Baaghi TV

Tag: پاکیستان

  • او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کے دورہ پاکستان کا اعلان

    او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کے دورہ پاکستان کا اعلان

    او آئی سی کے سیکریٹری جنرل 11 اور 12 دسمبر کو پاکستان کا 2 روزہ دورہ کریں گے،

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق او آئی سی سیکریٹری جنرل وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کریں،او آئی سی کے سیکریٹری جنرل آزاد کشمیر کا بھی دورہ کریں گے،او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کی دیگر پاکستانی حکام سے بھی ملاقاتیں ہوں گی

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی ناظم الامور نے کابل میں پاکستانی سفارتخانے حملے میں زخمی ہونے والے سپاہی کی عیادت کی،وزیرخارجہ بلاول بھٹو کانفرنس میں شرکت کیلئے انڈونیشیا کے دورے پر ہیں پاکستان انڈونیشیا دوطرفہ تعاون میں اضافے کیلئے بات چیت کررہے ہیں،بھارت میں اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل نہیں۔ باربری مسجد کی جگہ پر مندر کی جاری تعمیر اور مجرموں کی بریت کی مذمت کرتے ہیں،بھارت میں مسلمانوں کی مذہبی آزادیوں پر مسلسل حملہ ہو رہا ہے، kالعدم تنظیموں کے حوالے سے امریکی الزامات مسترد کرتے ہیں پاکستان نے طویل عرصے تک دہشت گردی کا سامنا کیا پاکستان دہشت گردی سے متاثرہ ملک ہے، پاکستان نے بڑے جانی نقصانات کا سامنا کیا ہے اور بھارت پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے

    وزیراعظم کی اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کے حوالے سے فنڈز جاری کرنے کی ہدایت

    اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

    مندر گرا دیا اگر مسجد گرا دی جاتی تو کیا ردعمل سامنے آتا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    آپ سپریم کورٹ میں کھڑے ہو کر ایسی بات نہیں کر سکتے،چیف جسٹس

    لوگوں نے حج کا پیسہ بھی زلزلہ متاثرین کو دیا تھا،205 ارب روپے کہاں خرچ ہوئے؟ سپریم کورٹ

    وزیراعظم کی ہدایت پراو آئی سی اجلاس میں کشمیری قیادت کو دعوت، بھارتی اعتراض مسترد ا

  • اسلام آبادبلدیاتی انتخابات،جماعت اسلامی نےامیدواروں کو پارٹی ٹکٹس جاری کر دیے

    اسلام آبادبلدیاتی انتخابات،جماعت اسلامی نےامیدواروں کو پارٹی ٹکٹس جاری کر دیے

    اسلام آباد :جماعت اسلامی پاکستان نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کیلئے80 یونین کونسل کے امیدواروں کو پارٹی ٹکٹس جاری کر دیے ۔جماعت اسلامی آفیشل فیسبک پیج کے مطابق 101 یونین کونسل میں سے 80 یونین کونسلز میں اپنے نشان اور جھنڈے کے ساتھ الیکشن لڑیں گے۔ جماعت اسلامی اسلام آباد کی طرف سے پارٹی ٹکٹ جاری کردئیے گئے ہیں ۔ اسلام آباد بلدیاتی انتخابات میں دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ جماعت اسلامی بھرپور طریقے سے حصہ لے رہی ہے ۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرنے کا عمل مکمل ہوگیا،101 یونین کونسل کی نشستوں پر 3 ہزار 866 امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق شیڈول کے تحت امیدواروں کی فہرست 14 نومبر کو جاری کی جائے گی اور کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 18 نومبر تک جاری رہے گی۔

    یاد رہے کہ آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کیلئے کاغذات نامزدگی جمع کرنے کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔ترجمان الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بلدیاتی انتخابات کیلئے کل 12 سو 11 نشستوں پر 3 ہزار 866 امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ہیں۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات میں چیئرمین اور وائس چیئرمین کی 101 نشستوں کیلئے 537 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے گئے۔

    جنرل ممبرز کی 606 نشستوں کیلئے 1 ہزار 945، خاتون ممبر زکی 202 نشستوں کیلئے 546 اور نوجوان ممبرز کی 101 نشستوں کیلئے 344 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔

    مزدور اور کسان ممبر زکی 101 نشستوں کیلئے 348 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کیئے جبکہ اقلیتوں کیلئے مخصوص 101 نشستوں کیلئے 146 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع ہوئے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق شیڈول کے تحت امیدواروں کی فہرست 14 نومبر کو جاری کی جائے گی اور کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 18 نومبر تک جاری رہے گی۔

  • ہمیں مہنگائی کے طعنے دینے والے اب خود مہنگائی کرنے لگے:شاہ محمود قریشی

    ہمیں مہنگائی کے طعنے دینے والے اب خود مہنگائی کرنے لگے:شاہ محمود قریشی

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ یہ حکومت پہلے مہنگائی کے خلاف نکلی اور پھر خود ہی مہنگائی کر دی۔

    شاہ محمود قریشی نے احتجاج کے دوران مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کارکن پرامن احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے جمع ہیں، عوام نے عمران خان کی کال پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔

    ان کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت نے عوام پر پیٹرول بم گرایا ہے، ہم جب قیمتیں بڑھاتے تھے تو ہمیں ناتجربہ کار کہتے تھے اب یہی لوگ ایک ہفتے میں 60 روپے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کو قبول کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے بجلی 8 روپے اور گھی 200 روپے فی کلو بڑھا دیا اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ یہی لوگ تھے جو مہنگائی کے خلاف نکلے تھے، ہم نے تو جون تک قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا، آج انہوں نے آئی ایم ایف کے کہنے پر قیمتیں بڑھائیں۔

    شاہ محمود نے کہا کہ ہم نے روس کو سستے داموں گندم اور گیس پر آمادہ کرنا چاہا اور عمران خان کو واپسی پر اس کی سزا دی گئی پر پھر بھی عمران خان نے کہا کہ غلامی قبول نہیں کریں گے، انہوں نے عدم اعتماد کا مقابلہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ سے جیسے ہی فیصلہ آئے گا ویسے ہی عمران کان احتجاج کی کال دیں گے۔

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • انسانی حقوق کونسل نے روس کے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کی منظوری دیدی

    انسانی حقوق کونسل نے روس کے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کی منظوری دیدی

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے یوکرین میں روسی فوج کے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کی منظوری دے دی۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں یوکرین میں روسی فوج کے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے پیش کی گئی قرارداد کو 33 ووٹ ملے۔

    کونسل میں پیش کی گئی قرارداد میں یوکرین کے دارالحکومت سمیت مختلف علاقوں میں روسی افواج کی کارروائیوں پر تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا کہا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق چین اور مشرقی افریقی ملک نے قرار داد کے خلاف ووٹ دیا جب کہ کیوبا، قازقستان، بھارت، پاکستان، ازبکستان اور وینزویلا کے ممبران نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔انسانی حقوق کونسل نے فوری طور روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ رضاکاروں کو یوکرین میں عام شہریوں تک رسائی دے۔

    اقوام متحدہ میں روس کے سفیر نے کونسل کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پیدا بحران کو حل کرنے اور حقیقی وجوہات پر گفتگو کے بجائے مغرب مجموعی طور پر روس کو کچلنے ایک اور راستہ بنارہا ہے۔
    چین کے سفیر نے بھی قرارداد پر کونسل کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد آگ پر تیل کا کام کرے گی۔

  • ماؤں کا عالمی دن: مقبوضہ کشمیر کی مائیں آج بھی اپنے لاپتہ و اسیر بچوں کی منتظر

    ماؤں کا عالمی دن: مقبوضہ کشمیر کی مائیں آج بھی اپنے لاپتہ و اسیر بچوں کی منتظر

    اسلام آباد: آج جب دنیا بھر میں ماؤں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہزاروں خواتین بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا شکارہونے والے اپنے بیٹوں کی واپسی کی منتظر ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے ماں کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی جاری ہے۔

