Baaghi TV

Tag: پاک فوج

  • ڈی جی آئی ایس پی آر کی مختلف مذاہب کے نمائندگان سے خصوصی نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی مختلف مذاہب کے نمائندگان سے خصوصی نشست

    اقلیتی برادری کے نمائندگان نے کہا کہ نشست سے ناصرف ہمارے حوصلے بلند ہوئے بلکہ منفی شکوک و شبہات بھی دور ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی لاہور میں مختلف مذاہب کے رہنماؤں اور نمائندگان سے خصوصی ملاقات ہوئی ہے۔مختلف مذاہب خصوصاً مسیحی، سکھ اور ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں اور نمائیندگان نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے خصوصی نشست کے اہتمام پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔اقلیتی برادری کے نمائندگان کا کہنا تھا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم پاکستانی ہیں اور آجکی خصوصی نشست کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر کی گفتگو سے ناصرف ہمارے حوصلے بلند ہوئے بلکہ تمام منفی شکوک و شبہات بھی دور ہوگئے۔شرکاء کا کہنا تھا کہ پاک فوج ہماری آن اور شان ہے اور پوری قوم سمیت مذہبی مکاتبِ فکر بھی اپنی افواج کے ہمراہ کھڑے تھے، کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ جس طرح پاکستان بنانے میں تمام مذاہب کے ماننے والوں نے قربانیاں دی بلکل ویسے ہی اقلیتی برادری سمیت تمام مذہبی جماعتیں اُسی جذبے اور محب الوطنی سے سرشار ہوکر پاکستان کی خدمت کرتے رہیں گے۔

    اسحاق ڈار کا آئندہ ماہ ملائشیا ،بنگلہ دیش کا دورہ متوقع

    وزیراعظم کی یو اے ای کے صدر سے ملاقات، تعلقات میں بہتری پرگفتگو

    وزیراعظم کی یو اے ای کے صدر سے ملاقات، تعلقات میں بہتری پرگفتگو

    کراچی میں دو نئے پاسپورٹ آفس قائم

    امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون میں پیشرفت

  • حوالدار مدثر محمود کی شجاعت اور بہادری، تاریخ کا ایک روشن باب

    حوالدار مدثر محمود کی شجاعت اور بہادری، تاریخ کا ایک روشن باب

    شہدائے پاکستان کو سلام.وطن سے محبت میں جان نچھاور کرنا پاک فوج کی پہچان ہے.جان قربان کرنے والے عظیم سپوتوں کی قربانیوں نے پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط کیا.

    دفاع وطن میں جان قربان کرنے والی داستانوں میں سے ایک لانس حوالدار مدثر محمود شہید کی ہے.حوالدار مدثر محمود شہید نے 13 اپریل 2024 کو بونیر میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا.حوالدار مدثر محمود شہید کا تعلق ضلع راولپنڈی سے ہے.حوالدار مدثر محمود شہید نے سوگواران میں والدین، بیوہ اور تین بچے چھوڑے.حوالدار مدثر محمود کے لواحقین نے اپنے احساسات و جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:”بہت خوش قسمت ہوں کہ اللہ نے ایسا بیٹا عطا کیا”بہت فخر ہے کہ بیٹا راہِ حق میں ملک کے لیے شہید ہوا.بیٹے کو بچپن سے فوج میں جانے کا شوق تھا، اللہ نے اس کا شوق پورا کیا.بہت فرمانبردار تھا، ہر کسی کی خواہش کا خیال رکھتا تھا.بہت خوش قسمت ہوں کہ شہید کا والد ہوں.شہادت کا صدمہ بہت ہے مگر خوشی ہے اللہ نے اس کو اتنا بڑا رتبہ عطا کیا.آخری بار کہہ کر گیا کہ عید کے چوتھے دن آؤں گا مگر چوتھے دن اس کی جسدِ خاکی آئی.مدثر کے بیٹوں میں مجھے اس کا عکس نظر آتا ہے.اس کے بیٹے کہتے ہیں وہ اپنے بابا کی طرح فوج میں جا کر ملک کا نام روشن کریں گے.

    والدہ، حوالدار مدثر محمود شہید کا کہنا تھا کہ بیٹا بہت تابعدار اور خدمت گزار تھا، سب گھر والوں سے بہت پیار کرتا تھا.والدہ.بچے اپنے بابا کو بہت یاد کرتے ہیں.بیٹے کی شہادت پر فخر ہے، اللہ اس کے درجات بلند کرے.بیٹے کی شہادت ہمارے لیے بہت بڑا اعزاز ہے، شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں.

    بیوہ حوالدار مدثر محمود شہید کا کہنا تھا کہ مدثر کی جدائی کا بہت غم ہے مگر اس نے ملک اور قوم کے لیے شہادت نوش کی.ان کے ساتھ زندگی بہت اچھی گزری، کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی.مجھ سے اور بچوں سے بہت پیار کرتے تھے، انکی کمی کوئی پوری نہیں کر سکتا.شہادت کا بہت شوق تھا، اللہ نے ان کی یہ خواہش پوری کی.ان کی خواہش تھی کہ وہ مجھے اور اپنے والدین کو عمرہ پر لے کر جائینگے.مجھے فخر ہے کہ اللہ نے میرے شوہر کو شہادت کا رتبہ عطا کیا،

    حوالدار مدثر محمود کی شجاعت اور بہادری تاریخ کا ایک روشن باب ہے،پاک فوج کے اس بہادر سپوت کا اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا ہم سب کے لیے باعث فخر ہے

    میجر محمد اویس شہید کی نماز جنازہ ادا

    خیبرپختونخوا کے 3 اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں ، 13 خوارج ہلاک، میجر شہید

  • رحم کی  اپیلوں کی منظوری، آرمی چیف کی ہمدردی، انصاف کیلیے فوج کے عزم کا ثبوت

    رحم کی اپیلوں کی منظوری، آرمی چیف کی ہمدردی، انصاف کیلیے فوج کے عزم کا ثبوت

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی جانب سے 9 مئی کے حملوں میں ملوث 19 ملزمان کی رحم کی اپیلوں کی منظوری ایک طرف جہاں ان کی انسان دوست سوچ کو ظاہر کرتی ہے، وہیں یہ فوجی عدالتوں کی شفافیت اور انصاف کے نظام کی پختگی کو بھی اجاگر کرتی ہے۔یہ افراد اپنی دو سالہ سزا مکمل کرنے کے قریب تھے، اور ان کی اپیلیں محض انسانیت کی بنیاد پر منظور کی گئیں۔ اس فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فوجی عدالتیں انصاف کے اصولوں کے مطابق اور آئین کے تحت کام کر رہی ہیں۔

