Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • لاہور میں 10 سالہ گھریلو ملازمہ پرمالکان کا تشدد، میاں بیوی گرفتار

    لاہور میں 10 سالہ گھریلو ملازمہ پرمالکان کا تشدد، میاں بیوی گرفتار

    لاہور: 10 سالہ گھریلو ملازمہ پر مالکان کی جانب سے تشدد کے بعد پولیس نے چھاپہ مار کر متاثرہ بچی کو بازیاب کروا لیا۔اطلاعات کے مطابق اقبال ٹاؤن کے علاقے میں 10 سالہ بچی فاطمہ فرحان نامی شخص کے گھر پر تین ماہ سے گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی تھی۔ ظالم مالکن اور اسکا شوہر فرحان بچی پر تشدد کرتے تھے۔

    اطلاع ملنے پر پولیس نے بچی کو بازیاب کر کے تشدد کرنے والے میاں بیوی کو حراست میں لے لیا، متاثرہ بچی فاطمہ کا کہنا تھا کہ مالکن اس پر تشدد کرتی اور والدین سے بات نہیں کرواتی تھی۔

    پولیس کا کہنا ہے گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ متاثرہ بچی کا میڈیکل کروانے کے بعد چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کیا جائے گا۔

    ادھر ایک اور واقعہ میں بہاولپور میں نوجوان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزم محمد عاشق کو شیخوپورہ سے گرفتار کرلیا گیا۔

    پولیس کے مطابق تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ملزم نے یزمان سےفرار ہوکر شیخوپورہ میں پناہ لے رکھی تھے۔ ملزم کو بہاولپور منتقل کرنے کیلیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

    تفتیشی حکام کے مطابق نوجوان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے والے ملزم تفتیش جاری ہے،تمام حقائق جلد سامنے آجائیں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں نوجوان کو ایک شخص پر بری طرح تشدد کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

  • وہیل چیئر پر شہباز گل کو ملنے جانیوالی خاتون واقعی شہباز گل کی والدہ تھیں؟

    وہیل چیئر پر شہباز گل کو ملنے جانیوالی خاتون واقعی شہباز گل کی والدہ تھیں؟

    اسلام آباد:باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کا عدالت نے دوبارہ جسمانی ریمانڈ دیا تو انکی طبیعت خراب ہو گئی جس کے بعد شہباز گل کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ شہباز گل کو آج عدالت وہیل چیئر پر لایا گیا عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے شہباز گل کو دوبارہ ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا

    شہباز گل کو دوبارہ ہسپتال منتقل کر دیا گیا یے ہسپتال کے باہر پی ٹی آئی کے کارکنان موجود ہیں عمران خان بھی شہباز گل سے ملنے آئے لیکن ملاقات نہیں کرنے دی گئی۔ ہسپتال کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی یے

    شہباز گل کو ملنے وہیل چیئر پر ایک بزرگ خاتون آئیں جس کے بارے میں پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے دعوی کیا کہ یہ شہباز گل کی والدہ ہے ۔ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے پروپیگنڈہ کیا کہ شہباز گل کی والدہ ملنے آئیں لیکن نہیں ملنے دیا گیا کسی نے لکھا کہ خالہ ملنے آئیں لیکن حقیقت کچھ اور ہی نکلی ۔ وہیل چیئر پر شہباز گل سے ملنے آنے والی بزرگ خاتون شہباز گل کی والدہ نہیں تھیں۔

     

     

    اسلام آباد سے حیدر شیرازی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ویڈیو شیئر کی ہے جس میں بزرگ خاتون کہتی ہیں کہ ایک ماں ملنے آئی ہے اپنے بیٹے کو لیکن نہیں ملنے دیا گیا اس خاتون کے ساتھ دیگر خواتین کا بھی یہی کہنا تھا جب حیدر شیرازی نے سوال کیا کہ آپ کہاں سے آئی ہیں تو خواتین نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم ڈی ایچ اے سے آئی ہیں۔ شیرازی نے دوبارہ سوال کیا کہ کیا یہ شہباز گل کی سگی والدہ ہیں جس پر خواتین کا کہنا تھا کہ نہیں یہ شہباز گل کی سگی والدہ نہیں ہیں اور نہ ہی ہم سگی بہنیں ہیں

  • شہبازگل پرتشدد میں جنسی زیادتی بھی شامل ہے:عمران خان کا دعوی

    شہبازگل پرتشدد میں جنسی زیادتی بھی شامل ہے:عمران خان کا دعوی

    اسلام آباد:چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا ہے کہ شہبازگل کو توڑنے کے لئے ذلیل کیا گیا جس کی تفصیلات میرے پاس ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ تصاویر اور ویڈیوز سے واضح ہے کہ شہبازگل پر ذہنی اور جسمانی تشدد کیا گیا۔

     

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ شہباز گل پر تشدد میں جنسی زیادتی بھی شامل ہے۔

    سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں عمران خان نے کہا کہ تصاویر اور ویڈیوز میں واضح ہے کہ شہباز گل کو ذہنی اور جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ شہبازگل کو توڑنے کیلئے ذلیل کیا گیا ہے، اس حوالے سے میرے پاس مکمل تفصیلی معلومات ہیں۔

     

    عمران خان نے کہا کہ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہبازگل پر کوئی تشدد نہیں کیا، میرا سوال ہے کہ پھر شہبازگل پر تشدد کس نے کیا ہے۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ عوام اور ہمارے ذہنوں میں سوال ہے کہ اتنا بھانک تشدد کون کرسکتا ہے، یادرکھیں عوام ردعمل دیں گے، اور ہم ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔

  • لگژری اشیاء کی درآمد پر پابندی کے خاتمے کی منظوری

    لگژری اشیاء کی درآمد پر پابندی کے خاتمے کی منظوری

    اسلام آباد:اقتصادی رابطہ کميٹی نے لگژری اشیاء کی درآمد پر پابندی کے خاتمے کی منظوری دے دی۔اطلاعات کے مطابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کميٹی اجلاس میں گاڑیوں، موبائل فونز اور ہوم ایمپلائنسز سمیت 860 لگژری اشیاء کی درآمد پر پابندی ہٹانے کی منطوری دے دی گئی۔

     

    لگژری سمیت تمام اشیاء کی درآمد پر پابندی ختم کررہے. مفتاح اسماعیل

    اجلاس میں 30 جون سے 31 جولائی کے درمیان آنے والا سامان جاری کرنے کی سفارش کی گئی۔ وفاقی حکومت نے 19 مئی کو 3 ماہ کیلئے مذکورہ اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کی تھی۔

     

    ملکی معیشت کی بہتری کیلئے پُرتعیش اشیاء کی درآمد پر پابندی لگا دی ہے:مفتاح اسمٰعیل

    دوسری جانب کمیٹی کی جانب سے یوٹیلیٹی اسٹورز کو 3 لاکھ ٹن گندم کی فراہمی سے متعلق سمری کی منظوری مؤخرکردی گئی۔ متعلقہ حکام کو چارجز سمیت اخراجات کا جائزہ لے کر سمری دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

     

     

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر مصالحہ جات سمیت کئی اشیاء کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    اجلاس میں نئے ایل این جی ٹرمینلز کو بعض قوانین سے استثنٰی کی منظوری دیدی گئی، ایل این جی پالیسی 2011 میں ترمیم کی جائے گی۔

  • عمران خان کی پمز ہسپتال میں شہباز گل سے ملاقات نہ ہو سکی،کل ریلی کا اعلان

    عمران خان کی پمز ہسپتال میں شہباز گل سے ملاقات نہ ہو سکی،کل ریلی کا اعلان

    اسلام آباد:سابق وزیراعظم عمران خان اپنے چیف آف سٹاف شہباز گل سے ملاقات کیلئے پمز ہسپتال پہنچے جہاں پر ان کی ملاقات پی ٹی آئی رہنما سے نہ ہو پائی۔

    پمز ہسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ عدالت کے حکم کے باوجود پولیس نے ہمارا راستہ روکا، پولیس نے مجھے شہباز گل سے ملاقات نہیں کرنے دی، پولیس بتائے وہ کس سے آرڈرلے رہی ہے، بتایا جائے ملک میں قانون یا ڈنڈے کی حکمرانی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کل شہبازگل کے لیے ریلی نکالیں گے، اسلام آباد کے لوگوں کو ریلی میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں، شہبازگل پر اگر ٹارچر ہو سکتا ہے تو کسی پر بھی ہوسکتا ہے، کل مغرب کے وقت ریلی نکالی جائے گی۔ میڈیا کا منہ بند کرکے چوروں کومسلط کیا جارہا ہے، ہم ان چوروں کی غلامی کبھی قبول نہیں کریں گے۔

    اسلام آباد پولیس

    اپنے ایک بیان میں اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ شہباز گل سے ملنے کی کسی کو اجازت نہیں اور ہسپتال پراضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ عوام یا کوئی بھی شخص ملاقات کی کوشش کرکے امن وامان کی صورتحال پیدا نہ کرے۔

    ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہسپتال میں سکیورٹی کا مناسب بندوبست کیا ہے، ملزم جسمانی ریمانڈ پر نہیں ہے اور ملزم سے ملاقات کی اجازت نہیں۔ کسی بھی لا اینڈ آرڈرکی صورتحال بننے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کہنا تھا کہ شہباز گِل کی عیادت کیلئے عمران خان خود اسپتال جائیں گے۔پارٹی رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان ، شہباز گل کی رہائی کیلئے ایک ریلی کی قیادت بھی کریں گے۔

    رہنما پی ٹی آئی بابر اعوان نے دعویٰ کیا کہ حراست میں تشدد کا مقصد عمران خان کے خلاف شہباز گِل کو توڑنا ہے، شہباز گِل کی میڈیکل رپورٹ راتوں رات بدل دی گئی، تشدد سے متعلق اسلام آباد پولیس کی تحقیقات کو نہیں مانیں گے۔

    دوسری طرف اسلام آباد کی عدالت نے پولیس کی جانب سے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے انہیں پیر تک ہسپتال رکھنے کا حکم دیا ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو پولیس نے سخت سکیورٹی میں ہسپتال سے اسلام آباد کچہری منتقل کیا۔ شہباز گل نے عدالت میں بیان دیا کہ انہیں رات 2 بجے تک ٹیکے لگائے جاتے رہے، سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا ہے،انہوں نے خدا کا واسطہ دیتے ہوئے ماسک طلب کیا جس پر عدالت نے انہیں فوری طور پر آکسیجن ماسک فراہم کرنے کا حکم دیا۔

    پولیس نے پی ٹی آئی رہنما کے مزید 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کر دی۔ پولیس پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ قانون میں نہیں لکھا کہ بیمار شخص کا جسمانی ریمانڈ نہیں لیا جا سکتا۔ شہباز گل کے وکیل فیصل چودھری جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کر دی، ان کا کہنا تھا کہ شہباز پر تشدد کیا گیا، عدالت نے وکلائے طرفین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ بعد ازاں عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی جبکہ شہباز گل کو پیر تک ہسپتال رکھنے کا حکم دیا ہے۔

  • مجھے اورمیرے چھوٹے بھائی کوبھی گرفتار کیا جارہا ہے:عطا تارڑ

    مجھے اورمیرے چھوٹے بھائی کوبھی گرفتار کیا جارہا ہے:عطا تارڑ

    مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما عطااللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ وارنٹ گرفتاری میں، مجھ سمیت میرے چھوٹے بھائی بلال تارڑ کا نام شامل کرنا چوہدری پرویز الٰہی کی طرف سے ان احسانات کا بدلہ ہے ہمارے بزرگوں نے ان پر کئے۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ کینٹ کچہری نے پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی کیس میں عطا تارڑ سمیت 12 لیگی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں۔

    وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور وزیراعظم شہبازشریف کے معاون خصوصی عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ مقدمہ مضحکہ خیز ہے، انشاءاللہ جھکنے والے نہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ وارنٹ گرفتاری میں مجھ سمیت میرے چھوٹے بھائی بلال تارڑ کا نام شامل کیاگیا، یہ سب پرویز الٰہی کی طرف سے ان احسانات کا بدلہ ہے، جو ہمارے بزرگوں نےان پر کئے۔

    لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ سیاسی انتقام کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، بے شک پورے خاندان کا نام بھی ڈال دو۔

    اس سے قبل پنجاب اسمبلی ہنگامہ آرائی کیس میں بڑی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب لاہور پولیس نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی گرفتاری کے لئے جوڈیشل مجسٹریٹ کینٹ کچہری کو مسلم لیگ ن کے 12 رہنماؤں کی گرفتاری کے لئے درخواست دی۔

    درخواست میں لاہور پولیس نے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج ہے، لیکن ملزمان دانستہ طور پر پیش نہیں ہورہے، ملزمان سے تحقیقات کرنے کے لئے ان کو گرفتار کرنا ضروری ہے۔

    لاہور پولیس نے استدعا کی کہ عدالت 12 ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرے، ملزمان کو گرفتار کرکے تفتیش مکمل کرنی ہے۔جوڈیشل مجسٹریٹ نے قلعہ گجرسنگھ پولیس کی درخواست پر حکم جاری کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے 12 رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔

    عدالت کی جانب سے معاون خصوصی وزیراعظم عطا تارڑ اور رانامشہود سمیت دیگر کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔ جس کے بعد پولیس رانا مشہود کی گرفتاری کیلئے ان کے گھر کے باہرپہنچ گئی۔

  • وطن عزیز اور نوجوانوں سے وابستہ توقعات — حاجی فضل محمود انجم

    وطن عزیز اور نوجوانوں سے وابستہ توقعات — حاجی فضل محمود انجم

    آج میں نے ارادہ کیا تھا کہ ہمارے وطن عزیز پاکستان کے آنے والے جشن آزادی کے بارے میں کالم تحریر کرونگا۔لکھنے بیٹھا تو لکھنے کا موڈ ہی نہیں بن رہا تھا۔بہتیرا سوچا کہ جشن آزادی کے حوالے سے کوئی ایسا گوشہ ذہن میں آجاۓ جس پہ سیر حاصل بحث کی جا سکے لیکن الفاظ تھے کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ایسے محسوس ہوتا تھا کہ ایک جمود ہے جو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پہ قبضہ جما چکا ہے۔اسی اڈھیر بن میں تھا کہ معا” میرے ڈرائنگ روم کا دروازہ کھلا اور "ماما بلو”اندر داخل ہوا۔”ماما بلو”میرے شہر کی ایک ایسی شخصیت ہے جسے میں اپنا راہنماء اور مربی سمجھتا ہوں حالانکہ وہ چٹا ان پڑھ ہے۔کسی اسکول مدرسے یا کسی بھی تعلیمی ادارے کی اس نے آج تک شکل ہی نہیں دیکھی لیکن میں جب بھی لکھنے لکھانے میں کسی الجھن کا شکار ہوتا ہوں تو وہ آکر میری اس مشکل کو آسانی میں تبدیل کر دیتا ہے۔آج بھی ایسا ہی ہوا۔مجھے پریشان دیکھ کر کہنے لگا کہ صاحب آج آپ کچھ پریشان سے دکھائی دے رہے ہیں۔آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔میں نے اسے بتایا کہ ماما بلو -! طبیعت تو ٹھیک ہے بس آج پاکستان کے آنے والے جشن آزادی کی بارے میں کچھ لکھنا چاہ رہا تھا لیکن الفاظ ہیں کہ باوجود کوشش کے انکی آمد ہی نہیں ہو رہی۔میری بات سن کر کہنے لگا واہ صاحب یہ بھی کوئی بات ہے-! آپ نے لکھنا ہی ہے تو آجکل کی "یوتھ” کے بارے میں لکھیں اور یہ لکھیں کہ پاکستان بناتے وقت ہم نے اس نوجوان نسل سے کیا توقعات وابستہ کی تھیں اور ساتھ ہی یہ کہ آیا اس نوجوان نسل سے ہماری وہ توقعات پوری ہوئی ہیں یا نہیں جن کی ہم ان سے توقع کر رہے تھے ۔میں نے اسے کہا کہ "ماما بلو”تو ہی بتا -! تیری اس بارے میں کیا راۓ ہے۔؟ کہنے لگا صاحب میں تو ایک پڑھ آدمی ہوں لیکن آجکل کے نوجوان کو دیکھتا ہوں تو مجھے تو یہی لگتا ہے کہ ہم اپنے اس خواب کی تعبیر سے ابھی کوسوں دور ہیں۔میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا صاحب-! سب سمجھتے ہیں کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ زندہ قومیں اپنے طلبہ اور نوجوانوں کو مستقبل کا معمار سمجھتی ہیں کیونکہ یہ نوجوان ہی ہوتے ہیں جو انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی اپنے کام سے اپنی کوشش سے اور اپنے جذبہ جنوں سے اپنے ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔علامہ اقبال نے بھی انہی نوجوانوں کو ہی اپنا شاہین قرار دیا تھا اور وہ ان کیلئے دعائیں کرتے تھے۔انہوں نے کہا تھا کہ :-

    جوانوں کو میری آہ سحر دے
    پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
    خدایا -! آرزو میری یہی ہے
    میرا نور بصیرت عام کر دے

    علامہ اقبال نے ان نوجوانوں کو انکے اسلاف کے کارنامے یاد دلا کر یہ کہا تھا کہ تو ایک ایسی قوم کا نوجوان ہے جس نے ماضی میں تمام دنیا پہ حکومت کی تھی اور ہر سو اپنا سکہ جمایا ہوا تھا۔اقبال نے انہیں ان کے اسلاف یاد دلاتے ہوۓ کہا تھا کہ:-

    کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
    وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
    تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
    کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سر دارا۔

    علامہ اقبال کے بعد بانی پاکستان حضرت قائد اعظم نے بھی نوجوانوں کو مستقبل کا معمار قرار دیا تھا۔انہوں نے نوجوانوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یوں فرمایا:

    ’’نوجوان طلبا میرے قابل اعتماد کارکن ہیں۔ تحریک پاکستان میں انھوں نے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دی ہیں۔ طلباء نے اپنے بے پناہ جوش اور ولولے سے قوم کی تقدیر بدل ڈالی ہے۔‘‘ 1937 کے کلکتہ کے اجلاس میں قائد اعظم ؒنے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

    ’’نئی نسل کے نوجوانوں آپ میں سے اکثر ترقی کی منازل طے کرکے اقبال اور جناح بنیں گے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ قوم کا مستقبل آپ لوگوں کے ہاتھوں میں مضبوط رہے گا۔‘

    ملک کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں مضبوط رہے گا۔یہی تھی وہ امید اور توقع جو قیام پاکستان کے موقع پر ہمارے اسلاف نے ان سے لگائی تھی مگر بدقسمتی سے ہم اس وقت کے نوجوانوں سے اب محروم ہو چکے ہیں۔اب ہمارا واسطہ جن نوجوانوں سے ہے ان میں تو سابقہ نوجوانوں کی خصوصیات کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔شائد ایسے ہی نوجوانوں کیلئے اقبال نے کہا تھا:-

    تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
    کہ تو گفتار وہ کردار تو ثابت وہ سیارا

    آج کا نوجوان تن آسان ہے۔وہ اپنی مردانگی کے جوہر میدان کارزار میں نہیں بلکہ سوشل میڈیا یعنی فیس بک۔ وٹس ایپ۔ ٹویٹر۔ میسنجر ۔یو ٹیوب۔ ٹک ٹاک اور اسی طرح کی دوسری سائٹس کے میدان میں دکھلانا زیادہ پسند کرتا ہے۔جہاں وہ اپنی سوچ اپنی فکر اور اپنے خیالات سے مطابقت نہ رکھنے والوں کی پگڑیاں اچھالتا ہے۔ان کی تضحیک کرتا ہے۔ان کا ٹھٹھہ اڑاتا ہے۔ان کو دقیانوس اور نہ جانے کیا کیا خیال کرتا ہے۔آج کا نوجوان تحقیق سے مہنہ موڑ کر تقلید کے پیچھے بھاگتا ہے۔

    اس طرح جو کچھ اسے پڑھایا جاتا ہے وہ اسی پہ کاربند ہو کے رہ جاتا ہے۔لوگ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے مفادات کے حصول کیلئے انہیں استعمال کرتے ہیں اور یہ نوجوان بلا کچھ سوچے سمجھے اور غور و فکر کئے ان لوگوں کے پیچھے چل دیتے ہیں۔پھر یہ انہی کی زبان بولتے ہیں اور انہی کے افکار کو اپنا لیتے ہیں ۔ ان میں کچھ ایسے گروہ اور سیاسی پارٹیاں بھی شامل ہیں جو ان نوجوانوں کو اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے اور اپنے ایجنڈے کی ترویج کیلئے استعمال کرتی ہیں۔

    ایسے لوگوں کے مقاصد کبھی بھی اچھے نہیں ہو سکتے اس لئے وہ نوجونوں کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ان لوگوں کے ارادوں میں اگر کوئی شخص یا تنظیم مزاحم ہونے کی کوشش کرتی ہے تو یہ لوگ ٹرولنگ شروع کر دیتے ہیں اور اس کی عزت کو تار تار کر دیتے ہیں۔

    فی زمانہ حالات اب اس نہج پہ پہنچ چکے ہیں کہ سارے کا ہمارا سارا معاشرہ پراگندہ خیالی اور ذہنی پستی کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے۔معاشرے کی اس  حالت کے پس منظر میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں جنہوں نے ایک مشرقی ثقافت۔ رہن سہن اور بود و باش کو گہنا کے رکھ دیا ہے۔کہاں وہ وقت کہ کہ ننگے سر بیٹی اپنے باپ کے سامنے آتے ہوۓ گھبراتی تھی اور ایک بھائی اسے اپنی عزت و وقار کے منافی خیال کرتا تھا کہ اس کی بہن اس کے سامنے اونچی آواز میں بات کرے اور اس کے سامنے آپنے آپ کو تھوڑا سا بنا سنوار لے۔

    یہی بہنیں جب اپنے بھائی کو ذرا غصے میں دیکھتی تھیں تو ڈر کے مارے ان کا خون خشک ہو جایا کرتا تھا۔اس لئے نہیں کہ اس کا  بھائی کوئی خونخوار قسم کی مخلوق ہوتا تھا یا یہ کہ وہ کسی جلاد  فیملی سے تعلق رکھتا تھا۔بھائی اپنی بہنوں سے پیار بھی رج کے کرتے تھے اور اس کی بات ماننا اور اس کی ضرویات کو پورا کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔بلکہ وہ اپنی بہن کی خوشیوں کی خاطر اپنا تن من دھن بھی اس کے اوپر وار دیا کرتے تھے۔جب یہ حالات تھے تو معاشرہ بھی بڑا آئیڈیل تصور کیا جاتا تھا۔مان بہن بیٹی کو سب کی سانجھی سمجھا جاتا تھا۔

    یہاں تک کہ یہ بھی دیکھا گیا کہ جب کسی بچی کی شادی ہوتی تو پورا گاؤں بارات کا استقبال کیا کرتا تھا اور سب گاؤں والے مل کر اس بچی کو اس کے پیا گھر پہنچانے کیلئے اپنا کردار ادا کیا کرتے تھے۔مگر آج اس سوشل میڈیا نے ان ساری اقدار و روایات کو ملیا میٹ اور تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

    آج ہمارے معاشرے کی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں مگر سمجھدار لوگ وہی ہوتے ہیں جو ایسے لوگوں کی ہرزہ سرائیوں پہ توجہ نہیں کرتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی دل جلے کو اس کی تضحیک آمیز ہرزہ سرائیوں کا جواب دینا ضروری نہیں۔ یہ تن آسان مخلوق کا مقصد اور نصب العین صرف یہی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنی نبض رواں رکھنا چاہتی ہے اسلئے وہ اسی کو اپنی کامیابی خیال کرتے ہیں ۔

    ہمارا ایمان ہے، "وتعز من تشاء و تذل من تشاء” اگر کوئی مغلظ اور متنفر لہجے میں اپنی خباثت کا اظہار کرے تو اسے نظر انداز فرمائیں ، اپنے شہر اور علاقہ کے حوالے سے دستیاب سرکاری مشینری اور وسائل سے عوام کی خدمت کریں۔ آپس کی تلخیوں اور شکر رنجیوں کو پس پشت ڈال کر بھائی چارے کو مضبوط بنائیں اور اپنے نوجوانوں کی اچھی تربیت کریں۔

  • پشاور:غیرت کے نام پر دو بہنوں سمیت 3 خواتین قتل

    پشاور:غیرت کے نام پر دو بہنوں سمیت 3 خواتین قتل

    پشاور:نواحی علاقے داودزئی میں بھائی نے ساتھیوں کی مدد سے فائرنگ کرکے دو بہنوں سمیت 3 خواتین کو قتل کردیا۔پولیس کے مطابق بھائی نے دوستوں کے ساتھ مل کر تینوں خواتین پر فائرنگ کی، ملزم نے غیرت کے نام پر بہنوں کو قتل کیا۔

    ابتدائی تفصیلات کے مطابق باپ کی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ مدعی یاسین نے رپورٹ درج کرائی کہ اس کے بیٹے امجد نے اپنے دیگر ساتھیوں فرہاد، گل شیر، سید رحمان اور کامران کے ہمراہ اراضیات بابوزئی میں اپنی بہنوں اور ان کی سہیلی کو فائرنگ کر کے قتل کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق وجہ عناد غیرت کے نام کا بتایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ دونوں لڑکیوں کا ایک لڑکے کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔

    پولیس نے قتل ہونے والی دو لڑکیوں کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے فرار ملزمان کی تلاش اور واقعے کے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ایف آئی آر میں دو بہنوں کا بھائی اور اس کے 3 دوستوں کو نامزد کیا گیا ہے، ابتدائی تفتیش میں قتل کی وجہ غیرت ہے۔

    پولیس کے مطابق ملزمان واردات کے بعد موقع سے فرار ہوگئے جن کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ پولیس نے وقوعہ سے سے خالی خول اور دیگر اہم شواہد اکٹھے کرلیے ہیں۔پولیس نے لاشیں پوسٹ مارٹم رپورٹ کے لیے اسپتال منتقل کردی ہیں

  • آسٹریلیا  اور پاکستان کے  درمیان تعاون کو مزید فروغ  دینا چاہتے ہیں ،وزیراعظم

    آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں ،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان میں آسٹریلیا کے نئے ہائی کمشنر نیل ہاکنز نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ وزیراعظم نے گزشتہ برسوں کے دوران آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ہونے والی مستحکم پیش رفت کو سراہا اور تجارت, سرمایہ کاری، زراعت, لائیو سٹاک، تعلیمی اور تکنیکی تعاون سمیت دیگر مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے پاکستان کی مضبوط خواہش اور عزم کا اعادہ کیا۔

    ججز تقرری سے متعلق آئینی ترمیمی بل 2022 اتفاق رائے سے سنیٹ نےمنظورکرلیا

    آسٹریلوی ہائی کمشنر نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا اور افغانستان سے اپنے شہریوں اور دیگر افراد کے محفوظ انخلاء میں پاکستان کے سہولت کار کردار پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

    بھارت نے پاکستانی چینل سمیت 8 یوٹیوب چینلز بلاک کروادیئے

     
    وزیر اعظم نے گزشتہ سال اگست سے افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے عالمی برادری کے ساتھ جاری تعاون پر روشنی ڈالی

    وزیراعظم شہباز شریف کا ہنگامی بنیادوں پر زرعی اصلاحات کے نفاذ کا فیصلہ

     
    وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ برابری، انصاف اور باہمی احترام کے اصولوں پر مبنی پرامن تعلقات کا خواہاں ہے۔ اس تناظر میں جموں و کشمیر کے تنازعہ کا اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق منصفانہ اور پرامن حل ناگزیر ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو اس سلسلے میں سہولت کار کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ یہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔

    آسٹریلوی ہائی کمشنر نے آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان موجودہ تعلقات کو مزید بڑھانے اور متنوع بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

  • بھارت نے پاکستانی چینل سمیت 8 یوٹیوب چینلز بلاک کروادیئے

    بھارت نے پاکستانی چینل سمیت 8 یوٹیوب چینلز بلاک کروادیئے

    لاہور:بھارت نے پاکستانی چینل سمیت 8 یوٹیوب چینلز بلاک کروادیئے،اطلاعات کے مطابق بھارت نے ‘انڈیا مخالف مواد’ نشر کرنے پر ملک میں ایک پاکستانی یوٹیوب چینل سمیت 8 چینلز تک رسائی بلاک کروا دی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق گزشتہ سال دسمبر سے اب تک بھارتی حکومت 102 یوٹیوب چینلز کی رسائی بھارت میں بلاک کرواچکی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلاک ہونے والے یوٹیوب چینلز کے سبسکرائبرز کی تعداد 86 لاکھ سے زائد تھی اور ان پر موجود مواد پر 114 کروڑ ویوز بھی موجود تھے۔بھارت کی وزارت اطلاعات کے مطابق یہ یوٹیوب چینلز ملک میں ‘جھوٹے دعوؤں کے ذریعے مذہبی برادریوں کے درمیان نفرت پھیلارہے تھے’۔

    وزارت اطلاعات کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ یہ چینلز ‘فیک نیوز’ پھیلارہے تھے کہ بھارتی حکومت ملک میں مذہبی مقامات گرارہی ہے اور مذہبی تہوارات پر پابندیاں لگارہی ہے۔بھارت میں بلاک ہونیوالے پاکستانی یوٹیوب چینل کا نام ‘نیوز کی دنیا’ ہے جس کے سبسکرائبرز کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ہے۔

    خیال رہے بھارتی حکومت نے رواں سال اپریل میں بھی 22 یوٹیوب چینلز بلاک کروائے تھے، جن میں سے 4 پاکستانی چینلز شامل تھے۔

    واضح رہے کہ انٹرنیشنل میڈیا بھی بھارت میں مذہبی آزادی کیخلاف اقدامات کی بھرپور کوریج کرتا ہے، ہندو انتہاء پسندی سے سب سے زیادہ مسلمان اور عیسائی متاثر ہورہے ہیں۔