راولپنڈی : ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے خفیہ آپریشن میں فائرنگ کے شدید تبادلے میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔
باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر) کے مطابق آپریشن دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کیا گیا، جس کے دوران سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوافائرنگ کے تبادلے میں دہشت گرد سرغنہ اشرف شیخ اور دہشت گرد برہان اللہ بھی مارا گیا،ہلاک دونوں دہشت گرد ہائی ویلیو ٹارگٹ تھے، ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ،گولا بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مارے گئے دہشت گرد معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے، علاقے میں ممکنہ دیگر دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، علاقہ مکینوں نے سکیورٹی فورسز کے آپریشن کی تعریف کی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور تعاون کا اظہار کیا۔
راولپنڈی: سوڈان اور جنوبی سوڈان کے متنازع علاقے ابائے میں پاکستانی امن دستے پر حملہ میں ایک سپاہی شہید ہو گیا۔
باغی ٹی وی: آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی امن دستہ 2 مقامی مریضوں کو اسپتال لےجا رہا تھا کہ اس دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں سپاہی محمد طارق شہید اور 2 اہلکاروں سمیت 4 افراد زخمی ہو گئے امن دستے کے اہلکاروں کی مؤثر جوابی کارروائی پر حملہ آور پسپائی پر مجبور ہو گئے۔
https://x.com/PakistanFauj/status/1752027612984287395?s=20
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستانی امن دستوں نے ہمیشہ پیشہ ورانہ مہارت سےخدمات انجام دیں اور پاکستان کے 181 امن دستوں کےاہلکاروں نے دنیا بھر میں جانوں کانذرانہ دیا، پاکستان عالمی برادری کے ذمہ دار رکن کے طور پر کردار کےلیے پُرعزم ہے پاکستان اقوام متحدہ کی سرپرستی میں امن اور استحکام کیلئےکردار ادا کرتا رہےگا۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ”پاکستان نیشنل یوتھ کانفرنس“ سے تاریخی خطاب کیا ہے
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اور پروپیگنڈا کا مقصد بے یقینی، افرا تفری اور مایوسی پھیلانا ہے ، سوشل میڈیا کی خبروں کی تحقیق بہت ضروری ہے،تحقیق اور مثبت سوچ کے بغیر معاشرہ افراتفری کا شکار رہتا ہے ، آرمی چیف نے قرآن مجید کی آیت پڑھی اور کہا کہ اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ؛”اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اُس کی تصدیق کرلو“
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مستقبل کے معماروں اور اقبال کے شاہینوں سے مخاطب ہو کر انتہائی خوشی محسوس کر رہا ہوں،پاکستان کو بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ہمارا مذہب، تہذیب و تمدن ہر لحاظ سے ہندوؤں سے مختلف ہے نہ کہ ہم مغربی تہذیب و تمدن کو اپنا لیں،نوجوانوں کو اپنے وطن، قوم، ثقافت و تہذیب و تمدن اور اپنے آپ پر بے پناہ اعتماد ہونا چاہئے، پاکستان کے نوجوانوں کو اس بات کا یقین ہونا چاہئے کہ وہ ایک عظیم وطن اور قوم کے سپوت ہیں،ہمارے ملک کے نوجوان اس قوم و ملک کی روشن روایات، اقبال اور قائد کے خوابوں کی تعبیر کے امین ہیں، دہشتگردوں کیخلاف تو افواج پاکستان لڑ سکتی ہیں مگر دہشتگردی کے خلاف پوری قوم کا تعاون ضروری ہے، پاکستان کے قیام کی ریاست طیبہ سے مماثلت ہے دونوں کلمے کی بنیاد پر قائم ہوئی ، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے پناہ معدنی وسائل، زراعت اور نوجوان افرادی قوت جیسی نعمتوں سے نوازا ہے، مسلمان مشکل میں صبر اور آسانی میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے،
