Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • جسم پر ظاہر ہونے والی وہ علامات جو ڈپریشن کا نتیجہ ہوتی ہیں

    جسم پر ظاہر ہونے والی وہ علامات جو ڈپریشن کا نتیجہ ہوتی ہیں

    جسم پر ظاہر ہونے والی وہ علامات جو ڈپریشن کا نتیجہ ہوتی ہیں.

    ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمیوں سے معدے میں موجود گیس کی مقدار کم ہوتی ہے جس سے پیٹ پھولنے کے مسئلے سے ریلیف ملتا ہے۔ جبکہ کھانے کے دوران بات کرنے سے ہوا نگلنے کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ یہ ہوا معدے میں اکھٹی ہو جاتی ہے جس سے پیٹ پھول جاتا ہے، تو خاموشی سے کھانا عادت بنانا بہتر ہے معدے میں تیزابیت بڑھنے سے سینے میں جلن کی شکایت ہوتی ہے اور یہ مسئلہ پیٹ پھولنے کی بھی ایک عام وجہ ہے وہ عام ٹیسٹ جس سے آپ چند سیکنڈ میں صحت مند ہونے کے بارے میں جان سکتے ہیں سینے کی جلن کا علاج کرنے سے پیٹ پھولنے کے مسئلے سے بچنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ ہمارے جسم کو نمک کی ضرورت ہوتی ہے مگر بیشتر افراد ضرورت سے زیادہ مقدار کو جسم کا حصہ بنالیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نمک جسم کے اندر پانی جمع کرنے لگتا ہے جو وقت کے ساتھ مختلف بیماریوں جیسے ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن جاتا ہے مگر مختصر المدت بنیادوں پر پیٹ پھولنے کی شکایت کا سامنا ہوتا ہے۔

    ہم سب کے ساتھ ایسا ہوتا ہے یعنی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پیٹ بہت زیادہ بھرنے سے پھول گیا ہے۔ کھانے کے بعد پیٹ کا پھول جانا عموماً کسی تشویش کا باعث نہیں ہوتا مگر یہ تجربہ اکثر افراد کے لیے پریشان کن ہوتا ہے۔ کچھ افراد کے ہاتھ پیر اکثر سن کیوں ہو جاتے ہیں؟ پیٹ پھولنے کا مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب معدے یا آنتوں میں گیس کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور عموماً متاثرہ فرد کچھ دیر میں خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے. مگر اچھی بات یہ ہے کہ چند آسان عادات کو اپنا کر بھی پیٹ پھولنے کے مسئلے کو ہمیشہ خود سے دور رکھنا ممکن ہے. فائبر کاربوہائیڈریٹ کی ایک ایسی قسم ہے جو نباتاتی غذاؤں میں پائی جاتی ہے اور ہمارا جسم اس غذائی جز کو ہضم نہیں کر پاتا۔ فائبر ہمارے جسمانی افعال جیسے بلڈ شوگر کو ریگولیٹ کرنے اور دیگر کے لیے بہت اہم ہوتا ہے. جسم پر ظاہر ہونے والی وہ علامات جو ڈپریشن کا نتیجہ ہوتی ہیں مگر فائبر سے بھرپور غذاؤں کو کھانے کے بعد معدے میں گیس کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

    پھلیوں، دالوں، سیب اور مالٹے جیسے پھلوں، اناج، جو، گوبھی اور ایسی ہی دیگر سبزیوں میں فائبر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
    پیٹ پھولنا اکثر کسی غذا سے الرجی کی علامت بھی ہوتا ہے۔ اس الرجی کے نتیجے میں جسم کے اندر گیس بہت زیادہ بننے لگتی ہے جو معدے اور آنتوں کی نالی میں پھنس جاتی ہے۔ ایسا اکثر دودھ یا گندم پر مبنی غذاؤں کے کھانے سے ہوتا ہے، ایسا کوئی قابل اعتبار طبی ٹیسٹ تو نہیں جس سے غذائی الرجی کی تشخیص ہوسکے بلکہ کوئی فرد خود یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ کن غذاؤں کو کھانے سے پیٹ پھولنے کا مسئلہ ہر بار ہوتا ہے.چکنائی کسی بھی غذا کا اہم حصہ ہے اور جسمانی توانائی کا ایک اہم ذریعہ بھی۔ ہمارا جسم چکنائی یا چربی کو سست روی سے ہضم کرتا ہے اور اسی کے باعث کچھ افراد کو زیادہ چکنائی والی غذائیں کھانے سے پیٹ پھولنے کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے۔
    مزید یہ بھی بڑھیں؛
    کامران اکمل کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
    پیسے دینے کے بہانے خاتون کے ساتھ جنگل میں تین ملزمان نے کیا گھناؤنا کام
    اپرکوہستان میں بس اور کار کھائی میں جاگریں، 17 افراد جاں بحق
    مشروبات یا کھانے کو بہت تیزی سے جسم کا حصہ بنانے کے نتیجے میں لوگ بہت زیادہ مقدار میں ہوا بھی نگل لیتے ہیں جس کے نتیجے میں گیس کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور پیٹ پھول جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں آرام سے کھانا کھانے یا مشروبات یا پانی پینے سے اس مسئلے سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کاربونیٹڈ مشروبات جیسے سافٹ ڈرنکس، انرجی ڈرنکس اور دیگر میں کاربن ڈائی آکسائیڈ موجود ہوتی ہے جو معدے میں اکٹھی ہو جاتی ہے جس سے پیٹ پھول جاتا ہے۔ ان مشروبات کا بہترین متبادل پانی ہے جس سے پیٹ پھولنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ جبکہ ادرک نظام ہاضمہ کے لیے بہترین ہے جس کے استعمال سے معدے میں اضافی گیس کی مقدار کم ہوتی ہے اور پیٹ پھولنے کے مسئلے سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔ چیونگم چبانے کے دوران لوگ بہت زیادہ مقدار میں ہوا کو نگل لیتے ہیں اور یہ ہوا کچھ افراد میں پیٹ پھولنے کا باعث بنتی ہے.اس کے علاوہ کھانے کے بعد ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمیاں جیسے چہل قدمی کرنے سے پیٹ پھولنے کے مسئلے سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

