Baaghi TV

Tag: پشاور ہائیکورٹ

  • علی امین گنڈاپور کی 24 مقدمات میں ضمانت منظور

    علی امین گنڈاپور کی 24 مقدمات میں ضمانت منظور

    پشاور : نامزد وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی 24 مقدمات میں ضمانت منظور کرلی گئی۔

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی رہنما اور نو منتخب رکن خیبرپختونخوا اسمبلی علی امین گنڈا پور پشاور ہائیکورٹ ڈی آئی خان بینچ میں پیش ہوئےعدالت نے علی امین گنڈاپور کی 24 مقدمات میں ضمانت منظور کرلی، وکیل علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ اب تک تمام مقدمات میں ضمانت حاصل کرلی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے سابق صوبائی وزیر علی امین گنڈا پور کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد کیا ہے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے علی امین گنڈا پور کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لیے نامزد کیے جانے کی تصدیق کی گئی-

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کرنے کی تیاری

    این اے 119 کے ضمنی الیکشن پر سعد رفیق کو ٹکٹ ملنے کا امکان

    انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں معمولی کمی

  • عاطف خان اور شہرام ترکئی کی حفاظتی ضمانت منظور

    عاطف خان اور شہرام ترکئی کی حفاظتی ضمانت منظور

    پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے رہنما عاطف خان اور شہرام ترکئی کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی : پشاور ہائیکورٹ میں عاطف خان اور شہرام ترکئی کی حفاظتی ضمانت کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد نے سماعت کی، پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کی جانب سے محمد ریاض ایڈووکیٹ جبکہ شہرام ترکئی کی جانب سے عمران خان عدالت میں پیش ہوئے۔

    وکیل درخواست گزار نے کہاکہ عاطف خان اور شہرام ترکئی کے خلاف مقدمات کی تفصیل فراہم کی جائے،وکلاء نے استدعا کی کہ دونوں رہنماؤں کی حفاظتی ضمانت بھی منظور کی جائے، جس پر پشاور ہائیکورٹ نے ملزمان کی 19فروری تک حفاظتی ضمانت منظور کرلی۔

    پیپلز پارٹی کی سی ای سی کا بلوچستان میں حکومت بنانے کا فیصلہ

    علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نامزد

    پی ایس ایل 9 کیلئے ٹرافی کی رونمائی کردی گئی

  • ایمل ولی خان نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے معذرت کر لی

    ایمل ولی خان نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے معذرت کر لی

    پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے توہین عدالت کیس میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ابراہیم خان سے معذرت کرلی۔

    باغی ٹی وی : ایک بیان میں ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ میرے بیان سے چیف جسٹس ابراہیم خان کی دل آزاری ہوئی ہے تو معذرت خواہ ہوں، عدالت کے اندر واقعے پر بھی معذرت خواہ ہوں، اے این پی چار نسلوں سے عدم تشدد کے فلسفے پر یقین رکھتی ہے، ساتھ ہی ایمل ولی خان نے پارٹی کارکنان کو ہدایت کی ہے کہ اے این پی کارکن جمہوریت کو جمہوریت رہنے دیں۔

    واضح رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کےکارکنان توہین عدالت کے درخواست گزار پی ٹی آئی رہنما اور سابق رکنِ قومی اسمبلی فضل محمد خان کے ساتھ لڑ پڑے تھے،ے این پی کارکنان نے پشاور ہائیکورٹ کے احاطے میں فضل محمد کو تشدد کا نشانہ بنایا تاہم پولیس نے مداخلت کر کے فضل محمد خان کو بچالیا۔

    الیکشن کمیشن نے بی اے پی کا گائے کا نشان بحال کردیا

    ایران نے خلیج عمان میں امریکی تیل بردار جہاز کو تحویل میں لےلیا

    ن لیگ اور آئی پی پی میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق

  • گلہ مرد نہیں کرتے عورتیں کرتی ہیں،پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا ایمل ولی سے مکالمہ

    گلہ مرد نہیں کرتے عورتیں کرتی ہیں،پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کا ایمل ولی سے مکالمہ

    پشاور ہائیکورٹ میں اے این پی رہنما ایمل ولی خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت اے این پی کارکنان کی جانب سے عدالت میں ہنگامہ آرائی کی گئی جس پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ابراہیم خان نے غیر ضروری افراد کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کا حکم دیا،سماعت کے دورا ن چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اور اے این پی رہنما ایمل ولی خان کے مابین دلچسپ مکالمہ بھی ہوا،

    جسٹس ابراہیم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کی کردار کشی کی گئی ہے، ایمل ولی کون ہے، کیا وہ عدالت حاضر ہوا ہے؟چیف جسٹس ابراہیم خان نے سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو سکرین پر چلانے کی ہدایت کی،ویڈیو عدالت میں چلائی گئی، ویڈیو دیکھنے کے بعد پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ابراہیم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "میں اپنی ذات کی فکر نہیں کرتا، اگر یہ پٹھان ہے تو میں بھی پٹھان ہوں، یہ عدالت کے تقدس کا معاملہ ہے، میں انہیں کچھ نہیں کہتا میرا چھوٹا بھائی ہے، لیکن یہ ابراہیم خان کا مسئلہ نہیں عدالت کا مسئلہ ہے”

    وکیل درخواستگزار نے عدالت میں کہا کہ جو ماحول بنا ہے چیف جسٹس کو ہیرو بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، چیف جسٹس ابراہیم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 15 اپریل کو میں ریٹائر ہونے جارہا ہوں، کسی پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کررہا،پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ابراہیم خان نے ایمل ولی کو سامنے آنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جس وقت میں جج تھا آپ اس وقت بھی چھوٹے تھے،ایمل ولی خان نے عدالت میں کہا کہ "میں معافی چاہتا ہوں ، لیکن یہ بات زدعام ہے، میں نے صرف گلہ کیا ہے” ایمل ولی خا ن کے بیان پر چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ابراہیم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "گلہ مرد نہیں کرتے عورتیں کرتی ہیں” جو غلط فہمی ہے وہ ختم کرنا چاہتا ہوں، 31 سال سے روزے میں ہوں کبھی کسی سے پانی نہیں پیا،دو مرتبہ ایمل ولی کی رٹ لگی ہے ان کے وکیل نے سماعت ملتوی کی ہے،ایمل ولی نے عدالت میں کہا کہ آپ میرا میڈیا ٹرائل کررہے ہیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ عامر خان نے کہا کہ میں اس کیس کو لارجر بینچ کو بھیجتا ہوں، میں نے آپ کے کزن کے کیس میں میرٹ پر فیصلہ کیا ہے،جس پر ایمل ولی خان نے عدالت میں کہا کہ "ہم آپ سے خوش ہیں آپ کے ہر فیصلے کا احترام کرتے ہیں، باچا خان اور ولی خان پر غداری کیس تھے وہ بھی نکال لیں” چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ ابراہیم خان نے کہا کہ اگر آپ ایڈونس ووٹ لینا چاہتے ہیں وہ بھی آپ کو دے دوں گا، ایمل ولی خان نے عدالت میں کہا کہ میں نے عدالت کی توہین نہیں کی ہے، میں نے گلہ کیا ہے

    چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ کو برخوردار کہا ہے، اپنے وکلاء سے پوچھ لیں یہ انسداد دہشت گردی کا کیس ہے، آپ کے ذہین میں بالکل نہ آئے کہ جانبداری کررہے ہیں، آپ نے جو اسٹیٹمنٹ عدالت میں دیا ہے،باہر اس کی تردید کردیں، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے رٹ نمٹادی.

     پشاور ہائیکورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو ایک بار پھر بلے کا نشان واپس کردیا

    پشاور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کو ایک بار پھر بلے کا نشان واپس کردیا

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے اور انتخابی نشان واپسی کیخلاف کیس،پشاور ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت ہوئی

    پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق 22 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، بلے کا نشان بحال ہو گیا،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور سید ارشد علی نے فیصلہ سنا دیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو بلے کے نشان پر انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست منظور کر لی

    جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی نے سماعت کی، کیس میں فریق جہانگیر کے وکیل نوید اختر ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور کہا کہ آج سپریم کورٹ میں بھی کیس لگا ہے، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ یہ بات کل ختم ہوچکی ہے، انہوں نے بتایا وہ وہاں کیس نہیں کررہے، اگر کل یہ نہ بتایا ہوتا تو ہم پھر پرسوں کی تاریخ دیتے، بیرسٹر ظفر نے سپریم کورٹ میں کیس پرسو نہ کرنے کی یقین دہانی کرادی،

    قاضی جواد ایڈوکیٹ نے کہا کہ میرے موکل پی ٹی آئی کے سابقہ ضلعی جنرل سیکرٹری رہے ہیں،میرے موکل کو میڈیا سے پتہ چلا کہ انٹرا پارٹی انتخابات ہورہے ہیں،وہ الیکشن میں حصہ لینا چاہتے تھے لیکن ان کو موقع نہیں دیا گیا،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ نے یہ نہیں کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن دوبارہ کرائے جائے، الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دیا تو آپ کو چاہیئے تھا کہ دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرتے،آپ اگر پارٹی سے تھے تو پارٹی نشان واپس لینے پر آپ کو اعتراض کرنا چاہیئے تھا آپ نے نہیں کیا،قاضی جواد نے کہا کہ ہمیں تو انتخابات میں موقع نہیں دیا گیا اس کے خلاف الیکشن کمیشن گئے،انٹرا پارٹی انتخابات پورے ملک کے لیے ہے، ہائیکورٹ صرف صوبے کو دیکھ سکتا ہے، جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ کیا ہر صوبے میں الگ الگ کیس کرنا چاہئے تھا انکو۔?انٹرا پارٹی الیکشن پشاور میں ہوا تو یہاں پر کیسے کیس نہیں کرسکتے۔ جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ جو الیکشن ہوئے اس میں تمام ممبران الیکٹ ہوئے یا صرف صوبے کی حد تک,قاضی جواد ایڈوکیٹ نے کہا کہ پورے ملک کے نمائندے منتخب ہوئے۔

    جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اچھا آپ یہ بتائیں آپکی پارٹی ہے تو کیا انکو انتخابی نشان ملنا چایئے،قاضی جواد نے کہا کہ میں رولز کی بات کرتا ہوں جو قانون ہے وہی ہونا چاہئے،جسٹس ارشد علی نے کہا کہ نہیں ویسے آپ کیا چاہتے ہیں ان کیخلاف انتخابی نشان واپسی کی کارروائی ٹھیک ہے،قاضی جواد ایڈوکیٹ نے کہا کہ میں تو قانون کی بالادستی کی بات کرتا ہوں قانون کے مطابق کارروائی کو سپورٹ کرتا ہوں،ماضی میں ایک پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہوئی اور ایک ہی انتخابی پر مسئلہ کھڑا ہوا،الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان پر مسئلہ حل کیا کیونکہ اس کا اختیار حاصل تھا،میں چاہتا ہوں کہ دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات ہوں اور اس میں حصہ لوں ،مختلف ادوار میں پارٹیز کو ختم کیا گیا تو نئی بن گئی،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ دیکھ لیں وہ مارشل لا کا وقت تھا،

    کیس میں فریق کوہاٹ کے شاہ فہد کے دوسرے وکیل احمد فاروق بھی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ یہ پارٹی جیسے ہی بنی وہیں سے لاڈلہ پن شروع ہوا، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ قانونی بات کریں، یہاں پر کبھی ایک اور کبھی دوسرا لاڈلہ بن جاتا ہے،احمد فاروق ایڈوکیٹ نے کہا کہ اپنے کارکنوں کو لیول پلینگ فیلڈ نہیں دیا ، انٹرا پارٹی انتخابات کا اچانک بلبلا اٹھا اور اعلان کیا گیا کہ کابینہ بن گئی، جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ وہی بلبلا ابھی پھٹا ہے، جسٹس اعجاز انور کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، احمد فاروق ایڈوکیٹ نے کہا کہ انتخابات آئین کے مطابق نہیں کرائے گئے،الیکشن کمیشن فیصلہ کے خلاف بھی سول کورٹ جانا چاہیئے تھا،

    وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی،پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی سماعت کر رہے ہیں، پشاور ہائیکورٹ نے تحرہک انصاف انٹرا پارٹی انتخابات کے شواہد دیکھنے سے انکار کر دیا، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ ہم نے انٹرا پارٹی الیکشن پر بات کی اجازت نہیں دے سکتے اگر اس پر دلائل کی اجازت دی تو بات شواہد پر آئے گی۔نوید اختر نے کہا کہ میں نے اس پر بات کرنی ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات کیسے ہوئے،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ نہیں آپ اس پر بات نہیں کرسکتے ہیں، ہم نے انکو بھی اس پر نہیں سنا، الیکشن کیسے ہوا یہ شواہد پر پھر بات جائیگی،

    کیس میں فریق چارسدہ کے جہانگیر کے وکیل نوید اخترنے دلائل دیئے، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات پر جرمانہ ہوسکتا ہے، کیا الیکشن کمیشن نے یہ کارروائی کی ہے،نوید اختر نے کہا کہ نہیں، الیکشن کمیشن نے الیکشن ایکٹ 215 کے تحت کارروائی کی، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ اس سکیشن میں تو انٹرا پارٹی انتخابات کی بات نہیں ہے،نوید اختر نے کہا کہ قانون کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات پارٹی آئین اور الیکشن ایکٹ کے مطابق ہونے چاہئے،اس رو سے انٹرا پارٹی انتخابات خود بخود 215 سکشن میں آتے ہیں، میرے موکل نے پہلے انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کیلئے درخواست دی تھی، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ وہ بات تو ختم ہوگئی نا، جب الیکشن کمیشن نے 20 دن کا وقت دیدیا، جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن نے کونسے سیکشن کے تحت اس پارٹی کے خلاف کارروائی کی، وکیل شکایت کنندہ نے کہا کہ الیکشن ایکٹ سکیشن 215 کے تحت کارروائی کی گئی،عدالت نے کہا کہ 209 کی اگر خلاف ورزی ہو تب ہوسکتا ہے 208 پر تو 215 کے تحت کارروائی نہیں ہوسکتی، سیکشن 209 کہتا ہے رزلٹ 7 دن کے اندر کمیشن میں جمع کیے جائیں انھوں نے تو رزلٹ سات دن کے اندر جمع کیے، وکیل شکایت کنندہ نوید اختر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے دیکھنا تھا کہ سیکشن 208 کے تحت انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے یا نہیں.میرے موکل کی بات اہم ہے،جب آنکھ کھلی تو تب سے اس پارٹی میں ہیں، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپکا مطلب ہے کہ نظریاتی ہے،نوید اختر نے کہا کہ متنازع انتخابات ہوئے، سب نے کہا قبول ہے قبول ہے، سب نے کہا کہ جو بانی چئیرمین کہیں گا وہی ہوگا، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ یہاں تو سب جماعتیں ایک ہی لوگ چلاتے آرہے ہیں، صرف یہی اور ایک اور پارٹی ہے جو ورکر کو آگے آنے دے رہی ہے،

    بیرسٹر علی ظفر ایک بار پھر دلائل کے لیے روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ اسلام آباد ہو یا پشاور ہائیکورٹ، کہی بھی چیلنج ہوسکتا ہے،انتخابات یہاں ہوئے اور سیکرٹری جنرل عمر ایوب کا تعلق بھی اس صوبے سے ہے،اس صوبے میں 2 بار اس پارٹی نے حکومت بھی کی ہے،پورے ملک کی مخصوص سیٹیں اس سے متاثر ہونگی،

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    الیکشن میں میں جہاں بھی ہوں گا وہاں جیت ہماری ہی ہوگی

     بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے

    عمران خان ملک میں الیکشن نہیں چاہتا ، وہ صدارتی نظام چاہتاہے 

  • بلا بحالی کیس: ہم سے بلے کا نشان لے لیا جاتا ہے تو ہم غیر فعال ہو جائیں گے،بیرسٹر علی ظفر

    بلا بحالی کیس: ہم سے بلے کا نشان لے لیا جاتا ہے تو ہم غیر فعال ہو جائیں گے،بیرسٹر علی ظفر

    پشاور ہائیکورٹ میں انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان واپسی کے خلاف کیس کی سماعت کچھ دیر کے لئے ملتوی کر دی گئی-

    باغی ٹی وی : پشاور ہائیکورٹ میں انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان واپسی کے خلاف کیس کی سماعت جاری ہے ،جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی نے کیس کی سماعت شروع کی تو پی ٹی آئی وکیل شاہ فیصل اتمانخیل اور الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر شاہ مہمند عدالت میں پیش ہوئے،پی ٹی آئی وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ بیرسٹر گوہر راستے میں ہیں، کیس کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کردیا جائے۔اس دوران الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ہم جواب جمع کرتے ہیں جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ ابھی جواب جمع کرلیں، عدالت نے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔

    کافی دیر گزرنے کے بعد بھی بیرسٹر گوہر نہ پہنچے تو پی ٹی آئی وکلاء نے ساڑھے بارہ بجے تک وقت دینے کی استدعا کی، تاہم، بیرسٹر گوہر ساڑھے بارہ بجے بھی پیش نہ ہوسکے، عدالت نے برہمی کا اظہار کیا تو ایڈووکیٹ قاضی انور نے کہا کہ بس 5 سے 10 منٹ میں پہنچ جائیں گے۔

    جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ صبح سے ہم اس کے لیے انتظار کر رہے ہیں، سپریم کورٹ میں جب ہمارے کیسز ہوتے تھے تو ہم صبح پہنچتے تھے، یہ کونسا طریقہ ہےبینچ کوانتظار کروایا جارہا ہے،قاضی انور ایڈووکیٹ نے استدعا کی کہ بس تھوڑا وقت دیا جائے، کچھ دیر میں پہنچ جائیں گے۔

    اس کے بعد عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنا جواب جمع کردیا ہے، جسٹس اعجاز انور نے پی ٹی آئی وکیل سے استفسار کیا کہ آپ سپریم کورٹ سے سماعت میں تو دلچسپی نہیں لے رہے، آپ یہاں سے آج سماعت چاہتے ہیں؟، جس پر وکیل قاضی انور نے کہا کہ نہیں ہم یہاں سماعت چاہتے ہیں، عدالت نے کہا کہ پھر ٹھیک ہے وہ آجائیں تو کیس سنتے ہیں۔

    عدالت میں بیرسٹر گوہر اور بیرسٹر ظفر کا انتظار جاری تھا کہ اس دوران جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ اعتراض کرنے والے وکلا کو بھی طلب کیا جائے، جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ تحریک انصاف کے انتخابات پر سب سے پہلا اعتراض اکبر ایس بابر کا ہے، وہ کہاں ہیں؟

    الیکشن کمیشن میں درخواست دینے والے جہانگیر رضا نے عدالت میں بیان دیا کہ میرا وکیل ہڑتال کی وجہ سے کورٹ میں نہیں آرہا جس پر جسٹس انور اعجاز نے کہا کہ یہ کورٹ ہے ہمارا ہڑتال سے کوئی سروکار نہیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ 13 تاریخ کو الیکشن کمیشن امیدوار کو انتخابی نشانات الاٹ کرے گا، پی ٹی آئی کو اگر نشان الاٹ نہیں ہوتا تو وہ آزاد تصور ہوں گے، ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو عبوری ریلیف دیا تھا وہ ختم ہوگیا ہے۔

    جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ اگر ہم آج فیصلہ کرلیں تو یہ مسئلہ ختم ہوسکتا ہے؟ سپریم کورٹ میں کیس کی ضرورت نہیں؟، جس پر الیکشن کمیشن نے کہا کہ بالکل پھر ضرورت نہیں۔

    جسٹس اعجاز انور نے پی ٹی آئی وکلا کو کہا کہ آپ ان کو سمجھا دیں کہ وقت پر آیا کریں، مزید انتظار نہیں ہوگا،ایک بج کر 15 منٹ پر دوبارہ سماعت ہوگی، مزید وقت نہیں دیا جائے گا اتنے میں پی ٹی آئی وکیل بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر علی خان ہائیکورٹ پہنچ گئے سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو بیرسٹر علی ظفر نے عدالت سے تاخیر سے پہنچنے پر معذرت کرلی۔

    اس کے بعد پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کی جانب سے دلائل کا آغاز کیا گیا، بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کو شکایات دینے والوں نے دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی استدعا کی تھی، پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات جون 2022 میں کرائے، ہم نے الیکشن کمیشن کو ریکارڈ پیش کیا، بعد میں الیکشن کمیشن نے اس پر سوالات اٹھانا شروع کئے اور آخر میں الیکشن کمیشن نے 20 روز میں دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا حکم دیا۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن حکم کے مطابق دوبارہ انٹرا پارٹی انتخابات کرائے، جب الیکشن کرائے تو الیکشن کمیشن نے کہا کہ اعتراض آگئے ہیں،الیکشن کمیشن کو اعتراضات دینے والے غیر متعلقہ لوگ ہیں، الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات پر کوئی سوال نہیں اٹھایا، الیکشن کمیشن نے کہا سیکرٹری جنرل عمر ایوب کی تعیناتی درست نہیں اور عمر ایوب کی تعیناتی پر انتخابات کو کالعدم قرار دیا۔

