Baaghi TV

Tag: پاک فوج

  • بنوں،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،3 خارجی جہنم واصل،دو زخمی

    بنوں،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،3 خارجی جہنم واصل،دو زخمی

    بنوں میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 3 خوارج جہنم واصل اور 2 زخمی ہو گئے ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر بنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا ، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں 3 خوارج ہلاک اور 2 زخمی ہوئے ہیں،یکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کا مؤثر انداز میں پتہ لگایا اور کارروائی کی،جہنم واصل ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کرلیا گیا ہے، ہلاک خوارج سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں اور معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے، علاقےمیں پائے جانے والے کسی اور خارجی کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن بھی کیا گیا۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری نےبنوں میں خوارج کے خلاف کامیاب کاروائی پر سیکورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے، صدر مملکت نےکارروائی کے دوران 3 خوارج جہنم واصل، 2 زخمی کرنے پر سیکورٹی فورسز کی بہادری کو سراہا۔صدر مملکت نےفتنۃ الخوارج کے خاتمے تک سیکورٹی فورسز کی جانب سے کاروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا.

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بنوں میں کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انسانیت کے ان دشمنوں کے مذموم عزائم کو اس طرح خاک میں ملاتے رہیں گے۔ حکومت ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے متحرک ہے،مکمل خاتمے تک دہشتگردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

  • آرمی چیف کا ”آئیڈیاز 2024“ کا دورہ

    آرمی چیف کا ”آئیڈیاز 2024“ کا دورہ

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرنے کراچی ایکسپو سینٹر میں بین الاقوامی دفاعی نمائش اور سیمینار کا دورہ کیا۔

    دورے کے دوران، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے دوست ممالک کے دفاعی مینوفیکچررز کی فعال شرکت کو سراہا۔نمائش میں کل 557 نمائش کنندگان شرکت کر رہے ہیں جن میں سے 333 بین الاقوامی نمائش کنندگان ہیں جبکہ 224 ملکی نمائش کنندگان ہیں۔ 36 ممالک نے نمائش کنندگان کے اسٹالز لگائے جن میں سے 17 ممالک پہلی بار شرکت کر رہے ہیں۔تقریب میں 53 ممالک کے 300 سے زائد غیر ملکی مندوبین نے شرکت کی اور نمائش اور پاکستان کی دفاعی صنعت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

    نمائش کے دوران، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے تقریب میں موجود غیر ملکی فوجی حکام اور دفاعی مندوبین کے ساتھ بامعنی بات چیت بھی کی،نمائش میں پاکستان کی طرف سے تیار کردہ جدید ترین ڈرون ”شاہپر تھری“ کی خاص نمائش کی گئی، یہ ڈرون 35,000 فٹ کی بلندی تک پرواز کر سکتا ہے اور 24 گھنٹے تک مسلسل پرواز کر سکتا ہے۔ شاہپر تھری بموں، میزائلوں اور ٹارپیڈو جیسے گولہ بارود کو لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

    آئیڈیاز 2024 کا 12 واں ایڈیشن 19 نومبر کو شروع ہوا اور 22 نومبر 2024 کو اختتام پذیر ہوگا۔قبل ازیں آرمی چیف کی کراچی آمد پر کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے پرتپاک استقبال کیا۔

    مایوسی پھیلانے اور ڈیفالٹ کی باتیں کرنے والے آج کدھر ہیں؟ کیاان کو جواب دہ نہیں ٹھہرانا چاہیے؟آرمی چیف
    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے شہر قائد کراچی میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مایوسی پھیلانے اور ڈیفالٹ کی باتیں کرنے والے لوگ آج کدھر ہیں؟ کیاان کو جواب دہ نہیں ٹھہرانا چاہیے؟ مجھے پاکستان کے روشن اور مستحکم مستقبل پر کامل یقین ہے، ایک سال پہلے چھائے ہُوئے مایوسی کے بادل آج چھٹ چکے ہیں،میں نے گزشتہ نشست میں بھی کہا تھا کہ "مایوسی مسلمان کے لیے حرام ہے”،آج پاکستان کی معیشیت کے تمام اعشاریے مثبت ہیں، اگلے برس تک انشاء اللہ مزید بہتر ہوں گے،کوئی چیز بشمول سیاست ملک سے مقدم نہیں، ہم سب کو ذاتی مفاد پر پاکستان کو ترجیح دینی چاہیے، ریاست ماں کی طرح ہے اور اس کی قدر لیبیا، عراق اور فلسطین کے عوام سے پوچھنی چائیے،یاد رکھیں ! پاکستان کے علاوہ ہماری کوئی شناخت نہیں ہے، جتنی بھی مشکلات ہوں اگر ہم سب مل کر کھڑے ہو جائیں تو کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا، آپ اپنا پیسہ لے کر پاکستان آئیں، عوام بھی کمائے اور ملک بھی ترقی کرے،دہشت گردی کی پشت پناہی غیر قانونی کاروبار والے کرتے ہیں جن کے پیچھے مخصوص عناصر ہوتے ہیں، پاکستان کی ڈیجیٹل سرحدوں کی حفاظت اور عوام کی ڈیجیٹل سیکیورٹی ریاست کی ذمہ داری ہے،

