Baaghi TV

Tag: پرویز الہی

  • پرویز الہی توہین عدالت کیس:  پولیس افسران نے توہین عدالت شوکاز نوٹس کے جوابات داخل کرا دیئے

    پرویز الہی توہین عدالت کیس: پولیس افسران نے توہین عدالت شوکاز نوٹس کے جوابات داخل کرا دیئے

    لاہور ہائیکورٹ:سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہی کوبحفاظت گھر نہ پہنچانے کےخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی-

    باغی ٹی وی: پرویز الٰہی کی اہلیہ قیصرہ الٰہی کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست پرسماعت جسٹس چوہدری وقاص رؤف نے کی ڈی آئی جی انوسٹی گیشن اور ڈی آئی جی آپریشن لاہور ہائی کورٹ پیش میں پیش ہوئےپولیس افسران نے توہین عدالت شوکاز نوٹس کے جوابات داخل کرا دیئے-

    آئی جی اسلام آباد عدالتی حکم کے باوجود آج بھی لاہورہائی کورٹ میں پیش ہوئے نہ جواب داخل کروایا جس پرعدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں مناسب نہیں لگا کہ آئی جی اسلام اباد کو ہم کسی اور طریقے سے بلائیں اگر اللہ نے کسی کو عزت دی ہے تو اس کو برقرار رکھے آپ چیک کر لیں آئی جی اسلام اباد کیسے آئیں گے۔

    محمد بن سلمان نے انڈیا-سعودی اکنامک کوریڈور کا اعلان کردیا

    آئی جی پنجاب نے عدالت کے حکم پر معاملہ کی انکوائری کراکے رپورٹ پیش کرا دی سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایس پی عمران اسلم نے معاملہ کی پولیس نے قانون کے تحت پرویز الٰہی کو گرفتار کیا افسران نے لاہورہائیکورٹ کے حکم کی مکمل پاسداری کی تھی سر کاری وکیل کی جانب سے استدعا کی گئی کہ رپورٹ دیکھنے اور دونوں پولیس افسران کے داخل کردہ جوابات دیکھنے کے لیے مہلت دی جائے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

    لاہورہائیکورٹ کی ججزکوبلا سود قرضےکی منظوری کیخلاف درخواست سماعت کیلئےمقرر

  • پرویز الٰہی کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی بھی استدعا مسترد

    پرویز الٰہی کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی بھی استدعا مسترد

    دو روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد چوہدری پرویز الٰہی کو عدالت پہنچا دیا گیا

    سخت سیکورٹی میں چوھدری پرویز الہیٰ کو عدالت پہنچایا گیا،پرویز الٰہی کے خلاف جوڈیشل کمپلیکس توڑپھوڑ کیس کی سماعت ہوئی،پرویز الٰہی کے خلاف کیس کی سماعت جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کی، پروسیکیوٹر راجا نوید، وکیل صفائی علی بخاری، سردار عبدالرازق اے ٹی سی عدالت میں پیش ہوئے، تھانہ سی ٹی ڈی کے تفتیشی افسر بھی عدالت پیش ہوئے، وکیل صفائی سردارعبدالرازق نے عدالت میں کہا کہ پرویز الٰہی کا نام جوڈیشل کمپلیکس توڑپھوڑ کیس میں دو روز قبل نامزد ہوا،پرویز الٰہی کے خلاف متعدد سیاسی کیسز بنائے گئے ہیں،پرویز الٰہی کو لاہور سے اغوا کرکے اسلام آباد لایا گیا اور گرفتارکیا گیا، پرویز الٰہی اپریل 2023 میں پی ٹی آئی کا حصہ بنے، اس سے قبل پی ٹی آئی کا حصہ نہیں تھے،جوڈیشل کمپلیکس توڑپھوڑ کیس کا مقدمہ مارچ میں درج ہوا،ہائیکورٹ نے کہا پرویز الٰہی کے خلاف سیاسی کیس بنایا گیا، ڈسچارج کیا جائے،پرویز الٰہی کو ڈسچارج کرنے کی بجائے انہیں گجرانوالہ میں درج مقدمے میں نامزد کردیا گیا،گجرانوالہ کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے بھی کہا کیس کچھ نہیں، ڈسچارج کیا جاتا ہے،وکیل سردار عبدلرازق نے پرویز الٰہی کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کر دی اور کہا کہ چیئرمین پی ٹی ائی،شاہ محمود قریشی، اور دیگر کی اس کیس میں ضمانت کنفرم ہوچکی ہے، وکیل سردار عبدلرازق نے اپنے دلائل مکمل کر لیے،

    بابر اعوان نے بھی عدالت میں دلائل دیئے،وکیل بابر اعوان نے مختلف قانونی حوالے دینا شروع کر دئیے ،وکیل بابر اعوان کی جانب سے ایف آئی آر پڑھی گئی، بابر اعوان نے کہا کہ مارچ کا مقدمہ ہے ابھی تک پرویز الٰہی کے خلاف کیا ثبوت ہے کہ یہ دہشتگرد ہیں،پراسیکیوشن نے اب تک کا کیا ثبوت دیا ہے کہ پرویز الٰہی دہشتگرد ہیں دانے جتنا بھی ثبوت پراسیکیوشن کے پاس پرویز الہٰی کے خلاف نہیں ہے،جو مقدمے میں نامزد تھے وہ ڈسچارج نہیں ہوئے جو نامعلوم تھے وہ تمام ڈسچارج ہیں،وکیل بابر اعوان نے پرویز الٰہی کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کر دی،وکیل بابراعوان نے کہا کہ ایک سازش ہوئی جس میں گاڑی استعمال ہوئی اور ڈنڈا استعمال ہوا کون سا ہوا نہیں معلوم،جسمانی ریمانڈ کے لئیے کوئی گراؤنڈ ہونا چاہئیے،یہ کیس ریمانڈ کا نہیں بلکہ ڈسچارج کا ہے،پرویز الہٰی کو نہ جانے کدھر سے مقدمے میں نامزد کر کے لے آیا ہے،کمزوری سے بڑی طاقت اللہ نے کوئی نہیں بنائی ،دہشتگردی کا کوئی ثبوت نہیں ہے،اس لئیے ڈسچارج کیا جائے،وکیل بابراعوان نے اپنے دلائل مکمل کر لیے،

    جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں پولیس نے پرویز الٰہی کے مزید دس روزہ ریمانڈ کی استدعا کردی ،چوہدری پرویز الہٰی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی، عدالت نے پرویز الہیٰ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ عدالت نے پرویز الٰہی کے وکلا کی کیس سے ڈسچارج کرنے کی بھی استدعا مسترد کر دی

    پرویز الٰہی کی درخواست ضمانت دائر کر دی گئی، عدالت نے فریقین کو 11 ستمبر کے لیے نوٹس جاری کر دیئے،پرویز الٰہی سے جیل میں فیملی کی ملاقات اور کھانے کی درخواست بھی دائرکر دی گئی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز الٰہی کی فیملی سے ملاقات کروائیں، پرویز الٰہی صاحب سامنے آئیں،پرویز الٰہی روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ بہت مہربانی بہت شکریہ، پنجاب کی کوئی جیل رہ نہیں گئی جہاں مجھے بھیجنا ہو، مجھے دل کے اسٹننٹ بھی لگے ہوئے ہیں، وزیراعلی پنجاب میرا رشتہ دار ہے لیکن میرے سخت خلاف ہے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس پر احسان کرو اس کے شر سے بھی ڈرو،

    چوہدری پرویز الٰہی تاحال کمرہ عدالت میں موجود ہیں تفتیشی افسر پرویز الٰہی کو لینے آ گیا اور کہا کہ چوہدری صاحب آئیں چلیں، پرویز الہیٰ نے کہا کہ آرڈر آئے گا توچلوں گا،اب میں نے آپ کے ساتھ نہیں جانا عدالت نے اڈیالہ بھیجا ہے، آپ پہلے والے کام نہ کریں، اب اڈیالہ کے لیے گاڑی کون دے گا،پولیس حکام نے کہا کہ سر جس بکتربند میں آئے اس میں اے سی لگا ہوا ہے، پرویز الٰہی نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ اب میں اس گاڑی میں نہیں جاوں گا ،میرے سامان کا کیا ہو گا ،تفتیشی افسر نے کہا کہ سر آپ کا سامان گاڑی میں ساتھ لائے ہیں ۔

    کمرہ عدالت،پی سی او بن گیا، وکیل نے پرویز الہیٰ کی شیخ رشید سے فون پر بات کروا دی
    کمرہ عدالت میں وکیل نے اپنے فون سے پرویز الٰہی کی شیخ رشید سے بات کروائی ،پرویز الہیٰ نے شیخ رشید سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے دو دن تھانہ سی آئی اے میں رکھا جس میں آپ کو رکھا گیا اے ،بہت ظالم لوگ ہیں میں نے بتایا دل میں اسٹنٹ پڑے ہوئے ہیں، آپ کے بارے میں تھانے والے بتا رہے تھے کہ جب شیخ رشید گرفتار تھے تو انہیں بخار تھا ، تو کہا گیا شیخ رشید کو رضائی نہیں دینی پھر کچھ لوگوں نے رضائی کمبل آپ کو دئیے ، پرویز الٰہی نے شیخ رشید کے ساتھ فون پر گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیراعلی پنجاب کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ نگران وزیراعلی پنجاب میرا رشتہ دار ہے لیکن حالات آپ کو معلوم ہیں عمران کے ساتھ کھڑے ہیں انہیں سب معلوم ہے پی ٹی آئی میں باقیوں کا آپ کو معلوم ہے،گزشتہ روز میڈیا کو میں نے بتایا کہ مجھے شجاعت حسین نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی کو نہیں چھوڑنا،بتائیں پھر شیخ صاحب! کیسا بیان دیا میں نے

    واضح رہے کہ پرویز الہیٰ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر رہائی کے بعد گزشتہ روز 5 ستمبر کو پولیس لائن سے ایک بار پھر گرفتار کرلیا گیا تھا سادہ لباس اہلکار پرویز الہیٰ کووکیل کی گاڑی میں گھرجاتے ہوئے گرفتار کرکے لے گئے،صدر پی ٹی آئی کو اسلام آباد پولیس کے انسداد دہشت گردی ڈویژن نے گرفتار کیا-

    ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ پرویزالہیٰ کو تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمہ نمبر 3/23 میں گرفتار کیا گیا پرویزالہیٰ کو جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، 18 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس پر ہنگامہ آرائی کا مقدمہ پرویزالہیٰ کے خلاف ایس ایچ او تھانہ رمنا کی مدعیت میں درج ہوا تھا مقدمے میں انسداد دہشتگردی سمیت 11 دفعات شامل ہیں، اور جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری ڈالی گئی، جبکہ اٹھارہ مارچ جوڈیشل کمپلیکس پیشی پر ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج ہوا تھا اور چوہدری پرویز الٰہی کو گرفتار افراد کے ریکارڈ بیان گرفتار کیا گیا-

    پرویز الہی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

    پولیس میری گاڑی بھی ساتھ لے گئی،پرویز الہی کے وکیل کا دعویٰ

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • چوہدری پرویز الٰہی کا 2 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور

    چوہدری پرویز الٰہی کا 2 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور

    تحریک انصاف کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ کو انسداد دہشت گردی عدالت پہنچا دیا گیا

    پرویز الٰہی نے وکالت نامہ پر دستخط کر دیے ،انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد ،چوہدری پرویز الہی کے خلاف تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمہ کا معاملہ ،اسلام آباد پولیس کی جانب سے چوہدری پرویز الہی کو عدالت کے روبرو پیش کر دیا گیا ،کیس کی سماعت ڈیوٹی جج شاہ رخ ارجمند نے کی،پرویز الہی کے وکلا کی جانب سے وکالت نامہ جمع کروا دیا گیا ،وکیل سردار عبدالرازق نے کہا کہ چوہدری صاحب کے خواہش تھی کہ میں خود اوپر کورٹ روم جاؤں گا،جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز الہی صاحب کو بٹھا دیں،پولیس کی جانب سے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگ لیا گیا

