Baaghi TV

Tag: پشاور ہائی کورٹ

  • خیبرپختونخوا کے 9 جوڈیشل افسران نوکری سے برخاست

    خیبرپختونخوا کے 9 جوڈیشل افسران نوکری سے برخاست

    پشاور ہائی کورٹ نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پرایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سینئر سول ججز سمیت 9 جوڈیشل افسران کو برخاست کردیا۔

    پشاور ہائی کورٹ کے اعلامیے کے مطابق ہائی کورٹ نے ججوں کے خلاف ضابط اخلاق کی خلاف ورزی پر انکوائری شروع کی تھی اور نوکری سے برخاست ہونے والوں میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، سینئر سول ججز اور سول ججز شامل ہیں، انکوائری میں ججوں کے خلاف جرم ثابت ہوا اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے ججوں کو شو کاز جاری کرتے ہوئے صفائی کا موقع دیا، ججز اپنی صفائی ثابت کرنے میں ناکام ہوئے، جس پر چیف جسٹس نے 9 ججوں کو نوکری سے برخاست کیا گیا۔

    ملک میں مہنگائی میں اضافہ

    برطانوی شہزادی کیتھرین انتقال کرگئیں

    سیلاب متاثرہ علاقوں میں بہت تباہی نظرآرہی ہے،بلاول

  • پشاور ہائیکورٹ: ن لیگ کی جانب سے مخصوص نشستوں پر حلف نہ لینے کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    پشاور ہائیکورٹ: ن لیگ کی جانب سے مخصوص نشستوں پر حلف نہ لینے کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    پشاور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کی جانب سے مخصوص نشستوں پر حلف نہ لینے کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔

    پشاور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کی خواتین اور اقلیتوں کے مخصوص نشستوں پر منتخب نمائندوں کے حلف نہ لینے سے متعلق کیس کا پانچ صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں کا تعلق خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے ہے اور وہ مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے نمائندے ہیں۔

    عدالت نے قرار دیا کہ آئین پاکستان کے تحت منتخب اراکین سے حلف لینا لازمی ہے۔ عدالت نے اسپیکر اسمبلی کو حلف لینے کی ہدایت کی تھی لیکن وہ مختلف وجوہات کی بنا پر اس میں ناکام رہے حلف نہ لینا اختیارات کا غلط استعمال اور درخواست گزاروں کو ان کے آئینی حق سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔

    ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس طلب کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے چیف جسٹس کو کسی کو نامزد کرنے کی درخواست اب غیر مؤثر ہو چکی ہےعدالت نے تمام نکات سننے کے بعد قرار دیا کہ اجلاس بلانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اس لیے یہ درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے اور اسے نمٹا دیا گیا ہے۔

  • خدیجہ شاہ کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم

    خدیجہ شاہ کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم

    پشاور ہائی کورٹ نے خدیجہ شاہ کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کرتے ہوئے انہیں کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا.

    باغی ٹی وی کے مطابق عدالت نے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلاب بھی مانگ لیں۔ سماعت جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے کی۔خدیجہ شاہ کے وکیل عالم خان ادینزیی ایڈووکیٹ نے کہا کہ درخواست گزار کے خلاف اسلام آباد اور پنجاب میں مقدمات درج کیے گئے ہیں، درخواست گزار کے خلاف کوئی مقدمہ ہوں تو اس کی تفصیلات دی جائیں۔جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے خدیجہ شاہ سے پوچھا کہ آپ کے پاس کوئی عہدہ ہے؟ اس پر انہوں ںے جواب دیا کہ میرے پاس اس وقت کوئی عہدہ نہیں، میرا نام مخصوص نشست پر قومی اسمبلی کے لیے ہے اور مخصوص نشستوں کا کیس ابھی تک سپریم کورٹ میں ہے۔وکیل نے کہا کہ خدیجہ پہلے بھی جیل میں رہی ہیں اور اب یہاں پشاور میں مقیم ہیں۔

    جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا کہ اس عدالت میں جو بھی آتا ہے وہ ہمارے لیے قابل احترام ہے، ایسی ہی کیس میں چیف جسٹس صاحب کا ججمنٹ موجود ہے، اس سے آگے نہیں جاسکتے، ہم حفاظتی ضمانت دیتے ہیں، آپ مقدمات کی تفصیل کے لئے متعلقہ ہائیکورٹ سے رجوع کریں، وفاقی حکومت اور کے پی حکومت کا کوئی کیس ہے تو اس کی رپورٹ پیش کریں۔عدالت نے خدیجہ شاہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے خدیجہ شاہ کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کردی اور درخواست گزار کو درج مقدمات میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دےدیا۔عدالت نے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت سے خدیجہ شاہ کے خلاف درج مقدمات کی رپورٹ طلب کرلی۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

    بچت سکیموں پر منافع کی شرح کم ہو گئی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی کراچی کے طلبا و طالبات کے ساتھ خصوصی نشست

