Baaghi TV

Tag: پشاور ہائیکورٹ

  • کمرہ عدالت میں خاتون جج کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال،وکیل کو قید اور جرمانہ

    کمرہ عدالت میں خاتون جج کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال،وکیل کو قید اور جرمانہ

    پشاور ہائیکورٹ نے سوات کورٹ روم میں خاتون جج کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے والے وکیل کو 6ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کر دیا۔

    عدالت کے مختصر فیصلے میں کہا گیا کہ سوات کے وکیل اسد اللہ کے خلاف شکایات رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ کو وصول ہوئی، شکایت خاتون سول جج فوزیہ نسیم نے کی،پشاور ہائیکورٹ نے شکایت توہین عدالت درخواست میں تبدیل کر دی، عدالت نے توہین عدالت کارروائی شروع کرتے ہوئے وکیل کو نوٹس جاری کیا اور کارروائی کے دوران وکیل پر الزامات ثابت ہوئے تو ہائیکورٹ نے توہین عدالت آرڈنینس 2004 کے تحت وکیل کو 6 ماہ قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کر دیا۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ:بھارتی شہری نے شائننگ انڈیا کے دعووں کا پول کھول دیا، ویڈیو وائرل

    بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ کیس: آئندہ سماعت پر فریقین سے حتمی دلائل طلب

    سپریم کورٹ: جائیداد کی ملکیت اور تقسیم سے متعلق کیس کا تحریری فیصٌلہ جاری

  • پی ٹی آئی احتجاج کے باعث راستوں کی بندش کے کیس کا تحریری فیصلہ جاری

    پی ٹی آئی احتجاج کے باعث راستوں کی بندش کے کیس کا تحریری فیصلہ جاری

    پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے احتجاج کے باعث راستوں کی بندش کے خلاف دائر مقدمے پر 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ صوبے کے ہائی ویز اور مختلف اہم راستے بند ہونے کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا عدالت نے اس معاملے پر چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا کو طلب کیا، جو کچھ دیر بعد عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے افسران سے پوچھا کہ راستوں کی بندش پر کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں، تاہم ان کے جواب سے عدالت مطمئن نہیں ہوئی اور صوبائی حکومت اور آئی جی پولیس کے رویے پر گہرا افسوس ظاہر کیا۔

    عدالت نے انسپکٹر جنرل آف پولیس کو واضح ہدایت کی کہ تمام رکاوٹیں فوری طور پر ہٹائی جائیں اور کسی کو بھی راستے بند کرنے کی اجازت نہ دی جائے،سی سی پی او پشاور، مردان، ہزارہ ڈویژن، ڈی آئی خان، بنوں اور کوہاٹ سےرپورٹیں طلب کی گئیں، جن میں پولیس نےراستے کھلنے کی تصدیق کی جبکہ وکلا نے بھی اس کی تصدیق کی۔

    شادی کے بعد عورت بدل جاتی ہے، گوہر رشید کا کبریٰ خان سے متعلق دلچسپ بیان

    عدالت نے ریجنل پولیس افیسرز اور ڈی پی اوز کو سختی سے ہدایت کی کہ آئندہ کسی بھی قسم کی راستے بندش کی اجازت نہ دی جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عدالتی احکامات کی تعمیل پر ہی ان درخواستوں کو نمٹایا جاتا ہے۔

    کراچی میں اس وقت متعدد میگا پروجیکٹس جاری ہیں،شرجیل میمن

  • پشاور ہائیکورٹ کے حکم پرموٹروے ٹریفک کے لیے کھول دی گئی

    پشاور ہائیکورٹ کے حکم پرموٹروے ٹریفک کے لیے کھول دی گئی

    6 روز بعد موٹروے پر ٹریفک بحال ہو گئی جب پشاور ہائیکورٹ کے احکامات کے بعد پولیس نے پشاور اسلام آباد موٹروے (ایم ون) کو ٹریفک کے لیے کھول دیا-

    صوابی پولیس کی ایک ٹیم صوابی انبار انٹرچینج پہنچی اور مظاہرین کو ہائیکورٹ کے حکم سے آگاہ کیا پولیس حکام کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز نے ایم ون موٹروے پر صوابی کے مقام پر دھرنا دے کر موٹروے بند کر رکھی تھی،جس وقت پولیس ٹیم پہنچی، اس وقت ورکرز کی تعداد انتہائی کم تھی، اور پولیس نے ورکرز کو ہٹا کر موٹروے کھول دی، جس کے بعد 6 روز بعد ٹریفک کی روانی بحال ہوگئی۔