  • وزارت خزانہ کی جانب سے  اسلامک نیا پاکستان سرٹیفکیٹ پر شرح منافع میں ردوبدل

    وزارت خزانہ کی جانب سے اسلامک نیا پاکستان سرٹیفکیٹ پر شرح منافع میں ردوبدل

    وزارت خزانہ نے اسلامک نیا پاکستان سرٹیفکیٹ پر شرح منافع میں ردوبدل کردیا۔

    شرح منافع میں رد و بدل یورو، پاؤنڈ، امریکی ڈالر اور پاکستانی روپے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کیلئے ہوگی. وزارت خزانہ کے مطابق تین ماہ کیلئے شرح منافع 9.5 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 6 ماہ کیلئے سرمایہ کاری کرنے والوں کیلئے شرح منافع 10 سے بڑھا کر 15.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔

    ایک سال کیلئے سرمایہ کاری پر شرح منافع 10.50 سے بڑھا کر 15.50 فیصد کردیا گیا ہے۔ 3 سال کیلئے سرمایہ کاری پر شرح منافع 10.75 فیصد سے بڑھا کر 14 فیصد کر دیا گیا ہے۔5 سال کیلئے سرمایہ کاری پر شرح منافع 11 فیصد سے بڑھا کر 13.50 فیصدکردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ برطانوی پاؤنڈ میں ایک سال کیلئے سرمایہ کاری کرنے والوں کیلئے شرح منافع 5.75 سے بڑھا کر 7 فیصد کر دیا گیا ہے

    جبکہ 3 سال کیلئے سرمایہ کاری کرنے والوں کیلئے شرح منافع 6.25 سے بڑھا کر 7.50 فیصد کر دیا گیا ہے۔ 5 سال کیلئے سرمایہ کاری کرنیوالوں کیلئے شرح منافع 6.50 سے بڑھا کر 7.50 فیصدکردیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق یورو میں 3 ماہ کیلئے سرمایہ کاری کرنے والوں کیلئے شرح منافع 4.75 فیصد سے کم کرکے 4 فیصد کردیا گیا.
    مزید یہ بھی بڑھیں؛
    کامران اکمل کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
    پیسے دینے کے بہانے خاتون کے ساتھ جنگل میں تین ملزمان نے کیا گھناؤنا کام
    اپرکوہستان میں بس اور کار کھائی میں جاگریں، 17 افراد جاں بحق
    6 ماہ کیلئے سرمایہ کاری کرنے والوں کیلئے شرح منافع 5 فیصد سےکم کرکے 4.50 فیصد کردیا گیا، ایک سال کیلئے سرمایہ کاری کرنے والوں کیلئے شرح منافع 5.25 فیصد سےکم کر کے 5 فیصد کر دیا گیا۔ یورو میں 3 سال کیلئے سرمایہ کاری کرنے والوں کیلئے شرح منافع 5.50 سے بڑھا کر 6.50 فیصد کر دیا گیا، 5 سال کیلئے سرمایہ کاری کرنے والوں کیلئے شرح منافع 5.75 فیصد سے بڑھا کر 6.50 فیصد کر دیا گیا ہے۔

  • وفاقی وزیر شازیہ مری کی یو ایس ایڈ کے وفد سے ملاقات

    وفاقی وزیر شازیہ مری کی یو ایس ایڈ کے وفد سے ملاقات

    سیلاب سے 4 ملین بچوں اور لاکھوں حاملہ خواتین سمیت 33 ملین افراد متاثر ہوئے۔ وفاقی وزیر

    وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ شازیہ مری سے یوایس ایڈ کے وفد کی سفارتخانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی میں ملاقات ہوئی ہے جبکہ وفد کی سربراہی یو ایس ایڈ ایشیا بیوروکےاسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر مائیکل شفر کر رہے تھے۔ملاقات کے دوران پاکستان میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت معاشرے کے کمزور طبقوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے مختلف اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وفاقی وزیر نے یو ایس ایڈ کے وفد کو پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب سے ہونے والی تباہی اور نقصانات کے حوالے سے بریفنگ دی۔شازیہ مری نے وفد کو بتایا کہ 2022 میں آنے والے سیلاب سے ملک کا ایک تہائی حصہ ڈوب گیا اور 4 ملین بچوں اور لاکھوں حاملہ خواتین سمیت 33 ملین افراد متاثر ہوئے۔وفاقی وزیر نے بحالی و تعمیر نو کی کوششوں کی تازہ ترین صورتحال اور بی آئی ایس پی کی جانب سے کیے جانے اقدامات سے بھی آگا کیا۔وفاقی وزیر شازیہ مری نے اجلاس کے دوران بتایا کہ بی آئی ایس پی گذ شتہ 14 سالوں میں ایک کامیاب ماڈل کے طور پر ابھرا ہے اورغریب طبقے کی بلا تفریق خدمت کر رہا ہے۔شازیہ مری نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ نیشنل سوشل اکنامک رجسٹری نے حکومت پاکستان کو سائنسی ڈیٹا بیس کے ذریعے پاکستان میں معاشرے کے سب سے زیادہ مستحق اور پسماندہ طبقے تک رسائی میں سہولت کاری کی ہے۔

    وفاقی وزیر نے وفد کو بتایا کہ بی آئی ایس پی کے تحت تقریباً 8.9 ملین خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے جوکہ جون 2023 تک بڑھ کر 9 ملین اور 2024 تک 10 ملین تک پہنچ جائے گی۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو خاندانی سربراہ کے طور پر براہ راست مالی امداد کی فراہمی خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے بی آئی ایس پی پروگرام کی ترجیحات کی عکاس ہے جبکہ تعلیم اور صحت کے شعبے میں مشروط منتقلی کا مقصد صحت کے تحفظ سمیت غریب خاندانوں کی سماجی و اقتصادی ترقی ہے۔انہوں نے وفد کو بتایا کہ خواتین اور بچوں کی غذائیت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے پاکستان بھر میں 364 بے نظیر نشوونما سہولت مراکز کام کر رہے ہیں۔پاکستان میں حالیہ سیلاب کے بعدفراہم کی جانے والی امدادکے حوالے سے وفاقی وزیر نے بتایا کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے 25 لاکھ متاثرہ خاندانوں میں 70 ارب روپے تقسیم کیے گئے۔وفاقی وزیر نے سماجی تحفظ اور غربت کے خاتمے کے لیے عالمی بینک، اے ڈی بی اور جی آئی زیڈ کی مسلسل حمایت اور تعاون کو بھی سراہا۔

    انہوں نے عالمی بینک کے پاکستان کرائسز ریزیلینٹ سوشل پروٹیکشن (سی آر آئی ایس پی) پروگرام کے بارے میں بھی وفد کو بتایا۔ وزیر نے بتایا کہ نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام (این پی جی پی) کے ذریعے بی آئی ایس پی سے فائدہ اٹھانے والوں کو اثاثے اور تربیت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ انہیں غربت سے نکالا جا سکے۔وفاقی وزیر نے یو ایس ایڈ کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس پروگرام کو مزیدوسعت دینے کے لیے ایجنسی کے ساتھ اپنی شراکت داری کو بڑھانے کا منتظر ہے۔مائیکل شفرنے سماجی تحفظ کے شعبے میں خاص طور پر آفت سے متاثرہ آبادی کو فوری ریلیف فراہم کرنے میں بی آئی ایس پی کے کردار کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ یو ایس ایڈ اور امریکی انتظامیہ پاکستان کے ساتھ اپنی دوستی اور شراکت داری کو مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔
    مزید یہ بھی بڑھیں؛
    کامران اکمل کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
    پیسے دینے کے بہانے خاتون کے ساتھ جنگل میں تین ملزمان نے کیا گھناؤنا کام
    اپرکوہستان میں بس اور کار کھائی میں جاگریں، 17 افراد جاں بحق
    مائیکل شفر نے کہا کہ یو ایس ایڈ سماجی تحفظ، غربت کے خاتمے، غذائیت اور تعلیم جیسے مختلف شعبوں میں امداد کے حوالے سے توازن کا خواہاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موسم بہار کے آخر میں وہ پاکستان کا دورہ بھی کریں گے تاکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے مزید آگاہی اور تجربہ حاصل کیا جا سکے۔

  • جیل بھرو تحریک رجسٹریشن فارم؛ نشے کی سہولت میسر نہیں ہوگی

    جیل بھرو تحریک رجسٹریشن فارم؛ نشے کی سہولت میسر نہیں ہوگی

    جیل بھرو تحریک رجسٹریشن فارم؛ نشے کی سہولت میسر نہیں ہوگی، کارکنان کیلئے ضروری نوٹ

    پاکستان تحریک انصاف نے جیل بھرو تحریک رجسٹریشن فارم میں نجی معلومات اور جیل جانے کے تجربہ بارے پوچھتے ہوئے ساتھ میں ضروری نوٹ بھی جس میں کارکنان کو بتایا کہ جیل میں نشہ کی سہولت موجود نہیں ہوگی بس پھر اس کے بعد تو سوشل میڈیا صارفین نے اس فارم پر جی بھر کر تنقید کی کسی نے لکھا کہ کیا تحریک انصاف جہاز یعنی نشئی لوگوں کی رجسٹریشن کررہی جو نشہ پر پابندی بارے نوٹ میں بتایا گیا.


