Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 24 برس مکمل،وزیراعظم کا یوم تکبیر پرخصوصی پیغام

    پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 24 برس مکمل،وزیراعظم کا یوم تکبیر پرخصوصی پیغام

    لاہور: پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 24 برس مکمل ہو گئے لہٰذا پورے ملک میں آج یوم تکبیر جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم نے یوم تکبیر پرخصوصی پیغام میں قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج کے دن 1998 میں وزیراعظم نواز شریف نے قیادت کے دلیرانہ شو میں دباؤ اور ترغیبات کو مسترد کر کے پاکستان کو دنیا کی ایٹمی طاقت بنا یا-


    وزیر اعظم نے کہا کہ اب ہم اسے معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کا عزم کر چکے ہیں۔ میں ان تمام لوگوں کا مشکور ہوں جنہوں نے ہمارے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں مدد کی۔

    پیٹرول سے متعلق ہم نے دل پر پتھر رکھ کرفیصلہ کیا ، شہباز شریف

    پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 24برس مکمل ہو گئے تاہم اسی مناسبت سے آج پورے ملک میں یوم تکبیر قومی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے اورملک بھر میں خصوصی تقریبات ہوں گی۔


    واضح رہے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے دورمیں پاکستان نے 28مئی 1998ء کو بلوچستان کے علاقے چاغی میں 5 کامیاب ایٹمی دھماکے کیے، جس کے بعد اس دن کو یوم تکبیر کے نام سے منایا جاتا ہے۔


    وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے یوم تکبیر پرخصوصی پیغام میں کہا گیا کہ یوم تکبیر پر پوری پاکستانی قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں24 سال قبل آج کے دن ہم نے ثابت کیا کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے-

    نعرہ تکبیر تک کا سفر ، ازقلم :غنی محمود قصوری

    یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے جوہری دھماکوں کے 24 سال مکمل ہونے پر 10 روزہ تقریبات منانے کا فیصلہ قیام پاکستان کے 75 سال مکمل ہونے کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کی طرز پر یوم تکبیر ملک بھر میں قومی جذبے سے منانے کی ہدایت کی تھی –

    وزیراعظم نےوفاق، چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کے ساتھ مل کر تقریبات کے انعقاد کی ہدایت کی تھی یوم تکبیر پر قومی تقریبات منانے کا آغاز 19 مئی سے ہوگا-

    وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر یوم تکبیر کی تقریبات منعقد کی جائیں گی، تعلیمی اداروں، طالب علموں اور نوجوانوں کو خاص طور پر ان تقریبات کا حصہ بنایا جائے گا، وزیراعظم نے تمام سیاسی جماعتوں، وکلاء ، ڈاکٹر، میڈیا، محنت کش، سول سوسائٹی تنظیموں سمیت معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی تھی کہ وہ اس قومی دن کو قومی جذبے کے ساتھ منائیں-

    جوہری دھماکوں کے 24 سال مکمل،حکومت کا 10 روزہ تقریبات منانے کا فیصلہ

  • نعرہ تکبیر تک کا سفر ، ازقلم :غنی محمود قصوری

    نعرہ تکبیر تک کا سفر ، ازقلم :غنی محمود قصوری

    نعرہ تکبیر تک کا سفر

    ازقلم غنی محمود قصوری

    انڈیا 1974 میں ایٹمی طاقت بن چکا تھا اور ہر وقت پاکستان کو ختم کرنے کی باتیں سرعام کرتا تھا اس سے قبل 1971 میں مشرقی پاکستان کو اس نے باقاعدہ سازش سے دولخت کروایا تھا

    18 مئی 1974 کو راجھستان میں مسکراتا بدھا نامی مشن میں انڈیا نے ایٹمی دھماکے کئے اور خود کو پوری دنیا کا مالک سمجھ لیا خاص کر ایشا کا غنڈہ بننا اس کا خواب تھا
    انڈیا کے اس رویے کے باعث اب پاکستان پر فرض تھا کہ مساوی طاقت حاصل کی جائے

    اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے
    نان پرولیفیشن ٹیریٹری (ایٹمی طاقت نا بننے کا معاہدہ) پر دستخط نا کئے اور 1976 میں ڈاکٹر قدیر مرحوم علیہ الرحمہ کی سرپرستی میں پاکستانی اٹامک انرجی کمیشن کا آغاز کیا گیا
    ڈاکٹر عبدالقدیر علیہ الرحمہ نے قلیل وسائل کے باوجود جس محنت اور لگن سے کام کیا اس پر جتنا خراج تحسین انہیں پیش کیا جائے کم ہے

    1977 میں ضیاءالحق کی حکومت میں سخت عالمی پابندیوں کے باوجود پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی نے سنگاپور،یورپ اور مشرق وسطی سے بڑی دلیری اور خفیہ طریقوں سے حساس آلات خریدے اور پاکستان منتقل کئے
    کیونکہ امریکہ پاکستان کو کبھی بھی ایٹمی طاقت بننے نہیں دینا چاہتا تھا

    یہ بات بھی بہت مشہور اور مستند ہے کہ آئی ایس آئی کے ایجنٹوں نے انڈین اٹامک سنٹر سے بھی حساس آلات حاصل کئے جس پر انڈیا سخت پریشان بھی ہوا اور امریکہ کو رپورٹ کی تبھی امریکہ نے خطرہ بھانپ کر فرانس جرمنی اور کینیڈا پر پابندیاں لگا دیں کہ پاکستان کو کوئی بھی حساس آلات یا ٹیکنالوجی نا فروخت کی جائے –

    تاہم آئی ایس آئی نے بڑے ماہرانہ طریقے سے جرمنی سے حساس آلات اور ٹینالوجی حاصل کرکے انتہائی مشکل ترین طریقے سے پاکستان منتقل کیا کیونکہ امریکہ اور انڈیا پاکستان پر پوری نظر رکھے ہوئے تھےپاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے بڑی محنت اور لگن سے اپنا کام جاری رکھا –

    امریکہ و انڈیا نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی اور دھمکیاں بھی لگائیں اور 1986 میں راجھستان کے علاقے میں 6 لاکھ فوجیوں کو جمع کرکے پاکستان کو جنگ کی دھمکی لگائی 1989 کی مسلح تحریک آزادی کشمیر کی شروعات پر بھارت نے پھر پاکستان کو جنگ کی دھمکی لگائی اور ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تاہم پاکستان نے اپنا کام جاری رکھا

    11 اور 13 مئی 1998 کو ایک بار پھر انڈیا نے چولستان میں ایٹمی دھماکے کئے اور اپنی ڈھاک بٹھانے کی کوشش کی
    اب وقت آگیا تھا کہ انڈیا کو منہ توڑ جواب دیا جائے سو پاکستان نے انڈیا کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 28 مئی 1998 کو ایٹمی دھماکے کئے

    پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی میں 28 مئی کو 5 اور 30 مئی کو 1 ایٹمی دھماکہ کیا ایٹمی دھماکوں کے بعد جنگ کی دھمکی دینے والا انڈیا پیشاب کی جھاگ کی طرح بیٹھ گیا-

    انڈیا امریکہ کا خیال تھا کہ بے انتہاہ پابندیوں میں پاکستان ایٹمی قوت نا بن پائے گا مگر اللہ کے فضل اور پاکستان آئی ایس آئی،ڈاکٹر عبدالقدیر علیہ رحمہ کی محنت و لگن سے اللہ نے وہ دن بھی دکھلایا کہ جب نعرہ تکبیر لگا کر بدمست ہاتھی انڈیا کو جواب دیا گیا اور اس کا غرور خاک آلود ہوا

    پاکستان دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہےپاکستان کے ایٹمی دھماکوں پر پوری اسلامی دنیا نے جشن منایا