  • دہشتگردی کیخلاف جنگ میں فوج کی قربانیاں اور حکومتی ناکامیاں

    دہشتگردی کیخلاف جنگ میں فوج کی قربانیاں اور حکومتی ناکامیاں

    پاکستان فوج دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑ رہی ہے، جہاں فتنہ الخوارج اور بلوچ دہشت گردوں جیسے خطرات پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، وہیں حکومتی ناکامیاں اس مشن میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے بہادر سپاہی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، لیکن بدعنوانیوں، اسمگلنگ اور منشیات کی غیر قانونی تجارت جیسے مسائل نے دہشت گردی کے خلاف پیش رفت کو کمزور کر دیا ہے۔ تحریک طالبان اور بیرونی دشمن عناصر کی پشت پناہی ان دہشت گردوں کے حوصلے بڑھا رہی ہے۔

    دوسری طرف، سیاسی میدان میں انتشار نے قوم کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے بار بار احتجاجی کالز اور 24 نومبر کی احتجاجی مہم سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر بحث کا موضوع بن گئی ہیں، جبکہ فوج اپنے 60 سے زائد جوانوں کی قربانی دے چکی ہے جو کہ ایک مختصر مدت میں ایک بڑا نقصان ہے۔دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ پوری قوم کا اجتماعی فریضہ ہے۔ حکومتی کمزوریوں کو دور کرنا، اداروں کو متحد کرنا، اور اس فتنے کے خلاف ایک مشترکہ محاذ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پاکستان موجودہ چیلنجز کے پیش نظر مزید تقسیم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنی صفوں کو مضبوط کرتے ہوئے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

    عدلیہ کی توجہ سیاسی مقدمات پر،دہشتگردوں کو سزائیں کون دے گا؟
    پاکستان میں گورننس کی صورت حال اس وقت ایک سنگین بحران کا شکار ہے۔ عدلیہ کی موجودہ فعالیت پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جہاں ایک سیاسی جماعت کے کیسز نمٹانے میں زیادہ وقت صرف کیا جا رہا ہے، جب کہ ملک میں دیگر اہم مسائل، خصوصاً دہشت گردی اور سیکیورٹی کی صورتحال پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عدلیہ کا کردار انتہائی اہم ہے، مگر جب قومی سلامتی اور امن و امان کا مسئلہ درپیش ہو، تو عدلیہ کو صرف سیاست کے کیسز تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔

    دہشت گردی کے خاتمے کا حل تیز تر انصاف، فوجی عدالتیں
    دوسری جانب، دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ گزشتہ دس دنوں میں تقریباً 60 جوانوں کی شہادت نے نہ صرف ان خاندانوں کی زندگیوں کو تباہ کیا ہے بلکہ یہ ایک علامت بن چکی ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے سامنے بے بس ہیں۔ 60 لاشیں اور 60 برباد خاندان ایک سنگین حقیقت ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کی لہر کس قدر شدت اختیار کر چکی ہے۔ ان تمام معاملات میں فوج تنہا ہے۔ فوج کے جوان اپنی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں، لیکن ان کے سامنے اس وقت ایک بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ ملک میں فوجی عدالتیں نہیں ہیں، جو دہشت گردوں کو تیزی سے سزا دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس کی وجہ سے دہشت گردوں کی جرات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ عدلیہ ان معاملات میں فیصلہ کرنے سے ڈرتی ہے۔ جب تک عدلیہ اور حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے، دہشت گردی کی لہر میں مزید اضافہ ہوتا جائے گا۔

    یہ صورتحال ایک چیلنج ہے جس کا حل صرف عدلیہ یا پولیس کے ذریعے نہیں نکالا جا سکتا۔ حکومت، عدلیہ، اور سیکیورٹی اداروں کو مل کر اس بحران کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اگر ہم گورننس کی بہتری، عدلیہ کے کردار اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی پر توجہ نہ دیں تو یہ مسائل مزید پیچیدہ ہو جائیں گے، اور ملک کے استحکام کے لئے یہ سنگین خطرہ بن سکتے ہیں

    دہشتگردی کی نئی لہر،ذمہ دار کون؟فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت

    ضمانت تو مل گئی پر عمران کی رہائی کا دور دور تک امکان نہیں

    عمران خان کی ضمانت،ریلیف عارضی،توشہ خانہ میں سزا کا امکان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ بی بی پر اراکین کا عدم اعتماد

    بشریٰ بی بی کی ویڈیو”لیک”ہونے کا خطرہ

    24 نومبر کےجلسے کی حتمی کامیابی کیلئے خواجہ آصف کا عمران خان اور بشریٰ کو مشورہ

    24 نومبر احتجاج:بشریٰ بی بی کی تمام اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ 5 ہزار افراد لے کر آنے کی ہدایت

