Baaghi TV

Tag: پاک فوج

  • چین میں لاجسٹکس کی بحالی عالمی سپلائی چین کے استحکام میں معاون سڑکوں سے ریلوے تک

    چین میں لاجسٹکس کی بحالی عالمی سپلائی چین کے استحکام میں معاون سڑکوں سے ریلوے تک

    بیجنگ:شنگھائی پوڈونگ بین الاقوامی ہوائی اڈے سےجون کے آخر سے لے کر جولائی کے پہلے عشرےتک یو میہ تقریباً 10,000 ٹن سامان کی نقل و حمل ہوئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ چین کی سول ایوی ایشن کے سب سے بڑے لاجسٹک مرکز سے کارگو کی نقل و حمل تقریباً معمول پر آ گئی ہے۔ اس کےساتھ ، چین کے تمام علاقوں میں، سڑکوں سے ریلوے تک، ہوائی اڈوں سے بندرگاہوں تک مصروفیات جاری ہیں .

    بدھ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق حال ہی میں چائنا فیڈریشن آف لاجسٹکس اینڈ پرچیزنگ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جون میں چین کی لاجسٹکس انڈسٹری کا ترقیاتی انڈیکس 52.1 فیصد تھا، جو توسیع کی حد میں واپس آ یا ہے۔ لاجسٹکس کی بحالی اقتصادی بحالی کی علامت ہے، جو چینی معیشت کی طاقت اور لچک کو ظاہر کرتی ہے اور عالمی صنعتی و سپلائی چین کے استحکام کے لیے بھی مضبوط معاونت فراہم کرتی ہے۔

    شنگھائی شپنگ ایکسچینج کی طرف سے چین کی برآمدی کنٹینر ٹرانسپورٹیشن مارکیٹ پر جاری کردہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق، مئی میں، سمندری و دریائی بندرگاہوں کے کنٹینر تھرو پٹ میں اضافہ ہوا۔ جون سے لے کر اب تک شنگھائی پورٹ کا اوسط تھروپٹ آف کنٹینر 125,800 TEUs یومیہ رہا ہے جو پچھلے سال کی اسی مدت کے 95% سے زیادہ ہو گیا ہے۔ پہلے پانچ مہینوں میں، تھیان جن پورٹ کا کنٹینر تھروپٹ 8.47 ملین TEUs تک پہنچ گیا، جس میں سال بہ سال 2.2 فیصد کا اضافہ ہوا اور ایک تاریخی ریکارڈ رقم ہوا ہے۔ جون کے آخر تک، کارگو تھرو پٹ کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی بندرگاہ نینگ بو چو شان پورٹ میں کنٹینر روٹس کی تعداد نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے اور یہ 300 تک پہنچ گئی ہے۔

    ریلوے ٹرانسپورٹیشن میں ،چائنا ایکسپریس کی چین-یورپ مال بردار ٹرینز مشرقی، وسطی اور مغربی راہداریوں میں بھرپور انداز میں فعال ہیں، جو چین، یورپ اور “دی بیلٹ اینڈ روڈ” سے وابستہ ممالک کے لیے نقل و حمل کی مستحکم خدمات فراہم کرتی ہیں۔ چائنا نیشنل ریلوے گروپ کمپنی لمیٹڈ کے متعلقہ انچارج نے کہا کہ سال کی پہلی ششماہی میں محکمہ ریلوے نے آلاشان کھو، اع لیان ہاٹ اور مان چو لی جیسی بندرگاہوں کی توسیع و تزین کی اور ایک نئی ریلوے لائن کھول دی جو بحیرہ کیسپین اور بحیرہ اسود سے گزرتے ہوئے یورپ میں داخل ہوتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون تک چائنا ایکسپریس سے کل 7,473 ٹرینیں کے ذریعے 720,000 TEUs روانہ ہوئے ، جن میں بالترتیب 2% اور 2.6% سالانہ کا اضافہ ہوا ہے۔

    چین کے پاس اقوام متحدہ کی صنعتی درجہ بندی کے زمرے میں شامل تمام اقسام ہیں اور وہ عالمی صنعتی و سپلائی چین میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ حالیہ برسوں میں چین نے صنعتی و سپلائی چین کو مستحکم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ نومورا سیکیورٹیز کی طرف سے جاری کی گئی ایک حالیہ پیش گوئی کے مطابق انسداد وبا کے اثرات بتدریج کم ہو رہے ہیں اور حکومت کی اقتصادی حوصلہ افزا پالیسیوں کی بدولت چین کی معیشت بحال ہو رہی ہے ۔ لاجسٹکس کے ہموار بہاؤ کا مطلب ہے کہ اندرونی و بیرونی دوہری گردش مزید ہموار ہو رہا ہے، جو عالمی معیشت کی بحالی کے لیے مزید قوت فراہم کرے گی۔

    چین میں کسٹمز کی جنرل ایڈمنسٹریشن کے ترجمان لی کھوئی وین نے 2022 کی پہلی ششماہی میں درآمدات اور برآمدات کی صورتحال سے میڈیا کو آگاہ کیا ہے۔بد ھ کے روز چینی میڈ یا نے بتا یا کہ ایک پر یس کا نفر نس میں بتا یا گیا ہے کہ اعدادوشمار کے مطابق رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین کی درآمدات اور برآمدات کی کل مالیت 19.8 ٹریلین یوآن رہی ہے جس میں سالانہ بنیادوں پر 9.4 فیصد کا اضافہ ہے۔

