Baaghi TV

Tag: پاک آرمی

  • ہمیں 65 کی زبان بھی آتی ہے : علی چاند

    ہمیں 65 کی زبان بھی آتی ہے : علی چاند

    پاکستان 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا تھا ۔ پاکستان بنانے کا مقصد ایک الگ اسلامی معاشرے کی تشکیل تھا جہاں مسلمان اسلامی قوانین پر آزادی کےساتھ عمل کر سکیں ۔ لیکن بھارت کو کبھی بھی یہ بات گوارا نہیں ہوٸی کہ مسلمان پر امن طریقےسے زندگی گزاریں ۔ بھارت نے پاکستان کو ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کی الگ پہچان ختم کرنے کے لیے 6 ستمبر 1965 کو پاکستان پر حملہ کر دیا ۔ پاکستانی افواج نے اپنی غیور اور بہادر عوام کے ساتھ مل کر دشمن کے ناپاک عزاٸم کو خاک میں ملا دیا اور اپنے دشمن کو ایسی ذلت سے دوچار کیا جس کا داغ اگر دشمن دھونا بھی چاہے تو بھی صدیوں میں بھی نا دھو پاٸے گا ۔ پاکستان میں یہ دن یعنی 6 ستمبر کا دن یوم دفاع پاکستان کہلاتا ہے اور تمام پاکستانی ہر سال یوم دفاع پاکستان پورے جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں اور اس دن بھارت کو دوبارہ باور کرواتے ہیں کہ اگر تم نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم تمہارا وہی حال کریں گے جو 1965 کی جنگ میں کیا تھا ۔ پاکستانی افواج اور عوام نے 6 ستمبر 1965 کی جنگ میں ثابت کردیا کہ ہم بدر و حنین والوں کے وارث ہیں جو نہ تو ڈرتے ہیں نہ بزدلی دیکھاتے اور نہ ہی اپنے کسی دشمن سے خوف زدہ ہوتے ہیں ۔ اس جنگ میں بھی پاکستانیوں نے مسلمانوں کی تاریخ دہراتے ہوٸے دشمن کا تکبر خاک میں ملا دیا اور اپنے سے کٸی گنا بڑے دشمن کو سر اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا ۔

    اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم دشمن ہر واضع کر دیں کہ ہم اپنے دشمن کا نام و نشان مٹانا جانتے ہیں ، اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں اور اپنے وطن کی طرف میلی نگاہ ڈالنے والے کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔ یوم دفاع پاکستان پاکستان کی غیور ، بہادر اور پر عزم افواج اور عوام کا دن ہے جس دن سب پاکستانی چاہے ان کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے وطن پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے اور پاکستان کی حفاظت میں سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے ۔ یوم دفاع پاکستان شجاعت و بہادری کا دن ہے وہ دن جس دن پاکستانی افواج نے اپنی عوام سے مل کر اپنے سے کٸی گنا دشمن کا غرور و تکبر نیست و نابود کر دیا ۔ یوم دفاع پاکستان وہ دن ہے جس دن کی ذلت کا داغ دشمن کبھی نہیں دھو سکتا ۔ یہ دن ناقابل تسخیر جذبوں کا دن ہے ، یہ دن ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کرنے کا دن ہے ، یہ دن ہماری آن ، بان ، شان اور وطن سے محبت کے ثبوت کا دن ہے ۔ یہ میرے شہیدوں غازیوں ان کے گھر والوں کے زندہ و جاوید جذبوں اور بہادری و جرات کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ مسلمان ماٸیں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو میدان جنگ میں بھیجتے ہوٸے ذرا بھی خوف نہیں کھاتیں ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ ایک بہن اپنے بھاٸی کو وطن کی محبت میں کیسے وطن پر لٹا دیتی ہے ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ ایک باپ اپنا جوان خون اور ایک بھاٸی اپنا بازو ( بھاٸی ) کیسے وطن پر قربان کرتا ہے ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ یہاں لڑکیاں جوانی میں بیوہ تو ہوسکتی ہیں لیکن کبھی شوہر کو جہاد سے غافل نہیں ہونے دیتی ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ یہاں بچے یتیم تو ہو سکتے ہیں لیکن اپنے پیارے وطن پاکستان پر کوٸی آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ اس دن نے ثابت کیا کہ یہاں ماتم کر کے اپنے بچوں کے لاشے وصول نہیں ہوتے بلکہ ایک جوان کی شہادت باپ اور بھاٸی کا سینہ فخرسے اور بھی چوڑا کر دیتی ہے ۔ اس دن نے ثابت کیاکہ یہاں ایک جوان کی شہادت بوڑھی ماں کو جوانی کی طاقت ، اور یتیموں کو وقت سے پہلے جوان کر دیتی ہے ۔ اس دن نے ثابت کیا کہ یہاں ایک گھر میں اگر ایک جوان شہیدہو کر آٸے تو اس پر ایسا فخر ہوتا ہے کہ اسی گھر سے دو تین مرد اور رتبہ شہادت پانے کو نکلیں گے ۔ پاکستانی افواج اور عوام نے اس دن دنیا کو ثابت کر دیکھایا کہ ہاں ہم زندہ قوم ہیں ، پاٸیندہ قوم ہیں ۔