    ایک صارف نے تو بندروں کی لائن والی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ "زمان پارک کے باہر جیل بھرو تحریک کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے جبکہ ابھی تک بیس عمرانڈو لائن میں لگے نظر آرہے ہیں جبکہ ابھی تک کوئی انسان رجسٹریشن کیلئے پیش نہیں ہوا ہے. جبکہ ایک اور صارف نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ "جیل بھرو تحریک کے لیے رجسٹریشن نہیں کرانی پڑتی پہلے لیڈر خود گرفتاری دیتا ہے بزدلوں کی طرح چھپتا نہیں ہے.
    مزید یہ بھی بڑھیں؛
    کامران اکمل کا ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
    پیسے دینے کے بہانے خاتون کے ساتھ جنگل میں تین ملزمان نے کیا گھناؤنا کام
    اپرکوہستان میں بس اور کار کھائی میں جاگریں، 17 افراد جاں بحق
    https://twitter.com/MuhibRizvi7/status/1622996270234370048
    تاہم پی ٹی آئی کارکنان کا دعوٰی ہے کہ اب تک کئی کارکنان نے رجسٹریشن فارم جمع کروا دیئے اور کئی لوگ کروا رہے ہیں لیکن پی ٹی آئی کے ناقدین کا کہنا ہے اگر عمران خان میں اتنی جرات ہے تو پہلے خود کو گرفتار کروائے پھر کسی اور کو گرفتار کروائے. واضح رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا تھا کہ رضاکارانہ طور پر جیل بھرو تحریک کے لیے رجسٹریشن کرائیں، پھر تاریخ دوں گا۔
    https://twitter.com/MuhibRizvi7/status/1622996270234370048
    محب نامی صارف نے لکھا کہ "بہت دن سےجیل بھرو تحریک کےلیے رجسٹریشن ہورہی تھی کسی بندے نےنام نہیں لکھوایا تو عمران خان نےکہا میں سب سے پہلےجیل جاؤں گا تاکہ لوگ نام درج کروائیں مگر دوسری طرف فوادچودری وغیرہ سے کہلوا کرکہ قیادت کو جیل نہیں جاناچاہئے لہذا خود جیل نہیں جائے گا. اب اور کارکنان بیچارے کہیں گےدیکھو ہمارا لیڈر.

  • پاکستان سپر لیگ 8 کی افتتاحی تقریب یادگار بنانے کی تیاری

    پاکستان سپر لیگ 8 کی افتتاحی تقریب یادگار بنانے کی تیاری

    افتتاحی تقریب سب کو حیران کردے گی. پی ایس ایل انتظامیہ کا دعویٰ

    انتظامیہ نے پاکستان سپر لیگ 8 کی افتتاحی تقریب کو یادگار بنانے کی تیاری کرلی۔ پی ایس ایل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ افتتاحی تقریب سب کو حیران کردے گی۔ پاکستان سپر لیگ سیزن 8 کی افتتاحی تقریب 13 فروری کو ملتان میں ہوگی، مینجمنٹ نے افتتاحی تقریب کو یادگار بنانے کا پلان بنالیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ تقریب سب کو حیران کردے گی، جس میں اے آر اور وی آر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اے آر اور وی آر ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کرکٹ میں پہلی مرتبہ کیا جائے گا، اے آر اور وی آر ٹیکنالوجی سے ٹی وی پر میچ دیکھنے والے شائقین ڈیجیٹل تھری ڈی اینیمیشن سے لطف اندوز ہوسکیں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان سپر لیگ 8 کی افتتاحٰ تقریب میں شائقین کرکٹ کو انکلوژرز میں زولو بینڈ بھی پہنائے جائیں گے، جو کم روشنی میں چمچمائیں گے۔ انتظامیہ کے مطابق پاکستان سپر لیگ 8 کی افتتاحی تقریب میں پاکستان میں پہلی مرتبہ ڈرونز کی مدد سے فضاء میں ایل ای ڈی تصاویر بنائی جائیں گی جب کہ شاندار آتش بازی کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

    جبکہ دوسری جانب پی ایس ایل 8 کے ترانے کو پسوری سے مقبول ہونے والی شے گل اور نوجوانوں میں مقبول عاصم اظہر گا رہے ہیں۔ اس سے پہلے خبریں تھیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینجمنٹ نے پی ایس ایل 8 کے آفیشنل گانے کے لئے علی سیٹھی کا نام لیا ہے۔ تاہم نجم سیٹھی کے پی سی بی کے چیئرمین میجمنٹ کمیٹی بننے کے بعد ان کا ماننا ہے کہ ان کا بیٹا پی ایس ایل 8 کے لئے گانا گائے ۔ یہ مفادات کا ٹکراؤ ہوگا اسی لئے جب میں پی سی بی میں نہیں ہونگا تو علی سیٹھی پی ایس ایل کے لئے گانا گا سکتے ہیں۔

