رحم کیجیے، یہ اسی وطن کے محافظ ہیں
وطن کے محافظوں کی قربانیاں کسی تنخواہ یا مفاد کا نتیجہ نہیں بلکہ فرض، وفاداری اور حب الوطنی کی عظیم داستان ہیں سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر شہداء کے خون اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو الزام تراشی اور نفرت کی سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیے جو قومیں اپنے محافظوں کا احترام کرتی ہیں وہ مضبوط بنتی ہیں، اور جو اپنے ہی دفاع کو کمزور کرتی ہیں وہ خود اپنے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں
پاکستان ایک نازک خطے میں واقع ملک ہے جہاں اندرونی اور بیرونی خطرات کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ایسے حالات میں اگر ہم ٹھنڈے دل اور کھلے ذہن سے اپنے اردگرد کے حالات کا جائزہ لیں تو ایک حقیقت واضح نظر آتی ہے کہ وطن کی سرحدوں سے لے کر شہروں اور دیہات تک، بے شمار لوگ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ملک اور عوام کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔
یہ اختلاف کا نہیں، انصاف کا تقاضا ہے کہ ہم ان قربانیوں کو یاد رکھیں جو روزانہ اس وطن کے لیے دی جا رہی ہیں پاکستان کے مختلف علاقوں میں آج بھی جوان شہید ہو رہے ہیں۔ کہیں ایک ماں اپنے بیٹے کو دفنا رہی ہے، کہیں ایک بہن اپنے بھائی کی جدائی کا دکھ سہہ رہی ہے، اور کہیں معصوم بچے اپنے والد کے سائے سے محروم ہو رہے ہیں۔ یہ وہ قیمت ہے جو اس ملک کے امن اور استحکام کے لیے ادا کی جا رہی ہے۔
افسوس اس بات کا ہے کہ بعض اوقات سیاسی اختلافات اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ قومی ادارے بھی الزام تراشی کا نشانہ بننے لگتے ہیں۔ تنقید ہر جمہوریت کا حق ہے، لیکن ایسی گفتگو جو قوم کے محافظوں کی قربانیوں کو مشکوک بنا دے، وہ نہ صرف شہداء کے لواحقین کے زخم تازہ کرتی ہے بلکہ قومی یکجہتی کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
میں پوٹھوہار کی اس سرزمین سے تعلق رکھتا ہوں جسے بجا طور پر شہداء کی سرزمین کہا جاتا ہے، یہاں کے قبرستانوں میں وطن پر قربان ہونے والوں کی قبریں موجود ہیں اور بے شمار خاندان ایسے ہیں جنہوں نے اپنے بیٹے، بھائی اور والد اس ملک کے دفاع کے لیے قربان کیے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں ان جنازوں کو کندھا دیا ہے، ان گھروں کا درد دیکھا ہے اور ان آنکھوں کے آنسو دیکھے ہیں جن کے پیارے وطن پر نثار ہو گئے۔
کیا کوئی شخص صرف تنخواہ یا مالی منفعت کے لیے موت کو گلے لگاتا ہے؟ کیا کوئی ماں اپنے جوان بیٹے کو صرف ایک ملازمت کے لیے رخصت کرتی ہے؟ نہیں، یہ جذبہ اس سے کہیں بلند ہے۔ یہ وطن سے محبت، فرض شناسی اور قومی ذمہ داری کا وہ احساس ہے جو انسان کو اپنی جان تک قربان کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے۔
سیاسی جماعتوں، مذہبی رہنماؤں اور قومی شخصیات کو چاہیے کہ وہ اختلافات کو اپنی جگہ رکھتے ہوئے ان قربانیوں کا احترام کریں۔ قوموں کی طاقت ان کے اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد میں ہوتی ہے۔ اگر ہم خود اپنے محافظوں کو کمزور کریں گے، ان کی نیتوں پر سوال اٹھائیں گے اور ان کی قربانیوں کو فراموش کر دیں گے تو اس کا نقصان پورے ملک کو ہوگا۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نفرت کے بجائے اتحاد، الزام کے بجائے انصاف اور تقسیم کے بجائے یکجہتی کو فروغ دیں۔ شہداء کا احترام صرف الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے رویوں سے بھی کیا جاتا ہے۔ یہ وطن ہم سب کا ہے، اس کے محافظ بھی ہمارے ہیں، اور ان کی قربانیاں بھی ہماری مشترکہ قومی امانت ہیں۔
خدارا، اس وطن پر رحم کیجیے، اس کے شہداء پر رحم کیجیے، ان ماؤں کے آنسوؤں کا احترام کیجیے جنہوں نے اپنے لختِ جگر پاکستان کے نام کر دیے۔ اختلاف ضرور کیجیے، مگر اپنے ہی وطن کے محافظوں کو کمزور مت کیجیے۔
