Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • ٹیم میں کپتان کی تبدیلی مسائل کا حل نہیں: شاہد آفریدی

    ٹیم میں کپتان کی تبدیلی مسائل کا حل نہیں: شاہد آفریدی

    لاہور:ٹیم میں کپتان کی تبدیلی مسائل کا حل نہیں:اطلاعات کے مطابق سابق کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم میں بابر اعظم کی بطور کپتان تبدیلی حل نہیں بلکہ کپتان کے مائنڈسیٹ کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔

    لاہور قلندرزنے حارث رؤف اور فخر زمان کو بھی گاڑیاں تحفے میں دے دیں

    انگلینڈ سے ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش شکست پر نجی میڈیا سے بات کرتے ہوئےسابق کپتان نے کہا کہ کپتانوں کو ہٹانا مسائل کا حل نہیں ہے، اصل مسئلہ کپتانوں کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہے اور کپتانوں کا مائنڈ سیٹ ہماری مینجمنٹ تبدیل کرے گی کہ تاکہ واضح ہوجائے کہ ہم اپنے کپتان سے کیسا مائنڈ چاہتے ہیں۔

    رونالڈو ورلڈ کپ کی بدترین الیون میں شامل

    شاہد آفریدی نے کہا کہ اگر مینجمنٹ کو ٹیم کو ٹاپ پر لے کر جانا ہے تو ٹیم کو بابر اعظم کا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنا ہوگاکیوں کہ میرے نزدیک یہ صرف بابر اعظم کی ہی غلطی نہیں یہ کھلانے والی مینجمنٹ اور سینئر کھلاڑی جو اس وقت ٹیم میں موجود ہیں ان کی بھی ہے۔

    شمالی کوریا کی بڑھتی فوجی قوت،امریکہ اورجنوبی کوریا کی جنگی مشقیں،امریکہ نے بی 52…

    سابق کپتان کا کہنا تھا کہ جنہوں نےاس ٹیم کو کھلانا ہے انہوں نے اس حوالے سے پلان بنانا ہے، ایک ایسا پلان جو کپتان کو یہ بتائے کہ ہمیں کس لیول کی کرکٹ کھلاڑیوں سے چاہیے لہٰذا اگر بابر کو اکیلے اس چیز کیلئے مورد الزام ٹھہرایا جائے تو میرے نزدیک غلط ہے۔

  • پنجاب حکومت جانے کی اطلاعات کے باوجود پرویز الہٰی کی رات گئے تک مصروفیات

    پنجاب حکومت جانے کی اطلاعات کے باوجود پرویز الہٰی کی رات گئے تک مصروفیات

    پنجاب میں بدھ کے روز سارا دن جاری رہنے والی سیاسی کشیدگی کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالہٰی کی رات گئے تک وزیراعلیٰ آفس میں سرکاری مصروفیات جاری رہیں۔وزیراعلیٰ سے صوبائی وزراء، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے ملاقاتیں کیں، ملاقاتوں کے دوران چودھری پرویزالہٰی نے اراکین اسمبلی کے مسائل کے حل کیلئے موقع پر احکامات جاری کیے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے سیاسی رفقاء سے بھی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا،اس موقع پر چودھری پرویزالہٰی نے قانونی و آئینی ماہرین سے بھی مشاورت کی۔

    ایف آئی اے نے اعظم خان کیخلاف کارروائی کیلئے خط کیوں لکھا؟اہم وجہ سامنے آگئی

    اس سے پہلے مسلم لیگ (ق) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں چودھری پرویزالہٰی کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر دیا گیا۔ممبر پنجاب اسمبلی ساجد بھٹی کی زیر صدارت مسلم لیگ قائداعظم کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ہم عمران خان کے ساتھ دل و جان سے ہیں اور ساتھ دیتے رہیں گے۔

    پارلیمانی پارٹی نے تمام فیصلوں کا اختیار وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی کو دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ق کے تمام پارٹی ارکان تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی صورت میں وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالہٰی، سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان اور ڈپٹی سپیکر واثق قیوم کو ووٹ دیں گے۔

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی کی قیادت میں مسلم لیگ قائداعظم کی پارلیمانی پارٹی متحد اور یکجان ہے۔ ارکان پارلیمانی پارٹی سیسہ پلائی دیوار کی طرح وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالہٰی ہمارے لیڈر ہیں۔

