چاہتی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    علاوہ ازیں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی مدت ختم ہونے کے آخری دن انٹرویو کا نوٹس جاری کرنا یکساں مواقع کے اصول کی سنگین خلاف ورزی ہے تاہم واضح رہے کہ چند روز قبل نگران وفاقی کابینہ نے چیئرمین نادرا کی تعیناتی کیلئے رولز میں ترامیم کی منظوری دے دی تھی جس کے تحت حاضر سروس فوجی افسرکو بھی چیئرمین نادرا تعینات کیا جاسکےگا، ذرائع کے مطابق رولز میں ترامیم کے ذریعے چیئرمین نادرا کے عہدے پر ڈیپوٹیشن یا سیکنڈمنٹ کے طور پر بھی کسی افسر کو تعینات کیا جاسکےگا۔

  • توشہ خانہ فیصلہ؛  اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نیازی کی توشہ خانہ کیس کے فیصلے کے خلاف اپیل واپس لینے کی درخواست کل سماعت کیلئے مقرر کردی گئی جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق درخواست پر جمعہ کو سماعت کریں گے۔

    جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے توشہ خانہ فیصلے کےخلاف اپیل واپس لینے کی درخواست دائر کی گئی ہے، ہائیکورٹ کی جانب سے اپیل اعتراض کے ساتھ سماعت کیلئے مقرر کی گئی ہے اور رجسٹرار کی جانب سے عائد اعتراض میں کہا گیا تھا کہ اپیل واپس لینے کی درخواست پہلے بھی زیر التوا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روزاسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کیا گیا تھا جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی کی درخواست منظور کرنے کا 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا تھا

    جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو توشہ خانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی 3 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانے کی سزا معطل کر تے ہوئے 1 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    توشہ خانہ فیصلہ؛ اپیل واپسی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر
    چیئرمین سینیٹ سے نگران وفاقی وزیر توانائی کی ملاقات
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 325 روپے کی تاریخی سطح پر پہنچ گیا
    ہمیشہ ووٹ کے لئے نہیں عوام کی خدمت کے لئے کام کیا،جہانگیر ترین
    نوکری کا جھانسہ،تین الگ الگ واقعات میں خواتین عزتیں گنوا بیٹھیں
    تاہم عدالت نے تحریری فیصلے میں لکھا تھا کہ قائم علی شاہ کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ ضروری نہیں ہر کیس میں سزا معطل ہو، ضمانت دینا یا انکار کرنا ہائی کورٹ کی صوابدید ہے جبکہ عدالت نے کہا کہ اس کیس میں دی گئی سزا کم دورانیے کی ہے، عدالت سمجھتی ہے کہ درخواست گزار سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا حقدار ہے۔