Baaghi TV

Tag: پاک فوج

  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی

    لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان آرمی کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا، ہلالِ امتیاز (ملٹری)، ستارۂ بسالت کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے اور انہیں کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    وزیراعظم آفس کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ پاک فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے کے ساتھ کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا، ہلال امتیاز ملٹری، ستارہ بسالت کو ان کی ترقی اور تقرری پر مبارکباد دی اور اس اہم ذمہ داری کی انجام دہی کے لیے جنرل عامر رضا کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا،وزیراعظم نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ جنرل عامر رضا قومی سلامتی سے متعلق اس اہم ذمہ داری کو پیشہ ورانہ مہارت اور قومی عزم کے ساتھ انجام دیں گے۔

    کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا منصب ملک کی اسٹریٹجک صلاحیتوں اور قومی دفاعی حکمتِ عملی کے حوالے سے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے جب کہ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی کو پاکستان کی عسکری قیادت میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا نے 1988 میں کمیشن پاس کیا، انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویٹ کیا اس کے علاوہ وہ یونیورسٹی آف نوٹنگھم سے بین الاقوامی تعلقات کی ڈگری بھی حاصل کر چکے ہیں،انہیں جنوری 2025 میں چیف آف جنرل اسٹاف جی ایچ کیو تعینات کیا گیا تھا اس کے علاوہ وہ کمانڈر فور کور اور چیئرمین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا بھی فرائض انجام دے چکے ہیں۔

  • بلوچستان میں  10 دہشتگرد ہلاک، 2 خاتون خودکش حملہ آور گرفتار، آئی ایس پی آر

    بلوچستان میں 10 دہشتگرد ہلاک، 2 خاتون خودکش حملہ آور گرفتار، آئی ایس پی آر

    بلوچستان میں بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشتگرد گروہوں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں، جن کے دوران گزشتہ 48 گھنٹوں میں 10 دہشتگرد ہلاک جبکہ 2 خاتون خودکش حملہ آوروں اور ایک سہولتکار کو گرفتار کر لیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ضلع سوراب اور ضلع مستونگ میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر مشترکہ سرچ اور ٹارگٹڈ آپریشنز کیے گئے۔ سوراب میں کارروائی کے دوران 7 جبکہ مستونگ میں 3 دہشتگرد مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مستونگ میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم تنظیم فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والی 2 خاتون خودکش حملہ آوروں اور ایک مبینہ سہولت کار کو بھی گرفتار کیا گیا کارروائیوں کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں مزید سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی مبینہ دہشتگرد یا اس کے سہولتکار کو گرفتار کیا جا سکے۔ بیان میں کہا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت منظور شدہ عزمِ استحکام وژن کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت نے بلوچستان کے اضلاع سوراب اور مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 10 دہشتگردوں کی ہلاکت پر فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر زرداری نے کہا کہ بلوچستان میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم مبینہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائیاں قومی امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہیں بیرونی مداخلت کی وجہ سے ہونے والی دہشتگردی کے خلا ف جنگ جاری رہے گی اور پاکستان اس خطرے کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے پوری قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملک میں امن کے قیام کے لیے ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

    وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے آپریشن کے دوران 10 دہشتگردوں کو ہلاک کرنے اور 2 خودکش بمبار خواتین سمیت ایک سہولتکار کو گرفتار کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا کہا کہ کسی کو بھی بلوچستان کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، انہو ں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھی جائے گی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگرد بلوچستان اور اس کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے دشمن ہیں، جبکہ پوری قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے، وہ خود اور پوری قوم وطنِ عزیز کے دفاع اور امن و استحکام کے قیام کے لیے افواجِ پاکستان کے غیر متزلزل عزم میں ان کے شانہ بشانہ ہیں۔

  • معرکہ حق اور پاک فوج کیخلاف بیان:این سی سی آئی اے نے نورین نیازی کو طلب کر لیا

    معرکہ حق اور پاک فوج کیخلاف بیان:این سی سی آئی اے نے نورین نیازی کو طلب کر لیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔

    نوٹس میں نورین نیازی کو 20 جولائی کو سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے،این سی سی آئی اے کی جانب سے جار ی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ فیک نیوز سے قومی ادارے کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ روز سوشل میڈیا پر نورین نیازی کی ایک ویڈیو منظرعام پر آئی، جس میں ان کی جانب سے افواج پا کستان پر تنقید کی گئی تھی، نورین نیازی نے یوٹیوب چیلنج پرانٹرویومیں الزام لگایاکہ معرکۂ حق افواجِ پاکستان اور مودی کا گٹھ جوڑ تھا ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے اسرائیل کے کہنے پر پاکستان پر حملہ کرنے سے گریز کیا کیونکہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہا تھا-

    نورین نیازی کی ویڈیو سامنے آنے پر سوشل میڈیا پر ان پر شدید تنقید کی جارہی ہے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری پر اپنے ایک بیان میں کہاکہ عمران خان اور ان کے خاندان کی طرف سے پاکستان کے لیے کوئی خیر ہو ہی نہیں سکتی۔

  • بنوں میں کامیاب آپریشن، صدر مملکت کا سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

    بنوں میں کامیاب آپریشن، صدر مملکت کا سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

    صدرِ مملکت آصف زرداری نے بنوں اور ملحقہ علاقوں میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں منطقی انجام تک پہنچائی جائیں گی۔

    ایوانِ صدر سے جاری کردی ایک بیان کے مطابق صدر مملکت نے فتنہ الخوارج کے 24 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی ملک کے امن و استحکام کے لیے فورسز کے غیرمتزلزل عزم کا مظہر ہےمعصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے والے دہشتگرد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

    انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں منطقی انجام تک جاری رہیں گی کہا کہ پوری قوم اپنی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے ان کی قربانیو ں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

  • رحم کیجیے، یہ اسی وطن کے محافظ ہیں،تجزیہ :شہزاد قریشی

    رحم کیجیے، یہ اسی وطن کے محافظ ہیں،تجزیہ :شہزاد قریشی

    رحم کیجیے، یہ اسی وطن کے محافظ ہیں

    وطن کے محافظوں کی قربانیاں کسی تنخواہ یا مفاد کا نتیجہ نہیں بلکہ فرض، وفاداری اور حب الوطنی کی عظیم داستان ہیں سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر شہداء کے خون اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو الزام تراشی اور نفرت کی سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیے جو قومیں اپنے محافظوں کا احترام کرتی ہیں وہ مضبوط بنتی ہیں، اور جو اپنے ہی دفاع کو کمزور کرتی ہیں وہ خود اپنے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں

    پاکستان ایک نازک خطے میں واقع ملک ہے جہاں اندرونی اور بیرونی خطرات کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ایسے حالات میں اگر ہم ٹھنڈے دل اور کھلے ذہن سے اپنے اردگرد کے حالات کا جائزہ لیں تو ایک حقیقت واضح نظر آتی ہے کہ وطن کی سرحدوں سے لے کر شہروں اور دیہات تک، بے شمار لوگ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ملک اور عوام کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

    یہ اختلاف کا نہیں، انصاف کا تقاضا ہے کہ ہم ان قربانیوں کو یاد رکھیں جو روزانہ اس وطن کے لیے دی جا رہی ہیں پاکستان کے مختلف علاقوں میں آج بھی جوان شہید ہو رہے ہیں۔ کہیں ایک ماں اپنے بیٹے کو دفنا رہی ہے، کہیں ایک بہن اپنے بھائی کی جدائی کا دکھ سہہ رہی ہے، اور کہیں معصوم بچے اپنے والد کے سائے سے محروم ہو رہے ہیں۔ یہ وہ قیمت ہے جو اس ملک کے امن اور استحکام کے لیے ادا کی جا رہی ہے۔

    افسوس اس بات کا ہے کہ بعض اوقات سیاسی اختلافات اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ قومی ادارے بھی الزام تراشی کا نشانہ بننے لگتے ہیں۔ تنقید ہر جمہوریت کا حق ہے، لیکن ایسی گفتگو جو قوم کے محافظوں کی قربانیوں کو مشکوک بنا دے، وہ نہ صرف شہداء کے لواحقین کے زخم تازہ کرتی ہے بلکہ قومی یکجہتی کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔

    میں پوٹھوہار کی اس سرزمین سے تعلق رکھتا ہوں جسے بجا طور پر شہداء کی سرزمین کہا جاتا ہے، یہاں کے قبرستانوں میں وطن پر قربان ہونے والوں کی قبریں موجود ہیں اور بے شمار خاندان ایسے ہیں جنہوں نے اپنے بیٹے، بھائی اور والد اس ملک کے دفاع کے لیے قربان کیے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں ان جنازوں کو کندھا دیا ہے، ان گھروں کا درد دیکھا ہے اور ان آنکھوں کے آنسو دیکھے ہیں جن کے پیارے وطن پر نثار ہو گئے۔

    کیا کوئی شخص صرف تنخواہ یا مالی منفعت کے لیے موت کو گلے لگاتا ہے؟ کیا کوئی ماں اپنے جوان بیٹے کو صرف ایک ملازمت کے لیے رخصت کرتی ہے؟ نہیں، یہ جذبہ اس سے کہیں بلند ہے۔ یہ وطن سے محبت، فرض شناسی اور قومی ذمہ داری کا وہ احساس ہے جو انسان کو اپنی جان تک قربان کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے۔

    سیاسی جماعتوں، مذہبی رہنماؤں اور قومی شخصیات کو چاہیے کہ وہ اختلافات کو اپنی جگہ رکھتے ہوئے ان قربانیوں کا احترام کریں۔ قوموں کی طاقت ان کے اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد میں ہوتی ہے۔ اگر ہم خود اپنے محافظوں کو کمزور کریں گے، ان کی نیتوں پر سوال اٹھائیں گے اور ان کی قربانیوں کو فراموش کر دیں گے تو اس کا نقصان پورے ملک کو ہوگا۔

    آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نفرت کے بجائے اتحاد، الزام کے بجائے انصاف اور تقسیم کے بجائے یکجہتی کو فروغ دیں۔ شہداء کا احترام صرف الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے رویوں سے بھی کیا جاتا ہے۔ یہ وطن ہم سب کا ہے، اس کے محافظ بھی ہمارے ہیں، اور ان کی قربانیاں بھی ہماری مشترکہ قومی امانت ہیں۔

    خدارا، اس وطن پر رحم کیجیے، اس کے شہداء پر رحم کیجیے، ان ماؤں کے آنسوؤں کا احترام کیجیے جنہوں نے اپنے لختِ جگر پاکستان کے نام کر دیے۔ اختلاف ضرور کیجیے، مگر اپنے ہی وطن کے محافظوں کو کمزور مت کیجیے۔

  • فوج کے جوانوں کی قربانیاں اور اعزازات پوری قوم کا فخر اور سرمایہ ہیں،ملک محمد احمد خان

    فوج کے جوانوں کی قربانیاں اور اعزازات پوری قوم کا فخر اور سرمایہ ہیں،ملک محمد احمد خان

    اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ شہدا کی تضحیک کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور اس معاملے پر مولانا فضل الرحمان کو پوری قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر قومی اداروں اور شہدا کے احترام پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔

    لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) ایک بڑی سیاسی قوت ہے، تاہم مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان سے انہیں شدید اختلاف ہے اور عوام کی ایک بڑی تعداد بھی اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتی۔

    انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان کی توہین چاہے الفاظ سے ہو یا کسی عمل کے ذریعے، ناقابلِ برداشت ہے، جبکہ فوج کے جوانوں کی قربانیاں اور اعزازات پوری قوم کا فخر اور سرمایہ ہیں، کسی بھی سیاسی جماعت یا رہنما کو قومی جذبات اور حساس معاملات کا خیال رکھنا چاہیے ریاستی اداروں کے کردار پر بحث ہو سکتی ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملات پر ذمہ داری اور احتیاط کا مظاہرہ ناگزیر ہے۔

    ملک محمد احمد خان نے کہا کہ کسی بھی دہشتگرد، خواہ اس کا تعلق کسی بھی گروہ سے ہو، اس کے ساتھ ریاست کے مذاکرات مناسب نہیں دہشتگردوں کو سیاسی جدوجہد کرنے والوں کے برابر نہیں رکھا جا سکتا ،جو عناصر مساجد، امام بارگاہوں، عدالتوں اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، ان سے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی ٹرین حملے اور بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے اعترافات کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا افواجِ پاکستان دہشت گردوں سے مذاکرات کرے یا ان کے خلاف کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ مٹھی بھر دہشتگرد اگر اکثریت کو یرغمال بنانے کی کوشش کریں تو ریاست اور افو اجِ پاکستان کی ذمہ داری واضح ہے، تاہم اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان کی خاموشی قابلِ سوال ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دہشتگرد عناصر کو دوبارہ ملک میں خوف و ہراس پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ماضی کے مذاکرات اور ان کے نتائج کا بھی غیرجا نبدارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے، جبکہ داتا دربار، آرمی پبلک اسکول پشاور اور دیگر دہشتگرد حملوں کے شہدا کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا،پوری قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہے اور ملک میں پائیدار امن کا قیام سب کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ عمران خان کی تحریک اگر فوج کے سیاسی کردار کے خلاف ہوتی تو وہ اس کی حمایت کرتے، لیکن فوج کی مدد سے اقتدار میں آنا اور پھر فوج کے غیرجانبدار ہونے پر اس کی مخالفت کرنا درست طرزِ عمل نہیں، انہوں نے پرویز الٰہی، متحدہ مجلس عمل اور ماضی کی سیاسی جماعتوں کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ادوار میں سیاسی جماعتوں کے مؤقف تبدیل ہوتے رہے ہیں، اس لیے سیاسی بیانات میں تسلسل اور ذمہ داری ضر وری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ کہے کہ پاکستان کی حفاظت پر مامور جوان صرف تنخواہ کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں تو یہ شہدا اور قومی جذبات کی توہین ہے، ایسے بیانات نہ صرف افسوسناک ہیں بلکہ قومی مفاد کے بھی منافی ہیں، 2014 کے دھرنے کی بنیاد انتخابی عمل پر اعتراضات اور 4 حلقوں کی تحقیقات کا مطالبہ تھا۔ بعد ازاں عدالتی فیصلوں میں بعض انتخابی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ضرور ہوئی، تاہم انہیں منظم دھاندلی قرار نہیں دیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ آر ٹی ایس، فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق اعتراضات کے حل کے لیے پارلیمانی اور قانونی فورمز کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا تھا، مگر ایسا نہیں کیا گیا انتخابی معاملات پر احتجاج کے باوجود آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرنا ہی جمہوری روایت ہے عالمی حالات کے تناظر میں قو می معاملات پر سنجیدگی، ذمہ داری اور اتحاد کا مظاہرہ وقت کی اہم ضرورت ہے پاکستان کی سفارتی کامیابیوں، امن کے اقدامات اور د ہشتگردی کے خلاف ریاستی مؤقف کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ سیاسی اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ شہدا کی قربانیوں کو پوری قوم قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور شہدا کے اہلِخانہ کے جذبات کا احترام ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے، کیونکہ ایک شہید کی قربانی پوری قوم کے امن اور سلامتی کی ضمانت بنتی ہے سیاسی جماعتوں کے مؤقف میں اصولی یکسانیت ہونی چاہیے اور وقتی مفادا ت کے تحت مؤقف تبدیل نہیں ہونا چاہیے، اگر فوج کے سیاسی کردار پر اعتراض کیا جاتا ہے تو یہی اصول ہر دور اور ہر حکومت پر یکساں طور پر لاگو ہونا چا ہیے۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی سیاسی حکومتوں کے قیام اور مختلف فیصلوں میں فوج کے کردار پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، اس لیے سیاسی جماعتوں کو اپنےسابقہ فیصلوں اور موجودہ مؤقف کےدرمیان تضاد کا بھی جائزہ لینا چاہیےانتخابی اعتراضات کاحل سڑکوں کے بجائے آئینی اور قانونی فورمزخصوصاً الیکشن ٹریبونلز کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ چند انتخابی درخواستوں یا تنازعات کی بنیاد پر پورے انتخابی نظام کو متنازع قرار دینا مناسب نہیں۔

    انہوں نے زور دیا کہ انتخابات پر عوام کا اعتماد بحال رکھنے کے لیے شفاف نظام اور تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اس امر پر اتفاق ضروری ہے کہ انتخابی نتائج کو کس آئینی طریقۂ کار کے تحت تسلیم یا چیلنج کیا جائےسوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات اور گمراہ کن بیانیے قومی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں، اس لیے قومی معاملات پر گفتگو ہمیشہ حقائق، ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ ہونی چاہیے۔

    ملک محمد احمد خان نے کہا کہ پاکستان کو مغربی سرحد، بلوچستان اور دہشتگردی سمیت متعدد سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں اور عوام کا متحد ہونا ناگزیر ہے دہشت گردی کے الزامات اور ریاستی مؤقف میں فرق کو سمجھنا ضروری ہے، جبکہ پاکستان نے دہشت گر د ی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں جنہیں کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، سیاسی بیانیوں سے بڑھ کر قومی اداروں، افواجِ پاکستان اور شہدا کے وقار کا تحفظ ہی قومی مفاد کا تقاضا ہے۔

  • شہدا کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی،مولانا طاہر اشرفی

    شہدا کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی،مولانا طاہر اشرفی

    چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ جو ہماری حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کرے، اس کی توہین کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ہمراہ کراچی میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ دہشتگرد ملک کے امن کے دشمن ہیں اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے جوان مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں انہوں نے واضح کیا کہ افوا جِ پاکستان کے جوان چند ہزار روپے تنخواہ کے لیے نہیں بلکہ وطن کے دفاع اور شہادت کے جذبے کے ساتھ سرحدوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

    حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ شہدا کی قربانی کا کوئی مالی معاوضہ نہیں ہو سکتا، شہادت مومن کا اعلیٰ مقام اور باعثِ فخر ہے، جبکہ اسلامی ریاست کے محافظو ں کی خدمات اور قربانیاں انتہائی قابلِ احترام ہیں انہوں نے کہا کہ جو ہماری حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کرے، اس کی توہین کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔

    حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ ہم پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی کو اپنے شہدا کی توہین کرنے کی اجازت نہیں دیں گے سیاست دانوں کو چاہیے کہ وہ قومی اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کا حوصلہ بلند کریں اور سیاسی اختلافات کو اداروں پر تنقید کا ذریعہ نہ بنائیں۔

    پاکستان آج دنیا میں امن کے داعی کے طور پر ابھر رہا ہے، اس لیے قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہےسیاست کے میدان میں سیاست ہونی چاہیے، اداروں کو سیاسی تنازعات میں گھسیٹنے کا کسی کو حق حاصل نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ شہدا کے اہلِخانہ کے دکھ میں پوری قوم برابر کی شریک ہے، جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ریاست اور قومی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہےفتنۂ الخوارج اور دیگر دشمن عناصر کو قوم اچھی طرح پہچان چکی ہے، اس لیے دانستہ یا نادانستہ کسی بھی دشمن یا دہشتگرد کا سہولتکار نہیں بننا چاہیے۔

    نیوز کانفرنس کے دوران حافظ طاہر اشرفی جذباتی اور افسردہ بھی ہوگئے اور انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ افواجِ پاکستان اور شہدا کی عزت و حرمت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ صوفیا کرام کی دھرتی ہے، جہاں حضرت لعل شہباز قلندرؒ اور حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ جیسے عظیم بزرگوں نے محبت، رواداری اور اخوت کا درس دیا سندھ کی سرزمین ہمیشہ امن، بھائی چارے اور انسان دوستی کا پیغام دیتی آئی ہے، اسی روایت کو مزید مضبوط بنا نے کی ضرورت ہے۔

    ے کہا کہ سندھ حکومت قومی پیغامِ امن کمیٹی کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی تاکہ ملک میں اتحاد، ہم آہنگی اور امن کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں کی جا سکیں اگر ہم سب اخلاص کے ساتھ امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ضرور مدد فرمائے گا،معرکۂ حق میں کامیابی کے بعد دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تاثر اجاگر ہوا ہے اور پوری قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے پاک فوج کی قربانیاں قوم کے لیے با عثِ عزت ہیں اور ملکی سلامتی، استحکام اور امن کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

  • ملکی اداروں کیخلاف متنازع بیان:عدالت نے مولانا فضل الرحمان کو طلب کر لیا

    ملکی اداروں کیخلاف متنازع بیان:عدالت نے مولانا فضل الرحمان کو طلب کر لیا

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے ایک متنازع بیان کے خلاف گوجرانوالا کی عدالت میں پٹیشن دائر کردی گئی ہے، جس پر عدالت نے انہیں 28 جولائی کو طلب کرلیا ہے۔

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نےپنجاب کے شہر قصور میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ملکی اداروں اور خاص طور پر فوج کے حوالے سے سخت اور متنازع گفتگو کی تھی اس دوران انہوں نے فوجی جوانوں کی شہادت کے حوالے سے بھی ایک انتہائی متنازع بیان دیا تھا،اس بیان کے خلاف گوجرانوالا میں ایک سینئر وکیل کی جانب سے پٹیشن دائر کی گئی ہے، جس پر کارروائی کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج نے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو 28 جولائی کو عدالت میں طلب کر لیا ہے۔

    دوسری جانب کراچی میں وزیر اعلیٰ سندھ کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مذہبی رہنما مولانا حافظ طاہر اشرفی پاکستان کے سیکیورٹی اداروں اور شہداء کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے انہوں نے سیکیورٹی اداروں پر ہونے والی تنقید اور متنازع بیانات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں شہداء کے اہلِ خانہ سے معافی مانگتا ہوں کیونکہ شہداء کے لواحقین ان بیانات سے شدید غمزدہ ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان پر مجھے فخر ہے اور شہداء ہمارے سر کا تاج ہیں، اس لیے شہداء کے والدین کی دل آزاری کسی بھی صورت قبول نہیں کی جا سکتی، مولانا طاہر اشرفی نے سیکیورٹی اداروں کے جوانوں کی خدمات کا اعتراف کرتےہوئےواضح کیا کہ دہشت گرد اس ملک کے امن کے دشمن ہیں جبکہ ملک کے اندر ہماری فورسز کے جوان مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔

    انہوں نے زور دے کر کہا کہ فورسز کے جوان محض تنخواہ کے لیے سرحدوں کی حفاظت نہیں کر رہے بلکہ یہ جوان ہمارے اور ہمارے وطن کے پرامن مستقبل کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں پاکستان اس وقت دنیا میں امن کے داعی کے طور پر ابھر رہا ہے اور اس امن کے پیچھے ان جوانوں کا خون شامل ہے۔

    انہوں نے ملک کے سیاسی رہنماؤں کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سیاستدان ہمارے سیکیورٹی اداروں کو اپنی تنقید کا نشانہ نہ بنائیں بلکہ سیاستدانوں کا اصل کام یہ ہے کہ وہ مشکل وقت میں ہمارے جوانوں کا حوصلہ بڑھائیں سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ سیاست کے میدان میں سیاست کریں، اداروں پر سیا ست کرنے کا کسی کو کوئی حق نہیں ہے اور ہم آئندہ فورسز کے جوانوں کی توہین کرنے کی کسی کو بھی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

    مولانا فضل الرحمان کے مبینہ خطاب پر وفاقی وزراء اور دیگر سیاست دانوں کی جانب سے بھی شدید ردعمل اور مذمت کا سلسلہ شروع ہوا اور ملک کی سیاسی قیادت نے اُن سے معافی کا مطالبہ کیا۔

  • آپریشن شعبان ، بلوچستان میں مزید 4 دہشتگرد ہلاک

    آپریشن شعبان ، بلوچستان میں مزید 4 دہشتگرد ہلاک

    پاک فوج ، ایف سی بلوچستان اور پولیس کا مشترکہ آپریشن شعبان جاری، مزید 4 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن شعبان میں ہلاک دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 83 ہو گئی ، جبکہ 5 جولائی سے اب تک آپریشن شعبان اور دیگر آپریشنز میں121 خارجی ہلاک ہو چکے ہیں خارجیوں کو فضائی اور زمینی کارروائیوں میں نشانہ بنایا جا رہا ہے ، آخری دہشتگرد کے خاتمے تک بلوچستان میں آپریشن شعبان جاری رہے گا۔

    دوسری جانب دو روز قبل بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے 5 مزدور جاں بحق ہوئے تھے، پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے تمام افراد علاقے کی مختلف دکانوں پر کام کر رہے تھے، دہشت گردوں نے انہیں فائرنگ کا نشانہ بنایا۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے دہشتگردی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہشتگرد نہتے مزدوروں کو نشانہ بنا کر اپنے مکروہ عزائم بے نقاب کر چکے ہیں ، ماشکیل میں فائرنگ سے 5 افراد کے جاں بحق ہونے کا واقعہ قابل مذمت ہے۔ اور حکومت نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

  • فوجی جوانوں کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے، خواجہ آصف

    فوجی جوانوں کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے، خواجہ آصف

    وزیردفاع خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کےغیر ذمہ دارانہ بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کے بیان کو شہداء کی قربانی کی توہین قرار دے دیا۔

    وزیردفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پیغام میں کہا کہ؛مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق سیاست دان اور ممتازمذہبی رہنما ہیں ،ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے،فوجی جوانوں کی وطن کیلئے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری ہے،کوئی شخص محض تنخواہ کیلئے اپنی قیمتی جان کی قربانی نہیں دیتا۔

    انہوں نے کہا کہ جان کی قربانی کے پیچھے کسی نظریے،عقیدے، فرض اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے،آپ حالات و واقعات یا طریقہ کار سے اختلا ف کر سکتے ہیں، مگر اس نظریے، وابستگی، محبت اور قربانی کی توہین نہیں کر سکتے دہشت گردی کیخلاف جنگ جاری ہے اور پاک فوج سمیت دیگر اداروں کےجوان اور شہری شہادتیں دے رہے ہیں ان کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے،مولانا صاحب نے صرف ایک ادارے کو نہیں، ہزاروں شہداء،غازیوں،بیواؤں اور یتیموں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