    پولیس کے مطابق موٹروے کھولنے کی کارروائی کے دوران پی ٹی آئی ورکرز نے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی اور پرامن رہے جبکہ پولیس نے موٹروے پر رکھی گئی تمام رکاوٹیں ہٹا کر ٹریفک کو بحال کردیا مظاہرین اس وقت بھی موٹروے کے صوابی ریسٹ ایریا پر موجود ہیں، تاہم ان کی تعداد کم ہے اس وقت موٹروے مکمل طور پر ٹریفک کے لیے بحال ہے اور پولیس ٹیم نگرانی کر رہی ہے۔

    لاہور: فاطمہ جناح میڈیکل کالج کی طالبہ نے چھت سے کود کر خودکشی کرلی

    گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ میں روڈ بندش کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے پولیس اور صوبائی حکومت پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیےکہ حکومت روڈ کھولنے کے حوالے سے کیا اقدامات کر رہی ہے سماعت کے دوران چیف سیکریٹری اور آئی جی عدالت میں پیش ہوئے، اور ہائیکورٹ نے کارروائی کرنے اور روڈ کھولنے کا حکم دیا-

    وفاقی و صوبائی حکومتیں عوام کو کا رمضان میں کیا ریلیف پیکج دے رہی ہیں؟

    واضح رہے کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے اپوزیشن اتحاد نے احتجاج کے اعلان کے بعد پی ٹی آئی خیبر پختونخوا نے جمعے سے صوبے کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر دھرنے دے رکھے ہیں پی ٹی آئی کے مطابق اس وقت بھی دھرنا جاری ہےڈی آئی خان سے کوہستان تک دھرنے ہو رہے ہیں، جبکہ احتجاج ختم کرنے کے حوالے سے پارٹی کی جانب سے کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی۔

    سدھارتھ ملہوترا کے والدانتقال کر گئے

  • پشاور ہائیکورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز کی مستقلی، 4 ججز کی 6 ماہ توسیع کی منظوری

    پشاور ہائیکورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز کی مستقلی، 4 ججز کی 6 ماہ توسیع کی منظوری

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں پشاور ہائیکورٹ کے 6 ایڈیشنل ججز کی مستقلی، 4 ججز کی توسیع کی منظوری دی گئی-

    چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پشاور ہائیکورٹ کے 10 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کے معاملے پر غور کیا گیا کمیشن نے 10 میں سے 6 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ 4 ججز کو 6 ماہ کی توسیع دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبدالفیاض، جسٹس صبعت اللہ، جسٹس صلاح الدین، جسٹس صادق علی اور جسٹس مدثر امیر کی مستقلی پر غور کیا گیا اور ان میں سے 6 ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دی گئی،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد طارق آفریدی، جسٹس عبدالفیاض، جسٹس صلا ح الدین، جسٹس صادق علی، جسٹس مدثر امیر اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ کی مستقلی کی منظوری دی گئی۔

    گلشنِ معمار میں 17 سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی،، ملزم گرفتار

    اسی طرح جسٹس فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ، جسٹس اورنگزیب اور جسٹس قاضی جواد احسان اللہ کے کیسز پر بھی غور ہوا، جن میں سے جسٹس فرح جمشید، جسٹس انعام اللہ اور جسٹس اورنگزیب کو 6 ماہ کی توسیع دینے کی منظوری دی گئی ہے۔

    آئی سی سی کی ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹس کی نئی رینکنگ جاری

  • پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے،پشاور ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ

    پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے،پشاور ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ

    پشاور ہائیکورٹ نے کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فاریکس کی غیر قانونی ٹریڈنگ کے خلاف دائر درخواست کو خارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا-

    پشاورہائیکورٹ کے جسٹس کامران حیات میاں خیل نے کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فاریکس کی غیر قانونی ٹریڈنگ کے خلاف دائر درخوا ست پر سماعت کرنے کے بعد تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

    فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ حکومت نے ورچوئل ایسٹس آرڈیننس 2025 متعارف کرایا ہے، آرڈیننس کے تحت لائسینسنگ اور ریگولیشن کے لئے لیگل فریم ورک تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے معاملات کو ریگولیٹ کیا گیا اور اس کے بعد یہ درخواست اب غیر موثر ہوگئی ہےْ