    بیرسٹر علی ظفرنے کہا کہ انتخابات کالعدم قرار دینے کے بعد انتخابی نشان لے لیا گیا، اب پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد ہوں گے، پی ٹی آئی مخصوص نشستوں سے بھی محروم ہوگی جنہوں نے اعتراضات اٹھائے ہیں ان میں کوئی بھی پارٹی کے ممبر نہیں ہیں، ہمارے 8 لاکھ ووٹرز میں اعتراض کرنے والوں نے نام شامل نہیں۔

    بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ہمارے ووٹرز کی جان بلے میں ہے ہم سے بلے کا نشان لے لیا جاتا ہے تو ہم غیر فعال ہو جائیں گے، جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ آپ کو یہ اعتراض ہے کہ انٹراپارٹی الیکشن کا معاملہ الیکشن کمیشن کے اختیار میں نہیں آتا، پی ٹی آئی مخصوص 227 نشستوں میں اپنے حصے سے محروم ہوجائے گی اگر آج فیصلہ نہ ہوا تو کروڑوں لوگ پارٹی کے حقوق سے محروم رہ جائیں گے، ہمارے 8 لاکھ ووٹرز میں اعتراض کرنے والوں کے نام شامل نہیں-

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اعتراضات کرنیوالوں نے کہا ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات پی ٹی آئی آئین کے مطابق نہیں،وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ انتخابات کالعدم قرار دینے کے بعد انتخابی نشان لے لیا گیا، پی ٹی آئی کے امیدوار آزاد ہوں گے، پی ٹی آئی مخصوص نشستوں سے بھی محروم ہوگی-

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے پشاور ہائیکورٹ سے بلے کے نشان کی واپسی کا کیس جمعرات تک ملتوی کرنے کی استدعا کی، جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ 13 جنوری کو انتخابی نشان الاٹ ہونے ہیں تو ایسے میں انٹرا پارٹی الیکشن ہوسکتے ہیں؟ جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ علی ظفر صاحب اگر کیس کو پرسوں تک ملتوی کردیا تو آپ کو کیا نقصان ہوگا ؟

    جس پر بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیا کہ 12 جنوری تک امیدوار کاغذات واپس لے سکیں گے، 13 کو نشانات الاٹ ہو رہے ہیں، جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیئے کہ ٹھیک ہے ہم کیس کو سُنتے ہیں، دلائل جاری رکھیں،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق 20 دن میں انٹرا پارٹی انتخابات کرائے گئے، بیرسٹر گوہر انتخابات کے نتیجے میں پارٹی چئیرمین منتخب ہوئے، بیرسٹر گوہر نے ریکارڈ پر دستخط کرکے الیکشن کمیشن کو دئیے،الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں، اگر انٹرا پارٹی انتخابات نہ بھی کرائے جائیں تو الیکشن کمیشن کسی پارٹی کو انتخابی نشان سے محروم نہیں کرسکتا، الیکشن کمیشن صرف ”ریکارڈ کیپر“ ہےلیکشن کمیشن کو 7 دن کے اندر سرٹیفکیٹ جاری کرنا لازمی ہے-

    وکیل تحریک انصاف نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی پارٹی انتخابات کا انعقاد نہ کرے تو جرمانہ ہوگا،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی پر کس قسم کا جرمانہ عائد کیا، جسٹس ارشد علی نے استفسار کیا کہ آپ بیٹ کیوں مانگ رہے ہیں، آپ کیا دلائل دیں گے، آپ کو ’’بلا‘‘ ہی کیوں چاہیئے؟ جس پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سیاسی جماعت کے پاس اختیار ہے کہ وہی نشان مانگے جس پر پہلے کبھی الیکشن لڑا ہو، سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق اگر کسی پارٹی سے انتخابی نشان لے لیا گیا تو پارٹی غیر فعال ہو جائے گئی، پارٹی نشان سیاسی کارکنوں کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے-

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انتخابی نشان واپس لیا جانا پارٹی کو تحلیل کرنے مترادف ہے، آئین اور الیکشن ایکٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیرقانونی و غیرآئینی ہے کسی قانون میں الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہی نہیں، یہ اختیار شاید ہائیکورٹ کے پاس ہے، جس پر جسٹس ارشد علی نے کہا کہ نہیں ہمارے پاس بھی نہیں ہے۔

    یرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کوئی کورٹ آف لاء نہیں، ایسے تنازعے کے حل کے لیے ٹرائل ضروری ہے، ایسے تنازعات میں سول کورٹ ہی ٹرائل کرسکتی ہے الیکشن کمیشن نے سمری میں فیصلہ کیا ہے۔

    جس پر جسٹس ارشد علی نے کہا کہ ایسے میں تو پھر کیس الیکشن کمیشن کو ریمانڈ ہوگا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بالکل ریمانڈ ہوگا لیکن اگر الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہو, الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہی نہیں، الیکشن کمیشن نے صرف یہ اعتراض کیا کہ تعیناتی صحیح نہیں ہوئی انہوں نے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی ہے، اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