    بشریٰ بی بی کا "جادو” نہ چل سکا، پشاور میں پی ٹی آئی رہنما عہدے سےمستعفی

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

    بشریٰ اور علیمہ میں پھر پارٹی پر قبضے کی جنگ،پارٹی رہنما پریشان

  • بنوں حملہ، قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت

    بنوں حملہ، قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت

    بنوں کے علاقے میں پیش آنے والے المناک حملے نے پورے ملک کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ اس دلخراش واقعے میں 12 بہادر جوان شہید ہو گئے، جو ملک و ملت کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔فتنہ الخوارج کی دہشت گردانہ کاروائیاں بیرونی دشمنوں کی آشیرباد سے ہو رہی ہیں، فتنہ الخوارج کے بڑھتے حملوں کو روکنے اور انکی سازشوں کو ناکام کرنے کے لئے پھر سے آپریشن ضرب عضب ،رد الفساد کی ضرورت ہے،کسی قسم کی نرمی ان دہشت گردوں اور انکے حامیوں کے خلاف نہیں ہونی چاہئے جو ملکی سلامتی کے دشمن ہیں اور آئے روز خیبر پختونخوا و بلوچستان میں حملے کر رہے ہیں.

    بنوں میں شہید ہونے والے جوان ہمارے اصل ہیرو ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں مادر وطن کی حفاظت کے لیے وقف کر دی تھیں۔ ان کا عزم اور قربانی ہماری آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ دشمن کی بزدلانہ کارروائیاں ہمارے بہادر سپاہیوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔بنوں حملے میں شہید ہونے والے جوان صرف ایک ادارے کے سپاہی نہیں بلکہ پوری قوم کے سپوت ہیں۔ ان کی قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ملک کی حفاظت صرف افواج کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کا فرض ہے۔ ہمیں متحد ہو کر ان عناصر کا مقابلہ کرنا ہوگا جو امن و امان کو تباہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ہم سب پر یہ اخلاقی فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم ان شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوں، ان کے غم کو بانٹیں اور انہیں یقین دلائیں کہ ان کے پیاروں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ شہداء کے خاندانوں کو ہر ممکن امداد فراہم کریں تاکہ ان کے لیے زندگی کے مسائل آسان ہو سکیں۔

    بنوں میں دہشت گردوں کا بزدلانہ حملہ ہمیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ قومی اتحاد اور یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہمیں مذہبی، سیاسی اور معاشرتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک قوم بننا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ان شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے خاندانوں کو صبر و حوصلہ دے۔ ساتھ ہی یہ امید بھی رکھتے ہیں کہ قوم ان قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے گی۔شہیدوں کی قربانیوں کا یہ پیغام ہمیشہ زندہ رہے گا کہ "ہم زندہ قوم ہیں۔”