    پی ایس ایل 8 کے گانے کے لئے بہت سے لوگوں کی بہت سی قیاس آرائیاں ہیں، کوئی علی ظفر کا نام لے رہا ہے ، تو فارس شفیع کا ، شے گل کا نام بھی سننے میں آیا تھا۔ اب تمام تر قیاس آرائیاں ختم ہوئیں۔ پی ایس ایل 7 سیزن کے لئے عاطف اسلم اور آئمہ بیگ نے گانا گایا ۔ پی ایس ایل 6 کا گانا نصیبو لعل اور آئمہ بیگ نے گانا گایا۔ عاصم اظہر پی ایس ایل 5 کے لئے بھی آفیشل ترانہ گا چکے ہیں۔

  • ملک میں تیل کی اوسط یومیہ پیداوار 73083 بیرل جبکہ گیس  کی پیداوارمیں 3 فیصد کمی ریکارڈ

    ملک میں تیل کی اوسط یومیہ پیداوار 73083 بیرل جبکہ گیس کی پیداوارمیں 3 فیصد کمی ریکارڈ

    ملک میں تیل کی پیداوارمیں ہفتہ واربنیادوں پر 2.2 فیصد کی نمو جبکہ گیس کی پیداوارمیں 3 فیصدکی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    ملک میں تیل کی پیداوارمیں ہفتہ واربنیادوں پر 2.2 فیصد کی نمو جبکہ گیس کی پیداوارمیں 3 فیصدکی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پٹرولیم انفارمیشن سروس اور عارف حبیب ریسرچ کے اعدادوشمار کے مطابق 31 جنوری کو ختم ہونے والے ہفتہ کے دوران ملک میں تیل کی اوسط یومیہ پیداوار 73083 بیرل ریکارڈ کی گئی جو پیوستہ ہفتے کے مقابلہ میں 2.2 فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق 31 جنوری کوختم ہونے والے ہفتے میں گیس کی اوسط یومیہ پیداوار 3312 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ ہفتے کے مقابلہ میں 3 فیصد کم ہے۔ اعدادوشمار کےمطابق گزشتہ ہفتے کے دوران او جی ڈی سی ایل کی تیل کی اوسط یومیہ پیداوار 34420 بیرل جبکہ گیس کی 763 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈ کی گئی۔

    پیوستہ ہفتے میں او جی ڈی سی ایل کی تیل کی اوسط یومیہ پیداور 34087 بیرل جبکہ گیس کی اوسط یومیہ پیداوار 741 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈ کی گئی ۔ اسی طرح گزشتہ ہفتے میں پی پی ایل کی خام تیل کی اوسط یومیہ پیداوار 12878 بیرل ریکارڈ کی گئی جو اس سے پچھلے ہفتے میں 12761 بیرل تھی۔ پی پی ایل کی گزشتہ ہفتے میں گیس کی اوسط یومیہ پیداوار 639 ایم ایم سی ایف ڈی جبکہ اس سے قبل 684 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈ کی گئی تھی۔

    پی او ایل کی گزشتہ ہفتے میں تیل کی اوسط یومیہ پیداوار 5108 بیرل جبکہ پیوستہ ہفتے میں 5146 بیرل ریکارڈ کی گئی اسی طرح پی او ایل کی گزشتہ ہفتے میں گیس کی اوسط یومیہ پیداوار 68 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈ کی گئی جوپیوستہ ہفتےمیں بھی 68 ایم ایم سی ایف ڈی تھی۔ ماڑی گیس کی گزشتہ ہفتے میں تیل کی اوسط پیداوار 1374 بیرل تھی جو پیوستہ ہفتے میں 1088 بیرل ریکارڈ کی گئی تھی۔ ماڑی گیس کی گزشتہ ہفتے میں گیس کی اوسط یومیہ پیداوار 828 ایم ایم سی ایف ڈی اور پیوستہ ہفتے میں 852 ایم ایم سی ایف ڈی ریکارڈ کی گئی تھی۔

  • اسلام آباد کیپیٹل پولیس کا جر ائم پیشہ عناصر کیخلاف بڑ ے پیما نے پر کر یک ڈاون جاری

    اسلام آباد کیپیٹل پولیس کا جر ائم پیشہ عناصر کیخلاف بڑ ے پیما نے پر کر یک ڈاون جاری

    اسلام آباد کیپیٹل پولیس کا جر ائم پیشہ عناصر کیخلاف بڑ ے پیما نے پر کر یک ڈاون جاری ہے.