    دو روز میں سونے کی قیمت میں 3 ہزار900 روپے کا اضافہ

  • چیف جسٹس ابراہیم خان کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس آج ہوگا

    چیف جسٹس ابراہیم خان کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس آج ہوگا

    پشاورہائیکورٹ کے چیف جسٹس ابراہیم خان کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس آج ہوگا۔

    باغی ٹی وی : پشاور ہائیکورٹ اعلامیہ کے مطابق فل کورٹ ریفرنس میں ہائیکورٹ کے تمام ججز شریک ہوں گے، ایڈووکیٹ جنرل، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور وائس چیئرمین بار کونسل سمیت دیگر بھی مدعو ہیں،چیف جسٹس ابراہیم خان 14 اپریل کو ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔

    محمد ابراہیم خان ایک پاکستانی قانون دان ہیں جو 6 جولائی 2023ء سے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں۔ وہ 11 اگست 2016ء سے پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس ہیں،ابراہیم خان پاکستانی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں واقع صوابی میں پیدا ہوئے انھوں نے 1974ء سے 1979ء تک کیڈٹ کالج کوہاٹ میں تعلیم حاصل کی، انھوں نے پشاور یونیورسٹی سے الحاق شدہ خیبر لا کالج سے بھی تعلیم حاصل کی-

    آئی ایم ایف کا سی پی پیز کیلئے گیس ٹیرف میں آر ایل این جی …

    نواب اکبر بگٹی کی پُر اسرار شخصیت

    سابق سیکرٹری پنجاب کی نماز جنازہ آج 10:30 پر ادا کی جائیگی

  • پشاور ہائی کورٹ میں صوبائی مشیر شکیل احمد کے کیس کی سماعت

    پشاور ہائی کورٹ میں صوبائی مشیر شکیل احمد کے کیس کی سماعت

    پشاور ہائیکورٹ میں سابق صوبائی مشیر شکیل احمد کی مقدمات تفصیلات فراہمی کے لئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی ہے، سماعت جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس کامران حیات پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی .سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار ملک اجمل خان ایڈوکیٹ سے جج صاحبان نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کے خلاف جتنے مقدمات اور انکوائریز ہے ان کی تفصیلات فراہم کی جائے۔ جس پر وکیل درخواست گزار نے عدالت سے کہا کہ
    ان کے موکل کو 7 بار گرفتار کیا گیا,ایک مقدمے میں ضمانت ہوجاتی ہے تو اسی وقت دوسرا مقدمہ درج کرکے دوبارہ گرفتار کرلیا جاتا ہے ۔وکیل درخواست گزار ملک اجمل خان ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ سابق وزیر علی محمد خان اور درخواست گزار کا کیس ایک ہی نوعیت کا ہے,
    جس پر عدالت نے حکومت کو کل تک شکیل احمد کے خلاف مقدمات کی تفصیل فراہم کرنے کا حکم جاری کر دیا عدالت نے حکم جاری کیا کہ درخواست گزار کے خلاف جو مقدمات اور انکوائریز ہے ان کی تفصیل فراہم کریں۔ عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کردی۔۔

  • پشاور،ہائی کورٹ میں لا پتہ افراد کے کیس کی سماعت

    پشاور،ہائی کورٹ میں لا پتہ افراد کے کیس کی سماعت

    پشاور ہائی کورٹ میں 25 مسنگ پرسنز کے متعلق کیسز کی سماعت کی ہے،کیس کی سماعت جسٹس اعجاز انور نے کی ،سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار نے عدالت سے استد عا کی کہ دو سال پہلے ناصر شاہ کو گھر سے اٹھایا گیا،میرے مؤکل عبدالقدیر کو بھی گھر کے احاطے سے اٹھایا گیا، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ محمد عامر کو پشاور ائر پورٹ سے اٹھایا گیا ہے، اسی طرح حضرت محمد کو اے ٹی سی سے بری ہوا، جیل کے گیٹ سے ہی اٹھا لیا گیا، درخواست گزار نے کہا کہ
    رفیق 302 میں نامزد تھا، ضمانت ہوئی پھر بھی غائب کردیا گیا، وکیل نے کہا کہ مسنگ پرسنز کے گھر والوں کو پتہ نہیں کہ وہ کہاں پر ہے؟جس پر جج جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ اپ بار بار کہتے ہیں کے موقع دے رپورٹ جمع کریں گے، جج وکیل درخواست گزار پر برہم ہوئے اور کہا کہ یہ اخری موقع ہے اگر رپورٹ نہیں ایا تو ڈیفنس سیکرٹری خود پیش ہوگا، جس پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ نے کہا کہ ہم جلد رپورٹ پیش کر لیں گے، عدالت نے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت نا معلوم مدت تک ملتوی کردی،