    پنجاب پولیس کے ریٹائر ہونے والے افسران کی فہرست جاری

    فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ درخواست غیر موثر ہونے پر خارج کیا جاتا ہے جسٹس کامران حیات نے فیصلے میں لکھا کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں، اسٹیٹ بینک کے مراسلوں اور سرکلرز کے ذریعے مالی اداروں اور لوگوں کو صرف آگاہ کیا گیا ہے کہ اس قسم کی کرنسی کاروبار میں احتیاط کریں۔

    پشاور ہائیکورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ اسٹیٹ بینک کے مراسلوں میں یہ ذکر نہیں ہے کہ کرپٹو کرنسی کا کاروبار جرم ہے، یا اس کے لئے کوئی سزا ہے، کرپٹو اور ڈیجیٹل فاریکس ٹریڈنگ کی ریگولیشن کا معاملہ پالیسی اور قانون سازی کا ہے اور یہ عدالتی اختیار میں نہیں آتا۔

    سہیل آفریدی کا دورۂ پنجاب ، ناروا سلوک کے شکووں پر خواجہ آصف کا ردعمل

    ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں لکھا کہ قانون سازی اور پابندی کا اختیار انتظامیہ اور مقننہ کے پاس ہےدرخواست گزار کے مطابق منی کرپٹو ٹریڈنگ سے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے خدشات ہے، حکومت کی جانب سے ورچول ایسٹس آرڈیننس 2025 کے تحت ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرا گیا ہے، کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل فارکس کے لئے پالسی 2025 آئی ہے، اس سٹیج پر یہ درخواستیں غیر موثر ہوگئی ہے۔

  • پشاور ہائیکورٹ کا ڈینگی روک تھام اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار، محکمہ صحت سے تفصیلی رپورٹ طلب

    پشاور ہائیکورٹ کا ڈینگی روک تھام اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار، محکمہ صحت سے تفصیلی رپورٹ طلب

    پشاور ہائیکورٹ نے صوبے میں ڈینگی کی روک تھام کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ صحت سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

    ڈینگی کنٹرول سے متعلق درخواست کی سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کی عدالت میں پیش ہونے والے ڈی جی ہیلتھ نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈینگی روک تھام صرف محکمہ صحت کی نہیں بلکہ تمام محکموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے ہر سال جنوری میں ڈینگی کنٹرول پلان تیار کیا جاتا ہے جبکہ اس مہم میں مجموعی طور پر 19 محکمے شامل ہوتے ہیں۔

    ڈی جی ہیلتھ نے عدالت کو بتایا کہ ڈینگی کی روک تھام کے لیے ڈی پی او کو اب تک اس پلان میں شامل نہیں کیا گیا تھا، تاہم اس بار اس پہلو پر بھی کام کیا جائے گا۔

    ڈکی بھائی کے دوران حراست تشدد ،گالیوں اور رقم کے مطالبے کے سنگین الزامات

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو مکمل رپورٹ دی جائے کہ کن عوامل کے باعث مشکلات درپیش ہیں اور ان کا حل کس طرح ممکن ہے ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کو علاج کی سہولیات مفت فراہم کی گئیں یا ان سے پیسے لیے گئے؟ عدالت نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے تفصیلی اعداد و شمار بھی رپورٹ کا حصہ بنائے جائیں۔

    سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ 2022 میں ڈینگی کے کیسز غیر معمولی حد تک بڑھ گئے تھے تاہم حکومتی اقدامات کے باعث صورتحال پر بہتر طور پر قابو پایا گیا،جس کے بعد عدالت نے محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ فریقین سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

    بجلی بحالی میں ناکامی : نیشنل گرڈ کمپنی اور سی پی پی اے پر جرمانہ عائد

  • پشاور ہائیکورٹ کا سرکاری ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے پر مزید کارروائی روکنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ کا سرکاری ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے پر مزید کارروائی روکنے کا حکم

    پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی محکمہ صحت کو سرکاری ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کرنے پر مزید کارروائی سے روک دیا اور اس حوالے سے جواب طلب کر لیا۔ کیس کی سماعت جسٹس اعجاز انور کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔

    سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ تحصیل تخت بھائی ہسپتال کو آؤٹ سورس کیا جا رہا ہے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اپنایا کہ سیکریٹری ہیلتھ ملک سے باہر ہیں جبکہ کابینہ اجلاس کے باعث دیگر افسران مصروف ہیں۔ اس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ عدالت صرف یہ جاننا چاہتی ہے کہ ہسپتالوں کو آؤٹ سورس کیوں کیا جا رہا ہے۔

    وکیل ہیلتھ فاؤنڈیشن نے وضاحت دی کہ آؤٹ سورسنگ میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی جا رہی بلکہ اسے بہتری کے لیے اپنایا جا رہا ہے۔ جس پر جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ اگر سیکریٹری اور ڈی جی ہیلتھ سخت ڈسپلن قائم کریں تو نظام بہتر ہو سکتا ہے، لیکن صورت حال یہ ہے کہ جمعہ یا ہفتہ کو ہسپتالوں میں سینئر ڈاکٹرز نظر نہیں آتے۔

    جسٹس اعجاز انور نے مزید کہا کہ آؤٹ سورس کا مطلب کیا ہے؟ کیا ہسپتال ٹھیکیدار کو دیے جائیں گے؟ وکیل ہیلتھ فاؤنڈیشن نے جواب دیا کہ دنیا بھر میں یہی ماڈل اپنایا جا رہا ہے۔عدالت نے محکمہ صحت کو ہسپتالوں کی آؤٹ سورسنگ پر مزید کارروائی سے روکتے ہوئے جواب جمع کرانے کا حکم دیا اور کیس کی سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

    یوٹیوبر ڈکی بھائی کی ضمانت کی درخواست پھر مسترد

    نیشنل پریس کلب پر پولیس حملے کے خلاف جمعہ کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان

    پنجاب میں بارشوں کا الرٹ، بالائی علاقوں میں ندی نالوں کے بھرنے کا خدشہ

    اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیاں، غزہ میں مزید 53 فلسطینی شہید

  • پشاور ہائیکورٹ کی ہدایت پر منشیات کے مقدمات احتساب عدالتوں کو منتقل

    پشاور ہائیکورٹ کی ہدایت پر منشیات کے مقدمات احتساب عدالتوں کو منتقل

    پشاور ہائیکورٹ نے منشیات کے مقدمات احتساب عدالتوں کو منتقل کردیے۔

    ذرائع کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کے احکامات پر 300 مقدمات تین احتساب عدالتوں کو منتقل کیے گئے ہیں ہر عدالت کو سو سو کیسز دیے گئے ہیں، احتساب عدالتوں کو منشیات مقدمات کی سماعت کے خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں یہ اقدام زیر التواء کیسز کا بوجھ کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

    قبل،ازیں،سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کی 8 انسداد دہشت گردی کی عدالتیں انسداد منشیات کی عدالتوں میں تبدیل کردیں تھیں، ملزم ارمغان کا ریمانڈ نہ دینے والے اے ٹی سی کورٹ نمبر ایک کے جج ذاکر حسین کو انسداد منشیات کورٹ کا جج مقرر کردیا گیا، کراچی کی 6 انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں کافی عرصے سے خالی تھیں جس میں سے 5 انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو انسداد منشیات میں تبدیل کردیا گیا-

    پرتگال بھی فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے پر تیار، برازیل کابھی،اسرائیل کے خلاف بڑا اقدام

    کراچی کی 3 انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو شہید بے نظیر آباد، میرپورخاص اور لاڑکانہ منتقل جبکہ حیدرآباد اور سکھر میں موجود خصوصی عدالتوں کو منشیات کی عدالتوں میں تبدیل کیا گیا ہے، رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ نے سیکریٹری داخلہ کو خط لکھ دیا، سندھ ہائی کورٹ نے انسداد دہشت گردی کراچی کی 12 خصوصی عدالتوں کو ازسرنو منظم کردیا، قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے وقتی طور پر انسداد دہشتگردی عدالتیں منظم کرنے اور منشیات کی عدالتوں میں تبدیل کرنے کی اجازت دیدی ہے، حتمی نوٹی فکیشن محکمہ داخلہ جاری کریگا۔

    امید ہے سعودی عرب باہمی مفادات اور حساسیت کو مدنظر رکھے گا، بھارت

  • پشاور ہائیکورٹ:  علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری معطل

    پشاور ہائیکورٹ: علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری معطل

    پشاور ہائیکورٹ نے سینیئر سول جج اسلام اباد کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری معطل کردیئے-

    کیس کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی،درخواست گزار کے وکیل بشیر خان وزیر نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلی کی پی علی امین گنڈا پور نے پشاور ہائیکورٹ سے متعدد کیسوں میں حفاظتی ضمانت حاصل کی ہے تاہم ایک کیس میں سینیئر سول جج اسلام آباد نے وارنٹ گرفتاری جاری کی ہے اور 19 جولائی کو وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے درخواست گزار کو گرفتار کرکے 21 جولائی کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

    وکیل نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کو اس ضمن میں کوئی حکم نہیں ملا چونکہ وہ وزیراعلیٰ ہیں اور پشاور ہائیکورٹ نے متعدد کیسز میں انہیں حفاظتی ضمانت دی ہے اور وہ ان کیسز میں پیش بھی ہو رہے ہیں تاہم سینیئر سول جج اسلام آباد کی جانب سے مذکورہ وارنٹ سے متعلق انہیں علم نہیں تھا اور نہ ہی انہیں پیشی کی تاریخ معلوم تھی اس لیے وہ عدالت نہیں جا سکے مگر وہ اب متعلقہ عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں۔

    بشیر وزیر ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ جس تاریخ کو ہمیں عدالتی حکم ملا وہ تاریخی پیشی پہلے گزر چکی تھی اس لیے وزیرعلیٰ پیش نہ ہو سکے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اس صوبے کے چیف ایگزیکٹیو ہیں اور موجودہ صورت حال میں وہاں پر پیشی ممکن نہ تھی اس لیے اب وہ پیش ہونا چاہتے ہیں،انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت سینیئر سول جج اسلام آباد کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری کے احکامات کو معطل کر دیں۔

    عدالت نے سینیئر سول جج اسلام آباد کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری کے احکامات جاری کرنے کے احکامات معطل کرتے ہوئے اداروں کو اس کی گرفتاری سے روک دیا اور درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ عدالت میں پیش ہوں۔

  • اثاثہ جات کیس:پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو  عمر ایوب کےخلاف کارروائی سے روک دیا

    اثاثہ جات کیس:پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو عمر ایوب کےخلاف کارروائی سے روک دیا

    پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کی جانب سے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو اثاثہ جات ظاہر نہ کرنے کا نوٹس بھیجنے کے کیس میں الیکشن کمیشن کو کارروائی سے روک دیا۔

    پشاور ہائی کورٹ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کو اثاثہ جات ظاہر نہ کرنے کا نوٹس بھیجنے کے کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس اعجاز انور اور جسٹس خورشید اقبال نے سماعت کی،درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے اثاثے ظاہر نہ کرنے کے خلاف نوٹس بھیجا ہے، اثاثوں سے متعلق 120 دن کے اندر جواب دینا لازمی ہوتا ہے جو ہم نے جمع کرا دیا،الیکشن کمیشن پھر بھی مطمئن نہیں ہوا، اثاثہ جات جمع کرنے کے 120 دن گزر جانے کے بعد الیکشن کمیشن کسی کو اثاثوں سے متعلق شکایات ہونے کی صورت میں نوٹس جاری نہیں کرسکتا ہے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس طرح کا کیس ایبٹ آباد میں بھی زیر سماعت ہے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ وہ کیس مکمل طور پر اس سے مختلف ہے،عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس کیس کو وہاں بھیج دیں یا پھر اس کیس کو یہاں منگوا لیں۔

    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جو عدالت مناسب سمجھے، آپ سے درخواست ہے کہ اس کیس کو ختم کریں، اس کیس کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے، ہم نے الیکشن کمیشن کے پاس 31 دسمبر 2024 کو اثاثوں کی رپورٹ جمع کرائی ہے،عدالت نے الیکشن کمیشن کو کارروائی سے روکتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

    واضح،رہے کہ 15 جولائی کو الیکشن کمیشن نے عمر ایوب کے اثاثوں سے متعلق کیس کی سماعت میں نوٹس واپس لینے کی استدعا کو مسترد کر دیا تھا،عمر ایوب پر 24-2023ء کے گوشواروں اور ریٹرننگ افسر کو جمع کرائی گئی تفصیلات میں تضاد کا الزام ہے۔