Baaghi TV

Tag: پردہ

  • باپردہ خواتین کےکیفے میں داخلے پر پابندی کی خبر بے بنیاد

    باپردہ خواتین کےکیفے میں داخلے پر پابندی کی خبر بے بنیاد

    سعودی عرب کی وزارت تجارت اور میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے حکام نے بتایا ہے کہ پچھلے دو دنوں کے دوران سوشل میڈیا پر با پردہ خواتین کے ایک کیفے میں داخلے سے روکے جانے کی خبر بے بنیاد ہے۔

    جبکہ عرب میڈیا کے مطابق سعودی اخبار’سبق‘ کو بتایا کہ نگرانی پرمامور خفیہ ٹیموں نے اس کیفے کا دورہ کیا اور خفیہ طور پر یہ معلومات لینے کی کوشش کی ہے کہ با حجاب خواتین کو کیفے میں داخلے سے روکا گیا ہے یا نہیں۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مملکت میں کسی کیفے یا ریستوران میں با حجاب خواتین کو داخلے سے نہیں روکا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کریمنل لا ترمیمی ایکٹ 2022 کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیا جائے. درخواست گزار
    امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری
    ہیروئن، احرام میں جذب کرکے اسمگل کرنے کی کوشش ناکام
    خیال رہے کہ حالیہ ایام میں سوشل میڈیا پر اس طرح کی افواہیں پھیل رہی تھیں کہ ایک کیفے کی طرف سے با پردہ خواتین کو ان کے حجاب کی وجہ سے داخلے سےروک دیا تھا۔

  • افغانستان میں سیاحتی مقام جانے پر خواتین کو روک دیا گیا

    افغانستان میں سیاحتی مقام جانے پر خواتین کو روک دیا گیا

    طالبان نے خواتین کے افغانستان میں ایک مشہور سیاحتی مقام بند امیر نیشنل پارک جانے پر پابندی لگا دی ہے جبکہ فضیلت اور نائب کے قائم مقام وزیر محمد خالد حنفی نے کہا کہ پابندی ضروری تھی کیونکہ خواتین پارک کے اندر حجاب نہیں کرتی تھیں، اور یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ خواتین زائرین حجاب نہیں دیکھ رہی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو دوبارہ پارک میں داخلے کی اجازت دینے سے پہلے ایک طریقہ کار تیار کیا جائے گا۔


    جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سفر پر جانا واجب نہیں ہے تاہم خیال رہے کہ طالبان کی خواتین پر بعض سرگرمیوں پر پابندی لگانے کی تاریخ ہے جس میں انہیں اسکول جانے اور کام کرنے سے روکنا بھی شامل ہے، واضح رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بند امیر نیشنل پارک کے دورے پر پابندی خواتین کے حقوق پر پابندیوں کی ایک طویل فہرست میں تازہ ترین ہے۔


    خیال رہے کہ خواتین اور ہماری بہنیں اس وقت تک بند امیر کے پاس نہیں جا سکتیں جب تک ہم کسی اصول پر متفق نہ ہوں۔ سیکورٹی اداروں عمائدین اور انسپکٹرز کو اس سلسلے میں ایکشن لینا چاہیے۔ سیاحت کے لیے جانا واجب نہیں ہے، بامیان میں مذہبی رہنماؤں نے کہا کہ حجاب نہ کرنے والی خواتین کا تعلق بامیان سے نہیں ہے اور حکومت کو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کارروائی کرنی چاہیے۔