    پرویز الہٰی کے وکیل سردار عبدلرازق نے دلائل کا آغاز کر دیا گیا، وکیل نے کہا کہ پرویز الٰہی کے خلاف بہت ہی مضحکہ خیز مقدمہ بنایا ہے،پرویز الٰہی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا،حال ہی میں پرویز الٰہی کو متعدد کیسز میں ڈسچارج کیاگیا لیکن دوبارہ گرفتار بھی کرلیا گیا،ڈپٹی کمشنر لاہور نے بھی پرویز الٰہی کو گرفتار کروایا،لاہور ہائیکورٹ میں پرویز الٰہی کی گرفتاری کے خلاف درخواست دائر کی،عدالت پرویز الٰہی کق ڈسچارج کرتی ہے، پولیس دوبارہ گرفتار کرلیتی ہےپرویز الٰہی کو نیب کے کیس میں بھی گرفتار کیا گیا،لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں تحریر کیاکہ پرویز الٰہی کو گرفتار نہ کیا جائے، لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیاکہ پرویز الٰہی کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کیاجائے،عدالت نے فیصلہ دیاپرویز الٰہی کو سیکیورٹی کے تحت گھر تک چھوڑا جائے،پرویز الٰہی اپنے گھر جارہےتھے اور انہیں اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا،اسلام آباد پولیس نے پرویز الٰہی کو اغوا کیا ہے،پولیس نے عدالتی احکامات کی دھجیاں اکھیڑی ہیں،لاہور ہائیکورٹ نے اٹک مجسٹریٹ کو حکم دیا کہ پرویز الٰہی کو لاہور ہائیکورٹ پیش کیا جائے ،پرویز الٰہی کے خلاف کوئی ایک واقعہ نہیں، گزشتہ تین ماہ سے گرفتار کیا جارہا،پرویز الٰہی کو پمز میں طبی معائنہ کروانے کے بہانے اسلام آباد لایاگیا اور جیل میں بند کردیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نےکہا پرویز الٰہی کی گرفتاری بادی النظر میں غیر قانونی ہے،

    پرویز الٰہی نے دلائل کے حوالے سے اپنے وکیل کے کانوں میں سرگوشیاں بھی دوران سماعت جاری رکھیں،وکیل صفائی سردار عبد الرازق نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ لے کر پولیس لائنز گئے، پولیس نے میری گاڑی میں پرویز الٰہی کو بٹھایا، فیملی سے نہیں ملنے دیا،پولیس لائینز کے گیٹ پر پہنچے تو پرویز الٰہی کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا،پرویز الٰہی کے وکلاء کو گاڑی سے پولیس نے اتارا اور گرفتار کرکے تھانے لے گئے،پولیس نے نہیں بتایا کیوں پرویز الٰہی کو گرفتار کیا جارہا، وارنٹ بھی نہیں دکھائے ،پاکستان میں قانون کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں،عدالتیں ریلیف دیتی ہیں، عدالتیں اخری امید ہیں ،پرویز الٰہی نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ساری رات تھانے میں سونے نہیں دیا گیا، وکیل صفائی سردار عبد الرازق نے عدالت میں کہا کہ پرویز الٰہی سے سیاسی وابستگی تبدیل کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے،چیرمین پی ٹی آئی مارچ میں جوڈیشل کمپلیکس پہنچے، توڑپھوڑ کامقدمہ درج کیا گیامقدمے میں نامعلوم ملزمان کا نام شامل کیا گیا، پرویز الٰہی کا نام مقدمے میں نہیں،پرویز الٰہی چیرمین پی ٹی آئی کے پیشی والے دن لاہور میں موجود تھے،نامعلوم افراد مقدمے میں وہ ہوتے جن کی شناخت نہ ہو پارہی ہو،پرویز الٰہی دو بار وزیر اعلیٰ رہے، معروف سیاسی خاندان سے تعلق ہے، نامعلوم کیسے ہوسکتے؟ عام انسان کو بھی نظر آرہا کہ پرویز الٰہی کے خلاف ریاستی دہشتگردی کی جارہی،عدالتوں کو نہیں ماننا تو عدالتوں کو بند کردیں،پرویز الٰہی کے خلاف تمام کیسز ختم ہوگئے، دل نہیں بھرا تو دہشتگردی کا مقدمہ درج کردیا،وکیل سردار عبدلرازق نے پرویز الٰہی کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کر دی ،کہا کہ تین ماہ سے زیادہ عرصے سے پرویز الٰہی زیر حراست ہیں،پرویز الہی کے وکیل سردار عبدلرازق کے دلائل مکمل ہو گئے

    پرویز الٰہی کے دوسرے وکیل علی بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے فیصلہ کرنا کیا واقعی ریمانڈ کاکیس ہے یا سیاسی کیس ہے،لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے دیگر عدالتوں پر بھی نافذ ہوتے ہیں،پرویز الٰہی پولیس کی حراست میں ہی تھے، 24 گھںٹے میں تفتیشی افسر نے کیا کیا؟ پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا میں تفتیش کا کوئی زکر ہی نہیں پرویز الٰہی کے خلاف پولیس کے پاس کچھ تفتیش کرنے کے لیے ہے ہی نہیں ،عدالت کو دیکھنا ہوگا کیا واقعی پرویز الٰہی سے تفتیش درکار ہے بھی یا نہیں،ریمانڈ کسی وجہ سے درکار ہوگانا؟ ڈنڈا، گاڑی، ماچس برآمد کرنی ہوگی، کچھ ہے ہی نہیں مقدمے میں؟صورتحال ایسی ہے کہ کل وکلاء ایک دوسرے کی ضمانتیں کروا رہے ہوں گے،شاہ محمد قریشی کا میں وکیل تھا، اسی کیس میں ضمانت کنفرم ہوئی،قانون کے مطابق خود ہی مدعی اور قاضی نہیں ہوسکتے،پرویز الٰہی کی شناخت پریڈ کی بھی ضرورت نہیں، ملک انہیں جانتا ہے،قانون کے مطابق خود ہی وکیل اور خود ہی قاضی نہیں ہو سکتے،میں آج پہلی بار مل رہا ہوں لیکن میں انکو پہلے کا جانتا ہوں،وکیل علی بخاری کی جانب سے مختلف قانونی حوالے دیئے گئے،اور کہا گیا کہ سیکشن 167 میں لکھا ہے ملزم کو ڈسچارج کریں اور بانڈز عدالت میں جمع کروائیں،کوئی شواہد ہو تو پھر مجھے پھانسی لگا دیں لیکن کوئی شواہد ہیں ہی نہیں،وکیل صفائی علی بخاری نے پرویز الٰہی کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کردی، دلائل مکمل ہو گئے