    یہ اقدام نہ صرف فوجی عدالتوں پر تنقید کرنے والوں کی زبانوں کو بند کرتا ہے، بلکہ یہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی انصاف اور رحم کے معاملے میں متوازن نقطہ نظر کو بھی اجاگر کرتا ہے۔پی ٹی آئی کے بیانیے کے برعکس، فوج نے فسادیوں کے ساتھ بدلہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں دکھایا۔ سزا سنانے اور رحم دینے کے حوالے سے کیے گئے فوری فیصلے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ فوج انصاف کے اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے، انسانی ہمدردی کو بھی مدنظر رکھتی ہے۔

    آرمی چیف نے واضح طور پر کہا ہے کہ ریاست ان لوگوں کو ریلیف فراہم کرے گی جو حقیقی پچھتاوے کا مظاہرہ کریں گے، لیکن بدامنی اور تشدد کے واقعات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    اس فیصلے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی ادارہ اپنے قیدیوں کو قانونی راستوں کی پیشکش کر رہا ہے، جن میں رحم کی درخواستیں شامل ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پورا عمل انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ان رحم کی اپیلوں کی منظوری آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی انسانیت پسندی اور فوج کی انصاف کے ساتھ وابستگی کا غماز ہے، اور اس سے یہ تمام بے بنیاد قیاس آرائیاں رد ہو جاتی ہیں جو اس عمل کو سیاسی مقاصد سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    سزا معافی کا فیصلہ،فوجی عدالتوں پر تنقید کرنیوالوں کے منہ پر زبردست طمانچہ

    سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

  • سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

    سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

    آج 9 مئی کے 19 مجرمان کو، جنہیں دو سال کی سزا سنائی گئی تھی، ان کی رحم کی پیٹیشنز پر عمل کرتے ہوئے معافی دے دی گئی اور رہا کرنے کا حکم دے دیا گیا یہ فیصلہ کئی اہم نکات کو اجاگر کرتا ہے اور ملٹری کورٹ کے عمل کی شفافیت اور آئینی اصولوں کی پیروی کی واضح مثال ہے۔یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ ملٹری کورٹس کا ٹرائل مکمل طور پر آئین اور قانون کے مطابق اور شفافیت پر مبنی ہے۔ وہ عناصر جو فوجی عدالتوں اور ٹرائل کے عمل پر بے جا تنقید کرتے رہے ہیں، آج کا فیصلہ ان کے لیے ایک زور دار جواب ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ملٹری عدالتیں نہ صرف انصاف فراہم کرتی ہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنے میں غیر جانبدار رہتی ہیں۔

    آئینی بینچ کی اجازت کے بعد، جس رفتار سے سزائیں سنائی گئی تھیں، اسی تیزی سے مجرمان کی رحم کی پیٹیشنز پر عمل درآمد کیا گیا۔ یہ فیصلہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لیا گیا ہے اور ان افراد کی باقی ماندہ سزا، جو تقریباً چار سے پانچ ماہ تھی، کو معاف کر دیا گیا۔ یہ عمل اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ قانون کی بالادستی اور آئین کی تکمیل میں غیر جانبداری کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔

    یہ 19 مجرمان وہ ہیں جنہوں نے اپنے رحم کی درخواست خود دی تھی اور ان کی سزا میں معافی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی۔ یہ لوگ تقریباً ایک سال اور چھ ماہ کی سزا مکمل کر چکے تھے اور صرف چند ماہ کی باقی سزا تھی، جس کو معاف کیا گیا۔ اس فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فوج کسی بھی فرد کے ساتھ انتقامی کاروائی نہیں کر رہی بلکہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اس سے پہلے بھی اپریل 2024 میں 20 مجرمان کی سزاؤں کو معاف کیا تھا، اور اب ان 19 مجرمان کے معاملے میں بھی انسانیت اور ہمدردی کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا۔ یہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی رحم دلی اور انسانیت کے تئیں ہمدردی کا واضح اظہار ہے۔یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ ملٹری ٹرائل اور قانون کی شفافیت میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ یہ فیصلہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف قانون کی شفافیت کا پتا چلتا ہے بلکہ انصاف کی فراہمی میں غیر جانبداری کی بھی وضاحت ہوتی ہے۔یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ باقی مجرمان کے پاس بھی اپیل کرنے کا حق برقرار ہے اور وہ اپنے قانونی اور آئینی حقوق کے مطابق مزید کارروائی کر سکتے ہیں۔ اس فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نظام انصاف میں انسانی ہمدردی اور رحم کو مدنظر رکھتے ہوئے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔اس فیصلے کو کسی بھی سیاسی عمل سے جوڑنا اور اس پر بے تکی قیاس آرائی کرنا غیر مناسب ہے۔ یہ فیصلہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے، اور اس کا مقصد صرف مجرمان کی باقی ماندہ سزا میں کمی لانا اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

    یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ قانون اور آئین کی بالادستی کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاتا۔ ملٹری کورٹس کی شفافیت، انصاف کے تقاضوں کی تکمیل اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فیصلوں کا لینا، یہ سب چیزیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی فوج کے ٹرائل سسٹم میں انصاف کی فراہمی میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا رہا۔

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    9 مئی کو جو کیا بھارت کی فوج بھی نہ کرسکی، ایاز صادق

    نو مئی کے تمام ملزمان کیفر کردار کو پہنچیں گے، عطا تارڑ

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    سانحہ نو مئی کے مجرمان کو شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں،عطاءاللہ تارڑ