    بامیان شیعہ علماء کونسل کے سربراہ سید نصر اللہ واعظی نے کہا کہ حجاب کی کمی یا خراب حجاب کی شکایات ہیں یہ بامیان کے رہائشی نہیں ہیں۔ وہ دوسری جگہوں سےدوسرے صوبوں سے یا افغانستان کے باہر سے یہاں آتے ہیں۔ جبکہ اس پابندی کو بڑے پیمانے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑاہے بہت سے لوگوں نے اسے خواتین کے حقوق کو محدود کرنے کے لیے طالبان کی جانب سے ایک اور قدم قرار دیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پیپلز پارٹی نے بھی کارکنان کو بجلی بلوں کیخلاف احتجاج کا کہہ دیا
    وزیر اعظم کا عوام کو بجلی بلوں میں ریلیف دینے کا حکم
    ذکاء اشرف نے قومی ٹیم کی پرفارمنس پر انعام کا اعلان

    واضح رہے کہ افغان رکن پارلیمنٹ مریم سلیمان خیل نے ایکس پر ایک نظم شیئر کی جو انہوں نے پابندی کے بارے میں لکھی تھی اور ہیومن رائٹس واچ کی فریشتہ عباسی نے اسے افغانستان کی خواتین کی مکمل بے عزتی قرار دیا ہے،

  • ہندوستان میں حجاب کی بنا پر لڑکیوں کا ایک اور اسکول بند کردیا گیا

    ہندوستان میں حجاب کی بنا پر لڑکیوں کا ایک اور اسکول بند کردیا گیا

    نئی دہلی :ہندوستان میں حجاب کے خلاف بھارتی حکومت کی سازشیں ابھی ختم نہیں‌ہوئیں اور یہ معاملہ آئے روز شدت اختیارکرتا جارہا ہے ، اس حوالے سے تازہ واقعہ میں پتہ چلا ہے کہ حکومت ہندوستان نے طالبات کے باحجاب ہونے کا بہانہ بنا کر لڑکیوں کا ایک اور اسکول بند کر دیا۔

    نئی دہلی سے رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی ریاست کرناٹک کی بی جے پی حکومت نے اسکول میں حجاب کے ساتھ تعلیم کی مخالفت جاری رکھتے ہوئے اس ریاست میں طالبات کے باحجاب ہونے کا بہانہ بنا کر لڑکیوں کا فاروقیہ اسکول بند کر دیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریاستی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اسکول دوبارہ کھولنے کے لئے طالبات کو حجاب اتارنا ہو گا۔ آٹھویں سے دسویں کلاس کی چار سو طالبات نے فاروقیہ اسکول میں بند دروازوں کے پیچھے لڑکیوں کی تعلیم اور حجاب کی حمایت میں نعرے لگائے اور اسکول دوبارہ کھولے جانے کا مطالبہ کیا۔

    ہندوستان کی ریاست کرناٹک میں اسکولوں میں مسلمان طالبات کے حجاب کو لے کر گذشتہ سال سے بحران جاری ہے اور باحجاب لڑکیوں کو اسکول میں حجاب پر پابندی کا بہانہ بنا کر تعلیم سے محروم کر دیا گیا ہے اور یہی مسئلہ مسلمانوں اور انتہا پسند ہندوؤں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کا بھی باعث بنا ہوا ہے۔

  • اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل چکی, عثمان بزدار نے سازشی عناصر سی پردہ اٹھا دیا۔

    اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل چکی, عثمان بزدار نے سازشی عناصر سی پردہ اٹھا دیا۔

