Baaghi TV

Tag: پاک فوج

  • فیض حمیدکیخلاف چارج شیٹ،اصل مجرم عمران اور پی ٹی آئی قیادت

    فیض حمیدکیخلاف چارج شیٹ،اصل مجرم عمران اور پی ٹی آئی قیادت

    پاکستانی فوج کے ایک سینئر افسر، سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف 12 اگست 2024 کو فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ انہیں پاکستان آرمی ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت کئی سنگین الزامات کا سامنا ہے، جن میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، ریاست کے مفاد اور سلامتی کے لیے نقصان دہ اقدامات، اختیارات کا ناجائز استعمال، اور حکومت کے وسائل کا غلط استعمال شامل ہیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید پر یہ الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہو کر ریاست کے مفاد کو نقصان پہنچایا۔ نہوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اور مختلف سیاسی مقاصد کے لیے حکومتی وسائل کا استعمال کیا۔فیض حمید کے خلاف 9 مئی 2023 کے واقعات میں ملوث ہونے کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔فیض حمید نے سیاسی مفادات کے لیے احتجاج اور انتشار کو ہوا دی، جس میں مختلف سیاسی عناصر کے ساتھ ملی بھگت شامل ہے۔ خاص طور پر، 9 مئی کے واقعات اور اس سے پہلے ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں ان کا کردار شامل ہے، جن میں 2022 کے دوران ہونے والے مظاہرے اور نومبر 2022 میں آرمی چیف کی تعیناتی کے دوران ہونے والے احتجاج شامل ہیں۔

    چارج شیٹ کا مطلب ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف مکمل شواہد موجود ہیں اور ان پر باضابطہ الزامات عائد کیے گئے ہیں۔سب سے اہم اور سنگین الزام لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی مقاصد کے لیے اپنی خدمات پیش کیں۔ اس اعلامیہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے 9 مئی 2023 کے واقعات اور اس سے پہلے کے مظاہروں میں اہم کردار ادا کیا۔ ان مظاہروں میں 2022 کے احتجاجی مظاہرے اور نومبر 2022 میں آرمی چیف کی تعیناتی کے دوران ہونے والے مظاہرے شامل ہیں۔  لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے یہ تمام اقدامات سابق وزیراعظم عمران خان کے حکم پر کیے، جو  سیاسی جماعت پی ٹی آئی کے سربراہ ہیں۔  اصل مجرم پی ٹی آئی کی سیاسی قیادت ہے جس نے اس افسر کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو قانون کے تحت تمام قانونی حقوق فراہم کیے جا رہے ہیں اور ان کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس مقدمے کی کارروائی کے دوران انہیں اپنا دفاع کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔

    پاکستانی فوج نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی افسر کو فوجی ضوابط اور ریاست کے مفادات سے متصادم کارروائیوں میں ملوث ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس مقدمے کی کارروائی سے یہ پیغام ملتا ہے کہ ریاست کے مفاد میں کسی بھی شخص یا ادارے کو قانون کے دائرے میں لایا جائے گا،

    فیض حمید کے بغیر عمران خان کی سیاسی پیدائش نہیں ہو سکتی تھی،خواجہ آصف

    طاقتوروں کا وار کامیاب،یحییٰ آفریدی چیف جسٹس،فیض حمید کا فیصلہ چند دن میں

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں،فیض حمید کیخلاف ثبوتوں پر کاروائی ہو رہی، ترجمان پاک فوج

    فوج میں کڑے احتسابی نظام پر عملدرآمد استحکام کیلئے لازم ہے،آرمی چیف

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی

    شکریہ جنرل باجوہ،اہم معلومات ہاتھ لگ گئی،فیض ،عمران ،بشریٰ کا گٹھ جوڑ

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

    فیض حمید عبرت کا نشان،عمران کا نشہ بند، بشریٰ پر فیض کا فیض

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر نہ ڈرا ہوں نہ گھبرایا ہوں،عمران خان

    جنرل فیض حمید کا 30 سال تک قبضے کا منصوبہ،بغاوت ثابت؟

    فیض نیازی گٹھ جوڑ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کیسے توڑا تھا؟ اہم انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر خلیل قمر،عمر عادل خوش،اڈیالہ جیل سے جاسوس گرفتار

