Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • کراچی:کےایم سی کے50 کروڑ روپے کےٹھیکوں میں بندربانٹ

    کراچی:کےایم سی کے50 کروڑ روپے کےٹھیکوں میں بندربانٹ

    کراچی:کے ایم سی کے 50 کروڑ روپے کے ٹھیکوں میں بندر بانٹ کا انکشاف ہوا ہے۔شہر میں بارش کے بعد ایمرجنسی کے نام پر 50 کروڑ روپے لاگت کے ٹھیکے بغیر ٹینڈر منظور نظر ٹھیکیداروں کو دیے گئے۔

    ذرائع کے مطابق تمام ٹھیکے شہر میں ہونے والی بارشوں کے باعث ٹوٹی سڑکوں کے حوالے سے دیے گئے ہیں۔50 کروڑ روپے لاگت کے ٹھیکے ایڈوانس کاموں کی مد میں خاص ٹھیکے داروں کو دیے گئے ہیں۔اطہر کاظمی، سعید اور تنویر احمد نامی ٹھیکیداروں کو کے ایم سی محکمہ انجینیئرنگ کی جانب سے یہ ٹھیکے دئے گئے، ٹھیکوں کی بندر بانٹ میں سپپرا کے رولز 15 اور 16 کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

    محکمہ انجینیئرنگ کے ایم سی کے ڈی جی اظہر شاہ اور چیف انجنیئر رزاق جونیجو کی ملی بھگت سے ٹھیکے منظور نظر ٹھیکے داروں کو دئے گئے۔محکمہ انجینیئرنگ کے ایم سی کے نئے تعینات ڈی جی اظہر شاہ 18 گریڈ کے افسر ہیں۔

    20 گریڈ کی محکمہ انجینیئرنگ کے ایم سی کی پوسٹ پر اظہر شاہ کی تعیناتی کو وزیراعلیٰ سندھ کے آشیرباد سے جوڑا جا رہا ہے، اظہر شاہ کو وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کا قریبی رشتے دار بتایا جاتا ہے۔50 کروڑ روپے لاگت کے ٹھیکوں کی بندر بانٹ کے بعد 1 ارب روپے کے آنے والے ٹھیکوں کی بھی منظور نظر ٹھیکیداروں کو دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

  • اردوہی کیوں ضروری ہے؟خاص تحریر:علی عمران شاہین

    اردوہی کیوں ضروری ہے؟خاص تحریر:علی عمران شاہین

    سات سال بھی بیت گئے اور عدالت عظمیٰ کا نفاذ اردو کا فیصلہ اور حکم بھی کاغذات اور فائلوں کی دبیز تہوں میں دفن ہی رہا۔پاکستان کے منصف اعظم کی کرسی پر محض چند دن کے لیے متمکن ہونے والے منصف جواد ایس خواجہ نے اپنے وداع کے دن یہی آخری فیصلہ سنایا تھا کہ”آئین کا حکم پورا کیا جائے اور اردو کو فوری اور ہر سطح پر مکمل نافذکر دیا جائے۔”

    ویسے کیسی حیرت کی بات ہےکہ ہر سطح پر نفاذ اردو حضرت قائد اعظم کا بھی حکم تھا جنہوں نے ڈھاکا میں کھڑے ہوکر فرمایا تھا کہ” ہماری قومی و سرکاری زبان صرف اور صرف اردو ہو گی اور جو کوئی اس پر آپ کو گمراہ کرے گا وہ آپ کا سب سے بڑا دشمن ہو گا۔”پھر 1948، 1956 ،1961 اور پھر 1973 کا آئین بنا تو ہر جگہ اردو کو قومی و سرکاری زبان تسلیم کیا گیا اور موجودہ آئین میں واضح طور پر دفعہ251 کی شق 1 میں لکھا گیا کہ 15 سال کے اندر اندر قومی زبان اردو کو ہر سطح پر لاگو اور نافذ کر دیا جائے گا لیکن افسوس در افسوس یہ بھی نہ ہو سکا۔

    اسی پر پاکستان کے حقیقی محب و درد مند نفاذ اردو کی درخواست لے کر 2003 میں عدالت عظمیٰ پہنچے اور قائد اور آئین کا حکم پورا کرنے کے لیے التجائیں کیں لیکن یہ درخواستیں ریکارڈ روم کا حصہ بن گئیں تاآنکہ جواد ایس خواجہ نے 2015 میں انہیں وہاں سے کھوج نکالا اور پھر عمل درآمد کا حکم دیا۔کس قدر حیرت کی بات ہے کہ حضرت قائد ،آئین اور عدالت عظمیٰ بلکہ اس کے منصف اعلیٰ تک کا حکم سب کچھ 75 سال سے پاؤں تلے روندا جا رہا ہے اور کسی کو یہاں کوئی توہین آئین شکنی یا توہین عدالت و جج یا آئین کی یوں پامالی جو غداری بھی ہے معمولی بھی نظر نہیں آتی۔