    اڑھائی برس کے دوران اپوزیشن کی ہرسازش ناکام رہی،حکومت پہلے سے زیاد ہ مضبوط ہے:عثمان بزدار
    حکومت گرانے کی خواہش رکھنے والوں کے ارمان2023 تک پورے نہیں ہوں گے، صرف نان ایشوز پر سیاست کی جا رہی ہے. استعفے دینے کیلئے اخلاقی جرات کی ضرورت ہوتی ہے جو اس چور ٹولے میں نہیں،کو ئی ان کیلئے سڑکوں پر آنے کیلئے تیار نہیں.
    لاہور4فروری:وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہاہے کہ اڑھائی برس کے دوران اپوزیشن کی ہرسازش ناکام رہی ہے-حکومت پہلے سے زیادہ مضبوط ہے-حکومت گرانے کی خواہش رکھنے والوں کے ارمان2023 تک پورے نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں، صرف نان ایشوز پر سیاست کی جا رہی ہے۔عوام کو کھوکھلے نعروں سے بہلانے کا دور گز رچکا ہے۔سابق دور میں عوام کو ریلیف دینے کی بجائے تکلیف دی گئی۔تحریک انصاف کی حکومت عوام سے کئے گئے وعدے نبھا رہی ہے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے ایک بیان میں کہاکہ سازشی عناصر پہلے اپنے دور کی لوٹ مار کا حساب دیں۔ملک کو کنگال کرنے والوں کی سیاست ہمیشہ کیلئے ختم ہو چکی ہے۔وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کی شفاف ترین حکومت عوامی خدمت میں ہمہ وقت مصروف ہے۔انہوں نے کہاکہ 31جنوری آئی گزر گئی استعفے نہیں آئے او رنہ ہی آئیں گے-استعفے دینے کے لئے اخلاقی جرات کی ضرورت ہوتی ہے جو اس چور ٹولے میں نہیں – جنہوں نے کرپشن کر کے پیسہ کمایا ہو، وہ استعفے دینے کا حوصلہ نہیں رکھتے – ساری عمر مکر و فریب کیا، اب پھر قوم سے استعفوں پر جھوٹ بولتے رہے- اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے-قوم کو لوٹ مار کا دور نہیں بھولا-کو ئی ان کے لئے سڑکوں پر آنے کے لئے تیار نہیں -یہ لوگ استعفے دینے کی بجائے اب سینیٹ کا الیکشن لڑنے کے لئے مرے جا رہے ہیں -اپوزیشن کی صفیں میں انتشار پھیل چکا ہے-

  • پردہ ثقافت بھی حفاظت بھی،طالبات کی عصمت،عزت کے پاسبان ہیں‌، تنقید کرنےوالے مخصوص ایجنڈے پر کام کررہے ہیں‌، مشیر تعلیم کے پی

    پردہ ثقافت بھی حفاظت بھی،طالبات کی عصمت،عزت کے پاسبان ہیں‌، تنقید کرنےوالے مخصوص ایجنڈے پر کام کررہے ہیں‌، مشیر تعلیم کے پی

    پشاور: پردہ ثقافت بھی ہے حفاظت بھی ، ہم طالبات کی عصمت ، عزت کے پاسبان ہیں‌، تنقید کرنے والے مخصوص ایجنڈے پر کام کررہے ہیں‌، مشیر تعلیم کے پی ضیا اللہ بنگش کا دوٹوک اور واضح موقف ، اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں طالبات کے لیے پردہ لازم قرار دینے کے معاملے پر مشیر تعلیم ضیااللہ بنگش ڈٹ گئے ہیں۔

    مسلمانوں کو نہیں ، غیر مسلموں کو آسام میں پناہ بھی دے گی اور شہریت بھی ،کیوں ؟ اہم خبر آگئی

    ذرائع کے مطابق ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ضیااللہ بنگش نے انکشاف کیا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں حجاب لازمی قرار دینے کے معاملے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اور وزیراعظم عمران خان سے مشاورت جاری ہے، حجاب کے لیے دوبارہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ضیااللہ بنگش کا کہنا ہے کہ اس بار پردے کا جواز جنسی ذیادتی سے بچاؤ کے بجائے حجاب کے لیے آگاہی دینا رکھا جائے گا۔

    “2 پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد کی خاتون سے اجتماعی زیادتی ، یہ بد بخت کون ہیں‌، خبر نے تہلکہ مچا دیا” لاک ہے