    اسلام آباد کیپیٹل پولیس کا جر ائم پیشہ عناصر کیخلاف بڑ ے پیما نے پر کر یک ڈاون جاری ہے تھا نہ پھلگر اں پولیس نے بر وقت کاروائی کر تے ہو ئے شہر ی اور اس کی فیملی کوہو ائی فائر نگ کرکے ہر اساں کر نے والے تین ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا،ملزمان کے قبضہ سے اسلحہ معہ ایمو نیشن اورزیر استعما ل گا ڑ ی کو بھی قبضہ پولیس میں لے لیاگیا ہے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر دیاگیا ہے. اورمزید تفتیش بھی جاری ہے۔

    تفصیلات کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلا م آباد ڈاکٹراکبر ناصر خاں کے خصوصی احکامات کی روشنی میں اسلام آباد کیپیٹل پولیس کا ضلع بھر میں جرائم پیشہ عناصر اور دیگر جرائم میں ملوث ملزمان کیخلاف بلاتفریق کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے،شہری نے اطلا ع دی کہ وہ اپنی فیملی کے ہمر اہ تھانہ پھلگراں کی حدود سے گزر رہا تھا کہ تین ملزمان نے گا ڑ ی کو روک کر ہراساں کیااور ہو ائی فائر نگ کی،اطلاع ملنے پر تھانہ پھلگراں پولیس ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے.

    گرفتار ملزمان کی شناخت دانیا ل، محسن اور دانی کے ناموں سے ہوئی ہے، گرفتارملزمان کے قبضہ سے واردات میں استعما ل ہو نے والا اسلحہ معہ ایمو نیشن اور ان کے زیر استعما ل گا ڑ ی کو قبضہ پولیس میں لے لیاگیا ہے. اور ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے اسلام آباد کیپیٹل پولیس کا کہنا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے پولیس تمام تر ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے. شہریوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور کسی بھی مشکو ک چیز یا سرگرمی کے بارے میں متعلقہ تھانہ یا ” پکار-”15پر فوراً اطلاع دیں۔

  • نیویارک  کے سرد خانے میں مردہ خاتون زندہ ہو گئی

    نیویارک کے سرد خانے میں مردہ خاتون زندہ ہو گئی

    امریکی ریاست نیویارک کے تدفین کے ایک سرد خانے کے عملے کو اس وقت زندگی کا سب سے بڑا جھٹکا لگا جب ایک ‘مردہ’ خاتون زندہ ہوگئی۔

    ریاست نیویارک کے علاقے سفوک کاؤنٹی کی پولیس کے مطابق 82 سالہ خاتون کو 4 فروری کو ایک نرسنگ سینٹر نے مردہ قرار دیا گیا تھا جس کے بعد اسے تدفین کے لیے ایک سرد خانے میں منتقل کیا گیا۔مردہ قرار دی گئی خاتون زندہ ہونے کے بعد پھر انتقال کر گئی پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اس خاتون کو صبح 11 بج کر 15 منٹ پر مردہ قرار دیا گیا تھا اور دوپہر ڈیڑھ بجے سرد خانے میں پہنچایا گیا۔ اس جگہ پہنچنے کے 40 منٹ بعد یا مردہ قرار دینے کے لگ بھگ 3 گھنٹے بعد سرد خانے کے عملے نے دریافت کیا کہ خاتون سانس لے رہی ہے۔

    اس کے بعد خاتون کو ایک مقامی اسپتال میں منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت کیسی ہے، یہ واضح نہیں۔ پولیس نے بتایا کہ نیویارک اٹارنی جنرل کے دفتر کی جانب سے اس واقعے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جبکہ نرسنگ سینٹر کی جانب سے اس حوالے سے ابھی تک مؤقف جاری نہیں کیا گیا۔ یہ امریکا میں ایک ماہ کے دوران اس طرح کا دوسرا واقعہ ہے۔اس سے قبل جنوری 2023 کے شروع میں امریکی ریاست آئیووا میں ایک 66 سالہ خاتون کو مردہ قرار دیا گیا تھا جو بعد میں زندہ نکلی۔

    جس وقت اس خاتون کی آخری رسومات ادا کی جا رہی تھیں اس وقت وہ سانس لینے لگی۔ اس کے بعد خاتون کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ 2 دن بعد چل بسی۔ دوران تفتیش اسپیشل کیئر سینٹر کے ایک ملازم نے بتایا کہ 3 جنوری کو خاتون بالکل بھی سانس نہیں لے رہی تھی اور اس کی نبض بھی حرکت نہیں کر رہی تھی تو اس وقت اس کی اطلاع ایک نرس کو دی گئی۔ نرس نے بھی دعویٰ کیا کہ اس نے بھی پوری رات خاتون کی نبض میں کسی قسم کی حرکت نوٹ نہیں کی، جس کے بعد کیئر سینٹر نے خاتون کو مردہ قرار دیکر لاش کو بیگ میں بندکر کے مردہ خانے بھجوا دیا۔

  • انتخابات کے انعقاد میں57 ہزار اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے. آئی جی کے پی

    انتخابات کے انعقاد میں57 ہزار اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے. آئی جی کے پی

    آئی جی خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری نے انتخابات کے دوران دہشت گرد حملوں کا خدشہ ظاہر کردیا۔