    اس دن پاکستانیوں نے ثابت کر دیا کہ دنیا کی کوٸی طاقت ہمیں ہرا نہیں سکتی ، دنیا کی کوٸی طاقت ہمیں بزدل نہیں بنا سکتی ۔

    پاکستان نے اس سال اپنایوم دفاع پاکستان اپنی شہہ رگ کشمیر کے ساتھ یوم یکجہتی کے طور پر منانے کا علان کیا ہے ۔ بھارت جب پاکستان سے منہ کی کھاتا ہے تو وہ پاکستان کا غصہ مجبور اور بے بس کشمیریوں پر نکالتا ہے ۔ نہ صرف کشمیریوں بلکہ انڈیا میں بسنے والی اقلیتوں کا بھی جینا حرام کر دیا جاتا ہے ۔ اب بھی ایک ماہ ہونے کو ہے بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگایا ہوا ہے کشمیری عوام کو بنیادی انسانی حقوق تک میسر نہیں ۔ ادویات اور غذا کی انتہاٸی شدید قلت ہے ۔ عالمی میڈیا چیخ چیخ کر مودی کی ظلم و بربریت دنیا والوں کو دیکھا رہا ہے کہ کیسے بھارتی افواج کشمیری جوانوں ، بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں ۔ پاکستان نے یوم دفاع پاکستان کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منانے کا اعلان اس وجہ سے کیا ہے تاکہ دنیا بھر کی نظریں کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کی طرف دلاٸی جاسکے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت پر یہ بھی واضح کیا جاٸے گا کہ ہم نے جس طرح تمہارا غرور 1965 میں خاک میں ملایا تھا اب بھی ہم تم سے اپنہ شہہ رگ چھڑوا کر تمہیں خاک میں ملاٸیں گے ۔ ابھی ہم پر امن اس لیے ہیں تاکہ یہ مسلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق پر امن طریقے سے حل ہوجاٸے لیکن اگر بھارت نے ہماری امن کی زبان نہ سمجھی تو پھر اسے اسی زبان میں سمجھاٸیں گے جو ہم ان 1965 کی جنگ میں استعمال کی تھی ۔

    اللہ پاک میرے وطن کے تمام شہیدوں اور ان کے گھر والوں کے درجات بلند فرماٸے ۔ ہمیں وطن پر مر مٹنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ ہمارے پیارے پاکستان کو شاد و آباد رکھے اور ہمیں ملی غیرت عطا فرماٸے ۔ کشمیر کو آزاد فضاٸیں نصیب فرماٸے ۔ آمین

  • پی ٹی ایم، ٹیپو سلطان اور میرا پاکستان ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    پی ٹی ایم، ٹیپو سلطان اور میرا پاکستان ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    میسور کی سلطنت انگریزوں سے محو جنگ ہے۔ سلطان ٹیپو سرنگا پٹم میں موجود ہیں۔ بارشوں کا موسم شروع ہونے والا ہے۔انگریز فوج سرنگا پٹم کے راستے میں آنے والے دریا کے دوسرے پار موجود ہے.

    سلطان ٹیپو اپنے محل میں موجود ہیں اور سرنگا پٹم یا یوں کہیے ہند کے مسلمانوں کے اوپر منڈلاتے خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ سلطان معظم کا ہر سپاہی ایمان کے جذبے سے سرشار ہے۔ سلطان کے سامنے صرف ایک قوت ہی نہیں ہے بلکہ ان کا سامنا دو قوتوں سے ہے۔ ایک قوت وہ جو مغرب سے مشرق میں لوٹ مار کرنے کے لیے آئی ہے اور دوسری وہ جو صرف اپنے مفاد کو مدنظر رکھ رہی ہے۔ جو ہندوستان کے مسلمانوں کے مستقبل کو تو پہلے ہی بیچ چکی تھی اب اہنے دین و ایمان کو بیچ رہی ہے۔ وقت کی اس سے بڑی ستم ظریفی کیا ہوگی کہ یہ قوت بھی مسلمانوں کی قوت ہے۔

    ذرا تصور کیجیے کہ چشم ِفلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے خلاف لڑ رہا ہو اور جس کی خوشنودی کیلیے لڑ رہا ہے وہ کافر ہے…. !
    سلطان معظم بذات خود ایک نڈر حکمران تھے۔ وہ صرف ایک ذات سے ڈرتے تھے…. اللہ کی ذات سے۔ انہوں نے انگریزوں کے ساتھ فیصلہ کن جنگ کے لیے تیاریاں شروع کیں۔ سلطان معظم کی ریاست کے سپاہی بھی ہمت، غیرت اور جرات کی اعلیٰ مثال تھے۔ سلطان ٹیپو کے سپاہیوں میں محمد بن قاسم کے لشکر کی جھلک دکھائی دیتی تھی۔ یہ وہ سپاہی تھے جو کئی محاذوں پر کفر کو شکست دے چکے تھے۔ یہ اپنے لیے شہادت اور اسلام کے لیے فتح سے بڑھ کر کوئی خواہش نہیں رکھتے تھے. لیکن اس بار محمد بن قاسم کا یہ لشکر جنگ میں تنہا نہیں بلکہ سرنگا پٹم کے عوام بھی اپنے جان و مال ہتھیلی پر رکھ کر ان کے ساتھ اور انگریزوں کے خلاف لڑ رہے تھے۔

    انگریز یہ امر بخوبی جانتے تھے کہ سلطان معظم کو شکست دینا آسان نہیں۔ چنانچہ انہوں نے سرنگا پٹم میں ملت فروشوں کو تلاشنا شروع کیا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوگئے۔ میر معین الدین، میر قمر الدین میر صادق اور پورنیا کی صورت انہیں ابن الوقت مل چکے تھے۔

    انہوں نے چال ایسی چلی کہ سلطان معظم کے شیر دل کمانڈر غازی خان کو شہید کروا دیا۔ اب سلطان کے پاس ایک ہی محبِ وطن اور وفادار سالار رہ گیا جس کا نام سید غفار تھا۔

    ۴ مئی کے طلوع آفتاب کے ساتھ سرنگا پٹم کی عزت کا آخری سورج طلوع ہوا۔ غداروں کی غداری کی وجہ سے سرنگا پٹم کی حفاظتی دیوار کے ایک حصے کی طرف انگریزوں نے پیش قدمی شروع کی۔ سید غفار بھی اسی حصے پر انگریزوں کی توپ کے گولے کی زد میں آ کر شہید ہو گئے تھے۔ اب فیصلہ کن جنگ یک طرفہ تھی۔

    چشم فلک نے ایک اور منظر دیکھا جب ایک حکمران اپنے سپاہیوں کے ساتھ لڑ رہا تھا ۔سلطان ٹیپو میدان جنگ میں موجود تھے۔ انہیں ایک گولی لگی مگر وہ لڑتے رہے۔ انہیں دوسری گولی لگی مگر وہ پھر بھی لڑتے رہے جبکہ تیسری مرتبہ جب ان کی کنپٹی پر انگریز نے گولی ماری تو وہ شہادت پا گئے اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کی آذادی کا سورج غروب ہوا۔

    یہ وہ مناظر ہیں جو میں کل کی طرف دیکھوں تو میری آنکھیں مجھے چشم تصور میں دکھلاتی ہیں۔ میں آج کی طرف دیکھوں تو میری آنکھیں مجھے میسور جیسی ایک اور ریاست دکھاتی ہیں…. جسے دنیا پاکستان کہتی ہے۔ جس طرح میسور کی ریاست کفر کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح چھبتی تھی اسی طرح یہ ریاست انہیں کھٹکتی ہے۔ جس طرح میسور کی ریاست کے لوگ تھے اسی طرح اس ریاست میں محب وطن لوگ ہیں۔ جس طرح میسور کی ریاست ہندوستان کے مسلمانوں کی محافظ تھی اسی طرح یہ ریاست پورے عالم اسلام کی محافظ ہے۔ جس طرح میسور کی ریاست کے سپاہی ایمان کی قوت سے مالا مال تھے اسی طرح اس ریاست کے سپاہیوں کے دل بھی ایمان کے نور سے فروزاں ہیں۔
    لیکن کتنے دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جس طرح میسور کی ریاست کے اندر غدار تھے اسی طرح اس ریاست کے اندر بھی غدار پائے جاتے ہیں۔

    26 مئی 2019 کو ہونے والا واقع اس ریاست کے باسیوں کیلیے ایک سبق ہے۔ پی-ٹی-ایم کے ممبر قومی اسمبلی کا اپنے ساتھیوں کے ساتھ پاک فوج کی چوکی پر حملہ ان کی غداری کا منہ بولتا ثبوت ہے.

    یہ اللّٰہ کا اس ریاست کے باسیوں پر احسان ہے کہ اس نے ان پر غدار ظاہر کر دیے۔ ورنہ یہ ریاست اب بھی حالت جنگ میں ہے۔ ریاستی ادارے دہشت گردی اور کرپٹ مافیا کے خلاف محو جنگ ہیں۔ ایسے میں غدار اس ریاست کے لیے سنگین خطرہ ہوسکتے ہیں ۔ افواج پاکستان پر پی ٹی ایم کا یہ پہلا حملہ نہیں، البتہ پی-ٹی-ایم کے رہنماؤں کا از خود فعلی حملہ ہے۔میں ان سب کو میر صادق،میر معین الدین، میر قمر الدین اور پورنیا سے تشبیہ دینا غلط خیال نہیں کرتا۔

    اے اہل پاکستان!

    اپنے وطن کے غداروں کو پہچان! اس سے پہلے کہ یہ اپنی جڑیں مضبوط کرلیں۔ ان غداروں کو عبرتناک سزائیں دو تاکہ آئندہ کوئی تمہارے ساتھ غداری کا سوچ نہ سکے۔ یہ وقت سب پشتونوں، پنجابیوں، سندھیوں اور بلوچیوں کے اکٹھا ہونے کا ہے۔ اپنے منہج اور اقبال کے وژن پر واپس آجاؤ۔ پی-ٹی-ایم کو اس ارض پاک سے مٹا دو۔ ان کو آن کے انجام تک پہنچاؤ۔
    اللہ پاکستان کا حامی و ناصر۔
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد۔

  • کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    کیا اس لیے چنوائے تھے تقدیر نے تنکے
    کہ بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے
    یہ وطن عزیز پاکستان جو لاکھوں شہداء کے لہو کی قربانی سے قائم ہوا تھا کہ جس کے لیے تاریخ کی بڑی ہجرتوں میں سے ایک ہجرت ہوئی وہ کسی قومیت اور ذات برادری کے لیے نہیں تھی، صوبائیت اور لسانیت کے لیے نہیں تھی. برصغیر پاک و ہند کے مسلمان کسی نعرے، نظریے یا مفاد کے لیے بلکہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی آزادی کے لیے جمع ہوئے تھے.تحریک پاکستان کے ہراول دستے کے سالار اور مسلم لیگ پاک و ہند میں محمد علی جناح کے رفقائے کار بھی بنگالی، پنجابی، بلوچی، سندھی، پختون یا کسی مسلک کی نمائندگی کرنے کے لیے جمع نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی کسی نے لسانیت اور قومیت کے حقوق مانگے تھے. کسی کو سندھ، پنجاب،بنگال، بلوچ یا پختون بیلٹ میں مسئلہ نہیں تھا. درحقیقت ہندوستان میں مسئلہ اسلام اور مسلمانوں کو تھا ہندو جو کہ اس برصغیر میں ایک ہزار سال تک محکوم رہے تھے اب وہ اسلام کو کچلنے اور اشوکا کے دور کے ہندوستان کو دوبارہ سے قائم کرنے کے پلان ہندو تواء پر عمل پیراء تھے جس کو سرسید احمد خان، جوہر برادران، محمد علی جناح رحمة اللہ علیہ اور علامہ محمد اقبال رحمة اللہ علیہ و دیگر نے بروقت بھانپ لیا اور قوم کو بیداری کا پیغام دینا شروع کردیا اور تحریک پاکستان شروع ہوئی اور لاکھوں قربانیوں اور ہجرتوں کی دلدوز داستانوں کے بعد نظریہ اسلام لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر پاکستان جیسی مملکت خداداد کا قیام عمل میں آیا.
    قیام پاکستان کے بعد جب اس نظریہ اسلام کی جگہ ہمارے اندر قومیت اور لسانیت در آئی تو پھر علاقائی حقوق اور محرومیوں کے نعرے سننے کو ملنے لگے جو بنگلہ دیش کی علیحدگی پر منتج ہوئے جس میں واضح طور پر مجرمانہ کردار انہی کا تھا جن کی اولادیں آج بھی پاکستانیت پر لسانیت اور علاقایت کو فوقیت دے رہی ہیں.
    یہ ساری باتیں دہرانے کا مقصد و منشاء یہ ہے کہ پاکستان نے اپنے قیام سے اپنی بقاء اور استحکام کے سفر میں بھی لاتعداد قربانیاں دی ہیں ستر ہزار لاشے اس ملک کے طول و عرض میں اٹھائے گئے ہیں جن میں سول، سیکیورٹی پرسنز، اقلیتیں وغیرہ سبھی شامل ہیں.
    ان قربانیوں اور سیکیورٹی فورسز کے مشکل ترین آپریشنز کے بعد ہم اس قابل ہوئے تھے کہ ملک میں امن و استحکام کو دیکھیں مگر عالمی قوتوں کے پروردہ اور ان کے اس خطے میں مفادات کے نگران لوگوں کو پاکستان کا یہ امن و استحکام گوارہ نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت ان کا اس ملک کے نازک ترین مسائل لسانیت، علاقائیت، قومیت اور مسلکیت کی آگ جلاکر اس میں اس ملک میں قائم ہوتے امن کو راکھ کرنا مقصود ہے. اس کے لیے بدقسمتی سے جس علاقے اور بیلٹ کو چنا گیا ہے وہ ماضی میں دہشت گردوں نے بھی اسی علاقے کو اپنی آماجگاہ کے طور پر چنا اور ان علاقوں اور ان کے وسائل پر قابض ہوکر بیٹھ گئے جس کی وجہ سے یہاں کے محب وطن شہریوں کو اپنے ملک کے اندر ہی ہجرتوں پر مجبور ہونا پڑا. سیکیورٹی فورسز نے اپنی ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر ان علاقوں کو دہشت گردوں سے واگزار کرا کر یہاں کے شہریوں کو واپس لا بسایا. اب انہی دہشت گردوں کے بھائی بندوں نے لسانیت اور قومیت کی آگ میں جلانے کے لیے اسی علاقے اور انہی لوگوں کو چنا ہے. ابتداء میں پختون بیلٹ کے مسائل اور حقوق کی بات کی گئی جب ان کے مسائل ریاست کی طرف سے حل کیے جانے کی بات ہوئی تو بجائے مذاکرات اور بات چیت کی بجائے اپنے بڑوں (TTP) کی طرح تشدد کا رستہ اختیار کیا اور ہتھیاروں سے لیس ہوکر اپنے ہی ملک کی سیکیورٹی فورسز پر حملہ کردیا.
    پختون بیلٹ کو اپنی لچھے دار باتوں اور جھوٹے اور دلفریب نعروں سے الجھانے کی کوشش کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کو خانہ جنگی کیں مبتلا کرکے عالمی قوتوں کے مفادات کو تحفظ دینے کی بھرپور کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور اب تشدد کا رستہ اختیار کرکے پی ٹی ایم نے واضح طور پر اپنے مستقبل کے اقدام کو واضح کردیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں.
    یہاں پر میں انتہائی افسوس ناک کردار ادا کیا ہمارے وطن کی نام نہاد سیاسی جماعتوں نے جنہوں نے کہ جو حکومت وقت کی مخالفت میں ریاست پاکستان کے دشمنوں اور غداری پر آمادہ ان پی ٹی ایم والوں کی حمایت کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور ان حمایتیوں میں سب سے بلند آواز انہی کی ہے جن کے باپ دادا پاکستان کے دو لخت ہونے میں واضح ترین موجب تھے.
    اب وقت آن پہنچا ہے کہ پختون بیلٹ کی غیور اور محب وطن عوام جو اول تا ابد پاکستانی ہیں جنہوں نے قائد اعظم کی پکار پر لبیک کہا تھا اور ان کی پاکستان سے محبت مسلمہ ہے وہ ان نام نہاد پختون تحفظ موومنٹ جو درحقیقت افغان اور امریکی و بھارتی مفادات کی تحفظ موومنٹ ہے اور انہی کی ایما اور شہہ پر یہ پاکستان کی سالمیت کے درپے ہیں ان کو کھلم کھلا مسترد کردیں پورے پاکستان کی عوام نہ صرف ان کا بلکہ ان کی حمایت میں اٹھنے والی ہر آواز کا بائیکاٹ کرے اور ریاست پاکستان واضح ایکشن لے کر پاکستان کی سالمیت کا تحفظ کرے پوری پاکستانی قوم بشمول قبائلی علاقہ جات کہ سبھی ریاست پاکستان اور مقتدر اداروں کی پشت پر کھڑی ہوگی.

  • بس اب اور نہیں!!! بلال شوکت آزاد

    اگر فوج کو گالیاں بکنا, ان کا راستہ روکنا, ان پر مسلح حملہ کرنا, پاکستان کو گالی بکنا, محمد علی جناح و علامہ اقبال پر تبرہ کرنا, پاک فوج کو دہشتگرد کہنا, اسرائیل آرمی زندہ آباد کہنا, پاکستان کے علاقے کو مقبوضہ کہہ کر عامیوں کو گمراہ کرنا اور نو گو ایریا بنانا اور پاکستانی حکومتی ایوانوں میں بیٹھ کر آئین کی دھجیاں ہر ہر منٹ پر اڑانا جرم نہیں بلکہ آزادی اظہار رائے, ناراضی کا اظہار اور حقوق کی جنگ ہے (اور ہماری ریاست برداشت کا مظاہرہ کرنا ترک نہیں کرتی) تو اللہ کی قسم (سب نہیں کہ اصلی نسلی پختون خود ہم سے زیادہ پاکستانی اور محب وطن ہیں) میں یہ کیمپین لانچ کروانے اور اس پر عمل کروانے میں ایک منٹ کی بھی دیر نہیں لگاؤں گا کہ جہاں پشتینی ٹوپی پہنے ہوئے یا یہ نعرہ لگاتے ہوئے کہ "یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے” وغیرہ وغیرہ, ملک کے کسی بھی کونے میں کوئی محب وطن کسی پشتینی (تھرڈ کلاس سے لیکر ہائی کلاس) کو دیکھے تو بغیر حال چال دریافت کیئے اور بغیر وارننگ دیئے ٹھڈوں, مکوں اور تھپڑوں پر رکھ لے اور جب تک وہ پشتینی خود ٹوپی اتار کر اس پر پاؤں نہیں پھیرتا اور تھوکتا نہیں یہ کہہ کر کہ "ہاں میں بھی پاکستانی ہوں اور پاکستان زندہ آباد”, تب تک خواہ پیٹنے والا کوئی بھی محب وطن مہاجر, بلوچ, سندھی, پشتون, کشمیری, بلتی, سرائیکی, مکرانی اور پنجابی ہو وہ سانس نہ لے اور نہ اس کو سانس لینے دے۔