    2 پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد کی خاتون سے اجتماعی زیادتی ، یہ بد بخت کون ہیں‌، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ضیااللہ بنگش نے اس موقع پر کہا کہ ہم کسی سے زبردستی پردہ کروانے کے حق میں نہیں ہیں مگر اپنی ثقافت کو ترقی دینا بہت ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں حجاب پر بات ہو رہی ہے،ضیااللہ بنگش نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حجاب کی اہمیت کو اجاگر کریں گے۔یاد رہے کہ چند روز قبل مشیر تعلیم خیبر پختونخوا ضیا اللہ بنگش نے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں میں ھضاب لازمی قرار دینے کا اعلامیہ جاری کیا تھا۔

    “کیسا ‌ظالم باپ ،اپنی ہی بیٹیوں‌ پر چھریاں چلادیں‌،ظالم باپ نے چھریاں چلانے کی وجہ بھی بتادی” لاک ہے

    کیسا ‌ظالم باپ ،اپنی ہی بیٹیوں‌ پر چھریاں چلادیں‌،ظالم باپ نے چھریاں چلانے کی وجہ بھی بتادی

    اس سے قبل ضیاللہ بنگش نے حجاب لازمی قرار دینے کی وجہ صوبے کے ماحول کی وجہ سے طالبات کے عدم تحفظ کے اظہار اور والدین کی تسلی کرانا قرار دیا تھا۔اس فیصلے کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد وزیراعلیٰ محمود خان نے اعلامیہ واپس لینے کے احکامات جاری کر دیے تھے۔لیکن اب پھر سے نئے عزم کے ساتھ کے پی میں‌حجاب اوڑھنے کے فیصلے پر بہت جلد نوٹیفکیشن جاری کیا جائے ، ضیااللہ بنگش نے کہا کہ تنقید کرنے والے بتائیں‌کہ جس آزادی کی وہ بات کرتے ہیں‌ کیا ترقی حاصل کرلی ہے

  • عورت، معاشرے کی اہم اکائی ۔۔۔ اشفاق طاہر

    عورت، معاشرے کی اہم اکائی ۔۔۔ اشفاق طاہر

    آج کل ’حقوقِ نسواں‘ کے تحفظ کے دعویدار گمراہ کن پروپیگنڈہ کرتے ہوئے یہ دعوت دے رہے ہیں کہ عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ چلنا چاہیے اور کسی بھی میدان میں انھیں مردوں سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ حالانکہ یہ دعوت عورتوں کو بربادی کی طرف دھکیلنے کے برابر ہے،کیونکہ اس کے پیچھے دعویداروں کا مقصد عورتوں کی ترقی نہیں بلکہ ان کا اصل مقصد شرم وحیا کا خون کرنا ہے۔ تاکہ جو شخص جب چاہے، جہاں چاہے اور جسے چاہے اپنے دامِ فریب میں گرفتار کر کے اس کی عزت کو تار تار کر دے۔ جیسا کہ آج کل بصد افسوس ہو رہا ہے !

    ہماری بہنوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو مردوں کے لئے سب سے خطرناک فتنہ قرار دیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:

    ’’ جب کوئی مردکسی اجنبی عورت کے ساتھ خلوت میں ہوتا ہے تو ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔‘‘

    بنا بریں! عورتوں کا مردوں سے اختلاط مرد و زن دونوں کے لئے باعثِ فتنہ ہے اور اس سے دونوں کا دین وایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے تمام دروازوں کو بند کر دیا ہے جو مردو زن کے اختلاط کی طرف لے جاتے ہیں۔مثلاً :

    1۔ عورت کو اللہ تعالیٰ نے غیر محرم مرد کے ساتھ پست اور نرم آواز میں بات کرنے سے منع فرما دیا ہے تاکہ کوئی مریض دل والا اس کے متعلق شک و شبہ کا اظہار نہ کرے۔ ( سورۃ الأحزاب :آیت 32)

    لہذا جب نرم لب و لہجے میں بات تک کرنے کی اجازت نہیں ہے تو مردو زن کے اختلاط کو کیسے درست قرار دیا جا سکتا ہے ؟

    2۔ اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں کو اجنبی عورتوں سے اپنی نظروں کو جھکانے کا اور اسی طرح مومنہ عورتوں کو بھی اجنبی مردوں سے اپنی نظروں کو جھکانے کا حکم دیا ہے۔ ( سورۃ النور : آیات 30، 31)

    اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر محرم عورتوں کو دیکھنا آنکھوں کا زنا قرار دیا ہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :

    ’’ آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا سننا ہے۔اور زبان کا زنا بات چیت کرنا ہے اور ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا چلنا ہے۔‘‘ [ متفق علیہ ]

    لہذا جب غیر محرم مرد و عورت کا ایک دوسرے کو دیکھنا حرام ہے تو ان کی آپس میں میل ملاقات اور گھومنا پھرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے ؟

    3۔ جو خواتین رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کرتیں اور وہ اپنے گھروں کو واپس لوٹنے لگتیں تو انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیا کرتے تھے کہ :

    اِسْتَأْخِرْنَ فَإِنَّہُ لَیْسَ لَکُنَّ أَنْ تُحَقِّقْنَ الطَّرِیْقَ ( وَسَطَہَا )، عَلَیْکُنَّ بِحَافَاتِ الطَّرِیْقِ،فَکَانَتِ الْمَرْأَۃُ تَلْصَقُ بِالْجِدَارِ حَتّٰی إِنَّ ثَوْبَہَا لَیَتَعَلَّقُ بِالْجِدَارِ مِنْ لُصُوْقِہَا

    ’’ تم پیچھے ہٹ جاؤ، کیونکہ تمھارے لئے جائز نہیں کہ تم راستے کے عین درمیان میں چلو، تم پر لازم ہے کہ تم راستے کے کناروں پر چلو۔اس پر وہ خواتین دیوار کے ساتھ چمٹ کر چلتی تھیں حتیٰ کہ ان کی چادریں ( جن سے انھوں نے پردہ کیا ہوتا ) دیواروں سے اٹک جاتی تھیں۔‘‘ [ ابو داؤد:5272 وصححہ الشیخ الألبانی فی الصحیحۃ : 856 ]

    تو آپ اندازہ فرمائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز کی ادائیگی کے بعد گھروں کو واپس لوٹنے والی عورتوں کو مردوں کے راستے سے دور رہنے کی تلقین فرمائی تو عام طور پر مردو عورت کا اختلاط کیسے درست ہوسکتا ہے؟

    4۔ حضرت عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    ’’ تم ( غیر محرم ) عورتوں کے پاس جانے سے پرہیز کرو۔تو ایک انصاری نے کہا : اے اللہ کے رسولؐ ! آپؐ اَلْحَمْو (یعنی خاوند کے بھائی ’دیور‘ ) کے متعلق کیا کہتے ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’دیور‘ موت ہے۔ ‘‘ [ بخاری : النکاح باب لا یخلون رجل بامرأۃ، 5232، مسلم :الأدب، 2083]

    اس حدیث میں ذرا غور کریں کہ جب دیور ( خاوند کا بھائی ) اپنی بھابھی کے لئے موت ہے تو عام مرد و عورت کا آپس میں اختلاط کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

    5۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    لاَ یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَۃٍ إِلاَّ وَمَعَہَا ذُوْ مَحْرَمٍ، وَلاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَۃُ إِلاَّ مَعَ ذِیْ مَحْرَمٍ

    ’’ کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ ہرگز خلوت میں نہ جائے، ہاں اگر اس کے ساتھ کوئی محرم ہو تو ٹھیک ہے۔اور اسی طرح کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔‘‘

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن کر ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسولؐ ! میری بیوی حج کے لئے روانہ ہو گئی ہے اور میرا نام فلاں فلاں غزوہ کے لئے لکھ لیا گیا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ، اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔

    [ بخاری: الحج، باب حج النساء،2826، مسلم : الحج، 1341 ]

    مذکورہ بالا دلائل اس بات کے ثبوت کے لئے کافی ہیں کہ مردو زن کا اختلاط قطعاً جائز نہیں ہے۔ لہذا مسلمان خواتین کو مغرب زدہ لوگوں کے فریب میں نہیں آنا چاہیے اور قرآن و حدیث کے ان واضح دلائل کے سامنے اپنے آپ کو جھکا دینا چاہیے۔

  • پردہ، اقدار اور معاشرہ ۔۔۔ عبداللہ صالح جتوئی

    پردہ، اقدار اور معاشرہ ۔۔۔ عبداللہ صالح جتوئی

    لفظ عورت کا معنی ڈھکی ہوئی یا چھپی ہوئی چیز ہے یعنی سر سے لے کر پاؤں تک چھپی ہوئی چیز کو عورت کہا جاتا ہے.

    پردہ اسلامی معاشرے کا لازمی جزو ہے جس کا حکم رب العالمین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچایا تاکہ عورت معاشرے کے لیے فتنہ کی بجاۓ تعمیر و ترقی کا باعث بنے اور اس کی کوکھ سے پیدا ہونے والا بچہ دین کی سربلندی میں اپنا کردار ادا کرتے ہوۓ اسلام دشمنوں کی سازشوں کو بے نقاب کرے اور اسلام کا عَلم پوری دنیا میں اونچا کرے لیکن آج کل کے معاشرے میں سب کچھ الٹ چل رہا ہے۔ یہاں تو پردے کو دل کا پردہ کہہ کے اسلام کا مذاق اڑایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے عورت آج درندوں کی ہوس کا شکار ہے اور جابجا عصمت دری کا شکار ہے.

    پردے سے عورت محفوظ رہتی ہے جس کی مثال میں کچھ یوں گوش گزار کرنا چاہوں گا کہ جب بھی آپ قصاب کی دوکان پہ تشریف لے جاتے ہیں تو آپ اس کو اچھی طرح لفافے سے ڈھانپ لیتے ہیں تاکہ کوئی جانور یا پرندہ اس کو نقصان نہ پہنچا دے اور اگر آپ اسے کھلا چھوڑیں گے تو شاید آپ گھر تک بھی بحفاظت نہ پہنچ پائیں.

    میں نے جس معاشرے میں آنکھ کھولی وہ معاشرہ الحمدللہ اسلامی احکامات اور صوم و صلوٰۃ کا پابند تھا اور اللہ کے فضل سے پردہ بھی اس کا بہترین شعار تھا جس کی برکتیں میں ابھی تک سمیٹ رہا ہوں. ہمارے بڑے گھر میں ٹی وی نہیں رکھنے دیتے تھے کیونکہ ان کا یہ مؤقف تھا کہ یہی فساد کی جڑ ہے اور یہی عورت کو اس کے مقصد سے ہٹا کے اسے بے پردگی اور گمراہی کے رستے پر لے جاتا ہے. تب ہمیں بہت عجیب سا لگتا تھا کہ ہمیں گھر والے ٹی وی کیوں نہیں دیکھنے دیتے ہم کوئی بچے ہیں جو بگڑ جائیں گے۔ بھلا ٹی وی دیکھ کے بھی کوئی گمراہ ہوا ہے..

    اس سوال کا جواب ہمیں آج معلوم ہوا جب آج کے والدین یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم نے اپنے بچوں کو اس لیے گلوکار بنانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اسے فلاں گلوکار بہت اچھا لگتا ہے اور وہ بہت اچھا گاتا ہے یہ اس کی نقل بھی بہت اچھی کر لیتا ہے اس کا آئیڈیل فلاں اداکار یا اداکارہ ہے اس کو شوبز کا فلاں سٹار بہت اچھا لگتا ہے میری بیٹی نے جینز اور ٹی شرٹ پہننی ہے کیونکہ ہم نے ایک ڈرامہ میں دیکھا تھا کہ اس لڑکی کو بہت خوبصورت لگ رہی تھی فلاں فلاں..