    پروسیکیوٹرکے دلائل شروع ہوئے تو پروسکیوٹر نے کہا کہ اسلام آباد پولیس ڈپٹی کمشنر لاہور یا پنجاب پولیس کو ڈکٹیٹ نہیں کررہی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے دیگر مقدمے میں گرفتاری کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں دیا،پرویز الٰہی مارچ میں درج مقدمے میں اسلام آباد پولیس کو درکار تھے،ثبوتوں کو اکٹھا کرنا ہے، مخبر نے مدعی کو بتایا کہ پرویز الٰہی شامل تھے، ڈنڈا، گاڑیاں، مددگار افراد وغیرہ کے حوالے سے پرویز الٰہی کا جسمانی ریمانڈ درکار ہے،پرویز الٰہی کو قانون کے مطابق گرفتار کیا گیا ہے،

    وکیل سردار عبدلرازق نے عدالت میں کہا کہ انہوں نے خود بتایا کہ پرویز الٰہی موقع پر موجود نہیں تھے،اصل الزام چیرمین پی ٹی آئی،شاہ محمود قریشی اور دیگر پر تھا جنکی ضمانتیں کنفرم ہوگئی ہیں،6 ماہ پہلے مقدمہ درج ہوا اور آج تک انکو معلوم نہیں ہوا کہ پرویز الٰہی اس کیس میں ہیں،لاہور ہائیکورٹ کا حکم تھا کہ کوئی ادارہ انکو گرفتار نہ کرے،لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد یہ کیسے گرفتار کر سکتے ہیں ،ہائیکورٹ نے کہا پرویز الٰہی کو کسہ مقدمے میں گرفتار نہیں کرنا،پرویز الٰہی کی گرفتاری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت لی درخواست دائر کردی ہے

    عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں چوہدری پرویز الہی کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا، "تفتیش” کے لیے پرویز الٰہی دو روز کے لئے "پولیس” کے حوالے کر دیئے گئے،عدالت نے پرویز الہیٰ کو8 ستمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا،

    عدالت نے ریمانڈ دیا تو پولیس اہلکار پرویز الہی کے پاس گئے اور کہا کہ ہمارے ساتھ چلیں آپ کا 2 روز کا ریمانڈ منظور ہوگیا ہے،پرویز الہی نے کہا کہ پہلے تحریری آرڈر لیکر آئیں،پولیس نے تحریری حکم نامہ پرویز الہی کے وکلا کو دکھا دیا ،پرویز الہی نے جج کی تصدیق کے بغیر باہر نہ جانے کا کہہ دیا ،ملزم کو لے جانے کے لیے سی ٹی ڈی اہلکار کمرہ عدالت پہنچ گئے

    مجھ سے کسی نے کیا ملاقات کرنی، میں ہی کسی سے ملاقات نہیں کرنا چاہتا،پرویز الٰہی
    اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،پرویز الٰہی نے کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے رات بھر تھانہ سی آئی اے میں رکھا گیا ہے، مجھ سے کسی نے کیا ملاقات کرنی، میں ہی کسی سے ملاقات نہیں کرنا چاہتا،زرداری نواز شہباز اپنا پیسہ لے آئیں تو ملک کے مالی حالات ٹھیک ہو جائیں،عمران خان صاحب کے ساتھ کھڑا تھا اور کھڑا رہوں گا، سوال کیا گیا کہ چوہدری صاحب کوئی پریس کانفرنس کرنے کا ارادہ تو نہیں ہے۔؟ جس کے جواب میں پرویز الہی نے کہا کہ بلکل نہیں

    واضح رہے کہ پرویز الہیٰ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر رہائی کے بعد گزشتہ روز 5 ستمبر کو پولیس لائن سے ایک بار پھر گرفتار کرلیا گیا تھا سادہ لباس اہلکار پرویز الہیٰ کووکیل کی گاڑی میں گھرجاتے ہوئے گرفتار کرکے لے گئے،صدر پی ٹی آئی کو اسلام آباد پولیس کے انسداد دہشت گردی ڈویژن نے گرفتار کیا-

    ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ پرویزالہیٰ کو تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمہ نمبر 3/23 میں گرفتار کیا گیا پرویزالہیٰ کو جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، 18 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس پر ہنگامہ آرائی کا مقدمہ پرویزالہیٰ کے خلاف ایس ایچ او تھانہ رمنا کی مدعیت میں درج ہوا تھا مقدمے میں انسداد دہشتگردی سمیت 11 دفعات شامل ہیں، اور جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری ڈالی گئی، جبکہ اٹھارہ مارچ جوڈیشل کمپلیکس پیشی پر ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج ہوا تھا اور چوہدری پرویز الٰہی کو گرفتار افراد کے ریکارڈ بیان گرفتار کیا گیا-

    پرویز الہی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

    پولیس میری گاڑی بھی ساتھ لے گئی،پرویز الہی کے وکیل کا دعویٰ

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • پرویز الہی حبس بجا درخواست غیر موثر قرار دے کر نمٹا دی

    پرویز الہی حبس بجا درخواست غیر موثر قرار دے کر نمٹا دی

    لاہور ہائیکورٹ میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالٰہی کی بازیابی اورتوہین عدالت کی درخواست پر سماعت پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اب توصرف افسران کےخلاف توہین عدالت کی کارروائی ہی ہوسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی :لاہور ہائیکورٹ میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالٰہی کی بازیابی اورتوہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی ،جسٹس مرزا وقاص روف نے چوہدری پرویز الٰہی کی اہلیہ قیصرہ الٰہی کی توہین عدالت اور حبس بجا کی درخواست کی پر سماعت کی، دور ان سماعت استدعا کی گئی کہ عدالت ڈی آئی جی انویسٹیگیشن اور ڈی آئی جی آپریشن کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے –

    سماعت کے دوران جسٹس مرزاوقاص رؤف نے ریمارکس دیئے کہ اسلام آبادہائیکورٹ کی جانب سے رہائی کے حکم کے بعد دوبارہ گرفتاری کے بعد اب توصرف افسران کےخلاف توہین عدالت کی کارروائی ہی ہوسکتی ہے۔