    ابھی ہم نے چند ماہ پہلے دیکھا کہ اسی عدالت عظمیٰ کے منصف اعظم نے کراچی میں بیسیوں غریب و بے کس لوگوں کا آشیانہ نسلہ ٹاور کس بے دردی سے ریزہ ریزہ کروا دیا کہ حضور کا اقبال بلند رہے اور حکم نافذ ہوتا نظر آئے اور یہ سب ہو گیا لیکن اگر کسی حکم پر کبھی عمل نہیں ہوا تو وہ نفاذ اردو کا معاملہ ہے۔
    یہ کتنی کھلی حقیقت ہے جو ہم آج تک سمجھ نہیں سکے یا سمجھنے پر تیار نہیں کہ قوم کو جاہل اجڈ اور غیر ترقی یافتہ رکھنے میں سب سے بڑی وجہ اردو کا نافذنہ ہونا ہے لیکن ہم اس کو ماننے پر تیار نہیں۔ پوری دنیا پر نگاہ دوڑا لیں، ہر ترقی یافتہ قوم آپ کو اپنی زبان ہی پڑھتی،اس میں پڑھاتی اور سیکھتی سکھاتی ملے گی سوائے ہمارے بدقسمت ایک ملک کے۔

    براعظم یورپ میں 28 ملک گنے جاتے ہیں لیکن سوائے برطانیہ کے کسی کی زبان انگریزی نہیں اور سب کا نظام شاندار و مثالی اور بہترین چل رہا ہے.
    جاپان ہو یا چین، روس ہو کوریا،سارا یورپ ہو یا ترکی بلکہ ان سے بھی آگے ایران تک میں سب کا سب کچھ ان کی اپنی مقامی زبانوں میں ہے،جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی وہ بھی سیکھتے ہیں، اور وہ ہم سے کتنے آگے ہیں؟ بتانے کی ضرورت نہیں اور ہم عقل کے سارے پردوں کو تالے لگا کر اور اپنی زبان اردو چھوڑ کر انگریزی کی پوجا میں مصروف بلکہ اس گوری ماتا کے قدموں میں اپنی ساری نسل کو ذبح کر رہے ہیں، کیونکہ فیل ہونے کو جو مضمون رکھا گیا ہے وہ انگریزی ہی تو ہے۔

    یہ بھی حقیقت کتنی بار کر ہم دیکھ چکے اور جب گزشتہ حکومت نے سارا نظام تعلیم مکمل انگریزی کیا تو تاریخ میں سب سےزیادہ طلبہ فیل ہو کر ہمشیہ کے لیے ناکارہ قرار پا گئے، وجہ؟ صرف بدیسی زبان انگریزی۔

    ذرا سوچئیے کہ
    اگر وہ سب ملک سب کچھ اپنی زبانوں میں پڑھ سیکھ بول کر آگے جا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟
    چند دن قبل مجھے ایک سیاح کی بنگلا دیش میں سیاحتی ویڈیو دیکھنے کا موقع ملا تو وہ بتا رہا تھا کہ یہاں سب گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں بنگلا زبان میں ہیں اور مجھے سمجھنے میں شدید دقت پیش آرہی ہے۔

    جی ہاں ، یہ بات ہے بنگلا دیش کی اور کسی کو دقت ہوتی ہے ہوتی رہے بنگلادیش لیکن اسی روش پر قائم ہے جس پر سب ترقی یافتہ و مہذب قومیں عمل پیرا ہیں اور آج ہمارے ہاں سمیت ہر جگہ اسی بنگلا دیش کی ہی تو مثالیں دی جاتی ہیں کہ اس نے یہ کمال کردیا، وہ کردیا اتنی ترقی کر لی اتنا آگے نکل گیا، لیکن اس کے اس پہلو پر کوئی غور نہیں کرتا۔

    اردو وہ زبان ہے کہ جو آج دنیا میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بھی مجموعی طور پر دوسری بڑی زبان قرار دی جاتی ہے اور باقی سب لوگ تو اسے پانچ بڑی عالمی زبانوں میں ضرور شامل کرتے ہیں اور یہ کیفیت قیام پاکستان سے بہت پہلے کی ہے۔

    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم جدید علوم بغیر انگریزی کے کیسے حاصل کریں ؟ لیکن انہیں اپنے سے بہت چھوٹے لیکن بہت ترقی یافتہ ، ہالینڈ ، پولینڈ ناروے کے ساتھ ترکی اور ایران نظر نہیں آتے جو یہ سب کچھ اپنی زبانوں میں کررہے ہیں،ہم نے انگریز کی غلامی کی ، اس نے ہم پر انگریزی لادی ، اس کا سو ڈیڑھ سو سال اور آزاد کے بعد 75 سال گزار کر بھی ہم میں آج کتنے ہیں جنہیں انگریزی ٹھیک آتی ہو ؟

    حال یہ ہے کہ پاکستان کا 90 فیصد میڈیا اردو میں ہے اور جو دو انگریزی چینل شروع ہوئے تو ان میں ایک چند ماہ بعد بند اور دوسرا اردو ہو گیا، کہ یہ سب ہمارے ہاں بدیسی ہے،ہم نے اردو کو چھوڑا، انگریزی کو اپنایا اور حال یہ ہے کہ باہر نکل کر دیکھیں بالکل صحیح و درست انگریزی شاید ہی کسی کو آتی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ اس کا ہمارے معاشرے و سماج اور ہمارے رگ و پے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

