Baaghi TV

Tag: پاکستان

  • ایک طرف روس کا گھیراو تو دوسری طرف چین پردباو:امریکہ کا بھارت کوجدید اسلحہ دینے کا فیصلہ

    ایک طرف روس کا گھیراو تو دوسری طرف چین پردباو:امریکہ کا بھارت کوجدید اسلحہ دینے کا فیصلہ

    واشنگٹن :ایک طرف روس کا گھیراو تو دوسری طرف چین پردباو:امریکہ کا بھارت کوجدید اسلحہ دینے کا فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ چین سے مقابلے کے لیے امریکہ بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ چین ہر موڑ پر بھارت کو بھی اسی طرح اکسا رہا ہے، جس طرح وہ امریکہ کے ساتھ کرتا ہے۔ اسی لیے واشنگٹن بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے پر عزم ہے۔

    تفصیلات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ چین ہر موڑ پر بھارت کو اسی انداز سے اکسا رہا ہے جس طرح اس کا سلوک امریکہ کے ساتھ ہے۔ اسی لیے واشنگٹن بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط تر کرنے کے مقصد سے اپنی پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے پر عزم ہے۔

    جنوبی ایشیا اور وسطی بھارت سے متعلق معاون سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈ لو سینیٹ کی ایک ذیلی کمیٹی کے ارکان کو خطے کی صورت حال کے بارے میں کہنا تھا کہ ہم اپنی دفاعی شراکت داری میں پیش رفت کو تیز تر کرنے اور چینی اشتعال انگیزیوں کو روکنے کے لیے بھارت کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے پر عزم ہیں۔ اس سلسلے میں مضبوط بحری تعاون، بہتر معلومات اور انٹیلیجنس شیئرنگ کے ساتھ ہی خلائی اور سائبر اسپیس جیسے ابھرتے ہوئے میدانوں میں بھی ہم نے بھارت کے ساتھ تعاون کو بڑھا دیا ہے۔”

    کواڈ امریکہ، بھارت، آسٹریلیا اور جاپان پر مشتمل ایک چار رکنی گروپ ہے جو خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر قابو پانے اور آزاد نیز کھلے ہند بحرالکاہل کے مشترکہ وژن کو آگے بڑھانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔

    میلبورن میں کواڈ کے وزراء خارجہ کی ہونے والی حالیہ میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے، لو نے کہا کہ جس انداز سے کواڈ کے تمام شراکت داروں نے آزاد ہند بحرالکاہل کی حمایت کرنے کا عزم کیا ہے وہ کافی حوصلہ بخش بات ہے۔

  • پاکستان : ’آئین سے لفظ اقلیت حذف کیا جائے‘ ترمیمی بل منظور:وجہ تسمیہ بھی سامنے آگئی

    پاکستان : ’آئین سے لفظ اقلیت حذف کیا جائے‘ ترمیمی بل منظور:وجہ تسمیہ بھی سامنے آگئی

    اسلام آباد : پاکستان : ’آئین سے لفظ اقلیت حذف کیا جائے‘ ترمیمی بل منظور:وجہ تسمیہ بھی سامنے آگئی،اطلاعات کےمطابق پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے ایک آئینی ترمیمی بل کی منظوری دی ہے، جس میں تجویز دی گئی ہے کہ آئین پاکستان میں جہاں جہاں بھی غیر مسلموں کے لفظ اقلیت استعمال کیا گیا ہے، اس کو حذف کیا جائے اور اس کی غیر مسلم لکھا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی کھیئل داس کوہستانی کی جانب سے ایوان میں پیش کیا گیا بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا تھا جس پر بدھ کو کمیٹی نے غور و خوض کیا۔

    بل کے محرک کھئیل داس کوہستانی نے بل پر اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’ آئین میں 15 مرتبہ لفظ غیر مسلم استعمال ہوا ہے، چار بار لفظ اقلیت لکھا گیا ہے۔آئین میں لفظ اقلیت کی جگہ غیر مسلم لکھا جائے۔ہم برابر کے شہری ہیں، ہمیں غیر مسلم لکھا جائے۔ ہم سب پاکستانی اور برابر کے شہری ہیں، اکثریت اور اقلیت میں کوئی تفریق نہیں ہونی چاہیے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا ’آئین کے آرٹیکل 36 میں ترمیم کی جائے اور جہاں جہاں بھی اقلیت کا لفظ ہے اسے غیر مسلم کے ساتھ تبدیل کیا جائے۔‘

    کھیئل داس کوہستانی کے مطابق ’میری تحقیق بین المذاہب مکالمے پر مبنی ہے۔ جو مذہبی رواداری کو فروغ دیتی ہے لیکن پاکستان میں لفظ اقلیت غیر مسلموں کے لیے استعمال ہوتا ہے، جو بظاہر ایسا تاثر دیتا ہے کہ ہم دوسرے درجے کے شہری ہیں اور پچھلے کچھ برسوں سے اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے جبکہ جمہوری معاشرے میں تمام شہری برابر ہوتے ہیں۔ اس لیے آئین میں موجود اس نقص کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میرے اس اقدام سے نہ صرف ایک مثبت بحث کا آغاز ہوگا بلکہ ایک مستحکم جمہوری معاشرے کی روایت فروغ پائے گی۔ غیر مسلم شہری بھی برابر کے حقوق کے ساتھ ملکی ترقی میں کردار ادا کر سکیں گے۔‘ کمیٹی ارکان نے کھیئل داس کوہستانی کے ساتھ اتفاق کیا اور آئین کے آرٹیکل 36 میں ترمیم کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

  • فضل الرحمن کے گھرمیں عمران خان کے مخالفین کا اکٹھ: عدم اعتماد کے حوالے سےمشاورت

    فضل الرحمن کے گھرمیں عمران خان کے مخالفین کا اکٹھ: عدم اعتماد کے حوالے سےمشاورت

    اسلام آباد: فضل الرحمن کے گھرمیں عمران خان کے مخالفین کا اکٹھ: عدم اعتماد کے حوالے سےمشاورت ،اطلاعات کے مطابق زرداری، فضل الرحمان اور نواز شریف نے عدم اعتماد پر حتمی مشاورت مکمل کرلی

    پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری ، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے عدم اعتماد کی تحریک پر حتمی مشاورت مکمل کرلی۔آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنےکےطریقہ کار اور اس کے لیے مناسب وقت کو حتمی شکل دینے پر غورکیا گیا، اس دوران صدر ن لیگ شہباز شریف سے بھی ٹیلی فونک مشاورت کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران لندن میں موجود مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا گیا جس میں تینوں رہنماؤں نے عدم اعتماد کی تحریک پر حتمی مشاورت مکمل کرلی۔

    مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری کے درمیان ملاقات کا اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    اعلامیےکے مطابق ملاقات میں ملکی سیاسی صورت حال اور عدم اعتماد کی تحریک پر مشاورت ہوئی، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ملاقات کے دوران بذریعہ فون تمام مشاورت میں شریک رہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مسلسل مشاورت جاری ہے، عدم اعتماد سے متعلق قانونی ماہرین کی رائے بھی آچکی ہے،عدم اعتماد کا ڈرافٹ تیار ہوچکا ہے، جس پر ملاقات میں مشاورت ہوئی، عدم اعتماد کی حتمی تاریخ کا تعین شہباز شریف کی علالت کے باعث آئندہ ایک دو روز میں ہوگا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ موجودہ حکومت کے تین سالہ دور میں ملک معاشی عدم استحکام کا شکار ہوا، تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اس کو بحال کریں گے۔

  • کامیابی دین اسلام پرعمل پیرا ہونے میں ہے:عالم اسلام کی خیرخواہی کے لیے ایران بھی آگے بڑھے:محمد بن سلمان

    کامیابی دین اسلام پرعمل پیرا ہونے میں ہے:عالم اسلام کی خیرخواہی کے لیے ایران بھی آگے بڑھے:محمد بن سلمان

    ریاض:ایران ایک قدم آگے بڑھے ہم دوقدم آگے بڑھیں گے:معاملات حل ہونے چاہیں:سعودی عرب ،اطلاعات کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ویانا میں ہونے والے مذاکرات میں تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان مضبوط جوہری معاہدے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ "تفصیلی بات چیت” جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ دونوں کے لیے ایک تسلی بخش معاہدے تک پہنچ سکے۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہےکہ حقیقی اسلام کی جانب لوٹنا ہمارا نصب العین ہے، سعودی عرب میں اب کسی مذہبی نقطہ نظر کی اجارہ داری نہیں ہے۔
    امریکی جریدے اٹلانٹک کو خصوصی انٹرویو میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت مستند احادیث نبویﷺکے پروجیکٹ پرکام کر رہی ہے۔

    شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور ایران پڑوسی ہیں، جدا نہیں ہوسکتے، سعودی عرب نے4 ماہ میں ایران کےساتھ کئی مذاکرات کیے ہیں۔خطے میں شدت پسندی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عراق میں امریکی جنگ نےشدت پسندوں کو اکھٹا ہونےکا موقع دیاہے۔

    سعودی ویژن 2030 کے حوالے سے سعودی ولی عہد نے بتایا کہ کچھ طاقتیں ویژن 2030 ناکام کرنےکی کوششیں کررہی ہیں، سعودی عرب تیز ترین معیشت رکھنے والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں سعودی سرمایہ کاری 800 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے، چین میں سعودی سرمایہ کاری 100 ارب ڈالرز سےکم ہے لیکن یہ تیزی سےبڑھ رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت خطے کی سنی مسلم اور شیعہ طاقتوں کے لیے "اچھی صورت حال اور روشن مستقبل کی نشان دہی” کے قابل ہو جائے گی، جو دشمنی میں بند ہیں۔ پورے مشرق وسطی میں تنازعات میں کھیل رہے ہیں۔

    سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ایران ہمیشہ کے لیے پڑوسی ہے، ہم ان سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے اور وہ ہم سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے۔”

    ان کے تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ویانا میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس نے پابندیوں میں نرمی کے بدلے تہران کے جوہری پروگرام کو روکا تھا۔

    ریاض اور اس کے خلیجی اتحادیوں نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور پراکسیوں کے نیٹ ورک کے بارے میں اپنے خدشات کو دور نہ کرنے کے لیے اس معاہدے کو خامیوں کے طور پر دیکھا تھا، بشمول یمن میں جہاں سعودی عرب ایک مہنگی جنگ میں الجھا ہوا ہے۔

  • پاکستان، کینیا کا دفاعی، سکیورٹی تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

    پاکستان، کینیا کا دفاعی، سکیورٹی تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

    راولپنڈی: پاکستان اور کینیا نے موجودہ دفاعی، سیکیورٹی تعلقات کو مضبوط اور بڑھانے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے کینیا کا سرکاری دورہ کیا اور معززین سے ملاقات کیں۔

    بیان کے مطابق جنرل ندیم رضا کے ساتھ ملاقات کرنے والوں میں کابینہ سیکرٹری یوجین لوڈوک وامالوا، چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل رابرٹ کیریوکی کیبوچی، کمانڈر کینیا آرمی لیفٹیننٹ جنرل والٹر آر کوئیپٹن، کمانڈر کینیا ایئر فورس میجر جنرل جان موگاروائی اور کمانڈر کینیا نیوی میجر جنرل جمسن لونگیرو مٹائی شامل تھے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی، دفاعی تعاون کے علاوہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ فوجی مصروفیات کی سطح اور دائرہ کار کو بڑھانے سے متعلق امور پر الگ الگ ملاقاتوں میں تبادلہ خیال کیا گیا۔

    جنرل ندیم رضا نے کہا کہ پاکستان کینیا کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، یقین رکھتے ہیں دونوں ممالک باہمی روابط خصوصاً دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعلقات کو بڑھانے کے ذریعے بامعنی، طویل المدتی سٹریٹجک تعلقات کو فروغ دیں گے۔

    کینیائی حکام نے پاکستان کی مسلح افواج کے اعلیٰ پیشہ وارانہ معیار، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں اور علاقائی امن و استحکام بالخصوص افغانستان میں امن کے لیے جاری کوششوں کو سراہا۔

    قبل ازیں کینیا ڈیفنس ہیڈ کوارٹر پہنچنے پر چاق و چوبند دستے نے جنرل ندیم رضا کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔

  • متنازع ڈیمز: بھارت کا پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار

    متنازع ڈیمز: بھارت کا پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار

    اسلام آباد:متنازع ڈیمز: بھارت کا پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے حوالے سے بھارتی ہٹ دھرمی میں‌ کوئی کمی نہیں آئی ہے اور صورت حال مزید خرات ہوتی نظر آرہی ہے ، ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہےکہ متنازع ڈیمز کے حوالے سے بھارت نے پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پاک بھارت آبی تنازعات پر اسلام آباد میں یکم مارچ کو شروع ہونے والے سہ روزہ مذاکرات میں بھارت کی جانب سے ‘نہ مانوں’ کی رٹ برقرار ہے۔

    مذاکرات میں پاکستان نے دریائے سندھ، چناب، پونچھ پر 10 بھارتی ڈیمز کے ڈیزائن پر اعتراض کیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے متنازع ڈیمز پر پاکستان کے اعتراضات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

    پاکستان نے اعتراض اٹھایا کہ بھارت 2019 سے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا شیئر نہیں کر رہا ہے، تاہم بھارت نے پاکستان کے ساتھ پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا شیئر کرنے سے بھی انکار کرتے ہوئے مؤقف پیش کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں پانی کا ڈیٹا شیئر کرنے کی شق موجود نہیں ہے۔مذاکرات کے دوران پاکستان کا مؤقف تھا کہ بھارت کی وجہ سے پاکستان کو سیلابی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    واضح رہے کہ یکم مارچ کو 10 رکنی بھارتی آبی ماہرین کا وفد واہگہ کے راستے لاہور پہنچا تھا، جس کی قیادت پی کے سکسینا کر رہے ہیں، جب کہ پاکستان کی جانب سے نمائندگی کمشنر انڈس واٹر کمیشن مہر علی شاہ کر رہے ہیں۔

    پاکستان کی جانب سے بھارتی آبی منصوبوں پر اعتراضات کے بعد یہ پہلا اجلاس ہے، مذاکرات شروع ہونے سے قبل مہر علی شاہ کا کہنا تھا کہ دریاے چناب پر بھارت کے کیروہائیڈرو پاور پراجیکٹ ڈیزائن پر پاکستان کو اعتراض ہے، مقبوضہ کشمیر میں دریاے پونچھ پر مانڈی پروجیکٹ پر بھی ہمیں اعتراض ہے۔

    انھوں نے کہا دریاے سندھ پر 24 میگا واٹ کے نیموں چلنگ، دریاے سندھ پر ٹربوک شیوک منصوبے، 25 میگا واٹ کے ہنڈر رمان کے ڈیزائن، دریاے سندھ پر سانکو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے ڈیزائن، 19 میگا واٹ کے مینگڑم سانگرا کے ڈیزائن پر بھی پاکستان کو اعتراض ہے۔

    خیال رہے کہ بھارتی وفد اجلاس کے بعد کل 4 مارچ کو بھارت روانہ ہو جائے گا، پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارت کو سندھ طاس معاہدے کے تحت ہی منصوبے بنانے کی اجازت ہے۔

  • اسٹیج سج گیا:اب بس فائنل پرفارمنس ہونا باقی ہے:   تحریر:-نوید شیخ

    اسٹیج سج گیا:اب بس فائنل پرفارمنس ہونا باقی ہے: تحریر:-نوید شیخ

    گزشتہ روز ق لیگ سے ملاقات کے حوالے سے وزیروں اور مشیروں کی جانب سے خوب ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ معاملات حل ہوگئے ، چیزیں طے ہوگئیں ۔ مگر اس حوالے سے متضاد خبریں فورا ہی رپورٹ ہوگئیں ۔ سب سے پہلے تو ق لیگ کے رہنما طارق بشیر چیمہ نے واضح الفاظ میں کہا دیا ہے کہ ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا عدم اعتماد میں حکومت کے ساتھ ٹھہرنا ہے یا خلاف جانا ہے۔ چوہدری صاحب مشاورت کررہے ہیں۔

    نوید شیخ کہتے ہیں‌کہ پھر اس خبر کی تصدیق نہیں ہوئی مگر اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگ ق کا پانچ رکنی وفد چوہدری پرویز الہی کی سربراہی میں شہباز شریف سے ملنے جائے گا۔ اور یہ ملاقات ہفتہ یا اتوار کو ہوسکتی ہے ۔ یوں اگر یہ ملاقات ہوجاتی ہے تو جو وزیر اور مشیر ہم کو بتا رہے ہیں معاملات ویسے نہیں ہیں ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ویسے یہ میں پہلے بتا چکا ہوں مگر پھر یاد کروادوں کہ اس ہفتے اپوزیشن کے تین بڑوں شہباز شریف ، مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری نے پھر ملنا ہے اور چیزیں فائنل کرنی ہیں ۔ شاید کوئی اعلان بھی ہو جائے ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان اشارہ کرچکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن قیادت اپنا ہوم ورک مکمل کرچکی ہے۔ اگلے دو سے تین دن بہت ہی اہم ہیں، ہوسکتا ہے اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں بڑی خوشخبری آجائے گی۔ انکا کہنا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں، حکومتی اتحادیوں سے بھی ہم سب رابطے میں ہیں۔ اپوزیشن تمام حل طلب امور پر اتفاق رائے کرکے بہت آگے پہنچ چکی، پھر ان کے مطابق اپوزیشن نے اپنے تمام اراکین اسمبلی کو اسلام آباد فوری پہنچنے کی ہدایت کردی ہے ۔

    شاید اسی لیے شاہد خاقان عباسی نے دعوی کیا ہے کہ ق لیگ کے پانچ ارکان ہیں۔ ان کے بغیر بھی عدم اعتماد ہو جائے گی۔

    اس حوالے سے خبر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر ناراض ارکان قومی اسمبلی کی تعداد کم وبیش پندرہ سے بیس ہے اور اپوزیشن کو عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب کرنے کے لیے صرف تیرہ ارکان کی حمایت درکار ہے۔ پھر ایوان میں اپوزیشن کے ارکان کم وبیش 160 ہیں مگران میں بھی کچھ اوپرنیچے ہوسکتے ہیں اس لیے آصف علی زرداری اور شہباز شریف کم ازکم 25 حکومتی ارکان توڑنے کیلئے کوشاں ہیں۔

    دوسری جانب ایم کیو ایم بھی کوئی پکڑائی نہیں دے رہی ہے ۔ روز خالد مقبول صدیقی ایسے بیانات دے رہے ہیں جس سے تاثر مل رہا ہے کہ ان کی حکومت کے ساتھ ان بن ہے ۔ آج بھی انکا کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی حکومتوں سے نکلتے رہے ، اب بھی نکلیں گے۔ اس سلسلے میں انھوں نے 1987کے دور کا بھی حوالہ دیا ۔ یاد کروادوں 1989 میں ایم کیو ایم نے پیپلزپارٹی کی اتحادی ہوتے ہوئے وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹ دیا مگر وہ ناکام ہوگئی اور بعد میں خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا۔ اسی لیے شاید اب عمران خان ایم کیو ایم سے بھی ملنا چاہتے ہیں اور جی ڈی اے سے بھی ۔۔۔

    مگر یہ وہ ہی عمران خان ہیں جب مظاہرین سخت سردی میں کوئٹہ میں لاشیں رکھ کر بیٹھے تھے تو انھوں نے کہا تھا میں بلیک میل نہیں ہوگا ۔ یہ وہ ہی وزیر اعظم ہیں جو اپنے سب سے پرانے ساتھی نعیم الحق کے جنازے میں شرکت کرنے نہیں گئے یہ وہ ہی وزیر اعظم ہیں جنہوں نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے میں شرکت نہیں کی ۔ مگر اب جب اپنی کرسی جاتی دیکھائی دی تو یہ تمام چیزیوں کو سائیڈ پر رکھ کر ہر کام اور ہر چیز کرنے کو تیار ہیں ۔

    نوید شیخ یہ بھے دعویٰ کرتے ہیں کہ برطانیہ میں موجود صحافی رپورٹ کررہے ہیں کہ کل لندن میں انتہائی اہم ملاقات میں آخری معاملات طے ہوگئے ہیں ۔ اس ملاقات کی ایک شخصیت تو نواز شریف بتائی جارہی ہیں دوسری کے بارے میں راوی خاموش ہے ۔ ہاں البتہ یہ ضرور معلوم ہوا ہے کہ حسین نواز اور اسحاق ڈار اس ملاقات سے آگاہ ہیں ۔

    تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے نمبر گیم یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے172 کا نمبردرکارہے۔ اور حکومت کے پاس178اور اپوزیشن کے پاس162
    کا نمبرزہے، حکومت کوعدم اعتماد کا سرپرائز دینے کےلیے اپوزیشن کو دس ارکان کی حمایت درکار ہے۔ سات اراکین قومی اسمبلی جہانگیرترین کےساتھ بتائے جارہےہیں۔ جبکہ ایم کیوایم کےسات اورق لیگ کی پانچ سیٹیں اہمیت کی حامل ہیں،ان تین میں سےدوکھیل کی بازی بدل سکتے ہیں۔

    اس وقت اپوزیشن پوری طرح عدم اعتماد لانے پر تلی بیٹھی ہے کہ اور حالات بھی ان کے لیے سازگار نظر آتے ہیں۔ بلاول کا مارچ زور و شور سے جاری ہے اور انہوں نے دو اڑھائی درجن مطالبات بھی کئے ہیں۔ ان کو کائونٹر کرنے کے لیے شاہ محمود قریشی بھی سندھ کے حقوق کے لیے نکلے ہیں۔

    مگر سیاست کی اس گھمبیر صورتحال میں ابھی تک کچھ وزیروں کو ستے خیراں دکھائی دے ر ہی ہے۔ جو بیانات سنائی دے رہے ہیں وہ اپوزیشن کو کھلا چیلنج کر رہے ہیں کہ اگر اپوزیشن میں ہمت ہے تو وہ تحریک عدم اعتماد لے آئے۔

    دیکھا جائے تو عمران خان کو کئی محاذوں پر لڑنا پڑ رہا ہے اوران کی ٹیم میں شامل ممبران کوئی صلاحیت نہیں رکھتے اور جو صلاحیت رکھتے تھے وہ نظر انداز کر دیئے گئے ۔

    کیونکہ اب تک تو ان کی کارکردگی یہ ہے کہ یہ نان ایشوز کو اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں۔ مثلاً ریحام خان والا معاملہ کب کا دب چکا تھا اور وہ کتاب لکھ کرکب کی سائیڈ پر بیٹھی تھیں حکومت نے محسن بیگ ہر ہاتھ ڈال کر جہاں اس کتاب کی خوب مشہوری کروائی ساتھ ہی پیکا آرڈیننس مسلط کرنے کی ضد میں میڈیا اور صحافیوں کو بھی اپنے خلاف کروالیا ۔

    دیکھا جائے تو ایک بڑی سیاسی غلطی پورے نظام کو لپیٹ سکتی ہے۔ غالباً وزیر اعظم عمران خان کوئی بڑا فیصلہ کرچکے ہیں بس اعلان ہونا باقی ہے اور گوکہ ان کی پیرکے روز کی جانیوالی تقریر میں تھوڑی سی گھبراہٹ ضرور نظر آئی جس کی وجہ سے اپوزیشن یہ کہنے میں حق بجانب تھی کہ لانگ مارچ کے دوسرے دن ہی عوام کو ریلیف مل گیا۔ جہانگیر ترین یاد آگئے اور چوہدریوں سے مدد مانگ لی۔

    یہ اپوزیشن کا ہی پریشر ہے جو آجکل عمران خان کے دل میں عوام کو بہت درد جاگ رہا ہے ۔ آج بھی انھوں نے کہا کہ جو ٹیکس کا جو پیسہ اکٹھا ہو گا وہ ساراعوام پر خرچ کروں گا ۔ دراصل انکو معلوم ہوگیا ہے کہ اب لوگوں نے تبدیلی کے آگے ہاتھ جوڑ لیے ہیں۔

    نوید شیخ کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر یہ اپوزیشن ہی ہوتی ہے جو حکومت کے عوام مخالف اقدامات پر تنقید کرتی ہے اور ایسا سیاسی ماحول بناتی ہے کہ حکومت مجبوراً عوام کو ریلیف دیتی ہے تا کہ اس کو عوامی تائید و حمایت حاصل رہے۔

    عمران خان نے جس قسم کے ریلیف کا اعلان کیا ہے، وہ اپنی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کی ایک کوشش ہے۔ انھیں سمجھ آرہی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں ان کے خلاف اکٹھی ہو گئی ہیں۔ عدم اعتماد کا معاملہ سنجید ہ ہے اور اس میں ان کے اقتدار کو شدید خطرہ ہے۔ اس لیے جاتے جاتے انھیں عوام کو ایسا ریلیف دینا چاہیے کہ وہ کہہ سکیں، اب تو ریلیف دینے کا وقت آگیا تھا اور مجھے نکال دیا گیا۔

    اس طرح انھیں نکالنے کے بعد ان کے پاس ایک بیانیہ ہوگا، وہ کہیں گے پاکستان کی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہو گئی تھی، میں نے عوام کو ریلیف دینا شروع کر دیا تھا، پھر کرپٹ لوگ آگئے اور سارا عمل رک گیا۔

    عمران خان خود بھی فوری انتخابات بھی دیکھ رہے ہیں۔ اس لیے وہ ایسے اقدمات کر رہے ہیں جن سے انھیں انتخابات میں مدد مل سکے۔

    اس لیے دکھائی دینا شروع ہوگیا ہے کہ عمران خان نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ اب پاپولر پولیٹکس کریں گے چاہے آئی ایم ایف ناراض ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ یہ کرسی کا معاملہ ہے ۔

    آپ دیکھیں عمران خان کے موجودہ دور حکومت میں اپوزیشن کو مسلسل دباؤ میں رکھا گیا۔ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو زیادہ عرصہ گرفتار رکھا ۔اسی طرح اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں کو بھی گرفتار رکھا گیا۔ جس کی وجہ سے حکومت پر عوام کی خدمت کا کوئی دباؤ ہی نہیں تھا، اسی لیے حکومت عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالتی رہی ۔ پہلی دفعہ ہم نے دیکھا کہ قائد حزب اختلاف کو تقریر کرنے سے روکا گیا۔ پارلیمانی رویات میں یہ کام اپوزیشن کرتی ہے کہ حکومت کی تقاریر میں شور کرتی ہے۔ اس طرح جیسے جیسے پارلیمان میں اپوزیشن کی آوا ز کو دبایا گیا ویسے ویسے حکومت کی عوام پر زیادتیاں بڑھتی رہیں۔ کیونکہ جب حکومت کو اپنے اقتدار کے لیے کوئی خطرہ ہی نظر نہیں آئے گا تو وہ عوام کی خدمت کیوں کرے گا۔ جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ عوام کے پاس واپس جانے کا خوف آپ کو عوام کی خدمت کرنے پر مجبور کیے رکھتا ہے۔ اگر عوام کے پاس جانے کا خوف ختم ہو جائے تو عوام کی خدمت بھی ختم ہو جاتی ہے۔

    آخر میں بس یہ ہی کہوں گا کہ کرکٹ کے میدان میں تو لاہور قلندر جیت چکی ہے دیکھانا یہ ہے کہ سیاست کے میدان میں یہ جیتے ہیں کہ نہیں ۔۔۔

  • خان جی گبھرانا نہیں:سعودی عرب کا پیغام آگیا

    خان جی گبھرانا نہیں:سعودی عرب کا پیغام آگیا

    اسلام آباد: خان جی گبھرانا نہیں :سعودی عرب کا پاکستان کو بڑا ریلیف ،اطلاعات کے مطابق سعودی حکومت نے حکومت پاکستان کو ایک بارپھر بہت بڑا ریلیف دیا ہے سعودی عرب نے پاکستان کے 84 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا قرضہ ری شیڈول کرتے ہوئے قرضوں کی ادائیگی آئندہ 6 ماہ کے لئے موخر کردی ہے۔

    اس حوالے سے اسلام آباد میں سعودی عرب کا پاکستان کو قرضہ موخر کرنے کے معاہدے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

    وزارت اقتصادی امور کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق سعودی عرب جی 20 ممالک کے تحت پاکستان کو ریلیف دے گا، سعودی عرب نے پاکستان کے 84 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کا قرضہ ری شیڈول کر دیا اور قرضوں کی ادائیگی آئندہ 6 ماہ کے لئے موخر کر دی گئی ہے۔

    اعلامیہ کے مطابق قرضہ موخر کرنے کے معاہدے کی تقریب میں سعودی سفیر بھی موجود تھے جبکہ سعودی ڈیولپمنٹ فنڈ کے ڈی جی ڈاکٹر سعود ایاد نے دستخط کئے۔

    ادھر اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا امریکا کے سامنے ڈٹ جانا سعودی ولی عہد کے لیے حوصلے کا سبب بن گیا ، سعودی ولی عہد بھی ڈٹ گئے ہیں اور دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر کو ایک دلیرانہ پیغام بھیج کرعربوں کو خوش کردیا ہے ،

    اطلاعات کے مطابق سعودی عرب پرامریکی دباو سعودی عرب نے نہ صرف مسترد کردیا ہے بلکہ اس جابرانہ کوشش کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے امریکا میں 800 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والے ملک سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے سرمایہ کاری کم کرنے کا عندیہ دیدیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی ولی عہد نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میں سعودی سرمایہ کاری میں کمی کا امکان ہے، ہمیں اپنے فائدے کو مد نظر رکھتے ہوئے سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی صدر مجھے سمجھ نہیں پارہے تو یہ ان کا مسئلہ ہے۔ امریکی مفاد کے لیے سوچنا بائیڈن کی ذمہ داری ہے، دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

  • ہم نےہمیشہ وعدوں کااحترام کیاہے:سازشیوں       کومُلک کا بچہ بچہ جانتا ہے:مونس الٰہی کی وزیراعظم سےگفتگو

    ہم نےہمیشہ وعدوں کااحترام کیاہے:سازشیوں کومُلک کا بچہ بچہ جانتا ہے:مونس الٰہی کی وزیراعظم سےگفتگو

    اسلام آباد:نسلوں سےہمارےخاندان نےہمیشہ وعدوں کااحترام کیاہے:سازشیوں کومُلک کا بچہ بچہ جانتا ہے:مونس الٰہی کی وزیراعظم سےگفتگوا،طلاعات کے مطابق متحدہ اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے اعلان کے بعد عمران خان بھی مقابلے کرنے کے لیے سیاسی محاذ پر متحرک ہو گئے ہیں۔

    دوسری طرف وفاقی وزیرآبی وسائل اور پاکستان میں‌ شریفانہ سیاست کو پروان چڑھانے والے چوہدری برادران کے فرزند ارجمند چوہدری مونس الٰہی نے آج وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرکے پاکستان میں دہائیوں سے سیاسی سازشیوں کے خلاف ایک بند باندھ دیا ہے

     

     

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے وفاقی وزیر آبی وسائل مونس الہی نے ملاقات کی۔ جس میں ملکی سیاسی امور اور اتحاد کے معاملات پر بات چیت کی گئی۔

    اس موقع پر مونس الٰہی نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ہیں، آگے بھی ملکر ساتھ چلنا ہے۔ سیاسی منظر نامے پر ساتھ ساتھ چلنا ہے۔

    مونس الٰہی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ نسلوں سے ہمارے خاندان نے ہمیشہ وعدوں کا احترام کیا ہے، وزیر اعظم عمران خان اور اسد عمر سے ملاقات کی ۔ پاکستان کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اتحاد کے معاملات پر کوارڈینیشن کی ذمہ داری وفاقی وزیر اسد عمر کو سونپ دی گئی، اسد عمر سیاسی معاملات پر مسلم لیگ ق کی قیادت کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔

    مسلم لیگ ق کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد وزیراعظم عمران خان دیگر اتحادی جماعتوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے چودھری برادران کے گھر جا کر چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کی تھی جس میں مسلم لیگ ق کے قائدین وزیراعظم کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہنے کا اعلان کیا تھا۔

  • وزیراعظم عمران خان کے امریکا کے سامنے ڈٹ جانے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی ڈٹ گئے

    وزیراعظم عمران خان کے امریکا کے سامنے ڈٹ جانے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی ڈٹ گئے

    ریاض:وزیراعظم عمران خان کےامریکا کے سامنے ڈٹ جانے کے بعد سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی ڈٹ گئے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا امریکا کے سامنے ڈٹ جانا سعودی ولی عہد کے لیے حوصلے کا سبب بن گیا ، سعودی ولی عہد بھی ڈٹ گئے ہیں اور دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر کو ایک دلیرانہ پیغام بھیج کرعربوں کو خوش کردیا ہے ،

    اطلاعات کے مطابق سعودی عرب پرامریکی دباو سعودی عرب نے نہ صرف مسترد کردیا ہے بلکہ اس جابرانہ کوشش کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے امریکا میں 800 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والے ملک سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے سرمایہ کاری کم کرنے کا عندیہ دیدیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی ولی عہد نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میں سعودی سرمایہ کاری میں کمی کا امکان ہے، ہمیں اپنے فائدے کو مد نظر رکھتے ہوئے سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکی صدر مجھے سمجھ نہیں پارہے تو یہ ان کا مسئلہ ہے۔ امریکی مفاد کے لیے سوچنا بائیڈن کی ذمہ داری ہے، دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

    محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطین سے معاملات ٹھیک کر لے تو اتحاد ہوسکتا ہے، سعودی عرب میں بادشاہت ہی قائم رہے گی۔

    ایران سے مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تہران سے ڈائیلاگ کی کامیابی کیلئے پر امید ہیں، دونوں ملکوں کے روشن مستقبل کے لیے با مقصد مذاکرات لازمی ہیں، مذاکرات کے ذریعے ہی دونوں ملک کسی معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں، ایران ہمارا مستقل ہمسایہ ہے ہم دونوں ایک دوسرے سے جان نہیں چھڑا سکتے۔