    قیصرہ الٰہی کے وکیل نے کہا کہ پرویزالٰہی کو گرفتار کر کے عدالتی حکم عدولی کی گئی ، عدالت نے حکم دیا تھا کہ پرویز الٰہی کو کسی بھی کیس میں گرفتار نہیں کرنا یہاں تو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ نظربندی کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے پاس گیا وہاں سے رہائی کا حکم ہوا، اس کے بعد انہیں ایف آئی آر میں گرفتار کیا گیا ایف آئی آرکے معاملے پر اب دائرہ کار اسلام آباد ہائیکورٹ کا بنتا ہے، توہین عدالت کا معاملہ یہاں دیکھا جا سکتا ہے-

    پولیس میری گاڑی بھی ساتھ لے گئی،پرویز الہی کے وکیل کا دعویٰ

    واضح رہے کہ پرویز الہیٰ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر رہائی کے بعد گزشتہ روز 5 ستمبر کو پولیس لائن سے ایک بار پھر گرفتار کرلیا گیا تھا سادہ لباس اہلکار پرویز الہیٰ کووکیل کی گاڑی س گھرجاتے ہوئے گرفتار کرکے لے گئےپرویزالہیٰ کو تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمہ نمبر 3/23 میں گرفتار کیا گیاپرویزالہیٰ کو جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، 18 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس پر ہنگامہ آرائی کا مقدمہ پرویزالہیٰ کے خلاف ایس ایچ او تھانہ رمنا کی مدعیت میں درج ہوا تھا مقدمے میں انسداد دہشتگردی سمیت 11 دفعات شامل ہیں۔

    برطانیہ نےروسی ملیشیا ویگنر گروپ کو دہشتگرد تنظیم قرار دے دیا

    حکومت پنجاب کی طرف سے ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب غلام سرور سر نہنگ پیش ہوئے ،عدالت میں وفاقی حکومت کی طرف سے ایڈشنل اٹارنی جنرل نصر احمد پیش ہوئے-

    عدالت میں اٹک جیل سپرنٹینڈنٹ پیش ہوئے عدالت میں چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد نے پرویز الٰہی کو پیش نہ کیا نہ دونوں افسران عدالت میں پیش ہوئے عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پرویز الٰہی کی گرفتاری کے بعد اب اس عدالت کے پاس کاروائی کے لیے کیا باقی رہ گیا ہےپرویز الٰہی ایک اور کیس میں گرفتار ہو گئے ہیں اب عدالت کا سماعت کا دائرہ اختیار نہیں رہا ۔عدالت

    وکلا درخواست گزار نے کہا کہ عدالت پرویز الٰہی کو متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے اعتراض لگایا کہ جب لاہور ہائیکورٹ نے پہلے درخواست پر سماعت کی تو چیف کمشنر اورآئی جی اسلام آباد فریق نہ تھے ،عدالت نے استفسار کیا کہ عدالت کے آرڈر کی تعمیل کیوں نہیں کی گئی؟ پرویز الٰہی کو لاہور ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار سے گرفتار کیا گیا عدالت نے پرویز الٰہی کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

    ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ سیکورٹی وجوہات اورمیڈیکل گراؤنڈ کی بنا پر پرویز الٰہی کو پیش نہ کیا گیا عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے استفسار کیا کہ آپ کو پہلے عدالت کے حکم کی تعمیل کرنا چاہیے تھی

    عدالت نے آئی جی اسلام آباد کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ
    آپ اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتا دیتے کہ ائی جی اسلام آباد لاہور ہائیکورٹ پیش ہو رہے ہیں آپ نے ایم پی او کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے-

    وکیل درخواست گزار خرم کھوسہ نے کہا کہ افسر شاہی نے عدالت کے وقار کو مجروع کیا، سرکاری وکیل نے کہا کہ چیف کمشنر اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے ہیں آئی جی اسلام آباد سپریم کورٹ میں پیش ہوے ہیں،عدالت نے کہا کہ مناسب تھا کہ چیف کمشنر اسلام آباد یہاں پیش ہوتے ۔

    عدالت کے روبرو چیف کمشنر اسلام آباد ائی جی اسلام آباد اور ڈسٹرکت جیل اٹک کے سپرنٹینڈنٹ نے توہیں عدالت کے شوکاز نوٹس کے جواب داخل نہ کرائے-

    عدالت نے پرویز الٰہی کی ایک اور مقدمہ میں گرفتاری کے بعد حبس بجا کی درخواست غیر موثر قرار دے کر نمٹا دی عدالت نے توہیں عدالت کی درخواست پر سماعت 18 ستمبر تک ملتوی کر دی

    عدالت نے توہین عدالت کی درخواست پر چیف کمشنر اسلام آباد کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے کہ کیوں نہ توہین عدالت کے جرم میں آپکو سزا دی جائے عدالت نے توہین عدالت کی درخواست پر آئی جی اسلام آباد اور سپرنٹینڈنٹ اٹک جیل کو بھی توہیں عدالت کے شوکاز کا جواب داخل کرانے کی ہدایت کی-

  • پولیس میری گاڑی بھی ساتھ لے گئی،پرویز الہی کے وکیل کا دعویٰ

    پولیس میری گاڑی بھی ساتھ لے گئی،پرویز الہی کے وکیل کا دعویٰ

    لاہور:تحریک انصاف کے وکیل سردار عبدالرزاق کا دعویٰ ہے کہ پولیس پرویز الہٰی کی گرفتاری کے وقت ان کی گاڑی بھی ساتھ لے گئی۔

    باغی ٹی وی: وکیل کے مطابق پولیس نے پرویز الٰہی کی گرفتاری ان کی گاڑی میں ڈالی، جب پولیس لائن کے گیٹ پرپہنچے تو پرویزالہٰی اُن کی گاڑی میں تھے پولیس مجھے باہر نکال کر گاڑی ساتھ ہی لے گئی۔

    واضح رہے کہ پرویز الہیٰ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر رہائی کے بعد گزشتہ روز 5 ستمبر کو پولیس لائن سے ایک بار پھر گرفتار کرلیا گیا تھا سادہ لباس اہلکار پرویز الہیٰ کووکیل کی گاڑی میں گھرجاتے ہوئے گرفتار کرکے لے گئے،صدر پی ٹی آئی کو اسلام آباد پولیس کے انسداد دہشت گردی ڈویژن نے گرفتار کیا-