    گرفتاری کا خوف،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بیرون ملک فرار

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم

  • فیض حمید کو چارج شیٹ کر دیا گیا 9 مئی کے الزامات بھی شامل

    فیض حمید کو چارج شیٹ کر دیا گیا 9 مئی کے الزامات بھی شامل

    12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید (ر) کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی گئی،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے اگلے مرحلے میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید(ر) کوباضابطہ طور پر چارج شیٹ کردیا گیا ہے،ان چارجز میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزیاں کرتے ہُوئے ریاست کے تحفظ اور مفاد کو نقصان پہنچانا،اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال اور افراد کو ناجائز نقصان پہنچنانا شامل ہیں،فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے عمل کے دوران ملک میں انتشار اور بدامنی سے متعلق پرتشدد واقعات میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید(ر) کے ملوث ہونے سے متعلق علیحدہ تفتیش بھی کی جا رہی ہے،ان پرتشدد اور بدامنی کے متعدد واقعات میں 9 مئی سے جڑے واقعات بھی شامل تفتیش ہیں،ان متعدد پرتشدد واقعات میں مذموم سیاسی عناصر کی ایماء اور ملی بھگت بھی شامل تفتیش ہے،فیلڈجنرل کورٹ مارشل کے عمل کے دوران لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید (ر)کو قانون کے مطابق تمام قانونی حقوق فراہم کیے جا رہے ہیں،

    واضح رہے کہ ٹاپ سٹی کیس میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت رواں برس 12 اگست کو کارروائی شروع کرتے ہوئےفیض حمید کو فوجی تحویل میں لیا گیا تھا،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت مناسب انضباطی کارروائی کا آغاز کیا گیا ،سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے تفصیلی کورٹ آف انکوائری کی گئی، انکوائری پاک فوج نےفیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کیس میں شکایات کی درستگی کا پتا لگانے کیلئے کی گئی، فیض حمید کے خلاف ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ کی کئی خلاف ورزیاں ثابت ہوچکی ہیں،

    ٹاپ سٹی سکینڈل کیس میں جنرل فیض حمید کے خلاف انکوائری
    8 نومبر 2023 کو ٹاپ سٹی کے مالک معیز احمد خان نے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی جس میں انہوں نے آرٹیکل 184/3 کے تحت فائل کی گئی پیٹیشن میں یہ الزام لگایا کہ سابقہ DG ISI لیفٹننٹ جنرل فیض حمید نے اپنی اتھارٹی کو ان کے اور ان کی فیملی کے خلاف غیر قانونی طور پر استعمال کیا،معیز احمد خان کی طرف سے جو پٹیشن سپریم کورٹ میں فائل کی گئی اس میں یہ کہا گیا کہ 12 مئی 2017 کو جنرل فیض حمید کے کہنے پر آئی ایس آئی کے افیشلز نے ٹاپ سٹی آفس اور معیز احمد کے گھر پر چھاپہ مارا جس کے دوران اُن کے گھر سے قیمتی اشیاء جس میں گولڈ، ڈائمنڈ اور پیسے شامل ہیں، ریڈ کے دوران آئی ایس آئی آفیشلز اٹھا کر لے گئے – پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا کہ سابقہ DG ISI لیفٹیننٹ جنرل حمید فیض حمید کے بھائی سردار نجف نے اس مسئلے کو بعد میں حل کرنے کے لیے ان سے رابطہ بھی کیا – اس پٹیشن میں یہ کلیم بھی کیا گیا کہ جنرل فیض نے بعد میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ان سے خود ملاقات بھی کی جس میں انہوں نے یہ یقین دہانی دلائی کہ ان میں سے کچھ چیزیں جو کہ ریڈ کے دوران آئی ایس آئی کے آفیشلز ساتھ لے گئے تھے وہ ان کو واپس کر دی جائیں گی البتہ 400 تولہ سونا اور کیش ان کو واپس نہیں کیا جائے گا – پٹیشن میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ آئی ایس آئی آفیشلز نے ان سے زبردستی چار کروڑ روپیہ کیش بھی لیا – پٹیشن میں مختلف آئی ایس آئی آفیشلز اور سابقہ DG ISI جنرل فیض حمید کے بھائی سردار نجف پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ وہ ٹاپ سٹی کو غیر قانونی طور پر ٹیک اوور کرنا چاہتے تھے

    معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اور ان سنگین الزامات کی پاداش میں سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل بینچ جس میں چیف جسٹس اف پاکستان جسٹس قاضی فائض عیسی، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس امین الدین شامل تھے اس کیس کو سنا اور فیصلہ دیا کہ یہ کافی سنگین معاملہ ہے اور اس معاملے کی سنگین نوعیت ہونے کی وجہ سے ادارے کی عزت اور توقیر میں حرف آ سکتا ہے، اس لیے اس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا – معاملے کی مزید انویسٹیگیشن کے لیے سپریم کورٹ نے پٹیشنر کو یہ کہا کہ وہ اس مسئلے کو وزارت دفاع کے ساتھ اٹھائے – اٹارنی جنرل آف پاکستان نے اعلی عدلیہ کو یہ یقین دہانی دلائی کہ اس معاملے پر مکمل تعاون کیا جائے گا اور قانون کے مطابق اس کے اوپر ایکشن لیا جائے گا ،اعلی عدلیہ کے احکامات کے مطابق اور وزارت دفاع کی ہدایات کی روشنی میں، پاکستان فوج نے اپنے احتساب کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے تمام معاملات کو ایک ہائی لیول ادارتی انکوائری کے ذریعے انویسٹیگیٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا،ان سنگین الزامات کی تحقیق کرنے کے لیے اعلی سطحی انکوائری کمیٹی ایک میجر جنرل کی سربراہی میں بنائی گئی تھی، پاک فوج میں خود احتسابی کا ایک کڑا اور انتہائی شفاف نظام موجود ہے اور اسی نظام کو آگے بڑھاتے ہوئے ایسے تمام الزامات کی بڑی سنجیدگی کے ساتھ تفتیش کی جاتی ہے اور ذمہ داران کو کڑی سزائیں بھی دی جاتی ہیں تاکہ پاک فوج کے خود احتسابی کے شفاف عمل پر کوئی آنچ نہ آ سکے.

    فیض حمید کے بغیر عمران خان کی سیاسی پیدائش نہیں ہو سکتی تھی،خواجہ آصف

    طاقتوروں کا وار کامیاب،یحییٰ آفریدی چیف جسٹس،فیض حمید کا فیصلہ چند دن میں

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں،فیض حمید کیخلاف ثبوتوں پر کاروائی ہو رہی، ترجمان پاک فوج

    فوج میں کڑے احتسابی نظام پر عملدرآمد استحکام کیلئے لازم ہے،آرمی چیف

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی

    شکریہ جنرل باجوہ،اہم معلومات ہاتھ لگ گئی،فیض ،عمران ،بشریٰ کا گٹھ جوڑ

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

    فیض حمید عبرت کا نشان،عمران کا نشہ بند، بشریٰ پر فیض کا فیض

    فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر نہ ڈرا ہوں نہ گھبرایا ہوں،عمران خان

    جنرل فیض حمید کا 30 سال تک قبضے کا منصوبہ،بغاوت ثابت؟

    فیض نیازی گٹھ جوڑ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے کیسے توڑا تھا؟ اہم انکشافات

    فیض حمید کی گرفتاری پر خلیل قمر،عمر عادل خوش،اڈیالہ جیل سے جاسوس گرفتار

    گرفتاری کا خوف،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بیرون ملک فرار

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم

  • پی ٹی آئی فوج کو کمزور کرنا چاہتی ہے،عطا تارڑ

    پی ٹی آئی فوج کو کمزور کرنا چاہتی ہے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ فوجی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی بات ہو رہی ہے۔زیک گولڈسمتھ کی ٹویٹ کو بائیکاٹ کرنے کی بات نہیں کریں گے۔

    عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ پاکستانی فوج کے خلاف بیرونی ایجنڈے کا پرچار کر رہے ہیں۔ فلسطین پر ہونے والی اے پی سی میں بھی یہ شریک نہیں ہوئے۔گولڈسمتھ کی فنڈنگ نے انہیں فلسطین کے حق میں بات کرنے سے روکا۔ فوج کے جوان اس ملک کے وقار کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں۔ ہمیں اپنی فوج کی وجہ سے پوری دنیا میں عزت ملتی ہے،آپ کا ایجنڈا فوج کو کمزور کرنا اور انتشار پھیلانا ہے۔ہم کبھی 9 مئی کو بھولنے نہیں دیں گے۔ فوج کے خلاف پروپیگنڈا کر کے انتشار پھیلانا ان کی پالیسی ہے۔پی ٹی آئی پاکستان اور اس کی افواج کے خلاف بیرونی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، فوج اور عوام کے درمیان دراڑ پیدا کرنے والے ملک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، فوج اگر مضبوط ہے تو ملک مضبوط ہے، فوج مضبوط نہ ہو تو ملک بھی مضبوط نہیں ہوتا،بیرونی ممالک میں ہماری فوج کو مانا جاتا ہے، پی ٹی آئی فوج کو کمزور کرنا چاہتی ہے تاکہ بیرونی قوتیں اس سے فائدہ اٹھا سکے، آپریشن گولڈ سمتھ پوری دنیا جانتی ہے، یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں انتشار پیدا ہو،

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ سوال یہ ہے ڈی چوک سے کیوں دوڑ لگائی ؟فائنل کال کا مطلب ہوتا ہے بس اب ہم سب اڑا کر رکھ دیں گے تو سوال یہ ہے ڈی چوک سے کیوں دوڑ لگائی ؟ اس کا جواب نہیں ہے کہ دوڑ کیوں لگائی۔ تحریک انصاف صحافیوں کو آن لائن ہراساں کرنے کی ٹارگٹڈ مہم چلا رہی ہے،صحافیوں کو ہراساں کرنے کیلئے پی ٹی آئی کی یہ ٹارگٹڈ کمپین ہے پی ایف یو جے نے بھی صحافیوں کی آن لائن ہراسمنٹ کی مذمت کی ہے۔ مذموم مہم کا مقصد صحافیوں کو نقصان پہنچانا ہے۔پی ٹی آئی تقسیم اور اختلافات کا شکار ہے خیبر پختونخوا حکومت اور ان کے وزراء نے عمران خان کی سول نافرمانی پر عمل درآمد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • آرمی چیف سے کیمبرین پٹرول گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کی ملاقات

    آرمی چیف سے کیمبرین پٹرول گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کی ملاقات

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے کیمبرین پٹرول میں طلائی تمغہ جیتنے والی پاک فوج کی ٹیم کی ملاقات ہوئی ہے،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ٹیم کے ارکان کو شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔

    کیمبرین پٹرول کی مشق 4 سے 13 اکتوبر 2024 تک برطانیہ میں منعقد ہوئی تھی اور اسے عالمی سطح پر سب سے مشکل ترین فوجی مشقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔اس سال کی مشق میں 143 ممالک کی افواج کی ٹیموں نے حصہ لیا، اور پاک فوج کے دستے نے ایک بار پھر اپنی بے مثال مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھٹی بار طلائی تمغہ اپنے نام کیا۔ اس فتح نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی افواج کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے اور قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اس موقع پر کہا کہ "کیمبرین پٹرول میں جیت نہ صرف پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور جذبے کی علامت ہے، بلکہ یہ عالمی سطح پر پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے۔ اس شاندار کامیابی کے ذریعے ہماری افواج نے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔”آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے مزید کہا کہ "پاک فوج کے جوانوں نے اپنی قربانیوں اور محنت سے دنیا کو یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ پاکستان کی افواج نہ صرف مضبوط ہیں بلکہ ان کی تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت بے نظیر ہے۔”

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کیمبرین پٹرول میں جیتنے والی ٹیم کے ارکان کو ان کی محنت اور عزم کے لئے شاباش دی اور ان کی کامیابی کو قوم کے لیے ایک عظیم اعزاز قرار دیا۔