    لکھنے بولنے کو تو ،یوم تکبیر، ایک معمولی بات ہے مگر اس کے پیچھے ہمارے حکمرانوں،آئی ایس آئی اور ڈاکٹر عبدالقدیر و ان کی ٹیم کی بے شمار قربانیاں ہیں ایٹمی طاقت بننے کے بعد بظاہر انڈیا نے جنگ کی دھمکیاں دیں ہیں مگر ان دھمکیوں میں وہ پہلے سا غرور و رعب نہیں اور یہ سب نعرہ تکبیر کے مرہون منت ہی ہے

  • پاکستان کے 2 کوہ پیماوں نے دنیا کی پانچویں بلند ترین چوٹی سرکرلی

    پاکستان کے 2 کوہ پیماوں نے دنیا کی پانچویں بلند ترین چوٹی سرکرلی

    پاکستان کے 2 کوہ پیماوں سرباز علی اور شہروز کاشف نے ماونٹ مکالو سر کر لیا-

    باغی ٹی وی : شہروز کاشف ٹاپ 5 بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والے دنیا کے کم عمر ترین کوہ پیما بن گئے،20سالہ شہروز کاشف ماونٹ مکالو سرکرنے والے کم عمر ترین پاکستانی ہیں جبکہ وہ 8 ہزار میٹر سے بلند 14 میں سے مجموعی طور پر 7 چوٹیوں کو سر کر چکے ہیں۔

    پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما اگلے ماہ "کے ٹو” سرکرنے کی مہم پر نکلیں گی

    نوجوان کوہ پیما بلند ترین 7 چوٹیاں سر کرنے والے تیسرے پاکستانی ہیں، شہروز کاشف سے قبل صرف محمد علی سدپارہ اور سرِباز خان یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔

    دوسری جانب سرباز علی نے 8 ہزار میٹر سے بلند 14 میں سے 11 چوٹیوں کو سر کر لیا سرباز علی خان نے نیپال میں واقع 8463 میٹر بلند چوٹی کو ہفتے کی صبح سر کیا سرباز علی خان نے چند روز قبل ہی دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی کنچن جونگا کو بھی سر کیا تھا۔

    ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے گھر پر نامعلوم افراد کی فائرنگ

    سِرباز کے کرئیر میں بلند ترین 14 چوٹیوں میں سے گیشربرم ون، شیش پنمگا اور چو ایو کو سر کرنا باقی رہ گیا ہے، سرباز خان گیارہ 8 تھاؤزنڈرز سر کرنے والے پہلے پاکستانی ہیں۔

    شہروز کاشف نے دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی سر کرنے کا اعزاز پاک فوج شہدا کے نام کر…

  • ملک بھر میں موسم کی صورتحال

    ملک بھر میں موسم کی صورتحال

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کےبیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہے گا-

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات کے مطابق چارسدہ، مردان ،کوہاٹ، مینگورہ، پشاور اور سوات میں آندھی اور بارش کا امکان ہے دیر، چترال ، مانسہرہ ، مالا کنڈ، کرم ،ابیٹ آباد اور بونیر میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق خطہ پوٹھوہار، بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اورآزاد کشمیرمیں بارش کا امکان ہے پنجاب اور بالائی سندھ میں موسم شدید گرم رہے گا-

    محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں آندھی چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے-

    دوسری جانب محکمہ تحفظ ماحولیات پنجاب نے آج کا ائیر کوالٹی انڈیکس جاری کردیا ہے-

    محکمہ تحفظ ماحولیات کے مطابق ٹاؤن شپ سیکٹر ٹو میں ائیر کوالٹی انڈیکس 14ریکارڈ کیا گیا،میٹرو لوجیکل ڈیپارٹمنٹ، جیل روڈ لاہور میں ائیر کوالٹی انڈیکس 145ریکارڈ ،نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں ائیر کوالٹی انڈیکس 147ریکارڈ کیا گیا جبکہ ٹاون ہال لاہور میں ائیر کوالٹی انڈیکس 160ریکارڈ کیا گیا ہے-

  • اسلام آباد میں میٹرو اسٹیشن جلائے جانے کا دعویٰ جھوٹا نکلا

    اسلام آباد میں میٹرو اسٹیشن جلائے جانے کا دعویٰ جھوٹا نکلا

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں میٹرو اسٹیشن جلائے جانے کا دعویٰ جھوٹا نکلا ہے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران اسلام آباد میں میٹرو بس اسٹیشن جلائے جانے کا دعویٰ جھوٹا نکلا ہے لیگی رہنماؤں نے بھی اسٹیشن جلائے جانے کا پروپیگنڈہ کیا تھا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ میٹرو اسٹیشن کا شیشہ تک نہیں ٹوٹا اور بس سروس معمول کے مطابق بحال ہے۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران افواہیں پھیلائی گئی تھیں کہ میٹرو اسٹیشن کو جلا دیا گیا ہے۔

    لانگ مارچ کے دوران جس میٹرو اسٹیشن کو جلائے جانے کے گمراہ کن دعوے کئے گئے اس کا شیشہ تک نہیں ٹوٹا، سروس مکمل بحال ہے، آگ لگائے جانے کا دعوی جھوٹا نکلا۔۔

    اس سے قبل انتظامیہ میٹرو بس سروس کا کہنا تھا کہ میٹرو بس سروس دو روز قبل پی ٹی آئی لانگ مارچ کے باعث بند کی گئی تھی اور اسے آج بحال کر دیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے آزادی مارچ کے سبب سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جڑواں شہروں میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا تھا۔سیکیورٹی حکام کی جانب سے اسلام آباد کے داخلی راستوں کو بند کر دیا گیا تھا جبکہ میٹرو بس سروس کو بھی معطل کیا گیا تھا۔

  • پاک فوج کی شکایت پر ایمان مزاری کے خلاف مقدمہ درج:ناقابل ضمانت،مگرپھربھی ضمانت ہوگئی

    پاک فوج کی شکایت پر ایمان مزاری کے خلاف مقدمہ درج:ناقابل ضمانت،مگرپھربھی ضمانت ہوگئی

    اسلام آباد: پاک فوج کی شکایت پر پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔دوسری طرف ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ جودفعات اس ایف آئی آر میں لگائی گئی ہیں وہ ناقابل ضمانت ہیں پھر بھی اگر ضمانت ہوگئی ہے تو قابل غور ہے

    ان ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری کے خلاف جو مقدمہ درج ہے اس کے مطابق اس کی ضمانت نہیں ہوسکتی مگرپھر بھی اگرضمانت ہوگئی ہے تو یہ سرا سرقانون کے خلاف ہے ، جس کا جائزہ لینا چاہیے

     

     

    ذرائع کے مطابق ایمان مزاری کے خلاف مقدمہ لیفٹیننٹ کرنل سید ہمایوں افتخار نے اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں درج کروایا۔مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 21 مئی کی شام ایمان مزاری نے آرمی قیادت کے خلاف بے بنیاد الزام لگائے ان کے ریمارکس کا مقصد فوج کے رینکس اور فائل میں اشتعال دلانا تھا۔

    مقدمے کے متن کے مطابق ایمان مزاری کا ایسا اقدام پاک فوج کے اندر نفرت پیدا کرنے کا باعث بن سکتا تھا اور یہ سنگین جرم ہے، پاک فوج اور سربراہ کی کردار کشی سے عوام میں خوف پیدا کرنا ریاست کے خلاف جرم ہے۔دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایمان مزاری کی 9 جون تک عبوری ضمانت منظور کرلی ہے۔

  • اسلامی تعاون تنظیم کی یاسین ملک کوعمرقید کی سزاسنائےجانے پرگہری تشویش،فوری رہائی کا مطالبہ

    اسلامی تعاون تنظیم کی یاسین ملک کوعمرقید کی سزاسنائےجانے پرگہری تشویش،فوری رہائی کا مطالبہ

    اسلام آباد:اسلامی تعاون تنظیم سیکرٹریٹ کی طرف کئی دہائیوں سے پرامن آزادی کی جدوجہد کی قیادت کرنے والے کشمیری رہنماؤں میں سے یاسین ملک کو عمر قید کی سزا سنائے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا

    اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے جموں اور کشمیر کے لوگوں کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم کا جنرل سیکریٹریٹ عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کشمیریوں کی ان کے حقوق کے حصول کے لیے جائز جدوجہد کو دہشت گردی کے مترادف نہ کیا جائے۔

    جنرل سیکریٹریٹ نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر منصفانہ طور پر قید تمام کشمیری رہنماؤں کو رہا کرے، بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں اور کشمیر میں کشمیریوں پر ہونے والے سنگین اور منظم ظلم و ستم کو فوری طور پر روکے اور کشمیر کے لوگوں کے حق کا احترام کریں کہ وہ آزادانہ اور غیر جانبدار جدوجہد کے ذریعے اپنے مستقبل کا تعین کریں جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں درج ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان نے بھارت سے کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی فوری رہائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بھارت کی جانب سے حریت رہنما یاسین ملک کو جعلی اور مشکوک کیس میں سنائی گئی سزا کی شدید مذمت کی۔

    عاصم افتخار نے کہا کہ اس معاملے پر بھارتی ناظم الامور کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا جبکہ وزیر خارجہ نے یاسین ملک کی جلد اور فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    کورونا وبا کے بعد چینی جامعات میں پاکستانی طلبہ کی واپسی کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ چینی جامعات میں کلاسوں کا دوبارہ آغاز ہو رہا ہے، 251 پاکستانی طلبہ کو ویزا پراسس کے بعد چین واپس بھیجا جائے گا، اس حوالے سے چارٹرڈ طیارے پر بھی غور جاری ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں سری نگر اور پلوامہ میں آج 4 معصوم کشمیری نوجوانوں کو بھارتی افواج کی جانب سے شہید کیا گیا جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف آئندہ ہفتے ترکی کا دورہ کریں گے۔

  • پشاور:صحافی کے سوال پر عمران خان پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    پشاور:صحافی کے سوال پر عمران خان پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    پشاور:صحافی کے سوال پر عمران خان پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے،اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کے ہمراہ پشاور میں پریس کانفرنس کی۔

    صحافی نے سوال کیا کہ لوگ آپ کو ووٹ دیتے ہیں، آپ کے ساتھ جاتے بھی ہیں لیکن نہ لوگوں نے وزیراعظم ہاؤس کی دیواریں گرتی دیکھیں، نہ لوگوں نے گورنر ہاؤس کی دیواریں گرتے دیکھیں، نہ لوگوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں یونیورسٹیاں دیکھیں، نہ لوگوں نے چوروں کو لٹکتے ہوئے دیکھا، آپ لوگوں کو دوبارہ انگیج کرکے اسلام آباد چڑھائی کرنے جائیں گے تو کون سا نیا نعرہ ہے؟

    انہوں نے مزید سوال کیا کہ آپ کی ٹیموں نے یوٹیوبرز اور کی بورڈ وارئیر سے پاکستان فتح کرنے کی کوشش کی ماضی میں، پختونخوا کے صحافیوں کو آپ لوگ بھلا چکے تھے، اب یوٹیوبرز اور کی بورڈ وارئیرز سے امریکا اور یورپ اور نیٹو کے ممالک افغانستان نہیں فتح کرسکے آپ اسلام آباد کیا فتح کریں گے؟

    صحافی کا مزید سوال تھاکہ گلی گلی اور کوچے کوچے میں آرمی جنرلز کو گالیاں دے رہے ہیں، اب یہ تربیت کس نے دی؟ ٹوئٹر پر یہ کون لوگ ہیں؟ پی ٹی آئی کے لوگ ہیں؟ آپ اپنے ورکرز کو پاکستان کے اداروں بالخصوص آرمی اور عدلیہ کے حوالے سے کیا پیغام دیں گے؟ آپ نے کہا تھا کہ یہ پیغام کان میں پہنچا دیں میرے خیال سے کان میں پہنچ چکا ہے اور گالیاں پڑ رہی ہیں، اب عوام توقع کر رہے ہیں آپ اپنے ورکر کی تھوڑی سی تربیت کرلیں، آپ تحریک چلائیں پاکستان کو فتح کریں اور دوبارہ عوام کی خدمت کریں لیکن جو نفرت اور گالم گلوچ کی سیاست ہے اس حوالے سےورکرز کو کوئی پیغام دیں گے؟

    صحافی کے سوال پر عمران خان کا کہنا تھاکہ اس کا بڑا سخت جواب دے سکتا ہوں لیکن وہ نہیں دوں گا۔ ان کا کہناتھاکہ ہم نے چیف جسٹس کو مراسلہ بھیجا ہے جس میں سازش واضح ہے، ہم امپورٹڈ حکومت کو نہیں دیکھ سکتے، جو بھی قوم جس کو ووٹ دینا چاہتی ہے بسم اللہ۔

    انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو کوئی کنٹرول نہیں کرسکا، کوئی ٹرینڈ چلاتے ہیں لوگ فالو نہیں کرتے تو کل ختم ہوجاتے ہیں، سوشل میڈیا سے عوام کو آواز آگئی ہے جس کے پاس فون ہے اس کے پاس آواز ہے اور وہ اپنی آواز سامنے رکھ لیتا ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھاکہ میں نفرتیں پھیلانا چاہتا تو کل جو حالات تھے تو وہاں نفرتیں تب دیکھنی تھیں کیسے پھیلنی ہیں، ہم ملک کو متحد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے صحافی کو کہا کہ آپ نے باتیں غلط کی ہیں بالکل غلط کی ہیں اور ایک غلط قسم کی تقریر کردی ہے، یہ پریس کانفرنس ہو رہی ہے۔اس دوران عمران خان غصے میں آگئے اور پریس کانفرنس سے اٹھ کر چلے گئے اور صحافی کو بھی کچھ کہتے رہے۔

  • پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30 روپے فی لٹر اضافے کےلیے پاکستانی تیار رہیں : مصطفیٰ نواز

    پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30 روپے فی لٹر اضافے کےلیے پاکستانی تیار رہیں : مصطفیٰ نواز

    اسلام آباد:پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30 روپے فی لٹر اضافے کےلیے پاکستانی تیار رہیں،اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30 روپے فی لٹر اضافہ متوقع ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے لکھا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30 روپے فی لٹر اضافہ متوقع ہے، آئی ایم ایف شاید کئے گئے اضافہ سے مطمئن نہ ہو، سخت بجٹ بھی دینا پڑے گا۔

     

    اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے لکھا کہ سوال تو یہ ہے کہ عمران خان کی ناکامیوں اور ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کا بوجھ اپنے سر لینے میں کیا حکمت ہے؟۔

     

     

    دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی شکل میں عوام پر ایک نہیں دو بم گرائے گئے، پہلے مہنگائی کیا کم تھی کہ اب ٹرانسپورٹ کی وجہ سے مہنگائی میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوگیا ہے۔

    چودھری پرویز الٰہی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ نا اہل حکمرانوں نے عوام کو مہنگائی کی چکی میں پسنے کیلئے بے یارو مدد گار چھوڑ دیا ہے، حکمران سستا تیل روس سے کیوں نہیں لیتے،عمران خان نے روس سے سستے تیل کی ڈیل مکمل کر لی تھی، بھارت نے روس سے سستا تیل لے کر اپنی عوام کو ریلیف فراہم کیا۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان نے لانگ مارچ ختم نہیں کیا صرف 6 روز کیلئے حکومت کو مزید مہلت دی ہے، گرفتار کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے، اعلیٰ عدلیہ نے بھی فوری رہائی کا حکم دیا ہے۔

  • پاکستان تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس کل پشاورمیں طلب کرلیاگیا

    پاکستان تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس کل پشاورمیں طلب کرلیاگیا

    پشاور:پاکستان تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس کل پشاورمیں طلب کرلیا گیا۔،تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کور کمیٹی اجلاس کی صدارت کریں گے جس میں سیاسی صورتحال پر مشاورت اور اہم فیصلے ہوں گے۔