    ماہرین کے نزدیک چین کی غیر ملکی تجارت نے مسلسل آٹھ سہ ماہیوں سے سالانہ مثبت نمو برقرار رکھی ہےاورغیرملکی تجارت کے پیمانےمیں مسلسل اضافہ ہواہے۔یہ توقع ظاہرکی گئی ہےکہ سال کےدوسرے نصف میں مسلسل ترقی کی رفتاربرقرار رہےگی۔چین اور“بیلٹ اینڈ روڈ” سے وابستہ ممالک کے درمیان تجارت کی شرح نمو سال کی پہلی ششماہی میں ملک کی بیرونی تجارت کی مجموعی شرح نمو کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اور مذکورہ ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات نسبتاً مستحکم ہیں، اور آئندہ ترقی کی صلاحیت لامحدود ہے۔

    دوسری طرف پا ک چین بحری مشقیں شنگھائی کے قریب سمندر اور فضائی حدود میں تیاریاں شروع ،اطلاعات کے مطابق چین اور پاکستان کی بحری افواج کے درمیان طے پانے والے اتفاق رائے کے مطابق، دونوں فریق جولائی کے وسط میں شنگھائی کے قریب سمندر اور فضائی حدود میں “سی گارڈینز-2” کے نام سے مشترکہ بحری فوجی مشقیں کر رہے ہیں۔ یہ چار روزہ مشقیں 10 سے 13 جولائی تک جاری رہیں گی اور یہ مشقیں ایکشن پلاننگ اسٹیج اور میری ٹائم اسٹیج سمیت دو مرحلوں میں تقسیم ہیں ۔ مشترکہ مشقوں کے پلان کے مطابق مشقیں بحری سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ ردعمل پر مرکوز ہیں۔

    مشقوں کے دوسرے مرحلے میں مشترکہ سمندری حملے، مشترکہ حکمت عملی، مشترکہ اینٹی سب میرین، تباہ شدہ بحری جہازوں کی مشترکہ معاونت اور مشترکہ فضائی اور میزائل شکن مشقوں سمیت 9 اقسام کی مشقیں شامل ہیں۔ ان مشترکہ مشقوں کا مقصد فریقین کے درمیان دفاعی تعاون کو بڑھانا، فوجی مہارت اور تجربے کا تبادلہ کرنا، دونوں ممالک اور دونوں فوجوں کے درمیان روایتی دوستی کو مزید گہرا کرنا اور چین پاکستان چار موسموں کی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کی ترقی کو فروغ دینا ہے.

     

     

     

     

    بدھ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق چینی اور پاکستانی فوجیوں کے درمیان گہرا تعاون اور کئی سالوں سے جاری مشترکہ فوجی مشقیں دونوں ممالک کے درمیان اٹوٹ روایتی دوستی کی علامت اور نشان بن چکی ہیں۔ ہم حالیہ برسوں میں دونوں افواج کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں کی تاریخ کا جائزہ لے سکتے ہیں: 2003 میں “ڈولفن 0310” مشترکہ بحری تلاش اور بچاؤ کی مشقیں، “چین-پاکستان دوستی-2005” میری ٹائم تلاش اور بچاؤ کی مشقیں، 2011 میں انسدادِ بحری قزاقی کی مشترکہ مشقیں، 2014 کی “ہمالیہ ۔ 1” مشترکہ مشقیں، 2015 کی چین-پاکستان “دوست” مشترکہ میری ٹائم مشقیں، 2017 کی چین-پاکستان بحری مشترکہ مشقیں، پہلی “سی گارڈینز-2020″ مشترکہ میری ٹائم مشقیں… دونوں بحری افواج کے درمیان مشترکہ مشقوں کا یہ سلسلہ پاکستان اور چین کی مستحکم اور طویل المدتی دوستی کا مضبوط ترین نشان بن گیا ہے۔

     

    تکنیکی نقطہ نظر سے، عمومی معنوں میں مشترکہ مشقوں سے مختلف، ” سی گارڈینز-2″ کوئی ایسی مشقیں نہیں ہیں جو صرف سیاسی بیانات پر مرکوز ہوں۔یہ مشقیں نہ صرف دونوں بحری افواج کی بحری جنگی صلاحیتوں اور مشترکہ آپریشنز کو مزید مضبوط کریں گی ، بلکہ ان مشقوں کے دوران چین کی جانب سے پاکستان کے لیے تیار کردہ” ایلفا فریگیٹ پی این ایس تیمور”، جو ایک ماہ سے بھی کم عرصہ قبل فیکٹری سے باہر نکلا ہے،کا تجربہ کیا جائے گا۔ پاکستانی بحریہ نے اس نئے جنگی جہاز کو مشق میں شرکت کے لیے استعمال کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی فریق بنیادی طور پر اس جہاز کی ٹیکنالوجی اور آپریشن سے واقف ہو گیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اصل جنگی مشقوں کے قریب یہ مشقیں پاکستانی بحریہ کو جہاز کی حقیقی جنگی صلاحیت کی تشکیل کو تیز کرنے میں مدد دیں گی۔
    سیاسی نقطہ نظر سے،