    سچی بات یہ ہے کہ اگر آج بھی ہم اردو کو مکمل نافذ و رائج کر دیں تو قوم بہت تیزی سے آگے جا سکتی ہے اور ہم نے جو قابلیت کا معیار انگریزی کو بنایا ہے اس سے جب نجات ملے گی تو بے شمار ٹیلنٹ ضائع نہیں ہو گا بلکہ ہمارے کام آئے گا۔ ہماری اگلی نسل لفظوں سطروں کی رٹو نہیں بنے گی بلکہ علم سیکھے گی،
    بطور مسلمان یہ بھی یاد رکھیں کہ عربی کے بعد دین کی تحقیق و تحریرکا سب سے زیادہ کام اردو میں ہوا ہے اور شاید جلد پہلے نمبر پر ہو گا جب کہ انگریزی میں تو اس کا پاسنگ بھی نہیں۔

    اردو ایسی کمال زبان ہے کہ گورے بھی اسے بہت جلد وباآسانی سیکھ لیتے ہیں جب کہ انگریزی کا حال بتانے کی ضرورت نہیں۔اسی ضمن کی ایک اور بات،
    اردو دنیا کی وہ باکمال زبان ہے کہ جس میں دنیا کی ہر زبان کے حروف و حرکات ادا کرنے کی صلاحیت موجود ہے جب کہ اسے چھوڑ کر سب کچھ انگریزی ماتا کے حوالے کرنے والے یاد رکھیں کہ عربی زبان کے اکثر حروف و حرکات کا متبادل انگریزی میں ہے ہی نہیں اور یوں ہماری اگلی نسلیں کلمہ طیبہ تک ٹھیک نہیں پڑھ پائیں گی اور یہ ہم دیکھ بھی رہے ہیں ۔

    ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ہمارے ہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی شدید کمی ہے تو انگریزی کے غلام تیار کرکے ہم اپنا بچا کھچا ٹیلنٹ بھی باہر کی دنیا کے حوالے کر دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ برین ڈرین ہورہا یعنی قابل لوگ اور قابلیت باہر جا رہی ہے،یہ تو ہونا ہی ہے جب آپ نے اپنا آپ سمجھا ہی نہیں تو نتیجہ یہی تو ہوگا۔

    آج کی دنیا کی سب سے بڑی معاشی و ترقی یافتہ طاقت چین نے تو اپنے ملک میں صرف اپنی زبان رکھی ہے اور انگریزی پر مکمل پابندی ہی عائد کی ہوئی ہے، اب بتائیے کہ وہ اتنی زیادہ اور انتہائی تیز رفتار ترقی کیوں کر رہا ہے؟ ویسے ہم نے اگر بدیسی زبان ہی اپنانی ہے تو انگریزی ہی کیوں ؟ چینی کیوں نہیں ؟ جو دوست بھی ہے اور دروازے پر بھی۔ لیکن اصل میں ہم جن کے غلام بن چکے ان سے نجات چاہتے بھی نہیں۔

    کمال حیرت کی ایک اور بات سنیں کہ ہمیں انگریزی کا غلام رکھنے کے لیے سب سے زیادہ تعلیمی فنڈ و معاونت جرمنی اور ہالینڈ دیتے ہیں جن اپنے ہاں انگریزی ہے ہی نہیں۔ یوں غلامی کی تہ در تہ چادریں پر ہم تن کر سخت سے سخت ہی ہوئے جا رہی ہیں۔
    اللہ کرے ہمیں آج بھی کچھ سمجھ آ جائے

  • دبئی:پاکستان کی جیت پرافغانیوں کی طرف سےپاکستانیوں پرتشدد اوراسٹیڈیم کی توڑپھوڑ:97 افغانی گرفتار

    دبئی:پاکستان کی جیت پرافغانیوں کی طرف سےپاکستانیوں پرتشدد اوراسٹیڈیم کی توڑپھوڑ:97 افغانی گرفتار

    دبئی:دبئی:پاکستان کی جیت پرافغانیوں کی طرف سےپاکستانیوں پرتشدد اوراسٹیڈیم کی توڑپھوڑ:97 افغانی گرفتار،اطلاعات کے مطابق کل متحدہ عرب امارات میں ایشیا کپ کے میچ میں پاکستان کی جیت پر افغان تماشائیوں کی طرف سے پاکستان کےخلاف نعرے بازی اورپھر پاکستانیوں پرشدید تشدد کی خبروں نے پاکستان سمیت دنیا بھرکو غمگین کردیا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس دوران افغان تماشائیوں نے متحدہ عرب امارات کے اس اسٹیڈیم میں توڑپھوڑ کی اور اسٹیڈیم کو نقصان پہنچایا، جس پر عرب امارات کی حکومت حرکت میں آگئی اور پھر متحدہ عرب امارات میں اسٹیڈیم کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچانے اور اسٹیڈیم کے ارد گرد لڑنے والے 97 افغان باشندوں کو گرفتار کیا گیا۔ یہاں تک کہ متحدہ عرب امارات کے دیگر حصوں سے 117 افراد کو گرفتار کیا گیا جو ہوسٹلز اور کمروں میں پاکستانیوں سے لڑ رہے تھے۔

    کل 391 افراد کو گرفتار کیا گیا جو ممکنہ طور پر بھاری جرمانے ادا کریں گے اور متحدہ عرب امارات کے ویزا پر تاحیات پابندی کے ساتھ متحدہ عرب امارات سے ڈی پورٹ بھی ہو جائیں گے۔