    کیمبرین پٹرول ایک انتہائی دشوار گزار فوجی مشق ہے جس میں دنیا بھر کی افواج اپنی جسمانی، ذہنی، اور تکنیکی صلاحیتوں کا امتحان لیتی ہیں۔ یہ مشق برطانیہ کے دیہی علاقوں میں منعقد کی جاتی ہے اور افواج کے درمیان سخت مقابلے کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس میں حصہ لینے والے دستوں کو جنگی ماحول میں مختلف مشکل ترین حالات سے نمٹنا پڑتا ہے، جس کے دوران ان کی فنی مہارت، جسمانی طاقت، اور ٹیم ورک کا سختی سے امتحان لیا جاتا ہے۔پاکستانی فوج کا یہ کامیابی کا تسلسل پاکستان کی فوجی صلاحیتوں کی دنیا بھر میں پہچان بن چکا ہے، اور یہ ملک کی دفاعی قوت کی ایک اور بڑی مثال ہے۔

  • ڈی آئی خان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی،دو خوارجی ہلاک ایک گرفتار

    ڈی آئی خان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی،دو خوارجی ہلاک ایک گرفتار

    راولپنڈی: ڈی آئی خان کے علاقے کولاچی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں دو خوارجی ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی: آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے آپریشن کے دوران ہلاک دہشت گردوں سے گولیاں اور ہتھیار بھی برآمد ہوئے ہیں، سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں دیگر دہشت گردوں کی تلاش کے لیے سینٹائزڈ آپریشن شروع کر دیا ہے سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

  • فورسز کے خیبرپختونخوا میں 3 مختلف آپریشن، 6 جوان شہید، 22 خارجی ہلاک

    فورسز کے خیبرپختونخوا میں 3 مختلف آپریشن، 6 جوان شہید، 22 خارجی ہلاک

    فورسز کے خیبرپختونخوا میں 3 مختلف آپریشن، 6 جوان شہید، 22 خارجی ہلاک ہو گئے،

    6 اور 7 دسمبر 2024 کو خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے خلاف تین مختلف کارروائیوں میں 22 خوارج کو جہنم واصل کر دیا۔ ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور متعدد دہشت گردوں کو مار ڈالا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ٹانک ضلع کے علاقے گُل امام میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا جس میں خوارج کی موجودگی کی اطلاعات ملنے پر فورسز نے اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں 9 خوارج مارے گئے، جبکہ 6 خوارج زخمی ہو گئے۔ اس آپریشن کے دوران فورسز نے علاقے میں موجود دہشت گردوں کا صفایا کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

    دوسری کارروائی شمالی وزیرستان کے علاقے میں کی گئی، جہاں سیکیورٹی فورسز نے مزید 10 خوارج کو کامیابی سے ہلاک کیا۔ یہ آپریشن بھی خوارج کے خلاف تھا جو علاقے میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ اس کامیاب آپریشن نے علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کی۔

    تیسری کارروائی تھل ضلع میں کی گئی، جہاں خوارج نے سیکیورٹی فورسز کے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی فورسز نے اس حملے کو ناکام بنا دیا اور 3 خوارج کو ہلاک کر دیا۔ تاہم، اس دوران ہونے والی شدید فائرنگ کے تبادلے میں 6 بہادر پاکستانی سپاہیوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ یہ بہادر جوان اس لڑائی میں شجاعت سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے، جنہوں نے اپنے وطن کے لیے جان کی قربانی دی۔

    پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ان کامیاب آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے خلاف اپنے عزم کو ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے۔ فورسز کی جانب سے علاقے میں دیگر دہشت گردوں کی موجودگی کے حؤالہ سے آپریشن جاری ہیں تاکہ کسی بھی خوارج کو محفوظ پناہ گزینی کا موقع نہ ملے اور دہشت گردی کی لعنت کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جا سکے۔

    پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دہشت گردی اور خوارج کی موجودگی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا، اور ان کے بہادر جوانوں کی قربانیاں ہماری قوم کے حوصلے اور عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ یہ قربانیاں نہ صرف ہمارے سپاہیوں کی بہادری کا غماز ہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں ہمارے عزم کی گواہی بھی دیتی ہیں۔

  • میجر شبیر شریف واحد فوجی جوان، جنھیں دو بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر ،ستارہ جرات عطا

    میجر شبیر شریف واحد فوجی جوان، جنھیں دو بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر ،ستارہ جرات عطا

    میجر شبیر شریف شہید (نشانِ حیدر)کا 53 واں یومِ شہادت.آج میجر شبیر شریف شہید کا یومِ شہادت پوری عقیدت اور احترام سے منایا جا رہا ہے.

