Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • روس کا دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں تیار کرنے کا بڑا اعلان

    روس کا دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں تیار کرنے کا بڑا اعلان

    ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوتن نے قوم سے پیغام میں اعلان کیا ہے کہ "اب ہم دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں پیدا کریں گے اور ہم ہر چیز کا متبادل بنائیں گے اورہرچیز کو متبادل بنائیں گے تاکہ دنیا کو بہترین اور معیاری چیزیں دستیاب ہوسکیں "۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک اہم سیشن سے خطاب کرتے ہوئے بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ روس اب دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں تیار کرے کا فیصلہ کرچکا ہے ، جس پربہت جلد عمل ہوگا

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے SPIEF 2022 کے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس اب ان مغربی کمپنیوں کے ذریعے مطلوبہ سامان تیار کرنا سیکھے گا جو روس چھوڑ کر چلی گئی ہیں یا دوسرے ممالک کی کمپنیاں انھیں ایسی مصنوعات فراہم کرتی تھیں۔

    ولادیمیر پیوٹن نے مزید کہا کہ روس چھوڑنے والی مغربی کمپنیوں کے بجائے دوسری کمپنیاں پہلے ہی جگہ بنانے روس کا رُخ کررہی ہیں‌۔ ہم صنعتی استعمال کے لیے پینٹ اور دیگر اشیائے خوردونوش اور آلات بھی تیار کرنا شروع کر رہے ہیں۔

    روسی صدر کے مطابق ہم وہ سب کچھ کر سکتے ہیں جو دنیا کر سکتی ہے اور مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کو نئی بنیادوں پر پیداوار کی طرف بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے جو پرانی ٹیکنالوجیز سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔

  • فواد چودھری نے لاپتہ افراد پردہشتگرد کہا توصحافی نے انہیں چمچہ گیرقرار دےدیا

    فواد چودھری نے لاپتہ افراد پردہشتگرد کہا توصحافی نے انہیں چمچہ گیرقرار دےدیا

    سابق وزیر اطلاعات اور تحریک انصاف کے رہنماء فواد حسین چودھری نے اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں لکھا کہ: "رات ہرنائی بلوچستان میں مزدوروں کے کیمپ پر حملہ ہوا نہتے مزدور شہید ہوئے، ان حملوں پر خاموش دہشت گردوں کے حمایتی کراچی، لاہور، اسلام آباد میں مسنگ پرسنز کی گردانیں پڑھتے ہیں۔ ریاست کی کمزوری ہے ان کو پٹہ نہیں ڈالا جاتا دہشت گردوں کے حمایتیوں کو دہشت گرد سمجھا جانا چاہئے۔”


    فواد چودھری کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جلیلہ حیدر نے کہا کہ: ‏فواد چوہدری آپ جتنا محکوم قوموں کے اذیتوں پر بیان بازی کرو، آپکا آقا آپ سے پھر بھی خوش نہیں ہوگا۔ اس حقیقت کو تسلیم کر لو کہ آپ اپنے آقاوں کی خوشنودی کے لئے جو بیانات آپ داغ رہے لہذا اب انکی نظروں میں آپکی اوقات ایک استعمال شدہ ٹشو پیپر جیسی ہے۔


    ایک صارف سعد خان نے لکھا کہ: ‏بطور ایک پاکستانی بلوچ بھی ہمارے بھائی ہیں لہذ آپ اور آپکی جماعت کی جانب ایسے بیانات بلوچ بھائیوں کے لئے تکلیف کا باعث ہیں۔ کیونکہ بلوچ بھی پاکستان کے شہری ہیں اور گزشتہ رات ہرنائی میں ہونے والے واقع کی پرزور مذمت کرتے ہیں.

    صحافی کیا بلوچ نے سابق وفاقی وزیر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ: ‏اسی نظریے نے بلوچستان میں ڈائیلاگ کے تمام دروازے بند کئے ہیں۔ حملے کو لاپتہ افراد سے جوڑنا تعصب ہے اور جب ہزارہ یا احمدیوں پر حملے ہوتے ہیں تو آپ مجرموں اور ان کے سہولت کاروں یا اُنکے آقاؤں کا نام لینے کی ہمت کیوں نہیں کر سکتے جن کے ساتھ آپ لنچ اور ڈنر پر ٹیبل شیئر کرتے ہیں۔


    سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے فواد چودھری کو چمچہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ: ” موصوف فواد چودھری وزیر قانون رہے ہیں جو لاپتہ افراد کے جاری انسانی المیے کو دھشت گردی سے جوڑ کر ان شہریوں کی بازیابی میں اپنی حکومت کی ناکامی اور بزدلی کا جواز پیش کر رہے ہیں اور ان بوٹ چاٹ لوگوں کے منہ کا ذائقہ جا نہیں رہا اسی لیے کبھی اسٹیبلشمنٹ پر امریکی سازش کا الزام اور کبھی چمچہ گیری۔”

  • پاکستانی بینکوں میں  ڈالرہی ختم ہونا شروع ہوگئے

    پاکستانی بینکوں میں ڈالرہی ختم ہونا شروع ہوگئے

    اسلام آباد:پاکستانی بینکوں ڈالرہی ختم ہوگئے،اطلاعات کے مطابق پاکستانی بینکوں کے پاس ڈالر ختم ہو چکے ہیں اور اب وہ اپنے گاہکوں کے لیے تجارت سے متعلق ادائیگیوں کے لیے مختلف ذرائع سے قرض لے رہے ہیں، بشمول ان کے اپنے ڈپازٹرز۔ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے تبادلے میں فارورڈ پریمیم گزشتہ چند دنوں میں گھٹ کر منفی ہو گئے، یہ ایک بہت ہی غیر معمولی پیش رفت ہے جو بینکوں میں ڈالر کی لیکویڈیٹی کی شدید کمی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق زرمبادلہ کے لیے فارورڈ مارکیٹوں میں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھنے والے بینکرز منافع کو بتاتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے تقریباً ایک ماہ قبل مارکیٹ میں ڈالر کی فروخت روک دی ہے۔ اسٹیٹ بینک بھی بعض اشیا کی درآمد پر پابندی کے باوجود مختلف ذرائع سے ڈالرآرہے ہیں‌۔اقدامات میں LCs کی پروسیسنگ میں "انتظامی” تاخیر کرنا شامل ہے۔

    پاکستانی 11 ماہ کے دوران کروڑوں ڈالرز کی چائے پی گئے،ادارہ شماریات کی رپورٹ

    ادھر ڈالر 212 روپے سے بھی تجاوز کرگیا، سونا بھی مزید 1500روپے مہنگا۔تفصیلات کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈالر کی اوپن مارکیٹ قیمت 212 اور انٹربینک قیمت 208 روپے سے تجاوز کرگئی۔ تیل کی ادائیگیوں کی مد میں دباؤ سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی اور سرکاری ذخائر مزید گھٹ کر 8 ارب 9 کروڑ ڈالر کی سطح پر آنے کے باعث جمعہ کو بھی ڈالر کی بلند پرواز جاری رہی جس سے ملکی تاریخ میں پہلی بار ڈالر کے انٹربینک ریٹ 208 روپے اور اوپن مارکیٹ نرخ 212 روپے کی نئی بلند ترین سطح سے بھی تجاوز کرگئے۔

    ڈالر کی اونچی اڑان ،اوپن مارکیٹ میں212 روپے کا ہو گیا

    انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر ایک موقع پر 209 روپے سے بھی تجاوز کرگئی تھی تاہم اختتامی لمحات میں ڈالر کے انٹربینک ریٹ ایک روپے 8 پیسے کے اضافے سے 208.75 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوئی۔ اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 2.50 روپے بڑھ کر 212 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی روپیہ کی قدر کا دارومدار آئی ایم ایف پروگرام کے گرد گھومتا جارہا ہے، حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرنے سمیت دیگر سخت اقدامات کے باوجود آئی ایم ایف قرض پروگرام کے معاہدے پر رضامند نہیں بلکہ پیٹرول پر لیوی اور سیلز ٹیکس بھی بھی عائد کرنے کا مطالبہ کررہا ہے۔

    روس نے یوکرین سے جنگ کے پہلے 100 دنوں میں پیٹرول سے 93 بلین ڈالر کمائے

    ماہرین کے مطابق اس سے پروگرام میں شمولیت کا عمل طول اختیار کررہا ہے اور مالیاتی بحران میں خطرناک حد تک بڑھنے سے غیر یقینی ماحول سے ڈالر کی بلند پرواز جاری ہے۔علاوہ ازیںپاکستان میں ایک تولہ سونے کی قیمت بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔سندھ صرافہ بازار جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 1500 روپے اضافے کے بعد ملک میں ایک تولہ سونے کا بھاؤ ایک لاکھ 45 ہزار 500 روپے ہوگیا ہے۔10 گرام سونے کی قیمت 1285 روپے اضافے سے ایک لاکھ 24 ہزار 742 روپے ہے۔صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے کی قدر 27 ڈالر بڑھ کر 1846 ڈالر فی اونس ہوگئی ہے۔

  • تیسری عالمی جنگ کسی بھی وقت شروع ہوسکتی ہے:ڈونلڈ ٹرمپ

    تیسری عالمی جنگ کسی بھی وقت شروع ہوسکتی ہے:ڈونلڈ ٹرمپ

    واشنگٹن :تیسری عالمی جنگ کسی بھی وقت شروع ہوسکتی ہے:اطلاعات کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن کی طرف سے یوکرین کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد جس میں خطرناک تین ہتھیارہیں تیسری جنگ عظیم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

    امریکہ یوکرین میں ایک جنگ لڑرہا ہے،یہ تنازعہ اتنا پچیدہ ہوگیا ہے کہ دنیا کوکسی بھی لمحے تیسری جنگ کی طرف لے جائے گی ڈونلڈ ٹرمپ نے کاکہ امریکہ نے 16 ارب ڈالرکی بجائے 56 ارب ڈالرز کی امداد دی ہے اور اس بڑی امداد کا امریکہ پربھی اثرپڑے گا

     

    جوبائیڈن نے ہم جنس پرست سیاہ فام خاتون کو وائٹ ہاؤس کا ترجمان مقرر کردیا

    ٹینسی میں ایک مذہبی جلسے میں خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی صدر نے کہا کہ "لیکن جب آپ یورپ کو دیکھتے ہیں – اور جرمنی، اور فرانس اور ان تمام دوسرے ممالک نے ایک چھوٹا سا حصہ دیا ہے ہم 56 بلین ڈالر دے رہے ہیں ،امریکہ انہیں ممالک کی خاطرقربانی دے رہا ہے جن کی اس سلسلے میں زیادہ دشمنی ہے ،

    ٹرمپ نے ایک بار پھر تنازعہ کا الزام صدر بائیڈن پر لگایا، جنھوں نے وائٹ ہاؤس میں ان کی جگہ لی،ٹرمپ نے اس موقع پر زوردیتے ہوئے کہا کہ "اگر میں صدر ہوتا تو ایسا کبھی نہ ہوتا”۔”اور میں پوتن کو بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں پوتین اور میں دنیا کو تیسری جنگ سے بچا سکتے تھے ، پوتین ایک اچھے انسان ہیں مگرامریکہ نے ان کو ناراض کرکے اچھا نہیں کیا

    روس نے کینیڈین وزیراعظم ، صدر جوبائیڈن سمیت دیگر امریکی حکام پر پابندیاں عائد کر…

    انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر انتخابات میں دھاندلی اور چوری نہ کی جاتی تو یوکرین پر حملہ آور ہونے سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔

    ٹرمپ نے اپنےخطاب میں 6 جنوری 2021 کے واقعات پر جاری ہاؤس کمیٹی کی سماعتوں پر حملہ کرنے کے حوالے سے گفتگو کی ۔ سابق صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کے حامیوں کو واشنگٹن میں امریکی کیپیٹل پر حملہ کرنے کے لیے اکسانے میں ان کے مبینہ کردار کی تحقیقات ایک "دھاندلی زدہ” تھی۔ انہوں نے ایک بار پھر 2024 میں صدر کے لیےمیدان میں اترنے کافیصلہ کیا ہے

    جوبائیڈن نےروسی تیل اورگیس کی تمام درآمدات پرپابندی لگا دی:روس نےجوابی کارروائی کی…

    جلسہ میں زوردار گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ "کیا کوئی پسند کرے گا کہ میں صدر کے لیے انتخاب لڑوں؟” ٹرمپ نے پوچھا، جس کے نتیجے میں سامعین کی جانب سے زوردار نعرے لگائے گئے۔

  • ایندھن کا بحران:سری لنکا میں اسکولز اورسرکاری دفاتردو ہفتوں کے لئے بند

    ایندھن کا بحران:سری لنکا میں اسکولز اورسرکاری دفاتردو ہفتوں کے لئے بند

    کولمبو: سری لنکا میں ایندھن کے سنگین بحران کے بعد اسکولز اورسرکاری دفاتردو ہفتوں کے لئے بند کردئیے گئے۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق سری لنکا میں تیل کی درآمدات پرادائیگیاں نہ ہونے کے باعث ایندھن کا بحران سنگین ہوگیا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طورپر معطل ہونے کے بعد حکومت نے اسکولز اورسرکاری دفاتردو ہفتوں کے لئے بند کردئیے ہیں۔وزارت تعلیم نے اساتذہ اورطلبا کو بجلی کی فراہمی پر آن لائن تعلیم کو یقینی بنانے کےلیے کہا ہے۔

    سری لنکا کی وزارت پبلک ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کی معطلی اورنجی گاڑیوں کوپیٹرول نہ ملنے کے باعث صرف ضروری عملے کودفاتربلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔سری لنکا کی حکومت نے رواں ہفتےمیں پیٹرول کی بچت کے پیشِ نظر جمعے کی چھٹی کا اعلان کیا تھا تاہم اس اقدام کے باوجود بھی پیٹرول اسٹیشن کے باہر لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔

    ادھر چند دن پہلے اقوام متحدہ نے خبردار کیاتھا کہ مالی بحران کے باعث سری لنکا کو سنگین انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ شدید اقتصادی اور سیاسی بحران سے دوچار سری لنکا کو سنگین ترین انسانی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    اقوام متحدہ کی تنظیم برائے انسانی امور کے ترجمان ژینس لائرکے نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ سری لنکا میں شدید معاشی بحران ایک سنگین انسانی بحران میں تبدیل ہوسکتا ہے جہاں پہلی ہی لاکھوں افراد کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔ترجمان اقوام متحدہ نے مزید بتایا کہ سری لنکا کے سنگین انسانی بحران کے شکار ہونے کے خدشے کے پیش نظر ضروری اقدامات کر رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جا سکے۔

  • پاکستانی 11 ماہ کے دوران کروڑوں ڈالرز کی چائے پی گئے،ادارہ شماریات کی رپورٹ

    پاکستانی 11 ماہ کے دوران کروڑوں ڈالرز کی چائے پی گئے،ادارہ شماریات کی رپورٹ

    ادارہ شماریات نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی جولائی2021 سے مئی2022 یعنی 11 ماہ کے دوران 58کروڑ 9 لاکھ ڈالرزکی چائے پی گئے-

    باغی ٹی وی : ادارہ شماریات کے مطابق عالمی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روپے کی گراوٹ کی وجہ سے پاکستان کا تیل اور کھانے پینے کی اشیاکا درآمدی بل گزشتہ برس جولائی تا اپریل کے 17.43ارب ڈالر سے رواں سال اسی مدت میں 61.44 فیصد بڑھ کر 28.14 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

    بجلی کی بچت: پنجاب میں بھی رات 9 بجے مارکیٹیں بند کرنے کا فیصلہ

    ملک کا مجموعی درآمدی بل مالی سال 2022 کے ابتدائی 10 ماہ میں 44.51 فیصد بڑھ کر 72.29 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال اسی مدت میں 50.02 ارب ڈالر تک تھا مجموعی درآمدی بل میں ان مصنوعات کا حصہ بھی مالی سال 2022 کے ابتدائی 10 ماہ میں بڑھ کر 39 فیصد ہو گیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے رواں سال کھانے پینے کی اشیاء کی درآمدات میں 11.93 فیصد اضافہ ہوا-

    ادارہ شماریات کے مطابق پاکستانی جولائی2021 سے مئی2022 یعنی 11 ماہ کے دوران 58کروڑ 9 لاکھ ڈالرزکی چائے پی گئے ،3 ارب 40 کروڑ 61 لاکھ ڈالرز سے زائد کا پام آئل، 56 کروڑ 74 لاکھ 95 ہزار ڈالرز کی دالیں کھا گئے19 کروڑ 14 لاکھ 55 ہزار ڈالرز کی چینی اور 20 کروڑ 26 لاکھ 69 ہزار ڈالرز کے مصالحہ جات درآمد کئے گئے جبکہ 10 ارب 33 کروڑ 32 لاکھ ڈالرز کی مشینری درآمد کی گئی اور خام صنعتی مال کے علاوہ لگژری مصنوعات کی درآمدات میں بھی اضافہ ہوا ۔

    جولائی تا اپریل ایک ارب 94 کروڑ 64 لاکھ ڈالرز کے موبائل فون درآمد کیے گئے جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 4 اعشاریہ 62 زیادہ ہیں، ایک کروڑ 98 لاکھ ڈالرز کا سونا در آمد کیا گیا، سونے کی درآمدات میں سالانہ بنیاد پر 123 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔

    رپورٹ کے مطابق 19 ارب 67 کروڑ 94 لاکھ ڈالرز کی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کی گئیں جب کہ ٹیکسٹائل شعبہ کی درآمدات کا حجم 4 ارب 37 کروڑ 92 لاکھ ڈالرز رہا، جولائی تا مئی ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 4 ارب 7 کروڑ 42 لاکھ ڈالرز کی درآمد ات کی گئیں جن میں 57 کروڑ 83 لاکھ ڈالرز کی سی بی یو کاریں شامل ہیں۔

    ملک میں خوراک کی بڑھتی ہوئی درآمدات اور اس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ حکومت کے لیے پریشانی کا ایک سبب ہے، پاکستان نے گزشتہ مالی سال میں خوردنی اشیا کی درآمد پر 8 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے۔

    درآمدی بل آئندہ مہینوں میں مزید بڑھنے کا امکان ہے کیونکہ حکومت نے اسٹریٹجک ذخائر کی تعمیر کے لیے 6 لاکھ ٹن چینی اور 40 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    کھانے کی چیزوں میں سب سے زیادہ حصہ گندم، چینی، خوردنی تیل، مسالہ جات، چائے اور دالوں کا ہے، خوردنی تیل کی درآمدات میں مقدار اور قدر دونوں کے لحاظ سے خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

    بجلی کی قیمت میں مزید اضافے کی درخواست

  • حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر ریاست نے جو کام کیا و ہ قابل تعریف ہے،حنا ربانی

    حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر ریاست نے جو کام کیا و ہ قابل تعریف ہے،حنا ربانی

    وزیرمملکت خارجی امور حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ خوشی ہے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو کلیئر کر دیا ہے،پاکستان نے دہشتگردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنے کے لیے محنت کی-

    باغی ٹی وی : وزیر مملکت حنا ربانی کھر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایف اے ٹی ایف نے اپنے اجلاس میں پاکستانی اقدامات کا جائزہ لیا،دہشتگردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنےکےلیے اقدامات پر عمل سرفہرست تھے،پاکستا ن کی جانب سے تمام شرائط پوری کرنے کی کوششوں کو تسلیم کرلیا گیا-

    پاکستان کی طرف سے ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلانز کی تکمیل بڑی کامیابی ہے۔آرمی چیف

    حنا ربانی کے مطابق فیٹف نےکہا پاکستان نے دہشتگردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنےکےلیے محنت کی،فیٹف نےکہا پاکستان نےشرائط مکمل کرنےکےلیے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا،فیٹف کےمطابق رکن ممالک کی جانب سے پاکستان کی کارکر دگی کی تعریف کی گئی ، ایف اے ٹی ایف ٹیم پاکستان کا دورہ کر کے شرائط کی تکمیل کامزید جائزہ لے گی،امید ہے اکتوبر تک گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل مکمل ہوجائے گاہم ایف اے ٹی ایف حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، ایف اے ٹی ایف نے اپنے اجلاس میں پاکستانی اقدامات کا جائزہ لیا،امید ہے اکتوبر تک گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل مکمل ہوجائے گا،اس میں شک نہیں کہ فیٹف کی شرائط مشکل تھیں،ایک گھنٹہ قبل پاکستان پہنچے ہیں –

    انہوں نے کہا کہ فیٹف معاملے پر عوام کو آگاہ کرنا ضروری تھا،ایف اے ٹی ایف کا معاملہ اہم تھا، فیٹف نے ٹیکنیکل ٹیم پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ،ایف اے ٹی ایف نے کہا پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت کا سلسلہ روکا ،ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے ،مشکل حالات میں متحد قوم بن کر ہم نے کام کیا ،ایف اے ٹی ایف معاملے پر جشن منانا قبل از وقت ہوگا ،ابھی تو گرے لسٹ سے نکلنے کا عمل شروع ہواہے،ایف اے ٹی ایف نے بیک وقت 2ایکشن پلان دیئے ،فیٹف اجلاس کے دوران سائیڈ لائن پرمختلف رہنماوں سے ملاقاتیں ہوئیں ،حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر ریاست نے جو کام کیا و ہ قابل تعریف ہے،پاکستان دیگر ممالک کے لیے بھی ماڈل کنٹری بنے گا ،پہلے ایکشن پلان کی تکمیل میں وقت لگا مگر دوسرا جلد مکمل کیا گیا،جب کسی ملک کو گرے لسٹ سے نکالا جاتا ہے تو تکنیکی ٹیم کو دورہ کرنا ہوتا ہے-

    پاکستان کو گرے لسٹ سے ابھی نہیں نکالا جا رہا،ایف اے ٹی ایف

    وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ فیٹف اجلاس کے دوران سائیڈ لائن پر مختلف رہنماوں سے ملاقاتیں ہوئیں ،حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر ریاست نے جو کام کیا و ہ قابل تعریف ہے،پاکستان دیگر ممالک کے لیے بھی ماڈل کنٹری بنے گا ،پہلے ایکشن پلان کی تکمیل میں وقت لگا مگر دوسرا جلد مکمل کیا گیا،جب کسی ملک کو گرے لسٹ سے نکالا جاتا ہے تو تکنیکی ٹیم کو دورہ کرنا ہوتا ہے،جب کسی ملک کو گرے لسٹ سے نکالا جاتا ہے تو تکنیکی ٹیم کو دورہ کرنا ہوتا ہے،قومی اور صوبائی اداروں نے بھی اپنا کام بہترین انداز میں کیا،ہمارے لیے یہ سفر کا اختتام نہیں بلکہ آغاز ہے ،ہمیں کوششیں جاری رکھنی ہیں،ہم اب اس پوزیشن میں آچکے ہیں کہ دوسرے ممالک کومعاونت فراہم کریں،اب پاکستان کےذمہ کوئی اقدامات زیرالتوا نہیں،ایک ملک ہمیشہ اس عمل کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کرتا ہے-

    ایف اے ٹی ایف، پاکستان کی کوششیں رنگ لے آئیں،افواج پاکستان کا بھی رہا کلیدی کردار

    وزیرمملکت حنا ربانی کھرنے کہا کہ پاکستان کو آگے دیکھنے کے خواہاں ہیں ،کوئی منفی بات نہیں کریں گے ،پاکستان نے اپنا کام کرلیا اب فیٹف ٹیم جائزہ لینے آئے گی ،کریڈٹ کسی کو نہیں جاتا اصل جیت پاکستان کی ہے ،پاکستان کی کوشش ہوگی دوبارہ کبھی گرے لسٹ میں نہ جائے،پاکستان نے اپنا مقدمہ بہترین انداز میں لڑا،حکومت اورپارلیمنٹ نے پلان سے متعلق قانون سازی کی ،فیٹف ٹیم قانون سازی کے اقدامات اورسیکریٹریٹ کا معائنہ کرے گی،پاکستان کی مسلسل کوششوں کودیکھتے ہوئے فیٹف نے ہاں کردی –

    ایف اے ٹی ایف، پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے کیلیے پرامید،اعلان ہو گا آج شام

    وزیرمملکت حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان سے امیدیں زیادہ رکھی گئی تھیں،ہم پر دباو تھا،2023میں ہمسایہ ملک کی رپورٹ بھی پیش کی جائے گی،ہماری کوشش ہوگی وہ غلطیاں نہ دہرائی جائیں جو ہوچکی ہیں،گرے لسٹ میں ڈالنےاور نکلنے کا ایک مرحلہ ہوتا ہے ،دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنا پاکستان کی اولین ترجیح رہی ہے،پاکستان نے بیک وقت 2 پلان پر عمل کےلیے حیران کن کام کیا،فیٹف کی بات ہوئی تو کریڈ ٹ لینے کاسلسلہ شروع ہوگیا ہم نے سبق سیکھ لیا ،ہم کسی بھی فہرست کاحصہ نہیں بنیں گے ،فیٹف میں پاکستان کے 2018 اور 2021 کے ایکشن پلان کا جائزہ لیا گیا،2021کے پلان پر پاکستان نے جلدی عمل کیا-

  • ملک کے بیشترعلاقوں میں بارش اور گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان

    ملک کے بیشترعلاقوں میں بارش اور گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہے گا-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق خیبرپختونخوا، پنجاب، بلوچستان ،گلگت بلتستان اور آزادکشمیر میں بارش کا امکان ہے ،اسلام آباد میں تیزہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کاامکان ہے،خضدار، قلات، سبی، نصیرآباد، کوہلو، زیارت، کوئٹہ اورچمن میں بارش متوقع ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق ہرنائی ،بارکھان اور ژوب میں آ ندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کاامکان ہے،راولپنڈی، مری ، گلیات ، اٹک، چکوال، جہلم اورمیانوالی میں موسلادھار بارش متوقع ہے راجن پور ،بہاولپور، خانپور اور رحیم یار خان میں گرد آلود ہوائیں اورآندھی چلنے کا امکان ہے-

    سرگودھا، خوشاب، حافظ آباد، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، نارووال میں بارش کاامکان ہے،لاہور، شیخوپورہ، فیصل آباد، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ ،ساہیوال اور بھکر میں بارش متوقع ہے،لیہ، خانیوال،اوکاڑہ ،بہاولنگر، ملتان، ڈی جی خان، مظفر گڑھ، کوٹ ادو اور پاکپتن میں بارش متوقع ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق سکھر،جیکب آباد،لاڑکانہ اور ملحقہ علاقوں میں تیز ہوا ؤں/ آ ندھی چلنے کا امکان ہے،چترال، دیر، سوات، مانسہرہ، کوہستان، ایبٹ آباد، ہری پور اور پشاور میں بارش کاامکان ہے،صوابی، نوشہرہ، کرم، کوہاٹ، وزیرستان، چارسدہ،لکی مروت، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بارش متوقع ہے-

    دوسری جانب ملک کے بشتر علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری ہے بارش کی وجہ سئ حادثات کی بھی اطلاع ہیں جہانیاں میں بارش کے باعث ہوٹل کے چھپر کی چھت گر گئی حادثے میں ایک شخص جاں بحق،2 افراد زخمی،ریسکیو ذرائع

    فورٹ عباس چولستان میں بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے بارش کے بعد عوام کے چہروں پر خوشی کی لہردوڑ گئی شدید گرمی کی وجہ سے کئی جانور دم توڑ گئے تھے-

    میلسی میں بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے،موسم خوشگوار ہو گیا بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے،:بارش کے باعث بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ بھی جاری ہے

    وادی لیپہ میں بھی گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش ہوئی،شدید بارش کی وجہ سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا جبکہ محکمہ زراعت کی جانب سے بارش کو فصلوں کے لئے مفید قرار دیا گیا،محکمہ موسمیات کا کہنا ہے وادی لیپہ میں بارش کا سلسلہ مزید 2 روز تک جاری رہے گا-

  • تنخواہ دار طبقے کو دیاگیا ریلیف ،پھرملکی معیشت پربوجھ  بنے گا:آئی ایم ایف

    تنخواہ دار طبقے کو دیاگیا ریلیف ،پھرملکی معیشت پربوجھ بنے گا:آئی ایم ایف

    اسلام آباد:آئی ایم ایف کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کو دیئے گئے ریلیف پر اعتراض،اطلاعات کے مطابق ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو ماہانہ دو لاکھ روپے کمانے والوں پر کم ٹیکس رکھنے پر اعتراض ہے۔

    ایف بی آر کے ذرائع نے کہا ہے کہ فنانس بل 2022 میں ماہانہ دو لاکھ تک کمانے والوں پر 7 فیصد انکم ٹیکس عائد کیا گیا ہے آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ ماہانہ دو لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والوں کیلئے ٹیکس کی شرح 10 فیصد کی جائے۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کل 18 مئی سے دوحہ میں ہوں گے

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف دو لاکھ روپے سے زائد تنخواہ والوں پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کیلئے دباؤ ڈال رہا ہے آئی ایم ایف نے چھٹے جائزے کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں 125 ارب روپے کے محصولات میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

    ذرائع ایف بی آر کے مطابق فنانس بل 2022 میں آئی ایم ایف مطالبے کے برخلاف 47 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیدی۔ذرائع ایف بی آر نے بتایا کہ اس سلسلے میں آئی ایم ایف سے بات چیت جاری ہے۔

    ادھروزیرمملکت برائے خزانہ ڈاکٹرعائشہ غوث پاشا نے کہا ہے کہ امریکا سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے۔

     

    بجٹ، آئی ایم ایف اورسگریٹ پرٹیکس ۔۔؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    قائمہ کمیٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھاکہ اس وقت آئی ایم ایف سے بجٹ پر بات چیت ہورہی ہے اور بہت سی چیزوں پر آئی ایم ایف وضاحت مانگ رہا ہے جس پرکام کررہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھاکہ آئی ایم ایف کے حوالے سے بھی امریکا سے بات چیت ہوئی ہے، پچھلی حکومت کی وجہ سے پاکستان کی ساکھ متاثر ہوئی، ہم دوبارہ ملکی ساکھ کو بحال کر رہے ہیں۔

    وزیرمملکت کا کہنا تھاکہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا دورہ امریکا بھی کامیاب رہا اور پاکستان کے امریکا سے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔

    آئی ایم ایف کو نئے مجوزہ بجٹ پر تحفظات ہیں،وزیر خزانہ

  • پاکستان کو گرے لسٹ سے ابھی نہیں نکالا جا رہا،ایف اے ٹی ایف

    پاکستان کو گرے لسٹ سے ابھی نہیں نکالا جا رہا،ایف اے ٹی ایف

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے صدر ڈاکٹر مارکس نے کہا ہے کہ فی الحال پاکستان کو گرے لسٹ سے نہیں نکالا جا رہا، اسلام آباد نے گرے لسٹ سے نکلنے کی تمام شرائط پوری کر دی ہیں۔

    ایف اے ٹی ایف کا چار روزہ اجلاس جرمنی کے شہر برلن میں شروع ہوا، ایف اے ٹی ایف کے 206 ارکان اور مبصرین کی نمائندگی کرنے والے مندوبین مکمل اجلاس میں شرکت کی، مبصرین میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف)، اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور ایگمونٹ گروپ آف فنانشل انٹیلی جنس یونٹس شامل تھے۔

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے برلن میں ہونے والے اجلاس کے اختتام کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران صدر ایف اے ٹی ایف ڈاکٹر مارکس نے بتایا کہ پاکستان نے دیئے گئے اہداف مکمل حاصل کر لیے ہیں۔ گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے تمام پوری شرائط پوری کر دی ہیں، ایف اے ٹی ایف کا وفد کورونا کی صورتحال دیکھ کر جلد پاکستان کا دورہ کرے گا، ہماری ٹیم دورہ کے دوران تمام اقدامات کا جائزہ لے گی، پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 34 نکال پرعملدرآمد کر لیا، رکن ممالک نے کارکردگی کو سراہا، گزشتہ دو سال میں ہم نے 5بار انسداد دہشت گردی کے اقدامات کا جائزہ لیا، پاکستان نے دونوں ایکشن پلان پر وقت سے پہلے عملدرآمد کیا۔ اُسے مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ فی الحال پاکستان کو گرے لسٹ سے نہیں نکالا جارہا۔

    صدر ایف اے اٹی ایف کا کہنا تھا کہ چار روزہ اجلاس میں یوکرین پر روسی حملہ زیر بحث آیا، ایف اے ٹی ایف میں روس کا قائدانہ کردار واپس لیا جا رہا ہے، جبرالٹر کو گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے رکن ملکوں نے بہت محنت کی ہے، کورونا نے ایف اے ٹی ایف کے اہداف کو متاثر کیا، ایف اے ٹی ایف نے ڈیجیٹل مانیٹرنگ بہتر کی ہے، یہ ایف اے ٹی ایف کا اہم اجلاس تھا۔

    دوسری طرف وزیر مملکت برائےخارجہ حناربانی کھر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپر لکھا کہ مبارک ہو پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے دونوں ایکشن پلان کو مکمل قرار دیا۔ بین الاقوامی برادری نے متفقہ طور پر ہماری کوششوں کو سراہا ہے۔ ہماری کامیابی 4 سال کے مشکل سفر کا نتیجہ ہے۔ پاکستان اس رفتار کو جاری رکھنے اور معیشت کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس آن منی لانڈرنگ ایک عالمی ادارہ ہے جو جی 7 ممالک (امریکا، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، اٹلی، جرمنی اور جاپان) کی ایما پر بنایا گیا، اس ادارے کا مقصد ان ممالک پر نظر رکھنا اور اقتصادی پابندیاں عائد کرنا ہے جو دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں میں تعاون نہیں کرتے اور عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیے گئے دہشت گردوں کے ساتھ مالی تعاون کرتے ہیں۔

    فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے قیام کا فیصلہ 1989ء میں تقریباً 33 سال قبل جی 7 ملکوں نے فرانس میں منعقدہ اجلاس میں کیا تھا، بعد ازاں جی سیون اتحاد کے ممبران کی تعداد 16 ہوئی جو اب بڑھ کر 39 ہوچکی ہے، ایف اے ٹی ایف میں 37 ممالک اور 2 علاقائی تعاون کی تنظمیں شامل ہیں۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف سے وابستہ ایشیا پیسیفک گروپ کا حصہ ہے، اس تنظیم کی براہِ راست اور بالواسطہ وسعت 180 ممالک تک ہے۔