    یاد رہے کہ کل دبئی میں ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کےبعد افغانستان کو شکست دی تھی جس پر پہلے افغان کھلاڑی نے پاکستانی کرکٹرآصف سےبدتمیزی کی اور بُرے القاب کے ساتھ پکارا ، اس کے بعد جب پاکستان میچ جیت گیا تو پھر اسٹیڈیم میں موجود افغان تماشائیوں نے پاکستانیوں پر تشدد کیا اوراسٹیڈیم میں توڑپھوڑ کی جس پر عرب امارات کی حکومت نے سخت فیصلہ کیاہے

  • نسیم شاہ میں جاوید میانداد کی روح آگئی:مومن ثاقب کا نسیم شاہ کو اپنا ’گردہ ‘ دینے کا اعلان

    نسیم شاہ میں جاوید میانداد کی روح آگئی:مومن ثاقب کا نسیم شاہ کو اپنا ’گردہ ‘ دینے کا اعلان

    لاہور:افغانستان کے خلاف سنسنی خیز مقابلے میں آخری اوورز میں پاکستان کی آخری جوڑی کے کھلاڑی نسیم شاہ کی طرف سے چھکے پرچھکا مارکرپاکستان کو میچ جتانے کے وہ لمحات اس قدر مقبول ہوگئے ہیں کہ شائقین کی خوشی کی انتہا نہی رہی ، کوئی کہہ رہاہے کہ نسیم شاہ میں جاوید میانداد کی روح آگئی:مومن ثاقب نےنسیم شاہ کو اپنا ’گردہ ‘ دینے کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا ہے

    ایشیا کپ 2022 میں افغانستان کیخلاف فاسٹ بولر نسیم شاہ کے دو چھکوں پر اداکار مومن ثاقب بھی جذباتی ہو گئے اور اسٹیڈیم میں نسیم شاہ کے لیے دلچسپ گفتگو کی۔میچ کے بعد اسٹیڈیم سے مومن ثاقب کی ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں انھیں جذبات میں نسیم شاہ کو کہیں جان اور کہیں شہزادہ کہتے دیکھا گیا۔

    مومن ثاقب نے نسیم شاہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آخری اوور میں نسیم شاہ نے دو چھکے مار دیے، نسیم شاہ ہماری جان ہے، نسیم شاہ ہمارا شہزادہ ہے۔

    جذبات میں مومن ثاقب نے نسیم شاہ کو پلاٹ دینے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی کہا کہ نسیم شاہ کو میری طرف سے میرا گردہ بھی۔مومن ثاقب کا کہنا تھا کہ شارجہ میں جاوید میانداد کے بعد چھکے مارنے والا نسیم شاہ ہمیشہ یاد رہے گا، نسیم شاہ میں جاوید میانداد کی روح آگئی تھی ، یہ نسیم میانداد ہے۔

    یاد رہے کہ متحدہ عرب امارات میں جاری ایشیا کپ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے سپر فور مرحلے میں پاکستان نے دلچسپ مقابلے کے بعد افغانستان کو ایک وکٹ سے شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا ہے۔

    پاکستان نے افغانستان کی جانب سے دیا گیا 130 رنز کا ہدف آخری اوور میں نسیم شاہ کے مسلسل 2 چھکوں کی بدولت پورا کر کے تاریخی فتح سمیٹی۔

  • سیلاب زدہ علاقوں میں مستقل ٹول فیس کی چھوٹ ممکن نہیں:عارضی چھوٹ پرغورکریں گے:این ایچ اے

    سیلاب زدہ علاقوں میں مستقل ٹول فیس کی چھوٹ ممکن نہیں:عارضی چھوٹ پرغورکریں گے:این ایچ اے

    اسلام آباد:سیلاب زدہ علاقوں میں مستقل ٹول فیس کی چھوٹ ممکن نہیں:عارضی چھوٹ پرغورکریں گے،اطلاعات کے مطابق این ایچ اے نے کہا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں عارضی ٹول فیس چھوٹ پر غورکریں گے تاہم سیلاب زدہ علاقوں میں مستقل ٹول ٹیکس چھوٹ ممکن نہیں ۔

     

     

    اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی مواصلات کمیٹی کا اجلاس چیئرمین عبدالغفاروٹوکی زیر صدارت ہوا۔سیلاب کی تباہ کاریوں اور روڈ انفراسٹرکچر بحالی پر این ایچ اے حکام نے بریفنگ دی۔ ارکان اسمبلی نے سیلاب زدہ علاقوں میں ٹول ٹیکس چھوٹ کا مطالبہ کردیا اور استفسار کیا کہ جہاں سڑکیں ٹوٹ چکی ہیں، وہاں ٹول ٹیکس کیوں لے رہے ہیں؟۔

     

    کمیٹی رکن محمد جمالی نے کہا کہ این 65 کی وجہ سے بلوچستان سیلاب میں ڈوب گیا، طویل مدت سے پُل بنانے کا کہہ رہے ہیں،لیکن کوئی سن نہیں رہا اور بارشوں میں بلوچستان ہر سال ڈوب جاتا ہے۔کمیٹی رکن ابرار شاہ کا کہنا تھا کہ نوشہرو فیروز میں ٹوٹی سڑک پر بھی ٹول ٹیکس لیا جا رہا ہے، آج سے ہم ٹول ٹیکس نہیں دیں گے اور امید بھی نہ رکھیں۔

     

     