    ملک بھر کی مساجد میں قرآن خوانی اور دعاؤں کا اہتمام کیا گیا علماء کرام نے شہید کے درجات کی سربلندی کیلئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا.علما کرام کا کہنا تھا کہ شہداء کو بھولنے والی قوموں کا تاریخ میں نام لینے والا کوئی نہیں ہوتا، میجر شبیر شریف شہید دھرتی کا بہادر بیٹا تھا جو ہمیشہ ہر دل میں زندہ رہے گا،

    میجر شبیر شریف شہید(نشانِ حیدر)کا53واں یومِ شہادت.میجر شبیر شریف 28 اپریل 1943ء کو ضلع گجرات کے گاؤں کُنجاہ میں پیدا ہوئے.میجر شبیر شریف نے اپریل 1964 میں کمیشن حاصل کیا ، میجر شبیر شریف کوپاسنگ آؤٹ پریڈ میں ”اعزازی شمشیر” سے نوازا گیا.میجر شبیر شریف واحد فوجی جوان ہیں جنھیں دو بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر اور ستارہ جرات عطاء کئے گئے.6دسمبر کو میجر شبیر شریف نے دشمن کا ایک اور جوابی حملہ پسپا کیا .اس دوان43بھارتی فوجیوں کو ہلاک ،38کو جنگی قیدی اور4ٹینک تباہ کیے .میجر شبیر شریف بھارتی ٹینک کے گولے کا نشانہ بن کر شہادت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہو ئے .آپ کی اس بے مثال جرات اور بہادری کے صلے میں حکومت پاکستان نے آپ کو نشان حیدر کے اعزاز سے نوازا

    میجر شبیر شریف کا یوم شہادت، صدر مملکت، وزیراعظم کا خراج تحسین پیش
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر کو 53ویں یوم شہادت پر خراج عقیدت پیش کیا،صدر آصف علی زرداری نے میجر شبیر شریف شہید کی جرات اور بہادری کو سراہا اور کہا کہ میجر شبیر شریف شہید نے 1971 میں دشمن کا جوانمردی سے مقابلہ کیا.میجر شبیر شریف شہید جیسے بہادر افسران پر پوری قوم کو فخر ہے.میجر شبیر شریف شہید نے مادر وطن کے دفاع کیلئے جان کا نذرانہ پیش کیا.پوری قوم میجر شبیر شریف کو وطن کیلئے قربانی اور بہادری پر سلام پیش کرتی ہے.قوم تمام شہداء کی قربانیوں کی معترف ہے، اُنہیں فراموش نہیں کرے گی.

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نےمیجر شبیر شریف شہید نشان حیدر کے 53ویں یوم شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر جرآت و بہادری کی عمدہ مثال تھے.1971 کی جنگ میں میجر شبیر شریف شہید نے سلمانکی میں دشمن کی پیش قدمی کو روکے رکھا.میجر شبیر شریف شہید نے نہ صرف اپنے ہدف کی حفاظت کی، دشمن کے ٹینکوں کو ٹینک شکن رائفل سے ناکارہ بنایا بلکہ کمپنی کمانڈر سمیت دشمنوں کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا.طاقت کے نشے میں چور اپنی عددی برتری کے باوجود دشمن، میجر شبیر شریف شہید کی موثر مدافعت کا مقابلہ نہ کر سکا.میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر نے مادر وطن کی حفاظت کی خاطر جام شہادت نوش کیا.میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر کا وطن سے محبت اور دفاعِ وطن کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہ کرنے کا جذبہ نوجوان نسل کیلئے قابل تقلید ہے.میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر کے جذبہ حب الوطنی اور فرض شناسی نے دشمن کی عددی برتری کو خاک میں ملا دیا.مجھ سمیت پوری قوم کو میجر شبیر شریف شہید نشان حیدر اور انکے اہل خانہ پر فخر ہے.پاکستان کی غیور قوم دفاعِ وطن کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پاک فوج کے بہادر و جری جوانوں کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کر سکتی.میجر شبیر شریف شہید کی فرض شناسی اور وطن سے وفاداری کی مثال رہتی دنیا تک آئندہ نسلوں کو متاثر کرتی رہے گی.

  • میجر شبیر شریف شہید کا 53واں یوم شہادت، سروسز چیفس اور افواج پاکستان کا خراج عقیدت

    میجر شبیر شریف شہید کا 53واں یوم شہادت، سروسز چیفس اور افواج پاکستان کا خراج عقیدت

    راولپنڈی: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، سروسز چیفس اور افواج پاکستان نے میجر شبیر شریف شہید ( نشان حیدر )کے 53ویں یوم شہادت پر انہیں زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔

    باغی ٹی وی : آئی ایس پی آر کے مطابق 1971 ء کی جنگ کے دوران میجر شبیر شریف جنہیں 1965 کی جنگ میں ان کی بہادری کے لیے ستارۂ جرات سے بھی نوازا گیا تھا ، کو سلیمانکی ہیڈ ورکس کے قریب تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم اونچی جگہ کو محفوظ بنانے کا کام سونپا گیا تھا۔ 5/6 دسمبر کی رات، انہوں نے 4 جاٹ رجمنٹ کے کمپنی کمانڈر میجر نارائن سنگھ کو ختم کر کے بے مثال ہمت کا مظاہرہ کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق 6 دسمبر کو انہوں نے دشمن کے بار بار ہونے والے جوابی حملوں کو بہادری سے پسپا کیا، انہوں نے آگے بڑھتے ہوئے ٹینکوں کو تباہ کیامقصد کو کامیابی سے حاصل کرنے اور پے در پے حملوں کے خلاف دفاع کرتے ہوئے میجر شبیر شریف شہید نے بھارتی ٹینک کے گولے کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق میجر شبیر شریف شہید کی غیر معمولی جرأت، غیر متزلزل لگن اور عظیم قربانی حب الوطنی اور عسکری مہارت کے اعلیٰ ترین نظریات کی مظہر ہے۔ انہوں نے تاریخ میں اپنی میراث کو اپنے خون سے نقش کیا اور مادر وطن کا زبردست مشکلات سے دفاع کیا، ایک شکرگزار قوم کے طور پر، ہم اپنے ان بہادر ہیروز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے فرض کی ادائیگی میں لازو ا ل قربانیاں دیں ان کی ناقابل تسخیر روح نسلوں کو متاثر کرتی رہتی ہے، اور ان کی یاد تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ رہتی ہے۔

  • معرکہ ہلی ، میجر محمد اکرم شہید کی بہادری اور جوانمردی کی  داستان

    معرکہ ہلی ، میجر محمد اکرم شہید کی بہادری اور جوانمردی کی داستان

    میجر ملک محمد اکرم 4 اپریل 1938ء کو کھاریاں کے گاؤں ڈنگہ میں پیدا ہوئے.میجر محمد اکرم نے 1961ء میں فوج میں شمولیت اختیار کی. میجر محمد اکرم 4 فرنٹئیر فورس رجمنٹ کا حصہ بنے اور 1970 میں میجر کے رینک پر فائز ہوئے.1971ءکی پاک بھارت جنگ کے دوران میجر محمد اکرم مشرقی پاکستان میں ہلی کے محاذ پر تھے.دُشمن کے ایک بریگیڈ نے آپ کی کمپنی کے دفاعی حصار کو توڑنے کیلئے متعدد حملے کئے.بھارتی فوج کی عددی برتری کے باوجود آپ کی کمپنی نے مسلسل14دن تک دشمن کے ہر حملے کو ناکام بنایا.بھرپور مزاحمت کے نتیجے میں بھارتی فوج مادرِ وطن کے ایک اِنچ پر بھی قبضہ کرنے کی جرأت نہ کر سکی .میجر محمد اکرم دفاعِ وطن کے اِس معرکے میں شہید ہو گئے.آپ کی بے مثال جرأت ، دلیری اور بے باکی کا اعتراف بھارتی کمانڈر انچیف نے بھی کیا.

    میجر محمد اکرم شہید (نشانِ حیدر)کا53واں یومِ شہادت.آج میجر محمد اکرم شہید کا یومِ شہادت پوری عقیدت اور احترام سے منایا جا رہا ہے.دن کا آغاز مساجد میں قرآن خوانی اور دعاؤں کے ساتھ ہوا.علماء کرام نے شہید کے درجات کی سربلندی کیلئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا. علما کرام کا کہنا تھا کہ زندہ قومیں اپنے محسنوں کے احسانات کو فراموش نہیں کرتیں، میجر محمد اکرم شہید دھرتی کا بہادر بیٹا تھا جو ہمیشہ ہر دل میں زندہ رہے گا

    میجر محمد اکرم شہید نے وطن کیلئے عظیم قربانی پیش کی.صدر مملکت
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کو 53 ویں برسی پر خراج عقیدت پیش کیا،صدر مملکت نےمیجر محمد اکرم شہید کو دفاع وطن کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے پر قوم کی جانب سے سلام پیش کیا صدر مملکت نے میجر محمد اکرم شہید کے جذبہ حب الوطنی، قوم کیلئے خدمات کو سراہا اور کہا کہ میجر محمد اکرم شہید نے وطن کیلئے عظیم قربانی پیش کی.پوری قوم اپنے شہداء اور اُنکے خاندانوں کی احسان مند رہے گی.قوم اپنے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے، قربانیاں فراموش نہیں کرے گی.صدر مملکت نے میجر محمد اکرم شہید کیلئے بلندی درجات کی دعا کی.

    میجر محمد اکرم شہید نے دشمن کی عددی برتری کی پرواہ کئے بغیر اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا.وزیراعظم
    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نےمیجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کے 53ویں یوم شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ میجر محمد اکرم شہید نے مشرقی پاکستان میں لڑتے ہوئے جرآت و بہادری کی لازوال مثال قائم کی. میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر نے دشمن کی عددی برتری کی پرواہ کئے بغیر اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا. میجر محمد اکرم شہید نے فرض شناسی اور وطن سے عہد وفاء کی ایسی مثال قائم کی جو نوجوان نسل کیلئے قابل تقلید ہے. مجھ سمیت پوری قوم کو پاک فوج کے شہداء اور ان کے اہل خانہ پر فخر ہے.وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے وطن کے عظیم بیٹوں کیلئے پوری قوم کے عقیدت کے جذبات ہیں.پاکستانی قوم اپنے شہداء اور انکے اہل خانہ کی وطن کے دفاع کیلئے دی گئی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر ے گی.

  • دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانا اولین ترجیح ہے،آرمی چیف

    دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانا اولین ترجیح ہے،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرنے آج پشاور کا دورہ کیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ 19 نومبر 2024 کو ہونے والے نیشنل ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے تسلسل اور جلد منعقد ہونے والی صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی تیاری کے سلسلے میں کیا گیا۔دورےکے دوران آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو علاقے کی موجودہ سیکورٹی صورتحال اور جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز کی پیش رفت پر جامع بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور فیلڈ کمانڈرز بھی موجود تھے۔

    شہداء اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے مادر وطن کے دفاع کے لیے دی جانے والی بے مثال قربانیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ قربانیاں قومی استقامت کی بنیاد ہیں جو مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حوصلہ افزائی اور غیر متزلزل عزم کا مظہر ہیں۔آرمی چیف نے جوانوں کے بلند حوصلے، عملی تیاری اور مختلف خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے غیر متزلزل عزم کی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فوج دشمن دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے غیر قانونی عناصر کا قلع قمع کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے دہشت گردی کے خلاف قوم اور سیکیورٹی فورسز کے اجتماعی عزم کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دشمن عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنانا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مربوط اور مضبوط آپریشنز کے ذریعے پاک فوج قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر امن کے دشمنوں کا پیچھا کرے گی تاکہ دیرپا استحکام اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔قبل ازیں پشاور آمد پر آرمی چیف کا استقبال کور کمانڈر پشاور نے کیا۔