    آج کبھی ٹی وی چینل پہ لڑکی بھگانے کے اشتہار تو کبھی داغ تو اچھے ہوتے ہیں کی آڑ میں ہونے والی فحاشی تو کبھی گھر کی چار دیواری کو داغ قرار دے کے معاشرے کو فحاشی و عریانی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اور کئی ایسے اشتہارات ہیں جو یہاں زیربحث لانا بھی مناسب نہیں ہے ان کا مقصد صرف اور صرف عورت کو اسلام اور پردہ سے دور کرنا ہے اور یہی سازشوں کی جنگ ہے جس میں ہمیں دھکیل کے ہم پر کافر مسلط ہونا چاہتے ہیں اور ہو بھی رہے ہیں.

    یہی وجہ ہے کہ آج ٹی وی ڈراموں اور فحش اشتہارات کی آڑ میں کفار ہماری اسلامی تہذیب میں بگاڑ پیدا کر رہے ہیں اور ہمارے بچے بگڑتے جا رہے ہیں اور اسلامی تہذیب سے کنارہ کشی اختیار کرتے جا رہے ہیں ہماری عورتوں کو پردہ کرنے سے گھبراہٹ ہوتی ہے اور طرح طرح کے بہانے بناۓ جاتے ہیں یہاں تک کہ مائیں بچوں کو ترغیب دینے کی بجاۓ اپنے بچوں کے ذہن میں ڈالنا شروع کر دیتی ہیں کہ اگر ابھی سے پردہ کرو گی تو لوگ ولون کہیں گے اور کسی نے دیکھنا تک نہیں ہے تمہیں اور کون تجھ سے شادی کرے گا جیسے طعنے مار مار کے اس کو اسلام سے دور کر لیتے ہیں.

    افسوس ہوتا ہے ان ماؤں پہ جنہوں نے عائشہ رضی اللہ عنھا و فاطمتہ الزھرا رضی اللہ عنہا کی مثالیں دینی تھی آج وہ اداکاراؤں کے نقش قدم پہ چل پڑی ہیں اور فحاشی و عریانی کو فیشن کا نام دے کر اپنی آنے والی نسلوں کو تباہ و برباد کر رہی ہیں.

    آج بچے بچے کو اداکاراؤں کے نام آتے ہیں اور ان کے کپڑے اور اسٹائل تک زیر بحث آتے ہیں لیکن مجال ہے کسی کو آخری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور ان کی قربانیوں کے متعلق بھی علم ہو آج جو بچی بھی دوپٹہ یا اسکارف لینے کی کوشش بھی کرتی ہے تو اسے اپنے گھر والے بھی طعنے مارنا شروع ہو جاتے ہیں کہ ابھی سے بوڑھی بننا ہے اتارو تمہیں بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا جب بڑی ہوگی تب پہن لینا اور پھر جب وہ بڑی ہوتی ہے تو اسے یہ عادت ہی نہیں ہوتی کہ دوپٹہ بھی سر پہ لینا ہوتا ہے یا یہ صرف گلے کی حد تک ہی رکھنا ہے..

    خدارا اپنے بچوں کو بچپن سے ہی اسلام سے محبت سکھائیں اور انہیں اداکاروں کی بجاۓ اصحاب نبی صل اللہ علیہ وسلم کی بہادری کے قصے سنایا کریں اور ٹی وی جیسی لعنت سے ان کو کوسوں دور رکھیں تاکہ آپ کا بچہ اس جاہلیت کا شکار ہو کر درندوں کی درندگی کا نشانہ نہ بن جاۓ..
    اللہ ہمیں اللہ کے احکامات کو صحیح معنوں میں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین یا رب العالمین..