    بیرسٹر علی ظفر نے مسلسل 2 گھنٹے دلائل دیے، جس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ چائے پی لیں، آپ نے سفر بھی کیا ہے، 3 بج کر 30 منٹ پر جمع ہوں گے،عدالت نے سماعت میں ساڑھے تین بجے تک وقفہ کردیا۔

  • ’9 مئی واقعات کی معافی مانگتی ہوں‘، زرتاج گل آبدیدہ ہوگئیں

    ’9 مئی واقعات کی معافی مانگتی ہوں‘، زرتاج گل آبدیدہ ہوگئیں

    زرتاج گل کی پشاور ہائی کورٹ میں موجودگی،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ اپنے چیمبر پہنچ گئے،

    زرتاج گل پشاور ہائیکورٹ میں موجود ہیں، زرتاج گل ضمانت کے لئے گئی تھیں تو پولیس انکی گرفتاری کے لئے پہنچ گئی،وکلاء کی بڑی تعداد بھی پشاور ہائیکورٹ میں موجود ہے، زرتاج گل نے کہا تھا کہ اگر ضمانت نہ ملی تو رات ہائیکورٹ کے احاطے میں گزاروں کی، یہاں سے نہیں جاؤں گی، زرتاج گل کے لئے بستر بھی پہنچا دیا گیا ہے

    پشاور ہائیکورٹ نے رات دس بجے زرتاج گل کی ضمانت منظور کر لی
    پشاورہائیکورٹ،زرتاج گل کی راہداری ضمانت کا کیس،عدالت نے سی سی پی او پشاور ایس ایس پی آپریشن کو ہائی کورٹ طلب کر لیا، ایس ایس پی آپریشن اور سی سی پی او کورٹ روم نمبر 1 پہنچ گئے ہیں،ایڈووکیٹ جنرل بیرسٹر عامر جاوید بھی عدالت پہنچ گئے ،عدالت میں زرتاج گل اور آئی ایل ایف کے وکلاء موجود ہیں،پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد ابراہیم نے زرتاج گل کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ محمد ابراہیم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ، آج پشاور ہائیکورٹ میں کیا کچھ ہور ہا تھا کہ مجھے اسلام آباد سے آنا پڑا، اگر کسی کو انصاف نہیں دے سکتا تو مجھے استعفے دینا چاہئے، اگر میں نہ پہنچتا تو کیا یہ عورت ساری رات ہائی کورٹ میں گزارتی؟ آج گیٹ کے باہر میرے 22 گریڈ آفیسر رجسٹرار کی بے عزتی ہوئی ہے، کیا آپ پولیس میں 22 گریڈ کاآفیسر ہے؟کسی کو رات 2 بجے بھی میری ضرورت پڑے گی میں پہنچوں گا، زرتاج گل کی ضمانت منظور کرتا ہوں کوئی بھی گرفتار نہیں کرے گا،

    چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس محمد ابراہیم خان نے زرتاج گل وزیر کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی،عدالت نے پشاور پولیس سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کی گرفتاری سے روک دیا

    ضمانت کے باوجود زرتاج گل کو گرفتار کیا تو میں جانوں اور آئی جی،ظلم ہو گا تو رات تین بجے بھی عدالت لگاؤں گا،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ
    عدالت نے زرتاج گل کو کل 12 بجے تک ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے اپنے پی ایس او کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی، کمیٹی میں پولیس کی جانب سے بدتمیزی کا شکار وکلا بھی طلب، وکلا کی جانب سے نشاندہی پر پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی جائے گی،زرتاج گل نے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے کہا کہ اگر آپ مجھے ضمانت بھی دے دیں تو یہ مجھے گرفتار کریں گے،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ اگر یہ آپ کو گرفتار کریں تو پھر میں جانوں اور ان کے آئی جی،سی سی پی نے عدالت میں کہا کہ زرتاج گل ہمیں کسی مقدمے میں مطلوب نہیں، گرفتار بھی نہیں کریں گے، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ ہمارے کسی بھی وکیل کے ساتھ ظلم ہوگا تو میں 3 بجے بھی عدالت لگاؤں گا،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ مسٹر ایس ایس پی زرتاج گل کو سیکیورٹی کے ساتھ اس کے گھر ڈراپ کریں،

    تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل 9 مئی واقعات پر معافی مانگتے ہوئے رو پڑیں۔پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں زرتاج گل کا کہنا تھاکہ پتہ نہیں الیکشن لڑ رہی ہو یا کوئی جنگ، میرے کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے ہیں، ڈیرہ غازی خان میں الیکشن کمیشن کا عملہ یرغمال بنایا گیا تھا، ڈیرہ غازی خان میں جتنا کام میں نے کیا کسی اور نے نہیں کیا، میں آئین و قانون پر اعتماد رکھتی ہوں، پولیس فورس باہر مجھے گرفتار کرنے کھڑی ہےمجھے ضمانت دی جائے اور پولیس کو گرفتاری سے روکا جائے، کسی بھی عدالت جا سکتی ہوں، پورا ملک ہمارا ہے، جب تک ضمانت نہیں ملتی یہاں سے نہیں جاؤنگی،جب میں نہیں گھبرائی تو ووٹرز بھی نہ گھبرائیں،زرتاج گل نے 9 مئی واقعات پر معافی مانگی اور کہا کہ نو مئی واقعات کی معافی مانگتی ہوں،اگر نو مئی کی مذمت کروانا چاہتے ہیں تو میں معافی مانگتی ہوںَ میں شہید کی بہن ہوں، چھ فٹ دس انچ میرے بھائی کا قد تھا، میں نے بھائی کی لاش اٹھائی ہوئی ہے، ہم شہیدوں کی بے حرمتی کیسے کر سکتے ہیں،وزیرستان جا کر اسکی قبر دیکھ لیں