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

  • فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    سانحہ 9 مئی 2023 کے 19 مجرمان کی سزاؤں میں معافی کا اعلان کردیا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سانحہ 9 مئی کی سزاؤں پر عملدرآمد کے دوران مجرمان نے رحم اور معافی کی پٹیشنز دائر کی تھیں، ان مجرمان کو ضابطے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد رہا کیا جارہا ہے جبکہ دیگر تمام مجرمان کے پاس بھی اپیل اور قانون اور آئین کے مطابق دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں،مجموعی طور پر 67 مجرمان نے رحم کی پٹیشنز دائر کی تھیں، 48 پٹیشنز کو قانونی کارروائی کے لیے ’کورٹس آف اپیل‘ میں نظرثانی کے لیے ارسال کیا گیا تھا، 19مجرمان کی پٹیشنز کو خالصتاً انسانی بنیادوں پر قانون کے مطابق منظور کیا گیا،دائر کی گئی دیگر رحم کی پٹیشنوں پر عملدرآمد مقررہ مدت میں قانون کے مطابق کیا جائے گا۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ سزاؤں کی معافی ہمارے منصفانہ قانونی عمل اور انصاف کی مضبوطی کا ثبوت ہے، یہ نظام ہمدردی اور رحم کے اصولوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے اپریل 2024ء میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 20 مجرمان کی رہائی کا حکم صادر کیا گیا تھا۔

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 مجرمان کی سزائیں معاف کر دی گئیں،19 مجرمان جن کی سزائیں معاف کی گئی ہیں ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
    1۔ محمد ایاز ولد صاحبزادہ خان
    2۔سمیع اللہ ولد میرداد خان
    3۔لئیق احمد ولد منظور احمد
    4۔امجد علی ولد منظور احمد
    5۔یاسر نواز ولد امیر نواز خان
    6۔سِیعد عالم ولد معاذاللہ خان
    7۔زاہدخان ولد محمد نبی
    8۔محمد سلیمان ولد سِیعد غنی جان
    9۔ حمزہ شریف ولد محمد اعظم
    10۔ محمد سلمان ولد زاہد نثار
    11۔ اشعر بٹ ولد محمد ارشد بٹ
    12۔ محمد وقاص ولد ملک محمد خلیل
    13۔ سفیان ادریس ولد ادریس احمد
    14۔منیب احمد ولد نوید احمد بٹ
    15۔ محمد احمد ولد محمد نذیر
    16۔ محمد نواز ولد عبدالصمد
    17۔ محمد علی ولد محمد بوٹا
    18۔ محمد بلاول ولد منظور حسین
    19۔ محمد الیاس ولد محمد فضل حلیم

    ان مجرمان کوضابطے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد رہا کیا جا رہا ہے،دیگر تمام مجرمان کے پاس بھی اپیل کرنے اور قانون اور آئین کے مطابق دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں ،سزاؤں کی معافی ہمارے منصفافہ قانونی عمل اور انصاف کی مضبوطی کا ثبوت ہے

    9 مئی کو جو کیا بھارت کی فوج بھی نہ کرسکی، ایاز صادق

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    سانحہ نو مئی کے مجرمان کو شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں،عطاءاللہ تارڑ

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری

  • آرمی چیف  کی زیر قیادت سال 2024میں پاکستان  کے لئے بے مثال خدمات

    آرمی چیف کی زیر قیادت سال 2024میں پاکستان کے لئے بے مثال خدمات

    سال 2024 – استحکام ِ پاکستان کی روشن نوید،پاک فوج کی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر ،نشانِ امتیاز(ملٹری) کی زیر قیادت سال 2024میں پاکستان کے لئے بے مثال خدمات سامنے آئی ہیں،خوارج اور دہشتگردوں کے لئے ریاست پاکستان کی واضح پالیسی کی بدولت رواں سال آپریشنز میں اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں،

    سال2024 کے دوران مجموعی طور پر سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشتگردوں اور اُن کے سہولت کاروں کے خلاف 59,775 مختلف نوعیت کے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کئے،کامیاب آپریشنز کے دوران 925دہشتگردوں بشمول خوارج کو واصلِ جہنم کیا گیا جبکہ سینکڑوں گرفتار کئے گئے،دہشتگردی کے اس ناسور سے نمٹنے کے لئے روزانہ کی بنیاد پر169سے زائد آپریشنز افواجِ پاکستان، انٹیلی جنس، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اَنجام دے رہے ہیں،رواں سال ان آپریشنز کے دوران73 انتہائی مطلوب دہشتگردوں کی ہلاکتیں ہوئیں،جہنم واصل ہونے والے دہشتگردوں میں فدا الرحمن عرف لعل ، ژوب ڈویژن ، علی رحمان عرف طحٰہ سواتی اور ابو یحییٰ بھی شامل ہیں، ریاستی اداروں کی بہترین حکمت عملی کے باعث 14 مطلوب دہشتگردوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو قومی دھارے میں شامل کیا،سیکیورٹی فورسز کی کامیاب حکمت عملی کے باعث 2خودکش بمباروں کو گرفتار کر کے ملک کو بڑی تباہی سے بچایا گیا،آرمی چیف دہشتگردوں ، خوارج اور اُن کے سہولت کاروں کے بارے میں واضح اور دو ٹوک موقف رکھتے ہیں

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کی سر زمین سے آزادانہ دہشتگرد کارروائیوں پر تحفظات ہیں،ایک پاکستانی کی جان اور حفاظت ہمارے لیے افغانستان پر مقدم ہے،

    رواں سال غیر ملکی جریدے نے بھی آرمی چیف کو دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف توانا آواز بننے پر خراجِ تحسین پیش کیا ،غیر قانونی سر گرمیوں کے خلاف بھی رواں سال بھرپور کارروائیاں عمل میں لائی گئیں،ریاست پاکستان کا واضح موقف ہے کہ غیر قانونی سر گرمیوں میں ملوث مافیہ دہشتگردو ں کا سہولت کار ہے ،واضح ریاستی پالیسی کے پیش نظر رواں سال سمگلنگ ، بجلی چوری، بھتہ خوری، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی گئی،رواں سال غیر قانونی سر گرمیوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں واضح کمی واقع ہوئی

    آرمی چیف کی کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کی بدولت رواں سال پاکستان نے اہم سنگِ میل عبور کئے،کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کی بدولت اہم ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا،غزہ ، لبنان اور کشمیر کے مظلوم عوام کے لئے پاکستان اقوام ِ عالم میں ایک مؤثر آواز بن کر اُبھرا،سال 2024ء میں سفارتی سطح پر بھی اہم کامیابی حاصل ہوئی اور پاکستان نے اہم ایس سی او کانفرنس کی میزبانی کی،اس کانفرنس میں چین، روس، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان اور تاجکستان کے وزرائے اعظم، ایران کے نائب صدر اور بھارت کے وزیر خارجہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ،اس کے علاوہ رواں سال کئی اہم ممالک کے سربراہان نے بھی پاکستان کا دورہ کیا اور متعدد معاہدوں پر دستخط کئے،

    معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ایس آئی ایف سی نے رواں سال اہم کامیابیاں حاصل کیں،ایس آئی ایف سی کی معاونت سے متعدد بین الاقوامی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات مستحکم ہوئے ،ایس آئی ایف سی کے تحت کئے جانے والے اقدامات سے معیشت میں بہتری کے واضح امکانات روشن ہوئے،ایس آئی ایف سی کی معاونت سے ترسیلات زر میں اضافہ اور مہنگائی میں کمی اور سٹاک ایکسچینج تاریخ کی بُلند سطح پر پہنچی،شرح سو د میں واضح کمی اورڈیفالٹ کا راگ الاپنے والوں کے بیانیے کی نفی ہوئی،خطے میں تجارتی سرگرمیوں کے فروغ اور اہم ملک کیساتھ تجارت بڑھانے کیلئے نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) نے اہم سنگ میل عبور کیے،این ایل سی نے نہ صرف وسطی ایشیائی ریاستوں بلکہ روس، مشرقی یورپ ، چین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ تجارت کے فروغ کے لئے راہ ہموار کی

    آرمی چیف کا واضح موقف ہے کہ قواعد و ضوابط کے بغیر آزادی اظہارِ رائے تمام معاشروں میں اخلاقی قدروں کی تنزلی کا باعث بن رہی ہے ،گمراہ کن پروپیگنڈا ، فیک نیوز اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لئے رواں سال قانون سازی بھی کی

    آرمی چیف کا جنوبی وزیرستان کا دورہ، جوانوں سے ملاقات

    آرمی چیف سے کیمبرین پٹرول گولڈ میڈل جیتنے والی ٹیم کی ملاقات

  • بروقت اقدامات سے دہشتگردی کے کئی منصوبے ناکام بنائے، ترجمان پاک فوج

    بروقت اقدامات سے دہشتگردی کے کئی منصوبے ناکام بنائے، ترجمان پاک فوج

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی کےخلاف ایک طویل جنگ لڑی اور لڑ رہا ہے، افواج نے بے بیش بہا قربانیاں دی ہیں،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ بروقت اقدامات سے دہشتگردی کے کئی منصوبے ناکام بنائے، دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اہم کامیابیاں ملیں، بلوچ دہشت گردوں کے انتہائی مطلوب سرغناؤں کو جہنم واصل کیا گیا، دہشت گردی میں ملوث 27 افغان دہشت گردوں کو بھی جہنم واصل کیا گیا، سیکورٹی فورسز کو رواں برس بڑی کامیابی ملی جب دو خود کش بمباروں کو حراست میں لیا گیا جن کے قبضے سے دس خود کش جیکٹ ،دھماکا خیز مواد، اسلحہ برآمد ہوا تھا، بلوچستان سے گرفتار ہونے والی خود کش خواتین بمباروں نے انکشاف کئے کہ کیسے دہشت گرد نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے ریاست کے خلاف بغاوت پر اکساتے ہیں،فتنہ الخوارج کے متعدد سر غنہ جہنم واصل کئے گئے، 2 خود کش بمباروں کو حراست میں لیا گیا جبکہ 14 مطلوب دہشتگردوں نے ہتھیار ڈالے،دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر 169 سے زائد آپریشنز کیے جا رہے ہیں

    پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھے گا،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے خلاف 59775 کامیاب آپریشن کئے اور دہشت گردی کے خلاف کئی منصوبوں کو ناکام بنایا ،رواں سال 925خارجی دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ،رواں سال کامیاب آپریشنز میں متعدد دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا گیا ،گزشتہ 5سال میں ہلاک دہشت گردوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے،ان آپریشنز کے دوران 73 انتہائی مطلوب دہشت گرد گرد ہلاک ہوئے،انتہائی مطلوب دہشت گردوں میں میاں سید عارف قریشی عرف استاد، محسن قادر، عطا اللہ عرف مہران، فدا الرحمان عرف لال، علی رحمان عرف طحہ سواتی اور ابو یحییٰ شامل ہیں،ریاستی اداروں کی بہترین حکمت عملی کے نتیجے میں 14 مطلوب دہشت گردوں قومی دھارے میں شامل کیا گیا، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے اور لڑرہا ہے ، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں،دہشتگردوں کے کئی منصوبوں کو ناکام بنایا گیا،افواج پاکستان کے 384 جوان 2024 میں شہید ہوئے ، پوری قوم اِن بہادر سپوتوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے، پاکستان دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے اور اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھے گا،پاکستان طویل عرصے سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا آ رہا ہے لیکن ہماری کوششوں کے باوجود افغانستان کی سرزمین سے فتنۃ الخوارج پاکستان میں دہشتگردی کرتے آ رہے ہیں،پاکستان سے غیر قانونی افغان باشندوں کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے، آٹھ لاکھ 15 ہزار غیر قانونی افغان باشندے واپس جا چکے ہیں،آرمی چیف واضح اور دو ٹوک موقف رکھتے ہیں کہ پاکستان کو افغانستان سے کارروائیوں پر تحفظات ہیں۔پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھے گا،قبائلی اضلاع میں 72 فیصد علاقے کو بارودی سرنگوں سے پاک کر دیا گیا، حکومت کی خصوصی ہدایات پر سمگلنگ، بجلی چوری، منشیات و ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ بھی جاری ہے،

    پاک فوج کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے خطرات سے بخوبی آگاہ ہیں، رواں سال میں بھارت نے متعدد مرتبہ سیز فائز کی خلاف ورزیاں کیں،بھارت کی جانب سے 25 سیز فائر وائلیشن، 564 سپیکولیٹو فائر کے واقعات، 61 ایئر سپیس وائلیشن، 181 ٹیکٹیکل ایئر وائلیشنز کے واقعات شامل ہیں ،رواں سال بھارت کی طرف سے فالس فلیگ آپریشن کئے گئے جن کا مقصد اندرونی سیاست اور خلفشار سے توجہ ہٹانا تھا فالس فلیگ آپریشن کی اطلاع را سے جڑے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے دی جاتی رہی.پاکستان کی فوج ایل او سی پر کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، ہم ملک کے دفاع کے لئے ہمہ وقت کسی بھی قربانی دینے کو تیار ہیں، بے گناہ کشمیری نوجوانوں‌کو بھارت شہید کررہا ہے، کشمیری اپنے حق خودارادیت کے لئے عالمی دنیا کے توجہ کے منتظر ہیں، بھارت اقوام متحدہ کی قرارداروں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ غیر قانونی، بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، ہم مقبوضہ کشمیر کی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، انکی حمایت جاری رکھیں گے،بھارت میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لئے کڑا سوال ہے،بھارتی حکومت ریاستی دہشت گردی کا کھلم کھلا ارتکاب کر رہی ہے ،بھارتی ریاستی دہشت گردی میں بیرون ممالک ماورائے عدالت ٹارگٹ کلنگ باشمول بھارتی نزاد سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ بھی شامل ہے ،بھارت میں مسلمانوں ،اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے،بھارت مختلف ریاستوں میں حقوق کےلئے تحریکوں کو پوری قوت کے ساتھ کُچل رہا ہے، بھارت دیگر ممالک میں سکھوں کے قتل میں بھی ملوث ہے، بھارت میں سازش کے تحت اقلیتوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، ہمارا اصولی مؤقف ہے کہ مقبوضہ کشمیرکے مظلوم عوام کی قانونی، سفارتی، اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔خطے میں اجارہ داری کے لیے بھارتی اقدامات سے بخوبی واقف ہیں،پاکستان کی سالمیت اورخودمختاری کیلئے ہمہ وقت ہر قربانی کیلئے تیار ہیں، ڈ

    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج روایت کے مطابق عوام کی فلاح پر توجہ دے رہی ہے۔ قدرتی آفات سے نبردآزما ہونا ہو یا دوسرے چیلنجز، افواج پاکستان نے حکومتی ہدایات کے مطابق کام کیا،تعلیم، صحت کے منصوبے بھی ہیں.بجلی چوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھی پاک فوج سرگرم عمل ہے، سیلاب کے دوران امدادی کیمپس لگائے گئے، وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنا کردار ادا کر کے پاکستان کو مضبوط کریں،فلاحی کاموں کے پروجیکٹس فوج وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے مکمل کیے جاتے ہیں ، 2024 ء میں صوبہ خیبرپختونخوا میں پاک فوج کی جانب سے 6500 Outreach programs شروع کیے گئے ، ”علم ٹولو دا پارہ” کے تحت 7 لاکھ سے زائد طالب علموں کو تعلیمی سہولیات میسر کیں ، صحت کے شعبے میں 113 سے زائد میڈیکل کیمپس کا قیام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ، سبی اور ہرنائی کے درمیان 140 کلومیٹر لمبے ریلوے ٹریک میں سے 93 کلومیٹر ریلوے ٹریک کو مرمت کے بعد 17 سال بعد کھول دیا گیا ، کچھی کینال، کام مکمل ہونے کے بعد نومبر 2024 سے پہلے مرحلے میں 65 ایکڑ اراضی کو سیراب کر رہی ہے ، اب تک 15825 ایکڑ رقبہ گرین پاکستان انیشیٹو پروگرام کے تحت زیر کاشت لایا گیا ہے،

    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاک فوج اپنے سخت ٹریننگ کے معیار کو قائم رکھنے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، یہ ہمارا طرہ امتیاز اور شناخت کا اہم حصہ ہے،ہماری ٹریننگ کا اہم پہلو جذبہ شوق شہادت کے ساتھ فرنٹ سے لیڈ کرنا ہے، پاک فوج کا شمار دنیا کی اُن چند افواج میں ہوتا ہے جہاں افسر سب سے آگے بڑھ کر آپریشنز لیڈ کرتے ہیں اور دفاع وطن میں جان قربان کرتے ہیں،پاکستانی فوجی افسران کی شہادت کا تناسب شہداء کی تعداد سب سے زیادہ ہے.2024 میں 183 یونٹس نے جنگی مشقیں کیں.رواں سال 11 ہزار جوانوں کو Pre Induction Training دی گئی. رواں سال آٹھ مختلف بین الاقوامی مشترکہ مشقوں کا انعقاد کیا گیا ،رواں سال فروری میں PATs کے مقابلوں کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں 12 ممالک کی ٹیموں نے حصہ لیا ، پاکستان بحریہ نے بھی رواں سال 25 کثیر الجہتی مشقوں میں شرکت کی ،اکتوبر میں ہونے والی Exercise Industrial 2024 میں 24 ممالک کی فضائی افواج نے شرکت کی ، رواں سال طویل المدتی War Games حکمت نو مکمل کی گئی، یاد رکھیں محفوظ پاکستان ہی مضبوط پاکستان ہے،

    پاکستان میں اربوں روپے کا ایک غیر قانونی سپیکٹرم،جسے اشرافیہ کی پشت پناہی حاصل ہے، ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں اربوں روپے کا ایک غیر قانونی سپیکٹرم موجود ہے، اُس میں بھتہ خوری ہے، نان کسٹم پیڈ گاڑیاں ہیں، اغوا کاری ہے، سمگلنگ ہے اور فیک نیوز پروپیگنڈہ بھی ہے، اور ان سب کو سیاسی پشت پناہی بھی حاصل ہو،یہ غیرقانونی سپیکٹرم ختم ہو گا، اشرافیہ کی پشت پناہی ختم ہو گی تو پاکستان میں خوشحالی آئے گی،آرمی چیف نے چند دن قبل کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر پاکستانی سپاہی ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں صرف سکیورٹی فورسز نہیں پوری قوم لڑتی ہے، ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ گورننس میں جو گیپس ہیں وہ ہم ہر روز شہدا کی قربانیوں سے پر کر رہے ہیں، رواں برس 900 سے زائد دہشت گردوں کو مارا گیا، اس وقت پورے پاکستان میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں خارجیوں کی عملداری ہو ،اگر دہشت گرد جن کے ہاتھ پاکستانی شہریوں کے خون سے آلودہ ہیں اور ان دہشت گردوں کو سرحد پار سے مدد ملتی ہے تو پھر،…آٹھ لاکھ غیر قانونی افغانیوں کو واپس بھیجا، سمگلنگ میں کمی آ چکی ہے، آرمی چیف واضح اور دوٹوک موقف رکھتے ہیں کہ پاکستان کو کالعدم تنظیموں کیلئے دستیاب پناہ گاہوں ، سہولت کاری اور افغان سرزمین سے آزادانہ کارروائیوں پر تحفظات ہیں،پاکستان دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے اور شہریوں کو ہر قیمت پر تحفظ فراہم کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑے گا۔

    اس(دہشتگردی)ایشو پر سیاست اور بیانیہ نہ بنائیں خیبرپختونخوا میں گڈ گورننس پر زور دیں۔ڈی جی آئی ایس پی ار
    فتنہ الخوارج کی کمر ٹوٹ گئی تھی کس کے فیصلے پر دوبارہ ان کو آباد کیا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان پاکستان کا برادر ملک ہے، افغانستان کو کہا گیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کی سہولت کاری کو روکے،برادر ملک کے ذریعے بھی بات چیت جاری ہے،افغان خود کش بمباروں کو پکڑا ہے،وہ روزانہ معصوم شہریوں کا نا حق خون بہائیں تو کیا ہم بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہیں،دوغلی سیاست کا پرچار کرنے والوں سے سادہ سوال ہے کہ چھ دن قبل 21 دسمبر کو جنوبی وزیرستان میں 16 ایف سی کے جوان شہید ہوئے، کیا ان کے خون کی کوئی قیمت نہیں کیا وہ پاکستان کے شیر دل جوان نہیں تھے، 2021 میں جب فتنہ الخوارج کی کمر ٹوٹ گئی تھی تو اس وقت کس کے فیصلے پر ان کو دوبارہ آباد کیا گیا، کس نے ان کو طاقت اور دوام بخشا، یہ جو فیصلے جس کا ہم سب خمیازہ بھگت کر رہے ہیں، قانون نافذ کرنے والے ان فیصلوں کی لکھائی اپنے خون سے دھو رہے ہیں، اگر کوئی فریق اپنی گمراہ سوچ، مرضی مسلط کرنے پر تلا ہو تو اس سے کیا بات کریں، ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہوتا تو دنیا میں کوئی جنگ، غزوہ،مہمات نہ ہوتی، جان قربان کرنا مسلمان کے لئے فخر ہوتا ہے، ہم اپنے ایمان، وطن ،آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، جس تلخ تجربے سے ہم گزرے اسکے باوجود کوئی لیڈر یا سیاسی شخصیت یہ کہے ، اور جو یہ سمجھتا ہو کہ اسے ہر چیز کا علم ہے تو ایسے رویوں کی قیمت پوری قوم اپنے خون سے چکاتی ہے، دوبارہ آبادگاری کی قیمت ہم بھگت رہے ہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلے پر کنفیوژن اور بیانیے نہ بنائیں خیبر پختونخوا میں گڈ گورننس پر توجہ دیں، بجائے بیانیے بنانے، سیاست کرنے کے گڈ گورننس پر توجہ ہونی چاہئے، وہ ہم نے نہیں کرنا اسلئے یہ سیاست کرتے ہیں،نو مئی واقعات میں ملوث لوگوں کو اپنے انجام تک پہنچنا چاہیے۔ برطانیہ میں ہونیوالے نسلی فسادات میں بالغ اور نابالغ سب کو تیزی سے سزائیں دی گئیں، امریکہ میں کیپیٹل ہل میں ملوث لوگوں کو تیزی سے سزائیں دی گئیں، فرانس میں فسادات میں ملوث لوگوں کو تیزی سے سزائیں دی گئیں تو پھر پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا۔

    فوجی عدالتوں کے فیصلے سے واضح پیغام جاتا ہے کہ مستقبل میں بھی کوئی ایسے معاملات میں ملوث ہو گا تو اُسے ہر صورت سزا ملے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر
    جو لوگ فوجی عدالتوں کی مخالفت کررہے ہیں کچھ عرصہ قبل تک وہ خود اس کے سب سے بڑے حامی تھے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
    کہا جاتا نومئی فالس فلیگ آپریشن ہے فوج نے خود کروایا تو آپ کو تو خوش ہونا چاہیے فوج اپنے بندوں کو سزائیں دے رہی ہے انتشار یوں کو تکلیف کیوں ہو رہی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
    نو مئی کے گھناونے کردار اور منصوبہ ساز کو انجام تک پہنچانے تک انصاف کا سلسلہ جاری رہے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ نومئی پر افواج پاکستان کا مؤقف واضح ہے، نومئی افواج کا نہیں عوام پاکستان کا مقدمہ ہے، یہ بات واضح ہونی چاہئے، اگر کوئی جتھہ،مسلح ،پرتشدد گروہ اپنی مرضی، سوچ معاشرے پر مسلط کرنا چاہے اور اسکو قانون کے مطابق نہ روکا جائے تو ہم معاشرے کو کس طرف لے کر جائیں گے، 2023 میں اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کی رو میں ملٹری کورٹس میں جن کو ریفر کیا گیا تھا وہ منجمد کر دیا گیا تھا، اب سپریم کورٹ نے جب فیصلے دینے کو کہا تو تمام قانونی تقاضوں کو دیکھتے ہوئے،قانونی عمل پورا کر کے ان افراد کو سزائیں دی گئیں، واضح پیغام ہے کہ اس طرح کے معاملات میں کوئی گنجائش نہیں، مستقبل میں بھی اس طرح ہو گا تو سزا ہو گی، پاکستان میں ملٹری کورٹس آئین ،قانون کے مطابق دہائیوں سے قائم ہیں، یہ انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرتی ہیں،ملٹری کورٹس میں ملزمان کو اپنا وکیل کرنے سمیت تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں، سزا ہو جائے تو مجرموں کواپیل کا حق حاصل ہے، آرمی چیف، ہائیکورٹ، سپریم کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں، یہ فیصلے اس وقت سنائے گئے جب سپریم کورٹ نے حکم دیا، نومئی کا کسی طرح دفاع نہیں کر سکتے اسلئے ملٹری کورٹ بارے پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے، ابھی جو عناصر بات کر رہے ہیں وہ خود کچھ عرصہ قبل ملٹری کورٹ کے حامی تھے،یہ بیانیہ بنایا جا رہا تھا کہ فوج نے خود یہ کروایا، فالس فلیگ، تو پھر اگر ہم نے ان فوج کے بندوں کو سزائیں دے دیں تو انکو خوش ہونا چاہئے، یہ منافقت اور فریب کی آخری حدوں کو کراس کر چکے ہیں، انسداد دہشت گردی عدالتوں میں بھی نو مئی کے مقدموں کو انجام تک پہنچانا چاہئے،نوجوان ہمارا اثاثہ ہیں ، کچھ لوگ اپنی سیاست کے لئے ان میں زہر ڈالتے ہیں، جو اس بیانیے پروپیگنڈے کی بنیاد رکھتے ہیں اصل ملزم وہی ہیں، انصاف کا سلسلہ اسی وقت چلے گا جب تک نومئی کے منصوبہ ساز کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جا سکتا،

    یہ خوش آئند ہے کہ سیاستدان آپس میں مل بیٹھ کر اپنے سیاسی اختلافات حل کریں نہ کہ انتشاری اور پرتشدد سیاست کے ذریعے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پہلے بھی واضح کر چکا،دوبارہ کہتا ہوں کہ افواج پاکستان کا ہر حکومت کے ساتھ سرکاری ، پیشہ وارانہ تعلق ہوتا ہے، سرکاری تعلق کو سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں، پاکستان کی فوج قومی فوج ہے، ہمارے لئے تمام سیاسی پارٹیاں، رہنما قابل احترام ہیں، کوئی فرد واحد اور اُس کی سیاست اور اقتدار کی خواہش پاکستان سے بالاتر نہیں ہے، پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی حکومتیں موجود ہیں، سیاسی جماعتوں کے مابین مذاکرات سیاسی جماعتوں کا استحقاق ہے، یہ خوش آئند بات ہے کہ سیاستدان مل بیٹھ کر اپنے مسائل حل کریں نہ کہ انتشار کے ذریعے.

    جو فوجی افسر سیاست کو ریاست پر مقدم رکھے گا، اُسے جواب دینا ہو گا، ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ فیض حمید کو فوجی عدالت میں تمام حقوق حاصل ہیں،فوج میں خود احتسابی کا نظام اہم ہے، نومئی کے پیچھے مضبوط منصوبہ بندی تھی جو بھی اس میں شامل تھے اس کو کیفرکردار تک پہنچانا ضروری ہے، ہر افسر کے لئے ریاست پاکستان مقدم ہے،کوئی بھی آفیسر سیاست کو ریاست پر مقدم رکھے گا تو اسکو جواب دینا پڑے گا، فیض حمید کا کیس حساس کیس ہے غیر ضروری تبصروں ،تجزیوں سے گریز کیا جائے،

    سیاسی قیادت کے بھاگنے کی وجہ سے جگ ہنسائی سے بچنے کےلئے ہلاکتوں کا بیانیہ بنایا گیا، ڈی جی آئی ایس پی آر

    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ مخصوص سیاسی جماعت کی جانب سے کی گئی نومبر سازش سیاسی دہشت گردی ہے، یہ منفی تشدد کی سیاست کا سلسلہ 2014 میں جب پارلیمنٹ پر حملہ ہوا، سرکاری املاک پر حملہ ہوا، 2022 میں بھی، 2023 میں بھی اور اسی کا تسلسل اب 2024 میں دیکھا، عوام کے شعور کی وجہ سے تمام کوششیں ناکام ہوئیں، آئندہ بھی ناکام ہوں گی، فوج کی تعیناتی صرف ریڈ زون تک تھی۔ جب پولیس اور رینجرز اہلکاروں کو شہید کیا جاتا ہے تو یہ سیاسی احتجاج نہیں سیاسی دہشت گردی ہے۔فوج کی تعیناتی صرف ریڈ زون تک محدود تھی، وہ پرتشدد ہجوم کے ساتھ براہ راست کنٹیکٹ میں نہیں رہی، نہ ہی اُسے اِس لئے تعینات کیا گیا، دشمن پریشان ہے کہ باوجود دہشتگردی، سیاسی انتشاریوں اور جھوٹے پروپیگنڈا کے یہ ملک ترقی کر کیسے رہا ہے،آپ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ کس طرح ایک دم پوری دنیا سے انسانی حقوق کی تنظیمیں قانونیت اور انسانی حقوق کا منفافقانہ پرچار کرنے کےلئے’’پاپ اپ‘‘ہو جاتی ہیں،پروپیگنڈے اور فیک نیوز کے پیچھے سوشل میڈیا اور اُسے چلانے والے ہیں، قانون اور آئین پُرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے لیکن کیلوں والے ڈنڈوں، اسلحے اور شیل لے کر دھاوا بول کر پولیس اور رینجرز کو شہید کرتے ہیں تو یہ سیاسی احتجاج نہیں، سیاسی دہشتگردی ہے،26 نومبر کو ڈی چوک میں سیکیورٹی نافذ کرنے والے اداروں کو آتشیں اسلحہ دیا ہی نہیں گیا تھا، جب سیاسی قیادت وہاں سے بھاگی تو پہلے سے تیار شدہ سوشل میڈیا فیک کانٹینٹ کو بڑی سپیڈ کے ساتھ ڈالا گیا،جو لوگ پاکستان کے ریاستی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلا رہے ہیں ان سے میری درخواست ہے وہ فلسطین اور غزہ میں اسرائیل کے خلاف بھی سوشل میڈیا مہم چلائیں، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو جو واضح اور کھلی بربریت غزہ اور کشمیر میں ہورہی ہے وہ ان کو نظر نہیں آرہی ان کو شام اور لیبیا میں ہوتے ہوئے مظالم نظر نہیں آرہے اور یہاں پاکستان میں ان دیکھی لاشوں پر آپ دیکھیں گے کہ ان کے جذبات بے قابو ہوجائیں گے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ کرم کا ایشو قبائلی اور زمینی تنازعہ ہے۔ اسکو صوبائی حکومت اور سیاست دانوں نے حل کرنا ہے بجائے اس کے کہ اس کا ملبہ اداروں پر ڈالا جائے۔

  • ڈی جی آئی ایس پی آر آج پریس کانفرنس کریں گے

    ڈی جی آئی ایس پی آر آج پریس کانفرنس کریں گے

    پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری آج سہ پہر 3 بجے اہم پریس کانفرنس کریں گے۔ یہ پریس کانفرنس ملکی داخلی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور دیگر اہم امور پر بریفنگ دینے کے لیے رکھی گئی ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری پریس کانفرنس میں پاکستان کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف فوج کے مؤثر اقدامات پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے۔ اس کے علاوہ، مختلف داخلی اور خارجی چیلنجز کے حوالے سے بھی گفتگو کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق، اس موقع پر خاص طور پر اس بات پر زور دیا جائے گا کہ پاک فوج دہشت گردی کے خاتمے اور ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے پرعزم ہے۔پریس کانفرنس کا مقصد میڈیا کو تازہ ترین سیکیورٹی صورتحال سے آگاہ کرنا ہے کہ پاک فوج اپنے ملک کی حفاظت کے لیے ہر ضروری اقدام کر رہی ہے۔پریس کانفرنس میں نومئی کے بلوائیوں کو فوجی عدالتوں سے سزاؤں بارے بھی بات چیت کی جائے گی،

    یہ پریس کانفرنس پاکستان کے داخلی سلامتی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس میں دہشت گردی کے خلاف حکومت اور فوج کی مشترکہ حکمت عملی پر بھی تفصیل سے بات چیت کی جائے گی۔

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    سانحہ نو مئی کے مجرمان کو شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں،عطاءاللہ تارڑ

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

  • خیبرپختونخوا کے 3 اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں ، 13 خوارج ہلاک، میجر شہید

    خیبرپختونخوا کے 3 اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں ، 13 خوارج ہلاک، میجر شہید

    راولپنڈی: سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں تین آپریشنز کے دوران 13 خوارج کو ہلاک کردیا جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے میجر نے جام شہادت نوش کیا۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں 25 اور 26 دسمبر کو سیکیورٹی فورسز کے تین علیحدہ آپریشنز کے دوران 13 خوارج ہلاک کر دیے گئے، پہلا آپریشن ضلع بنوں کے علاقے جانی خیل میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا، جس میں سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور دو خوارج کو ہلاک کر دیا۔

    دوسرا آپریشن شمالی وزیرستان میں کیا گیا، جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں پانچ خوارج مارے گئے اور آٹھ زخمی حالت میں گرفتار ہوئےاس آپریشن میں بہادری سے قیادت کرنے والے 31 سالہ میجر محمد اویس (ضلع نارووال کے رہائشی) نے جام شہادت نوش کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق تیسرا آپریشن جنوبی وزیرستان میں کیا گیا، جس میں سیکیورٹی فورسز نے چھ خوارج کو ہلاک اور آٹھ کو زخمی کر دیا علاقے میں مزید خوارج کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں ہمارے بہادر جوانوں کی قربانیاں ہمارے اس عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے شمالی وزیرستان کے علاقے میں خوارجی دہشتگردوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے میجر محمد اویس کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت کیا۔

    انہوں نے کہا کہ شہید میجر محمد اویس نے وطن کے امن کی خاطر اپنی جان قربان کی، اُن کی بہادری پر قوم کو فخر ہے، قوم کا بہادر سپوت وطن پر قربان ہو کر ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا میجر محمد اویس نے بہادری سے خوارجی دہشتگردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کا بلند رتبہ پایا۔

    انہوں نے کہا کہ شہید میجر محمد اویس کی عظیم قربانی کو قوم سلام پیش کرتی ہے اور ہم شہید میجر محمد اویس کے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہید سکیورٹی فورسز کے افسروں اور جوانوں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہےوزیرداخلہ محسن نقوی کا شہید میجر محمد اویس کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا اور 13 خوارجی دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کی تحسین کیا۔

  • جنوبی وزیرستان میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 13 خوارج ہلاک

    جنوبی وزیرستان میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 13 خوارج ہلاک

    راولپنڈی: سکیورٹی فورسز نے جنوبی وزیرستان کے ضلع سراروغہ میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس کے نتیجے میں 13 خوارج ہلاک کئے گئے۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 اور 25 دسمبر 2024 کو کئے گئے آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 13 خوارج مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مارے گئے خوارج سکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بے گناہ شہر یوں کےقتل میں بھی سرگرم رہے علاقے میں پائےجانے والے دیگر خوارج کو ختم کرنے کے لیےسینیٹائزیشن آپریشن کیا جا رہا ہے، کیونکہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    جنوبی وزیرستان میں فتنہ الخوارج کے 13 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    مملکت آصف علی زرداری نے بیان میں جنوبی وزیرستان میں انٹیلیجنس پر مبنی کامیاب آپریشن کے دوران 13 خوارج کی ہلاکت پر سکیورٹی فورسز کی بہادری کو سراہتے ہوئے ملک سے فتنتہ الخوارج کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا سیکورٹی فورسز دہشتگردی کے عفریت کے خاتمے کے لیے کارروائیاں کررہی ہیں، پوری قوم دہشتگردی کے خلاف متحد ہے۔ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک فتنتہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقے سراروغا میں 13 خوارج کو نے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انسانیت کے دشمنوں کے مذموم عزائم کو اسی طرح خاک میں ملاتے رہیں گے قوم کو سیکورٹی فورسز کے نڈر جوانوں پر فخر ہے۔ ملک سے فتنہ الخوارج اور دہشتگردی کے مکمل سد باب تک ہماری دہشتگردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