    این ایچ اے کے جنرل منیجر پلاننگ نے کمیٹی کو بتایا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں عارضی ٹول فیس چھوٹ پر غورکریں گے تاہم سیلاب زدہ علاقوں میں مستقل ٹول ٹیکس چھوٹ ممکن نہیں ۔جی ایم پلاننگ این ایچ اے کا کہنا تھا کہ جہاں پانی کھڑا ہے یا سڑکیں مکمل بہہ گئی ہیں، وہاں بحالی میں وقت لگ رہا ہے،کوشش ہے کہ 3 ماہ کے اندر متاثرہ علاقوں میں سڑکیں مکمل تیارہوجائیں۔

     

  • کور کمانڈر پشاور کی شہید کیپٹن عبدالولی کے گھر آمد

    کور کمانڈر پشاور کی شہید کیپٹن عبدالولی کے گھر آمد

    پشاور:کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل حسن اظہار حیات نے جنوبی وزیر ستان کے علاقے وانا میں شہید ہونے والے کیپٹن عبدالولی وزیر کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ شہید کے گھر آمد پر پشاور کور کے کمانڈڑ نے اہل خانہ کو عظیم قربانی پر خراج عقیدت پیش کیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق کور کمانڈر پشاور نے شہید کیپٹن عبدالولی وزیر کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔

    ملاقات میں کور کمانڈر نے بتایا کہ شہید کیپٹن عبدالولی وزیر کی یاد میں کیڈٹ کالج وانا کے مین آڈیٹوریم کو اُن کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق شہید کیپٹن عبدالولی وزیر نے کیڈٹ کالج وانا میں ہی تعلیم حاصل کی تھی۔ شہید کے والد بھی اسی کالج میں ملازم تھے۔ دھرتی کے بہادر بیٹے کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے مین آڈیٹوریم کو ان سے منسوب کیا گیا۔

    شہید کیپٹن عبدالولی وزیر نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی قیادت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا۔ کارروائی میں چار دہشت گرد مارے گئے تھے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • بھارتی ٹیم پاکستان سے شکست پر حیلے بہانے گھڑنے لگی،شکست کا ملبہ پاکستانی ٹیم پر ڈالنے کی کوشش

    بھارتی ٹیم پاکستان سے شکست پر حیلے بہانے گھڑنے لگی،شکست کا ملبہ پاکستانی ٹیم پر ڈالنے کی کوشش

    بھارتی ٹیم ایشیا کپ میں پاکستان سے شکست پرحیلے بہانے گھڑنے لگی پاکستان کرکٹ ٹیم پر میچ میں خلل پیدا کرنے کا الزام لگا دیا۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق ایشیا کپ میں پاکستان سے ہارنے کا دکھ بھارتی ٹیم کو نہیں بھول رہا اتوار کو کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان کے ہاتھوں تاریخی شکست کے بعد ریفری کے پاس شکایت لیے پہنچ گئی-

    پاک افغان میچ کے بعد ہنگامہ آرائی کے معاملے پر آئی سی سی کو خط لکھیں گے،رمیز راجہ

    بھارتی ٹیم نے اپنی شکست اور خراب کارکردگی کا ملبہ جیتی ہوئی ٹیم پر ڈال دیا۔بھارتی ٹیم نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے میچ میں خلل پیدا کیا،کہا کہ بیٹنگ کے دوران پاکستان ٹیم نے جان بوجھ کر تاخیر کی۔پاکستان کی جانب سے تاخیر کے باعث ہم میچ ہارے۔

    بھارتی ٹیم کا کہنا ہے کہ محمد رضوان سمیت پاکستانی کھلاڑی جان بوجھ کر میچ روکتے رہےمیچ رکنے سے ہمارا فوکس اور مومینٹم بدلنے کی کوشش کی گئی پاکستان ٹیم کےبیٹرزنے جان بوجھ کر گلوز منگوائے اور بیٹ تبدیل کئے۔ ہمارے بولرز کو انتظار کروایا میچ رکنے سے ہمارا فوکس اور مومینٹم بدلنے کی کوشش کی گئی۔

    میچ ریفری نے بھارتی ٹیم کی شکایت کو بے بنیاد قرار دے کر تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ میچ ریفری نےجواب دیا کہ پاکستان ٹیم نے کوئی تاخیر نہیں کی، بریک کے دوران گلوز اور بیٹ تبدیل کئے گئے۔

    ایشیا کپ :میچ کے دوران افغان بالر فرید احمد آپے سے باہر، آصف علی نے بھی بلا اٹھالیا

    واضح رہے کہ ایشیا کپ سپر فور کے میچ میں پاکستان نے بھارت کو شکست دی تھی، میچ میں کیپنگ کے دوران محمد رضوان گھٹنے کی تکلیف کا شکار ہوئے تاہم محمد رضوان نے تکلیف کے باوجود بیٹنگ کی جبکہ اس دوران فزیواور باہر سے کھلاڑی محمد رضوان کے پاس آتے رہے۔

    افغان بولرکی بدتمیزی پر شعیب اختر شدید برہم

  • آرمی چیف سے امریکی وزیر خارجہ کے سینئر پالیسی مشیر ڈیرک چولیٹ کی وفد کے ہمراہ  ملاقات

    آرمی چیف سے امریکی وزیر خارجہ کے سینئر پالیسی مشیر ڈیرک چولیٹ کی وفد کے ہمراہ ملاقات

    راولپنڈی:امریکہ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ ہر مشکل وقت میں ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی وزیر خارجہ کے سینئر پالیسی مشیر ڈیرک چولیٹ کی آج اسلام آباد میں ملاقات ہوئی ہے۔