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیرصدارت خیبرپختونخوا میں عام انتخابات کے متعلق اجلاس ہوا۔ آئی جی خیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری نے الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا ہے کہ صوبے میں انتخابات کیلئے 57 ہزاراہلکاروں کی کمی کاسامنا ہے۔ معظم جاہ انصاری نے کہا کہ سال 2022 میں پولیس پر494،رواں سال اب تک 46حملے ہوچکے جبکہ رواں سال اب تک 93پولیس اہلکارشہید ہوچکے ہیں۔ خدشہ ظاہرکیا ہے انتخابات کے دوران مزید حملے بھی ہوسکتے ہیں۔

    الیکشن کمیشن اعلامیے کے مطابق آئی جی خیبرپختونخوا کے مطابق انتخابات مکمل پرامن ہونے کا یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن فوج اور ایف سی کیلئے وزارت داخلہ سے رابطے میں ہے۔ انتخابات کےدوران غیرجانبدارافسران کی تعیناتی ضروری ہے، شفاف انتخابات کیلئے فوری طور پر ضروری تقررو تبادلے کئے جائیں۔

    دوسری جانب موجودہ ملکی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ایس پی رورل ڈویژن ظفر احمد کی سربراہی میں تھانہ ناصرباغ میں دربار منعقد کیا گیاخصوصی دربار میں ایس ڈی پی اوز ، ایس ایچ اوز ، چوکی انچارجان اور پولیس اہلکاروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی ایس پی رورل ظفر احمد نے دربار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخواہ پولیس جانثاروں اور دلیروں کی فورس ہے اس فورس کا مورال ہمیشہ بلندرہا ہے

    انہوں نے کہا کہ پولیس افسران واہلکاروں نے ملک و قوم اور امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کی خاطر اپنی جانوں کے نظرانے پیش کئے ہیں جس کی بدولت مثالی پولیس کا درجہ رکھتی ہے، ایس پی رورل نے کہا کہ پولیس جوانوں کے مسائل کے حل کی خاطر تمام دستیاب وسائل کو بروئےکار لایا جا رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پولیس جوانوں کے تمام جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی خاطر ٹھوس اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، جرائم کی روک تھام اور امن و امان کے قیام سمیت مختلف معاشرتی برائیوں کے خاتمے میں پولیس جوانوں کا کردار قابل صد تحسین ہے

  • پاکستان سے روزانہ لاکھوں ڈالر افغانستان میں اسمگل کیے جا رہے ہیں. بلوم برگ کا دعوی

    پاکستان سے روزانہ لاکھوں ڈالر افغانستان میں اسمگل کیے جا رہے ہیں. بلوم برگ کا دعوی

    امریکی جریدے بلوم برگ نے ہر روز لاکھوں ڈالر کی افغانستان اسمگلنگ کو پاکستان کے معاشی بحران کی وجہ قرار دے دیا ہے۔

    بلوم برگ کے مطابق پاکستان سے روزانہ لاکھوں ڈالر افغانستان میں اسمگل کیے جا رہے ہیں، اسی اسمگلنگ کی وجہ سے امریکا اور یورپ کی پابندیوں کے باوجود طالبان کی حکومت کو سہارا مل رہا ہے جب کہ پاکستان کا معاشی بحران بڑھ رہا ہے۔ پاکستان میں کرنسی ایکسچینج کی نمائندہ تنظیم ایکسچینج کمپنیز ایسویسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری محمد ظفر پراچہ کے مطابق تاجر اور اسمگلرز ہر روز پاکستان نے 50 لاکھ ڈالر افغانستان لے جارہے ہیں۔ غیر ملکی کرنسی کا غیر قانونی بہاؤ یہ ظاہر کرتا ہے کہ افغان طالبان کس طرح بین الاقوامی پابندیوں سے بچ رہے ہیں۔ جب کہ پاکستان کے لیے یہ زرمبادلہ ذخائر میں کمی اور روپے کی قدر میں بتدریج کمی کا باعث بن رہا ہے جب کہ معیشت تباہی کے دہانے پر آگئی ہے۔

    اس حوالے سے ظفر پراچہ نے کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان سے غیر ملکی کرنسی اسمگل ہورہی ہے اور یہ کافی منافع بخش کاروبار بن گیا ہے۔ اگست 2021 میں جب طالبان نے دو دہائیوں کے بعد کابل پر دوبارہ قبضہ کیا تو امریکا اور یورپ نے افغان مرکزی بینک کے 9 ارب ڈالر سے زیادہ کے زرمبادلہ ذخائر کو عسکریت پسند گروپ دہشت گردی کے لیے استعمال کئے جانے کے خدشے کے پیش نظر منجمد کردیا تھا۔ اقوام متحدہ کے دباؤ پر امریکا نے افغان معیشت کی مدد کے لیے اس کا نصف حصہ جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی لیکن طالبان کی جانب سے افغان خواتین پر تعلیم اور روزگار کے حوالے سے پابندی لگانے کے بعد اسے روک دیا۔