    گزشتہ برسوں کے دوران مسلسل مشترکہ فوجی مشقیں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط روایتی دوستی، سیاسی باہمی اعتماد اور ہمہ گیر تعاون کا ناگزیر نتیجہ ہیں،اور علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں کو بھی ظاہر کرتی ہیں۔ بلاشبہ ہم اس بات پر بھی زور دینا چاہتے ہیں کہ یہ مشترکہ مشقیں چینی اور پاکستانی بحری افواج کی جانب سے طے پانے والے سالانہ فوجی تعاون کے منصوبے کے مطابق کی گئی ہیں،

    ان مشقوں کا علاقائی صورت حال سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کا ہدف کوئی تیسرا فریق نہیں ہے۔ علاقائی اور عالمی امن کو برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم قوت کے طور پر، چینی اور پاکستانی فوجوں کے درمیان تعاون نے بلاشبہ عالمی برادری کے سامنے عالمی امن اور مستقبل کے لیے دونوں ممالک اور دونوں فوجوں کے احساس ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔اور یہ مشترکہ بحری مشقیں یقیناً چین پاکستان دوستی اور تعاون کو مزید تقویت دیں گی۔

     

  • ملک میں بارشیں اور سیلاب،پاک فوج عوام کی جان ومال کے تحفظ کیلئے پرعزم

    ملک میں بارشیں اور سیلاب،پاک فوج عوام کی جان ومال کے تحفظ کیلئے پرعزم

    ملک کے مختلف مقاما ت میں شدید بارشیں اور کئی مقامات پر اربن فلڈنگ کی صورتحال میں پا ک فوج سول انتظامیہ کے ساتھ شانہ بشانہ ہے،بارشوں کی صورتحال کے پیش نظرتمام کور ہیڈ کوارٹرزکو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں.اور کہا گیا ہے کہ بارشوں کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل تیاری رکھیں اور ریسکیو ریلیف اور زیرِ آب علاقوں کو کلئیر کرنے کے لئے انتظامیہ کی بھرپور مدد کی جائے۔

    کراچی: موسلادھار بارش، متعدد علاقے ڈوب گئے، گھروں میں پانی داخل، کرنٹ لگنے سے 3 جاں بحق

    کراچی میں شدید بارش کے باعث پاکستان آرمی، پاکستان رینجرز سندھ، ایف ڈبلیو او اور این ایل سی کی ٹیمیں مسلسل انتظامیہ کی معاونت کر رہی ہیں۔388ڈی واٹرنگ ٹیمز مسلسل زیر ِ آب علاقوں میں ڈی واٹرنگ میں مصروف ہیں۔

    راولپنڈی اوراسلام آباد میں زیادہ سے زیادہ بارش21 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔راولپنڈی کور مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔

    خیبر پختونخوا میں ٹانک اور صوابی میں فلیش فلڈنگ ہے جبکہ پشاور کور نے روڈ شندور چترال کو ٹریفک کے بہاؤ کیلئے کھولنے میں سول انتظامیہ کی مدد کی ہے۔


    بلوچستان میں لسبیلہ میں 400افراد کو سیلابی پانی سے ریسکیو کیا گیا۔کوئٹہ کور نے ہر ضلع میں ایک رابطہ آفسر مقرر کیا ہے جو کہ PDMAاور سول انتظامیہ کے ساتھ آپریشن میں مصروف ِ عمل ہے۔


    گلگت بلتستان میں قراقرم ہائی وے، جگلوٹ سکردو روڈ اور بابو سر شاہرائیں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بلاک ہو گئیں تھیں،جنہیں ایف ڈبلیو اور اور این ایچ اے نے ٹریفک کے لئے بحال کر دیا ہے۔FCNAٹروپس ضلع غِذر میں سول انتظامیہ کی مدد مصروفِ عمل ہیں۔

     

    فوج کے دستے اور رینجرز اہلکار کراچی میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف

  • لیہ میں  پاک فوج سے اظہار یک جہتی کیلئے تقریب منعقد کی گئی

    لیہ میں پاک فوج سے اظہار یک جہتی کیلئے تقریب منعقد کی گئی

    لیہ میں پاک فوج سے اظہار یک جہتی کیلئے تقریب منعقد کی گئی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لیہ ضلعی انتظامیہ اور تمام محکمہ جات کے زیراہتمام بی زیڈیوکیمپس لیہ میں پاک فوج سے اظہار یک جہتی کیلئے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔تقریب کی صدارت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل قدسیہ ناز نے کی۔تقریب میں ڈی ڈی کالجز عمیرعاصم ،سی ای او صحت ڈاکٹرامیرعبداللہ سامٹیہ،سی ای او تعلیم شرافت علی بسرا،ڈی ایچ او ڈاکٹرمزمل کریم،ڈی ڈی زراعت غلام یاسین واندر،ڈی ڈی سوشل ویلفیئرمشتا ق حسین ،ڈی ای او تعلیم توکل حسین، ڈسٹرکٹ آفیسر ماری سٹوپس نویدظفر سمراء ،اساتذہ،طلباء اور سول سوسائٹی نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔تقریب میں مقررین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ پاک فوج کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں وطن عزیز کی حفاظت اورپاکستان کے اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نبردآزما ہونے کے لئے پاک فوج بے مثال اور مثبت کردار ادا کررہی ہے ۔مقررین نے کہاکہ پاک فوج نے ملکی دفاع کیلئے جو قربانیاں دیں اور قدرتی آفات میں بھی عوام کی فلاح کیلئے ہماری فوج نے جو خدمات انجا م دیں وہ رہتی دنیا تک یاد رہیں گی ۔مقررین نے مزید کہا کہ پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اُن کے شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے ۔تقریب میں تقاریر،ملی نغموں،ٹیبلوز اور خاکوں کے ذریعے پاک فوج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔تقریب کے اختتام پر واک کا بھی اہتمام کیاگیا۔ ۔تقریب کی میزبانی کے فرائض پروفیسر امین اللہ قاضی نے انجام دیے۔

  • نانگا پربت پر پھنسے ہوئے کوہ پیماوں کو ریسکیو کرلیا گیا

    نانگا پربت پر پھنسے ہوئے کوہ پیماوں کو ریسکیو کرلیا گیا

    شہروزکاشف، فضل علی کو پاک آرمی کے ہیلی کاپٹر میں بیس کیمپ سے گلگت پہنچا دیا گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نانگا پربت میں خراب موسم کے باعث پھنس جانے والے کوہ پیماؤں شہروز کاشف اور فضل علی کو پاک آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر میں بیس کیمپ سے گلگت پہنچا دیا گیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق نانگا پربت پر پھنسے ہوئے کوہ پیماوں کو ریسکیو کرلیا گیا، دونوں کوہ پیماوں کو پاک فوج کے ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ریسکیو کیا گیا، پاک فوج کا ہیلی کاپٹر گلگت کے قریب جگلوٹ لینڈ کرگیا،

    ڈپٹی کمشنر دیامر کا کہنا ہے کہ نانگا پربت میں پھنسے 2 پاکستانی کوہ پیماوں کو آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹر سے ریسکیو کر لیا گیا کوہ پیما شیروز کاشف اور فضل علی نانگا پربت سر کرنے کے بعد واپسی پر پھنسے تھے،دونوں کوہ پیماوں کو کیمپ 1 سے آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر پر گلگت پہنچا دیاگیا ہے،

    پاک فوج بدھ کے روز سے نانگا پربت میں پھنسے ہوئے کوہ پیماؤں شہروز کاشف اور فضل علی کو نکالنے کے لیے ہائی رسک ریسکیو آپریشن کو مربوط کر رہی تھی۔کوہ پیماوں کوریسکیوکرنے کے لیے آرمی ہیلی کاپٹر اور ایک گراونڈ سرچ ٹیم کام کررہی تھی ،آرمی ایوی ایشن پائلٹ نے جرات کے ساتھ خراب موسمی حالات کے باوجود گزشتہ روز ہیلی کاپٹر اڑائے گہرے بادلوں اور اونچائی زیادہ ہونے کی وجہ سے کوہ پیماوں کو نکالا نہیں جاسکا تھا تاہم اب انکو نکال لیا گیا ہے

    قبل ازیں گزشتہ روزنانگا پربت سے لاپتہ کوہ پیما شہروز کاشف کے والد نے آرمی چیف سے مدد کی اپیل کی تھی، شہروز کاشف کے والد کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے نے گزشتہ روز نانگا پرپت سر کی تھی اب اس کو ریسکیو آپریشن کرکے تلاش کیا جائے بیٹے سے ٹریکر کے ذریعے 7350 فٹ کی بلندی تک رابطہ تھا شہروز 20 سال کی عمر میں بڑے بڑے کارنامے انجام دے کر پاکستان کا نام روشن کرچکا ہے اس نے کنچن جنگا چوٹی سر کرکے فوجی شہداء کے نام کی تھی آپ لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ جلد آپرشن کرکے میرے بیٹے کو تلاش کیا جائے

    کوہ پیما شہروز کاشف نے منگل کی صبح نانگا پربت چوٹی سر کی تھی جبکہ موسم کی خرابی کے دوران وہ اپنے ساتھی کے ہمراہ واپس آرہے تھے دوسری جانب براؤٹ پیک سر کرنیوالے شریف سدپارہ بھی انتہائی بلندی سے گر کر لاپتہ ہوگئے ہیں، ان کے اہل خانہ نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سرچ آپریشن کا مطالبہ کیا ہے

    محمد علی سدپارہ اور بیٹے کوکون سے اعزاز دیئے جائیں گے؟ حکومت نے اعلان کر دیا

    دنیا کے سب سے خوبصورت سٹیڈیم میں پہلا کرکٹ میچ علی سدپاہ کے نام

    پاکستانی کوہ پیماؤں نے ایک بار پھر تاریخ رقم کر دی

    یوم پاکستان پریڈ،کوہ پیما سدپارہ کو خراج تحسین،پاک فضائیہ، بحریہ کے طیاروں کا فلائی پاسٹ

    پاکستانی نوجوان نے کم عمر ترین کوہ پیما کا اعزاز حاصل کر لیا

    کیا علی سدپارہ واقعی زندہ ہیں؟ ریسکیوٹیم نے ہار کیوں نہیں‌مانی ؟تہلکہ خیز انکشافات

    محمد علی سدپارہ سے کہاں غلطی ہوئی؟ تاریخی سرچ آپریشن میں کیا چل رہا ہے؟ اہم معلومات

    کے ٹو پر لاپتا پاکستانی کوہ پیماعلی سدپارہ کی موت کی تصدیق

    کے ٹو نے والد کو ہمیشہ کیلئے اپنی آغوش میں لے لیا،ساجد سدپارہ

  • کارگل معرکے میں دُشمن پردھاک بٹھانے والے ہیرو* حوالدار لالک جان شہید(نشان حیدر)

    کارگل معرکے میں دُشمن پردھاک بٹھانے والے ہیرو* حوالدار لالک جان شہید(نشان حیدر)

    1965کی جنگ ہو یا کارگل کا محاذ، قوم کے بہادر سپوتوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاک دھرتی کو ہمیشہ شاد و آباد رکھا ہے۔ ایسی ہی ایک مثال حوالدار لالک جان کی ہے جنہوں نے کارگل جنگ میں دُشمن کو ایسی کاری ضرب لگائی جسے وہ صدیوں تک یاد رکھے گا۔

     

    کشمیر کی وادی غزر جسے وادی شہداء بھی کہا جاتا ہے، آج بھی لالک جان کے قصیدوں سے گونج رہی ہے جہاں انہوں نے اپنے خُون سے، وطن سے وَفا کی لازوال داستان رقم کی جس کی بہادری کا اعتراف دُشمن نے بھی کیا۔یہاں کے ہر گاؤں اور قصبہ میں شہدا کے مزار کے اوپر سبز ہلالی پرچم نظر آرتاہے۔

    دُنیا کے بُلند ترین محاذِ جنگ کارگل میں دُشمن پر دھاک بٹھانے اور اُس کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے والے بہادر سپوت حوالدار لالک جان گلگت بلتستان کے ضلع غذر کی تحصیل یاسین میں 01اپریل 1967 کو ایک غریب کسان نیت جان کے گھرپیدا ہوئے۔ لالک جان نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں ہندورسے حاصل کی اور مڈل تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1984میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ ناردرن لائیٹ انفنٹری رجمنٹ ٹریننگ سنٹر بنجی میں ابتدائی ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد آپ نے1985میں 12این ایل آئی میں رپورٹ کیا۔ پیشہ ورانہ صلاحیتو ں کی بناء پر آپ یونٹ کی بیشتر ٹیموں کا حصہ رہے۔ آپ کی ڈرل، فوجی ٹرن، جسمانی چستی ہمیشہ مثالی رہی۔ آپ نے یونٹ کی کمانڈو ٹیم کو پہلی پوزیشن دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔آپ کی ویپن کی مہارت کا یہ ثبوت ہے کہ آپ بطور ویپن ٹریننگ انسٹرکٹر ناردرن لائیٹ انفنٹری رجمنٹ سنٹر بنجی میں تعینات رہے۔

     

     

    معرکہ کارگل کے دوران لالک جان اپنے گھر چھٹیاں گزارنے آئے ہوئے تھے، جب ان کو کارگل لڑائی کی خبر ملی تو چھٹی ختم ہونے میں چھ دن باقی تھے۔ لالک جان نے اپنے والد محترم سے محاذجنگ کی طرف روانہ ہونے کی اجازت مانگی اور کہا کہ میری چھٹیاں ختم ہونے میں چھ روز باقی ہیں اور یہ دن میں گھر گزارنے کے بجائے محاذجنگ پر گزارناچاہوں گا اور ماں سے کہا کہ میرے لیے دعا کرنا کہ میں ملک کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوجاؤں۔ لالک جان کی یہ آرزو پوری ہوئی اور ان کے والد نیت جان نے اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ میرے بیٹے نے اپنی جان سے بھی عزیز ملک پاکستان کے گلشن کو سیراب کرنے کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔

    حوالدار لالک جان ناردن لائٹ انفنٹری کے ایک بے باک نڈراور بہادر فرزند کی مانند ابھر کے سامنے آئے۔ آپ نے اپنے وطن عزیز کی خاطر ایسے دلیرانہ اقدام کیے جس کی مثال تاریخ میں شاذونادر ہی ملتی ہے۔ بحیثیت ایک جونیئر لیڈر آپ نے اپنے جرأت مندانہ اقدام کی بدولت دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور ان کے متعددحملے پسپا کئے۔ اپنے فرائض کی انجام دہی میں انھوں نے تن من دھن کی بازی لگادی۔مٹھی بھر ساتھیوں کے ہمراہ لالک جان نے ناصرف اپنی پوسٹ کا کامیابی سے دفاع کیا بلکہ دشمن کے متعدد حملوں کو ناکام بنا کر اُسے بھاری جانی نقصان بھی پہنچایا۔

    12جون 1999ء کولالک جان نے اچانک ایسا زبردست حملہ کیا کہ دُشمن اپنی لاشیں چھوڑ کر پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا۔قادر پوسٹ کے زبردست دِفاع کا اعتراف دُشمن نے ان الفاظ میں کیا”کسی بھی سپاہی نے اپنی پوسٹ نہ چھوڑی۔یہ دِفاعی جنگ بہادری کی اعلیٰ مثال ہے جو آخری سپاہی اور آخری گولی تک لڑی گئی“۔

    مئی1999میں جب یہ معلوم ہوا کہ دشمن ایک بڑے زمینی حملے کی تیاری کررہا ہے تو حوالدار لالک جان جو کسی اگلے مورچے پر نہیں بلکہ کمپنی ہیڈکواٹر میں اپنے فرائض سر انجام دے رہاتھے۔ اس موقع پر لالک جان نے اگلے مورچے پر لڑائی لڑنے کے لیے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ اگلے مورچے دشمن کے حملوں کی زد میں ہیں، حوالدار لالک نے اپنے سینئر افسروں سے اگلے مورچوں پر جانے کے لئے اصرار کیا اورایک انتہائی مشکل پہاڑی چوکی پر دشمن سے نبردآزما ہونے کے لیے کمر باندھ لی۔ جون کے آخری ہفتے کی ایک رات دشمن کی ایک بٹالین کی نفری نے حوالدار لالک جان کی چوکی پر بھر پور حملہ کیا۔ حملے کے دوران حوالدار لالک جان اپنی جان سے بے پروا ہوکر مختلف پوزیشنوں سے فائر کرتے رہے اور ہر مورچے میں جاکر جوانوں کے حوصلے بڑھاتے رہے۔ رات بھر دشمن کا حملہ جاری رہا اور لالک جان نے دشمن کے تمام ارادوں کو ناکام بنادیا اور صبح تک دشمن سپاہ لاشوں کے انبار چھوڑ کے پسپا ہوگئی تھی۔

    دوسری رات مزید کمک حاصل کرنے کے بعد دشمن نے ایک بار پھر مختلف اطراف سے حملہ شروع کردیا لیکن لالک جان نے اس رات بھی بے باکی اور جرأت کا مظاہر کرتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ 7 جولائی کو دشمن نے لالک جان کی پوسٹ پر توپ خانے کا بھر پور فائرکیا، پورا دن گولیوں کی بارش ہوتی رہی اور رات کو دشمن نے ایک بار پھر لالک جان کی پوسٹ پر تین اطراف سے حملہ کردیا اور حملے کے دوران دشمن کے فائر سے لالک جان شدید زخمی ہوئے لیکن کمپنی کمانڈر کے اصرارکے باوجود اپنی پوسٹ پر زخمی حالت میں بھی ڈٹے رہے اور دشمن کا مقابلہ جاری رکھا۔آپ کے جذبے کا عکاس یہ حمہ آج بھی تاریخ کے سنہرے ورقوں میں تحریر ہے کہ جب آپ کے زخموں کی شدت کو دیکھتے ہوئے کیپٹن احمد نے واپس جانے کا حکم دیا تو آپ نے جواب میں کہا کہ”میں ہسپتال میں بستر پر موت کو گلے لگانے سے ہتر میدان جنگ میں دُشمن سے لڑتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے ملنا پسند کرتا ہوں“۔

    آخر کار اس سپوت نے دشمن کے اس حملے کو بھی ناکام بنادیا لیکن اس کے ساتھ زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے حوالدار لالک جان 7جولائی 1999 کواپنی پوسٹ پر ہی شہید ہوگئے۔

    کارگل جنگ میں جب دشمن اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے حملہ آور ہوا تو منفی30درجہ حرات، یخ بستہ ہوائیں اور جان لیوا زخموں کے باوجود کمال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرد ِ مُجاہد نے کئی گھنٹوں تک لائیٹ مشین گن سے دُشمن کو بھاری نقصان پہنچایا لیکن مورچہ چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے اور دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹے رہے اور ملک کا دفاع کیا جس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔

    ان کی بے باکی، حوصلہ مندی اور جذبہ شہادت پر ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر عطا کیاگیا۔

  • قیام پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی منانے بارے اجلاس،ڈی جی آئی ایس پی آر کی بھی شرکت

    قیام پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی منانے بارے اجلاس،ڈی جی آئی ایس پی آر کی بھی شرکت

    قیام پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی بارے اجلاس،ڈی جی آئی ایس پی آر کی بھی شرکت
    وزارت اطلاعات و نشریات اور آئی ایس پی آر نے ملک بھر میں قیام پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات شایان شان طریقے سے منانے کے لئے پلان کا جائزہ لیا،

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس میں قیام پاکستان کی 75 ویں سالگرہ کے حوالے سے مجوزہ تقریبات اور تیاریوں کے انعقاد کا جائزہ لیا گیا ،اجلاس میں وزارت اطلاعات و نشریات اور آئی ایس پی آر کی طرف سے 75 سالہ تقریبات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ،جشن آزادی کے موقعے پر ملی نغموں کے مقابلے اور اس میں حصہ لینے والوں سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا گیا

    اجلاس کو بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ ملی نغمے کے مقابلوں میں حصہ لینے کی تاریخ 30 جون مقرر کی گئی تھی یکم سے 9 جولائی تک مقابلوں میں شریک ہونے والوں کو شارٹ لسٹ کیا جائے گا شارٹ لسٹ کئے جانے والوں کو اسلام آباد بلایا جائے گا مقابلہ جیتنے والے امیدوار کا ملی نغمہ 11 سے 14 اگست تک قومی نشریاتی رابطے پر نشر ہو گا دنیا بھر میں تمام پاکستانی سفارت خانوں میں بھی 75 ویں سالگرہ کے حوالے سے تقریبات منعقد کی جائیں گی

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ملک گیر تقریبات کے انتظامات پر اطمینان کا اظہارکیا اور وزیر اطلاعات نے قومی تقریبات کی تیاریاں کرنے والی ٹیموں اور ڈیپارٹمنٹس کے جذبے کی تعریف کی

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈائمنڈ جوبلی کے جشن کو قومی یک جہتی، اتحاد اور یگانگت کے فروغ کا یادگار موقع بنایا جائے گا تقریبات میں ملک بھر کی تمام ثقافتوں اور وفاق پاکستان کے تمام رنگوں کو شامل کیا جائے گا نوجوانوں کی جشن آزادی تقریبات اور مقابلوں میں بھرپور شرکت یقینی بنائی جائے گی

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

  • مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اینکر عمران ریاض خان کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ پاک فوج اور اداروں پر تنقید پر کتنی سزا کا حکومت نے بل پاس کیا ہے

    صحافی عمر چیمہ نے عمران ریاض خان کی ویڈیو شیئر کی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ عمران ریاض خان کہتے ہیں کہ مسلح افواج اور ان کے اداروں پر تنقید کرنے والوں کے خلاف دو سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا کی بل کی منظوی دے دی گئی ہے ،یہ بل منظور کر لیا گیا ہے، کچھ سوالات پیدا ہوئے تھے کچھ چیزیں کلیئر ہو گئی ہیں، یہ کلیئر ہو گیا ہے کہ منصوبہ بندی کے تحت افواج پاکستان پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے، باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ تنقید کی جا رہی ہے،نواز شریف نے شروع کیا، ہر جلسے جلوس میں فوج کو گالی دی،نعرے بازی کی، جرنیلوں کے نام لے کر گھٹیا قسم کے الزامات لگائے گئے، یہ سلسلہ انہوں نے شروع کیا،

    عمران ریاض خان کا مزید کہنا تھا کہ اس پروپیگنڈہ سے افواج پاکستان میں بے چینی پیدا ہوئی، پروپیگنڈہ اس لیول پر چلا گیا ہے کہ گلی محلوں میں چلا گیا ہے، سوشل میڈیا پر لوگوں نے آگ لگائی ہوئی ہے، پیڈ کیمپئن چل رہی ہے، یہ جو بے چینی ہے یہ ثابت ہوتی ہے کہ اسلئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے

    عمران ریاض خان کا مزید کہنا تھا کہ جو فوج پر تنقید کرتے ہیں،گالی دیتے ہیں، فوج سے پیار کرنے والے انکو مؤثر جواب نہیں دیتے، تگڑا جواب ملنا چاہئے تھا، پروپیگنڈے کو روکنا چاہئے تھا

     

    واضح رہے کہ عمران ریاض خان کی یہ ویڈیو اس وقت کی ہے جب تحریک انصاف کی حکومت تھی، تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد عمران ریاض خان نے پاک فوج پر کڑی تنقید شروع کر دی تھی،جس کے بعد عمران ریاض خان کے خلاف ملک کے کئی شہروں میں مقدمات درج کر لئے گئے تھے،گزشتہ شب عمران ریاض خان کو گرفتار کیا گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست پر کہا ہے کہ عمران ریاض خان لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کریں کیونکہ گرفتاری پنجاب سے ہوئی

    دوسری جانب صحافیوں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عمران ریاض خان صحافی نہیں رہے، صحافی نیوٹرل ہوتا ہے اور وہ صرف خبر دیتا ہے، عمران ریاض خان خبر دینے کی بجائے یوٹیوب اور ٹویٹر پر نہ صرف پی ٹی آئی کے ترجمان بنے ہوئے تھے بلکہ وہ پاک فوج کے خلاف بھی مسلسل تنقید کر رہے تھے

    ایف بی آر نوٹس کی مہلت ختم،عمران ریاض خان پیش نہ ہوئے

    آپ اتنا مت گھبرائیں،فارن فنڈنگ کیس میں عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    فارن فنڈنگ کیس،باہر سے پیسہ آیا ہے لیکن وہ ممنوعہ ذرائع سے نہیں آیا،پی ٹی آئی وکیل

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

  • پاک فوج پر تنقید,عمران ریاض خان کیخلاف اٹک میں مقدمہ درج

    پاک فوج پر تنقید,عمران ریاض خان کیخلاف اٹک میں مقدمہ درج

    اینکر پرسن عمران ریاض خان کے خلاف اٹک میں بھی شہری کی جانب سے مقدمہ درج کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اٹک کے رہائشی ملک مرید عباس نے اینکر عمران ریاض خان کے خلاف پاک فوج کے خلاف بیان بازی پر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کرایا-

    ایف آئی آر کے متن میں درخواست گزار کی طرف سے کہا گیا کہ بعض سیاستدانوں اور بعض الیکٹرانک میڈیا کے لوگوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ پاکستان کی سلامتی کو کمزور کرنا ہے اور پاکستان کی افواج کی طاقت کو کمزور کرنا ہے دشمن ممالک کے ایجنڈے کو طاقت دینی ہے اور پاک فوج کے گراف اور امیج کو نقصان پہنچانا ہے-

    ایف آئی آر میں کہا گیا کہ آئین پاکستان میں پاک فوج کے خلاف بیان بازی کرنا اور گفتگو کرنا جرم ہے اور پاکستان کے قانون میں بھی جرم ہے ماضی میں بھی پاکستان کی افواج کے خلاف بیرونی عناصر کی ایما پر ایسی گھناؤنی سازشیں ہوتی رہی ہیں بالآخر ملک دشمن عناصر خود اپنی موت مر جاتے ہیں –

    ایف آئی آر میں کہا گیا کہ پاک فوج دنیا کی مضبوط ترین افواج میں شامل کی جاتی ہے جس کی پیشہ وارانہ مہارت کو پوری دنیا بھی تسلیم کر تی ہے اینکر پرسن عمران ریاض خان نے پاک فوج کے خلاف زبان درازی کی ہے اور پاک فوج کی توہین کرنے کی کوشش کی ہے پاک فوج کے امیج اور نیک نامی کو نقصان پہنچایا ہے جو کہ انتہائی تکلیف دہ اور ناقابل برداشت فعل ہے-

    ایف آر آئی کے مطابق عمران ریاض خان کا یہ امر پورے پاکستان میں دیکھا اور سُنا گیا جس سے ہر پاکستانی کا دل دکھی ہو اہے اور جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اس شخص نے پاک فوج پر بہیودہ الزام لگائے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ایسے لوگوں کو احساس نہیں کہ پاک فوج پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے اور ب تک تقریباً ساٹھ ہزار افراد جام شہادت نوش کر چکے ہیں-

    درخواست گزار نے کہا کہ ایسے مغلظات کہنے والے لوگوں نے آج تک ملک کے لئے کیا ہی کیا ہے؟ اور یہ پاک فوج پر الزامات لگا کر ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں جو کہ قابل گرفت ہے استدعا ہے کہ اینکر پرسن عمران ریاض خان کے خلاف قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا جائے-

    واضح رہے کہ عمران ریاض خان کے خلاف پہلے بھی متعدد مقدمات درج کئے جاچکے ہیں جبکہ عمران ریاض خان کو گزشتہ شب گرفتار کیا گیا تھا اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دے دیا ہے-

  • کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا یوم شہادت، آبائی قصبہ میں تقریب

    کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا یوم شہادت، آبائی قصبہ میں تقریب

    کیپٹن کرنل شیر خان شہید نشان حیدر کا 23 واں یوم شہادت آج ان کے آبائی قصبہ صوابی (کے پی) میں منایا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق میجر جنرل عادل یامین انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کانسٹیبلری خیبر پختونخوا نے کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ پھولوں کی چادر چڑھانے کی تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، سول و عسکری حکام اور شہید کے لواحقین نے شرکت کی۔

    کارگل جنگ کے ہیرو شیرخان نے اپنےخون سے تاریخ رقم کی، انہوں نے معرکۂ کارگل میں لازوال بہادری، جرات کا مظاہرہ کیا اور وطن عزیز کی حفاظت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق مادروطن کی حفاطت کیلئےکرنل شیرخان کا جذبہ اٹل تھا۔

    سال 1999 میں کارگل کے محاذ میں کرنل شیر خان کو 18400 فٹ بلندی پر دفاع کا کام سونپا گیا۔ 28 جون 1999 کو بھارتی افواج نے دراس کے علاقے پر حملہ کیا۔ کیپٹن کرنل شیر خان نے 41 فوجیوں کی قیادت کرتے ہوئے بھارتی فوج کو زبردست جانی نقصان سے دوچار کیا اور بھارتی فوج کو پسپا ہونا پڑا۔ اس معرکے میں کیپٹن کرنل شیر خان نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔

    حکومت پاکستان نے کیپٹن کرنل شیر خان کے عظیم کارنامے پر انہیں پاکستان کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ”نشان حیدر“ عطا کیا۔ان کے گاؤں کوبھی کرنل شیرخان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے ۔

    کیا اگلی باری بھارت کی ہے یا پھرٹال مٹول:ایف اے ٹی ایف کے صدرنے بیان دے کربھارت کے حواس باختہ کردیئے

    ایف اے ٹی ایف کے پلیٹ فارم پر بھارت کا چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے، حماد اظہر

    ایف اے ٹی ایف،پاکستان جب تک یہ کام نہیں کریگا وائیٹ لسٹ میں نہیں آ سکتا،مبشر لقمان کا خوفناک انکشاف

    قریشی نے سعودی عرب کو دھمکی دے کر احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا،وزارت چھوڑ کرگدی نشینی کا کام کریں، ساجد میر

  • شمالی وزیرستان، سیکورٹی فورسز کی کاروائی،تین دہشت گرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، سیکورٹی فورسز کی کاروائی،تین دہشت گرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، سیکورٹی فورسز کی کاروائی،تین دہشت گرد جہنم واصل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف کاروائی میں تین دہشت گرد جہنم واصل ہوئے، دہشت گردوں کے خلاف کاروائی انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی، شمالی وزیرستان کے ضلع غلام خان کلے کے علاقے میں آپریشن کیا گیا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے گولہ بارود ، اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی فورسز کے آپریشن میں مارے گئے دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث تھے ،

    گزشتہ ماہ 26 جون کو بھی سیکورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپ شمالی وزیرستان کے علاقے غلام خان میں ہوئی تھی فائرنگ کے تبادلے میں 7 دہشت گرد ہلاک ہوگئے تھے، 25 جون کو بھی شمالی وزیرستان کے علاقے دوسالی میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا۔فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد مارے گئے۔ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا تھا

    بھارتی میڈیا نے مودی حکومت کی اصلیت واضح کردی،وزیراعظم عمران خان کا بڑا اعلان

    شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن ،دو دہشت گرد جہنم واصل،ایک گرفتار

    جنوبی وزیرستان ،دہشتگردوں کاچیک پوسٹ پرحملہ،4 جوان شہید، چار دہشت گرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان میں سرحد پارسے دہشتگردوں کی فائرنگ،3 جوان شہید