Baaghi TV

Tag: پرویز الہی

  • پرویز الہی کی صحت تسلی بخش ہے، ترجمان پمز

    پرویز الہی کی صحت تسلی بخش ہے، ترجمان پمز

    تحریک انصاف کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ کی اٹک جیل میں طبیعت ناساز ہو گئی ہے،

    چودھری پرویز الہیٰ کو چیک اپ کے لئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی پمز ہسپتال میں لایا گیا ہے، سخت سیکورٹی میں پرویز الہی کو اٹک جیل سے پمز منتقل کیا گیا، پرویز الہی کا کارڈیالوجی وارڈ میں میڈیکل چیک اپ کیا گیا،پرویز الہی کو سینے میں اٹھنے والی درد کی وجہ سے ہسپتال منتقل کیا گیا، پرویز الہی کی نبض اور بلڈ پریشر کو بھی چیک کیا گیا،پرویز الہی کے مزید ٹیسٹوں کے لیے نمونے بھی لیے گئے،

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ تقریبا پینتالیس منٹ تک ہسپتال میں رہے، اسکے بعد انہیں پھر دوبارہ اٹک جیل روانہ کر دیا گیا ہے ،پرویز الہیٰ کو ہسپتال لائے جانے کے موقع پر سیکورٹی کے سکٹ انتظامات کئے گئے تھے، پولیس کی بھاری نفری ہسپتال کے باہر تعینات کی گئی تھی،پرویز الہیٰ کا طبی معائنہ مکمل، ڈاکٹرز نے پرویز الہیٰ کی صحت کو تسلی بخش قرار دیا ہے، ترجمان پمز کا کہنا ہے کہ پرویز الہی کی صحت تسلی بخش ہے،طبی معائنہ کے لیے کوئی میڈیکل بورڈ تشکیل نہیں دیا گیا،

    پرویز الہیٰ کو تین روز قبل لاہور ہائیکورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا پرویز الہیٰ عدالت سے گھر جا رہے تھے کہ انہیں اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا اور اٹک جیل منتقل کر دیا، پرویز الہیٰ کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا،

    پرویز الہیٰ کی دوبارہ گرفتاری پر انکی اہلیہ نے لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائرکی جس پر آج دو بار سماعت ہو چکی ہے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ دونوں افسران سے پوچھ لیں کہ وہ آج پیش ہوں گے یا کل ؟کل پیش ہونے پر پولیس افسران کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کروں گا آپ نے مناسب نہ سمجھا کہ آپ اسی وقت میرے پاس آجاتے

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے ترجمان نے پرویزالہیٰ کی گرفتاری پر سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی صدر کی فوری رہائی کے احکامات صادر کئے جائیں، اور پرویزالہیٰ کے صاحبزادے مؤنس الہیٰ کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کا مذاق اڑاتے ہوئے میرے والد کو اغوا کرلیا گیا ہے

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اٹک جیل سے پرویز الہی کو لیکر کل عدالت میں پیش ہوں

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اٹک جیل سے پرویز الہی کو لیکر کل عدالت میں پیش ہوں

    لاہور ہائیکورٹ: پرویز الٰہی کو بحفاظت گھر نہ پہچانے پر قیصرہ الہی کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس امجد رفیق نے درخواست پر سماعت کی،وکیل طاہر نصر اللہ وڑائچ نے عدالت میں کہا کہ میں پرویز الٰہی کے ساتھ پچھلی نشست پر تھا،مال روڈ پر پولیس نے ایک بار گرفتاری کوشش کی،کینال روڈ پر تین سو نقاب پوش بندوں نے ہمیں روکا،جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ کیا روٹ کو زیرو نہیں کرایا گیا تھا،وکیل نے کہا کہ چالیس سے پچاس گاڑیاں ہمارے آگے اور پیچھے تھیں ،تین گاڑیوں نے ہمیں روکا ہمارے گاڑی کے آگے بریک لگا دی گئی،جیسے ہی گاڑی رکی ڈی آئی جی آپریشن اترے،ڈی آئی جی عمران کشور نے خود دروازہ کھولا اور لوگوں کو اشارہ کیا گیا ۔جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ کیا وہاں کوئی بحث بھی ہوئی ۔ وکیل نے کہا کہ میں نے مزاحمت کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔

    جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ کیا ان لوگوں کے پاس کوئی آرڈر تھا ۔ کیا وہ لوگ پولیس وردی میں تھے ۔وکیل نے کہا کہ سارے لوگ سول کپڑوں میں تھے۔ جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ انہوں نے کوئی اسلحہ استعمال نہیں کیا ان سے پوچھا نہیں کہ تمھاری جرات کیسے ہوئی کورٹ کا آرڈر موجود ہے ۔ وکیل نے کہا کہ لطیف کھوسہ بوڑھے آدمی ہیں وہ کیا مزاحمت کرتے ۔ جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے اپکو جوان سمجھ رہے ہیں ۔ جسٹس امجد رفیق کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہ گونج اٹھا،وکیل نے کہا کہ یہ سارا کام ایک منٹ میں ہوا ۔

    لاہور ہائیکورٹ نے دس بجے ڈی آئی جی آپریشنز علی ناصر رضوی اور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن سمیت دیگر ذمے داران افسران کو طلب کر لیا ،آفس ہائی کورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض لگا دیا تھا.۔آفس ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ پرویز الٰہی کو اسلام آباد پولیس نے پکڑا ،بہتر ہے درخواست گزار اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرے۔