    17 ماہ گزرنے کے بعد بھی افغانستان بدستور تشویشناک حالت میں ہے اور انسانی حقوق کی صورتحال مزید خراب ہوتی جارہی ہے۔ مالیاتی شعبے کو مشاورت فراہم کرنے والے نجی ادارے الفا بیٹا کور سلوشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ افغانستان کو روزانہ کی بنیاد پر تقریباً ایک کروڑ سے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے، اندازہ ہے کہ اس میں آدھی رقم پاکستان سے جارہی ہے۔ دوسری جانب افغانستان کے مرکزی بینک ’’دا افغانستان بینک‘‘ کے ترجمان حسیب نوری کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کے پاس غیر ملکی کرنسی کے وافر ذخائر ہیں۔

    حسیب نوری نے کہا کہ افغان حکومت کو گزشتہ برس سے اقوام متحدہ کی جانب سے ہر ہفتے تقریباً 40 ملین ڈالر کی انسانی امداد فراہم کر رہا ہے۔ چونکہ افغانستان عالمی بینکنگ سسٹم سے کٹا ہوا ہے، اس لیے رقم کو نقدی میں کابل منتقل کیا جاتا ہے، اور اس کے آنے کے بعد اسے مقامی کرنسی میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دا افغانستان بینک کے ترجمان نے مزید کہا کہ اگرچہ اس امداد سے طالبان کو براہِ راست فائدہ نہیں پہنچتا، لیکن بالآخر ڈالر مرکزی بینک کے خزانے میں پہنچتے ہیں۔ اقوام متحدہ فوری طور پر تبصرہ کرنے کے لیے دستیاب نہیں تھا۔ واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے سابق مشیر طورق فرہادی کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ افغان کرنسی مارکیٹوں میں ڈالر کی فراہمی اور اس کے بدلے افغانی کرنسی کی حمایت کرتا ہے۔اس طرح افغانی (افغان کرنسی)کی طلب دراصل اقوام متحدہ اور ڈالر کے اسمگلروں سمیت دیگر ذرائع سے پیدا ہوتی ہے۔

    گزشتہ چند ماہ کے دوران افغان کرنسی کی قدر میں گراں قدر اضافہ ہوا ہے۔ افغان کرنسی کی قدر طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد دسمبر 2021 میں افغان کرنسی 124.18 کی کم ترین سطح کو چھونے کے بعد بڑھ کر تقریباً 89.96 افغانی فی ڈالر پر پہنچ گئی ہے۔
    اسی عرصے کے دوران پاکستانی روپے کی قدر امریکی کرنسی کے مقابلے میں تقریباً 37 فیصد کم ہوئی ہے۔ جنوری کے آخر میں اس میں ایک دن میں تقریباً 10 فیصد کی کمی واقع ہوئی، جو کم از کم دو دہائیوں میں سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 27 جنوری کو 3.09 ارب ڈالر کی سطح تک گر گئے۔

    افغانستان کی وزارت خزانہ کے مطابق گزشتہ سال کے وسط میں پاکستان کو افغانستان سے کوئلے کی برآمدات میں اضافے کے بعد کرنسی کی اسمگلنگ کا آغاز ہوا۔ اس کو طالبان کی جانب سے پاکستانی کرنسی کو افغانستان میں قانونی ٹینڈر کے طور پر استعمال کرنے پر پابندی سے بھی تقویت ملی ہے۔ حاجی محمد رسول ایسے ہی ایک تاجر ہیں جو پاکستان کو کوئلہ برآمد کرتے ہیں۔جو افغان کرنسی میں کوئلہ خرید کر اسے پاکستانی روپے میں بیچتے ہیں اور اس کے بعد اسی روپے کو ڈالر میں تبدیل کرکے واپس افگانستان میں بھجوادیتے ہیں۔ حاجی محمد رسول کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈالر تلاش کرنا مشکل ہے، اس لیے وہ پشاور جیسی جگہوں پر سرحد کے قریب گرے مارکیٹس کا استعمال کرتے ہیں، جہاں وہ سرکاری شرح سے 10 فیصد زیادہ پر ڈالر خریدتے ہیں۔ ایسا صرف وہ نہیں بلکہ تقریباً تمام تاجر ہی کرتے ہیں کیونکہ ہمیں طالبان نے پاکستانی کرنسی ملک میں واپس لانے سے منع کیا ہے۔

    افغان وزارت خزانہ کے ایک ترجمان احمد ولی حقمل نے کہا کہ طالبان حکومت کسی بھی غیر ملکی کرنسی کے بجائے ڈالر کو لانے کی ترغیب دیتی ہے لیکن زیادہ سے زیادہ 5 ہزار ڈالر ہی افغانستان سے بھیجے جاسکتے ہیں۔ ایکسچینج کمپنیز ایسویسی ایشن آف پاکستان کے محمد ظفر پراچہ کے مطابق مسئلہ پاکستان کی ”ناقص“ امیگریشن، تجارتی پالیسیوں اور بارڈر کنٹرولز کا ہے۔ روزانہ ہزاروں لوگ بغیر ویزے کے سرحد پار کر رہے ہیں۔ اور ان میں سے کئی ڈالر لے کر جا رہے ہیں۔