کیا اس لیے چنوائے تھے تقدیر نے تنکے
کہ بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے
یہ وطن عزیز پاکستان جو لاکھوں شہداء کے لہو کی قربانی سے قائم ہوا تھا کہ جس کے لیے تاریخ کی بڑی ہجرتوں میں سے ایک ہجرت ہوئی وہ کسی قومیت اور ذات برادری کے لیے نہیں تھی، صوبائیت اور لسانیت کے لیے نہیں تھی. برصغیر پاک و ہند کے مسلمان کسی نعرے، نظریے یا مفاد کے لیے بلکہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی آزادی کے لیے جمع ہوئے تھے.تحریک پاکستان کے ہراول دستے کے سالار اور مسلم لیگ پاک و ہند میں محمد علی جناح کے رفقائے کار بھی بنگالی، پنجابی، بلوچی، سندھی، پختون یا کسی مسلک کی نمائندگی کرنے کے لیے جمع نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی کسی نے لسانیت اور قومیت کے حقوق مانگے تھے. کسی کو سندھ، پنجاب،بنگال، بلوچ یا پختون بیلٹ میں مسئلہ نہیں تھا. درحقیقت ہندوستان میں مسئلہ اسلام اور مسلمانوں کو تھا ہندو جو کہ اس برصغیر میں ایک ہزار سال تک محکوم رہے تھے اب وہ اسلام کو کچلنے اور اشوکا کے دور کے ہندوستان کو دوبارہ سے قائم کرنے کے پلان ہندو تواء پر عمل پیراء تھے جس کو سرسید احمد خان، جوہر برادران، محمد علی جناح رحمة اللہ علیہ اور علامہ محمد اقبال رحمة اللہ علیہ و دیگر نے بروقت بھانپ لیا اور قوم کو بیداری کا پیغام دینا شروع کردیا اور تحریک پاکستان شروع ہوئی اور لاکھوں قربانیوں اور ہجرتوں کی دلدوز داستانوں کے بعد نظریہ اسلام لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر پاکستان جیسی مملکت خداداد کا قیام عمل میں آیا.
قیام پاکستان کے بعد جب اس نظریہ اسلام کی جگہ ہمارے اندر قومیت اور لسانیت در آئی تو پھر علاقائی حقوق اور محرومیوں کے نعرے سننے کو ملنے لگے جو بنگلہ دیش کی علیحدگی پر منتج ہوئے جس میں واضح طور پر مجرمانہ کردار انہی کا تھا جن کی اولادیں آج بھی پاکستانیت پر لسانیت اور علاقایت کو فوقیت دے رہی ہیں.
یہ ساری باتیں دہرانے کا مقصد و منشاء یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے قیام سے اپنی بقاء اور استحکام کے سفر میں بھی لاتعداد قربانیاں دی ہیں ستر ہزار لاشے اس ملک کے طول و عرض میں اٹھائے گئے ہیں جن میں سول، سیکیورٹی پرسنز، اقلیتیں وغیرہ سبھی شامل ہیں.
ان قربانیوں اور سیکیورٹی فورسز کے مشکل ترین آپریشنز کے بعد ہم اس قابل ہوئے تھے کہ ملک میں امن و استحکام کو دیکھیں مگر عالمی قوتوں کے پروردہ اور ان کے اس خطے میں مفادات کے نگران لوگوں کو پاکستان کا یہ امن و استحکام گوارہ نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت ان کا اس ملک کے نازک ترین مسائل لسانیت، علاقائیت، قومیت اور مسلکیت کی آگ جلاکر اس میں اس ملک میں قائم ہوتے امن کو راکھ کرنا مقصود ہے. اس کے لیے بدقسمتی سے جس علاقے اور بیلٹ کو چنا گیا ہے وہ ماضی میں دہشت گردوں نے بھی اسی علاقے کو اپنی آماجگاہ کے طور پر چنا اور ان علاقوں اور ان کے وسائل پر قابض ہوکر بیٹھ گئے جس کی وجہ سے یہاں کے محب وطن شہریوں کو اپنے ملک کے اندر ہی ہجرتوں پر مجبور ہونا پڑا. سیکیورٹی فورسز نے اپنی ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر ان علاقوں کو دہشت گردوں سے واگزار کرا کر یہاں کے شہریوں کو واپس لا بسایا. اب انہی دہشت گردوں کے بھائی بندوں نے لسانیت اور قومیت کی آگ میں جلانے کے لیے اسی علاقے اور انہی لوگوں کو چنا ہے. ابتداء میں پختون بیلٹ کے مسائل اور حقوق کی بات کی گئی جب ان کے مسائل ریاست کی طرف سے حل کیے جانے کی بات ہوئی تو بجائے مذاکرات اور بات چیت کی بجائے اپنے بڑوں (TTP) کی طرح تشدد کا رستہ اختیار کیا اور ہتھیاروں سے لیس ہوکر اپنے ہی ملک کی سیکیورٹی فورسز پر حملہ کردیا.
پختون بیلٹ کو اپنی لچھے دار باتوں اور جھوٹے اور دلفریب نعروں سے الجھانے کی کوشش کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کو خانہ جنگی کیں مبتلا کرکے عالمی قوتوں کے مفادات کو تحفظ دینے کی بھرپور کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور اب تشدد کا رستہ اختیار کرکے پی ٹی ایم نے واضح طور پر اپنے مستقبل کے اقدام کو واضح کردیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں.
یہاں پر میں انتہائی افسوس ناک کردار ادا کیا ہمارے وطن کی نام نہاد سیاسی جماعتوں نے جنہوں نے کہ جو حکومت وقت کی مخالفت میں ریاست پاکستان کے دشمنوں اور غداری پر آمادہ ان پی ٹی ایم والوں کی حمایت کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور ان حمایتیوں میں سب سے بلند آواز انہی کی ہے جن کے باپ دادا پاکستان کے دو لخت ہونے میں واضح ترین موجب تھے.
اب وقت آن پہنچا ہے کہ پختون بیلٹ کی غیور اور محب وطن عوام جو اول تا ابد پاکستانی ہیں جنہوں نے قائد اعظم کی پکار پر لبیک کہا تھا اور ان کی پاکستان سے محبت مسلمہ ہے وہ ان نام نہاد پختون تحفظ موومنٹ جو درحقیقت افغان اور امریکی و بھارتی مفادات کی تحفظ موومنٹ ہے اور انہی کی ایما اور شہہ پر یہ پاکستان کی سالمیت کے درپے ہیں ان کو کھلم کھلا مسترد کردیں پورے پاکستان کی عوام نہ صرف ان کا بلکہ ان کی حمایت میں اٹھنے والی ہر آواز کا بائیکاٹ کرے اور ریاست پاکستان واضح ایکشن لے کر پاکستان کی سالمیت کا تحفظ کرے پوری پاکستانی قوم بشمول قبائلی علاقہ جات کہ سبھی ریاست پاکستان اور مقتدر اداروں کی پشت پر کھڑی ہوگی.
Tag: پاک آرمی

کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ
بس اب اور نہیں!!! بلال شوکت آزاد
اگر فوج کو گالیاں بکنا, ان کا راستہ روکنا, ان پر مسلح حملہ کرنا, پاکستان کو گالی بکنا, محمد علی جناح و علامہ اقبال پر تبرہ کرنا, پاک فوج کو دہشتگرد کہنا, اسرائیل آرمی زندہ آباد کہنا, پاکستان کے علاقے کو مقبوضہ کہہ کر عامیوں کو گمراہ کرنا اور نو گو ایریا بنانا اور پاکستانی حکومتی ایوانوں میں بیٹھ کر آئین کی دھجیاں ہر ہر منٹ پر اڑانا جرم نہیں بلکہ آزادی اظہار رائے, ناراضی کا اظہار اور حقوق کی جنگ ہے (اور ہماری ریاست برداشت کا مظاہرہ کرنا ترک نہیں کرتی) تو اللہ کی قسم (سب نہیں کہ اصلی نسلی پختون خود ہم سے زیادہ پاکستانی اور محب وطن ہیں) میں یہ کیمپین لانچ کروانے اور اس پر عمل کروانے میں ایک منٹ کی بھی دیر نہیں لگاؤں گا کہ جہاں پشتینی ٹوپی پہنے ہوئے یا یہ نعرہ لگاتے ہوئے کہ "یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے” وغیرہ وغیرہ, ملک کے کسی بھی کونے میں کوئی محب وطن کسی پشتینی (تھرڈ کلاس سے لیکر ہائی کلاس) کو دیکھے تو بغیر حال چال دریافت کیئے اور بغیر وارننگ دیئے ٹھڈوں, مکوں اور تھپڑوں پر رکھ لے اور جب تک وہ پشتینی خود ٹوپی اتار کر اس پر پاؤں نہیں پھیرتا اور تھوکتا نہیں یہ کہہ کر کہ "ہاں میں بھی پاکستانی ہوں اور پاکستان زندہ آباد”, تب تک خواہ پیٹنے والا کوئی بھی محب وطن مہاجر, بلوچ, سندھی, پشتون, کشمیری, بلتی, سرائیکی, مکرانی اور پنجابی ہو وہ سانس نہ لے اور نہ اس کو سانس لینے دے۔
ان کی ٹووووووں ٹووووووووووں بیپ بیپ اور انکی تحریک بشمول ان کے مبینہ نام نہاد حقوق اور انصاف کے نعروں کے ایسی کی تیسی۔
اب یہ سیاست, آزادی اظہار رائے اور دو نمبر صحافت کے نام پر پاکستانی عوام, ریاست اور ریاستی اداروں کی اور تذلیل اور تضحیک بلکہ ان پر جانی و مالی حملہ بلکل برداشت نہیں کیا جائے گا اور پھر کوئی ہمیں یہاں بیٹھ کر پاکستانیت اور اخلاقیات کے پاٹھ نہ پڑھائے کہ الحمداللہ ہم خود اس میں خود کفیل ہیں اور بہتر جانتے ہیں کہ کس طرح سے ڈیل کرنا ہے ایسوں کو سوشل میڈیا اور گراؤنڈ پر۔
واللہ ان الفاظ کو مذاق مت سمجھا جائے کہ اللہ کی قدرت اور مہربانی سے میں اور میرے سبھی ساتھی یہ سکت اور اہلیت رکھتے ہیں کہ پشتینیوں کا جینا دوبھر کردیں پورے ملک میں لیکن چونکہ ہماری تربیت اور مزاج ان نسلی ٹٹوؤں جیسا نہیں اور حب الوطنی کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات ہمارے ایسے اقدامات کے آڑے آتی ہیں بالکل فوج کی طرح لہذا لفاظی کا سہارا لیکر ادھر ہی کاؤنٹر کرنے اور راہ راست پر لانے پر یقین رکھتے ہیں۔
پر میں واضح کردوں سبھی پی ٹی ایم کے ٹٹ پونجیوں اور ان کے حامیان کو کہ ہماری برداشت اور صبر کا اتنا ہی امتحان لینا جتنا بعد میں خود بھگت سکو کہ ہم نے بھی چوڑیاں نہیں پہن رکھیں اور نہ ہی ہم لولے لنگڑے ہیں کہ تمہیں ہم سے ایک آنچ آنے کا بھی خطرہ نہیں۔
جس دن ریاستی اداروں نے ہمیں ہلکا سا بھی اشارہ دے دیا (جو وہ کبھی نہیں دیں گے کہ ان کی روایت نہیں لیکن پھر بھی ہم تیار ہیں) کہ قوم ان کا علاج خود کرے تو تمہیں پورے پاکستان تو کیا قبائلی علاقہ جات میں بھی جائے امان نہیں ملنی۔
جس وجہ سے ہم رکے ہوئے ہیں اور ہمارے ہاتھ اور منہ بند ہیں اسی وجہ سے محب وطن پشتون جو تمہارے ارد گرد ہی رہتے ہیں ان کے بھی ہاتھ اور منہ بند ہیں لیکن یہ ہماری کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے جس کا تمہیں بالکل اندازہ نہیں۔
اپنی اصلاح کر لو اور غیروں کے نقش قدم پر چلنا چھوڑ کر قومی دھارے میں آ جاؤ اور آئینی و قانونی کے ساتھ ساتھ اخلاقی طریقے سے اپنا مقدمہ لڑو اور حقوق کی بات کرو تو واللہ ہم ہی وہ لوگ ہوں گے جو تم سے پہلے تمہارا مقدمہ اور حقوق کی جنگ لڑنے آگے کھڑے ہوں گے اور مقتدر حلقوں تک تمہاری آواز پہنچائیں گے لیکن جو تم کر رہے یہ قطعاً مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔
نوٹ: بھاشن نہیں سنائے کوئی ادھر, تیسرا سال چل رہا ہے کہ ہم برداشت کرتے رہے ریاست کے ساتھ ساتھ پر اب اور خاموشی اور نظر اندازی سراسر منافقت اور بزدلی میں شمار ہوگی۔

بس بہت ہو گیا ۔۔۔ اسد عباس خان
دشمن نے گزشتہ ایک ڈیڑھ دہائی تک کبھی فضل اللہ، حکیم اللہ اور بیت اللہ کے ناموں کے ساتھ TTP بن کر منبر و محراب اور مساجد و مدارس کی حرمت کو پامال کیا بازاروں میں بم چلاۓ عام مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگائے اور پھر ان کا قتل عام کیا۔
بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر کلمہ طیبہ کی بنیاد اور اسلام کی اساس پر قائم مملکت خداداد پر مسلسل آتش و آہن کا بازار گرم کیے رکھا۔ جب افواج پاکستان نے لازوال قربانیوں کی داستانیں رقم کرتے ہوئے ان سانپوں کو کچلنا شروع کیا تو کچھ مردار اور باقی فرار ہونا شروع ہوۓ۔ اس وقت کے نامور سورمے مارے گئے یا انہوں نے افغانستان کا رخ کیا جبکہ اس سے نچلے درجے کے دہشتگردوں کو ان کے اسپانسرز نے اپنی خاص حکمت عملی کے تحت پاکستان کے شہروں میں روپوش کروایا۔ اور مناسب موقع کی تلاش میں لگے رہے۔
کراچی میں ایک پشتون نوجوانوں نقیب اللہ کا مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے سے وہ موقع بھی آ ملا۔ اس کے بعد ان چھپے ہوئے چوہوں نے اپنے بِلوں سے باہر نکلنا شروع کیا اور پہلے پہل حکومت کے خلاف چھوٹے موٹے احتجاج پھر دنوں ہفتوں میں انتہائی منظم ہو کر ایک نئے نام PTM سے سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں پر ہرزہ سرائی شروع کر دی۔ اب تنظیمی نام کی طرح قیادتی نام بھی قوم پرستی میں تبدیل ہو کر "پشتین، داوڑ، وزیر” ہو چکے تھے۔ ہر گزرتے دن ان کی دشنام طرازی میں اضافہ ہوتا گیا اور پھر کھلے عام ہندوستان اور اسرائیل کی افواج سے مدد مانگنے لگے۔ افواج پاکستان کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ سلام ہے وطن کے محافظوں پر جنہوں نے یہ سب کچھ صبر سے برداشت کیا۔
لیکن اب پانی سر سے گزر چکا ہے آج جس طرح ان PTM کے مسلح دہشتگردوں نے آرمی چوکی پر حملہ کیا جس کے نتیجہ میں پانچ جوان زخمی ہوئے۔ اس کے بعد ان دہشتگردوں کو مزید مہلت دینا اپنے سر پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف ہو گا۔ اب مصلحتوں سے باہر نکل کر سوچنا ہو گا۔
خدارا ان آستین کے سانپوں کو کچل ڈالیں اس سے پہلے کہ یہ ناسور بن جائیں۔ ریاست ایسے غداروں کے خلاف کارروائی کرنے سے کیوں ہچکچاتی ہے جو ہمارے شہداء کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ جنہوں نے سانحہ اے پی ایس پشاور جیسے زخم دیے ہمارے مستقبل، پھولوں جیسے بچوں کو اپنے ناجائز آقاؤں کے اشاروں پر مَسل دیا۔ اللہ کے لیے وطن عزیز کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔ اور اس ظلم کا سدباب کریں۔

