افغانستان سے دہشت گردی اور بلا اشتعال جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے آپریشن غضب للحق کامیابی کے ساتھ جاری ہے،وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے آپریشن غضب للحق میں اب تک مارے جانے والے افغان طالبان اہلکاروں کی مزید تفصیلات جاری کردی ہیں-
پیر کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے آپریشن غضب للحق کے دوران افغان طالبان کے خلاف کی جانے والی جوابی کارروائیوں کے اعداد و شمارجاری کیے ہیں،کہ آپریشن کے دوران افغان طالبان کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے، اب تک آپریشن میں ہلاک ہونے والے افغان طالبان اہلکاروں کی تعداد 435 ہوگئی ہے جب کہ افغان طالبان کے 630 سے زائد اہلکار زخمی ہیں۔
وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ افغان طالبان رجیم کی 188 چیک پوسٹیں تباہ کر دی گئی ہیں اور پاکستان سیکیورٹی فورسز نے 31 افغان پوسٹوں پر قبضہ حاصل کر لیا ہےب تک افغان طالبان رجیم کے 188 ٹینکس، اسلحہ بردار گاڑیاں اور آرٹلری گنز تباہ بھی اس آپریشن میں تباہ کی گئی ہیں جب کہ افغانستان بھر میں 51 مقامات فضا سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایران کی جانب سے پہلے حملہ کرنے کا کوئی ثبوت نہیں تھا، پینٹاگون
دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خوست ایمونیشن ڈپو اور اور ڈرون اسٹوریج سائٹ تباہ کردیا گیا ہے پیر کے روز سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ افغان طالبان رجیم کی جارحیت کے خلاف پاک فوج کی بھرپور اور طاقتور جوابی کارروائیاں جاری ہیں پاک افواج نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کا خوست میں ایمونیشن ڈپو تباہ کردیا ہے پاک افواج کی مؤثر جوابی کارروائی کے دوران فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے جلال آباد میں ایمونیشن ڈپو اور ڈرون اسٹوریج سائٹ کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افواج فتنہ الخوارج اور افغان طالبان فوج کے ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو موثر انداز میں نشانہ بنا رہی ہیں، فتنہ الخوارج اور افغان طالبان رجیم کو پاک افغان سرحد پربلا اشتعال جارحیت کے بعد ہر محاذ پر بھرپور پسپائی کا سامنا ہے۔
ایران کا سعودی عرب میں آرامکو آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ،اسرائیل میں بھی گیس کی پیداوار بند
واضح رہے کہ جمعرات 26 فروری کی رات پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج کا آپریشن غضب للحق جاری ہے پاک فوج نے افغانستان کی حدود کے اندر مختلف مقامات پر جوابی کارروائیاں کیں اورکابل، قندھار اور پکتیا سمیت دیگر مقامات پر موجود عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور کئی چیک پوسٹیں تباہ کیں۔