    پرویز الہی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

    ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ پرویزالہیٰ کو تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمہ نمبر 3/23 میں گرفتار کیا گیا پرویزالہیٰ کو جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، 18 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس پر ہنگامہ آرائی کا مقدمہ پرویزالہیٰ کے خلاف ایس ایچ او تھانہ رمنا کی مدعیت میں درج ہوا تھا مقدمے میں انسداد دہشتگردی سمیت 11 دفعات شامل ہیں، اور جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری ڈالی گئی، جبکہ اٹھارہ مارچ جوڈیشل کمپلیکس پیشی پر ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج ہوا تھا اور چوہدری پرویز الٰہی کو گرفتار افراد کے ریکارڈ بیان گرفتار کیا گیا-

    یوم دفاع پاکستان کے موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل نہیں ہوگی

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،پرویز الٰہی کو فوری رہا کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ،پرویز الٰہی کو فوری رہا کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پرویز الٰہی کا تھری ایم پی او معطل کرکے رہا کرنے کا حکم دے دیا

    پرویز الہی کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈی سی اسلام آباد کو منگل کے لیے نوٹس جاری کر دیا ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے پرویز الٰہی کو آئندہ سماعت پر عدالت کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ پرویز الٰہی آئندہ سماعت تک کسی قسم کا کوئی بیان نہیں دیں گے ،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کیس کی سماعت کی، عدالت نے 3 ایم پی او آرڈر کالعدم قرار دیتے ہوئے پرویز الہیی کی فوری رہائی کا حکم دیا،

    لاہور ہائیکورٹ نے یکم ستمبر کو پرویز الہی کی رہائی کا حکم دیا ،لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الہی کو کسی بھی اور کیس میں گرفتار کرنے سے روکا ،اسلام آباد پولیس نے لاہور ہائیکورٹ کے آرڈر کو فرسٹریٹ کرنے کیلئے پرویز الہی کو گرفتار کیا،وکیل پرویز الہی نے عدالت میں کہا کہ معلوم پڑا ہے کہ اب پرویز الہی کو اٹک جیل سے نکال کر پولیس لائنز لایا گیا ہے،جسٹس طارق جہانگیری نے استفسار کیا کہ پرویز الہی کو پہلی بار کب گرفتار کیا گیا تھا؟ وکیل پرویز الہی نے کہا کہ پرویز الہی کو ابتدائی طور پر یکم جون کو گرفتار کیا گیا تھا، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو پرویز الہی تین ماہ سے زائد عرصے سے حراست میں ہیں، کیا پرویز الہی اسلام آباد کے رہائشی ہیں؟ وکیل پرویز الہی نے کہا کہ پرویز الہی لاہور کے رہائشی ہیں، اسلام آباد میں بھی انکا گھر ہے، ایم پی او آرڈر میں لکھا گیا کہ پرویز الہی نے کارکنوں کو اشتعال دلایا

    جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ کیا پرویز الہی کے خلاف اسلام آباد میں کوئی مقدمہ درج ہے؟ وکیل نے کہا کہ نہیں، پرویز الہی کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہے ،اسلام آباد پولیس نے پرویز الہی کو لاہور پولیس سے چھین کر دوسری گاڑی میں ڈالا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ایم پی او آرڈرز کو کالعدم قرار دے چکی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی،ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے پھر اسی طرح کا ایم پی او آرڈر جاری کر دیا، کیا وہ اتنا طاقتور ہو گیا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے پرویز الہی کی ایم پی او کے تحت نظربندی کا آرڈر معطل کر دیا

    پرویز الہیٰ کو تین روز قبل لاہور ہائیکورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا پرویز الہیٰ عدالت سے گھر جا رہے تھے کہ انہیں اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا اور اٹک جیل منتقل کر دیا، پرویز الہیٰ کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا،

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے ترجمان نے پرویزالہیٰ کی گرفتاری پر سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی صدر کی فوری رہائی کے احکامات صادر کئے جائیں، اور پرویزالہیٰ کے صاحبزادے مؤنس الہیٰ کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کا مذاق اڑاتے ہوئے میرے والد کو اغوا کرلیا گیا ہے

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • پرویز الہیٰ کو پیش نہ کرنے پر آئی جی اسلام آباد لاہور ہائیکورٹ طلب

    پرویز الہیٰ کو پیش نہ کرنے پر آئی جی اسلام آباد لاہور ہائیکورٹ طلب

    لاہور ہائیکورٹ: عدالتی حکم کے باوجود چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری کا معاملہ ،ڈی آئی جی انویسٹیگیشن اور ڈی آئی جی آپریشن اور ایس ایس پی آپریشنز کیخلاف توہین عدالت اور حبس بجا کی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدت نے حبس بجا کی درخواست پر سماعت گیارہ بجے تک ملتوی کر دی ،عدالت نے آئی جی اسلام آباد اور سپرنٹینڈنٹ اٹک جیل کو طلب کر لیا ،عدالت نے پرویز الٰہی کے پیش نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا،عدالت نے آئی جی اسلام آباد کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا،عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کر دیے ،عدالت نے نوٹس میں کہا کہ کیوں نہ آپ کو توہین عدالت کے جرم میں سزادی جائے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا پرویز الٰہی کو پیش کرنے کا واضح حکم تھا وفاقی حکومت کے وکیل پیش ہو کر وضاحت کریں

    سرکاری وکیل نے کہا کہ ہارٹ پرابلم کی وجہ سے پرویز الٰہی کو پیش نہ کیا گیا، ڈی سی اسلام آباد نے بیماری کی بنا پر انکو سفر کرنے سے منع کیا۔پرویز الٰہی کو ڈی سی اسلام اباد نے نقص امن عامہ کے تحت نظر بند کر دیا ہے، اب حبس بجا کی درخواست کا جواز نہیں رہتا،

    ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اٹک بطور بیلف پیش ہوئے اور کہا کہ پرویز الٰہی کو نظر بند ہونے کی بنا پر بازیاب نہیں کرایا جاسکا ، پرویز الہیٰ اٹک جیل میں ہیں، سرکاری وکیل نے کہا کہ حبس بیجا کی درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی جائے ،وکلا درخواست گزار نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد توہین عدالت میں پیش نہ ہوے ۔انکو طلب کیا جائے ،عدالت نے سپرنٹینڈنٹ جیل کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہارکیا، سرکاری وکیل نے کہا کہ عمران خان کی عدالت پیشی کی بنا پر جیل سپرنٹینڈنٹ پیش نہ ہوئے ،

    کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی تو عدالت نے درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کردی ،عدالت نے چیف کمشنر اور ائی جی اسلام آباد کو پرویز الٰہی کو پیش کرنے کا حکم دے دیا ،عدالت کے طلب کرنے کے باوجود چیف کمشنر اسلام آباد، ائی جی اسلام آباد اور سپرنٹینڈنٹ اٹک جیل پیش نہ ہوئے ،وفاقی حکومت کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل جاوید قصوری پیش ہوئے ،وفاقی وکیل نے جواب داخل کرنے اور ہدایات لینے کے لیے مہلت مانگی ،عدالت میں کہا کہ عدالت کوئی حکم جاری کرنے سے قبل ہمیں سن لے ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز الٰہی کو پیش کرنے کا حکم پہلے کا ہے ۔اپ پہلے اس ارڈر کی تعمیل کریں

    ایڈشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب غلام سرور نہنگ نے جسٹس امجد رفیق کا پرویز الٰہی کو پیش کرنے کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا،وکلا درخواست گزار نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پرویز الٰہی کی نظر بندی کے آرڈر معطل کر دیے ہیں ،عدالت نے کہا کہ چیف سیٹلمنٹ نے نظر بندی کے آرڈر جاری کیے اپ اس نظر بندی کو چیلنج کریں ،عدالت نے درخواست گزار کے وکلا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو تو برحال اسلام آباد ہائی کورٹ جانا پڑے گا ۔عدالت نے آئی جی اسلام آباد کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ،عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کر دیے

    قبل ازیں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے جسٹس امجد رفیق کے ملتان تبادلے کے بعد پرویز الہیی کی درخواست جسٹس مرزاوقاص کی عدالت میں مارک کر دی،جسٹس مرزا وقاص روف کیس پر سماعت کریں گے ،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اٹک اسد علی لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے ،ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ افضال بھی لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے .جسٹس امجد رفیق کے ملتان بنچ کام کرنے کی بنا پر کیس دوسرے جج کے پاس سماعت کے لیے لگایا گیا ہے

    پرویز الٰہی کی رہائی،نیب نے انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی
    دوسری جانب نیب نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی رہائی اور کسی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کے فیصلے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائرکردی ہے، نیب کی جانب سے دائر انٹراکورٹ اپیل میں پرویز الٰہی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، نیب اپیل میں کہا گیا ہے کہ سنگل بنچ نے نیب کا پورا موقف سنے بغیر پرویز الٰہی کی رہائی کا حکم دیا پرویز الٰہی کی گرفتاری قانونی تھی پرویز الٰہی ریمانڈ پر تھے سنگل بنچ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا اور رہائی کا حکم جاری کیا پرویز الٰہی کو کسی کیس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم بھی قانونی طور پر درست نہیں ،

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے ترجمان نے پرویزالہیٰ کی گرفتاری پر سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی صدر کی فوری رہائی کے احکامات صادر کئے جائیں، اور پرویزالہیٰ کے صاحبزادے مؤنس الہیٰ کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کا مذاق اڑاتے ہوئے میرے والد کو اغوا کرلیا گیا ہے

    جبکہ تحریک انصاف کے صدر پرویزالہیٰ کو  لاہور ہائی کورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا، اور واضح کیا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ کو اب کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے، تاہم اسلام آباد پولیس نے انہیں تھری ایم پی او کے تحت دوبارہ گرفتار کرلیا، پرویز الٰہی کو لاہور سے گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • پرویز الہی بازیابی کیس؛ کل کی کازلسٹ سے نکال دیا گیا

    پرویز الہی بازیابی کیس؛ کل کی کازلسٹ سے نکال دیا گیا

    لاہورہائیکورٹ میں پرویز الہی کی بازیابی کا کیس کل کی کازلسٹ سے نکال دیا گیا ہے جبکہ جسٹس امجد رفیق نے سیشن جج کو کل پرویز الہی کو پیش کرنے کا حکم دے رکھا تھا اور جسٹس امجد رفیق کل سے لاہورہائیکورٹ کی پرنسپل سیٹ پر کیسز کی سماعت نہیں کریں گے ۔جسٹس امجد رفیق نے آئی جی اسلام آباد کو بھی توہین عدالت عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا.

    خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی صدر چوہدری پرویز الہٰی کی بازیابی کیس کی لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی تھی اور عدالت نے انہیں اٹک جیل سے بازیاب کرانے اور کل عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ عدالت نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اٹک کو حکم دیا کہ وہ بطور بیلف کل اٹک جیل سے پرویز الہٰی کو بازیاب کروائیں جب کہ آئی جی اسلام آباد کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا تھا۔

    لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ توہین عدالت نہیں کیونکہ عدالت کے اندر نہیں ہوئی، یہ فوجداری اور سول توہین عدالت ہے، ان افسران پر فرد جرم بھی عائد کروں گا اور اس کیس میں توہین عدالت اور محکمانہ کارروائی ہوگی اور عدالت نے کہا کہ پرویز الہٰی کو حوالے کرتے ہوئے قانون کو نظر انداز کیا گیا۔ اب سب کچھ قانون کے مطابق ہوگا۔

    سماعت کے دوران سینیئر قانون دان لطیف کھوسہ پیش ہوئے اور کہا کہ چوہدری پرویز الہٰی کی گرفتاری پری پلان تھی، یونیفارم میں ملبوس افسران سے سادہ لباس اہلکار پرویز الہٰی کو لے گئے، اگر انہیں اس عدالت کی حدود سے لے جایا گیا ہے تو عدالت کو اختیار ہے کہ وہ کسی بھی صوبے میں حکم دے سکتی ہے، اس طرح عدالتی حکم کی خلاف ورزی 50 سال کی وکالت میں نہیں دیکھی جبکہ اس موقع پر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے استفسار کیا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ پرویز الہٰی کہاں ہیں؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ وہ پنجاب کی کسی اتھارٹی یا ادارے کے پاس نہیں ہیں۔ آئی جی پنجاب نے بھی پرویز الہٰی سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا، ان کے اس جواب پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