    جس کے نتیجے میں 1989سے 8 مئی 2022 تک خواتین اور بچوں سمیت 96 ہزار 25 کشمیریوں کو شہید کیا گیا اور 22 ہزار 944 خواتین بیوہ ہوئی ہیں۔ بھارتی فورسز نے اس عرصے کے دوران 11 ہزار 255 خواتین کی بے حرمتی کی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر نظر بند حریت رہنماؤں، کارکنوں اور نوجوانوں کی ماؤں، بیویوں اور بیٹیوں سمیت رشتہ داروں نے بھارت اورمقبوضہ جموں وکشمیرکی مختلف جیلوں میں نظر بند اپنے پیاروں کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا ہے کہ 62 سالہ مزاحمتی رہنما آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، شازیہ اختر اور انشا طارق سمیت تقریباً دو درجن خواتین جھوٹے الزامات کے تحت بھارت کی بدنام زمانہ تہاڑ سمیت مختلف جیلوں میں غیر قانونی طور پر نظر بند ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوجیوں نے اس عرصے کے دوران تقریبا 8 ہزارکشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کردیا ہے اور لاپتہ ہونے والے افراد میں سے اکثر کی مائیں آج بھی ان کی واپسی کی منتظر ہیں۔

    رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ کشمیری مائیں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا خمیازہ بھگت رہی ہیں کیونکہ ماؤں سمیت کشمیری خواتین نے اپنے قریبی عزیزوں کو بھارتی گولیوں کا نشانہ بنتے دیکھ کر سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اب تک متعدد کشمیری مائیں لاپتہ ہونے والے اپنے بیٹوں کوتلاش کرتے ہوئے اس دارفانی سے کوچ کرگئی ہیں جبکہ کشمیری ماؤں کو بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے اپنے بیٹوں کی موت پر سوگ منانے اور انہیں اپنی پسند کی جگہوں پر دفنانے کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

  • عید پر بسیار خوری سے پرہیز کریں: ڈاکٹر ز کا شہریوں کو مشورہ

    عید پر بسیار خوری سے پرہیز کریں: ڈاکٹر ز کا شہریوں کو مشورہ

    ماہ رمضان کے روزوں کے بعد ایک ہفتے تک معدے پر زیادہ بوجھ نہ ڈالیں:ڈاکٹر اسرار الحق طور
    بلڈ پریشر، ذیابیطس اوردل کی بیماریوں کے مریض احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں:ایسوسی ایٹ پروفیسر جنرل ہسپتال
    عید الفطر کے موقع پر شہریوں کو کھانے پینے اور پیٹ کے معاملات کو معمولات پر لانے میں خصوصی احتیاط برتنی چاہیے۔ ایک ماہ روزے رکھنے کے بعد اچانک تیز مصالحے و چٹ پٹے کھانے اور مرغن غذائیں انسان کی جسمانی نظام کو متاثر کرسکتی ہیں جس سے نہ صرف آپ نڈھال بلکہ موٹاپے کا شکار بھی ہوسکتے ہیں،روزے داروں کو معدے پر فوری بوجھ ڈالنے کے بجائے آہستہ آہستہ روٹین میں واپس آنا چاہیے۔

    ایسوسی ایٹ پروفیسر آف میڈیسن لاہور جنرل ہسپتال ڈاکٹر اسرار الحق طور نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اعصابی بیماریاں، دماغی کمزوری، بلند فشار خون، ذیابیطس اور پیٹ کے متعدد امراض زیادہ کھانے سے ہی لاحق ہوتے ہیں لہذا رمضان کے فوری بعد کھانے میں اعتدال سے کام لیا جائے تو بہتر ہے۔ڈاکٹر اسرار الحق طور نے کہا کہ میٹھی عید کے ایام میں شہری لا پرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیک وقت کئی اقسام کی فوڈ آئیٹمز کھانا شروع کر دیتے ہیں جس کے باعث نظام انہضام متاثر ہوتا ہے اور شہریوں کی بڑی تعداد کو کلینکس اور ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے مختلف بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو خصوصی طور پر مشورہ دیا کہ وہ کھانے پینے میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور پیچیدگیوں سے بچنے کے لئے ٹھنڈے مشروبات اور خوش خوراکی سے پرہیز کریں۔

    ڈاکٹر اسرار طور نے مزید کہا کہ ہمارا مذہب اسلام بھی کم کھانے کی تلقین کرتا ہے اور عید الفطر کے موقع پر ایک دوسرے کے ہاں مہمان نوازی میں تکلف برتے ہوئے کھانا پڑ جاتا ہے لیکن ہمیں میڈیکل نقطہ نظر سے اپنے جسم بالخصوص معدے کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے اور عید کے موقع پر کسی قسم کی بے احتیاطی نہیں کرنی چاہیے تاکہ اس پر مسرت موقع پر اپنی اور گھر والوں کی خوشیوں کو مانند پڑنے سے بچایا جا سکے۔ کھانے کے ساتھ ساتھ مشروبات کا ذیادہ استعمال صحت کیلئے نقصان دہ ہے،ضرورت سے زیادہ ٹھنڈہ پانی اور برف سے پرہیز کریں، پھلوں اور سبزیوں کا استعمال یقینی بنائیں ا ور سیر کرنا نہ بھولیں

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے ریمانڈ میں توسیع

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ریاست کو مدعی بننا چاہئے،صارفین

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، وزیراعظم نے بڑا اعلان کر دیا

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،جوڑے کے وارنٹ گرفتارری جاری

    عثمان مرزا کیس،لڑکے اور لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو عدالت میں چلا دی گئی

  • چین میں کورونا نے پھرسراٹھا لیا:شنگھائی میں سخت لاک ڈاؤن کے باعث شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا

    چین میں کورونا نے پھرسراٹھا لیا:شنگھائی میں سخت لاک ڈاؤن کے باعث شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا

    چین میں کورونا نے پھرسراٹھا لیا:شنگھائی میں سخت لاک ڈاؤن کے باعث شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا ،اطلاعات کے مطابق چین کے شہر شنگھائی میں حکومت کی جانب سے کورونا لاک ڈاؤن کے باعث شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    شنگھائی میں لاک ڈاؤن کے تحت کچھ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ شہر کے اب تک کے سب سے بڑے کوویڈ پھیلنے کے درمیان ان کے پاس کھانا ختم ہو رہا ہے۔

    رہائشی اپنے گھروں تک محدود ہیں، یہاں تک کہ اشیائے خورد و نوش کی خریداری جیسی ضروری وجوہات کی بنا پر بھی باہر جانے پر پابندی ہے۔چین کے سب سے بڑے شہر میں جمعرات کو تقریباً 20,000 نئے ریکارڈ کورونا کیسز رپورٹ ہوئے.

    شنگھائی کی انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ شہر کو “مشکلات” کا سامنا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اس میں بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    لیکن شہریوں میں سخت غصہ اور بے چینی بھی ہے ، جیسا کہ بچوں کو کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ان کو والدین سے الگ کیا جا رہا ہے۔

    شہریوں کے ردعمل کے بعد شنگھائی کے حکام نے بعد میں ان والدین کو بھی ان کے بچوں کے ساتھ تنہائی کے مراکز میں جانے کی اجازت دے دی ہے۔

    تاہم ایک بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اب بھی والدین سے الگ ہونے والے بچوں کے بارے میں شکایات موجود ہیں جو کوووڈ پازیٹو نہیں تھے۔

    حکومت نے شنگھائی شہر میں ہر معاملے کی شناخت اور الگ تھلگ کرنے کے لیے بدھ کو لازمی بڑے پیمانے پر کورونا ٹیسٹنگ کا ایک اور دور شروع کر دیا ہے۔

    شنگھائی کے وہ شہری جن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا ہے وہ اپنے گھروں میں الگ تھلگ نہیں رہ سکتے چاہے کورونا کی علامت ہلکی ہوں یا مہلک ہوں۔

    شنگھائی میں اس وقت قرنطینہ مراکز پر بھی سخت دباؤ ہے، اور حکومت نئے قرنطینہ مراکز قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

     

  • دوسری جنگ عظیم کے بعد بڑا معرکہ تیار،روس،امریکہ، برطانیہ نے فوجیں لگا دیں

    دوسری جنگ عظیم کے بعد بڑا معرکہ تیار،روس،امریکہ، برطانیہ نے فوجیں لگا دیں

    دوسری جنگ عظیم کے بعد بڑا معرکہ تیار،روس،امریکہ، برطانیہ نے فوجیں لگا دیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ہم اپنے اندرونی مسائل مہنگائی ، بے روزگاری ، آئی ایم ایف ، اسٹیٹ بینک اور نواز شریف کی بیماری میں اتنا پھنسے ہوئے ہیں کہ ہم کو اندازہ ہی نہیں کہ ہمارے پڑوس میں ایک نئی جنگ کی تیاریاں زور وشور سے جاری ہیں ۔ اور اس جنگ کے اثرات پاکستان سمیت پوری دنیا میں پھیلنے والے ہیں اس تنازعہ کا نام ہے ۔۔۔ یوکرائن پر کون قابض ہوگا ۔۔۔مشرق یا مغرب ؟؟؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ اس سلسلے میں بھی دنیا دو حصوں میں بٹی دیکھائی دے رہی ہے ۔ ایک جانب مغرب ہے تو دوسری طرف مشرق ۔ ابھی تو ہر کوئی یہ خدشہ ظاہر کر رہا ہے کہ یہ جنگ ٹلتی نہیں دیکھائی دے رہی ہے اور ساتھ ہی یہ جنگ چھڑ گئی تو معاملہ مزید آگے ہی بڑھے گا ۔ کیونکہ یوکرائن کے معاملے پر دو بڑے پہلوان امریکہ اور روس زور آزمائی کررہے ہیں ۔ خود امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی فوجی کارروائی ہوسکتی ہے، جس سے دنیا کا نقشہ تبدیل ہوسکتا ہے۔ جبکہ روس کے صدر پوتن کا دعویٰ ہے کہ مغربی طاقتیں یوکرائن کو روس کو گھیرنے کے لیے استعمال کر رہی ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ نیٹو مشرقی یورپ میں اپنی فوجی سرگرمیاں بند کر دے۔ وہ ایک طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ امریکہ نے 1990 میں دی گئی اپنی اس ضمانت کو ختم کر دیا، جس کے مطابق نیٹو اتحاد مشرق میں نہیں پھیلے گا۔ دراصل یہ پھڈا شروع ہی یوکرائن میں امریکی میزائلوں کی تنصیب سے ہوا ہے ۔۔۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب جب امریکہ روس کی ناک کے نیچے اسکی سرحد ساتھ اپنا جدید اسلحہ لگائے گا تو روس بھی جواب دے گا ۔ اور اسی جواب میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے یوکرائن کی سرحدوں پر تقریباً ایک لاکھ کے قریب فوج اکھٹی کردی ہے۔ اس حوالے سے امریکی جنرل مارک میلی کا کہنا ہے کہ اگر یوکرائن پر روس کا حملہ ہوگیا تو اس سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوں گی۔ انھوں نے حالیہ روسی فوجیوں کی موجودگی کو بھی سرد جنگ کے بعد سب سے بڑی فوجی تعیناتی قرار دیا ہے۔ جنگ کی تیاری میں ہی امریکہ نے اب تک تین سو کے قریب Juvenile missile اور بنکر نیست و نابود کرنے والے انتہائی مہلک بم یوکرائن پہنچادیے ہیں۔ جنگ کی صورت میں روس سے گیس کی ترسیل بند ہونے کی صورت میں یورپی ممالک متبادل ذرائع تلاش کر رہے ہیں۔ امریکہ اگلے چند روز میں 8,500فوجی یوکرائن یا اس کے آس پاس متعین کر رہا ہے اور یورپ میں موجود 64,000 سپاہیوں کو تیاررہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ۔ اسی لیے روس نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے Moldova اور Crimea میں بڑے پیمانے پر جنگی مشقیں کی ہیں ۔ اس کے علاوہ بحیرہ عرب میں چین کے اشتراک کے ساتھ بحری مشقیں بھی کی ہیں ۔ روس اپنے میزائلوں کو بھی حالت تیاری میں رکھے ہوئے ہے اور یوکرائن کی سرحد پر 60جنگی جہاز اور بمبار تیاری کی انتہائی حالت میں ہیں۔۔ ابھی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دے دیا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جانب روس بھی پیشقدمی کرنے لگا ہے ۔ ۔ وال اسٹریٹ جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی پولینڈ اور جرمنی میں تعینات کیے جائیں گے جب کہ ایک ہزار کے قریب فوجیوں کو جرمنی سے رومانیہ منتقل کیا جائے گی اور یہ فیصلہ امریکی صدر جوبائیڈن نے وزیر دفاع اور امریکی فوج کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم میٹنگ کے بعد کیا ہے ۔۔ اس حوالے سے پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ تعینات کیے جانے والے فوجیوں کی اہم اور خطرناک مشن کو پورا کرنے کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے جو جدید اسلحے اور ضروری ساز و سامان سے لیس ہیں۔۔ پھر روس کے حملے کے پیش نظر صرف امریکا ہی نہیں برطانیہ نے بھی یوکرائن کو فوجی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ جبکہ اس حوالے سے نیٹو افواج کو پہلے ہی سرحدوں پر تعینات کیا جا چکا ہے۔ اس حوالے سے اعلیٰ سطح پر جاری مذاکرات کے باوجود روس اور امریکا اب تک اس کشیدگی کو کم کرنے کے طریقے کے حوالے سے کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ ۔ اگرچہ ماسکو کا دعویٰ ہے کہ اس کا یوکرائن پر حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، تاہم اس نے یہ بھی مطالبہ کر رکھا ہے کہ نیٹو پہلے یہ وعدہ کرے کہ وہ کبھی بھی اپنے اتحاد میں Kiev کٓو رکنیت کی اجازت نہیں دے گا۔ روس کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ نیٹو اتحاد مشرقی یورپ سے اپنی افواج کو واپس بلائے اور روس کی سرحدوں کے قریب ہتھیاروں کی تعیناتی اور فوجی سرگرمیوں کو ختم کرے۔ ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور نیٹو دونوں نے ہی روس کے مطالبات کو ناممکن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ امریکا نے دھمکی دی ہے کہ اگر ماسکو نے سرحد پر اپنی فوجی کارروائی جاری رکھی تو اس پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔۔ دراصل یہ سارا مسئلہ شروع ہی تب ہوا جب امریکی قیادت میں نیٹو اتحاد نے یوکرائن کی ممبر شپ کی درخواست کو منظور کر لیا۔ یوکرائن ابھی تک نیٹو کا شراکت دار ملک ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یوکرائن کو مستقبل میں کسی بھی وقت اس اتحاد میں شامل ہونے کی اجازت ہے۔ روس مغربی طاقتوں سے اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ لیکن مغرب اس کے لیے تیار نہیں ہے ۔۔ امریکی وزیر خارجہ Anthony Blanken اور ان کے روسی ہم منصب Sergei Lavrov کے درمیان جنوری کے اوائل میں اس معاملے پر بات چیت ہوئی تھی، تاہم ان سفارتی کوششوں کا اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ ۔ صدر جو بائیڈن اور ولادیمیر پوٹن کے درمیان بھی ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی تھی تاہم اس کا بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔۔ اب برطانوی وزیر اعظم Boris Johnson بھی یوکرائن کے صدر Vladimir Zelensky سے بات کرنے کے لیے Kievپہنچے ہیں تاکہ کشیدگی کو کسی طرح کم کیا جا سکے۔۔ اس حوالے سے یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یوکرائن ہمارا ہمسایہ اور ساجھے دار ہے۔ اس کی سلامتی ہماری بھی سلامتی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تو ترکی کے صدر ایردوگان نے کہا ہے کہ میری خواہش ہے کہ روس یوکرائن پر حملے یا قبضے کا راستہ اختیار نہ کرے۔ اگر روس اور یوکرائن کے صدور چاہیں تو ہم انہیں اپنے ملک میں مذاکراتی میز پر لا کر بحالی امن کے لئے راستہ کھول سکتے ہیں۔ ۔ پھر یوکرائن کے اس مسئلے کو بھارت میں خاصی تشویش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ کیونکہ 1962 میں جب بڑی طاقتیں کیوبا میں روسی میزائل کے معاملے کو سلجھانے میں مصروف تھیں تو اس کا فائدہ اٹھاکر چین نے بھارت پر فوج کشی کرکے اس سے 43,000مربع کلومیٹر کا علاقہ ہتھیا لیاتھا۔ تاریخ شاید ایک بار پھر دہرائی جا رہی ہے۔ کیونکہ 2020ء سے 60 سال کے بعد چینی اور بھارتی افواج ایک بار پھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں اور بڑی طاقتیں یوکرائن میں برسر پیکار ہیں۔ کل تو راہول گاندھی نے بھی اس حوالے سے خوب چینخ وپکار کی ہے ۔ اور مودی کو خوب کوسا بھی ہے ۔ ۔ یوکرائن کے تنازعہ کی وجہ سے امریکہ فی الحال چین کو قابو میں رکھنے کی اپنی ایشیا پیسفک پالیسی بھی بھول چکا ہے اور اس خطے میں اس نے اپنے اتحادیوں کو بڑی حد تک اب چین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ چین بھی 1962ء کے مقابلے اب خودہی ایک فوجی اور اقتصادی طاقت ہے۔ جو بڑی حد تک امریکہ کے ہم پلہ ہے اور روس اسکے ایک اتحادی کے طور پر ابھر رہا ہے۔ اسی لیے بھارت اپنے آپ کو مزید تنہا محسوس کر رہا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر یوکرائن والے معاملے کو لے کر سلامتی کونسل میں بھی بہت شور شرابہ ہوا ہے ۔ بلکہ اس کاروائی کو رپورٹ کرنے والوں کا کہنا تھا کہ منظر بالکل ایسا تھا جیسے ہماری پارلیمان کے اجلاس کا ہوتا ہے ۔۔ اب اس اجلاس میں جہاں واشنگٹن نے کہا کہ روسی فوج کی تعیناتی بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ تو روس کے ترجمان نے اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس کو PR Stunt قرار دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس پر Hysteria پیدا کرنے کا الزام عائد کیا۔۔ پھر امریکا نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ روس آنے والے ہفتوں میں بیلاروس میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھا کر 30,000 کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ وہ یوکرائن کی سرحد کے قریب منتقل ہونے والے اپنے ایک لاکھ فوجیوں میں مزید اضافہ کر سکے۔ تاہم بیلاروس کے نمائندے نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بات سے انکار کیا کہ اسے یوکرائن پر روسی حملے کے لیے staging ground کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ روس اس معاملے پر کھلے اجلاس کے مطالبے کی مخالفت کر رہا تھا۔ اس کے باوجود امریکا سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں سے 10 کو عوامی اجلاس کی حمایت کرنے پر راضی کر سکا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن سلامتی کونسل کی طرف سے اس معاملے میں کسی بھی رسمی کارروائی کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف جہاں روس کو ویٹو پاور حاصل ہے وہیں چین سمیت سلامتی کونسل کے دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ جنہوں نے اس مسئلے پر کھلی میٹنگ کو روکنے کی ماسکو کی کوششوں کی حمایت بھی کی ہے۔۔ اقوام متحدہ میں بیجنگ کے ایلچی Zhang Jun نے کہا۔ واقعی یہی مناسب وقت ہے کہ خاموش سفارت کاری کا مطالبہ کیا جائے۔

    ۔ یوں سلامتی کونسل کے اس دو گھنٹے سے زائد وقت کے اجلاس میں خوب گرما گرمی رہی ۔ ماسکو کی نمائندہ Vasily Nebenzia نے الزام لگایا کہ امریکا Kiev میں خالصتاً نازیوں کو اقتدار میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تو اس پر امریکی سفیر Linda Thomas Greenfield نے جواباً کہا کہ یوکرائن کی سرحدوں پر روس کی جانب سے ایک لاکھ سے زیادہ فوجیوں کی بڑھتی ہوئی عسکری قوت یورپ میں گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے بڑی فوجی نقل و حرکت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کی جانب سے سائبر حملوں اور غلط معلومات پھیلانے میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ وہ بغیر کسی حقیقت کے ہی یوکرائن اور مغربی ممالک کو حملہ آور کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ حملے کا بہانہ بنایا جا سکے۔ اس کے جواب میں روسی سفیر نے مغرب پر منافقت کا الزام لگاتے ہوئے کہا، ہمارے مغربی ساتھی کشیدگی میں کمی کی ضرورت کی بات کر رہے ہیں۔ تاہم، سب سے پہلے، وہ خود ہی کشیدگی اور بیان بازی کو ہوا دے رہے ہیں اور اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں۔ تھوڑا پیچھے جائیں تویوکرائن 1991تک سوویت یونین کا حصہ تھا۔ یوکرائن میں رہنے والے روسی باشندوں کی ایک بڑی آبادی ہے ان کے روس سے قریبی سماجی اور ثقافتی تعلقات ہیں۔ یوں روس یوکرائن کو اپنے قریبی علاقے کے طور پر دیکھتا ہے۔ روس کا خیال ہے کہ نیٹو اتحادی ہونے کی وجہ سے امریکہ اور اس کے اتحادی مزید اسلحہ اسکی سرحد کے پاس اکٹھا کریں گے۔ دیکھا جائے تو افغانستان سے انخلاء کے بعد امریکہ روس کو اور چین کو قابو میں کرنے کیلئے ایشیاء بحرالکاہل کے خطے سمیت بلقان ملکوں کے علاوہ وسط ایشیاء میں بھی پیر جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جس پر روس اور چین ناراض دکھائی دیتے ہیں۔ بلکہ اس سلسلے میں یہ دونوں امریکی اتحادیوں کو سبق بھی سیکھنا چاہتے ہیں ۔ اسی لیے روس نے یوکرائن سمیت یورپ اور چین نے بھارت سمیت تائیوان کو خوب ٹائٹ کیا ہوا ہے

  • جس پرکوئی ہاتھ نہیں ڈالتا تھا ایس پی ماڈل ٹاؤن کا قبضہ گروپ طیفی بٹ کے ڈیرے پرکریک ڈاؤن

    جس پرکوئی ہاتھ نہیں ڈالتا تھا ایس پی ماڈل ٹاؤن کا قبضہ گروپ طیفی بٹ کے ڈیرے پرکریک ڈاؤن

    لاہور15 جنوری (حمزہ رحمن) سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر اور ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق خان کی ہدایت پرایس پی ماڈل ٹاؤن کی قیادت میں پولیس کا بدنام زمانہ قبضہ مافیا اور رسہ گیر خواجہ تعریف عرف طیفی بٹ کے ڈیرے پرکریک ڈاؤن کیا گیا.
    ترجمان پولیس ماڈل ٹاؤن ڈویژن لاہور کے مطابق موقع پر ریکارڈ یافتہ قبضہ گروپ خواجہ تعریف عرف طیفی بٹ کے 03 اہم کارندے گرفتارکر لیے گئے
    ایس ڈی پی او ماڈل ٹاؤن کے مطابق گرفتارملزمان میں فیاض،لال خان اور امیر محمد شامل ہیں، جبکہ ملزمان کے قبضہ سے رائفل،پسٹل اور گولیاں برآمد کی گئیں، اور مقدمہ درج کر لیا گیا.
    ایس پی ماڈل ٹاؤن دوست محمد کا کہنا تھا کہ قبضہ مافیا اور ناجائز اسلحہ رکھنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا.
    یاد رہے کہ ایس پی ماڈل ٹاؤن دوست محمدکو حال ہی میں کرائم کنٹرول لرنے لے لیے دوبارہ ماڈل ٹاؤن ڈویثرن میں جارج دیا گیا ہے.

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قلت،  ذخیرہ اندوزی  اور میگا کرپشن کرنے والی ٹاپ 12کمپنیز کو بلیک لسٹ اور نام  ای سی ایل میں ڈالے جانے کی تجویز۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قلت، ذخیرہ اندوزی اور میگا کرپشن کرنے والی ٹاپ 12کمپنیز کو بلیک لسٹ اور نام ای سی ایل میں ڈالے جانے کی تجویز۔

    اسلام آباد (حمزہ رحمن) اسلام آباد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا کرنے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قلت اور ذخیرہ اندوزی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام نے بتایا کہ کرونا وباء کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی ڈیمانڈ میں خاطر خواہ کمی ہوئی۔
    اراکین کمیٹی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات ہر دور میں کسی نہ کسی مسئلے سے دو چار رہے ہیں حکومت کو چاہئے کہ جہاں پیٹرول کی کمی ہو وہاں اسے نہ صرف پورا کیا جائے بلکہ جو عناصر مصنوعی قلت پیدا کر رہے ہوں اُن کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
    جبکہ ٹاپ کی 12کمپنیز جو اس میگا کرپشن میں شامل تھیں ان کو بلیک لسٹ کیا جائے گا اور ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے گا اور جن لوگوں نے باہر کے ممالک میں بیٹھ کر پیسہ لگاہا اور مصنوعی قلت پیدا کی تا کہ وہ اپنی جیبیں بھر سکیں ان کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی۔
    کمیٹی کا ان کیمرہ اگلا اجلاس آئندہ ہفتے بلایا جائے گا۔ جس میں سیکرٹری پیٹرولیم، اوگرا، ایف آئی اے، سیکرٹری قانون و دیگر منسلک اداروں کو بریفنگ کیلئے بلایا جائے گا اور کمیٹی کی سفارشات کو وزیراعظم پاکستان کو مدعوو کر کے ان کے سامنے رکھا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری پیٹرولیم اور ایف آئی اے کو سراہا جنہوں نے انتھک محنت سے اس میگا کرپشن کو بے نقاب کیا۔