    زرتاج گل کی گرفتاری کا خدشہ
    دوسری جانب رہنما پی ٹی آئی زرتاج گل پشاورہائی کورٹ میں موجود ہیں۔خواتین پولیس اہلکاربار روم پہنچ گئیں اور زرتاج گل کی گرفتاری کا خدشہ ہے تاہم انصاف لائرزفورم نے خواتین پولیس اہلکاروں کو بارروم سے باہر نکالنے کی کوشش کی،

    زرتاج گل خاتون وکیل کے جعلی بہروپ اور جعلی لباس میں آج پشاور ہائیکورٹ آئیں،انکشاف
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر خاتون صحافی و اینکر غریدہ فاروقی نے انکشاف کیا ہے کہ زرتاج گل اور انکے شوہر وکیلوں کا لباس پہن کر پشاور ہائیکورٹ پہنچے تھے، غریدہ فاروقی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ محترمہ جو ادھر ٹسوے بہا رہی ہیں پشاور ہائیکورٹ کے اندر چھپ کر بیٹھی ہوئیں؛ یہ ڈیرہ غازی خان کی رہائشی ہیں، اشتہاری مجرم قرار ہیں، قانون کو مطلوب ہیں، ان پر متعدد ایف آئی آرز ہیں (بشمول 2017/18 کے میرے اس کیس کے جہاں ان کیخلاف میں نے FIA میں شکایت درج کروائی تھی کہ کس طرح ان محترمہ نے میرے خلاف کردار کشی کی گھناؤنی اور رکیک غلیظ مہم چلائی)؛ یہ محترمہ پشاور ہائیکورٹ ضمانت کیلئے تشریف لائیں کیونکہ ان جیسی اکثریت کا خیال ہے کہ پشاور ہائیکورٹ PTI کی ہائیکورٹ ہے۔ عوام الناس کی اطلاع کےلئے اس عدالت میں محض ضمانت کا خرچہ دو لاکھ روپے ہے!!! یہ محترمہ ڈیرہ غازی خان (پنجاب) سے پشاور (خیبرپختونخوا) اور ان جیسے دیگر، “انصاف” لینے کیوں آ رہے ہیں؟؟ یہ محترمہ خود بھی خاتون وکیل کے جعلی بہروپ اور جعلی لباس میں آج پشاور ہائیکورٹ آئیں اور ان کے شوہر بھی وکیل کا جعلی بہروپ جعلی لباس پہنے ہوئے تھے ۔۔۔ واہ بھئی، جعلساز ہوں تو ایسے ۔۔۔
    پشاور ہائیکورٹ کو بھی چاہئے کہ وہ انصاف کا ساتھ دے، تحریکِ انصاف کا نہیں ۔۔۔
    علاوہ ازیں؛ ان محترمہ نے PTI کے اقتدار میں آنے اور خود وزیر بننے کے بعد کس کس طرح سے اپنے اوپر FIA کا وہ کیس جو میری شکایت پر درج تھا جس میں محترمہ اعترافِ جرم کر چکی تھیں اور انکی گرفتاری ہونی تھی؛ اپنی PTI کی حکومت اور وزارت کا کیسا ناجائز اور غلط استعمال نہیں کیا ان محترمہ نے تاکہ کیس انکے اوپر سے ختم ہو جائے اور کس کس طرح FIA کو ان محترمہ نے ڈرایا دھمکایا نہیں جب تک کہ غیرقانونی طریقے سے کیس ڈراپ نہیں کروا دیا ۔۔۔ سب ریکارڈ کا حصّہ ہے۔

    ہارنا ہے تو وقار سے ہاریں، زرتاج گل نے کس کو دیا مشورہ؟

    مریم نواز میں یہ کام کرنے کی صلاحیت ہی نہیں، زرتاج گل کا چیلنج

    میرا بھائی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہوا،یہ کس قربانی کی بات کرتے ہیں،زرتاج گل

    وزیراعظم کے خواتین کے ریپ بارے بیان پر زرتاج گل بھی بول پڑیں

    سینما کے مالک کا بیٹا اب وزیر اعظم پر تنقید کرتا ہے،زرتاج گل

    وزیر ماحولیات زرتاج گل اور اسکے شوہر نے دس لاکھ رشوت مانگی، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا الزام

    زرتاج گل پر حلقے میں عوام نے برسائے ٹماٹر، لگائے پی ٹی آئی مردہ باد کے نعرے

  • ایمان طاہر پشاور ہائیکورٹ کے باہر سے گرفتار

    ایمان طاہر پشاور ہائیکورٹ کے باہر سے گرفتار

    تحریک انصاف کی رہنما ایمان طاہر کو پشاور سے گرفتار کر لیا گیا

    تحریک انصاف کی رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی طاہر صادق کی صاحبزادی ایمان طاہر کو پشاور پولیس نےعدالت کے باہر سے گرفتار کرلیا، ایمان طاہر کو پشاور ہائی کورٹ کے باہر سے گرفتار کرلیا گیا، وہ راہداری ضمانت کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں پیش ہوئی تھیں،