    ملاقات کے دوران انہوں نے پاکستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی قیمتی جانوں کے ضیاع پر پاکستانی حکومت اور عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

    آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان امریکہ کیساتھ دوطرفہ تعلقات کی روایت کو برقرار رکھنے کا خواہاں ہے،

    اس سے پہلے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے سعودی عرب کے وزیر دفاع کے ٹرانسفارمیشن منیجمنٹ آفس کے سی ای او ڈاکٹر شبیر بن عبدالعزیز الطالب نے ملاقات کی۔

    ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دفاع اور سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف اور سعودی عہدیدار کی ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی، دفاعی اور سلامتی کے دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں علاقائی امن و سلامتی کے امور پر بھی غور کیا گیا۔ ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تاریخی برادرانہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔ پاکستان اسلامی دنیا میں سعودی عرب کی منفرد حیثیت کا معترف ہے۔

    ڈاکٹر شبیر بن عبدالعزیز نے پاکستان کے ساتھ دفاع و سلامتی کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر افسوس کا اظہار کیا، جب کہ برادر ممالک میں تعلقات کے فروغ کیلئے خدمات پر آرمی چیف نے ڈاکٹر شبیر بن عبدالعزیز کی کوششوں کو بھی سراہا۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • محمد نوازکوچوتھے نمبرپرکیوں بھیجا؟کوچ محمد یوسف نے سچ سچ بتا دیا

    محمد نوازکوچوتھے نمبرپرکیوں بھیجا؟کوچ محمد یوسف نے سچ سچ بتا دیا

    لاہور:محمد نوازکوچوتھے نمبرپرکیوں بھیجا؟کوچ محمد یوسف نے سچ سچ بتا دیا ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کوچ محمد یوسف نے بھارت کے خلاف محمد نواز کو چوتھے نمبر پر بیٹنگ کی وجہ بتادی۔

    پاکستان کے بیٹنگ کوچ محمد یوسف کا کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف ٹی 20 میچ کے دوران جب پاکستان کی دوسری وکٹ گری تو پاکستان بہت دباؤ میں تھا۔اس صورت حال میں افتخار احمد کو آنا تھا لیکن خلاف معمول محمد نواز کو بیٹنگ کے لئے بھیجا گیا۔

    محمد نواز نے بھارتی دباؤ کا اثر زائل کیا اور طوفانی انداز میں 20 گیندوں پر 42 رنز بنائے۔اپنے انٹرویو میں قومی ٹیم کے بیٹنگ کوچ محمد یوسف نے کہا کہ محمد نواز کو بھارت کے خلاف پوری ٹیم منیجمنٹ نے متفقہ رائے سے چوتھے نمبر پر بھیجا۔

    محمد یوسف نے کہا کہ محمد نواز کو جلدی لیفٹ ہینڈ اور رائٹ ہینڈ کمبینی نیشن کے لئے بھیجا، محمد نواز نے سب سے زیادہ اچھے شاٹس کھیلے۔لیجنڈ بیٹسمین نے کہا کہ بھارت کے خلاف میچ کے دوران محمد رضوان کو تھوڑا مسئلہ ہوا لیکن پٹھان اور فائٹر ہے، اس نے پوری ٹیم کو اٹھا کر رکھا۔

    دوسری طرف پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی شاداب خان نے کہا کہ پاکستان چیمپئین ٹیم نہیں لیکن ہمیں چیمپئین ٹیم بننا ہے اور افغانستان کے خلاف ہونے والی غلطیاں نہیں کرنا ہوں گی، اگر ہمیں اچھا کھیلنا ہے تو پریشر کی صورتحال سے نکلنا آنا چاہئے۔

    شارجہ میں افغانستان کو ایشیا کپ کے سپر فور مرحلے میں شکست دینے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان ٹیم کے نائب کپتان شاداب خان نے کہا کہ نسیم شاہ پر اعتماد تھا کیوں کہ ہمارے بولرز کافی لمبی بیٹنگ کررہے ہیں اور منجمنٹ بھی بولرز کو ایسے وقت کے پیش نظر لمبی بیٹنگ پریکٹس کراتی ہے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ ہمیں علم تھا کہ اگر کریز پر موجود کھلاڑی آخری 6 گیندیں پوری کھیل جائیں تو جیت جائیں گے کیوں کہ بالروں کو نیٹ پر کھیلتے ہوئے دیکھا ہوا ہے اور ہمیں ان پر یقین تھا۔

    انھوں نے کہا کہ 36 سال قبل شارجہ میں جاوید بھائی اور شاہد بھائی کی طرح نسیم شاہ کے چھکے ہمیشہ یاد رہیں گے، ہم لوگوں کے ساتھ ظلم کرتے ہیں جب کرکٹ میچز کو اتنا کلوز لے کر جاتے ہیں،ایسے تو میچز مجھ سے بھی نہیں دیکھتے جاتے۔

    آصف علی اور افغان بالر کے درمیان تکرار پر انھیں نے کہا کہ بولر اور بیٹر کے درمیان ہیٹ آف دی مومنٹ میں ایسے واقعات ہوجاتے ہیں اور یہ سب فیلڈ میں ختم ہوجانا چاہئے، ہرکوئی اچھا کھیل کر جیتنا چاہتا ہے اور جب ایسا نہیں ہوتا تو ہیٹ آف دی مومنٹ ہوجاتا ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہم نے بھارت کے بارے میں نہیں سوچا تھا کہ وہ باہر ہوجائیں گے کیوں کہ ہم اپنی ٹیم کے بارے میں سوچ رہے تھے۔بھارت ایک اچھی ٹیم ہے اور ہوسکتا ہے کہ دباؤ کی صورتحال میں ایسا ہوا ہو۔