  • پشاور ہائی کورٹ، سونے کے قیمتوں کے تعین پر سماعت

    پشاور ہائی کورٹ، سونے کے قیمتوں کے تعین پر سماعت

    پشاور ہائی کورٹ میں سونے کی قیمتوں کے تعین کیلئے کیس کی سماعت ہوئی ہے سماعت جسٹس ارشد علی اور جسٹس شاہد خان نے کی
    درخواستگزار کی جانب سے نازش علی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئی، عدالت نے وفاقی حکومت اور سٹیٹ بینک کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا اور پشاور کے مختلف صرافہ ایسوسی ایشنز کو بھی نوٹسز جاری کر دئیے ہے، درخواست گزار نے اسدعا کی کہ بین الاقوامی مارکیٹ کی طرح سونے کی خرید وفروخت کیلئے پالیسی بنائی جائے سونے کے یکسا نرخ کا تعین کیا جائے،نازش علی ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ عام لوگ کیلئے سونے کی خرید وفروخت کی نرخ میں زیادہ فرق ہوتا ہے،لہذا سونا وزن کیلئے گرام اور ملی گرام کے یونٹ استعمال کریں،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ مزدوری و پالش کے کاموں کے نرخ کا تعین کیا جائے،اور سونے کی لیباٹری ٹیسٹ کیلئے سرکاری نظام متعارف کرایا جائے،جس پر عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرکے سماعت ملتوی کردی،

  • علی محمد خان کو  18 جون تک مزید کسی کیس میں گرفتار نہ کیا جائے،عدالت

    علی محمد خان کو 18 جون تک مزید کسی کیس میں گرفتار نہ کیا جائے،عدالت

    سابق وزیر مملکت علی محمد خان کی جانب سے خیبرپختونخوا میں مقدمات اور انکوائریز کی تفصیل کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی جس پر جسٹس عتیق شاہ اور جسٹس وقار احمد نے سماعت کی۔وکیل درخواست گزار علی زمان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ علی محمد کو ایک کیس میں ضمانت ملنے کے بعد دوسرے میں گرفتار کیا جاتا ہے اور مختلف ادارے اس طریقے سے علی محمد خان کو ہراساں کررہے ہیں، اس لیے علی محمد خان کے خلاف درج مقدمات اور انکوائریز کی تفصیل فراہم کرکے مزید کسی کیس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے کیس میں مختصر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے نیب، اینٹی کرپشن اور پولیس کو احکامات جاری کیے کہ 18 جولائی تک علی محمد خان کسی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے جبکہ حکومت کو 7 روز میں علی محمد خان کے خلاف تمام مقدمات اور انکوائریز کی تفصیل ہائیکورٹ میں جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

  • رہنما تحریک انصاف شہریار آفریدی کی ضمانت درخواست مسترد

    رہنما تحریک انصاف شہریار آفریدی کی ضمانت درخواست مسترد

    راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہوئی، سماعت جج حامد حسین نے کی، اس موقع پر ملزم شہریار آفریدی کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا،خصوصی عدالت کے جج حامد حسین نے فیصلہ سنا دیا اور رہنما تحریک انصاف شہریار آفریدی کی ضمانت درخواست مسترد کردی۔عدالت نے ملزم شہریار آفریدی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 24 جولائی تک توسیع کر دی، جب کہ جی ایچ کیو حملہ کیس میں گرفتار ملزمان کا چالان بھی پیش کرنے کا حکم دے دیا۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما شہریار آفریدی اور دیگر کے خلاف جی ایچ کیو حملہ کیس کا مقدمہ تھانہ آر اے بازار پولیس نے 9 مئی کو درج کیا تھا۔دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی رہنما سابق وفاقی وزیر شہریار آفریدی اور سابق صدر سٹی پشاور عرفان سلیم کی درخواستوں پر سماعت ہوئی، جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس وقار احمد نے سماعت کی۔
    درخواست گزاروں کی جانب سے شاہ فیصل اتمانخیل اور ارشد علی ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔وکیل شاہ فیصل اتمانخیل نےعدالت سے استدعا کی کہ درخواست گزاروں کے خلاف جتنے مقدمات اور انکوائریز درج ہیں اس کی تفصیل فراہم کی جائے۔ عدالت نے صوبائی حکومت سے کل تک درخواست گزاروں کیخلاف درج مقدمات اور انکوائریز کی تفصیل طلب کرکے کیس سماعت کل تک ملتوی کردی،

  • پشاور انسداد کرپشن عدالت میں سابق صوبائی وزیر کی ضمانت درخواست پر سماعت

    پشاور انسداد کرپشن عدالت میں سابق صوبائی وزیر کی ضمانت درخواست پر سماعت

    پشاور انسداد رشوت ستانی عدالت کرپشن کے الزام میں گرفتار سابق صوبائی وزیر شکیل احمد کی ضمانت درخواستوں پر سماعت ہوئی،
    سماعت اینٹی کرپشن عدالت کے جج بابر علی خان نے کی ، عدالت نے سابق صوبائی وزیر کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کردیا ۔ اینٹی کرپشن کے حکام کے مطابق سابق صوبائی وزیر شکیل احمد نے ڈی ایچ کیو ہسپتال ملاکنڈ میں غیر قانونی بھرتی کی تھی ۔