    ان کی ٹووووووں ٹووووووووووں بیپ بیپ اور انکی تحریک بشمول ان کے مبینہ نام نہاد حقوق اور انصاف کے نعروں کے ایسی کی تیسی۔

    اب یہ سیاست, آزادی اظہار رائے اور دو نمبر صحافت کے نام پر پاکستانی عوام, ریاست اور ریاستی اداروں کی اور تذلیل اور تضحیک بلکہ ان پر جانی و مالی حملہ بلکل برداشت نہیں کیا جائے گا اور پھر کوئی ہمیں یہاں بیٹھ کر پاکستانیت اور اخلاقیات کے پاٹھ نہ پڑھائے کہ الحمداللہ ہم خود اس میں خود کفیل ہیں اور بہتر جانتے ہیں کہ کس طرح سے ڈیل کرنا ہے ایسوں کو سوشل میڈیا اور گراؤنڈ پر۔

    واللہ ان الفاظ کو مذاق مت سمجھا جائے کہ اللہ کی قدرت اور مہربانی سے میں اور میرے سبھی ساتھی یہ سکت اور اہلیت رکھتے ہیں کہ پشتینیوں کا جینا دوبھر کردیں پورے ملک میں لیکن چونکہ ہماری تربیت اور مزاج ان نسلی ٹٹوؤں جیسا نہیں اور حب الوطنی کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات ہمارے ایسے اقدامات کے آڑے آتی ہیں بالکل فوج کی طرح لہذا لفاظی کا سہارا لیکر ادھر ہی کاؤنٹر کرنے اور راہ راست پر لانے پر یقین رکھتے ہیں۔

    پر میں واضح کردوں سبھی پی ٹی ایم کے ٹٹ پونجیوں اور ان کے حامیان کو کہ ہماری برداشت اور صبر کا اتنا ہی امتحان لینا جتنا بعد میں خود بھگت سکو کہ ہم نے بھی چوڑیاں نہیں پہن رکھیں اور نہ ہی ہم لولے لنگڑے ہیں کہ تمہیں ہم سے ایک آنچ آنے کا بھی خطرہ نہیں۔

    جس دن ریاستی اداروں نے ہمیں ہلکا سا بھی اشارہ دے دیا (جو وہ کبھی نہیں دیں گے کہ ان کی روایت نہیں لیکن پھر بھی ہم تیار ہیں) کہ قوم ان کا علاج خود کرے تو تمہیں پورے پاکستان تو کیا قبائلی علاقہ جات میں بھی جائے امان نہیں ملنی۔

    جس وجہ سے ہم رکے ہوئے ہیں اور ہمارے ہاتھ اور منہ بند ہیں اسی وجہ سے محب وطن پشتون جو تمہارے ارد گرد ہی رہتے ہیں ان کے بھی ہاتھ اور منہ بند ہیں لیکن یہ ہماری کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے جس کا تمہیں بالکل اندازہ نہیں۔

    اپنی اصلاح کر لو اور غیروں کے نقش قدم پر چلنا چھوڑ کر قومی دھارے میں آ جاؤ اور آئینی و قانونی کے ساتھ ساتھ اخلاقی طریقے سے اپنا مقدمہ لڑو اور حقوق کی بات کرو تو واللہ ہم ہی وہ لوگ ہوں گے جو تم سے پہلے تمہارا مقدمہ اور حقوق کی جنگ لڑنے آگے کھڑے ہوں گے اور مقتدر حلقوں تک تمہاری آواز پہنچائیں گے لیکن جو تم کر رہے یہ قطعاً مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    نوٹ: بھاشن نہیں سنائے کوئی ادھر, تیسرا سال چل رہا ہے کہ ہم برداشت کرتے رہے ریاست کے ساتھ ساتھ پر اب اور خاموشی اور نظر اندازی سراسر منافقت اور بزدلی میں شمار ہوگی۔

  • بس بہت ہو گیا ۔۔۔ اسد عباس خان

    بس بہت ہو گیا ۔۔۔ اسد عباس خان

    دشمن نے گزشتہ ایک ڈیڑھ دہائی تک کبھی فضل اللہ، حکیم اللہ اور بیت اللہ کے ناموں کے ساتھ TTP بن کر منبر و محراب اور مساجد و مدارس کی حرمت کو پامال کیا بازاروں میں بم چلاۓ عام مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگائے اور پھر ان کا قتل عام کیا۔
    بیرونی آقاؤں کے اشاروں پر کلمہ طیبہ کی بنیاد اور اسلام کی اساس پر قائم مملکت خداداد پر مسلسل آتش و آہن کا بازار گرم کیے رکھا۔ جب افواج پاکستان نے لازوال قربانیوں کی داستانیں رقم کرتے ہوئے ان سانپوں کو کچلنا شروع کیا تو کچھ مردار اور باقی فرار ہونا شروع ہوۓ۔ اس وقت کے نامور سورمے مارے گئے یا انہوں نے افغانستان کا رخ کیا جبکہ اس سے نچلے درجے کے دہشتگردوں کو ان کے اسپانسرز نے اپنی خاص حکمت عملی کے تحت پاکستان کے شہروں میں روپوش کروایا۔ اور مناسب موقع کی تلاش میں لگے رہے۔
    کراچی میں ایک پشتون نوجوانوں نقیب اللہ کا مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے سے وہ موقع بھی آ ملا۔ اس کے بعد ان چھپے ہوئے چوہوں نے اپنے بِلوں سے باہر نکلنا شروع کیا اور پہلے پہل حکومت کے خلاف چھوٹے موٹے احتجاج پھر دنوں ہفتوں میں انتہائی منظم ہو کر ایک نئے نام PTM سے سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں پر ہرزہ سرائی شروع کر دی۔ اب تنظیمی نام کی طرح قیادتی نام بھی قوم پرستی میں تبدیل ہو کر "پشتین، داوڑ، وزیر” ہو چکے تھے۔ ہر گزرتے دن ان کی دشنام طرازی میں اضافہ ہوتا گیا اور پھر کھلے عام ہندوستان اور اسرائیل کی افواج سے مدد مانگنے لگے۔ افواج پاکستان کو قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ سلام ہے وطن کے محافظوں پر جنہوں نے یہ سب کچھ صبر سے برداشت کیا۔
    لیکن اب پانی سر سے گزر چکا ہے آج جس طرح ان PTM کے مسلح دہشتگردوں نے آرمی چوکی پر حملہ کیا جس کے نتیجہ میں پانچ جوان زخمی ہوئے۔ اس کے بعد ان دہشتگردوں کو مزید مہلت دینا اپنے سر پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف ہو گا۔ اب مصلحتوں سے باہر نکل کر سوچنا ہو گا۔
    خدارا ان آستین کے سانپوں کو کچل ڈالیں اس سے پہلے کہ یہ ناسور بن جائیں۔ ریاست ایسے غداروں کے خلاف کارروائی کرنے سے کیوں ہچکچاتی ہے جو ہمارے شہداء کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ جنہوں نے سانحہ اے پی ایس پشاور جیسے زخم دیے ہمارے مستقبل، پھولوں جیسے بچوں کو اپنے ناجائز آقاؤں کے اشاروں پر مَسل دیا۔ اللہ کے لیے وطن عزیز کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔ اور اس ظلم کا سدباب کریں۔