Baaghi TV

Tag: پاک بھارت کشیدگی

  • پاک بھارت کشیدگی، لاہور چیمبر  نے وار فنڈ کا اعلان کر دیا

    پاک بھارت کشیدگی، لاہور چیمبر نے وار فنڈ کا اعلان کر دیا

    لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں ابوذر شاد نے جنگی حالات میں وار فنڈ کیلئے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 10 ملین روپے سے وار فنڈ ‘قائم کر دیا.

    باغی ٹی وی کے مطابق اس حوالے سے صدرمیاں ابوذر شاد کا کہنا تھا کہ لاہور چیمبر نے ہمیشہ قومی مفادات کو ترجیح دی ہے،وار فنڈ مسلح افواج اور قوم سے اظہار یکجہتی ہے،کاروباری برادری اور عوام اس فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں،پاکستان کی سالمیت کے لیے بزنس کمیونٹی ہر قربانی کیلئے تیار ہے،وار فنڈ کا مقصد مشکل وقت میں قومی اداروں کو سپورٹ کرنا ہے.

    واضح رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مستند انٹیلی جنس اطلاعات ہیں کہ بھارت اگلے 24 سے 36 گھنٹوں میں پاکستان کے خلاف فوجی کاروائی کر سکتا ہے۔ پاکستان اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ بھارت کی طرف سے ایسی کسی بھی فوجی مہم جوئی کا یقینی اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ بین الاقوامی برادری کو اس حقیقت پر زندہ رہنا چاہیے کہ بڑھتے ہوئے سرپل اور اس کے نتیجے میں ہونے والے نتائج کی ذمہ داری پوری طرح سے بھارت پر عائد ہوگی۔ قوم پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کرنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ دنیا میں کہیں بھی اس کی تمام شکلوں اور مظاہر کی مذمت کی ہے۔ ایک ذمہ دار ریاست ہونے کے ناطے، پاکستان نے کھلے دل سے ماہرین کے ایک غیر جانبدار کمیشن کے ذریعے سچائی کا پتہ لگانے کے لیے ایک قابل اعتماد، شفاف اور آزاد تحقیقات کی پیشکش کی۔خطے میں جج، جیوری اور جلاد کا بھارتی خود ساختہ کردار لاپرواہی اور سختی سے مسترد ہے، پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور اس لعنت کے درد کو صحیح معنوں میں سمجھتا ہے۔

    لڑنےسے انکار، بھارتی نائب ائیر چیف عہدے سے فارغ

    ملک میں بجلی کی خرید وفروخت کیلئے نیا نظام لاگو ہو گیا

    حکومت نےلیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کو قومی سلامتی کا مشیر مقرر کر دیا

    پاک بھارت کشیدگی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر واہگہ اٹاری بارڈر بند

  • پاک بھارت کشیدگی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر  واہگہ اٹاری بارڈر بند

    پاک بھارت کشیدگی،ڈیڈ لائن ختم ہونے پر واہگہ اٹاری بارڈر بند

    پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کے باّعث دونوں ملکوں میں مقیم ایک دوسرے کے شہریوں کو دی گئی مہلت ختم ہونے کے بعد واہگہ/اٹاری بارڈر بند کردیا گیا .

    باغی ٹی وی کے مطابق گزشتہ سات روز کے دوران 58 سفارت کاروں، ان کے اہل خانہ اور معاون عملے سمیت 891 پاکستانی شہریوں کے ساتھ ساتھ 8 بھارتی شہری جن کے پاس پاکستانی ویزا تھا، واہگہ-اٹاری سرحد کے ذریعے بھارت سے واپس پاکستان آئے ہیں جبکہ اسی دوران بھارت کے 29 سفارت کار، ان کے اہل خانہ اور عملے کے ارکان سمیت ایک زہار 687 بھارتی شہری اور 373 ایسے پاکستانی شہری جن کے پاس طویل المدتی بھارتی ویزے تھے، 30 اپریل تک واہگہ-اٹاری بین الاقوامی سرحد کے ذریعے واپس بھارت گئے ہیں۔

    ذرائع نے بتایا کہ بارڈر بند ہونے کے باوجود اب بھی سرحد کے دونوں جانب بڑی تعداد میں ایک دوسرے ملک کے شہری موجود ہیں جنہیں واپسی کے لیے مزید مہلت دی جائے گی یا پھر اب انہیں ڈی پورٹ کیے جانے کا امکان ہے۔ 30 اپریل کو 110 پاکستانی بھارت سے واپس پاکستان پہنچے، جن میں سفارتی عملے کے تین ارکان شامل ہیں جبکہ پاکستان سے 222 افراد بھارت گئے جن میں بھارتی سفارتی عملے کے چار لوگ شامل تھے۔اسی طرح 29 اپریل کو 94 پاکستانی شہری، جن میں 10 سفارتکار شامل ہیں، بھارت سے واپس لوٹے، 28 اپریل کو 145 پاکستانی، جن میں 36 سفارت کار اور ان کے اہل خانہ شامل تھے بھارت سے واپس آئے۔

    اس سے قبل 27 اپریل کو 237 پاکستانی شہری، جن میں 9 سفارت کار اور عملے کے ارکان شامل تھے، واپس پہنچے، 26 اپریل کو 81، 25 اپریل کو 191، اور 24 اپریل کو 28 پاکستانی بھارت سے واپس آئے۔پاکستان سے واپس بھارت جانے والوں میں 30 اپریل کو 222 افراد شامل تھے جن میں بھارتی سفارتی عملے کے لوگ بھی شامل تھے، 29 اپریل کو 469 بھارتی شہری، جن میں 11 سفارت کار اور عملے کے ارکان، 28 اپریل کو 146، 27 اپریل کو 116، 26 اپریل کو 342 بشمول 13 سفارتکار اور معاون عملے کے ارکان، 25 اپریل کو 287 اور 24 اپریل کو 105 بھارتی شہری پاکستان سے واپس چلے گئے۔

    دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے شہریوں کو واپسی کے لیے جو ڈیڈلائن دی تھی وہ ختم ہوگئی ہے، جس کے بعد واہگہ/اٹاری بارڈر بند کردیا گیا ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اب بھی سرحد کی دونوں جانب ایک دوسرے ملک کے شہری موجود ہیں جو واپس نہیں جاسکے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ایسے افراد کو واپس ان کے ملک بھیجنے سے متعلق ابھی تک کوئی نئی پالیسی سامنے نہیں آئی ہے تاہم ایک امکان یہ ہے کہ ان شہریوں کو واپسی کے لیے مزید چند دن کی مہلت دی جاسکتی ہے جبکہ دوسرا امکان یہ ہے کہ ایسے افراد کو اب دونوں ملک ڈی پورٹ کریں گے۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

    وزیراعظم کا امریکا سے بھارت پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ

    پہلگام واقعہ، بھارتی مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کے واقعات میں اضافہ