  • بنوں، خوارج کا چیک پوسٹ پر حملہ،12 جوان شہید

    بنوں، خوارج کا چیک پوسٹ پر حملہ،12 جوان شہید

    بنوں میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے خود کش حملہ کیا، جس کے دوران 12 اہلکار شہید ہو گئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، بنوں کے ایک علاقے میں خوارج نے سکیورٹی فورسز کی مشترکہ چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش کی۔ دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 6 خوارج مارے گئے، جبکہ ان کی جانب سے کیے گئے خودکش حملے میں سکیورٹی فورسز کے 12 اہلکار شہید ہو گئے۔ شہید ہونے والوں میں 10 سکیورٹی اہلکار اور 2 فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار شامل ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے خوارج کے حملے کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور مزاحمت کی اور ان کی چیک پوسٹ میں داخل ہونے کی کوشش کو کامیابی سے روک دیا۔ تاہم، خوارج نے اپنی ناکامی کے بعد بارود سے بھری ہوئی گاڑی کو چیک پوسٹ کی دیوار سے ٹکرا دیا۔خودکش دھماکے کے نتیجے میں چیک پوسٹ کی دیوار کا ایک حصہ گر گیا اور قریبی انفرااسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا، جس سے 12 شہادتیں ہوئیں۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کے بہادر سپوتوں کی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف عزم مزید مضبوط کرتی ہیں،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قانون نافذ کرنے والے ادارے پرعزم ہیں،دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا جائے گا،امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    بنوں حملے میں شہدا کی تفصیلات سامنے آ گئیں
    صوبیدار عمران احمد فاروقی شہید کا تعلق ضلع گوجرانوالہ سے ہے،صوبیدار عمران احمد فاروقی شہید کی عمر 44 سال ہے،شہید نے 25 سال پاک فوج میں رہتے ہوئے دفاع وطن کا فریضہ سرانجام دیا،شہید نے سوگواران میں اہلیہ، بیٹا اور بیٹی چھوڑی ہیں۔
    29 سالہ حوالدار محمد جاوید اقبال شہید کا تعلق ضلع سرگودھا سے ہے،حوالدار محمد جاوید اقبال نے 14 سال پاک فوج میں رہتے ہوئے دفاع وطن کا فریضہ سرانجام دیا،شہید کے سوگواران میں اہلیہ ، چار بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔
    34 سالہ نائیک طہماس احمد شہید کا تعلق ضلع ایبٹ آباد سے ہے، نائیک طہماس احمد شہید نے 15 سال پاک فوج میں گزارے، نائیک طہماس احمد شہید کے سوگواران میں والدین، اہلیہ اور ایک بیٹی شامل ہیں۔
    39 سالہ نائیک باسط فرید شہید کا تعلق ضلع ہری پور سے ہے،نائیک باسط فریدشہید نے 17 سال تک دفاع وطن کا مقدس فریضہ سرانجام دیا،شہید کے سوگواران میں والد، اہلیہ اور بیٹا شامل ہیں۔
    33 سالہ سپاہی صفدر علی شہید کا تعلق ضلع بارکھان سے ہے،سپاہی صفدر علی شہید نے 13 سال پاک فوج میں گزارے،سپاہی صفدر علی شہید کے سوگواران میں اہلیہ ، بیٹا اور بیٹی شامل ہیں۔
    32 سالہ سپاہی اسد بشیرشہید کا تعلق ضلع کوہلو سے ہے،سپاہی اسد بشیر شہید نے 13 سال تک وطن عزیز کا دفاع کیا،شہید کے سوگواران میں والدین اور اہلیہ شامل ہیں۔
    38 سالہ سپاہی اعجاز حسین شہید کا تعلق ضلع ڈیرہ غازی خان سے ہے،سپاہی اعجاز حسین شہید نے 13 سال پاک فوج میں گزارے،شہید کے سوگواران میں اہلیہ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔
    23 سالہ سپاہی عاطف خان شہید کا تعلق ضلع میانوالی سے ہے،سپاہی عاطف خان شہید نے ایک سال پاک فوج میں گزارا،سپاہی عاطف خان شہید کے سوگواران میں والدین شامل ہیں۔
    30 سالہ سپاہی امان اللہ شہید کا تعلق ضلع کرک سے ہے،سپاہی امان اللہ شہید نے 8 سال تک وطن عزیز کا دفاع کیا،سپاہی امان اللہ شہید کے سوگواران میں اہلیہ، تین بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔
    22 سالہ سپاہی شاہ زمان شہید کا تعلق ضلع لوئر دیر سے ہے،سپاہی شاہ زمان شہید نے پاک فوج میں ایک سال گزارا۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے بنوں میں خوارج دہشتگردوں کے حملے میں 12 جوانوں کی شہادت پر اِظہار افسوس کیا ہے،صدر مملکت نےدفاع وطن میں جان کا نذرانہ پیش کرنے پر پاک فوج کے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا ، صدر مملکت آصف زرداری کا کہنا تھا کہ پوری قوم مادر وطن کی سلامتی کیلئے جامِ شہادت نوش کرنے والوں کو سلام پیش کرتی ہے، صدر مملکت نےدہشتگردی کی لعنت کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا، صدر مملکت نےدہشتگردی کے واقعے میں شہادت پانے والے جوانوں کیلئے بلندی درجات کی دعا کی،صدر مملکت نے شہداء کے لواحقین کے ساتھ اِظہار افسوس کیا اور صبر جمیل کی دعا کی،

    فتنہ الخوارج کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بنوں میں سیکیورٹی فورسز اورایف سی اہلکاروں کی شہادت پر اظہار افسوس کیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنے والے فتنہ الخوارج کو بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ملک سے دہشتگردی کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی،

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بنوں کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر خوارجی دہشتگردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے جام شہادت نوش کرنے والے 12 جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہید جوانوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ہے، محسن نقوی نے کہا کہ وطن کے بہادر سپوتوں نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔وطن کے امن کی خاطر جانیں نچھاور کرنے والے پاک فوج کے جوان قوم کے ہیرو ہیں،شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ساتھ نبھائیں گے۔

    سینئر مرکزی رہنما مسلم لیگ ن چوہدری نعیم کریم کا کہناہے ، بنوں مالی خیل میں چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کی حملے کی کوشش ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، 12 جوانوں کی شہادت پر قوم کو فخر ہے، سکیورٹی فورسز کی شہادت ملک و قوم کی حفاظت کی ضامن ہے، فائرنگ کے تبادلے میں 6 خوارج بھی ہلاک ہوگئے، قوم دہشتگردوں کیساتھ مقابلے میں سکیورٹی فورسز کیساتھ صف اول میں موجود ہے، پاکستان زندہ باد

  • آئیڈیازنمائش پاکستان کی دفاعی پیداوارکے فروغ میں معاون ثابت ہوگی.وزیر دفاع

    آئیڈیازنمائش پاکستان کی دفاعی پیداوارکے فروغ میں معاون ثابت ہوگی.وزیر دفاع

    شہر قائد کراچی میں بین الاقوامی دفاعی نمائش 2024کے 12ویں ایڈیشن کا انعقادکیا گیا ہے

    وزیردفاع خواجہ محمدآصف اور وزیرتجارت جام کمال نے تقریب میں شرکت کی،ڈی جی،ڈی ای او پی میجر جنرل اسد نواز جنجوعہ نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی نمائش بہت اہمیت کی حامل ہے. دنیابھرسے آنے والے تمام معززمہمانوں کو خوش آمدیدکہتاہوں.دفاعی نمائش کے انعقاد میں تمام مسلح افواج کا شکرگزارہوں.اس طرح کی نمائشوں کے انعقاد سے ملک کی دفاعی صنعت کو فروغ ملے گا،

    وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نمائش میں شریک تمام معززمہمانوں کو خوش آمدید کہتاہوں.دنیابھرسے آئے مندوبین نمائش سے بہترین فائدہ اٹھائیں گے.نمائش میں تکنیکی معاملات سمیت اہم امورپرغورہوگا.پاکستان میں معیشت مثبت اعشاریوں کی جانب گامزن ہے.ملک میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کے لیے بے پناہ مواقع موجودہیں.پاکستان ایک ذمہ دارملک ہے.پاکستان دنیابھرمیں قیام امن کیلئے اپنامنفردکرداراداکررہاہے.علاقائی امن اور سماجی واقتصادی ترقی کیلئے رابطوں کا فروغ ضروری ہے.پاکستان مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتاہے.پاکستان کی دفاعی صنعت فروغ پارہی ہے.پبلک ،پرائیویٹ سیکٹرز دفاعی پیداوارمیں اہم کرداراداکرسکتے ہیں.دفاعی ضروریات کی برآمدات سے معیشت مضبوط ہوگی.آئیڈیازنمائش پاکستان کی دفاعی پیداوارکے فروغ میں معاون ثابت ہوگی.آئیڈیاز علاقائی گیٹ وے کے طور پر ثابت ہوگی.آئیڈیاز کا سلوگن’’آرمز فار پیس‘‘ہے

    وزیراعظم شہباز شریف بھی آج دفاعی نمائش آئیڈیاز 2024 میں شریک ہوں گے، نمائش بائیس نومبر تک جاری رہے گی۔بارہویں انٹرنیشنل ڈیفنس ایگزیبیشن اینڈ سیمینارمیں پاکستان اوردوست ممالک کی دفاعی مہارتوں، آلات اورٹیکنالوجی کی نمائش کی جارہی ہے.پچھلے آئیڈیاز کے مقابلے میں اس مرتبہ 17 کے قریب نئے ممالک بشمول ایران، اٹلی اور برطانیہ شرکت کر رہے ہیں ایک ہال نئے اسٹارٹ اپ کے لیے مخصوص کیا گیا ہے.

    عالمی دفاعی نمائش "آئیڈیاز 2024” میں پاکستان کا جدید لڑاکا ڈرون "شاہپر تھری” پیش کیا جا رہا ہے۔یہ جدید ڈرون نہایت اہم حربی خصوصیات اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہے۔ درمیانی پرواز کی صلاحیت رکھنے والا یہ ڈرون 30 گھنٹے تک طویل فاصلے تک پرواز کر سکتا ہے۔ شاہپر تھری 1650 کلوگرام تک وزنی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس میں مقامی طور پر تیار کردہ ایویونکس اور جدید فلائٹ کنٹرول سسٹم نصب ہے۔گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اسد کمال کا کہنا ہےکہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے جو 30 سال کی محنت کا نتیجہ ہے۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز اس سے قبل شاہپر ون اور شاہپر ٹو بھی متعارف کرا چکا ہے۔

  • ڈیل نہ ڈھیل،فوج کا عمران خان کو جواب، برطانوی اخبار

    ڈیل نہ ڈھیل،فوج کا عمران خان کو جواب، برطانوی اخبار

    پاکستان کی فوج کے سینئر ذرائع نے گارڈین کو بتایا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات یا ڈیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، یہ بات اس وقت سامنے آئی جب عمران خان نے کہا کہ وہ جیل سے فوجی قیادت سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    عمران خان، جو اس وقت پاکستان کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں، گارڈین نے ان کی قانونی ٹیم کے ذریعے سوالات ارسال کیے تھے۔جس کے عمران خان نے جواب دیئے، عمران خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی گرفتاری اور اگست 2022 میں جیل جانے کے بعد سے فوج کے ساتھ کوئی ذاتی بات چیت نہیں کی۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان کے طاقتور فوجی ادارے کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل کرنے سے انکار نہیں کرتے، حالانکہ ماضی میں انہوں نے فوج کو اپنی حکومت گرانے اور قید میں ڈالنے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

    عمران خان نے گارڈین کو بتایا، "فوج کے ساتھ کسی ڈیل کا معاملہ اصولوں پر مبنی ہوگا اور عوام کے مفاد میں ہوگا، نہ کہ ذاتی فائدے یا ان سمجھوتوں پر جو پاکستان کی جمہوری اقدار کو نقصان پہنچائیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ "اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر جیل میں زندگی گزارنے کو ترجیح دیں گے۔”

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ عمران خان، 2018 میں فوج کی حمایت سے اقتدار میں آئے تھے، کیونکہ پاکستانی سیاست میں فوج ہمیشہ سے ایک طاقتور کھلاڑی سمجھی جاتی ہے ،عمران خان کے فوجی قیادت کے ساتھ تعلقات 2022 میں ٹوٹ گئے تھے، جس کے بعد وہ اقتدار سے ہٹ گئے تھے اور پھر فوج پر اپنی حکومت کے خاتمے اور گرفتاری میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔ ا

    عمران خان اس وقت درجنوں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جنہیں وہ فوج اور سیاسی حریفوں کا منصوبہ قرار دیتے ہیں۔ جون میں اقوام متحدہ کی ورکنگ گروپ برائے غیرقانونی حراست نے کہا تھا کہ خان کی حراست غیرقانونی ہے۔

