Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • پنجاب پولیس نے نئے مالی سال کیلئے 158 ارب روپے کا بجٹ مانگ لیا

    پنجاب پولیس نے نئے مالی سال کیلئے 158 ارب روپے کا بجٹ مانگ لیا

    لاہور:حکومت کے لئے ایک اور اہم ادارے کی جانب سے ڈیمانڈ آ گئی، پنجاب پولیس نے نٸے مالی سال 2022/2023کے لیے 158ارب روپے کا بجٹ مانگ لیا ہے۔

    ذراٸع کے مطابق پنجاب پولیس کی سوا دو لاکھ سے زاٸد فورس کے لیے پنجاب پولیس کے سربراہ راؤسردار علی خان نے نٸے مالی سال 2022/2023کے لیے 158ارب روپے کا بجٹ مانگ لیا ، بجٹ تنخواہوں، اخراجات،سامان کی خریداری سمیت دیگر کے لیے مانگا گیا ہے۔

    ذراٸع کا کہنا ہے کہ لیس کے ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں سب سے زیادہ 120 ارب مانگا گیا ہے جبکہ 25ارب پیٹرول کے لیے، ڈیڑھ ارب بجلی کے بلز کی مد اور تین ارب روپے یونیفارم کی مد میں مانگے گئے ہیں۔

    ذراٸع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کاسٹ آف انویسٹی گیشن کی مد میں تین ارب اور متفرق و اینٹی رائٹ کے اخراجات کی مد میں ڈیڑھ ارب روپے طلب کیے گئے ہیں جبکہ گاڑیوں، بلڈنگز اور مینٹیننس کی مد میں دو ارب، متفرق اخراجات کی مد میں 7 ارب، ایل پی آر کی مد میں ڈیڑھ ارب مانگے گئے ہیں۔

    ذراٸع کا مزید کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب نے دوران سروس فوت ہونے والے افسران و ملازمین کے لیے 3 ارب، شہدا کے لیے 50 کروڑ روپے کا بجٹ مانگا ہے جبکہ متفرق گاڑیوں و دیگر سامان کی خرید وفروخت کی مد میں 7 ارب روپے طلب کیے گئے ہیں۔

    سوئی سدرن کےلیےگیس کی قیمت میں44 فیصد اضافے کی منظوری

    بھارت میں کورونا نے پھرسراُٹھا لیا

    ہمارے ملک میں مداخلت کیوں:کویت نے امریکی سفیرکوطلب کرکےسخت پیغام بھیج دیا

    اگست سے پٹرول کی قیمتیں کم ہونےکا امکان:اوپیک نے روس سے مدد مانگ لی

  • ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے لیے کھلاڑی پُر جوش ہیں: ثقلین مشتاق

    ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے لیے کھلاڑی پُر جوش ہیں: ثقلین مشتاق

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق کا کہنا ہے کہ سیریز کوئی بھی ہو اسے آسان نہیں سمجھا جاسکتا۔ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ویسٹ انڈیز کیخلاف سیریز کیلئے پُرجوش ہیں، موسم کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں، کھلاڑی موسم کے مطابق خود کو تیار کر رہے ہیں،

     

    ایشیا کپ کی میزبانی کے لیے سری لنکا کی حالت اچھی نہیں،صدر بنگلادیش کرکٹ بورڈ

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں ثقلین مشتاق نے کہا کہ کوئی بھی سیریز ہو آسان نہیں لی جا سکتی، ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے لئے پُر جوش ہیں۔ کھلاڑی موسم کے مطابق خود کو تیار کر رہے ہیں۔قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے مزید کہا کہ شاہین آفریدی اور حسن علی نے آرام مانگا، انہیں دیا گیا ہے۔ حسن علی میچ ونر اور گیم چینجر ہے، فارم اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے، سب کھلاڑی ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں اور سپورٹ کرتے ہیں۔ کوشش ہے تینوں فارمیٹ میں پاکستان ٹیم ٹاپ تھری میں ہو۔

    ڈیپارٹمنٹل کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے میچ فکسنگ بڑھنے کا خدشہ ہے:جاوید میانداد

    انہوں نے کہا کہ بابر اعظم کی انفرادی اور بحیثیت کپتان پرفارمنس کا گراف بہتری کی طرف گامزن ہے، وہ مکمل کپتان ہے اور مزید بہتر ہورہا ہے۔

    ہیڈ کوچ نے کہا کہ سب کھلاڑی ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں اور سپورٹ کرتے ہیں، ٹیم کے حوالے سے کوشش ہے کہ تینوں فارمیٹس میں پاکستان ٹاپ تھری میں ہو، حسن علی میچ ونر اور گیم چینجر ہے، فارم اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے۔

     

    کرکٹر عمر اکمل فکسنگ کیس ، ڈیڈ لائن میں ایک بار پھر توسیع

    ثقلین مشتاق نے کہا کہ بابراعظم کی انفرادی اور بحیثیت کپتان پرفارمنس کا گراف بہتری کی طرف گامزن ہے، بابراعظم مکمل کپتان ہے اور مزید بہتر ہورہا ہے۔

  • کے الیکٹرک اور ایس ایس جی سی کے مذاکرات ناکام ہوگئے

    کے الیکٹرک اور ایس ایس جی سی کے مذاکرات ناکام ہوگئے

    کراچی :کے الیکٹرک اور ایس ایس جی سی کے مذاکرات ناکام ہوگئے،اطلاعات کے مطابق کراچی میں لوڈ شیڈنگ سے ستائے شہریوں کے لئے بری خبرنے کراچی والوں کو اور پریشان کردیا ہے،؛ اطلاعات ہیں کہ الیکٹرک اور ایس ایس جی سی کے درمیان معاملات طئے نہیں پاسکے

    کے الیکٹرک اور ایس ایس جی سی کے مذاکرات کا پہلا مرحلہ ناکام ہوگیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ایم ڈی سوئی گیس اور سیکریٹری پیٹرولیم کے کے الیکٹرک انتظامیہ سے ہونے والے مزاکرات ناکام ہوگئے، ایس ایس جی سی نے کے الیکٹرک کو گیس کی سپلائی کم کر دی۔

    لوڈشیڈنگ جاری،شارٹ فال کم ہو کر 6 ہزار 85 میگاواٹ رہ گیا

    کے الیکٹرک ایس ایس جی سی کے اربوں روپے کی نادہندہ ہوگئی، ایس ایس جی سی ذرائع کا کہنا ہے کہ 3 جون کو تازہ ادائیگیوں میں دوسری بار ادائیگیوں میں ڈیفالٹ کیا ہے، 10 ارب کی حالیہ ادائیگیوں میں صرف دو روز میں 75 کروڑ کی ادائیگی ہوئی ہے۔ذرائع ایس ایس جی سی کے مطابق پیر سے مذاکرات کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا، پیر سے ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں مزید گیس کم کی جائے گی۔

    کراچی میں بجلی کا تعطل برقرار، شہری 12، 12 گھنٹے لوڈشیڈنگ سے اذیت میں مبتلا

    ادھرخرم دستگیر نے کہا ہے کہ انرجی سیکٹر میں 25 سال سے اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے توانائی کے حوالے سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری حکومت نے توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے شمسی توانائی کے منصوبے لگائے۔انہوں نے کہا کہ قائداعظم سولر پاور پلانٹ کا بجلی ریٹ 17 سینٹ فی یونٹ تھا، پاکستان میں لارج اسکیل پر شمسی توانائی فائدہ مند ہے یا نہیں، یہ سوال بہت اہم ہے، 1200 میگاواٹ کا آر ایل این جی پر چلنے والے پلانٹ کو چلانے پر کام جاری ہے

    متعکفین کی خاطر رمضان کے باقی ایام لوڈشیڈنگ نا کی جائے

  • پاکستانیوں کے لیے “آکسفورڈ پاکستان پروگرام” کے نام سے ایک بڑے پلیٹ فارم کا آغاز

    پاکستانیوں کے لیے “آکسفورڈ پاکستان پروگرام” کے نام سے ایک بڑے پلیٹ فارم کا آغاز

    لندن: آکسفورڈ یونیورسٹی کے لیڈی مارگریٹ ہال، جہاں بے نظیر بھٹو اور ملالہ یوسفزئی دونوں نے اپنی انڈر گریجویٹ ڈگریوں کے لیے تعلیم حاصل کی، میں پاکستانی طلباء کے لیے تعلیمی رسائی اور عوامی سفارت کاری کے ایک بڑے اور نئے پلیٹ فارم کا آغاز “آکسفورڈ پاکستان پروگرام” کے نام سے کیا گیا ہے۔

    لانچ میں تقریباً 200 معزز مہمانوں نے شرکت کی جن میں ملالہ یوسفزئی، پاکستان کے ہائی کمشنر معظم علی خان، برطانوی ممبر انِ پارلیمان ناز شاہ، یاسمین قریشی، اور پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین صہیب عباسی شامل تھے۔

    آکسفورڈ یونیورسٹی سے سینئر ماہرین تعلیم اور منتظمین نے بھی تقریب میں شرکت کی، جن میں ایل ایم ایچ کی پرنسپل پروفیسر کرسٹین جیرارڈ، مینسفیلڈ کالج کی پرنسپل ہیلن ماؤنٹ فیلڈ کیو سی، اکیڈمک رجسٹرار ڈاکٹر سائرہ شیخ ، ڈائریکٹر بارئے داخلہ انڈر گریجویٹ ڈاکٹر ثمینہ خان شامل تھیں ، ڈائریکٹر برائے داخلہ گریجویٹ ڈاکٹر نادیہ پولینی اور چیف ڈیولپمنٹ آفیسر لیزل ایلڈر نے بھی تقریب میں شرکت کی۔

    آکسفورڈ پاکستان پروگرام (“او پی پی”) اپنی نوعیت کا پہلا اقدام ہے جس کے ذریعے آکسفورڈ میں پاکستانی اور برطانوی پاکستانی طلباء کی کم نمائندگی کے خلا کو پُر کرنے کے لیے ایک ٹھوس کوشش کی جا رہی ہے۔پروگرام کا مقصد پاکستان کی اکیڈمک پروفائل کو بڑھانا، اور آکسفورڈ یونیورسٹی اور پاکستان کے درمیان تعلیمی تبادلے کو فروغ دینا بھی ہے۔او پی پی کی قیادت آکسفورڈ کے ماہرین تعلیم اور سابق طلباء کر رہے ہیں، جن میں پروفیسر عدیل ملک، ڈاکٹر طلحہ جے پیرزادہ، ہارون زمان، اور مناہل ثاقب شامل ہیں۔

    او پی پی کے شریک بانی اور اکیڈمک لیڈ ڈاکٹر عدیل ملک نے سیکیورٹی پر روایت سے ہٹ کر پاکستان میں علمی بات چیت کو وسیع کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کس طرح سماجی سائنس کے چند مرکزی سوالات کے لیے ایک مفید تجربہ گاہ کے طور پر کام کر سکتا ہے جن میں ماحولیاتی تبدیلی، سماجی انصاف سے لے کر ٹیکس اصلاحات تک شامل ہیں۔

     

    ڈاکٹر مالک نے علامہ محمد اقبال لیکچر سیریز (“اقبال لیکچر”) کا آغاز کیا، جسے شاعر، فلسفی اور قانون دان علامہ محمد اقبال کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔
    اقبال لیکچر کی افتتاحی تقریب جمعرات 19 مئی 2022 کو دادابھائے فاؤنڈیشن کے تعاون سے منعقد کی گئی، جس میں کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر وائل بی حلق نے “سلطنت اور دولت کی اخلاقیات: ابن خلدون اور جدید ریاست” کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ اس لیکچر کو پاکستان بھر کی 20 یونیورسٹیوں میں لائیو سٹریم کیا گیا۔

    او پی پی کے شریک بانی ڈاکٹر طلحہ جے پیرزادہ نے بتایا کہ او پی پی کے حصے کے طور پر مختلف اقدامات کو فنڈ دینے کے لیے اگلے پانچ سالوں میں تقریباً 1 ملین پاؤنڈ کے وعدے حاصل کیے جا چکے ہیں، جس میں پاکستانی نژاد آکسفورڈ میں گریجویٹ طلباء کے لیے اسکالرشپ پروگرام بھی شامل ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان کی 220 ملین آبادی میں سے 60 فیصد سے زائد افراد کی عمر 30 سال سے کم ہونے کے باوجود ہر سال پاکستان کے بیس سے زائد طلباء فنڈز کی کمی کی وجہ سے آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے گریجویٹ پیشکش لینے سے قاصر ہیں۔

    او پی پی کے ایک اور شریک بانی، ہارون زمان نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح برطانیہ کی دوسری سب سے بڑی نسلی اقلیتی برادری ہونے کے باوجود، برطانوی پاکستانی آکسفورڈ یونیورسٹی میں سب سے کم نمائندگی کرنے والے گروپ ہیں۔مسٹر زمان نے او پی پی کے برسری پروگرام کے آغاز کا اعلان کیا، جو آکسفورڈ میں موجودہ پاکستانی نژاد گریجویٹ طلباء کو اضافی مالی مدد فراہم کرتا ہے۔

    انہوں نے او پی پی کے رسائی پروگرام کا بھی آغاز کیا، جو آکسفورڈ کے طلباء اور حالیہ سابق طلباء کے اسکولوں کے دوروں کو سہولت فراہم کرے گا، تاکہ برطانیہ کے اسکولوں میں آکسبرج کے متوقع درخواست دہندگان سے بات چیت کی جا سکے جو برطانوی پاکستانی طلباء کی زیادہ تعداد والے علاقوں میں واقع ہیں، ساتھ ہی پاکستان میں سکولوں کے ساتھ ورچوئل مصروفیات بھی شروع کی جائیں۔

    او پی پی کی آؤٹ ریچ لیڈ مناہل ثاقب نے او پی پی کا انٹرن شپ پروگرام شروع کیا جس کے ذریعے او پی پی آکسفورڈ اور پاکستانی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل افراد کو انٹرن شپ کے مواقع فراہم کرنے کے لیے وینچر فار پاکستان کے ساتھ شراکت کرے گا۔ یہ پروگرام شرکاء کو پاکستان کے بڑھتے ہوئے اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کا تجربہ کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

    اس موقع پر ورلڈ بینک میں پاکستان کے لیے کنٹری ڈائریکٹر ڈاکٹر ناجی بینہسین نے او پی پی کے ساتھ ایک نئے انٹرن شپ پروگرام کا اعلان کیا جس کے تحت آکسفورڈ یونیورسٹی کے چار اور پاکستان کی ایک پبلک سیکٹر یونیورسٹی کے چار طلباء ہر سال اسلام آباد میں موجود عالمی بینک کے دفتر میں انٹرن شپ کرنے کے قابل ہوں گے۔

    ملالہ یوسفزئی، جو اب تک نوبل انعام حاصل کرنے والی سب سے کم عمر شخصیت ہیں، نے او پی پی کے حصے کے طور پر آکسفورڈ میں پاکستانی خواتین کے لیے گریجویٹ اسکالرشپ کے قیام کا اعلان کیا اور خواہش ظاہر کی کہ او پی پی یونیورسٹی میں ایک دیرپا منصوبہ بنے۔

    وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی او پی پی کو تعلیمی رسائی اور مصروفیت کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم کوشش قرار دیا۔انہوں نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ او پی پی کی طرف سے LMH کی حمایت کی جا رہی ہے، وہ کالج جہاں ان کی پیاری والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے تعلیم حاصل کی تھی۔
    LUMS کے بانی سید بابر علی نے بھی اس اقدام کو ایک تاریخی کوشش قرار دیا جس میں بڑی تبدیلی کی صلاحیت موجود ہے۔

    روڈس ہاؤس کی وارڈن اور رہوڈز ٹرسٹ کی سی ای او ڈاکٹر الزبتھ کس نے پاکستان کے لیے دوسری روڈز اسکالرشپ کے لیے روڈز ٹرسٹ کی مہم کا اعلان کیا، جس کو او پی پی کی حمایت حاصل ہے۔TRG Global کے سی ای او محمد خیشگی کی قیادت میں پاکستانی رہوڈز کے اسکالرز کا ایک گروپ اس مقصد کے لیے پہلے ہی 60 ہزار ڈالرز اکٹھا کر چکا ہے۔

    سوئی سدرن کےلیےگیس کی قیمت میں44 فیصد اضافے کی منظوری

    بھارت میں کورونا نے پھرسراُٹھا لیا

    ہمارے ملک میں مداخلت کیوں:کویت نے امریکی سفیرکوطلب کرکےسخت پیغام بھیج دیا

    اگست سے پٹرول کی قیمتیں کم ہونےکا امکان:اوپیک نے روس سے مدد مانگ لی

  • مزدورکی کم از کم اجرت میں اضافہ، 12 یورو فی گھنٹہ کر دی گئی

    مزدورکی کم از کم اجرت میں اضافہ، 12 یورو فی گھنٹہ کر دی گئی

    برلن :جرمنی میں کم از کم اجرت میں اضافہ، 12 یورو فی گھنٹہ کر دی گئی،اطلاعات کے مطابق جرمنی میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر حکومت نے کم از کم اجرت بڑھا کر بارہ یورو فی گھنٹہ کرنے کی منظوری دے دی۔ اس فیصلے سے 60 لاکھ سے زائد عوام مستفید ہوں گے۔

    اس حوالے سے جرمن چانسلر اولاف شولز نے اپنی انتخابی مہم میں بھی کم از کم اجرت بڑھانے کا وعدہ کیا تھا۔ اب پارلیمنٹ نے گزشتہ روز ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے مطابق یکم اکتوبر سے کم از کم فی گھنٹہ تنخواہ قریب دو یورو اضافے کے ساتھ بارہ یورو ہو جائے گی۔جرمن پارلیمنٹ میں بل پر ووٹنگ سے قبل وزیر محنت ہوبیرٹوس ہائل نے کہا کہ اس فیصلے سے عوام کو 400 یورو اضافی آمدن ہوگی جس سے ماہانہ آمدن 1700 یورو ہو جائے گی۔ یہ بہت زیادہ تو نہیں ہے لیکن اس سے لوگوں کی جیبوں پر نمایاں فرق پڑے گا۔

    جرمن پارلیمنٹ میں بل کے حق میں 400 ارکان نے ووٹ دیا، 41 نے مخالفت کی جبکہ 200 نے رائے شماری میں حصہ ہی نہیں لیا۔ حصہ نہ لینے والے ارکان کا تعلق اپوزیشن جماعت سی ڈی یو سے تھا۔ سابق چانسلر مرکل کی جماعت کے ارکان کا کہنا تھا کہ وہ تنخواہ میں اضافے کے خلاف نہیں بلکہ بل پیش کرنے کے طریق کار کے خلاف ہیں۔ بائیں بازو کی سوشلسٹ جماعت دی لنکے کے ارکان نے بھی بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔

    جرمنی میں عام طور پر کم از کم اجرت کے بارے میں تجاویز ایک کمیشن دیتا ہے جس میں آجروں اور ملازموں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں تاہم اس مرتبہ حکومتی اتحاد نے کمیشن کو نظرانداز کرتے ہوئے خود ہی بارہ یورو اجرت مقرر کر دی۔جرمنی میں کام کرنے والے اٹھارہ سال سے زائد عمر کے زیادہ تر افراد فی گھنٹہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔ ان میں دیگر ملکوں سے تعلق رکھنے والے سیزنل ورکرز بھی شامل ہیں۔ جرمنی کا شمار یورپی یونین کے ان رکن ممالک میں ہوتا ہے جہاں کم از کم تنخواہ کافی زیادہ ہے۔

  • سیاست بچانے کےلئے پاکستان کو عمران کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے،عظمی بخاری

    سیاست بچانے کےلئے پاکستان کو عمران کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے،عظمی بخاری

    مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنما عظمی بخاری نے کہا کہ اس گناہ پر قصور وار ہیں جو کیا ہی نہیں، معاشی دہشت گردی اس وقت ملک کو بھگتنی پڑ رہئ ہے،پیٹرول پر دس روپے کا ریلیف عوام کو سو روپے کا بھگتنا پڑ رہاہے، سیاسی جوکر آوازیں کس رہے ہیں اپنے چار سال کے بجائے چار ہفتے کی حکومت سے جواب طلب کررہے ہیں.

    عظمی بخاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کا معاہدہ غلط کیا اور سخت شرائط پر کیا اس کی خلاف ورزی کرکے پاکستان کو سری لنکا بنانے کی سازش کی،اپنے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہوتے دیکھتے وقت پاکستان کو سری لنکا بنانے کےلئے پلان بنایا گیا،عمران خان کی سیاسی و معاشی دہشت گردی کے جواب میں کان منہ لپیٹ کر سیاست بچا لیتے لیکن بھاگے نہیں.

    عظمی بخاری نے کہا کہ ہم نے مشکل وقت میں ہمیشہ کام کیا اور ملکی ترقی کےلئے کوششیں کیں، اپنی سیاست بچانے کےلئے پاکستان کو عمران خان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے،عمران خان نامی پروجیکٹ کی ناکامی کے بعد معاشی و اخلاقی عدم استحکام آیا، عمران خان کے پاس سب کچھ ہے بس ضمانت نہیں تھی جو قائد انقلاب ضمانت لئے پھر رہے ہیں، شہبازشریف کوچار سال سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا.

    عظمی بخاری نے مزید کہا کہ شہبازشریف کو دو سال جیل میں رکھنے کے بعد اب بطور وزیراعظم پاکستان اوروزیر اعلی پنجاب قانون کے حوالے عدالتوں میں پیش ہورہے ہیں ،ایف آئی اے سمیت تمام اداروے ان کے انڈر ہیں مگر شہبازشریف اور حمزہ شہباز ریلیف نہیں مانگ رہے،عدالت میں پیش ہونے کے بعد شہبازشریف نے لوڈ شیڈنگ پر ہنگامی میٹنگ طلب کی،بیوروکریسی نے کاغذوں اور لفاظی سے رپورٹ لوڈ شیڈنگ پر دی تو شہبازشریف نے رپورٹ مسترد کرتےہوئے کہاکہ لوڈ شیڈنگ ختم کی جائے.

    عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ جو کہتے تھے کہ شہبازشریف نے بجلی زیادہ بنا دی تو آج پی ٹی آئی والوں کو پتہ چلا ہوگا کہ آبادی اور موسم کے مطابق بجلی کی ڈیمانڈ بڑھتی ہے. وقت پر حماد اظہر نے ایل این جی جب آٹھ ڈالر پر مل رہی تھی تو نہیں خریدی جس سے بیس ڈالر کا نقصان ملک کو اٹھانا پڑا.

  • گوگل نے پاکستان میں”خودکُش”ہاٹ لائن لانچ کردی

    گوگل نے پاکستان میں”خودکُش”ہاٹ لائن لانچ کردی

    لاہور:گوگل نے پاکستان میں”خودکُش”ہاٹ لائن لانچ کردی،اطلاعات کے مطابق ٹیک کمپنی گوگل نے ایک این جی او کے ساتھ مل کر پاکستان میں خودکشی کی ہاٹ لائن لانچ کردی ہے اس ہاٹ لائن کا مقصد ملک میں خودکشیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ذہنی صحت سے متعلق مسائل سے نمٹا جا سکے۔

    اس حوالے سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر سال خودکشی کی کوشش کے تقریباً 130,000 سے 270,000 واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔

    گوگل نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا، "پاکستان میں کوئی بھی شخص خودکشی سے متعلق سوالات جیسے کہ "خودکشی کی حمایت” اور "میں خودکشی کیسے کر سکتا ہوں” تلاش کرتا ہے، اسے اب "امنگ پاکستان کی” ہیلپ لائن پر بھیج دیا جائے گا۔پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے گوگل کے ریجنل ڈائریکٹر، فرحان قریشی نے جمعہ کو میڈیا کو بتایا کہ ہاٹ لائن صارفین کو "خودکشی” سے متعلق کسی بھی چیز کو براؤز کرنے پر سرچ رزلٹ پیج کے اوپری حصے میں فوری مدد حاصل کرنے کے قابل بنائے گی۔

    ڈبلیو ایچ او کی طرف سے تسلیم شدہ، امنگ ایک ذہنی صحت کی ہیلپ لائن ہے جو خودکشی کے بارے میں سوچنے والے کمزور پاکستانیوں کو مدد فراہم کرتی ہے۔
    پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے گوگل کے ریجنل ڈائریکٹر، فرحان قریشی نے کہا ہےکہ جیسے ہم گوگل ٹرینڈ بڑے اہتمام سے دیکھتے ہیں، پاکستانی اپنی ذہنی صحت کے بارے میں جوابات تلاش کر رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مدد کی تلاش کرتے وقت وقت اہم ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو خودکشی کے خیالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ یہ خصوصیت کمزور صورت حال سے درپیش افراد کو ضرورت کے وقت مدد تلاش کرنے میں مدد کرے گی،”

    ٹیک دیو، امنگ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کنزہ نعیم کہتی ہیں کہ "ذہنی صحت ہمارے دور کا سب سے بڑا غیر حل شدہ مسئلہ ہے، خاص طور پر پاکستان جیسی جگہ جہاں 40 فیصد سے زیادہ آبادی اس دماغی صحت کےمرض میں مبتلا ہے۔

    ٹیک دیو، امنگ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کنزہ نعیم کہتی ہیں کہ "ہم اس بروقت شراکت کے لیے گوگل کے شکر گزار ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم مل کر زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے جنہیں ذہنی صحت کی مدد کی اشد ضرورت ہے اور ملک بھر میں اس کے ارد گرد کی ممنوعہ کو توڑ دیں گے،‘‘

    سوئی سدرن کےلیےگیس کی قیمت میں44 فیصد اضافے کی منظوری

    بھارت میں کورونا نے پھرسراُٹھا لیا

    ہمارے ملک میں مداخلت کیوں:کویت نے امریکی سفیرکوطلب کرکےسخت پیغام بھیج دیا

    اگست سے پٹرول کی قیمتیں کم ہونےکا امکان:اوپیک نے روس سے مدد مانگ لی

  • شانگلہ اور سوات کے پہاڑی سلسلوں میں آگ بھڑک اٹھی

    شانگلہ اور سوات کے پہاڑی سلسلوں میں آگ بھڑک اٹھی

    شانگلہ :شانگلہ اور سوات کے پہاڑی سلسلوں میں آگ بھڑک اٹھی ہے جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق شانگلہ کی پہاڑیوں میں موجود جنگلات میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے گھراور آبادی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔

    کنٹرول روم شانگلہ کو اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کے فائر فائٹرز بمع ایمبولینس موقع پر پہنچے جبکہ ریسکیو 1122 شانگلہ کے دستے پہاڑوں میں پیدل سفر کرتے ہوئے جائے وقوع تک پہنچے۔ریسکیو 1122کے اہلکاروں نے پیشہ ورانہ طریقے سے فوری کارروائی شروع کر دی ہے جس میں 15 اہلکار حصہ لے رہے ہیں ۔

    آگ سے 4 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں جس میں تین خواتین اور ایک مرد شامل ہیں ۔

    یاد رہے کہ اس سےچند دن پہلے بلوچستان میں بھی آگ نے بہت بڑے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا،بلوچستان کے ضلع شیرانی کے جنگلات میں لگی آگ پربالآخر 12روز کےبعد قابو پا لیا گیا۔ضلع شیرانی اور اس سے ملحقہ ضلع موسیٰ خیل کے جنگلات میں آگ 12 اور 13 مئی کی رات کو لگی تھی، ابتدائی طور پرمحکمہ جنگلات، صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ و رضاکاروں کی مدد سے آگ پر قابو پالیاگیا تاہم 19 مئی کو آگ دوبارہ بھڑک اُٹھی جوپھیلتی چلی گئی۔

    وفاقی حکومت کی درخواست پر ایرانی حکومت کے بجھوائے گئےخصوصی فائر فائٹر طیارے کی مدد سے آگ پر12 روزبعد قابو پالیاگیا۔شیرانی کے جنگلات میں آگ کےنتیجےمیں تقریبا 36 مربع کلومیٹر پر پھیلے چلغوزے کے سیکڑوں درخت شدید متاثر ہوئے، یہی نہیں وہاں پائی جانے والے مارخور اور اوڑیال سمیت جنگلی حیات اور پرندے بھی شدید متاثر ہوئے۔

    آگ بجھانے کے عمل میں تین مقامی رضاکار جھلس کر جاں بحق ہوگئے، اگرچہ شیرانی میں آگ پر قابو تو پالیاگیا تاہم اس سے صوبائی اور وفاقی اداروں کی کارکردگی کی قلعی ضرور کھل گئی۔ آگ لگنے کی وجوہات کا تاحال تعین نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ آگ لگنے سے جنگلات اور جنگلی حیات کو پہنچنے والا نقصان شاید آئندہ کئی دہائیوں میں بھی پورا نہ کیاجاسکے۔

    شانگلہ کی پہاڑیوں میں لگی آگ پر کافی حد تک کامیابی سے قابو پالیا گیا ہے تاہم اور آپریشن ابھی جاری ہے۔

    دوسری جانب سوات میں بھی کبل سیگرام کوزہ بانڈئ کے پہاڑی پر آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے جس کے متعلق کنٹرول روم سوات کو اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی فائر فائٹرز فوری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔

    ریسکیو 1122 کے جوانوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پیشہ ورانہ طریقے سے آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے۔

    سوئی سدرن کےلیےگیس کی قیمت میں44 فیصد اضافے کی منظوری

    بھارت میں کورونا نے پھرسراُٹھا لیا

    ہمارے ملک میں مداخلت کیوں:کویت نے امریکی سفیرکوطلب کرکےسخت پیغام بھیج دیا

    اگست سے پٹرول کی قیمتیں کم ہونےکا امکان:اوپیک نے روس سے مدد مانگ لی

  • 30ہزارڈالر کے عوض ڈارک نیٹ پرFGM-148 Javelin امریکی میزائل کی فروخت جاری

    30ہزارڈالر کے عوض ڈارک نیٹ پرFGM-148 Javelin امریکی میزائل کی فروخت جاری

    ماسکو: 30ہزارڈالر کے عوض ڈارک نیٹ پرFGM-148 Javelin امریکی میزائل کی فروخت جاری،اطلاعات کے مطابق ایک روسی نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کو ملنے والے خطرناک امریکی میزائل اب صرف 30 ہزارامریکی ڈالرز کے عوض آن لائن فروخت ہورہے ہیں‌ ، اس حوالے سے روسی نیوز ایجنسی نے ثبوت بھی پیش کردیئے ہیں ،

     

    روس نواز خبر رساں ایجنسی اے بی ایس نیوز کی تحقیقات کے مطابق، ایک FGM-148 Javelin ڈارک نیٹ پر 30,000 ڈالر میں فروخت ہورہا ہے اور یہ خطرناک میزائل کوئی بھی خرید سکتا ہے ،۔ ٹیلی گرام اے بی ایس نیوز پر اپنے چینل میں اس جگہ سے لیے گئے اسکرین شاٹس شیئر کرتے ہیں جہاں امریکی ہتھیار فروخت ہوتے ہیں۔

     

     

    روسی نیوز ایجنسی نے ثبوت دیتے ہوئے کچھ اسکرین شاٹس بھی شیئر کیے ہیں جن کے مطابق پروڈکٹ کے دو اسکرین شاٹس بیچنے والے کی مقرر کردہ قیمت "$30,000 سے” دکھاتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ یہ نیلامی ہوگی اور ابتدائی قیمت $30,000 ہے۔

    نیوزایجنسی کا دعویٰ ہے کہ FGM-148 Javelin، جو ڈارک نیٹ ورک میں فروخت ہورہا ہے،یہ حقیقت میں‌ روس کےساتھ جنگ ​​کی وجہ سے امریکہ کی طرف سے یوکرین کو فراہم کیے گئے ٹینک شکن گائیڈڈ میزائل سسٹمز میں سے ایک ہے۔اس نیوز ایجنسی نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ یہ خطرناک میزائل یوکرین کے دارالحکومت میں فروخت کیے جارہے ہیں‌۔

    روسی نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرینی فوجی افسران ڈارک نیٹ پر جیولین میزائل آن لائن بیچ ے۔ ٹی او آر براؤزر والا کوئی بھی شخص اس اے ٹی جی ایم کو آن لائن سٹور میں خرید سکتا ہے،”

     

     

    اس قسم کی مصدقہ اطلاعات کے بعد یہ خیال کیا جارہاہے کہ دہشت گرد اس میزائل کوحاصل کرکے دنیا میں بدامنی پھیلا سکتے ہیں اور کئی ممالک کی سلامتی کوخطرے میں ڈال سکتے ہیں، اس لیے اقوام متحدہ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے

     

     

    دوسری طرف انٹرپول نے اس چیز کا نوٹس لیتےہوئے کہا ہےکہ جتنی جلدی ممکن ہوسکے اس واقعہ کی تحقیقات کرکے اس میں ملوث افراد کو کٹہرے میں لایا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ میزائل کسی دہشت گرد کے ہاتھ نہ لگے

     

    FGM-148 Javelin، یا Advanced Anti-Tank Weapon System-Medium (AAWS-M)، ایک امریکی ساختہ پورٹیبل اینٹی ٹینک میزائل سسٹم ہے جو 1996 سے امریکی افواج کے استعمال میں ہے، اور مسلسل اپ گریڈ کیا جاتا ہے۔ اس جدید میزائل سسٹم نے امریکی سروس میں M47 ڈریگن اینٹی ٹینک میزائل کی جگہ لے لی۔ اس کا فائر اینڈ فرجٹ ڈیزائن خودکار انفراریڈ گائیڈنس کا استعمال کرتا ہے جوچلانے والے کو لانچ کے فوراً بعد کور حاصل کرنے کی سہولت دیتا ہے، اس کے برعکس وائر گائیڈڈ سسٹم، جیسا کہ ڈریگن استعمال کرتا ہے، جس کے لیے چلانے والے کو پوری مصروفیت میں ہتھیار کی رہنمائی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیولن کا ہائی ایکسپلوسیو اینٹی ٹینک (HEAT) وار ہیڈ جدید ٹینکوں کو اوپر سے حملہ کرکے شکست دے سکتا ہے،

    سوئی سدرن کےلیےگیس کی قیمت میں44 فیصد اضافے کی منظوری

    بھارت میں کورونا نے پھرسراُٹھا لیا

    ہمارے ملک میں مداخلت کیوں:کویت نے امریکی سفیرکوطلب کرکےسخت پیغام بھیج دیا

    اگست سے پٹرول کی قیمتیں کم ہونےکا امکان:اوپیک نے روس سے مدد مانگ لی

  • وزارت داخلہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 15 ارب روپے کی منظوری

    وزارت داخلہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 15 ارب روپے کی منظوری

    اسلام آباد : اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزارت داخلہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 15 ارب روپے کی منظوری دیدی-

    ای سی سی نے دو طرفہ آزاد تجارتی معاہدے کےغلط استعمال کو روکنے کے لیے چین سے پیٹرول کی درآمد پر 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے کی بھی منظوری دی۔ کچھ آئل مارکیٹنگ فرموں نے 10فیصد کسٹم ڈیوٹی سے بچنے کے لیے چین کے ذریعے اپنی درآمدات کا راستہ بدل دیا۔

    وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ای سی سی کے اجلاس کی صدارت کی ،ای سی سی نے پاکستان اسٹیل ملز (PSM) کو گیس کی فراہمی کے لیے 621 ملین روپے کی منظوری بھی دی یہ عرض کیا گیا کہ پاکستان اسٹیل ملز (PSM) میں پیداواری سرگرمیاں بند ہونے کی وجہ سے، پی اسی ایم کو دو MMCFD کی کم شعلہ گیس فراہم کی جا رہی تھی، بنیادی طور پر کوک اوون بیٹریوں اور ریفریکٹریز کے بھٹوں کو محفوظ رکھنے کے لیے جس کا اوسط ماہانہ بل 80 ملین روپے تھا۔

    ای سی سی نے 14 جولائی کو وفاقی حکومت کی طرف سے مطلع کردہ تمباکو کی تمام اقسام اور اقسام پرو سیس کی شرحوں پر نظر ثانی کی۔

    وزارت مواصلات نے یوٹیلیٹی کمپنیوں اور پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ (PPOD) کے ایجنسی پارٹنرز کی واجبات کی ادائیگی کے لیے درکار فنڈز کی سمری جمع کرائی۔ یوٹیلیٹی بلز کی وصولی ایجنسی کے کاموں میں سے ایک ہے جو پی پی او ڈی کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے اور اس طرح جمع کی گئی رقم اسٹیٹ بینک پاکستان کے سنٹرل اکاؤنٹ-1 میں جمع کرائی گئی۔ 31 مارچ 2022 تک 62.3 ارب روپے کے واجبات جمع ہو چکے ہیں۔ یوٹیلیٹی کمپنیوں کو ادائیگی کے لیے 25 ارب روپے پہلے ہی اپریل میں منظور ہو چکے تھے۔

    آزاد کشمیر: میرپورمیں نامعلوم افراد نے جنگلات میں آگ لگادی،تربیلا ڈیم کے قریب…

    ای سی سی نے تفصیلی بحث کے بعد اسٹیٹ بینک کی جانب سے دعویٰ کی گئی رقم کی تصدیق کے بعد پی پی او ڈی کے ذریعے یوٹیلٹی کمپنیوں اور ایجنسی کے شراکت داروں کی بقایا واجبات کی ادائیگی کے لیے 37.33 بلین روپے کے فنڈز جاری کرنے کی اجازت دے دی۔

    وزارت تجارت نے موٹر اسپرٹ (ایم ایس) کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کی سمری پیش کی۔ بتایا گیا کہ ایم ایس کی درآمد پر کسٹمز ایکٹ 1969 کے 5ویں شیڈول کے تحت 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد تھی لیکن چین پاکستان آزاد تجارتی معاہدے (سی پی ایف ٹی اے) کے تحت یہ 0 فیصد سے مشروط ہے۔

    سمری میں بتایا گیا کہ ایف ٹی اے سے استثنیٰ حاصل کرنے والوں نے صفر کسٹم ڈیوٹی ادا کی جبکہ دیگر نے 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی ادا کی۔ ای سی سی نے بحث کے بعد، اس بے ضابطگی کو دور کرنے کے لیے، ایم ایس کی درآمد پر 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے کی اجازت دی۔ تاہم، جہاں ایم ایس کی درآمد پر 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی ادا کی گئی تھی، وہاں اسے ریگولیٹری ڈیوٹی کی وصولی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

    سگریٹ نوشی پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے پرعدالتی اہلکاروں کو شوکاز نوٹسز

    ای سی سی نے مالیاتی ڈویژن کی طرف سے اعزازیہ دینے کی پالیسی پر پیش کی گئی سمری پر بھی غور کیا اور اس کی منظوری دی جس میں ہدایت کی گئی کہ اس تجویز کی دوبارہ وضاحت کی جائے کیونکہ ای سی سی کے چیئرمین اپنی صوابدید پر وفاقی حکومت کے ملازمین کو اضافی اعزازیہ دے سکتے ہیں۔

    ای سی سی نے ٹیکسٹائل اور نان ٹیکسٹائل سیکٹرز کی سابقہ ​​حکومت کی ڈیوٹی ڈرا بیکس اسکیموں (DLTL/LTLD) کے تحت اسٹیٹ بینک کےذریعےکلیئر کیےگئے ادائیگی کے دعووں کے لیے وزارت تجارت کے لیے40.5 بلین روپے کی منظوری دی اس نے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کو 2.2 بلین روپے کی ادائیگی کی اجازت دی۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو ورلڈ بینک کے منصوبے پاکستان میں ہائر ایجوکیشن ڈویلپمنٹ کے تحت تقریباً 4 ارب روپے دیے گئے۔

    ای سی سی نے وزارت داخلہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 15 ارب روپے کی منظوری بھی دی۔

    پنجاب حکومت نے وزرا کے سرکاری پیٹرول پر پابندی عائد کردی