    پشاور ہائی کورٹ نے آج صبح ایمان طاہر کی راہداری ضمانت منظور کی تھی اور انہیں ایک ایک لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا تحریری حکم نہ ملنے پر جب وہ ہائیکورٹ سے باہر نکلیں تو پولیس نے ایمان طاہر کو گرفتار کرلیا،اس دوران وکلاء نے احتجاج بھی کیا،خالد سپاری رہنما انصاف لائیر ونگ کو بھی پشاور ہائیکورٹ سے گرفتار کر لیا گیا جب وہ ایمان طاہر کو گرفتار کرنے پر روک رہے تھے تو پولیس نے انہیں بھی گرفتار کر لیا

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

  • مجھے لگتا ہے کچھ ایسے ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں تا کہ انتخابات نہ ہوں  چیف جسٹس

    مجھے لگتا ہے کچھ ایسے ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں تا کہ انتخابات نہ ہوں چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں کوہاٹ پی کے 91 ریٹرننگ افسران معطل کرنے کا معاملہ ،الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت ہوئی

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی مرضی کا ریٹرننگ افسر لگوانا چاہتے ہیں ،جو ہتھکنڈے استعمال ہو رہے ہیں ایسا لگ رہا ہے کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ انتخابات نہ ہوں ،ایک ریٹرننگ افسر بیمار ہوا دوسرا لگا دیا گیا،پشاور ہائی کورٹ نے ٹھک کر کے تقرری کنیسل کر دی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پشاور ہائیکورٹ میں ریٹرنگ افسر تبدیلی کی پٹیشن فائل کرنے والے پٹشنر کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو جرمانہ کیوں نہ کریں نوٹس کئے بغیر ہی اپوائٹمنٹ کنسیل کر دی،پشاور ہائی کورٹ کے جج نے نوٹس جاری کرنا بھی مناسب نہ سمجھا ،سمجھ نہیں آ رہی الیکشن کمیشن کو سنے بغیر کیسے عدالتیں فیصلے کر رہی ہیں؟ یہ بڑی عجیب بات ہے، کیا آپ چاہتے ہیں پورا الیکشن ہی رک جائے

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریٹرننگ آفیسر کوئی بھی ہو کیا فرق پڑے گا؟ بلاوجہ کی درخواستیں کیوں دائر کی جا رہی ہیں،ابھی آرڈر کر دیتے ہیں ریٹرننگ آفیسرز سکروٹنی جاری رکھے، پشاور ہائیکورٹ فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن کی اپیل منظورکر لی گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر ادارے کو اپنی حدود میں رہنا چاہئے،

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف درخواست دائر کی تھی،الیکشن کمیشن کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ کا 27 دسمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد کوہاٹ کا حلقہ بغیر ریٹرننگ آفیسر کے ہے، الیکشن کمیشن کیلئے انتخابی عمل میں مشکلات پیدا ہورہی ہیں،درخواست میں پشاور ہائیکورٹ میں درخواست گزاروں کو فریق بنایا گیا ہے

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    کسی بھی امیدوار کے تجویز ،تصدیق کنندہ کی ہراسگی برداشت نہیں ہوگی،عدالت

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    این اے 122،عمران خان کے کاغذات نامزدگی پر دائر اعتراضات پر فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • پشاورہائیکورٹ، بلے کا انتخابی نشان، الیکشن کمیشن کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    پشاورہائیکورٹ، بلے کا انتخابی نشان، الیکشن کمیشن کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

    پی ٹی آئی کو بلے کا انتخابی نشان دیےجانے کا معاملہ،پشاور ہائیکورٹ میں الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل کی سماعت ڈویژن بینج سےکرانےکیلئے الیکشن کمیشن کی درخواست سماعت کیلئے مقررکر دی گئی

    جسٹس اعجاز خان کل درخواست کی سماعت کریں گے ،الیکشن کمیشن نے پشاورہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کی ہے ،الیکشن کمیشن نے نظرثانی اپیل کی سماعت ہائیکورٹ کےڈویژن بینج سے کرانے کی درخواست بھی دائر کی ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے پشاور ہائیکورٹ میں دو الگ الگ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، ایک درخواست تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان سے متعلق ہے جس میں الیکشن کمیشن نے عدالت سے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی ہے،الیکشن کمیشن نے ایک اور درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہےکہ چھٹیوں کے دوران ہی ڈویژنل بینچ بناکر درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کیاجائے

    واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کو آئین کے برخلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی سے بلے کا نشان چھن گیا تھا تاہم تحریک انصاف نے کمیشن کے فیصلے کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،پشاورہائیکورٹ نے پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات اور انتخابی نشان سے متعلق الیکش کمیشن کافیصلہ معطل کرتے ہوئے تحریک انصاف کو انتخابی نشان بلا بحال کیا تھا

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کا انتخابی نشان بلا واپس لے لیا تھا، تحریک انصاف نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے پی ٹی آئی کو انتخابی نشان بلا واپس دینے کا حکم دیا تھا ،تاہم ابھی تک پی ٹی آئی کو انتخابی نشان نہیں مل سکا، الیکشن کمیشن کی جانب سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے تو وہیں بانی رہنما تحریک انصاف اکبر ایس بابر نے بھی پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے.