Baaghi TV

Tag: پاک آرمی

  • وزیراعظم کا اقوام متحدہ کی امن سپاہ کےعالمی دن پر پاکستانی امن دستوں کوخراج تحسین

    وزیراعظم کا اقوام متحدہ کی امن سپاہ کےعالمی دن پر پاکستانی امن دستوں کوخراج تحسین

    اسلام آباد:وزیراعظم شہبازشریف نے اقوام متحدہ کی امن سپاہ کے عالمی دن پر پاکستانی امن دستوں کی کاوشوں اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی امن کا قابل فخر فرض نبھانے والے اقوام متحدہ کے امن دستوں کو سلام پیش کرتے ہیں

    ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی امن کارروائیوں میں سب سے زیادہ 2 لاکھ دستے فراہم کرنا پاکستان کی امن دوستی اور امن پسندی کا مظہر ہے ،پاکستانی امن سپاہ کی قربانیوں اور کاوشوں کا موجودہ سیکریٹری جنرل سمیت اقوام متحدہ کے ادارے اور عالمی سطح پر اعتراف اعزاز ہے

    1960 سے 2022 تک پاکستانی امن دستوں میں شامل افسروں اور جوانوں نے قابل فخر اورمثالی کردار ادا کیا ہے ،قوم کے بیٹے اور بیٹیوں نے دنیا بھر میں قیام امن، انسانی خدمت اور مثالی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ،امن کارروائیوں کے ددوران پاکستان کے169 بیٹوں نے شہادتوں کا عظیم مرتبہ پایا ، شہداءکو سلام پیش کرتے ہیں

    دنیا بھر میں افواج پاکستان کے پیشہ وارانہ طرزعمل اور مشکل ترین حالات میں مثالی کارکردگی کا اعتراف باعث افتخار ہے ،امن کارروائیوں کے لئے مسلح افواج، رینجرز، ایف سی اور پولیس کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،

    ادھر اس سے پہلے ترجمان پاک فوج نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ آج دنیا بھر میں یوم امن منا رہی ہے، پاکستان امن مشن کیلئے فوج بھیجنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے یوم امن کے حوالے سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے اقوام متحدہ امن مشن کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز 1960 میں دستہ کانگر بھیج کرکیا، پچھلے 61 سال میں پاکستان قیام امن کے لیے سب سے نمایاں اور مسلسل تعاون کرنے والا ملک رہا ہے، پاکستان نے اقوام متحدہ کے 46 امن مشنوں میں حصہ لیا۔

    آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاکستان دنیا میں امن مشن کیلئے فوج دینے والا دوسرا بڑا ملک ہے، دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے مشنز میں دو لاکھ سے زائد فوجی بھیجے، جب کہ 169 پاکستانی فوجی جوان انسانیت کی مدد میں جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹریز نے پاکستان کا دورہ کر کے امن کی کوششوں کو سراہا، پاکستان کے امن دستوں کی پیشہ ورانہ صلاحیت نے ہر امن مشن میں کمانڈر کو بھی اپنا گرویدہ بنا دیا، پاکستانی امن دستوں میں ایف سی، رینجرز اور پولیس کے دستے بھی شامل ہیں۔

  • دہشتگردی کےخلاف افواج پاکستان کی قربانیاں تاریخ کا سنہرا باب ہے،وزیر اعظم

    دہشتگردی کےخلاف افواج پاکستان کی قربانیاں تاریخ کا سنہرا باب ہے،وزیر اعظم

    وزیراعظم شہبازشریف نے وزیرستان میں دہشتگردوں کےحملے کی شدید مذمت کی اور جام شہادت نوش کرنےوالےسپاہی ظہوراورسپاہی رحیم گل کوخراج عقیدت پیش کیا-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بھرپور جوابی کارروائی پر پاک فوج کے بہادر جوانوں کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں وزیراعظم شہباز شریف نے شہداکےاہلخانہ سےاظہار ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا-

    یوکرین جنگ سے معاشی طور پر متاثرہ ممالک میں پاکستان بھی شامل

    وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کےخلاف افواج پاکستان کی قربانیاں تاریخ کا سنہرا باب ہے،پوری پاکستانی قوم دہشتگردی کےخلاف جنگ میں اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہے-

    شمالی وزیرستان: دہشتگردوں کا سیکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ،2 جوان شہید

    واضح رہے کہ 23 مئی کو دہشت گردوں نے شمالی وزیرستان کے ضلع میر علی کے عام علاقے میں ایک فوجی چوکی پر حملہ کیا آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی جانب سے کئے گئے حملے کے جواب میں فوجیوں نے فوری جوابی کارروائی شروع کی اور دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے تلاش کیا شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران سپاہی ظہور خان (عمر 20 سال، رہائشی لوئر دیر) اور سپاہی رحیم گل (عمر 23 سال، رہائشی ایبٹ آباد) نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا –

    سعودی ولی عہد اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

  • ڈیرہ اسماعیل خان میں حساس اداروں  کا آپریشن،2 دہشت گرد ہلاک

    ڈیرہ اسماعیل خان میں حساس اداروں کا آپریشن،2 دہشت گرد ہلاک

    ڈیرہ اسماعیل خان میں حساس اداروں کا آپریشن،2 دہشت گرد مارے گئے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق حساس اداروں اور پاک آرمی نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کولاچی میں مشترکہ آپریشن میں کالعدم ٹی ٹی پی کے دو انتہائی مطلوب دہشتگرد مارے گئے ، مارے جانیوالے دہشت گرد آئی ای ڈیز حملوں سمیت پولیو ٹیم پر حملوں اور بھتہ خوری میں مطلوب تھے۔

    اطلاعات کے مطابق حساس اداروں اور پاک آرمی نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کولاچی میں مشترکہ آپریشن 15 اور 16 اپریل کی درمیانی شب دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر کیا گیا۔

    پاک افغان بارڈر پر دہشت گردوں کی دراندازی:فوجی قافلے پر حملہ،7فوجی شہید

    فراہم کردہ معلومات کے مطابق آپریشن میں کالعدم ٹی ٹی پی کے دو انتہائی مطلوب دہشتگرد مارے گئے، جن کی شناخت خلیل اور احسان عرف دیوا کے نام سے ہوئی، خلیل خود کش جیکٹس اور دیسی ساختہ بارودی سرنگیں بنانے کا ماہر تھا۔

    دہشت گردوں کے زیر استعمال 2 مشین گنز کے علاوہ 4 گرینیڈ برآمد کرلئے گئے، ہلاک ہونے والے دونوں دہشت گرد مختلف تخریبی کار وائیوں میں ملوث تھے جن میں دہشت گرد 11 اپریل کو پولیس کے 5 جوانوں کی شہادت کا واقعی بھی شامل ہے –

    دوسری جانب شہرقائد کے علاقے پاپوش نگر میں پولیس نے کارروائی کرکے حساس ادارے کے جعلی اہلکار کو گرفتار کرلیا جس سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے-

    اسرائیلی فوج کا فلسطینیوں پرتشدد انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، وزیراعظم

    ایس ایچ او پاپوش انسپکٹر سعود نے بتایا کہ پولیس نے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے ملزم فرحان بھٹی کو گرفتار کیا جو کیمو فلاج یونیفارم پہن کر اور کیپ لگا کر گھوم رہا تھا جب ملزم سے باز پرس کی تو وہ پولیس کو مطمئن نہیں کرسکا جبکہ اس کے پاس سے برآمد ہونے والے اسلحے کا لائسنس طلب کیا تو وہ بھی غیر قانونی نکلا، پولیس نے ملزم سے تفتیش شروع کردی ہے۔

    ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ ملزم علاقے میں لوگوں کو اپنے آپ کو حساس ادارے کے اہلکار کی حیثیت سے متعارف کراتا تھا اور اس کی یونیفارم دیکھ کر لوگ بھی اس کے احکامات ماننے پر مجبور ہوجاتے تھے، پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

    دیامر بھاشا ڈیم نواز شریف کے دور میں شروع کیا گیا،وزیراعظم کا دورہ

  • حاضرسروس آرمی آفیسر پرمبینہ تشدد ،لاہور پولیس کا موقف بھی آ گیا

    حاضرسروس آرمی آفیسر پرمبینہ تشدد ،لاہور پولیس کا موقف بھی آ گیا

    قائمقام سی سی پی او لاہور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شہزادہ سلطان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ شام کلمہ چوک کے قریب افسوسناک واقعہ پیش آیا

    شہزادہ سلطان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعت کے رہنما کے پرائیویٹ گارڈز نے حساس ادارے کے ملازم کو تشدد کا نشانہ بنایا ،راستہ نہ دینے پرپرائویٹ گارڈز نے حساس ادارے کے افسر کو تشدد کا نشانہ بنایا،پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے ملوث چاروں ملزمان کو گرفتار کرلیا، گاڑی قبضہ میں لے لی گئی،ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے میرٹ پر تفتیش کی جا رہی ہے،مقدمہ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے،ایف آئی آر میں مدعی نے سیاسی جماعت کے کسی رہنما کو نامزد نہیں کیا،

    بدھ کے روز فیروز پور روڈ پر خواجہ سعد رفیق کے بھائی خواجہ سلمان رفیق (مسلم لیگ ن) کے گارڈز نے ایک حاضر سروس فوجی افسر کو لوہے کی سلاخوں سے بے دردی سے پیٹا ہے جس کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی جس کی ن لیگی رہنما خواجہ سلمان رفیق تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں گارڈز کے بغیر سفرکرتاہوں یہ افوسناک واقعہ لاہور کے فیروز پور روڈ پر پیش آیا ہے-

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ن لیگ کے رہنما خواجہ سلمان رفیق نے اپنے گارڈز کے ساتھ مل کر حساس ادارے کے افسر کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے تاہم سیکورٹی اداروں نے لاہور پولیس کے ساتھ مل کر تمام وسائل کو برائے کار لاتے ہوئے اس واقعے میں ملوث ملزمان کو تین گھنٹے کے اندر گرفتار کر لیا تھا اور ملزمان کے خلاف ناقابل ضمانت جرم کی ایف آئی آر درج کر لی گئی۔

    حکام نے یقین دہانی کرائی کہ سفاکانہ واقعے میں ملوث کسی کو بھی مجرم کے ساتھ کوئی راعایت نہیں برتی جائے گی اور ایسے واقعات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق خواجہ سلمان رفیق جو مسلم لیگ (ن) کے معروف پارلیمنٹرین خواجہ سعد رفیق کے بھائی ہیں،انہوں نے اپنے گارڈز کی مدد سے میجر حارث پر حملہ کیا میجر حارث کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کا بازو ٹوٹ گیا خواجہ سلمان رفیق کے گارڈز کی جانب سے میجر کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

    میجر حارث، پاکستان کے قابل آرمی آفیسر ہیں انہوں نے پاکستان کی خدمت کی اور سیاچن کی بلندیوں پر قوم کا دفاع کیا۔

    حملے کے پیچھے کی وجوہات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔ تاہم، پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے، اور میجر حارث پر حملہ کرنے والے خواجہ سلمان رفیق اور ان کے محافظوں کے خلاف انکوائری شروع کر دی ہے۔تاہم اب اس معاملے پر ن لیگی رہنما خودمیدان میں آ گئے ہیں او رتردید کرتے ہوئے کہاہے کہ میں گارڈز کے بغیر سفر کرتا ہوں ۔یہ افوسناک واقعہ لاہور کے فیروز پور روڈ پر پیش آیاہے ۔

    خواجہ سلمان رفیق نے سوشل میڈیا پر حاضر سروس فوجی افسر پر تشدد کرنے کا سنگین الزام لگائے جانے پر سختی سے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ”سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی ٹرولزکی جانب سے اور ان کے حامی چینل پر ایک حساس ادارے کے افسر پر میری موجودگی میں میرے گارڈز کے ہاتھوں تشددکے حوالے سے پھیلایا جانیوالا مواد بے بنیاد جھوٹ ہے، میں گارڈز کے بغیر سفر کرتاہوں ، میرا یسے کسی واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے -انہوں نے مزید کہا کہ ہم عدم تشددپر یقین رکھتے ہیں – تشدد کی ہر کاروائی قابل مذمت ہے-تاہم ابھی تک حکومت کی جانب سے اس معاملے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے ۔

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    کزن کے ساتھ بدفعلی،حالت غیر ہونے پر چار سالہ بچے کو گٹر میں پھینک دیا

    میاں بیوی اور ان کی کمسن بچی کے اندھے قتل میں ملوث سفاک باپ گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

  • امریکی خط کی رام کہانی ، ازقلم: غنی محمود قصوری

    امریکی خط کی رام کہانی ، ازقلم: غنی محمود قصوری

    امریکی خط کی رام کہانی

    موجودہ حالات میں آپ کسی یوتھیئے سے پوچھیں کہ بھئی یہ حظ والی کہانی کیا ہے؟

    تو وہ جواب دے گا کہ حظ امریکی گورنمنٹ نے خود لکھا ہے ہمارے وزیر اعظم کو اور دھمکی دی تھی ان کو

    دوبارہ پوچھیں بھائی حظ کے اندر لکھا کیا تھا اور حظ کیا امریکی گورنمنٹ نے پوسٹ کیا تھا وزیراعظم کے نام پر؟

    تو جواب تو جواب ہو گا ہاں تو اور کیا آپ کو نہیں پتہ فلاں فلاں مگر اس سے آگے اگر کچھ بتائیں ہمیں بتائیے گا ضروران بےچارے اندھے سیاسی مقلدین کو جو انکا لیڈر بول دے وہ ان سیاسی مقلدین (یوتھیئے . پٹواری. جیالے وغیرہ ) کے لئے وہ بات معاذاللہ قرآنی حکم اور حدیث کا درجہ رکھتی ہے یہ تحقیق کرنے کے عادی ہی نہیں اور پھر یہ سیاسی جماعتوں کے مقلدین اندھا دھند اپنی نفرت کا رخ افواج پاکستان کی جانب کرتے ہیں-

    اور یہ طریقہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کا ہے بشمول پی ٹی آئی کے، اصل میں یہ چاہتے ہیں کہ افواج پاکستان انکے لیڈروں کے سامنے پنجاب پولیس کی طرح بن کر رہے یعنی ان کے گھروں کی لونڈی، ان کی ہر ہاں میں ہاں ملائی جائے تو مامے خان 27 فروری کو بھجوانا تھا نا اپنے کسی سورمے لیڈر کو تو خیر یہ تو ہونے والا نہیں کبھی قیامت تک بھی ان شاء اللہ کیونکہ اگر ایسا ہو جائے تو ملکی سلامتی کا حال وہی ہوگا جو ہمارے ملک میں پولیس کی کارکردگی کے باعث لاء اینڈ آرڈر کا ہے اور نتیجتاً ہمارے خون کے پیاسے بھارتی ہندو کل ہی چڑھ دوڑیں گے پاکستان پر-

    خیر اصل بات کی طرف آتا ہوں یہ حظ کیا تھا اور خان صاحب نے اس کو کیسے سیاسی انتشار پھیلانے کے لئے استعمال کیا ہے یہ خظ منٹ آف میٹنگ تھا جو امریکہ کے پاکستانی سفیر کے ساتھ امریکی آفیشل نے باتیں کی تھیں اور ان باتوں کا راوی ہمارا پاکستانی سفیر ہے جو امریکہ میں ہوتا ہے پاکستان کی گورنمنٹ کی طرف سے اور یہ خظ امریکی آفیشل کی جانب سے نہیں لکھا گیا تھا بلکہ یہ سفیر نے مراسلہ لکھا کہ یہ یہ میٹنگ میں باتیں ہوئی ہیں-

    جب روس یوکرائن پر حملہ کرنے جا رہا تھا تو امریکہ اور اسکے تمام اتحادی یعنی نیٹو وغیرہ غصے میں تھے جبکہ ترکی کو بھی یہ حملہ قبول نہیں تھا کیونکہ وہ بھی نیٹو میں شامل ملک ہے اسی دوران خان صاحب کا دورہ روس ہونا تھا جو کہ پہلے سے طے شدہ تھا مگر پاکستانی سیکورٹی آفیشلز نے انہیں روکا کہ ابھی دورہ نا کریں کیوں کہ روس کی جانب سے یوکرائن پر حملے کی تیاریاں مکمل ہیں اور اگر ایسا ہوا تو یورپ اور امریکہ سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں-

    چونکہ ہماری تجارتی و معاشی منڈی ابھی تک یورپ اور امریکہ ہی ہیں ناکہ روس ہے اس لئے دورہ نا کیا جائےمگر ہمارا ہیرو خان نیازی کہاں سنتا ہے عسکری قیادت کو کہتا ہے کہ دورہ طے شدہ ہے اور انکل نیازی نکل پڑا تو اسی روز روس نے یوکرائن پر حملہ بھی کر دیا

    ہمارے یوتھیئے تصاویر شیئر کر کے خوش ہوتے رہے کہ دیکھا کپتان نے کیسے جنگ لگوائی فلاں فلاں او بھئی دو کافر ملکوں کی جنگ ایک تمہارا پرانا دشمن اور حالیہ ایک سے امداد لے کر اپنے ہی بندے اندر کر رہے ہو اور ساتھ قرض بھی لیتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم اس کے غلام نہیں او غلام نہیں تو اپنی ہی مذہبی جماعت کی دلالی تاحال کھانے والوں کرو رہا فوری اپنے جہادی ہے ہمت ایسا کرنے کی ؟-

    اگر فوج دفاعی نقطہ نظر سے قوم کا بھلا کرے تو غلط اکڑوں خان گردن میں سریا رکھے تو درست چاہے نئی دشمنی پڑ جائے اسے کیا اس نے تو پارلیمنٹ ہاؤس کی نکر یا پھر برطانیہ میں نکل جانا ہے دہشت گردی کی آگ میں جلنا بیچاری غریب عوام نے ہےخیر اسی مدعہ پر آتا ہوں-

    اسی دورہ روس کی خبر امریکی گورنمنٹ کو بھی تھی تو انہوں پہلے ہی ہمارے سفیر کو بلا کر سخت الفاظ میں کہا کہ اگر آپکا وزیر اعظم روس کا دورہ اس جنگی ماحول کے دوران کرتا ہے تو یہ ہمیں قبول نہیں ہوگا اور اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں اور آپ کے ملک کے لئے یہ نتائج اچھے نہیں ہوں گے (یعنی دفاعی، معاشی اور دیگر پابندی وغیرہ وغیرہ جو امریکہ کرتا ہے ہر اپنے حریف کے ساتھ )-

    یہ ایک طویل میٹنگ تھی پاکستانی سفیر کے ساتھ ظاہری بات ہے امریکہ اور روس دونوں ممالک ایک دوسرے کے سخت حریف ہیں اور کئی دہائیوں سے ان کے درمیان کولڈ وار چل رہی ہے اور پاکستان کا اتحادی امریکہ ہے آج بھی دفاعی اور معاشی امور پر نا کہ روس تو ایسے میں ابھی پاکستان کے کوئی ایسے معاملات ہوئے ہی نہیں کہ روس سے دفاعی و معاشی تو پھر ہمیں اس جنگ کا حصہ بننے کا فائدہ
    جبکہ جنگ بھی دو کافر ملکوں کے مابین ہے-

    روس تو آج بھی بھارت کی حمایت کرتا ہے دفاعی کھلے عام اور بھارت دنیا میں ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اور کشمیر پر قابض بھی ہے
    سوچنے کی بات ہے بھئی کہ جب کسی ملک سے ایسے معاملات ہوں جیسے آپ کے امریکہ کے ساتھ ہیں تو ایسی صورت حال میں ہمیشہ ہر ملک اپنے ملک میں موجود سفیر کو طلب کرتا ہے اور سخت بات ہی کرتا ہے کہ جناب اگر آپ کی حکومت نے ایسا کیا تو یہ ہو جائے گا ہم فلاں فلاں کر دیں گے-

    حتی کہ ایسے ہی ہمارے ملک میں بھی بہت بار دوسرے ممالک کے سفیروں کی طلبی کی جاتی رہی ہے اور سیکورٹی امور پر سخت الفاظ کہے جاتے رہے ہیں سفیر اور پھر وہ سفیر ان سب باتوں کو اپنی حکومت کو مراسلات میں لکھ کر سینڈ کر دیا کرتے ہیں یہاں اس خط میں بھی وہی معاملہ ہوا ہے-

    مراسلہ منجانب پاکستانی سفیر وزیراعظم کو منٹس آف میٹنگ لکھ کر سینڈ کر دئیے گئے اور اسی دوران بلکہ اس سارے معاملے سے قبل آپوزیشن نے پی ٹی آئی کے لوگ خریدنے شروع کر دئیے تھے تحریک عدم اعتماد کے لئے اب حظ جب آیا تو اسی وقت خان صاحب نے شور کیوں نہیں مچایا بلکہ جب دیکھا کہ تحریک کامیاب ہونے جا رہی اور کافی یار فروخت ہوچکے ہیں سیاسی منڈی میں تو پھر اچانک خان نے یہ چال چل دی کہ یہ سب امریکہ کروا رہا ہے-

    خان صیب نے اپنے ہی سفیر کا لکھا مراسلہ اٹھا اٹھا کہنا شروع کر دیا کہ مجھے امریکہ سے ایک دھمکی والا حظ آیا ہے اور اپوزیشن کو انہوں نے میرے پیچھے لگایا ہے وغیرہ بھئی نیازی خان جمہوری رویہ اختیار کرو تم نے بھی تو کئی سال آپوزیشن بن کر اس وقت کی حکومت کو نتھ ڈالی رکھی تھی اور چینی حکومت کے دورے کے وقت بھی تم باز نہیں آئے تھے دھرنا اسلام آباد میں جو کہ پارلیمنٹ کے سامنے کیا تھا تم نے یاد ہے کہ نہیں؟ وہ جلاؤ گھیراؤ،وہ پی ٹی وی پر حملہ تو کیا اس وقت تم نے بھی بھارت سے پیسے لے رکھے تھے پاکستان کو مشکلات میں مبتلا کرنے کے لئے؟-

    اب جب وزیراعظم نے شور مچانا شروع کر دیا کہ جناب مجھے امریکہ سے دھمکی آئی ہے ثبوت میرے پاس ہے تو اسی وقت پاکستان کی نیشنل سکیورٹی کونسل نے وزیراعظم سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کیا دھمکی ہے جو ہمیں بھی نہیں پتہ چلی اور بڑی خاموشی سے امریکہ نے آپ کو دی ہے (ورنہ امریکہ تو جب کسی ملک کو دھمکی دیتا ہے بڑی کھل کر دیتا ہے چاہئے دھمکی پر عمل کرے یا نا کرئے مگر ہوائی فائرنگ ضرور کرتا ہے)-

    تو خان صاحب نے وہ سفارتی مراسلہ دیکھایا اب نیشنل سکیورٹی کونسل نے اسے نارمل ہی لیا اور یہ طے ہوا کہ اس کا جواب مراسلہ ہی میں دیا جائے گا نا کہ احتجاجی طور پر کیوں کہ یہ مراسلہ جو آپ کے پاس ہے یہ ایک ملک کو دوسرے ملک کی دھمکی نہیں ہے لحاظا جوابی کارروائی میں جوابی مراسلہ ہی کی صورت میں دیا گیا تھا-

    اور پھر امریکی گورنمنٹ کی آفیشل نے بھی اپنے ویڈیو بیان میں تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاکستان کو کوئی دھمکی نہیں دی اس کہانی میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

    تو بھائی یہ ہے ساری رام کہانی خط والی ،میری گزارش ہے قوم یوتھ سے خاص کر مقلدین مذہبی قوم یوتھ سے کہ اس سے أگے کچھ ہے تو لاؤ ورنہ فوج پر الزام نا لگاؤ-
    شکریہ

    غنی محمود قصوری
    کونسل ممبر ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور
    #قصوریات

  • نوجوان قانون نافذ کرنےوالےاداروں کاحصہ بنیں:آرمی چیف

    نوجوان قانون نافذ کرنےوالےاداروں کاحصہ بنیں:آرمی چیف

    راولپنڈی:نوجوان قانون نافذ کرنے والے اداروں کا حصہ بنیں:اطلاعات کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ بلوچستان کا امن، خوشحالی اولین ترجیح ہے۔ نوجوان قانون نافذ کرنے والے اداروں کا حصہ بنیں۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلوچستان کے علاقے تربت کا دورہ کیا۔ تربت پہنچنے پر کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے استقبال کیا۔

    آرمی چیف کو بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال، بارڈر مینجمنٹ کے اقدامات کو یقینی بنانے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی اسی دوران سپہ سالار نے فوجیوں کے حوصلے، آپریشنل تیاریوں کو سراہا اور دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    بیان کے مطابق آرمی چیف نے تربت یونیورسٹی کا بھی دورہ کیا، ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے تمام طبقات کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی، ملاقات کرنے والوں میں مقامی رہنما، قبائلی عمائدین، طلبہ، وکلا، خواتین سے ملاقات کی۔

     

    https://twitter.com/BaaghiTV/status/1498714332217102344

    اس موقع پر جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان بہت باصلاحیت ہیں، علاقے کی سلامتی، اپنی تعلیم، ہنرمندی کی ترقی کے لیے دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

    آرمی چیف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بلوچستان کا امن، خوشحالی اولین ترجیح ہے، بلوچستان میں سماجی و اقتصادی منصوبوں کے لیے پرامن ماحول فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرینگے۔ صوبے کی عوام نے ترقی، استحکام کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ جامع قومی کوششوں کے ذریعے بلوچستان کی حقیقی صلاحیت کو بروئے کار لایا جائے گا۔

  • گوادر:بارشیں،سیلاب اورسخت سردی ،پاک فضائیہ کا سی 130 طیارہ گوادر پہنچ گیا

    گوادر:بارشیں،سیلاب اورسخت سردی ،پاک فضائیہ کا سی 130 طیارہ گوادر پہنچ گیا

    گوادر:گوادر:بارشیں،سیلاب اورسخت سردی:پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں‌ جاری:پاک فضائیہ کا سی 130 طیارہ گوادر پہنچ گیا،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے معاشی حب گوادر میں شدید بارشوں اور سیلاب کی ابتر صورت حال پر پاکستان آرمی مقامی انتظامیہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی ہے۔

    پسنی میں بارشوں سے نقصان کا تخمینہ لگانے اور ضلعی انتظامیہ کی مدد کیلئے پاکستان آرمی اور پی ڈی ایم اے کی امدادی ٹیموں کا ریسکیو آپریشن جاری ہے، ریسکیو آپریشن کے لئے آرمی ہیلی کاپٹرز کو استعمال کیا جارہا ہے، جس کا مقصد دور دراز علاقوں کے متاثرین میں جلد از جلد بنیادی ضروریات کو فراہم کرنا ہے۔

    اسی تناظر میں پاک فوج نے پسنی ، گوادر کے نشیبی علاقوں میں سیلابی ریلے میں پھنسے افراد کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ٹینٹ ،کھانے پینے کی اشیا فراہم کیں۔

    ادھر بلوچستان کےعلاقےضلع کیچ میں سیلابی بارشیں تباہی مچانے کے بعد تھم گئیں، لیکن معمولات زندگی بحال نہ ہو سکی ،طوفانی بارشوں نے کیچ کے متعد دعلاقوں کو شدید متاثر کیا، متعدد مکانات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ کئی علاقوں میں سیلابی ریلا سڑکوں کو بھی بہا لےگیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے, لیویز اور ایف سی کا بھی ریلیف آپریشن جاری ہے، ڈی سی کیچ نےطوفانی بارشوں کے پیش نظربلنگور کو آفت زدہ قرار دے کر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایمرجنسی نمبر جاری کردئیے ہیں۔

    پاک فضائیہ کا C-130 طیارہ گوادر بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے امدادی سامان لے کرپسنی ائیر پورٹ پہنچ گیا۔ پاک فضا ئیہ، حکومت پاکستان کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن سر انجام دے رہی ہے۔ طیارہ 39,860 پاؤنڈ سے زائد امدادی سامان لے کر روانہ ہوا جن میں خوراک، ٹینٹ اور ادویات شامل ہیں۔

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق حالیہ سیلاب نے گوادر کے نشیبی علاقوں میں بہت تباہی مچائی ہےجس سے دیہات اور انفراسٹرکچر کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ پاک فضائیہ نے ہمیشہ فضائی سرحدوں کے دفاع کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات کے دوران عوام کی امداد کے لیے اپنا کردار بھرپور ادا کیا ہے۔

  • تُرک ڈپٹی چیف آف جنرل سٹاف کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا سے ملاقات

    تُرک ڈپٹی چیف آف جنرل سٹاف کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا سے ملاقات

    راولپنڈی :تُرک ڈپٹی چیف آف جنرل سٹاف کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا سے ملاقات ،اطلاعات کے مطابق ترکی کے ڈپٹی چیف آف جنرل سٹاف جنرل سیلکوک بائراکتاروگلو نے آج جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا سے ملاقات کی۔

    تُرک ڈپٹی چیف آف جنرل سٹاف کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کے درمیان سلامتی اور علاقائی مسائل کے علاوہ افغانستان میں تازہ ترین پیش رفت کے علاوہ دوطرفہ فوجی مصروفیات اور تعاون کی سطح اور دائرہ کار کو بڑھانے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے عزم کا اعادہ کیا۔ کہ ’ہر موسم‘ دوست ہونے کے ناطے پاکستان اور ترکی گہرے اسٹریٹجک تعلقات قائم کرتے رہیں گے۔

    تُرک ڈپٹی چیف آف جنرل سٹاف سے گفتگوکرتےہوئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ڈپٹی چیف آف ترک جنرل سٹاف کا دورہ دونوں مسلح افواج کے درمیان کثیر جہتی طویل المدتی تعاون کا مظہر ہے۔

    معزز مہمان نے خطے میں امن خصوصاً افغان امن عمل میں پاکستان کی مسلح افواج کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا بھی اعتراف کیا۔

  • شہید پاکستان میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کا پچاس واں یوم شہادت:قوم بھرپورجزبے سے منارہی ہے

    شہید پاکستان میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کا پچاس واں یوم شہادت:قوم بھرپورجزبے سے منارہی ہے

    اسلام آباد:شہید پاکستان میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کا پچاس واں یوم شہادت:قوم بھرپورجزبے سے منارہی ہے،اطلاعات کے کے مطابق قوم آج میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کا پچاسواں یوم شہادت منا رہی ہے۔ میجرمحمد اکرم شہید نے اپنی جان وطن عزیز کی خاطر قربان کرتےہوئے اس قوم اور وطن کے دفاع کووہ قوت بخشی جس کا مظہر آج بھی ہورہا ہے

    میجر اکرم شہید نے 1971 کی جنگ میں جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کو ناکوں چنے چبوائے اور وطن پر قربان ہو گئے۔

    میجر محمد اکرم شہید ڈنگہ ضلع گجرات میں 4 اپریل 1938 کو پیدا ہوئے۔میجر اکرم شہید اپنے ننھیال ڈنگہ میں پیدا ہوئے لیکن ان کا موضع نکہ کلاں،جہلم سے تعلق تھا جو جہلم میں واقع ہے۔ان کی یادگار بھی جہلم میں شاندار چوک کے ساتھ جہلم میں بنائی گئی ہے جب کہ تاریخ جہلم اور شہدائے جہلم از انجم سلطان شہباز میں ان کے مکمل سوانح موجود ہیں۔ نیز پروفیسر سعید راشد نے ان کے حوالے سے ایک کتاب شہید ہلی لکھی تھی۔

    میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کا 50 واں یوم شہادت، 1971 کی جنگ میں جرات اور بہادری کی عظیم داستان رقم کی جس پر قوم کو آج بھی ناز ہے۔ جنگ کے دوران میجر اکرم شہید نے مشرقی پاکستان کے محاذ پر کمال شجاعت کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے فضائی، آرٹلری اور آرمڈ کے بڑے حملوں کو ناکام بنایا۔ میجر اکرم جوانوں کے ہمراہ اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کا 15 روز تک بہادری سے مقابلہ کرتے رہے۔ اس دوران پاک فوج کی اہم سپلائی لائن پر دشمن کے حملے ناکام بناتے ہوئے میجر اکرم پانچ دسمبر 1971ء کو جام شہادت نوش کر گئے۔

    بہادری اور جرات کی نئی داستان رقم کرنے پر میجر اکرم شہید کو پاک فوج کے اعلی ترین اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔ میجر اکرم شہید نے ملٹری کالج جہلم سے فارغ التحصیل ہو کر مارچ 1961ء میں 28ویں پی ایم اے لانگ کورس میں شمولیت اختیار کی اور اکتوبر 1963ء کو پاس آئوٹ ہو کر فرنٹیئر فورس ریجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔

    انہیں اپنے کورس میں بہترین نشانہ باز کا اعزاز بھی ملا، میجر محمد اکرم 13 اکتوبر 1963ء کو انفینٹری بٹالین کا حصہ بنے، اپنے بہترین ریکارڈ پر انہیں ستمبر 1970ء میں ملٹری انٹیلی جنس کورس کی تکمیل پر میجر کے عہدے پر ترقی ملی۔

  • شمالی وزیرستان: دہشتگردوں کا چیک پوسٹ پر حملہ، 2 جوان شہید

    شمالی وزیرستان: دہشتگردوں کا چیک پوسٹ پر حملہ، 2 جوان شہید

    میرانشاہ:شمالی وزیرستان: دہشتگردوں کا چیک پوسٹ پر حملہ، 2 جوان شہید ،اطلاعات کے مطابق شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے حملے کے بعد 2 جوان شہید ہو گئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں دہشتگردوں نے چیک پوسٹ پر حملہ کیا، اس دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا،

    ذرائع کے مطابق فائرنگ کے شدید تبادلے میں دو سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے۔ شہید ہونے والوں میں نائیک رحمان اور لانس نائیک عارف شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