    شاداب خان نے تسلیم کیا کہ یہ ہدف آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے اور مجھے میچ ختم کرنا چاہیے تھا اور میری غلطی تھی جو میں آؤٹ ہوا اور اگر آؤٹ نہ ہوتا تو میچ لمبا نہ جاتا۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • ہاتھی دانت سے پلاسٹک تک!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہاتھی دانت سے پلاسٹک تک!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پلاسٹک کا لفظ یونانی زبان کے لفظ "پلاسسٹیکوس” سے نکلا ہے جسکے معنی مختلف اشکال میں تبدیل ہونے کی صلاحیت کے ہیں۔

    انیسویں صدی کے وسط تک صنعتی ترقی کے باعث جانوروں سے حاصل کردہ مصنوعات کی کھپت میں اضافہ ہونے لگا۔ اُس زمانے میں ہاتھی دانت کا استعمال مختلف اہم اشیا میں ہوتا جیسے کہ پیانو کے کی بورڈ میں یا سنوکر بالز میں۔ اسی طرح کچھوؤں کے خول سے کنگھی بنائی جاتی۔ اور دیگر جانوروں کی ہڈیوں یا سینگوں سے مختلف طرح کی روزمرہ کے استعمال کی اشیاء ۔ ایسے میں کئی جانوروں کی نسل معدوم ہونے کا خطرہ بڑھتا گیا۔

    اس مسئلے کے حل کے لیے مصنوعی میٹریل کی تلاش تھی جو پائیدار اور مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ سستا بھی ہو۔ یہ بات آپکو حیران کن لگے مگر پلاسٹک کی ایجاد دراصل ماحول اور جانوروں کو بچانے کے لیے کی گئی۔ 1862 میں برطانیہ کے ایک کیمیاء دان الییکسنڈر پارکِس نے ایسا میٹریل ایجاد کیا جسے دنیا کا سب سے پہلا پلاسٹک کہا جا سکتا ہے۔ (ویسے فطرت میں بھی کچھ قدرتی پلاسٹک پائے جاتے ہیں). اس پلاسٹک کا نام پارکیسائن رکھا گیا۔ اسے مختلف اشیاء میں ہاتھی دانت اور کچھوے کے خول کے متبادل کے طور پر استعمال کرنا مقصود تھا۔ یہ پلاسٹک دراصل کپاس کے دھاگوں کو گندھگ اور نائیٹرک ایسیڈ میں حل کر کے بنایا جاتا جسکے بعد اس میں سبزیوں سے نکلا تیل شامل کیا جاتا۔ بعد میں اس پلاسٹک کا استعمال سینما گھروں کی ریلز میں، کنگھوں میں اور بلیئرڈ کی گیندوں میں عام ہونے لگا۔ سستا ہونے کے باعث اب یہ عوام میں مقبول ہونے لگا۔ مگر اسکا استعمال ابھی بھی محدود تھا۔

    1907 میں بیلجیم کے ایک کیمیا دان لیو بائیکی لینڈ نے پہلا ستنھیٹک پلاسٹک متعارف کرایا۔ یہ محض دو کیمیکلز کے کو لیبارٹری میں حرارت اور دباؤ کے زیرِ اثر لا کر بنایا گیا۔

    دوسری جنگِ عظیم کے بعد خام تیل اور پلاسٹک انڈسٹری کے اشتراک سے پلاسٹک ٹیکنالوجی مزید بہتر آئی اور اسکا استعمال پیکنک اور روزمرہ کی اشیاء میں بڑھتا گیا۔

    بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تمام طرح کا پلاسٹک ماحول کے لئے برا ہے۔ یہ بت مکمل نہیں ۔ دراصل ایک بار استعمال ہونے والا پلاسٹک ماحول کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہے۔

    چند اور اہم مسائل بھی پلاسٹک سے جڑے ہیں۔جن میں اس کی تیار ہونے کے عمل میں زیریلی اور مضرِ صحت گیسوں اور کیمکلز کا اخراج اور قدرتی ماحول میں ڈی کمپوز نہ ہونا شامل ہے۔ پلاسٹک کی عمر بے حد طویل ہوتی ہے۔ایک پلاسٹک کے ٹکڑے کو جو بوتلوں، پییکنگ یا گھریلو استعمال کے کام اتا ہے، ماحول میں ڈی کمپوز جعنی گلنے سڑنے ہونے میں صدیاں لگ جاتی ہیں۔وجہ یہ کہ اسےقدرت میں موجود بیکٹریا یا دیگر مائیکروب آسانی سے کیمیائی طور پر توڑ نہیں سکتے۔اسکے علاوہ یہ آکسیجن یا فضا میں موجود دیگر گیسوں یا پانی میں موکود کئی کیمکلز سے کیمیائی تال میل نہیں رکھتا۔

    یہی وجہ ہے کہ پلاسٹک کے فضلے کو صحیح طور پر ٹھکانے لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔یہ نکاسی آب کے راستے دریاؤں، ندی نالوں سے ہوتا ہوا سمندروں تک جا پہنچتا ہے۔

    ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 80 لاکھ ٹن پلاسٹک سمندروں میں جاتا ہے۔

    پلاسٹک محض سمندروں میں نہیں، اسکے چھوٹے چھوٹے ذرات ہماری خوراک، ہوا اور پینے کے پانی میں بھی موجود ہوتے ہے۔ اسے مائیکرپلاسٹک کہتے ہیں۔ یہ محض انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ اس سے پودوں اور جانوروں کی نشونما پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    دنیا بھر میں پلاسٹک کی آلودگی کے حوالے سے آج سنجیدگی سے کام ہو رہا ہے۔اسکے استعمال کو روکنے یا کم کرنے کے لئے پلاسٹک کی آلودگی کے حوالے سے بہت سی حکومتیں اور فلاحی تنظیمیں آگاہی مہم چلا رہی ہیں ۔ اسکے علاہ پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کے حوالے سے حکومتی اور پرائیویٹ سطح پر پلانٹس لگائے جا رہے ہیں۔

    کولڈ ڈرنک اور دیگر خوراک بنانے والی کمپنیوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کی زیادہ سے زیادہ ری سائیکلنگ کریں۔

    مثال کے طور پر جرمنی یا دیگر یورپی ممالک میں آپ کولڈ رنکس یا پانی کی بوتلیں خریدنے جائیں تو اس کی کل قیمت پر آپکو اضافی 25 سے 30 سینٹ دینے پڑتے ہیں۔ یہ رقم پلاسٹک کی بوتل کی ہوتی ہے جو بوتل خالی ہونے کے بعد جب آپ سپر مارکیٹ کے باہر لگی مشین میں ڈالتے ہیں تو آپکو واپس کر دی جاتی ہے۔ مقصد گاہک کو مجبور کر کے پلاسٹک کی بوتلوں کی ری سائیکلنگ کو یقینی ںنانا ہوتا ہے ۔
    بالکل ایسے ہی کئی ممالک میں پلاسٹک، پیپر اور کھانے پینے کے کوڑے کے لیے جگہ جگہ الگ رنگ کے کوڑے دان موجود ہوتے ہیں۔ تاکہ بہتر طریقے سے مختلف قسم کے کوڑے کو الگ کر کے اسے ری سائیکل کیا جا سکے۔

    پلاسٹک کی آلودگی کو روکنے کے لیے 30 مائیکرمیٹر سے موٹے تھیلے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اُڑ نہ سکیں، پائیدار ہوں اور بار بار استعمال کیے جا سکیں۔ جبکہ ہماری ہاں عوام دہی کے لیے بھی کہتے ہے کہ شار ڈبل کروا رہی ہوتی ہے اور زرا سی ہوا چلنے سے شاپر قوم کی مہنگائی کو دیکھ کر اُڑنے والی نیندوں کیطرح اُڑ رہے ہوتے ہیں۔

    پاکستان میں پلاسٹک کی آلودگی ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ چونکہ یہ زرعی ملک ہے لہذا یہاں ایک وسیع آب پاشی کا نظام ہے۔

    شہروں میں آبادی بڑھنے، ، پہاڑی علاقوں کی سیاحت اور عوام میں بے حسی کے اضافے کے باعث ہماری آبی گزرگاہیں، شہر، دیہات سب پلاسٹک کی لپیٹ میں ہیں۔۔یوں لگتا ہے کچھ عرصے بعد پورا ملک پلاسثک کا بن جائے گا۔

    مگر اس آلودگی کو لیکر حکومتی سنجیدگی، واضح پالیسی یا حکمت عملی کا مکمل فقدان ہے۔اشرافیہ میں بیٹھے "محترم” بابے خود شاپر کی شکل کے ہوتی جا رہے ہیں۔ توندیں اور بے حسی بڑھتی اور عقل اور سر کے بال گھٹتے جا رہے ہیں۔

    پلاسٹک کے تھیلوں پر کسی خاص علاقے یا شہر میں پابندی لگا دینا ہی کافی نہیں ۔ اس حوالے سے آگاہی مہم چلانا، پلاسٹک کے تھیلوں کی کوالٹی کو بہتر بنانا، ایک سے زائد بار پلاسٹک کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا، پلاسٹک کے متبادل ماحول دوست پیپر یا کپڑے کے تھیلے استعمال کرنا، غیر ضروری طور پر پلاسثک کے استعمال کو روکنا وغیرہ وغیرہ یہ وہ سنجیدہ اقدامات ہیں جن سے ملک میں پلاسٹک کی آلودگی کو کم کر کے انسانوں، اور دیگر جانداروں کے لیےرہنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔

    ملک کو صاف رکھ کر اسکی خوبصورتی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اور دنیا کے سامنے پاکستان کا ایک مثبت اور ماحول دوست چہرا سامنے لا کر اسے غیر ملکی سیاحت کے لیے پُر کشش بنایا جا سکتا ہے۔ غیر ملکی سیاحوں کو مفت کی روٹیاں اور "گورے کمپلیکس” کے علاوہ بھی کئی طریقے ہیں سیاحت کے فروغ کے لیے جو تادیر اثر رکھتے ہیں۔جن میں سب سے اہم یہ پلاسٹک کی آلودگی کا خاتمہ اور ملک کو صاف کرنا ہے۔

    ضرورت واضح حکمت عملی اور شعور کی ہے۔