    تاہم، جیل میں اپنے وقت کے دوران عمران خان کا فوجی قیادت کے لئےلہجہ نرم پڑا ہے۔ جولائی میں عمران خان نے فوج کے ساتھ "مشروط” بات چیت کرنے کی پیشکش کی تھی، بشرطیکہ وہ "صاف اور شفاف” انتخابات کرانے پر رضا مند ہوں۔ عمران خان اور ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 2023 کے فروری کے انتخابات کو غیر شفاف قرار دیتے ہوئے ان میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں، اور یہ دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے عوامی ووٹ سے انتخابات جیتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، حالیہ مہینوں میں عمران خان نے فوج کے ساتھ بات چیت کے لیے اور اپنی رہائی کے لیے "غیر مشروط” مذاکرات کی پیشکش کی تھی، تاہم فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ خان کو اپنے مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا اور فوج کسی قسم کی ڈیل یا مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔

    ایک فوجی ذرائع نے کہا، ” عمران خان کو اپنے مقدمات کا سامنا کرنا ہوگا، وہ فوج سے کسی قسم کی ڈیل کی توقع نہیں کر سکتے۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ سب لوگ قانون کے تحت عمل کریں، لیکن وہ خود اس قانون کا اطلاق اپنے لیے نہیں چاہتے۔”

    موجودہ حکومت، جو کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں ایک اتحادی حکومت ہے، کو فوج کی حمایت حاصل ہے۔ حالیہ مہینوں میں انہوں نے فوجی سربراہ کی مدت ملازمت میں پانچ سال کی توسیع اور سپریم کورٹ کے حوالے سے بعض آئینی ترامیم کی ہیں، جسے پی ٹی آئی نے فوج کے ایجنڈے کی تکمیل اور خان کی رہائی کی راہ روکنے کے لیے قرار دیا ہے۔

    اس دوران عمران خان نے حکومت کے اقدامات اور انتخابات میں دھاندلی کے خلاف 24 نومبر کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کی ایک "آخری کال” دی ہے۔ پی ٹی آئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ایک مسلسل کریک ڈاؤن کا سامنا ہے اور پارٹی کی بیشتر قیادت جیل یا جلاوطن ہو چکی ہے۔حکومت ابھی تک یہ واضح نہیں کر سکی کہ عمران خان کو کسی فوجی عدالت میں لے جایا جائے گا یا نہیں، جہاں ان پر رشوت ستانی اور دہشت گردی جیسے سنگین الزامات عائد ہیں۔ عمران خان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایک سابق وزیر اعظم کو فوجی عدالت میں پیش کرنا مضحکہ خیز ہے۔

    عمران خان نے کہا، "کسی بھی سول فرد کو فوجی عدالت میں کیوں پیش کیا جائے، خاص طور پر ایک سابق وزیر اعظم کو؟ یہ مضحکہ خیز ہے۔ فوجی عدالت میں کسی شہری کو مقدمہ چلانے کی واحد وجہ یہ ہے کہ کوئی اور عدالت مجھے سزا نہیں دے سکتی۔”

    عمران خان کی جیل کی حالت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ، ان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کو انفرادی حراست میں رکھا جا رہا ہے اور انہیں اپنے بیٹوں سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ حکومت نے اس الزام کی تردید کی ہے،تاہم عمران خان نے اس بات کی تردید کی کہ انہیں کوئی خصوصی سہولت فراہم کی گئی ہے اور کہا کہ انہیں ان حالات میں رکھا جا رہا ہے جو انہیں ذہنی طور پر توڑنے اور ان کا حوصلہ پست کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ 15 دن تک، میری کسی سے ملاقات نہیں کروائی گئی سیل میں بجلی نہیں تھی اور بغیر رسائی کے 24 گھنٹے لاک اپ میں رکھا گیا تھا۔

    دہشتگردوں کا ہتھیار "وی پی این” حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    دہشتگرد بھی وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپانے لگے

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

  • پاکستان خطے اور عالمی امن کے لئے اپنا مثبت  کردار ہمیشہ ادا کرتا رہے گا،آرمی چیف

    پاکستان خطے اور عالمی امن کے لئے اپنا مثبت کردار ہمیشہ ادا کرتا رہے گا،آرمی چیف

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نےاسلام آباد میں مارگلہ ڈائیلاگ 2024کی خصوصی تقریب سے خطاب کیا ہے،

    مارگلہ ڈائیلاگ 2024کی خصوصی تقریب کا اہتمام اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی کی جانب سے کیا گیا،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے "امن اور استحکام میں پاکستان کا کردار” کے موضوع پر گفتگو کی اور علاقائی ہم آہنگی اور بین الاقوامی امن کو آگے بڑھانے میں نمایاں کامیابیوں پر روشنی ڈالی،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں دُنیا کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں غلط اور گمراہ کُن معلومات کا تیزی سے پھیلاؤ ایک اہم چیلنج ہے،دُنیا میں کئی تبدیلیوں کے پیش ِ نظر غیر ریاستی عناصر کا اثر و رسوخ بڑھ جانا بھی ایک اہم چیلنج ہے،عالمی سطح پر معیشت ، افواج اور ٹیکنالوجی میں بے انتہا تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں،پرتشدد غیر ریاستی عناصر اور ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی عالمی سطح پر ایک بڑا چیلنج ہے،ٹیکنالوجی نے جہاں معلومات کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے وہاں گمراہ کن اور غلط معلومات کا پھیلاؤ ایک اہم چیلنج ہے ،جامع قوانین اور قواعد و ضوابط کے بغیر غلط اور گمراہ کن معلومات اور نفرت انگیز بیانات سیاسی اورسماجی ڈھانچے کو غیر مستحکم کرتے رہیں گے،قوا عد وضوابط کے بغیر آزادی اظہار رائے تمام معاشروں میں اخلاقی قدروں کی تنزلی کا باعث بن رہی ہے،عالمی سطح پر مذہبی، فرقہ وارانہ اور نسلی بنیادوں پر عدم مساوات، عدم برداشت اور تقسیم بڑھ رہی ہے،ہمارے مشترکہ مقاصد میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنا، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عالمی صحت کی فراہمی جیسے اہم چیلنجز شامل ہیں

    دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمارا عزم غیر متزلزل ہے ،آرمی چیف
    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا اور خطے میں امن اور استحکام کے لئے اپنا اہم کردار ادا کر رہا ہے،دہشتگرد ی عالمی سطح پر تمام انسانیت کے لئے ایک مشترکہ چیلنج ہے ،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہمارا عزم غیر متزلزل ہے ،ہماری مغربی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لئے ایک جامع بارڈر مینجمنٹ رجیم کا قیام عمل میں لایا گیا ہے،فتنتہ الخوارج دنیا کی تمام دہشتگردتنظیموں اور پراکسیز کی آماجگاہ بن چکی ہے ،پاکستان افغان عبوری حکومت سے توقع کرتا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال نہیں ہونے دیں گے اور اس حوالے سے سخت اقدامات کریں گے،ویژن عزمِ استحکام نیشنل ایکشن پلان کا ایک اہم جزو ہے جس کا مقصد دہشتگردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ ہے ،بھارت کے انتہا پسند انہ نظریے کی وجہ سے بیرون ملک خاص طور پر امریکہ ، برطانیہ اور کینیڈا میں بھی اقلیتیں محفوظ نہیں ،مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کا ظلم و بربریت بھی ہندوتوا نظریے اور پالیسی کا تسلسل ہے ،مقبوضہ جموں و کشمیر کا اقوام ِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق حل ناگزیر ہے ،پاکستان نے ہمیشہ غزہ اور لبنان میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ،پاکستان نے غزہ اور لبنان کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر متعدد بارامداد روانہ کی ،پاکستان نے ہمیشہ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا ہے،ہم کسی عالمی تنازعہ کا حصہ نہیں بنیں گے مگر دُنیا میں امن و استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے ،عالمی امن کی خاطر 235،000پاکستانی اقوام متحدہ کے امن مشن میں اپنا کردار ادا کرچکے ہیں،اقوام متحدہ امن مشنز میں 181 پاکستانیوں نے عالمی امن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ،پاکستان 24کروڑ عوام کا ملک ہے جس کی لگ بھگ 63فیصد آبادی 30سال سے کم ہے ،

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے،پاکستان دنیا میں زراعت کی پیداوار کے حوالے سے ایک بڑا ملک بن کر ابھرا ہے ،پاکستان میں نادر معدنیات کے بڑے ذخائر موجود ہیں،پاکستان فری لانسنگ کی مد میں عالمی سطح پر ایک اہم ملک ہے ،پاکستان ان تمام ذخائر ،منفرد جغرافیائی مقام اور سمندری بندرگاہ کی وجہ سے یورپ ، سنٹرل ایشیا اور مڈل ایسٹ میں تجارت کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ،پاکستان خطے اور عالمی امن کے لئے اپنا مثبت کردار ہمیشہ ادا کرتا رہے گا

    فتنہ الخوارج ،انسانیت کے دشمن

    پاکستان سے واپسی کی کسی کو اجازت نہیں،فتنتہ الخوارج کےخارجی نورولی کی آڈیو لیک

    آخری خارجی کی موجودگی تک ان کا پیچھا کرتے رہیں گے،جوانوں کا عزم

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

  • ہرنائی، سیکورٹی فورسز کا آپریشن،3 دہشتگرد جہنم واصل،میجر سمیت دو جوان شہید

    ہرنائی، سیکورٹی فورسز کا آپریشن،3 دہشتگرد جہنم واصل،میجر سمیت دو جوان شہید

    بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد جہنم واصل ہو گئےجبکہ 2 فوجی جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق شہید ہونے والے جوانوں میں میجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد شامل ہیں،ہرنائی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران شدید جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا تاہم اس دوران میجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد نے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کر دیں،میجر محمد حسیب کا تعلق ضلع راولپنڈی سے تھا، 38 سالہ حوالدار نور احمد کا تعلق ضلع بارکھان سے تھا، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف اس آپریشن میں سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ملک کے دفاع میں ان کی ثابت قدمی اور بہادری کو ظاہر کرتی ہیں۔

    28 سالہ میجر محمد حسیب شہید نے 8 سال 6 ماہ تک دفاعِ وطن کا مقدس فریضہ سرانجام دیا۔شہید کے سوگواران میں والدین اور بہن بھائی شامل ہیں، 38سالہ حوالدار نور احمد شہید کا تعلق ضلع بارکھان سے ہے، انہوں نے 14 سال تک وطنِ عزیز کا دفاع کیا۔حوالدارنور احمد شہید کے سوگوران میں اہلیہ،3بیٹے اور بیٹی شامل ہیں۔

    صدر مملکت کا ہرنائی میں جامِ شہادت نوش کرنے والے جوانوں کو خراج عقیدت
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے ضلع ہرنائی میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا،صدر مملکت نےمیجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد کو وطن کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے پر قوم کی جانب سے سلام پیش کیا اور کہا کہ دفاع وطن کے دوران بڑی قربانی پیش کرنے پر پوری قوم شہداء کی ممنون ہے، صدر مملکت نے کاروائی کے دوران تین دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی بہادری کو سراہا،صدر مملکت نے شہداء کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ تعزیت کیا،اور کہا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے کاروائیاں جاری رکھیں گے،قوم شہداء اور اُنکے خاندان کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرے گی،

    پاکستان فوج کے افسروں اور جوانوں کی لازوال قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نےضلع ہرنائی میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کے دوران جام شہادت نوش کرنے والے پاک فوج کے میجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد کو خراج عقیدت پیش کیا ہے، وزیراعظم نے شہداء کی بلندی ء درجات کی دعاء اور ان کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان فوج کے افسروں اور جوانوں کی لازوال قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ہرنائی میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں شہید ہونے والے میجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ شہید میجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد کی عظیم قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔

    پاکستانی قوم اپنے شہداء کے خون کی مقروض ہے ،وزیراعلیٰ بلوچستان
    وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہرنائی میں دہشت گردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کو سراہا ہے جبکہ دہشتگردوں کو جہنم واصل کرتے ہوئے بہادری سے جام شہادت نوش کرنے والے فورسز کے عظیم سپوتوں میجر محمد حسیب اور حوالدار نور احمد کو خراج عقیدت پیش کیا ہے، اپنے ایک بیان میں وزیر اعلٰی بلوچستان نے کہا کہ ہرنائی میں شہید ہونے والے میجر حسیب نے نہایت جرات و بہادری سے کارروائی میں فورسز کی کمانڈ کی اور تین دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا اس دوران انہوں نے اپنے ایک ساتھی حوالدار نور محمد کے ہمراہ جام شہادت نوش کیا، قوم کو اپنے ایسے بہادر جوانوں پر فخر ہے جنہوں نے وطن عزیز پر اپنی جان نچھاور کردی اور دہشتگردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا، وزیر اعلٰی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنے شہداء کے خون کی مقروض ہے ان کی عظیم قربانیوں کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا، وزیر اعلٰی میر سرفراز بگٹی نے شہداء کے لواحقین سے دکھ و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے صبر جمیل کے لئے دعا کی

    فتنہ الخوارج ،انسانیت کے دشمن

    پاکستان سے واپسی کی کسی کو اجازت نہیں،فتنتہ الخوارج کےخارجی نورولی کی آڈیو لیک

    آخری خارجی کی موجودگی تک ان کا پیچھا کرتے رہیں گے،جوانوں کا عزم

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

    مظاہرین کے گوادر جانے کا مقصد تھا کہ سی پیک کو روک دیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    ماہ رنگ بلوچ کا مارچ ناکام: بلوچستان میں اسمگلرز مافیا کی سازش بے نقاب

    مسنگ پرسن کے نام پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی ملک دشمنی،ماہ رنگ بلوچ کا گھناؤنا منصوبہ

    ”بلوچ یکجہتی کونسل“ کےاحتجاجی مظاہرے کی حقیقت

  • آسٹریلوی فوج کے سربراہ کی آرمی چیف سے ملاقات

    آسٹریلوی فوج کے سربراہ کی آرمی چیف سے ملاقات

    آسٹریلوی فوج کے سربراہ کی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات ہوئی ہے

    آسٹریلوی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل سائمن کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات ہوئی ہے، اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور، خاص طور پر عالمی اور علاقائی سیکیورٹی کے مسائل پر تفصیل سے گفتگو کی۔پاکستان کے چیف آف جنرل سید عاصم منیر نے آسٹریلیا کے ساتھ پاکستان کے مضبوط تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے دونوں ممالک کے مشترکہ اہداف میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے دفاعی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں مزید تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا، اور اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے اور دنیا بھر میں امن و استحکام کے لیے تعاون کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل سائمن سٹیورٹ نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں کی تعریف کی اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔قبل ازیں جی ایچ کیو پہنچنے پر آسٹریلین آرمی چیف نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور پاکستان کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہیں پاک فوج کے ایک منظم دستے کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

    یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور علاقائی و عالمی سیکیورٹی کے امور پر قریبی تعاون کے عزم کا مظہر ہے۔