    پاکستان کی معاشی صورت حال کوبہتر کرنےکےلیے کوششیں جاری رکھیں‌گے:چینی سفیر

    اس موقع پر ق لیگ کے پارلیمانی لیڈر ساجد بھٹی نے کہا کہ مسلم لیگ قائداعظم پوری پارلیمانی، سیاسی اورعوامی قوت کے ساتھ چودھری پرویزالہٰی کے شانہ بشانہ ہے، اختلافات کا پراپیگنڈہ کرنے والوں کے مزموم عزائم ناکام ہوں گے۔اجلاس کے دوران چودھری پرویز الہٰی نے کہا کہ مسلم لیگ قائداعظم متحد ہے اور متحد رہے گی، افواہیں پھیلانے والے مخصوص ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔

    مسلم لیگ ق کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ایم پی اے ساجد بھٹی، حافظ عمار یاسر، شجاعت نواز، محمد عبداللہ وڑائچ، محمد رضوان، احسان الحق، محمد افضل، خدیجہ عمر اور باسمہ چودھری نے شرکت کی جبکہ ممبر قومی اسمبلی حسین الہٰی بھی اجلاس میں موجود تھے۔

  • بلقیس خانم :زندگی یادگار کرگئیں

    بلقیس خانم :زندگی یادگار کرگئیں

    "کچھ دن تو بسو میری آنکھوں میں”

    ,وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

    "اور”انوکھا لاڈلا”

    جیسے بے شمار مقبول گیت گانے والی گلوکارہ بلقیس خانم کراچی میں انتقال کرگئیں۔بلقیس خانم نے ریڈیو، ٹی وی کے ساتھ فلموں کے لئے بھی یاد گار گیت گائے۔ میوزک انڈسٹری نے ان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے
    وہ معروف ستار نواز استاد رئیس خاں کی بیوہ تھیں۔

  • بنجمن ڈزریلی:ناول نگار سے وزیراعظم بننے تک کا دلچسپ سفر

    بنجمن ڈزریلی:ناول نگار سے وزیراعظم بننے تک کا دلچسپ سفر

    پیدائش:21 دسمبر 1804ء
    لندن
    وفات:19 اپریل 1881ء
    مے فیئر
    شہریت:متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    مذہب:کلیسائے انگلستان
    (اپنی زیادہ تر زندگی میں)
    یہودی (13ویں سال تک)
    جماعت:کنزرویٹو پارٹی
    رکن:رائل سوسائٹی
    پیشہ:سیاست داں، ناول نگار
    مصنف، سوانح نگار
    زبان:انگریزی
    ملازمت:جامعہ گلاسگو
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)رائل سوسائٹی فیلو
    ۔ (2)آرڈر آف گارٹر
    وزیر اعظم مملکت متحدہ
    مدت منصب
    ۔ 20 فروری 1874 – 21 اپریل 1880
    حکمراں، ملکہ وکٹوریہ
    مدت منصب
    ۔ 27 فروری 1868 – 1 دسمبر 1868
    قائد حزب اختلاف
    مدت منصب
    ۔ 01 دسمبر 1868 – – 17 فروری 1874
    چانسلر
    مدت منصب
    ۔ 06 جولائی 1866 – 29 فروری 1868
    مدت منصب
    ۔ 26 فروری 1858 – 11 جون 1859
    مدت منصب
    ۔ 27 فروری 1852 – 17 دسمبر 1852

    بنجمن ڈزریلی (پیدائش: 1804ء، انتقال: 1881ء) یہودی نژاد برطانوی وزیر اعظم۔ ابتدا میں ناول لکھتے تھ۔ 1837میں پارلیمنٹ کا رکن بنے۔ 1852ء میں وزیر خزانہ اور 1837ء میں وزیر اعظم بنے۔ کچھ عرصے بعد ان کی پارٹی ہار گئی لیکن نئے انتخابات میں کامیاب ہو کر 1874ء سے 1880ء تک پھر وزیر اعظم رہے۔ ان کے عہدِ وزارت میں مزدوروں کی بہبود کے لیے کارخانوں میں نئی اصلاحات کی گئیں۔ نہر سویز کے حصص خریدے گئے اور ملکہ وکٹوریہ ہندوستان کی ملکہ بنی۔

  • نینا جوگن:جس کی بولتی شاعری نے ایک نیا رنگ دیا

    نینا جوگن:جس کی بولتی شاعری نے ایک نیا رنگ دیا

    مشتاق ہیں مدت سے کچھ اشعار سنیں گے
    دیکھو جو کہیں بزم میں ” جوگن” نظر آئے

    : نینا جوگن

    تاریخ ولادت:21 دسمبر 1964ء
    تعلیم:بی اے (آنرز) فرسٹ کلاس فرسٹ
    بی ایڈ، مولوی، عالم، فاضل
    تصنیف:تمھارے نام (شعری مجموعہ)
    فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی
    لکھنؤ کے تعاون سے شائع
    مصروفیات:پڑھنا، لکھنا اور کھانا پکانا
    ادارت:معاون مدیر، سہہ ماہی ”کوہسار“ جرنل
    پتا:کوہسار، بیکھن پور-3، بھاگل پور-

    نیناجوگن:کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ فرضی نام ہے، حقیقت جو بھی ہو لیکن اس نام سے بہت سی کہانیاں شائع ہوئی ہیں، 1974ء کے بعد ہندوستان کے بیشتر رسائل میں ان کے افسانے شائع ہورہے ہیں، ان کے افسانوں میں زندگی کے حقائق اور اندرونی کیفیات کی سچی اور تیکھی ترجمانی ملتی ہے۔
    (’’بشکریہ بہار میں اردو افسانہ نگاری ابتدا تاحال مضمون نگار ڈاکٹر قیام نیردربھنگہ‘‘’’مطبع دوئم 1996ء‘‘)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    نہ کوئی رند ، نہ ساقی ، نہ چھلکتی پیالی
    کہیں ٹوٹا ہوا شیشہ کہیں ساغر خالی
    آگیا روپ جو سبزے پہ تو کلیاں چٹکیں
    غنچہ و گل میں تلی خیر سے ڈالی ڈالی
    پھر چھماچھم کی بہاروں سے کھِلے دل کے کنول
    صحنِ گلشن میں ہوا آگئی اُتّر والی
    ہائے کیا وقت ہے کیا فصل ہے کیا موسم ہے
    کیف سے جس کے ہر اک آنکھ ہوئی متوالی
    یہ ہوائیں یہ نظارے یہ بہاریں یہ سماں
    دیکھتی ہے وہی پتلی جو ہے قسمت والی
    کوئی سنتا ہی نہیں نیناؔ کہانی آکر
    جی میں آیا تو خود اپنے ہی لئے دُہرالی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اے جذبِ محبت تری تاثیر سے شاید
    کچھ راہ پہ آئے کہ سرِ رہ گزر آئے
    اے دل کبھی آنا نہ لگاوٹ میں کسی کی
    ظاہر میں وہ اپنے ہیں پہ باطن میں پرائے
    ہرجائی کہا میں نے تو وہ غصہ میں آکر
    آنکھوں میں ابھی تھے ابھی دل میں اُتر آئے
    اڑتا ہے جبیں سائی سے سنگِ درِ جاناں
    یہ میری کرامت ہے کہ پتھر کے پتر آئے
    ملتے ہیں سرِ راہ تو کرتے ہیں شکایت
    جاتی ہوں تو کہتے ہیں کہ کہئے کدھر آئے
    مشتاق ہیں مدت سے کچھ اشعار سنیں گے
    دیکھو جو کہیں بزم میں جوگنؔ نظر آئے

  • محمد عامر ذوالفقارآئی جی پولیس پنجاب تعینات:نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔

    محمد عامر ذوالفقارآئی جی پولیس پنجاب تعینات:نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔

    وفاقی حکومت نے آئی جی پنجاب کی تبدیلی اور نئی آئی جی کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔نوٹیفیکیشن کے مطابق محمد عامر ذوالفقار آئی جی پولیس پنجاب تعینات کردیا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےعامرذوالفقارکی تعیناتی کانوٹیفیکیشن جاری کردیا۔

     

    گریڈ21 کے عامرذوالفقار ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل اے این ایف تعینات تھے۔ عامرذوالفقارآئی جی پولیس اسلام آبادبھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔

    خیال رہے کہ آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے گزشتہ روز اپنے عہدے کا چارج چھوڑ دیا ہے، انہوں نے طویل چھٹی کے بعد چارج چھوڑنے کی سمری سیکرٹری سروسز کو ارسال کردی ہے۔فیصل شاہکار کو اقوام متحدہ نے بطور ایڈوائزر پولیس نامزد کیا تھا اور اب فیصل شاہکار ایڈوائزر پولیس کا عہدہ سنبھالیں گے۔

     

    دوسری طرف وفاقی حکومت نے سیاسی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پنجاب بھر میں رینجرز اور ایف سی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی اقدام کے تحت وفاقی قانون نافذ کرنے والے ادارے امن وامان اور صوبے میں آئین اور قانون کی عملداری سے متعلق امور سرانجام دیں گے۔

     

     

     

    ذرائع کے مطابق وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ نے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو امن وامان قائم رکھنے، عوام کے جان ومال کی حفاظت اور اپنے فرائض آئین اور قانون کے مطابق ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    متعلقہ حکام کو وزارت داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ کوئی بھی سرکاری افسر یا اہلکار آئین کے برعکس کسی بھی عمل کا حصہ نہ بنے۔

  • گورنر پنجاب کا وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ

    گورنر پنجاب کا وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ

    لاہور:گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نوٹیفکیشن کچھ دیر میں جاری کردیا جائے گا۔ بلیغ الرحمان نے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے سے متعلق معاملے پر رولنگ مسترد کردی۔

    ایف آئی اے نے اعظم خان کیخلاف کارروائی کیلئے خط کیوں لکھا؟اہم وجہ سامنے آگئی

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے پی ڈی ایم کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کی تھی، جس کیلئے 21 دسمبر شام 4 بجے اجلاس بلایا گیا تھا۔اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اعتماد کے ووٹ سے متعلق گورنر کی ایڈوائس نظر انداز کرتے ہوئے رولنگ دی اور اسمبلی اجلاس جمعہ تک ملتوی کردیا تھا۔گورنر پنجاب نے اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی رولنگ کو مسترد کرتے ہوئے اس کا جواب دیدیا۔

     

    جواب میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت گورنر کے پاس تمام اختیارات ہیں جس کے تحت وہ اعتماد کے ووٹ کا کہہ سکتے، بطور اسپیکر پنجاب اسمبلی آپکو آئین کی شق کے تحت وزیراعلیٰ پنجاب کو اعتماد کے ووٹ کا کہنا تھا۔گورنر پنجاب کا کہنا ہے کہ آپ (اسپیکر) کی رولنگ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، آپ نے آئین کے تحت حلف اٹھایا ہے، آپ اس سے انحراف نہیں کرسکتے۔

    بلیغ الرحمان کا جواب میں کہنا ہے کہ آئین میں کہیں نہیں کہ اجلاس کے ہوتے ہوئے اعتماد کا ووٹ نہ لیا جا سکے، اسمبلی رولز 209 اے کے تحت اگلا سیشن فوری بلا سکتے ہیں۔

    ق لیگ پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کے10 ارکان کا چوہدری پرویز الٰہی پراظہاراعتماد

     

    اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے کہا کہ گورنر پنجاب اسپیکر کی رولنگ مسترد نہیں کرسکے، اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کسٹوڈین ہوتا ہے، پنجاب اسمبلی کا اجلاس گورنر پنجاب کا بلایا ہوا نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب وزیراعلیٰ پنجاب کو ڈی نوٹیفائی نہیں کرسکتے، اگر ایسا ہوا تو پھر صدر بھی گورنر کو گھر بھیج سکتے ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب اپنی اکثریت ثابت کریں گے، تحریک عدم اعتماد کو اور اعتماد کے ووٹ کو بھی ڈیل کریں گے۔سبطین خان نے کہا کہ جو بھی آئین کے مطابق چلے گا وہ جیت جائے گا، ہر کوئی کہتا ہے کہ ہم آئین کے ساتھ چل رہے ہیں، اب دیکھنا ہوگا کہ آئین کس کے ساتھ چل رہا ہے۔

  • پی سی بی معاملات چلانے کیلئے کمیٹی تشکیل، نجم سیٹھی سربراہ، شاہد آفریدی ممبر

    پی سی بی معاملات چلانے کیلئے کمیٹی تشکیل، نجم سیٹھی سربراہ، شاہد آفریدی ممبر

    اسلام آباد:وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات چلانے کیلئے نجم سیٹھی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی۔اطلاعات کے مطابق وزیراعظم آفس نے کمیٹی کی تشکیل سے متعلق وزارت بین الصوبائی رابطہ کو خط لکھ دیا، 14 رکنی کمیٹی 120 روز تک پی سی بی کے معاملات دیکھے گی۔

    کمیٹی نجم سیٹھی کی سربراہی میں کام کرے گی، 2014 کے آئین کی بحالی سے متعلق درپیش مسائل بھی کمیٹی کے سپرد کر دئیے گئے، کمیٹی میں شفقت رانا، شاہد آفریدی، شکیل شیخ، نعمان بٹ بھی شامل ہوں گے۔

    کابینہ کی منظوری سے کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، کمیٹی میں گل زادہ، ہارون رشید، ثنا میر، گل محمد کاکڑ بھی شامل، ایزد سید، ایاز بٹ، مصطفی رمدے، چودھری عارف سعید بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔

    رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح نمو اعلان کردہ ہدف سے3 یا 4فیصد سے کم رہے گی.رپورٹ

    پی سی بی آئین 2014 کی بحالی اور 2019 کی منسوخی کی سمری بھی منظور کرلی گئی، وفاقی کابینہ نےسرکولیشن کے ذریعے سمری کی منظوری دی۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نجم سیٹھی کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) چیئرمین بنانے کی منظوری دے دی تھی

    صدرمملکت عارف علوی سےاوآئی سی کے نمائندہ برائےسائنسی تکنیکی تعاون کی ملاقات

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم کو آئی پی سی وزارت کی جانب سے سمری میں 2 نام موصول ہوئے تھے۔اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے کرکٹ بورڈ میں 2 نام بھجوائے گئے، دونوں کی منظوری دے دی گئی۔

  • پنجاب کا آئنی بحران:گورنر پنجاب کی طرف سے12بج کرایک منٹ کے بعد اہم اقدام اٹھانے کا فیصلہ

    پنجاب کا آئنی بحران:گورنر پنجاب کی طرف سے12بج کرایک منٹ کے بعد اہم اقدام اٹھانے کا فیصلہ

    لاہور:گورنر پنجاب کی ايڈوائس نظر انداز کردی گئی۔ پنجاب اجلاس ہوا نہ وزیراعلیٰ نے اعتماد کا ووٹ لیا پرويزالہٰی وزيراعليٰ ہيں يا نہيں؟ آئيني اور قانونی سوال اٹھ گئے۔دوسری طرف وزير داخلہ رانا ثناء اللہ کہتے ہيں پرويزالہٰی کو اعتماد کا ووٹ تو لينا ہی پڑے گا۔ غیرآئینی اقدام پر پرویزالہٰی چیف منسٹرنہیں رہیں گے۔ گورنر ڈیکلریشن میں کہہ سکتے ہیں کہ آپ منتخب وزیراعلیٰ نہیں رہے۔

    ٹھٹھہ : 24 گھنٹے عوام کی خدمت کیلئے میرے دروازے کھلے ہیں -منظور احمد خشک

    دوسری جانب گورنرہاؤس لاہور میں اپوزیشن جماعتوں کا مشاورتی اجلاس ہوا،جس میں وزیراعلیٰ پنجاب کے اعتماد کاووٹ نہ لینے کے معاملے پر مختلف قانونی نکات پرمشاورت کی گئی۔پی ڈی ایم ذرائع کے مطابق رات 12 بج کر ایک منٹ کے بعد گورنر پنجاب کسی بھی وقت وزیراعلی پنجاب پرویزالہیٰ کوڈی نوٹی فائی کرسکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ مقررہ وقت گزرتا جارہا ہے لیکن ایوان کا اجلاس نہ ہو سکا، پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ رہیں گے یا نہیں؟ تمام نظریں گورنر ہاؤس پر مرکوز ہیں، ایوان وزیر اعلیٰ لاہور کے باہر کنٹینرز بھی پہنچا دیئے گئے ہیں۔

    رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح نمو اعلان کردہ ہدف سے3 یا 4فیصد سے کم رہے گی.رپورٹ

    دریں اثنا ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کہتے ہیں کہ گورنر پنجاب کے فیصلے کا انتظار ہے، اس کے بعد اگلا لائحہ عمل دینگے، انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس قانونی آپشن موجود ہیں۔

    اس سے قبل گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے سپیکر پنجاب اسمبلی کا خط مسترد کر دیا، گورنر کی جانب سے اعتماد کے ووٹ کیلئے دوبارہ ایڈوائس جاری کئے جانے کا امکان ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر ہاﺅس میں اپوزیشن اتحاد کا اجلاس جاری ہے، گورنر بلیغ الرحمن نے سپیکر پنجاب اسمبلی کا خط مسترد کر دیا، گورنر کی جانب سے دوبارہ ایڈوائس جاری کئے جانے کا امکان ہے جبکہ اجلاس میں تمام قانونی اور آئینی نکات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ کو آج شام 4 بجے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا تھا، سپیکر پنجاب اسمبلی نے گورنر بلیغ الرحمن کی ایڈوائس کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

  • ایف آئی اے نے اعظم خان کیخلاف کارروائی کیلئے خط کیوں لکھا؟اہم وجہ سامنے آگئی

    ایف آئی اے نے اعظم خان کیخلاف کارروائی کیلئے خط کیوں لکھا؟اہم وجہ سامنے آگئی

    وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے سائفر کیس کی تحقیقات میں سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے خلاف کارروائی کیلئے خط لکھ دیا۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے عدم پیشی پراعظم خان کے خلاف کارروائی کیلئے خط اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو لکھا۔

    ننکانہ : باباگورونانک یونیورسٹی میں کلاسز کی افتتاحی تقریب کا انعقاد

    ذرائع نے بتایا کہ ایف آئی اے نے اعظم خان کو پیشی کیلئے کم و بیش دو بار خط لکھا لیکن اعظم خان نے ایف آئی اے مراسلوں کے باوجود تفتیش کا حصہ بننے سے گریز کیا۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اعظم خان بیرون ملک چھٹی پر گئے مگر ابھی تک واپس نہیں آئے۔

    کہ وزیراعظم آفس سے غائب ہونے والا سائفر آخری مرتبہ عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے وزیراعظم کو دکھانے کے لئے وصول کیا تھا اور پھر ان تک پہنچا بھی دیا تھا۔ لیکن اس کے بعد وہ غائب ہو گیا اور اب تک اس کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔

    ٹھٹھہ : 24 گھنٹے عوام کی خدمت کیلئے میرے دروازے کھلے ہیں -منظور احمد خشک

    عمران خان کی وزارت عظمٰی کے آخری دنوں میں پراسرار طور پر غائب کر دیئے جانے والے سائفر بارے میں کی جانے والی تحقیقات کے دوران پتہ چلا ہے کہ اس سال مارچ کے دوسرے ہفتے میں پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے سائفر کی کاپیاں پانچ اہم حکومتی اور ریاستیں شخصیات کو بھیجی گئی تھیں لیکن سوائے وزیراعظم آفس کے دیگر تمام لوگوں نے سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کے مطابق ایک ماہ کے اندر دستاویز فارن آفس کو واپس کر دی تھیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر کے نامزد جوائنٹ سیکرٹری کو، جو کہ ایسی حساس دستاویزات وزیر اعظم کو دکھانے کے بعد انہیں واپس اپنی تحویل میں رکھنے کا مجاز ہے، اسے سائفر کی کاپی واپس نہیں کی گئی تھی۔ پی ایم آفس کی فائلوں میں بھی اس سائفر کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں جسے تب کے وزیراعظم عمران خان کو انکے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے دیا تھا۔

    واضح رہےکہ ایف آئی اے عمران خان کی اعظم خان سے سائفر پر گفتگو سے متعلق انکوائری کررہی ہے۔ عمران خان کے دور میں اعظم خان ان کے سیکرٹری کے طور پر فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں۔