    کل پیش ہونے پر پولیس افسران کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کروں گا ،جسٹس امجد رفیق
    عدالتی حکم کے باوجود چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری کا معاملہ ،ڈی آئی جی انویسٹیگیشن اور ڈی آئی جی آپریشن اور ایس ایس پی آپریشنز کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر دوبارہ سماعت ہوئی تو عدالت نے درخواست پر سماعت گیارہ بجے تک ملتوی کردی ،عدالت کے حکم پر ڈی آئی جی آپریشنز، ڈی ائی جی انوسٹی گیشن اورایس ایس پی آپریشنز پیش نہ ہوئے، انکی طرف سے ڈی ایس پی شاہد نے پیش ہو کر مہلت مانگی ،ڈی آئی جی آپریشنز اور ایس ایس پی آپریشنز کی طرف سے مہلت مانگی گئی ،ڈی ایس پی نے عدالت میں کہا کہ دونوں پولیس افسراں صوبہ سے باہر ہیں ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ دونوں افسران سے پوچھ لیں کہ وہ آج پیش ہوں گے یا کل ؟کل پیش ہونے پر پولیس افسران کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کروں گا آپ نے مناسب نہ سمجھا کہ آپ اسی وقت میرے پاس آجاتے

    عدالت نے توہین عدالت کے مرتکب پولیس افسران کو پیش ہونے کیلئے دوبجے تک کی مہلت دے دی،،عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو پولیس افسران کے دفاع سے بھی روک دیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب آپ کو پراسیکیوٹر مقرر کیا جائے گا تب آپ بتائیے گا کہ توہین کا جرم بنتا ہے یا نہیں،آئی جی پنجاب سمیت دیگر سے بھی 2 بجے جواب طلب کر لیا گیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی پیش نہیں ہوتا تو عدم پیشی کی جو بھی جوہات ہیں لکھ کر آگاہ کیا جائے، عدالت جواب آنے کے بعد مناسب فیصلہ کرے گی،پراسیکیوٹر کا کام وکالت کرنا نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی تک معاونت کرنا ہے عدالت نے سماعت دو بجے تک ملتو ی کر دی

    پرویز الہی گرفتاری توہین عدالت کا کیس،تیسری بار سماعت ہوئی، آئی جی پنجاب لاہور ہائیکورٹ پیش ہوئے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرور نہنگ بھی عدالت پیش ہوئے ،ایس پی عمارہ بھی عدالت پیش ہوگئیں ،عدالت نے استفسار کیا کہ دونوں ڈی آئی جیز کہاں ہے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ دونوں افسران کراچی میں ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کیاں ان افسران کو عدالت کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا؟ عدالت نے آئی جی پنجاب کو محکمانہ کارروائی کرنے کی ہدایت کردی ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت توہین عدالت کی کارروائی کرے گی۔جو لوگ لے کے گئے ہیں وہ کون سے تھے۔جو کچھ ہورہا ہے اس پر عدالت کوبڑا دکھ ہے

    آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ میں ایک اہم میٹینگ چھوڑ کر آیا ہوں، میرا بندہ اگر زمہ دار ہوا تو میں خود آپ کے پاس لیکر آؤں گا،پرویز الٰہی کے ساتھ جو کچھ ہوا میں اسکی ذمہ داری لیتا ہوں، پرویز الہی کے ساتھ کچھ غیر قانونی نہیں ہوا میرے ڈی آئی جی اور ایس پی کا کوئی معاملہ نہیں، پرویز الہٰی کو اسلام آباد پولیس کو لے کر گئی، میں اسلام آباد پولیس کا ذمے دار نہیں ہوں۔میں پرویز الٰہی کے معاملہ کی از سر نو تحقیقات کرواؤں گا، پنجاب پولیس کے آفیسرز توہین عدالت کا سوچ بھی نہیں سکتے۔مجھے تحریری جواب جمع کروانے کے لیے مہلت دی جائے

    جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ پرویز الٰہی اس وقت کہاں ہیں ؟ آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ ہمیں بلکل نہیں پتہ پرویز الٰہی کہاں ہیں، جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ آپ کو واقعی ہی پتہ نہیں،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ہمیں بالکل نہیں پتہ پرویز الہی کہاں ہیں؟ آئی جی اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے جواب پر عدالت میں قہقہ لگ گیا آئی جی پنجاب نے عدالت میں کہا کہ پرویز الہی کے حوالے سے اس وقت اسلام آباد پولیس ہی بتا سکتی ہے ،جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ پرویز الہی کو اٹک جیل میں رکھا گیا تھا اس لیے عدالت یہ کیس سن رہی ہے

    آئی جی پنجاب نے چوہدری پرویز الہی کی عدالتی حکم کے باوجود گرفتاری کرنے اور توہین عدالت کے معاملہ پر لاہور ہائیکورٹ کے جج امجد رفیق پر عدم اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ آپ پرسنل ہوچکے ہیں ، لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ
    آئی جی پنجاب کا یہ کہنا تھا کہ مجھے نہیں پتا کہ پرویز الہی کہاں ہیں یہ ایک صاف جھوٹ ہے،آئی جی پنجاب نے کہا کہ آئی جی پنجاب کھوسہ صاحب کی اس بات پر افسوس ہے ،عدالت نے کہا کہ آئی جی صاحب یہ غیر پارلیمانی لفظ نہیں ، جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کسی کو جانور کہہ دیں تو ناراض ہوجاتا ہے شیر کہیں توخوش ہوجاتا ہے

    عدالت نے درخواست پر سماعت کل تک کے لئے ملتوی کر دی ،عدالت نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن اٹک کو بیلف مقرر کر تے ہوے اٹک جیل سے پرویز الٰہی کو بازیاب کرا کر پیش کرنے کا حکم دے دیا ،عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو توہیں عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کر لیا ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں پولیس افسران نے کریمنل اور سول توہین عدالت کی ،عدالت نے آئی جی کے بیان کی روشنی میں معاملہ کی جوڈیشل اور محکمانہ تحقیقات کا حکم دے دیا ،عدالت نے کہا کہ کسی مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر پرویز الٰہی کو اٹھوایا گیا۔

    عدالت میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحاق پیش ہونے اور جواب کے لیے 24 گھنٹے کی مہلت مانگی ،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ پرویز الٰہی نے بیک وقت دو مختلف عدالتوں سے رجوع کیا ۔قانون میں بیک وقت دو عدالتوں سے رجوع کرنے کی گنجائش نہین ہے ۔حبس بجا کی درخواست پر مجھے رپورٹ فائل کرنے کے لیے مہلت دی جائے ،پرویز الٰہی پنجاب حکومت کی تحویل میں نہیں ہیں

    پرویز الٰہی کی رہائی،نیب نے انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی
    دوسری جانب نیب نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی رہائی اور کسی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کے فیصلے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائرکردی ہے، نیب کی جانب سے دائر انٹراکورٹ اپیل میں پرویز الٰہی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے، نیب اپیل میں کہا گیا ہے کہ سنگل بنچ نے نیب کا پورا موقف سنے بغیر پرویز الٰہی کی رہائی کا حکم دیا پرویز الٰہی کی گرفتاری قانونی تھی پرویز الٰہی ریمانڈ پر تھے سنگل بنچ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا اور رہائی کا حکم جاری کیا پرویز الٰہی کو کسی کیس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم بھی قانونی طور پر درست نہیں ،

    جسٹس امجد رفیق نے پرویزالہی کی اہلیہ قیصرہ الہی کی حبس بجا کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست میں نگران حکومت پنجاب ، چیف سیکرٹری .آٸی جی پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ چوہدری پرویز الہی کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ہاٸی کورٹ نے چوہدری پرویز الہی کو نظر بند کرنے سے روکا تھا ۔ عدالتی حکم کے باوجود نظر بندی غیر قانونی ہے ،عدالت پرویز الہی کو پولیس کی غیر قانونی حراست سے بازیاب کرنے کا حکم دے ،

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے ترجمان نے پرویزالہیٰ کی گرفتاری پر سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی صدر کی فوری رہائی کے احکامات صادر کئے جائیں، اور پرویزالہیٰ کے صاحبزادے مؤنس الہیٰ کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کا مذاق اڑاتے ہوئے میرے والد کو اغوا کرلیا گیا ہے

    جبکہ تحریک انصاف کے صدر پرویزالہیٰ کو  لاہور ہائی کورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا، اور واضح کیا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ کو اب کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے، تاہم اسلام آباد پولیس نے انہیں تھری ایم پی او کے تحت دوبارہ گرفتار کرلیا، پرویز الٰہی کو لاہور سے گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • نیب رپورٹ: مونس الٰہی کےبینک اکاؤنٹس میں لاکھوں کی غیرملکی کرنسی منتقل ہونےکا انکشاف

    نیب رپورٹ: مونس الٰہی کےبینک اکاؤنٹس میں لاکھوں کی غیرملکی کرنسی منتقل ہونےکا انکشاف

    لاہور: پرویز الٰہی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد ان کے صاحبزادے مونس الٰہی کے بینک اکاؤنٹس میں لاکھوں کی غیر ملکی کرنسی منتقل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: مونس الٰہی کے خلاف نیب انکوائری رپورٹ میں انکشافات ہوئے ہیں کہ پرویز الہی کے وزیراعلی بننے کے بعد مونس کے مختلف اکاؤنٹس میں 82 کروڑ سے زائد رقم جمع ہوئی نیب رپورٹ میں کہا گیا کہ مونس الٰہی کے اکاؤنٹس میں 10 لاکھ 84 ہزار یوروز جب کہ ایک لاکھ پاؤنڈ اور پاکستان سمیت دیگر کرنسی بھی منتقل کی گئی۔

    نیب رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ گجرات میں مختلف ٹھیکوں کے دوران بھی رقم مونس الٰہی کے اکاؤنٹس میں جمع ہوئی، منتقل کی گئی رقم بظاہر رشوت اور کک بیکس کی ہے پرویز الٰہی کی بہو زہرہ الہی نے بھی گجرات میں 153 ملین روپے سے 748 کنال اراضی خریدی، البتہ مونس الٰہی تاحال کیس میں شامل تفتیش نہیں ہوئے۔

    دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما عطااللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی کے وکلا یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ پولیس افسران کو سزائیں دلوا کر رہیں گے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری ویڈیو بیان میں عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ وکلا دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کی بات ہو گئی ہے، کورٹ نوٹس کرے گی اور پولیس افسروں کو توہین عدالت پر سزائیں سنائے گی۔


    انہوں نے کہا کہ اربوں روپے کی کرپشن کرنے والے اس شخص نے ہمیشہ یہ بھڑکیں ماریں کہ میں نے عدالتوں کو مینج کرلیا ہے، اب اگر ان کے وکلا وقت سے پہلے یہ کہہ رہے ہیں کہ جج صاحب کل ہی پولیس افسران کو سزائیں دے دیں گے تو یہ سسٹم پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے کہ وہ کرپشن کا پیسہ جاتا کہاں ہے، جو 2300 ارب روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔

    لیگی رہنما نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا کہ پرویز الٰہی کے وکلا اور لاہور ہائیکورٹ کے جج کے درمیان کیا طے پایا؟ اربوں روپے کے ڈاکے مارنے والے کی رہائی کی خاطر توہین عدالت لگانے کی ڈیل ہوئی پہلی دفعہ کسی جج نے پولیس کو کہا کہ گھر چھوڑ کے آؤ، یہ تاریخی کرپشن پر تاریخی ریلیف ہے۔

  • ضمانت خارج ہونے پر عمران خان کی اپیل سماعت کیلیے مقرر

    ضمانت خارج ہونے پر عمران خان کی اپیل سماعت کیلیے مقرر

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سات مقدمات میں عبوری ضمانت کی درخواستیں خارج ہونے کے خلاف اپیل لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر کردی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : 11 اگست کو لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے نو مئی واقعات میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سات مقدمات میں عبوری ضمانتیں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کی تھیں۔

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں سائفر کیس میں درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکلا نے عدالت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے درخواست کی تھی کہ عدالت ضمانت کی درخواست پر دلائل سن کر فیصلہ کرلے، تاہم عدالت نے کہا کہ پی ٹی آئی اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست واپس لے تو ہی وہ اس مقدمے میں سماعت کر سکتے ہیں، جس پر وکلا نے درخواست واپس لینے کی حامی بھرلی، اور سماعت چار ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔

    پرویز الٰہی کی گرفتاری،توہین عدالت کی درخواست دائر

    دوسری جانب دوسری جانب صدر پی ٹی آئی چوہدری پرویز الہیٰ کی گرفتاری کے خلاف بھی توہین عدالت کی درخواست بھی سماعت کیلئے مقرر ہوگئی ہے عدالتی حکم کے باوجود چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری کا معاملہ ،ڈی آئی جی انویسٹیگیشن اور ڈی آئی جی آپریشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی-

    عوام کے لیے بڑے بڑے سسٹم کوچیلنج کریں گے،پاکستان مرکزی مسلم لیگ

    چوہدری پرویز الٰہی کی اہلیہ قیصرہ الٰہی نے لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی، دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے چوہدری پرویز الٰہی کی تمام کیسز میں ضمانت منظور کی، نیب حراست سے بازیاب کراکے چوہدری پرویز الٰہی کو رہا کرایا گیا عدالت نے ڈی آئی جی آپریشن اور ڈی آئی جی انویسٹیگیشن کو طلب کرکے تحریری حکم نامہ دیا، عدالت نے پولیس افسران کو بحفاظت گھر پہنچانے کا حکم دیادونوں پولیس افسران کی موجودگی میں چوہدری پرویز الٰہی کو اٹھایا گیا دونوں پولیس افسران نے عدالتی حکم کے برعکس چوہدری پرویز الٰہی کی حفاظت نہیں کی درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدالت ڈی آئی جی انویسٹیگیشن اور ڈی آئی جی آپریشن کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے-

    پٹرول پمپس پرمقررہ نرخ سے زائد وصولی

  • پرویزالہیٰ کی گرفتاری پر سپریم کورٹ نوٹس لے. پی ٹی آئی

    پرویزالہیٰ کی گرفتاری پر سپریم کورٹ نوٹس لے. پی ٹی آئی

    پی ٹی آئی نے پرویزالہیٰ کی گرفتاری کو عدالتی توہین قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا ہے جب کہ ترجمان تحریک انصاف نے پرویزالہیٰ کی گرفتاری پر بیان جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ عدالتی احکامات کےباوجودپرویزالہیٰ کو گرفتار کیا گیا، یہ گرفتاری عدالتی نظام کی کھلی توہین ہے۔

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے ترجمان نے پرویزالہیٰ کی گرفتاری پر سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی صدر کی فوری رہائی کے احکامات صادر کئے جائیں، اور پرویزالہیٰ کے صاحبزادے مؤنس الہیٰ کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کا مذاق اڑاتے ہوئے میرے والد کو اغوا کرلیا گیا ہے

    جبکہ تحریک انصاف کے صدر پرویزالہیٰ کو آج لاہور ہائی کورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا، اور واضح کیا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ کو اب کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے، تاہم اسلام آباد پولیس نے انہیں تھری ایم پی او کے تحت دوبارہ گرفتار کرلیا، اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد منتقل کردیا تاہم پرویز الہی کے صاحبزادے مؤنس الہی نے ایکس پر ٹویٹ میں تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جیسے ہی گاڑی ہماری گلی میں داخل ہوئی اسے روک کر ان کے والد کو اغوا کرلیا گیا۔

    مونس الہیٰ کا کہنا تھا کہ پولیس اور کورٹ سیکیورٹی میرے والد کو گھر لارہی تھی، اگر عدالتی احکامات کا اس طرح مزاق اڑانا ہے تو اس کا سرکاری سطح پر اعلان کردیں۔ دوسری جانب چوہدری پرویز الہی کے وکلا ہائی کورٹ پہنچ گئے ہیں اور جسٹس امجد رفیق کی عدالت میں جمع ہیں۔ وکلا توہین عدالت اور حبس بےجا کی درخواست داٸرکریں گے۔

  • پرویز الٰہی ایک بارپھر گرفتار

    پرویز الٰہی ایک بارپھر گرفتار

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    چوہدری پرویز الہی لاہور ہائیکورٹ سے سخت سیکورٹی حصار میں ظہور الٰہی روڈ روانہ ہوئے تھے، لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا تھا کہ انہیں گھر تک چھوڑ‌کر آئیں، تا ہم پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے،پولیس نے اب کینال روڈ سے گرفتار کیا ہے، چوہدری پرویز الہی کو اب اسلام آباد پولیس نے گرفتار کیا اور انہیں لے کر اسلام آباد روانہ ہوگئی۔

    پرویز الٰہی کی گرفتاری ایم پی او قوانین کے تحت عمل میں لائی گئی ،اسلام آباد پولیس نے چودھری پرویز الٰہی کو نقص امن کے تحت گرفتار کرلیا

    قبل ازیں پرویز الٰہی رہائی ملنے کے باوجود عدالت سے باہر نہ جا سکے اس سلسلے میں جسٹس امجد رفیق نے لاہور ہائی کورٹ میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے کیس کی دوبارہ سماعت کی ،پرویز الٰہی کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ باہر یونیفارم اور سادہ کپڑوں میں بہت سے اہلکار موجود ہیں، عدالتی حکم بہت واضح ہے، لہٰذا پولیس کو ہدایت کریں کہ پرویز الٰہی کو گھر تک چھوڑ کر آئیں لاہور ہائی کورٹ نے استدعا منظور کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس کے افسر کو کہتے ہیں کہ انہیں چھوڑ آئیں، رجسٹرار کو بلا کر ڈائریکشن بھی دے دیتے ہیں ،ایڈیشنل رجسٹرار سکیورٹی رائے ظہور جسٹس امجد رفیق کی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے کہا کہ متعلقہ ایس پی کے ساتھ ملکر پرویز الٰہی کو گھر ڈراپ کریں، کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے عدالت نے پرویز الٰہی کو گھر چھوڑنے کے لئے پولیس کو ہدایت کر دی، اس پر ایس پی اقبال ٹاؤن اور ایڈیشنل رجسٹرار سکیورٹی نے کہا کہ عدالت کے حکم پر عمل کریں گے

    لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الہی کی رہائی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ،جسٹس امجد رفیق نے پرویز الہی کی درخواست پر تحریری حکم جاری کردیا ،عدالت نے پرویز الہی کو نیب اور کسی بھی اتھارٹی کی جانب سے گرفتار کرنے سے روک دیا، تحریری حکمنامہ میں عدالت نے کہا کہ کوئی اتھارٹی ،ایجنسی اور آفس درخواست گزار کو گرفتار نہ کرے ،پرویز الہی کو نظر بندی کے قانون کے تحت بھی حراست میں نہ لیا جائے ،عدالت نے نیب کو آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی عدالت نے سماعت 21 ستمبر تک ملتوی کردی

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • پرویز الٰہی کورہا کرنے،کسی بھی کیس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم

    پرویز الٰہی کورہا کرنے،کسی بھی کیس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ میں تحریک انصاف کے صدر، سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی نیب میں گرفتاری کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی،

    عدالتی حکم کے باوجود پرویز الٰہی کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ،جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ آپ کی عزت انہی عدالتوں سے ہے آپ پنگ پانگ کھیل رہے ہیں کئی بار پرویز الٰہی کو ٹرائل کورٹ میں پیش کیا جا چکا ہے حکومت کو چھوڑیں آپ پرویز الٰہی کو پیش کریں حکومت نیب کے ساتھ تعاون نہیں کرتی تونہ کرے پرویز الٰہی کو پیش نہ کیا گیا تو ڈی جی نیب کے وارنٹ گرفتاری جاری کریں گے

    ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہم پرویزالٰہی کوپیش کرنے کیلئے تیار ہیں اگرعدالت تمام ذمہ داری خود لیتی ہے تو ہمیں اعتراض نہیں ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ آپ ہائیکورٹ کو نیچا دیکھانے کی کوشش کررہے ہیں یہ ادارہ آئین کیلئے بنا ہے اور آپ آئین کا مذاق اُڑا رہے ہیں ،عدالت نے ایک گھنٹے میں پرویز الٰہی کو پیش کرنے کا حکم دے دیا

    دوبارہ سماعت ہوئی تو نیب حکام نے پرویز الٰہی کو عدالت میں پیش کر دیا، لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الٰہی کو رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ کسی بھی کیس میں چودھری پرویز الٰہی کو گرفتار نہ کیا جائے،

    لاہور ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ احتساب عدالت کو بتایا تھا کہ انٹرا کورٹ اپیل خارج ہو گئی تھی؟ اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ میرے علم میں نہیں ، جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کی مکمل انکوائری ہو گی میں ابھی پرویز الٰہی کو فوری رہا کرنے کا حکم دے رہا ہوں

    رہائی کے فیصلہ کے بعد پرویز الٰہی کا عدالت میں مختصر میڈیا ٹاک میں بڑا اعلان
    عدالتی فیصلہ کے بعد پرویز الٰہی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ میں پر عزم ہوں اور پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑا ہوں، ن کی قیادت ملک کا بیڑا غرق کر کے لندن بھاگ گئی ہے عوام کو دو وقت کی روٹی بھی نہیں مل رہی جب بھی ن لیگ آئی ہے انہوں نے مہنگائی کی ہے اب تو آئی ایم ایف نے بھی کہہ دیا ہے کہ الیکشن کروائیں اس وقت ملک کی کوئی صورتحال نہیں ہے فوری الیکشن کروائے جائیں

    نیب نے پرویز الہی کے رہائی کے حکم کے بعد دوبارہ گرفتار کرنے سے انکار کر دیا، پولیس اہلکار پرویز الہی کو گرفتار کرنے کیلئے نیب اہلکاروں کی منت سماجت کرتے رہے ،نیب آفیسر نے پولیس افسران اور اہلکاروں کی بات ماننے سے انکار کردیا ،اس دوران پولیس اور نیب اہلکاروں کے مابین ہاتھا پائی ہو گئی،نیب آفیسر نے کہاکہ پولیس کی وجہ سے گالیاں ہم نہیں سن سکتے، نیب آفیسر کے حکم پر تمام افسران اور اہلکار لاہور ہائیکورٹ سے روانہ ہو گئے

    لطیف کھوسہ کی پرویز الٰہی سے ملاقات،گرفتاری کا نیا منصوبہ بھی تیار
    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کے لیے پہنچ گئے ،کمرہ عدالت میں لطیف کھوسہ اور پرویز الہی کی ملاقات ہوئی، دوسری جانب چوہدری پرویز الٰہی کو گرفتارکرنے کا پلان بھی سامنے آ گیا، اینٹی کرپشن کے اعلی حکام عدالت کے باہر موجود ہیں،ڈی آئی جی آپریشن ایس ایس پی آپریشن پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ موجود ہیں، عدالت سے باہر آنے پر چوہدری پرویز الٰہی کو ایک بار پھر گرفتار کیے جانے کا امکان ہے، صحافیوں نے جب حکام اینٹی کرپشن سے بات کی تو انکا کہنا تھا کہ پرویز الہی کو نہیں بلکہ ایک پیشی کیلئے عدالت آئے ہیں،

    https://twitter.com/FazalSamtiah/status/1697524070890230065

    لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الہی کی رہائی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ،جسٹس امجد رفیق نے پرویز الہی کی درخواست پر تحریری حکم جاری کردیا ،عدالت نے پرویز الہی کو نیب اور کسی بھی اتھارٹی کی جانب سے گرفتار کرنے سے روک دیا، تحریری حکمنامہ میں عدالت نے کہا کہ کوئی اتھارٹی ،ایجنسی اور آفس درخواست گزار کو گرفتار نہ کرے ،پرویز الہی کو نظر بندی کے قانون کے تحت بھی حراست میں نہ لیا جائے ،عدالت نے نیب کو آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی عدالت نے سماعت 21 ستمبر تک ملتوی کردی

    پرویز الٰہی نے نیب کے ہاتھوں گرفتاری کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کررکھا ہے ،پرویز الٰہی کی درخواست میں آئی جی پنجاب ، نیب ، ایف آئی اے سمیت دیگر فریق ہیں، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیب نے غیر قانونی طور پر وارنٹ گرفتاری جاری کر کے گرفتاری ڈالی ۔نیب نے انکوائری کو بھی انوسٹی گیشن میں غیرقانونی طور پر اپ گریڈ کیا۔نیب نے کال اپ نوٹس دیا نہ ہی اپنا بیان جمع کرانے کے لیے مہلت دی۔لاہور ہائیکورٹ نیب کی جانب سے کی گئی گرفتاری کالعدم قرار دے۔عدالت پرویز الٰہی کی کسی بھی خفیہ مقدمے میں گرفتاری روکنے کا حکم جاری کرے۔

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • لاہور ہائیکورٹ کا پرویز الٰہی کو 2 بجے پیش کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کا پرویز الٰہی کو 2 بجے پیش کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ میں پرویز الٰہی کی نیب میں گرفتاری کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    وکیل نیب نے کہا کہ ہم تفصیلی جواب جمع کروانا چاہتے ہیں ،جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹھیک ہے پھر پرویز الہی کی رہائی کا آرڈر کردیتے ہیں آپ جواب جمع کرواتے رہیں ،نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ نیب نے قانون کے مطابق پرویز الٰہی کو گرفتار کیا ،جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود ایسا کیا ہوگیا تھا کہ پرویز الٰہی کے وارنٹ جاری کیے گئے ،وکیل نیب نے کہا کہ ہمیں عدالت کا نہ حکم ملا نہ نوٹس ہوا ،یہ کیس نیب کا ہے اس کیس کو ڈویژن بینچ سنے گا ،جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ نہ تو یہ اپیل ہے نہ نیب کیس میں ضمانت کا معاملہ ہے میں نے اللہ کو جواب دینا ہے میری نظر میں ضروری نہیں یہ کیس ڈویژن بینچ سنےآپ یہ بتائیں کیا آپ نے اٹارنی جنرل ، ایڈووکیٹ جنرل یا کسی اور اتھارٹی سے اجازت لیکر پرویز الہٰی کو گرفتار کیا ؟ آپ چاہے 100 کیسز کی پرویز الٰہی کے خلاف انکوائری کریںاگر آپ انکوائری کا کہتے ہیں تو میں سیشن جج کو حکم دے دیتا ہوں میں ساتھ ہی پرویز الٰہی کی رہائی کا ارڈرکردیتا ہوں انکوائری بعد میں ہوتی رہے

    جسٹس امجد رفیق نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ یہ معاملہ پنجاب حکومت سے متعلق نہیں پھر آپکو کیوں مداخلت کررہے ہیں؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب غلام سرور نہنگ نے کہا کہ میں عدالت کے سامنے استدعا کررہا ہوں،عدالت نے کہا کہ آپ کی استدعا سن لی ہے اب پرویز الہی کے وکیل کو بات کرنے دیں

    پرویز الہی کے وکیل عامر سعید نے دلائل کا آغاز کردیا ،پرویز الہی کے وکیل نے چیئرمین پی ٹی آئی کی نیب میں غیر قانونی حراست سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالت میں پیش کردیا پرویز الٰہی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پرویز الٰہی کو عدالت طلب کریں اور نیب وارنٹ غیر قانونی قرار دیں عدالت رہائی کے بعد پرویز الٰہی کو ضمانت دے سکتی ہے ،لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الٰہی کو 2 بجے پیش کرنے کا حکم دے دیا

    نیب لاہورکا پرویز الٰہی کو لاہور ہائیکورٹ میں پیش نہ کرنے کا فیصلہ
    لاہور ہائیکورٹ: نیب لاہور نے پرویز الٰہی کو لاہور ہائیکورٹ میں پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا، نیب نے پرویز الٰہی کی درخواست دو رکنی بینچ کو بھجوانے کے لیے درخواست دائر کر دی ،نیب نے درخواست کی کہ پرویز الٰہی کی درخواست ہو سنگل بنچ سے دو رکنی بینچ کو منتقل کیا جائے ۔سنگل بنچ کے پرویز الٰہی کو پیش کرنے کے احکامات پر عملدرآمد روکا جائے ۔

    پرویز الہی کو کتنے برس جیل میں رکھیں گے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے؟ عدالت
    لاہور ہائیکورٹ: پرویز الہی کی نیب میں گرفتاری کے خلاف دائر درخواست پر دوبارہ سماعت شروع ہوئی،پرویز الہی کو عدالت کے روبرو پیش نہ کیا جا سکا ،جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ نیب کی جانب سے عدالت میں کس نے پیش ہونا ہے ،سرکاری وکیل نے کہا کہ بس نیب کی ٹیم آرہی ہے ،جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ پرویز الہی کہاں پر ہیں ؟ وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ پرویز الہی کو فوری عدالت پیش نہیں کیا جا سکتا ،پرویز الہی ہائی لیول کی شخصیت ہے پرویز الہی کو سکیورٹی ارینج نہیں ہوسکتی ،پرویز الہی کی جان کو خطرہ ہے ،سی ٹی ڈی کی رپورٹ کے مطابق پرویز الہی کی جان کو شدید خطرات ہیں ،پرویز الہی کو عدالت پیش کرنے سے پہلے بہت سے معاملات کو دیکھنا پڑے گا، عدالت نے استفسار کیا کہ یہ کس کی رپورٹ ہے ، آپ سی ٹی ڈی کے اس افسر کو عدالت بلائیں جس نے کہا ہے کہ پرویز الہی کی جان کو خطرات ہیں ، پرویز الہی کو کتنے برس جیل میں رکھیں گے ان خطرات سے نمٹنے کے لیے ،آپ پرویز الہی کو احتساب عدالت میں پیش کرسکتے ہیں مگر یہاں جان کو خطرہ کیسے ہوگیا؟آپ کھل کر بات کریں چاہتے کیا ہیں آپ ، کیا آپکے پاس کوئی آڈر ہے یا کوئی لیٹر ہے کہ یہ ڈبل بینچ ہی سنے گا؟ پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں میں موجود ہے کہ دو رکنی بینچ نیب کے کیسز کی سماعت کر سکتا ہے، سنگل بینچ نیب کے کیسز کی سماعت نہیں کرسکتا ،

    جسٹس امجد رفیق نے نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل وقار نقوی کو ہدایت کی کہ پانی میں مدھانی ناں ماریں، آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ معاملہ نیب کے ڈویژنل بینچ کے پاس جائے گا ،وقار نقوی نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ججمنٹ موجود ہے، جس پرجسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ کیا کوئی نوٹیفکیشن وغیرہ موجود ہے تو یکھائیں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں یہ کیس نا سنو تو چیف جسٹس کو درخواست دیں ،

    پرویز الٰہی نے نیب کے ہاتھوں گرفتاری کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کررکھا ہے ،پرویز الٰہی کی درخواست میں آئی جی پنجاب ، نیب ، ایف آئی اے سمیت دیگر فریق ہیں، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیب نے غیر قانونی طور پر وارنٹ گرفتاری جاری کر کے گرفتاری ڈالی ۔نیب نے انکوائری کو بھی انوسٹی گیشن میں غیرقانونی طور پر اپ گریڈ کیا۔نیب نے کال اپ نوٹس دیا نہ ہی اپنا بیان جمع کرانے کے لیے مہلت دی۔لاہور ہائیکورٹ نیب کی جانب سے کی گئی گرفتاری کالعدم قرار دے۔عدالت پرویز الٰہی کی کسی بھی خفیہ مقدمے میں گرفتاری روکنے کا حکم جاری کرے۔

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • پرویز الہی کی نیب گرفتاری کیخلاف درخواست،نیب پراسکیوٹرفوری طلب

    پرویز الہی کی نیب گرفتاری کیخلاف درخواست،نیب پراسکیوٹرفوری طلب

    لاہور ہائیکورٹ: پرویز الہی کی نیب گرفتاری غیر قانونی قرار دینے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحق ڈار عدالت کے روبرو پیش ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ بتائیے کسی سرکاری وکیل کو کیس مارک کرنے کا کیا پراسس ہے ؟ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ قابلیت کی بنیاد پر کیس مارک کرتے ہیں غلام سرور نہنگ اسی نوعیت متعدد کیسز پہلے میں بھی پیش ہوچکے ہیں یہی وجہ ہے کہ انہیں دوبارہ کیس دیا گیا ،جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ درست طریقہ نہیں ہے آپ کو تحریری طور کیس مارک کرنا چاہیے ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ہم اس معاملے کو مزید بہتر کرلیتے ہیں ،عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو پرویز الہی کیس میں دلائل دینے کی اجازت دے دی

    عدالت نے نیب پراسکیوٹر کو فوری طلب کرلیا ، جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یکے بعد دیگر گرفتاریاں کسی ڈراما سے کم نہیں ہے ،سرکاری وکیل نے کہا کہ عدالت کا جو حکم تھا اس پر ہم نے عملدرآمد کرلیا گیا ،عدالتی حکم تھا کہ اینٹی کرپشن ،ایف آئی اے ،پولیس پرویز الہی کو گرفتار نہ کرے،جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے نظر بندی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا اور دو نئی ایف آئی ار بھی سامنے آ گئیں ،اگر دو ایف آئی ار تھیں تو پھر عدالت کے سامنے کیوں نہیں رکھی گئی ،سرکاری وکیل نے کہا کہ اگر نیب کو حکم جاری ہوتا تو وہ گرفتاری نہ کرتا ، جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر آپ نے اسٹاک ایکسچینج ،اسٹیٹ بینک ، ایف بی آر سے کارروائی دینی تھی ؟نیب کو بلا لیتے ہیں اور پوچھ لیتے ہیں پنجاب حکومت کے وکیل بیٹھ جائیں یہ آپکا معاملہ نہیں ہے، عدالت نے سماعت کچھ دیر تک ملتوی کردی

    پرویز الٰہی نے نیب کے ہاتھوں گرفتاری کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کررکھا ہے ،پرویز الٰہی کی درخواست میں آئی جی پنجاب ، نیب ، ایف آئی اے سمیت دیگر فریق ہیں، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیب نے غیر قانونی طور پر وارنٹ گرفتاری جاری کر کے گرفتاری ڈالی ۔نیب نے انکوائری کو بھی انوسٹی گیشن میں غیرقانونی طور پر اپ گریڈ کیا۔نیب نے کال اپ نوٹس دیا نہ ہی اپنا بیان جمع کرانے کے لیے مہلت دی۔لاہور ہائیکورٹ نیب کی جانب سے کی گئی گرفتاری کالعدم قرار دے۔عدالت پرویز الٰہی کی کسی بھی خفیہ مقدمے میں گرفتاری روکنے کا حکم جاری کرے۔

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • پرویز الہی کی رہائی ،پنجاب حکومت کی اپیل خارج کرنے کا فیصلہ جاری

    پرویز الہی کی رہائی ،پنجاب حکومت کی اپیل خارج کرنے کا فیصلہ جاری

    لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالہٰی کی رہائی کے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل خارج کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا-

    باغی ٹی وی : لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد وحید خان اور جسٹس سلطان تنویر نے پنجاب حکومت کی اپیل خارج کرنے کا 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، فیصلے میں کہا گیا کہ سنگل بینچ کی جانب سے پرویز الہٰی کو دیا گیا ریلیف قانون کے اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے، سنگل بینچ کا فیصلہ انہی اصولوں پر ہے جو سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ نے دیئے ہیں۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ ایڈووکیٹ جنرل خالد اسحاق نے کہا کہ سنگل بینچ نے فیصلے میں مانگی گئی استدعا سے بھی تجاوز کیا، سنگل بینچ نے درخواست میں کی گئی استدعا کے مطابق ہی ریلیف دیا ایڈووکیٹ جنرل کا یہ اعتراض درست نہیں، سنگل بینچ کے فیصلے میں مداخلت کی ضرورت نہیں اس لیے اپیل خارج کی جاتی ہے۔

    سعودی تحائف فروخت کرنے پربرازیل کے سابق صدر کی گرفتاری کا امکان

    واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے 21 اگست کو حکومت کی اپیل خارج کرنے کا فیصلہ سنایا تھا دوسری جانب لاہور کی مقامی عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کے پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کے تقرر تبادلوں میں رشوت اور ترقیاتی منصو بو ں میں مبینہ کرپشن کیس میں جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روزکی توسیع کردی،عدالت نے ہدایت کی کہ ملزم کو دوبارہ 9 ستمبر کو پیش کیا جا ئے-

    چینی حکومت کا عوام کوبچے پیدا کرنے پراُکسانےکا نیا طریقہ