     

     

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں لانگ مارچ کی بعد کی صورتحال پر غور ہو گا اور لانگ مارچ سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس میں حکومت کو دیے گئے الٹی میٹم پر غور بھی کیا جائے گا۔

     

     

    ادھر آج پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہےکہ شہباز،رانا ثناء کو سانحہ ماڈل ٹاؤن میں سزا مل جاتی تو اتنا ظلم نہ کرتے، ہماری حکومت کیساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوئی، میری اگلی ساری زندگی قوم کی حقیقی آزادی کے لیے ہے۔خون خرابے سے بچنے کیلئے اسلام آباد سے واپس گئے۔حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں، جون میں الیکشن کا اعلان ہوجائے تو باقی معاملات پر بھی بات چیت ہوسکتی ہے۔

     

     

    پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج پر امن تھا لیکن حکومت نے اسے پرتشدد بنادیا، لاہور میں پولیس نے وکلا کو بسوں سے نکال نکال کر مارا، حکومت نے پنجاب پولیس کو استعمال کیا، آئی جی سمیت چن چن کر ایسے افسران لائے جنہوں ںے ظلم کیا، کون سی ملک دشمن پولیس نے جو اپنے ملک کی خواتین اور بچوں پر تشدد کرے۔

     

     

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ ہمارے خلاف پروپیگنڈا ہے کہ ہم انتشار پھیلانے جارہے تھے، کیا کوئی خواتین کو اور اہل خانہ لے کر انتشار پھیلانے جائے گا؟ یہ لوگ یزید کو ماننے والے ہیں، ماڈل ٹاؤن میں چودہ افراد کو قتل کے باوجود انہیں سزا نہیں ملی اگر مل جاتی تو یہ لوگ اس طرح کا ظلم نہ کرپاتے۔

     

     

    انہوں ںے کہا کہ میں وہ آدمی ہوں جو 126 دن دھرنے میں بیٹھا، میرے لیے ایک اور دھرنے میں بیٹھنا کوئی مشکل نہیں تھا، جب ہم دھرنے میں پہنچے تو اندازا ہوا کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں، مجھے معلوم ہوا کہ خون خرابہ ہونے والا ہے، لوگ لڑنے کے لیے تیار ہوگئے تھے، ہمارے لوگ پولیس کی مار کھاکر وہاں پہنچے وہ بہت مشتعل تھے، لوگ بہت غصے میں تھے، میں گارنٹی کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس دن خون خرابہ ہوتا اور پولیس کے ساتھ تصادم ہوتا۔

     

     

    پی ٹی آئی چیئر مین نے کہا کہ حکومت نے گلو بٹ بٹھائے ہوئے ہیں، پولیس کا قصور نہیں اسے استعمال کیا جارہا ہے، اگر ہمارا تصادم ہوتا تو ملک کا نقصان ہوتا کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہماری کمزوری تھی یا ہم نے کوئی ڈیل کرلی، میں نہیں چاہتا کہ ملک میں اداروں اور عوام کے درمیان خلیج بڑھے، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم آرام سے بیٹھ جائیں گے اور اس امپورٹڈ حکومت کو تسلیم کرلیں گے تو یہ لوگوں کی بھول ہے۔

     

     

    عمران خان نے کہا کہ ہم چھ دن دے رہے ہیں، اگر انہوں ںے واضح طور پر انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا اور اسمبلیاں تحلیل نہ کیں تو ہم دوبارہ نکلیں گے اور اب کی بار تیاری کے ساتھ نکلیں گے کیوں کہ نہیں پتا تھا کہ ہمیں اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑجائے گا، سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ہمارے جلسے کی راہ میں رکھی رکاوٹیں نہیں ہٹائیں گئیں انہیں کارکنان نے ہٹایا، میں اپنے کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ میں نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر سوالات کیے ہیں کہ اپنی پوزیشن کلیئر کریں، چھ دن میں پتا چل جائے گا کہ سپریم کورٹ ہمارے حقوق کا تحفظ کرتی ہے کہ نہیں۔