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ہماری افواج ہر قسم کے خطرے اور سازش کے خلاف ہمہ دم تیار ہیں، پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو ہم کچھ بھی نہیں ہیں،پاکستان اپنی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، پاکستان کے روشن مستقبل پر کامل یقین اور اسلاف کی میراث کو قائم رکھنا ہے،
طلباء نے خطاب کے دوران پاکستان آرمی زندہ باد ، پاکستان زندہ باد اور قائد اعظم زندہ باد کے نعرے بھی لگائے
طلباء نے کھل کر سوال پوچھے جن کا جواب آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے بہت تحمل مزاجی سے دیا۔ ایک طالب علم نے سوال کیا کہ حضرت عمر فاروق رضی کا دور کیوں نہیں دوبارا آ سکتا کہ ہر کوئی کھل کر سوال کرے۔ جس پر جواب آیا کہ کل آپ لوگوں نے ڈی جی آئی ایس آئی سے سوال کئے اور آج میں آپ کے ساتھ ہوں۔ الیکشن 8 فروری کو ہوں گے اور آپ اپنی مرضی اور سوچ کے مطابق ووٹ کاسٹ کریں۔ طلباء نےا ہر جواب پر تالیاں بجائیں طلبا کی جانب سے یہ جوش ان کا اپنی فوج اور سپہ سالار پہ اعتماد کا کھلا ثبوت ہے
ایک طالب علم نے سوال کیا کہ پانچ سال کے لئے حکومت آتی ہے تو اسے پانچ سال پورے کیوں نہیں کرنے دیئے جاتے؟،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر صاحب نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا حکومت پانچ سال کے لئے نہیں آتی بلکہ پارلیمنٹ پانچ سال کے لئے منتخب ہوتی ہے،گزشتہ پارلیمنٹ نے اپنی پانچ سال کی مدت پوری کی تھی،
اور پارلیمنٹ نے اپنی آئینی پاور کا استعمال کر کے حکومت بدل دی تھی اس میں فوج یا کسی دوسرے ادارے کا کوئی رول نہیں ہوتا،پوری دنیا میں یہ نارمل پریکٹس ہے عدم اعتماد کے زریعے حکومت بدلنا،برطانیہ میں کئی بار ایسا ہوا بشمول انڈیا میں بھی ایسا ہو چکا ہے اور دنیا کے کئی ممالک میں عدم اعتماد کے زریعے حکومتیں بدلی ہیں،جہاں جہاں پارلیمانی نظام ہے وہاں یہ کوئی انہونی بات نہیں،جواب پر کنوینشن سینٹر تالیوں سے گونج اٹھا.
پاک افغان سرحد کے قریب انٹیلیجنس کی اطلاع پر آپریشن ،ژوب میں دہشت گردوں سے مقابلہ، 7 دہشت گرد مارے گئے
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان کے علاقے ژوب میں فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 7 دہشتگرد جہنم واصل ہو گئے ہیں، ہلاک دہشتگرد سکیورٹی فورسز پر حملوں اور معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث تھے، ان کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکا خیزمواد بھی برآمد کیا گیا جب کہ علاقے میں پائے جانے والے دیگر دہشتگردوں کیلئے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز پاکستان سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں
سپریم کورٹ بار نے ایران کی جانب سے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کی ہے
سپریم کورٹ بار کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بار نے مسلح افواج کے جوابی ردعمل کو سراہا، سپریم کورٹ بارپاکستان کی قانونی برادری مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے، سپریم کورٹ بار نے سپریم کورٹ کے ججز اور عدلیہ کیخلاف منفی مہم پر تشویش کا اظہارکیا اور کہا کہ آزادی اظہار ہر ایک کا حق ہے، لیکن اس کی حدود ہونی چاہئیں، آزادی اظہار رائے کی آڑ میں عدلیہ کیخلاف مہم چلانا ناقابل قبول ہے،عدالتی فیصلوں کے بارے میں کھلی بحث کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے،عدالتی فیصلوں پر تنقیدی خیالات کی اجازت ہے،عدالتی فیصلوں کے بعد ججز اور انکے اہلخانہ کو نشانہ بنانا ناقابل برداشت ہے،
سریم کورٹ بار نے رائے کے ذمہ دارانہ اظہار کی ضرورت پر زوردیا، سپریم کورٹ بار نے منفی پراپیگنڈہ کرنے والوں کیخلاف کاروائی کا مطالبہ کیا،سپریم کورٹ بار نے اسلام آباد کی کچہری میں وکلا پر پولیس فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی اور اعلیٰ پولیس حکام سے واقعہ کی انکوائری کا مطالبہ کیا.
پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے صدر لیفٹیننٹ جنرل رعبدالقیوم نے کہا ہے کہ بلوچستان کے صوبے میں پاکستانی سرحد کے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں کوہ سبز پر ایران کا میزائل اور ڈرون حملہ نہ صرف ایک جارحانہ عمل اور ہماری فضائی حدود اور بین الاقوامی قوانین کی بلااشتعال خلاف ورزی تھی بلکہ ایران کی جانب سے کی جانے والی ایک حیران کن سفارتی غلطی بھی تھی جس سے اسرائیلی مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹ گئی۔
پریس بریفنگ دیتے ہوئے جنرل ر عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ ایک پڑوسی مسلمان اور دوست ملک کے اندر اس طرح کی سخت دشمنانہ کارروائی کرتے ہوئے، ایران نے نادانستہ طور پر پوری دنیا میں امریکی ڈرون حملوں کا جواز بھی پید ا کر دیا ہے جس میں عراق میں 2020 میں ہونے والے ڈرون حملوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پاکستان برسوں تک کلبھوشن یادیو کی ایران میں نقل و حرکت پر نظر رکھتا رہا لیکن اس کے ٹھکانے پر چھاپہ اسی وقت ہوا جب وہ پاکستانی علاقے میں تھا۔ افغانستان اور ایران دونوں میں ہماری مغربی سرحدوں سے متصل ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور تربیتی مراکز کو پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ذریعے نشانہ بنایا جا سکتا تھا لیکن چونکہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوتی، اس لیے ایسا نہیں کیا گیا۔
جنرل ر عبدالقیوم کا کہنا تھا کہ ایٹمی پاکستان کے پاس خطے میں سب سے مضبوط مسلح افواج موجود ہیں جو کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے سکتی ہیں جیسا کہ ہم نے اس وقت کیا تھا جب بھارت نے بالاکوٹ پر حملہ کیا تھا۔ اس لیے ایرانی کے بدقسمت اور غیر متوقع جارحانہ اقدام پر ردعمل ظاہر کرنا ضروری ہو گیا۔ اس لیے پی اے ایف کو ایرانی صوبہ بلوچستان میں بی ایل اے کے تربیتی کیمپوں پر حملہ کرنے کے لیے درست ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور کیا گیا، تاہم ہم بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر کا احترام کرتے ہیں اور علاقائی یا بین الاقوامی امن کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ دیگر تمام ممالک بھی ایسا ہی کریں گے . بین الاقوامی قانون کی بے حرمتی اور دیگر ممالک کی علاقائی حدود اور فضائی حدود کی خلاف ورزی سے انتشار پیدا ہوگا جس سے کمزور ممالک بہت زیادہ خطرے میں پڑ جائیں گے۔ پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی پاکستان حکومت اور مسلح افواج کے اس طرح کی دشمنانہ کارروائیوں کا فوری جواب دینے کے فیصلے کو سراہتی ہے۔ ہمیں اپنی بہادر افواج پر فخر ہے ایران اور پاکستان کے درمیان گہرے تاریخی تعلقات ہیں۔ ان کے انقلاب کے بعد ایران کو سفارتی تنہائی کی طرف دھکیل دیا گیا لیکن پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا رہا۔ ایران کے ساتھ ہماری 900 کلومیٹر لمبی سرحد ہے جسے ہم دہشت گردی، منشیات اور اسمگلنگ پر قابو پانے کے لیے باہمی طور پر منظم کر رہے ہیں۔ ایران پہلا ملک تھا جس نے 1947 میں پاکستان کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔ ہم نے 1999 میں ایف ٹی اے پر دستخط کیے اور پاک ایران مشترکہ بزنس کونسل کا حصہ بنے۔ ہم نے بہت اطمینان کے ساتھ ایران سعودی عرب کے تعلقات کو سراہا اور ہمیشہ ایران کے ساتھ کھڑے رہے جس نے کشمیر کاز کی حمایت کی۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کا موجودہ عمل ہمارے لیے افسوسناک ہے جسے سفارتی اور دو طرفہ طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم چین کے شکر گزار ہیں جس نے تحمل کی سفارش کی اور ثالثی کی پیشکش بھی کی۔
واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی، اب پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، ایرانی سفیر کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی،بعد ازاں پاکستان نے ایران کو منہ توڑ جواب دیا،ایران میں دہشت گرد وں کے کیمپوںکو نشانہ بنایا،پاکستانی فضائیہ نے ایران کے اندر علیحدگی پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور پاکستان نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران کو بڑا سرپرائز دیا ہے، پاکستانی افواج نے ایران کے اندر گھس کر کامیاب آپریشن کیا، متعدد دہشت گرد ہلاک ہو گئے، درجن کے قریب مقامات کو نشانہ بنایا گیا، ایران کے پاکستان مخالف کاروائی کے پیچھے مقصد کیا ہو سکتا ہے
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہناتھا کہ پاکستانی افواج نے ایران پر حملہ کیا،ایران میں ایک سوگ کی صورتحال ہے، حملے میں متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے، پہلی بات یہ ہے کہ ایران نے جن قوتوں کے کہنے پر پاکستان کے خلاف کاروائی کی، ایران کو یقین یا وہم تھا کہ کہ شاید پاکستان مؤثر ردعمل نہیں دے سکتا کیونکہ نگران حکومت ہے، لیکن ایران یہ بھول گیا کہ پاکستا ن ایٹمی قوت ہے، پاکستانی افواج اور خفیہ ایجنسی نے دنیا کے بڑے تنازعات کے اندر اپنی طاقت اور صلاحیت کا لوہا منوایا ہے،پاکستان کو امت مسلمہ کی مدد کی سزا کبھی نہیں دی جا سکتی، پاکستان نے ہمیشہ اس بات کو ثابت کیا کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی طرف سے کاروائی پر جہاں دنیا حیران تھی وہیں پاکستان میں دکھ اور غصے کی کیفیت تھی کہ کس طرح پاکستان نے ایران کا ساتھ دیا، اس نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ اس کے اثرات کیا ہوں گے، پاکستان ایران کو ہمسایہ، برادر ملک سمجھ کر ساتھ کھڑا رہا، ایران کے اس عمل سے امت مسلمہ کو نقصان پہنچا، ایرانی افواج پر حملے امریکہ اور اسرائیل کر رہے ہیں لیکن ایران شام ،عراق اور پاکستان پرحملے کر رہا ہے، ایران نے اسرائیل میں کتنی کاروائیاں کیں، کوئی بھی نہیں ، کیوں؟ نہ ہی اسرائیل کے خلاف آج تک کوئی کاروائی نہیں کی،ایران نے اسرائیلی کاروائیوں کو جواز بنا کر مسلمان ممالک کے خلاف محاذبنا لیا ،پاکستان اس پر خاموش نہیں رہ سکتا تھا،
مبشر لقمان کا کہنا تھاکہ پاکستانی حملے میں متعدد دہشت گرد مارے گئے، اس آپریشن کا نام مرگ برسرمچار رکھا گیا، اس میں مارے جانے والے بے گناہ پاکستانیوں کا خون بہاتے رہے، پاکستان کی ایران میں گھس کر کامیابی کاروائی پاکستانی سیکورٹی اداروں کا منہ بولتا ثبوت ہے، دوست ممالک چاہتے تھےکہ معاملہ آگے نہ بڑھے تاہم پاکستان میں لازم ہو چکا تھا کہ اسی زبان میں جواب دے،پاکستان نے کہا تھا کہ اس کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوتی ہے، پاکستان نے اپنا سفیر ملک واپس اور ایرانی سفیر کو ملک بدر کر دیا تھا، ایران نے یہ کاروائی کر کے مسئلہ فلسطین سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی، جو انتہائی دکھ کی بات ہے ایران کی پاکستان مخالف کاروائی دے امت مسلمہ سمیت پوری دنیا میں تشویش پائی گئی ہے.
واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی، اب پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، ایرانی سفیر کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی،بعد ازاں پاکستان نے ایران کو منہ توڑ جواب دیا،ایران میں دہشت گرد وں کے کیمپوںکو نشانہ بنایا،پاکستانی فضائیہ نے ایران کے اندر علیحدگی پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور پاکستان نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔
راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر )نے ایران کے علاقے سیستان میں کیے جانے والے حملے پر کہا ہے کہ ان دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کیں جو پاکستان میں حالیہ حملوں میں ملوث تھے-
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ 18 جنوری کی صبح پاکستان نے ایران میں اسٹرائکس کیں ، ان دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کیں جو پاکستان میں حالیہ حملوں میں ملوث تھے، پاکستان نے حملہ آور ڈرونز، راکٹس اور دیگر ہتھیاروں سے کارروائی کیں، سیستان میں بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کی پناہ گاہوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا، یہ آپریشن انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیا گیا اور اس آپریشن کا نام مرگ بر رکھا گیا تھا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ نشانہ بنائے گئے ٹھکانے بدنام زمانہ دہشتگرد استعمال کر رہے تھے، پاکستان کی مسلح افواج دہشتگردی کی کارروائیوں کے خلاف پاکستانی شہریوں کی حفاظت کویقینی بنانے کے لیے مستقل تیار ہے، ہمارا عزم ہے پاکستان کی علاقائی حدود کی خودمختاری کو ہر صورت میں محفوظ بنائیں گے، یہ پناہ گاہیں بدنام زمانہ دہشتگرد دوستہ عرف چیئرمین، بجرعرف سوغت، ساحل عرف شفق، اصغرعرف بشام اور وزیر عرف وزی سیت بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کے مس ایڈونچر کے بارے میں ہمارا عزم غیر متزلزل ہے، عوام کی مدد سے پاکستان کے تمام دشمنوں کو ناکام بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور آگےبڑھنےکے لیے پڑوسی برادر ممالک سے دو طرفہ امور طے کرنےکے لیے بات چیت اور تعاون کو فروغ دیناچاہتے ہیں-
واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی، اب پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہے,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے، ایرانی سفیر کو واپس جانے کا کہہ دیا ہے،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی
کیچ: بلوچستان کے ضلع کیچ میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 3 دہشت گرد مارے گئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 5 فوجی اہلکار شہید ہوگئے۔
باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق 13 جنوری کو ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران دہشت گردوں نے سیکورٹی فورسز کی گاڑی پر دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد سے حملہ کیا، دھماکے کے بعد دہشت گردوں کے ساتھ شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 3 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے پاک فوج کے 5 جوانوں نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا شہید اہلکاروں میں پنجاب کے شہر ساہیوال سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ سپاہی ٹیپو رزاق، کراچی سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ سپاہی سنی شوکت، ضلع لسبیلہ سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ سپاہی شفیع اللہ، اورکزئی سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ لانس نائیک طارق علی اور ضلع میانوالی سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ سپاہی محمد طارق خان شامل ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں دیگر دہشت گردوں کی موجودگی ختم کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کارروائی جاری ہے، پاکستان کی مسلح افواج قوم کے ساتھ مل کر بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں، ہمارے بہادر جوانوں کی ایسی قربانیوں سے ہمارا عزم مزید مضبوط ہوتا ہے۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کراچی میں منعقدہ نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک سلیکون کے دوسرے باب کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی،
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر تقریب کےمہمان خصوصی تھے ،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے دوسرے چیپٹر کا افتتاح کیا،اس موقع پر ائیر چیف نے این اے ایس ٹی پی سلیکان منصوبے کے خدو خال بیان کئے۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کاکہنا ہے کہ نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کامنصوبہ قومی اور سٹرٹیجک اہمیت کا حامل ہے،قومی سطح پرابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کےحصول کیلئے درست سمت میں قدم ہے،آرمی چیف نے ایرواسپیس سائنس کےشعبے میں پاک فضائیہ کی کوششوں کوسراہا
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل عاصم منیر کاکہنا ہے کہ نوجوان اور آنے والی نسلوں کے لئے این اے ایس ٹی پی بہترین پلیٹ فارم ثابت ہو گا۔این اے ایس ٹی ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کا عمل تیز کرتے ہوئے خود انحصاری کے حصول کا باعث بنے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سیدعاصم منیر نے کورہیڈکوارٹرکراچی کادورہ کیا،آرمی چیف کوکراچی کورکی آپریشنل تیاریوں اورتربیتی امورپربریفنگ دی گئی،آرمی چیف کوفوجیوں اورشہداکےخاندانوں کی فلاح وبہبود کیلئےکیےاقدامات سےبھی آگاہ کیاگیا