    علاوہ ازیں عدالت نے آئی جی سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو اسلام آباد سے کوئی مراسلہ آیا کہ ہماری ٹیم آ رہی ہے جس پر انہوں نے بتایا کہ جی سی سی پی او کو رپورٹ دینے کا کہا جو رجسٹرار آفس میں جمع کرا دی، عدالت نے کہا کہ اگر کوئی اسلام آباد پولیس کا آتا ہے تویونیفارم میں ہونا چاہیے جس پر پنجاب پولیس چیف نے کہا کہ میں اسلام آباد پولیس کا ذمے دار نہیں، میں تمام حقائق تحریری رپورٹ میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سی ٹی ڈی کی کاروائی،سات مبینہ دہشتگرد گرفتار
    ہیلی کاپٹر حادثے پر بہت دکھ ہوا،اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند کرے، نواز شریف
    اگلے 10 دن اہم،بازی پلٹ گئی،نواز شریف،مریم پر ریڈ لائن ختم، بڑی تیاریاں شروع
    اوپن مارکیٹ؛ ڈالر 331 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
    تاہم خیال رہے کہ عدالت نے کہا کہ اگر کسی مجسٹریٹ کا نظر بندی کا حکم تھا تو وہ الگ معاملہ ہے، آپ اس معاملے کی محکمانہ انکوائری کرائیں جبکہ آئی جی پنجاب سے عدالت سے استدعا کی کہ اس معاملے پر شوکاز نوٹس جاری نہ کیا جائے بلکہ صرف نوٹس کریں، پہلے ڈی آئی جی کا پہلے ڈی آئی جی کا موقف سن لیں پھر جو آپ کا حکم ہو گا اس پر عمل کریں گے تاہم واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الہٰی کو یکم ستمبر کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم اسی روز انہیں اسلام آباد پولیس نے نقص امن کے تحت ظہور الٰہی روڈ سے گرفتار کیا، ان کی ایم پی او قوانین کے تحت گرفتاری عمل میں لای گئی اور انہیں خصوصی ہیلی کاپٹر سے اسلام آباد منتقل کرنے کے بعد اٹک جیل بھیج دیا گیا تھا۔

  • ہمیں نہیں پتا تھا پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کون ہے،عطا تارڑ

    ہمیں نہیں پتا تھا پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کون ہے،عطا تارڑ

    رہنما مسلم لیگ ن عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہے کہ ہمیں نہیں پتا تھا پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کون ہے،

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار کا دور پنجاب کا سیاہ ترین دور تھا، لاہور کے ماسٹر پلان میں اربوں کی کرپشن ہوئی،غریب عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا، چیئرمین پی ٹی آئی نے بتایا پرویز الٰہی پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو ہے،لاہور کے ماسٹر پلان میں شیخوپورہ کو شامل کیا گیا،ہاؤسنگ اسکیم کے ذریعے پیسے بٹورے گئے،پرویز الٰہی ، ان کے بیٹے نے چار ماہ میں ریکارڈ کرپشن کی،لاہور کے ماسٹر پلان کو لاہور ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا، عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونے والے پیسے گجرات پر لگا دیے گئے، شیخوپورہ کے گرین ایریا شامل کر کے لاہور کے گرین ایریا کو تیس فیصد کر دیا گیا،لاہور کے ماسٹر پلان کے لیے مافیا سے پیسے لیے گئے،لاہور کے ماسٹر پلان میں اپنے مفاد کے لیے تبدیلیاں کی گئیں،مونس الٰہی والد کو تنہا چھوڑ کر لندن بھاگ گئے،مونس الٰہی نے کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے،لاہور کے ماسٹر پلان اور پیپر اسکیم میں کرپشن کا حساب کس نے دینا ہے؟ غریب عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا،

    سلمان رشدی کا وکیل، عمران خان کا وکیل بن گیا

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    امریکی سائفر کے بیانیہ پر سیاست کرنے والا خود امریکیوں سے رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور،

    ی عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ کالعدم قرار دینے کے فیصلے سے نواز شریف کے کیس پر کوئی اثر نہیں پڑے گاعدالت کا کام کیسز کا فیصلہ کرنا ہے اور لوگوں کو انصاف فراہم کرنا ہے پارلیمان کے اختیار میں عدالت کی بار بار مداخلت اچھی روایت نہیں اس مداخلت سے ادارے مضبوط نہیں کمزور ہوں گے۔ آئین کہتا ہے کہ آپ اپنی مرضی کا وکیل رکھ سکتے ہیں۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ میں پرویز الہیٰ کی درخواست پر سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پرویز الہیٰ کی درخواست پر سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں چوہدری پرویز الٰہی کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے سماعت کی ،وکیل نے کہا کہ صرف لاہور ہائیکورٹ کے آرڈر کو فرسٹریٹ کرنے کیلئے پرویز الٰہی کو گرفتار کیا گیا ،بغیر کسی وارنٹ اور آرڈر کے پرویز الٰہی کو گرفتار کیا گیا ،لاہور ہائیکورٹ کا حکم واضح تھا کہ ایم پی او کے تحت بھی گرفتار نہ کیا جائے ،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ کیا اس پر کوئی اعتراض لگا ہے ،وکیل چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا آرڈر موجود ہے کہ کوئی اتھارٹی کسی کیس میں گرفتار نہیں کرے گی ، ڈی سی اسلام آباد کو بھی آرڈر کیا گیا ہے ،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ آپ وہ آرڑد پڑھیں ،

    وکیل پرویز الہٰی نے لاہور ہائیکورٹ کا آرڈر پڑھ کر سنایا ،وکیل پرویز الہٰی نے شہریار آفریدی کیس کا حوالہ بھی دیا، عدالت نے کہا کہ آپ کی درخواست پر آفس کے اعتراضات ہیں ، ابھی وہ اعتراضات ختم کر رہے ہیں ،عدالت نے رجسٹرار آفس کو درخواست پر نمبر لگانے کا حکم دے دیا کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی

    پرویز الہیٰ کو تین روز قبل لاہور ہائیکورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا پرویز الہیٰ عدالت سے گھر جا رہے تھے کہ انہیں اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا اور اٹک جیل منتقل کر دیا، پرویز الہیٰ کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا،

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے ترجمان نے پرویزالہیٰ کی گرفتاری پر سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی صدر کی فوری رہائی کے احکامات صادر کئے جائیں، اور پرویزالہیٰ کے صاحبزادے مؤنس الہیٰ کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کا مذاق اڑاتے ہوئے میرے والد کو اغوا کرلیا گیا ہے

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو